Al-Muzzammil 73:9

Al-Muzzammil · from ayah 9

73:9

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا ۟رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذۡهُ وَكِيۡلًا

مشرق اور مغرب کا مالک (ہے اور) اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کارساز بناؤ

— Fateh Muhammad Jalandhari

[He is] the Lord of the East and the West; there is no deity except Him, so take Him as Disposer of [your] affairs.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muzzammil

All translations of 73:9

وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، لہٰذا اُسی کو اپنا وکیل بنا لو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مشرق اور مغرب کا مالک (ہے اور) اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کارساز بناؤ

— مولانا فتح محمد جالندہری

مشرق ومغرب کا پروردگار جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کار ساز بنالے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس لیے اسی کو کارساز بنا لو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ پورب کا رب اور پچھم کا رب اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تم اسی کو اپنا کارساز بناؤ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، سو اُسی کو (اپنا) کارساز بنا لیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

` مشرق و مغرب کا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سو اس کو کارساز بنالے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں لہذا اسے ہی اپنا کارساز بنا لیجیے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہی مشرق و مغرب کا خداوند ہے، اس کے سواء کوئی معبود نہیں تو اس کی کو اپنا کار ساز بنا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہی مالک ہے مشرق و مغرب کا کوئی معبود نہیں سوائے اس (وحدہ، لاشریک) کے پس تم اسی کو بنائے رکھو اپنا وکیل (اور کار ساز)

— مولانا اسحاق مدنی

وہ پروردگار ہے مشرق ومغرب کا کوئی معبود اس کے سوا نہیں اسی کو (اپنا) چارہ ساز بنائے رکھئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ رب ہے مشرق کا بھی اور مغرب کا بھی اس کے سوا کوئی معبود نہیں بس آپ اسی کو بنا لیجیے اپناکارساز۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہی مشرق اور مغرب کا مالک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کارساز بناؤ۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He is the Lord of the East and the West; there is no god but He. So take Him alone for your Guardian,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He is the Lord of the East and the West; there is no god but He; so take Him for (your) Guardian.

— Muhammad Taqi Usmani

He is the Lord of the East and the West; there is no god but He; so take Him for (your) Guardian.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Lord of the east and the west; La ilaha illa Huwa, so take Him as a trustee.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lord of the East and the West; there is no Allah save Him; so choose thou Him alone for thy defender -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[He is] the Lord of the East and the West; there is no deity except Him, so take Him as Disposer of [your] affairs.

— Saheeh International

He is the only Lord, so choose Him as your guardian.

— Muhammad Sarwar

The Lord of the East and the West-- there is no god but He-- therefore take Him for a protector.

— Muhammad Habib Shakir

Lord of the east and the west! No God is there but He! Wherefore take Him for thy trustee.

— Abdul Majid Daryabadi

(He is) Lord of the East and the West: there is no god but He: take Him therefore for (thy) Disposer of Affairs.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 73:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–9

