Explained with ayahs 1–9
رسول اللہ کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کرلیں، جیسے فرمان ہے آیت (تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 16) 32۔ السجدة :16) ، ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں، حضور ﷺ پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنَ الَّيْلِ…
Read the full tafseer →سورة الْمُزَّمِّل 9
دن کے اوقات کی مصروفیتوں کا ذکر کرنے کے بعد یہ ارشاد ہے کہ " اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو "۔ خود بخود یہ مفہوم ظاہر کرتا ہے کہ دنیا میں ہر طرح کے کام کرتے ہوئے بھی اپنے رب کی یاد سے کبھی غافل نہ ہو اور کسی نہ کسی شکل میں اس کا ذکر کرتے رہو (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الاحزاب، حاشیہ 63)۔
Read the full tafseer →(آیت) وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ اِلَيْهِ تَبْتِيْلًا تبتل کے لفظی معنے مخلوق سے منقطع ہو کر خالق کی عبادت میں لگ جانے کے ہیں واذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ کا عطف قم الیل پر ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کو قیام الیل یعنی رات کی نماز کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے ضمن میں دن کی خاص خاص عبادتوں کی طرف بھی اشارہ کردیا گیا کما فی قولہ اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيْلًا اس آیت میں ایک ایسی عبادت کا حکم ہے جو رات یا دن کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر وقت اور ہر حال میں جاری رہتی ہے وہ ہے ذکر اللہ، اور مراد ذکر اللہ کے حکم سے اس پر مداومت ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے اس کا تو تصور ہی نہیں ہوسکتا کہ آپ بالکل…
Read the full tafseer →رب کے دامن رحمت میں پناہ گیر ہونے کا طریقہ:
’تَبَتُّلٌ‘ اور ’تَبْتِیْلٌ‘ دونوں کے معنی انقطاع الی اللہ کے ہیں یعنی خلق سے کٹ کر رب کے دامن رحمت میں پناہ گیر ہو جانا۔ یہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو طریقہ بتایا اس بات کا کہ جب جب لوگوں کی حق بیزاری اور دل آزاری سے دل آزردہ ہو تو تم ان ناقدروں سے کٹ کر اپنے رب کے دامن رحمت میں پناہ گیر ہو جایا کرو اور اس کے لیے تمہیں اس کے سوا کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے کہ تم اس کے نام کو یاد کرو۔ جب تم اس کے نام کے ساتھ اس کو یاد کرو گے تو وہ خود تمہیں اپنی پناہ میں لے لے گا۔
صفات الٰہی کا استحضار: یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام نام اس کی صفات کی تعبیر ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
8۔ 1 یعنی اللہ کی عبادت اور اس سے دعا و مناجات کے لیے یکسو اور ہمہ تن اس کی طرف متوجہ ہوجانا، یہ رہبانیت سے مختلف چیز ہے رہبانیت تو تجرد اور ترک دنیا ہے جو اسلام میں ناپسندیدہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
6: ذکر میں دونوں باتیں داخل ہیں، زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی، اور دل سے اللہ تعالیٰ کا دھیان رکھنا بھی۔ اور سب سے الگ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیا کے سارے تعلقات چھوڑ دو ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان سارے تعلقات پر اللہ تعالیٰ کے تعلق کو غالب رکھو، یہاں تک کہ دنیا کے تعلقات بھی اللہ تعالیٰ ہی کے احکام کے مطابق اور اسی کے حکم کی تعمیل میں ہونے چاہئیں۔ اس طرح وہ تعلقات بھی اللہ ہی کے لیے ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →واذکر .................... تبتیلا (73:8) ” اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہورہو “۔ اللہ کے نام کے ذکر سے مراد صرف یہ نہیں کہ کوئی صرف اللہ کا نام ہی جپتا رہے۔ اور سو دانوں یا ہزار دانوں کی تسبیح رولتا رہے ، بلکہ اس بےیہ ذکر مراد ہے کہ زبان پر اللہ کا نام ہو اور دل میں اللہ کی شان حاضر ہو۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ نماز پڑھو جس میں اللہ کا ذکر ہی ذکر ہے اور تلاوت قرآن ہے اور تبتل کے معنی ہیں اللہ کے سوا ہر چیز سے کٹ جانا اور پوری طرح عبادت اور ذکر میں مشغول ہوجانا ہر شغل اور ہر تصور سے ایک طرف ہوجانا ، اور اپنے مشاعر اور تصورات کے ساتھ اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔
جب تبتل کا…
Read the full tafseer →1 یعنی علاوہ قیام لیل کے دن میں بھی (گو بظاہر مخلوق سے معاملات و علائق رکھنے پڑتے ہیں) لیکن دل سے اسی پروردگار کا علاقہ سب پر غالب رکھے اور چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے اسی کی یاد میں مشغول رہیے غیر اللہ کا کوئی تعلق ایک آن کے لیے ادھر سے توجہ کو ہٹنے نہ دے بلکہ سب تعلقات کٹ کر باطن میں اسی ایک کا تعلق باقی رہ جائے یا یوں کہ لو کہ سب تعلقات اسی ایک تعلق میں مدغم ہوجائیں جسے صوفیہ کے ہاں " بےہمہ و باہمہ " یا " خلوت درانجمن " سے تعبیر کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
آیت 8{ وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَتَـبَتَّلْ اِلَـیْہِ تَـبْتِیْلًا۔ } ”اور آپ ﷺ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کریں اور ہر طرف سے کٹ کر بس اسی کے ہو رہیں۔“
تبتّلکا معروف مفہوم تو یہی ہے کہ سب سے کٹ کر کسی ایک کا ہوجانا ‘ لیکن عملی طور پر اس حکم کے ذریعے ایک بندئہ مومن سے ”بےہمہ و باہمہ“ کی کیفیت مطلوب ہے۔ یعنی رشتوں اور تعلقات کے ہجوم میں بظاہر سب کے ساتھ نظر آئو ‘ لیکن حقیقت میں تمہارا تعلق کسی کے ساتھ بھی نہ ہو۔ جیسے قیامت کے دن ہر انسان کو انفرادی حیثیت سے اللہ کے حضور کھڑے ہونا ہوگا۔ اس وقت ماں باپ ‘ اولاد ‘ بیوی ‘ شوہر کوئی بھی ساتھ نہیں ہوگا۔ بہرحال ایک بندئہ مومن کو فریضہ دعوت و تبلیغ کی…
Read the full tafseer →9 تبتل کا لغوی مفہوم :۔ تَبَتُّلْ : کے معنی کسی شے کو کاٹ کر کسی شے سے جدا کرنا اور بتل اور تبتل کے معنی ہر قسم کے دھندوں اور جھمیلوں سے توجہ ہٹا کر اور فراغت پاکر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا اور خلوص نیت کے ساتھ عبادت الٰہی میں مشغول ہونا ہے۔ گویا یہ مقصد بھی دن کے کام کاج، ہنگاموں اور شور و شغب میں حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس کے لئے بھی رات کو اٹھنا ہی مناسب وقت ہے۔
Read the full tafseer →6۔ یعنی اللہ کے ساتھ تعلق ہر دوسرے تعلق پر غالب وحاکم رہے۔ (آیت) ” اذکرو تبتل “۔ یہ دونوں حکم بلاقید وقت کے ہیں، صوفیہ نے یہیں سے دوام ذکر کا مسئلہ مستنبط کیا ہے۔ لیکن محققین صوفیہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ان احکام کی تعمیل کے لئے ذکر وتبتل کا درجہ ادنی بھی کافی ہے۔ (آیت) ” واذکر ..... تبتیلا “۔ ذکر لسانی کی تعلیم یہاں ترتیبا پہلے واقع ہوئی ہے اور مراقبہ کی اس کے بعد۔ عارفین نے اس سے یہ نکتہ نکالا ہے کہ مقام ذکر مقدم ہے اور مقام فکر مؤخر۔ (آیت) ” واذکر اسم ربک “۔ ذکر الہی کے عموم میں نماز، تلاوت، اشغال، اذکار، درس علوم دین سب شامل ہیں۔ وذکر اللہ یتناول التسبیح والتھلیل والتکبیر والصلوۃ وتلاوۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
واذکر اسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا، دن کے اوقات کی مصروفیتوں کے ذکر کرنے کے بعد یہ ارشاد ہے کہ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو، اس سے یہ مفہوم خود بخود ظاہر ہوتا ہے کہ دن میں ہر طرح کے کاموں میں مشغول رہنے کے بعد بھی اپنے رب کی یاد سے کبھی غافل نہ ہوئے اور کسی نہ کسی شکل میں اس کا ذکر کرتے رہے، ذکر لسانی کا کسی کام میں مخل نہ ہونا صاف ظاہر ہے نہ اس کے لئے کسی مخصوص وقت کی ضرورت، نہ طہارت کی اور نہ کسی مخصوص ہیئت کی اور اگر بعض اوقات ذکر لسانی ممنوع ہو مثلاً بیت الخلاء وغیرہ کی حالت میں تو ذکر خیالی یعنی خدا کی کائنات اور اس کی قدرت میں غور و فکر کرنا کسی وقت بھی ممنوع نہیں۔
تبتل الیہ تبتیلا، تبتل…