رسول اللہ کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کرلیں، جیسے فرمان ہے آیت (تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 16؀) 32۔ السجدة :16) ، ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں، حضور ﷺ پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنَ الَّيْلِ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُزَّمِّل 10 وکیل اس شخص کو کہتے ہیں جس پر اعتماد کر کے کوئی شخص اپنا معاملہ اس کے سپرد کر دے۔ قریب قریب اسی معنی میں ہم اردو زبان میں وکیل کا لفظ اس شخص کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کے حوالہ اپنا مقدمہ کر کے ایک آدمی مطمئن ہوجاتا ہے کہ اس کی طرف سے وہ اچھی طرح مقدمہ لڑے گا اور اسے خود اپنا مقدمہ لڑنے کی حاجت نہ رہے گی۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس دین کی دعوت پیش کرنے پر تمہارے خلاف مخالفتوں کا جو طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے اور جو مشکلات تمہیں پیش آ رہی ہیں ان پر کوئی پریشانی تم کو لاحق نہ ہونی چاہیے۔ تمہارا رب وہ ہے جو مشرق و مغرب، یعنی ساری کائنات کا مالک ہے، جس کے سوا خدائی کے اختیارات کسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا، وکیل لغت میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کو کوئی کام سپرد کیا جائے۔ فاتخذہ وکیلا کا مفہوم یہ ہوا کہ اپنے سب کاروبار معاملات اور حالات کو اللہ کے سپرد کرو۔ اسی کا نام اصطلاح میں توکل ہے۔ اس سورت میں جو احکام رسول اللہ ﷺ کو دیئے گئے ہیں یہ ان میں پانچواں حکم ہے۔ امام یعقوب کرخی ؒ نے فرمایا شروع سورت سے اس آیت تک مقامات سلوک کی طرف اشارہ ہے یعنی رات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے خلوت۔ قرآن کریم میں اشتعال، ذکر اللہ پر دوام، ماسوی اللہ سے اعراض و ترک تعلق اللہ تعالیٰ پر توکل توکل کے آخری حکم سے پہلے اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی اللہ کی پناہ کسی کمزور کی پناہ نہیں ہے بلکہ تمام مشرق و مغرب کے خداوند کی پناہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو اس کا شریک و سہیم ہو یا اس کے ارادوں میں مزاحم ہو سکے۔ اس کو وکیل بناؤ گے تو وہ تمہارے لیے کافی ہے۔ ’وَکَفٰی بِاللہِ وَکِیْلاً‘ (النسآء ۴: ۸۱)

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 8–12

8۔ 1 یعنی اللہ کی عبادت اور اس سے دعا و مناجات کے لیے یکسو اور ہمہ تن اس کی طرف متوجہ ہوجانا، یہ رہبانیت سے مختلف چیز ہے رہبانیت تو تجرد اور ترک دنیا ہے جو اسلام میں ناپسندیدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–9

6: ذکر میں دونوں باتیں داخل ہیں، زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی، اور دل سے اللہ تعالیٰ کا دھیان رکھنا بھی۔ اور سب سے الگ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیا کے سارے تعلقات چھوڑ دو ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان سارے تعلقات پر اللہ تعالیٰ کے تعلق کو غالب رکھو، یہاں تک کہ دنیا کے تعلقات بھی اللہ تعالیٰ ہی کے احکام کے مطابق اور اسی کے حکم کی تعمیل میں ہونے چاہئیں۔ اس طرح وہ تعلقات بھی اللہ ہی کے لیے ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

رب المشرق .................... وکیلا (73:9) ” وہ مشرق ومغرب کا مالک ہے ، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ، لہٰذا اسی کو اپنا وکیل بنالو “۔ وہ ہر متوجہ ہونے والے کا رب ہے۔ مشرق ومغرب کا رب ہے ، وہ واحد الٰہ ہے اور اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ اور جو شخص اللہ کا ہوجائے ، وہ دراصل اس اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اس کے ذہن میں یہ عقیدہ خود بخود آجاتا ہے کہ اللہ اس کائنات کے شرق وغرب اور پوری کائنات پر قادر مطلق ہے۔ اور رسول اکرم ﷺ جن سے یہ کہا جارہا ہے کہ اٹھو کہ تم نے اس جہاں میں ایک بھاری ذمہ داری اٹھائی ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ تم اللہ کے ہوجاؤ اور پوری کائنات کی طرف پشت کرکے اللہ کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 مشرق دن کا اور مغرب رات کا نشان ہے گویا اشارہ کردیا کہ دن اور رات دونوں کو اسی مالک مشرق و مغرب کی یاد اور رضا جوئی میں لگانا چاہیے۔ 3 یعنی بندگی بھی اس کی اور توکل بھی اسی پر ہونا چاہیے۔ جب وہ وکیل و کارساز ہو تو دوسروں سے کٹ جانے اور الگ ہونے کی کیا پروا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 8–9