Read the full tafseer →واذکر اسم ربک . قم اللیل پر عطف ہے۔ ذکر رب سے مراد ہے شبانہ روز برابر ذکر میں مشغول رہنا کہ نہ کسی وقت سستی پیدا ہو ‘ نہ غفلت لیکن ایسا ذکر زبان سے تو ہو نہیں سکتا زبان اور دوسرے اعضاء سے تسبیح ‘ حمد ‘ نماز اور قراءت وغیرہ جو کچھ کیا جاتا ہے کسی وقت اس میں نیت کی سستی آ ہی جاتی ہے۔ لامحالہ قلبی ذکر مراد ہے۔ حقیقت میں قلبی ذکر ہی ذکر ہے کیونکہ یاد نام ہے غفلت کو دور کردینے کا۔ جیسا کہ حدیث : ذاکر اللہ فی الغافلین بمنزلۃ الصابر فی الغارمین میں ذکر کا غفلت سے مقابلہ کرنا بتارہا ہے۔ غفلت کے مقابل ذکر کو لانے کا اقتضاء ہی یہ ہے کہ ذکر غفلت کو دور کرنے کا نام ہے ‘ دل کی غفلت کی حالت میں نہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
(7۔ 9) اور آپ کو دن میں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے خوب موقع رہتا ہے اور اپنے پروردگار کے حکم سے نماز پڑھیے یا یہ کہ اس کی توحید بیان کیجیے اور اپنی نماز دعا اور عبادت خالص اللہ ہی کے لیے کرو اسی کی عبادت کر کے اپنا پروردگار بناؤ یا کہ اللہ تعالیٰ نے جو آپ سے فتح وثواب کا وعدہ فرمایا ہے اس میں اسی کو ذمہ دار بناؤ۔
Read the full tafseer →واذکر اسم ربک …:”بتل یبتل“ (ن، ض) قطع کرنا۔”تبتل“ منقطع ہونا۔ اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ رات کو خاص طور پر اٹھ کر قیام، تلاوت اور ذکر الٰہی کے علاوہ دن رات کے ہر وقت میں بھی اللہ کا ذکر جاری رکھ اور اپنی تمام تر توجہ مخلوق سے ہٹا کر اپنے رب ہی کی طرف رکھ۔ اس مطلب کا قرینہ یہ ہے کہ اس میں ذکر و تبل کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں فرمایا، عائشہ ؓ فرماتی ہیں :(کان النبی ﷺ یذکر اللہ علی کل اخیانہ) (مسلم، الحیض، باب ذکر اللہ تعالیٰ فی حال الجنابۃ وغیرھا : 383)”رسول اللہ ﷺ اپنے تمام اقوات میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔“ دوسرا مطلب یہ ہے کہ دن کی لمبی چوڑی مصروفیات سے فارغ ہو کر رات کو خاص طور…
Read the full tafseer →واذکراسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا۔
اس میں تین مسائل ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے نام کا ذکر کرنے سے کیا مراد ہے۔
مسئلہ نمبر 1۔ واذکراسم ربک۔ یعنی اسے اسمائے حسنی سے یاد کرو تاکہ نماز کے ساتھ اچھا انجام حاصل ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اپنے عمل کے ساتھ اپنے رب کی ذات کا قصد کر۔ سبیلی نے کہا، اپنی نماز کی ابتداء میں بسم اللہ پڑھ اس کی قرات کی برکت تجھے تیرے رب تک پہنچا دے گی اور اس کے غیر سے تجھے قطع کردے گی، ایک قول یہ کیا گیا ہے وعدہ اور وعید میں اپنے رب کے نام کا ذکر کیجئے تاکہ تو زیادہ اطاعت کرے اور معصیت سے اعراض کرے۔ کلبی نے کہا، دن کے وقت اپنے رب کی نماز پڑھیے، میں کہتا ہوں یہ بہت اچھی تاویل ہے کیونکہ…
Read the full tafseer →66۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن نصر وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ سبحا طویلا سے مراد ہے لمبی فرغت آیت وتبتل الیہ تبتیلا سے مراد ہے خالص اللہ تعالیٰ کے لیے دعوت اور عبادت کرو۔
67 فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن نصر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتبتل الیہ تبتیلا سے مراد ہے کہ سوال اور دعا صرف اور صرف اسی سے کرو پورے اخلاص کے ساتھ۔
68۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتبتل الیہ تبتیلا سے مراد ہے کہ اس کے لیے مخلص ہوجاؤ پورے اخلاص کے ساتھ۔
Read the full tafseer →[وَاذْكُرِ : اور آپ ﷺ ذکر کریں ] [اسْمَ رَبِكَ : اپنے رب کے نام کا ] [وَتَبَتَّلْ اِلَيْهِ : اور سب سے الگ ہو کر آپ ﷺ لَو لگائیں ] [تَبْتِيْلًا : جیسا مسلسل الگ کیے جانے کا حق ہے ]
ب ت ل
[بَتَلًا : (ن۔ ض) کسی سے کوئی چیز کاٹ کر الگ کرنا۔
(تفعیل) تَبْتِیْلًا کسی سے کوئی چیز کاٹ کر مسلسل الگ رکھنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 8 ۔
(تفعل) تَبَتُّلًا کسی سے کٹ کر الگ ہونا۔ سب سے ٹوٹ کر اللہ سے لَو لگانا۔ زیر مطالعہ۔ آیت۔ 8 ۔
(آیت۔ 8) ۔ تَبَتَّلْ باب تفعل کا فعل امر ہے۔ اس کے مفعول مطلق کے طور پر باب تفعیل کا مصدر تَبْتِیْلًا آیا ہے لیکن یہ معروف نہیں بلکہ مجہول کے معنی میں ہے۔
Read the full tafseer →﴿ وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ ﴾ (اور اپنے رب کا نام لیتے رہیے) ۔
یعنی رات کو تو آپ نماز پڑھتے ہی ہیں دیگر اوقات میں بھی اللہ کا نام لیتے رہیے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کرنا نماز ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اس لیے عام اوقات میں بھی اللہ کی یاد میں لگے رہیے۔ حضور ﷺ اس پر خصوصیت کے ساتھ عمل کرتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بیان فرماتی ہیں۔ ان النبی ﷺ کان یذکر اللہ فی کل احیانہ۔ یعنی رسول اللہ ﷺ ہر وقت اللہ کو یاد کرتے رہتے تھے۔
﴿ وَ تَبَتَّلْ اِلَيْهِ تَبْتِيْلًاؕ008﴾ (اور قطع تعلق کر کے اسی کی طرف متوجہ رہیں) اپنا پورا قلبی رخ اللہ کی طرف رکھیے یعنی اللہ تعالیٰ سے جو تعلق ہے اس تعلق کے مظاہرے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
حکم قیام اللیل وتاکید ترتیل وتحسین درتلاوت کلام اللہ تعالیٰ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المزمل ......... الی ........... کثیبا مھیلا “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں جنوں کا قصہ ذکر فرمایا گیا تھا کہ وہ قرآن کریم کو سن کر کیسے اس پر فریفتہ اور گرویدہ ہوئے اور اس پر ایمان لائے اور ایمان وہدایت کا رنگ ان پر اس قدر غالب آیا کہ اپنی قوم کے واسطے داعی اور ہادی وناصح بن کر لوٹے اب اس سورت میں جو کہ ابتداء نبوت کے زمانہ میں نازل ہوئی اس میں مشرکین مکہ کی بےرخی اور آپ ﷺ کی شان میں توہین و گستاخی کا ذکر کرکے آپ ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے اور انکی ایذاؤں وزیادتیوں پر صبر کی تلقین کی جارہی ہے۔
مشرکین مکہ آپ ﷺ…
Read the full tafseer →8:۔ ” واذکر اسم “ بیان دعوائے توحید۔ ہر وقت اللہ کی یاد میں، اس کی تسبیح و تہلیل اور تمجید و تقدیس میں مصروف رہو، مہمات میں صرف اسی کو پکارو، ماسوی سے منقطع ہو کر اللہ کے ہو رہو۔ خالص اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔ ادعہ باسمائہ الحسنی (قرطبی) ۔ ودم علی ذکرہ فی اللیل والنہار وذکر اللہ یتنال التسبیح والتہلیل والتکبیر والصلاۃ وتلاوۃ القران ودراسۃ العلم (مدارک) ۔ (و تبتل الیہ تبتیلا) ای اخلص لہ العبادۃ (ابن کثیر) ۔ ای انقطع بعبادتک الیہ ولا تشرک بہ غیرہ (قرطبی ج 19 ص 43) ۔ تائید : ” واذکر ربک فی نفسک تضرعا وخیفۃ و دون الجہر من القول بالغدو والاصال ولا تکن من الغافلین “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
کوائف اور مضامین سورة :
اس سورة کا نام سورة مزمل ہے۔ سورة کی پہلی آیت میں ہی لفظ مزمل آیا ہے۔ جس کے نام پر سورة کا نام ہے۔ یہ مکی سورة ہے اسکی بیس آیات اور دو روکوع ہیں۔ اس میں دو سو پچاس الفاظ اور آٹھ سو آڑتیس حروف ہیں۔ سابقہ سورة جن کی طرح اس سورة میں بھی انبیاء عقائد کا ذکر ہے۔ جس طرح اس سورة میں توحید ، رسالت ، قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور دلائل توحید مذکور تھے اسی طرح اس سورة میں بھی ان بنیادی عقاد کا ذکر ہے۔ اس طرح گویا اس سورة کو سابقہ سورة کے ساتھ مناسبت ہے۔ سورة جن میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ کیا ۔ کہ وہ قرآن کریم کو اللہ کا کلام نہیں مانتے تو اس سے متاثر ہوئے اور ایمان قبول…
Read the full tafseer →وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ اِلَيْہِ تَبْتِيْلًا 8 ۭ
اسْمُ
والِاسْمُ : ما يعرف به ذات الشیء، وأصله سِمْوٌ ، بدلالة قولهم : أسماء وسُمَيٌّ ، وأصله من السُّمُوِّ وهو الذي به رفع ذکر الْمُسَمَّى فيعرف به، قال اللہ : بِسْمِ اللَّهِ [ الفاتحة/ 1] ، وقال : ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] ، وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] ، أي : لألفاظ والمعاني مفرداتها ومرکّباتها .