آیت 8{ وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَتَـبَتَّلْ اِلَـیْہِ تَـبْتِیْلًا۔ } ”اور آپ ﷺ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کریں اور ہر طرف سے کٹ کر بس اسی کے ہو رہیں۔“ تبتّلکا معروف مفہوم تو یہی ہے کہ سب سے کٹ کر کسی ایک کا ہوجانا ‘ لیکن عملی طور پر اس حکم کے ذریعے ایک بندئہ مومن سے ”بےہمہ و باہمہ“ کی کیفیت مطلوب ہے۔ یعنی رشتوں اور تعلقات کے ہجوم میں بظاہر سب کے ساتھ نظر آئو ‘ لیکن حقیقت میں تمہارا تعلق کسی کے ساتھ بھی نہ ہو۔ جیسے قیامت کے دن ہر انسان کو انفرادی حیثیت سے اللہ کے حضور کھڑے ہونا ہوگا۔ اس وقت ماں باپ ‘ اولاد ‘ بیوی ‘ شوہر کوئی بھی ساتھ نہیں ہوگا۔ بہرحال ایک بندئہ مومن کو فریضہ دعوت و تبلیغ کی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

10 وکیل کا لفظ ہماری زبان میں بھی ٹھیک اسی مفہوم میں استعمال ہوتا ہے جس میں عربی زبان میں مستعمل ہے۔ ہم جب مقدمہ کی پیروی کے لئے کسی کو اپنا وکیل بنا لیتے ہیں تو سب ذمہ داری اس کے سپرد کرکے خود مطمئن ہوجاتے ہیں۔ یہی بات اللہ تعالیٰ اپنے پیارے پیغمبر سے فرما رہے ہیں کہ آپ ﷺ خود تو پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع ہوجائیے اور اپنے سب معاملات اپنے پروردگار کے سپرد کردیجیے۔ آپ ﷺ کے باقی سب معاملات وہ درست کر دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

7۔ اس آیت پر پہنچ کر ذرا ملک کی اس فضا کا نقشہ ذہن کے سامنے لے آئیے، جس میں توحید کی یہ آواز اول اول بلند ہوئی تھی، ایک تجارت پیشہ قوم جو اپنی آزادی وخود مختاری، اپنی اقبال مندی، اور اپنی شرافت نسب پر نازاں تھی، اور اپنے جاہلی دین واخلاق اور مشرکانہ تہذیب و تمدن میں مست، توحید اور پاکبازی کے نام سے نا آشنا۔ اس مغرور قوم کے آگے اس کا ایک، جو اس وقت تک نہ ثروت ووجاہت میں ممتاز تھا نہ ملک گیری وفوج کشی میں، تن تنہا کھڑے ہو کر صدا یہ بلند کررہا ہے کہ جن دیویوں دیوتاؤں کی پرستش تم بشتہاپشت سے کرتے چلے آرہے ہو، سب کو چھوڑ چھاڑ کر صرف ایک کو مانو، اپنے فیش کو بدلو، اپنے دین کو بدلو، شرابیں چھوڑو،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–9

واذکر اسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا، دن کے اوقات کی مصروفیتوں کے ذکر کرنے کے بعد یہ ارشاد ہے کہ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو، اس سے یہ مفہوم خود بخود ظاہر ہوتا ہے کہ دن میں ہر طرح کے کاموں میں مشغول رہنے کے بعد بھی اپنے رب کی یاد سے کبھی غافل نہ ہوئے اور کسی نہ کسی شکل میں اس کا ذکر کرتے رہے، ذکر لسانی کا کسی کام میں مخل نہ ہونا صاف ظاہر ہے نہ اس کے لئے کسی مخصوص وقت کی ضرورت، نہ طہارت کی اور نہ کسی مخصوص ہیئت کی اور اگر بعض اوقات ذکر لسانی ممنوع ہو مثلاً بیت الخلاء وغیرہ کی حالت میں تو ذکر خیالی یعنی خدا کی کائنات اور اس کی قدرت میں غور و فکر کرنا کسی وقت بھی ممنوع نہیں۔ تبتل الیہ تبتیلا، تبتل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