وبیان ذلک أنّ الاسم يستعمل علی ضربین :
أحدهما : بحسب الوضع الاصطلاحيّ ، وذلک هو في المخبر عنه نحو : رجل وفرس .
والثاني : بحسب الوضع الأوّليّ.
ويقال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
1 ؎ مواطاۃ بمعنی مطابقہ ہے کمافی قولہٖ تعالیٰ لیواطئو عدۃ ماحرم اللہ
Read the full tafseer →وَاذْکُرِاسْمَ رَبِّکَ وَتَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلاً ۔ (المزمل : 8)
(اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہو۔ )
ذِکْرُاللّٰہَ اور تَبَتُّلْکا حکم اور مفہوم
اس آیت کریمہ میں دو باتوں کا حکم دیا گیا ہے۔ پہلی بات یہ کہ آپ ﷺ اپنے رب کے نام کا ذکر کرتے رہے۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے ذکر پر مداومت ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے اس کا تصور ہی نہیں ہوسکتا تھا کہ آپ ﷺ بالکل ذکر نہ کرتے۔ اس میں صرف یہ تاکید کی گئی ہے کہ نیند اور عبادت کی مصروفیات کے علاوہ کوئی وقت بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے فارغ نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ جس طرح انسان کی مادی زندگی کے لیے سانس ضروری ہے، اسی طرح اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
فہم القرآن
ربط کلام : نماز تہجد اور اس میں تلاوت قرآن کا فائدہ۔
نبوت کا فریضہ تمام کاموں سے مشکل ترین کام ہے کسب معاش اور گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ کسی لالچ کے بغیر دن، رات لوگوں کی خدمت کرنا بالخصوص انہیں توحید کی دعوت دینا اور شرک سے منع کرنا انتہائی مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ اس کے لیے انتہادرجے کی جفاکشی اور بڑے صبر و حوصلہ کی ضرورت ہے، صبر و حوصلہ اور جفاکش بننے کے لیے آدھی رات کو اٹھ کر مصلّے پر کھڑا ہونا اور غور وفکر کرتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر قرآن مجید کی تلاوت کرنا اپنے نفس پر قابو پانے کا بہترین طریقہ ہے۔ بشرطیکہ اسے صرف عادت اور عبادت کے طور پر نہیں بلکہ اپنے احتساب اور تربیت کے…
Read the full tafseer →8 : وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ (اور اپنے رب کا نام یاد کرتے رہو) دن رات اس کا ذکر کرو۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں تسبیح، تہلیل، تکبیر، نماز تلاوت قرآن، علم دینی پڑھانا سب شامل ہیں۔ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلًا ( اور سب سے قطع کر کے اسی کی طرف متوجہ رہو) ہر چیز سے منقطع ہو کر اس کی عبادت میں لگو۔ التبتلؔ اللہ تعالیٰ ہی سے ہر خیر کی امید لگا کر باقی سب سے منقطع ہونا۔ ایک قول یہ ہے کہ دنیا اور جو اس میں ہے تمام کو چھوڑنا۔ اور اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہے اس کی درخواست کرنا۔ تبتیلاً مصدر کو بعد میں زیادہ تاکید کیلئے لائے تقدیر کلام یہ ہے بَتَّلک اللہ فتبتل نمبر 2۔ فواصل کی رعایت سے مصدر یہاں لائے۔
Read the full tafseer →7 ۔” ان لک فی النھار سبحا طویلا “ یعنی تصرف کرنا اور پلٹنا اور آنا جانا اپنی ضروریات اور مشغولیت میں اور سبح کی اصل تیزی سے جانا اور اسی سے پانی میں تیراکی کرنے کو ” سباحۃ “ کہتے ہیں اور کہا گیا ہے ” سبحا طویلا “ یعنی فراغت اور وسعت تیرے سونے اور اپنی ضروریات میں تصرف کرنے کے لئے۔ پس تورات کا کچھ حصہ نماز پڑھ اور یحییٰ بن یعمر (رح) نے ” سبحا “ خاء نقطہ والی کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی آرام اور بدن کے لئے ہلکی اور اسی سے نبی کریم ﷺ کا قول ہے جو آپ (علیہ السلام) نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو فرمایا جب انہوں نے چور کو بددعا کی۔ ” لا تسبخی عنہ بدعائک علیہ “ یعنی تو اس پر بددعا کرکے اس پر تخفیف نہ کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ 9۔ اکثر سلف کے نزدیک یہ سورة مکی ہے مگر حضرت عبد اللہ 1 ؎ بن عباس ؓ کا قول ہے واصبر علی مایقولون اور اس سے بعد کی آیت یہ دونوں آیتیں مدنی ہیں لیکن یہ اوپر گزر چکا ہے کہ جس سورة کا شروع کا حصہ مکی ہو وہ مکی کہلاتی ہے حسن بصری اور ابن سیرین اس بات کے قائل ہیں کہ رات کا اٹھنا اور تہجد کی نماز کا پڑھنا فرض ہے۔ زیادہ نہ ہو سکے تو اتنی ہی دیر آدمی کو اٹھنا چاہئے جتنی دیر میں بکری کا دودھ دوہا جاتا ہے لیکن جمہور علماء کا مذہب یہی ہے کہ تہجد کی نماز سنت ہے اور ایسی افضل سنت ہے جس کی ترغیب آنحضرت ﷺ نے بہت سی حدیثوں میں دلائی ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم اور منن میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث مشہور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے…
Read the full tafseer →(وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ ) اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو یہ ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے۔ (وَتَبَتَّلْ اِلَيْهِ ) اور سب سے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیے۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کیجئے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کی طرف انابت، قلب کے خلائق سے علیحدہ اور لاتعلق ہونے، اللہ تعالیٰ کی محبت اور ان اوصاف سے متصف ہونے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بناتے ہیں اور اس کی رضا کے قریب کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
قول باری ہے (واکراسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا۔ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہورہو) مجاہد کا قول ہے ” اللہ سے اپنے اخلاص کا اظہار کرو۔ “ قتادہ کا قول ہے ” پورے اخلاص کے ساتھ اس سے دعا مانگو اور اس کی عبادت کرو۔ “ ایک قول کے مطابق اس سے مراد سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہنا اور صرف اسی سے خیر کی امید رکھنا ہے۔
بعض لوگ تکبیر افتتاح کے سلسلے میں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کیونکہ اس کا ذکر نماز کے ضمن میں ہوا ہے اس لئے یہ اللہ کے تمام اسماء کے ساتھ افتتاح صلوٰۃ کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔
قول باری ہے (سبحا طویلا ۔ (دن کے اوقات میں تمہارے لئے) بہت مصروفیات ہیں) قتادہ کا قول ہے کہ طویل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
10 سبح طویل کا معنی و مطلب ؟ اور ذکر دوام کا درس : سو ارشاد فرمایا گیا بلاشبہ آپ ﷺ کے لئے دن میں بہت کام ہوتا ہے : دین حلق کی تبلیغ و خدمت اور خلق خداوندی کی اصلاح و خیر خواہی کا کام، جس کا دائرہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہی جائے گا، اس لئے دن کے اوقات میں آپ ﷺ کو وہ یکسوئی میسر نہیں آسکتی، جو کہ رات کی ان گھڑیوں میں صنیب ہوتی ہے، یہ اس آیت کریمہ ا ایک اور مشہور و معروف مطلب ہے، جو عام طور پر لیا جاتا ہے اور جو اس بات پر مبنی ہے کہ " سجا " کے معنی یہاں پر شغل اور کام کے ہیں جبکہ اس کا ایک اور مطلب بعض اہل علم نے یہ مراد لیا ہے کہ آپ کے لئے اے پیغمبر دن کے وقت میں بھی تسبیح کا کافی موقع ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
نماز تہجد کا حکم