رب المشرق والمغرب . اگر رفع کے ساتھ ربُّ کو پڑھا جائے جو ابن کثیر ‘ نافع ‘ ابو عمر اور حفص کی قراءت ہے تو خبر ہوگی ‘ مبتداء محذوف ہوگا یا مبتداء ہوگا اور خبر محذوف ہوگی اور ربِّ کو زیر کے ساتھ پڑھا جائے جیسا کہ باقی اہل قراءت کے نزدیک ہے تو ربک سے بدل ہوگا یا حرف قسم محذوف ہوگا اور لَا اِلٰہَ الاَّ ھُو جواب قسم ہوگا۔ لا الہ الا ھو فاتخذہ وکیلا . فاتخذہ میں فاء سببی ہے یعنی اللہ کی الوہیت منفردہ اس کے کارساز ہونے کی علّت ہے۔ جب اللہ ساری مخلوق کا رب ہے اور الوہیت میں منفرد ہے تو اس کا تقاضا ہے کہ تمام معاملات اسی کے سپردکر دیئے جائیں۔ تعلیم تبتل سے دماغ میں ایک وہم پیدا ہوسکتا تھا کہ ہر انسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 7–9

(7۔ 9) اور آپ کو دن میں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے خوب موقع رہتا ہے اور اپنے پروردگار کے حکم سے نماز پڑھیے یا یہ کہ اس کی توحید بیان کیجیے اور اپنی نماز دعا اور عبادت خالص اللہ ہی کے لیے کرو اسی کی عبادت کر کے اپنا پروردگار بناؤ یا کہ اللہ تعالیٰ نے جو آپ سے فتح وثواب کا وعدہ فرمایا ہے اس میں اسی کو ذمہ دار بناؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(رب المشرق والمغرب…: یعنی مشرق و مغرب کا مالک و مربی وہی ہے، ہر وقت اسی کا ذکر کرو، عبات بھی اسی کی کرو اور بھروسہ بھی اسی پر رکھو، جب وہ معبود اور وکیل ہے تو تمام دنیا سے بےپروا ہوجانے میں فکر کس بات کی ؟ عبادت و توکل دونوں کو اللہ کیلئے خاص کرنے کا حکم کئی آیات میں آیا ہے، جیسے فرمایا :(فاعبدہ و توکل علیہ) (ھود : 123)”سو اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ۔“ اور فرمایا :(ایاک نعبد وایاک نستعین) (الفاتحۃ : 3)”ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔“ ”وکیلاً“ ”وکل یکل“ (ض) سپرد کرنا۔ وکیل وہ ہے جس کے سپرد کوئی کام کردیا جائے، یعنی اپنی پوری جدوجہد کے باوجود اعتماد صرف اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 9–11

رب المشرق والمغرب۔۔۔ تا۔۔۔۔ قلیلا۔ اہل حرمین، ابن محصین، مجاہد، ابوعمرو، ابن اسحاق، اور حفص نے لفظ رب کو مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع پڑھا ہے، اس کی خبر لا الہ الاھو ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے پہلے ھومضمر ہے، باقی قراء نے لفظ رب کو مجرور پڑھا ہے، کیونکہ یہ واذکر اسم ربک، اور رب المشرق کے لفظ رب کی صفت ہے جو آدمی یہ جان لیتا ہے کہ وہ مشارق اور مغارب کا رب ہے تو اس کا عمل اور آرزو اور اس کے ساتھ وابستہ ہوگئی، فاتخذوہ وکیلا۔ یعنی تو اسے یوں بنالے کہ وہ تیرے امور کی نگہبانی کرنے والا ہے، اور اسی نے تیرے ساتھ جو وعدہ کیا ہے اس پر اسے ضامن بنالے۔ کفار جو آپ کو اذیت دیتے ہیں سب وشتم کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

69۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت رب المشرق والمغرب رب کے کسرہ کے ساتھ۔ 70 عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت رب امشرق والمغرب سے مراد ہے وجہ اللیل اور وجہ النہار۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ : وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے ] [لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ : کوئی اِلٰہ نہیں سوائے اس کے ] [فَاتَّخِذْهُ : تو آپ ﷺ بنائیں اس کو ] [وَكِيْلًا : کام (بگڑی) بنانے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا 009﴾ (وہ مشرق اور مغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں سو آپ اسی کو اپنا کارساز بنائے رہیں) ۔ اس میں بتادیا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی حاجت روا نہیں اور کوئی معبود نہیں۔ مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان وجود میں آتا ہے سب اسی کی مشیت سے ہوتا ہے وہی سب کا رب ہے آپ اسی کو اپنا کارساز بنائے رہیں اسی کے سامنے اپنی حاجت رکھیں اسی سے سب کچھ مانگیں اور اسی کی طرف متوجہ رہیں۔ قولہ تعالیٰ : ﴿يٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ001﴾ قال الاخفش سعید ﴿المزمل﴾ اصلہ المتزمل فادغمت التاء فی الزای وکذلک ﴿المدثر﴾ وفی اصل المزمل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–14

حکم قیام اللیل وتاکید ترتیل وتحسین درتلاوت کلام اللہ تعالیٰ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المزمل ......... الی ........... کثیبا مھیلا “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں جنوں کا قصہ ذکر فرمایا گیا تھا کہ وہ قرآن کریم کو سن کر کیسے اس پر فریفتہ اور گرویدہ ہوئے اور اس پر ایمان لائے اور ایمان وہدایت کا رنگ ان پر اس قدر غالب آیا کہ اپنی قوم کے واسطے داعی اور ہادی وناصح بن کر لوٹے اب اس سورت میں جو کہ ابتداء نبوت کے زمانہ میں نازل ہوئی اس میں مشرکین مکہ کی بےرخی اور آپ ﷺ کی شان میں توہین و گستاخی کا ذکر کرکے آپ ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے اور انکی ایذاؤں وزیادتیوں پر صبر کی تلقین کی جارہی ہے۔ مشرکین مکہ آپ ﷺ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

9:َ ” رب المشرق “ یہ مبتدا مقدر کی خبر ہے۔ ای ھو رب المشرق۔ مشرق و مغرب تمام کائنات سے کنایہ ہے۔ ” فاتخذہ “ میں فا فصیحہ ہے جب ساری کائنات کا رب اور املک وہی ہے اور اس کے سوا کوئی الہ اور معبود نہیں تو پھر صرف اسی کی اپنا کارساز بناؤ اور اپنے تمام مہمات میں اسی پر تکیہ کرو اور تمام امور میں صرف اسی کو پکارو۔ فالمعنی انہ لما ثبت انہ لا الہ الا ھو لزمک ان تتخذوہ وکیلا وان تفوض کل امورک الیہ (کبیر ج 8 ص 340) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–9