تشریح : یہ بابرکت سورت اس لحاظ سے بھی خاص ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺ کو بڑے محبت بھرے انداز میں مخاطب کیا ہے۔ یعنی اے کپڑوں میں لپٹنے والے (مزّمل کا مطلب ہے ہلکا کپڑا یعنی چادر) اور پھر اس برگزیدہ نیک فطرت اور متقی انسان کو اس آنے والے مشکل ترین کام کی تیاری کی خبر دی گئی اور اس کو سنبھالنے کے لیے اپنے اندر وہ جذبہ توکل صبر و ضبط اور جان نثاری پیدا کرنے کے مزید طریقے بتائے گئے جو ان کو ایک کامل آخری نبی بننے کے قابل بنا سکیں۔ اور ان میں سب سے پہلا کام جو کہا گیا وہ تھا شب بیداری یعنی رات کو اٹھ کر نماز پڑھنا عبادت کرنا اور اللہ سے مدد مانگنا اور اس کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة المزمل۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اے کمبل پوش یہ بات ایک خوبصورت انداز محبت میں ارشاد فرمائی اور فرمایا کہ راتوں کو اٹھیں یعنی قیام فرمائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور تھوڑا وقت آرام کریں قیام کے لیے آدھی رات یا اس سے کچھ کم زیادہ کرلیاکریں اس میں نہایت خوبصورت انداز سے قرآن کی تلاوت کریں۔
نماز تہجد۔
یہ آیات ابتدائے اسلام کی ہیں اور ان میں آپ پر اور مسلمانوں پر تہجد کی نماز فرض کی گئی نیز رات کا اکثر حصہ قیام کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر درست طریقے سے اور خوبصورت انداز می پڑھنے کا حکم ہوا چناچہ آپ اور صحابہ کرام سال بھر تک تہجد ہی ادا فرماتے رہے جس میں طویل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
ف 1 یعنی ان کی شامت آیا چاہتی ہے ذرا انتظار کیجیے۔ چناچہ بدر کے دن مشرکین مکہ کی یہ شامت آگی۔
Read the full tafseer →(73:8) واذکر اسم ربک واؤ عاطفہ ہے جملہ کا عطف قم الیل پر ہے۔ اذکر فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ذکر (باب نصر) مصدر۔ تو یاد کر۔ اسم مضاف ربک مضاف مضاف الیہ۔ مل کر اسم کا مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول فعل اذکر کا۔ اپنے رب کا نام لیا کر۔
وتبتل الیہ تبتیلا ۔ جملہ معطوف ہے اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے تبتل فعل امر واحد مذکر حاضر تبتل (تفعل) مصدر سے۔ جس کے معنی سب سے الگ ہوکر اللہ کے لئے عبادت اور نیت کے خالص کرنے کے ہیں۔ یعنی تو اخلاص نیت اور عبادت میں سب سے منقطع ہوجا۔ مصدر تبتیلا (مفعول مطلق) کو تاکید کے لئے لائے ہیں۔
واعدہ کے مطابق مفعول مطلق فعل کے باب سے تبتلا ہونا چاہیے تھا لیکن کیونکہ بتل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
المزمل۔ کپڑوں میں لپٹنے والا۔ قم۔ کھڑا ہوجا۔ انقص کم کرلے۔ گھٹالے۔ رتل۔ صاف صاف پڑھ۔ سنلقی۔ ہم بہت جلدڈالیں گے۔ قول ثقیل۔ بھاری کلام۔ ناشئۃ۔ رات کو اٹھنا۔ بیدار ہونا۔ وطئہ ۔ مشقت۔ روندنا۔ اقومل قیلا۔ زیادہ درست بات۔ سبح طویل۔ زیادہ کام۔ زیادہ مشغولیت۔ تبتل۔ کاٹ ڈال۔ تبتیل۔ خوب کٹنا۔ ھجر۔ چھوڑ دینا۔ مھل۔ مہلت دے۔ لدینا۔ ہمارے پاس۔ انکال۔ بیڑیاں۔ زنجیریں۔ ذاغصۃ۔ گلے میں پھنس جانے والا۔ ترجف۔ کانپے گی۔ کشیب۔ ریت کے ٹیلے۔ مھیل۔ نیچے دھکیلا گیا۔ بیل۔ سخت۔ عبرت ناک۔ شیب۔ بوڑھا۔ منفظر۔ پھٹ جانے والا۔ ثلثی الیل۔ دو تہائی رات۔ تیسر۔ آسان ہوگا۔ اعظم اجرا۔ بہت بوڑھا ہوا ثواب۔
تشریح : سورة…
Read the full tafseer →(ف 4) یعنی رات دن کے جملہ اوقات میں تسبیح تہلیل نماز تلاوت قرآن درس علم وغیرہ کے لیے مشغول رہو۔
(ف 5) یعنی عبادت میں انقطاع کی صفت ہو کہ دل اللہ کے سوا اور کسی کی طرف مشغول نہ ہو۔ سب علاقے قطع ہوجائیں اسی کی طرف توجہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
[4] دن کے وقت مشغولیت کا ذکر کرنے کے بعد یہ فرمانا کہ '' اپنے رب کا نام لیتے رہو '' خودبخود یہ مفہوم ظاہر کرتا ہے کہ دنیا میں ہر طرح کے کام کرتے ہوئے بھی اپنے رب کی یاد سے کبھی غافل نہ رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة المزمل
1: المزمل کے معنے لفظ اس شخص کے بھی ہیں جو ایک بارعظیم کو اپنے کندوں پر اٹھالے ۔ اور نبوت و رسالت سے زیادہ بڑھ کر اور کون بار عظیم ہوسکتا ہے ۔ اس لئے فرمایا ۔ کہ اے وہ شخص جو نبوت کی گراں بار ذمہ داریوں کا حامل ہے ۔ اٹھ اور رات کو چندے حضور خداوندی میں قیام کر ۔ رات بھر نہیں ۔ کیونکہ تمہیں دن کو بھی دین کی نشرواشاعت کے سلسلہ میں بہت کام کرنا ہے ۔ غور فرمائیے ۔ ایسا شخص جو رات کی تاریکیوں میں جبکہ ساری کائنات سورة ی ہے ۔ اپنے قلب کو نور اور روشنی سے بھررہا ہے ۔ اور اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہے ۔ کیا وہ جھوٹا ہوسکتا ہے جس کے ذوق عبودیت کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ رات بھر عبادت میں مصروف…