کوائف اور مضامین سورة : اس سورة کا نام سورة مزمل ہے۔ سورة کی پہلی آیت میں ہی لفظ مزمل آیا ہے۔ جس کے نام پر سورة کا نام ہے۔ یہ مکی سورة ہے اسکی بیس آیات اور دو روکوع ہیں۔ اس میں دو سو پچاس الفاظ اور آٹھ سو آڑتیس حروف ہیں۔ سابقہ سورة جن کی طرح اس سورة میں بھی انبیاء عقائد کا ذکر ہے۔ جس طرح اس سورة میں توحید ، رسالت ، قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور دلائل توحید مذکور تھے اسی طرح اس سورة میں بھی ان بنیادی عقاد کا ذکر ہے۔ اس طرح گویا اس سورة کو سابقہ سورة کے ساتھ مناسبت ہے۔ سورة جن میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ کیا ۔ کہ وہ قرآن کریم کو اللہ کا کلام نہیں مانتے تو اس سے متاثر ہوئے اور ایمان قبول…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَفَاتَّخِذْہُ وَكِيْلًا۝ 9 شرق شَرَقَتِ الشمس شُرُوقاً : طلعت، وقیل : لا أفعل ذلک ما ذرّ شَارِقٌ وأَشْرَقَتْ : أضاءت . قال اللہ : بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْراقِ [ ص/ 18] أي : وقت الإشراق . والْمَشْرِقُ والمغرب إذا قيلا بالإفراد فإشارة إلى ناحیتي الشَّرْقِ والغرب، وإذا قيلا بلفظ التّثنية فإشارة إلى مطلعي ومغربي الشتاء والصّيف، وإذا قيلا بلفظ الجمع فاعتبار بمطلع کلّ يوم ومغربه، أو بمطلع کلّ فصل ومغربه، قال تعالی: رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ [ الشعراء/ 28] ، رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ [ الرحمن/ 17] ، بِرَبِّ الْمَشارِقِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–10

1 ؎ مواطاۃ بمعنی مطابقہ ہے کمافی قولہٖ تعالیٰ لیواطئو عدۃ ماحرم اللہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآاِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ فَا تَّخِذْہُ وَکِیْلاً ۔ (وہ مشرق اور مغرب کا مالک ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز بنائو۔ 9) وَکِیْل کا مفہوم وکیل لغت میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جس پر اعتماد کرکے کوئی شخص اپنا معاملہ اس کے سپرد کردے۔ تو آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت پیش کرنے پر آپ ﷺ کیخلاف جو مخالفتوں کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے اور جو مشکلات آپ ﷺ کے راستے میں حائل کردی گئی ہیں ان پر کوئی پریشانی آپ ﷺ کو لاحق نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ آپ ﷺ کا رب وہ ہے جو مشرق و مغرب یعنی ساری کائنات کا مالک ہے، جس کے سوا خدائی کے اختیارات کسی کے ہاتھ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–10

فہم القرآن ربط کلام : نماز تہجد اور اس میں تلاوت قرآن کا فائدہ۔ نبوت کا فریضہ تمام کاموں سے مشکل ترین کام ہے کسب معاش اور گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ کسی لالچ کے بغیر دن، رات لوگوں کی خدمت کرنا بالخصوص انہیں توحید کی دعوت دینا اور شرک سے منع کرنا انتہائی مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ اس کے لیے انتہادرجے کی جفاکشی اور بڑے صبر و حوصلہ کی ضرورت ہے، صبر و حوصلہ اور جفاکش بننے کے لیے آدھی رات کو اٹھ کر مصلّے پر کھڑا ہونا اور غور وفکر کرتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر قرآن مجید کی تلاوت کرنا اپنے نفس پر قابو پانے کا بہترین طریقہ ہے۔ بشرطیکہ اسے صرف عادت اور عبادت کے طور پر نہیں بلکہ اپنے احتساب اور تربیت کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