Read the full tafseer →(8) اور آپ اپنے پروردگار کا نام یاد کرتے رہا کیجئے اور ماسوا اللہ سے کٹ کر اس کی جانب متوجہ رہیے۔ مطلب یہ ہے کہ قیام شب کے علاوہ دوسرے اوقات میں بھی اپنے پروردگار کے نام کو یاد کرتے رہیے اور سب سے قطع ہوکر پروردگار کی جانب متوجہ رہیے یعنی ذکر الٰہی اور تبتل ہر وقت کا فرض ہے۔ تبتل کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جو تعلق قائم ہو وہ دوسرے سب تعلقات پر غالب ہو۔
بعض علماء نے فرمایا اخلاص اور توکل مراد ہے بعض اہل لغت نے فرمایا جب عابد عبادت الٰہی کے علاوہ ہر چیز سے قطع تعلق کرلے تو اس کو تبتل کہتے ہیں یعنی حضرت حق تعالیٰ کے ساتھ ایسا تعلق ہو کہ ہر وقت اسی کا دھیان رہے اور اسی کی جانب توجہ مرکوز رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ف 6۔ وجہ اس عنوان سے خطاب کرنے کی یہ ہے کہ ابتدائے نبوت میں قریش نے دار الندوہ میں جمع ہو کر آپ کے بارے میں مشورہ کیا کہ آپ کی حالت کے مناسب کوئی لقب تجویز کرنا چاہئے کہ اس پر سب متفق رہیں، کسی نے کہا کہ کاہن ہیں، پھر ائے قرار پائی کہ کاہن نہیں ہیں، کسی نے مجنون کہا، پھر اس کو بھی سب نے غلط قرار دیا، پھر ساحر کہا، پھر بعض نے اس کو بھی رد کیا، لیکن پھر کہنے لگے کہ ساحر اس لئے ہیں کہ حبیب کو حبیب سے جدا کردیتے ہیں، آپ کو یہ خبر پہنچ کر رنج ہوا اور رنج کی حالت میں کپڑوں میں لپٹ گئے جیسا اکثر سوچ اور غم میں مغموم آدمی اس طرح کرلیتا ہے۔ پس تانیس و ملاطفت کے لئے اس عنوان سے خطاب فرمایا کہ صفت…
Read the full tafseer →اپنے رب کے نام کا ذکر کرتے ہوئے اور سب سے کٹ کر صرف اسی کے ہو جائیے
۔ 8 (تبتل) کا اصل مادہ ب ت ل ہے اور اس مادہ کے صرف دو لفظ (تبتل) اور (تبتیلاً ) صرف اسی ایک ہی جگہ استعمال ہوئے ہیں اور علاوہ ازیں یہ مادہ قرآن کریم میں کہیں استعمال نہیں ہوا۔ بتلہ من باب نصر و ضرب بتلا قطعہ و تبتل تبتیلا انفطع الی اللہ عما سواہ بالعبادۃ و مثلہ۔ بتل تبتیلا (معجم) (تبتل) تو اخلاص نیت اور عبادت میں سب سے منقطع ہوجا۔ سب سے الگ ہوجا نیتل “ سے جس کے منی سب سے الگ ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اس کی عبادت اور نیت خالص کرنے کے ہیں۔ امر کا صیغہ واحد مذکر اور تقریباً یہی معنی (تبتیلاً ) کے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ مصدر…
Read the full tafseer →وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ اِلَيْهِ تَبْتِيْلًا
(And remember the name of your Lord, and devote yourself to Him with exclusive devotion… 73:8). The word tabattul, literally, means 'to cut off oneself from entire creation to focus attention solely on the Creator to detach oneself from worldly things and devote oneself exclusively and sincerely to the service of Allah' The sentence: وَاذْكُرِ اسْمَ (And remember the name of your Lord...73:8) is grammatically conjoined to the sentence: 1 (Stand at night [ for prayer ].... 73:2) which enjoins upon the Holy Prophet to perform the…
Read the full tafseer →9 After making mention of the occupation of the daytime, the exhortation to "remember the name of your Lord" by itself gives the meaning: "Never be heedless of the remembrance of your Lord even when you are deeply involved in your worldly occupations, and continue. to commemorate His name in one way or another at all times." (For explanation, see E.N. 63 of Surah AI-Ahzab) .
Read the full tafseer →