9 : رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ (وہ مشرق و مغرب کا رب ہے اس کے سوا اور کوئی قابل عبادت نہیں) رب المشرق یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے ای ھو رب المشرق۔ نمبر 2۔ یہ مبتدأاور لا الٰہ یہ اس کی خبر ہے۔ قراءت : شامی و کوفی نے سوائے حفص کے ربِّ المشرق کسرہ سے پڑھا اور رَبِک سے بدل قرار دیا۔ قول ابن عباس ؓ : حروف قسم کے اضمار سے مجرور ہے جیسا کہ واللہ لافعلن اور لااِلٰہ یہ جواب قسم ہے جیسے کہتے ہیں۔ واللہ لا اَحدٌ فی الدار الازیدٌ۔ فَاتَّخِذْ ہُ وَکِیْلًا (تم اسی کو اپنے کام سپرد کرنے کیلئے قرار دیتے رہو) کارساز۔ نمبر 2۔ کفیل اس وعدے کا جو اس نے آپ کی نصرت کا فرمایا ہے۔ نمبر 3۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8 ۔” واذکر اسم ربک “ توحید اور تعظیم کے ذریعے۔ ” تبتل الیہ تبتیلا “ ابن عباس ؓ اور ان کے علاوہ فرماتے ہیں اس کے لئے مکمل اخلاص کریں۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کوشش کریں۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں اس کی عبادت کے لئے فارغ ہوں اور سفیان (رح) فرماتے ہیں اس پر بھروسہ کریں، بھروسہ کر، اور کہا گیا ہے اس لئے عبادت میں کامل یکسوئی اختیار کریں اور یہ اسی باب میں اصل ہے۔ کہا جاتا ہے ” تبتلت الشیئ “ یعنی میں نے اس کو کاٹ کر جا کردیا اور اس کی تصدیق ان کا قول کرتا ہے ” انت بتۃ بتلۃ “ یعنی اپنے خاوند سے جدا ہے اس کے لئے تجھ پر کوئی راہ نہیں ہے اور ” تبتیل تفعیل “ سے ہے اسی سے کہا جاتا ہے ” بتلتے ، فتبتل “ معنی یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–9

1۔ 9۔ اکثر سلف کے نزدیک یہ سورة مکی ہے مگر حضرت عبد اللہ 1 ؎ بن عباس ؓ کا قول ہے واصبر علی مایقولون اور اس سے بعد کی آیت یہ دونوں آیتیں مدنی ہیں لیکن یہ اوپر گزر چکا ہے کہ جس سورة کا شروع کا حصہ مکی ہو وہ مکی کہلاتی ہے حسن بصری اور ابن سیرین اس بات کے قائل ہیں کہ رات کا اٹھنا اور تہجد کی نماز کا پڑھنا فرض ہے۔ زیادہ نہ ہو سکے تو اتنی ہی دیر آدمی کو اٹھنا چاہئے جتنی دیر میں بکری کا دودھ دوہا جاتا ہے لیکن جمہور علماء کا مذہب یہی ہے کہ تہجد کی نماز سنت ہے اور ایسی افضل سنت ہے جس کی ترغیب آنحضرت ﷺ نے بہت سی حدیثوں میں دلائی ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم اور منن میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث مشہور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ) یہ اسم جنس ہے جو تمام مشارق ومغارب کو شامل ہے، پس اللہ تعالیٰ مشارق ومغارب ان کے اندر جوانو اور عالم علوی اور عالم سفلی کے لیے جو مصالح ہیں، سب کا رب، ان کا خالق اور مدبر ہے۔ (اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ) اس بالا وبلند ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو محبت و تعظیم اور اجلال و تکریم سے مختص کیا جائے۔ بنا بریں فرمایا فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا) پس اسے اپنے تمام امور کی تدبیر کرنے والا اور محافظ بنا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–19

قول باری ہے (واکراسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا۔ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہورہو) مجاہد کا قول ہے ” اللہ سے اپنے اخلاص کا اظہار کرو۔ “ قتادہ کا قول ہے ” پورے اخلاص کے ساتھ اس سے دعا مانگو اور اس کی عبادت کرو۔ “ ایک قول کے مطابق اس سے مراد سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہنا اور صرف اسی سے خیر کی امید رکھنا ہے۔ بعض لوگ تکبیر افتتاح کے سلسلے میں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کیونکہ اس کا ذکر نماز کے ضمن میں ہوا ہے اس لئے یہ اللہ کے تمام اسماء کے ساتھ افتتاح صلوٰۃ کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔ قول باری ہے (سبحا طویلا ۔ (دن کے اوقات میں تمہارے لئے) بہت مصروفیات ہیں) قتادہ کا قول ہے کہ طویل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

11 اللہ ہی کو اپنا وکیل و کار ساز بنانے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح حکم کے طور پر ارشاد فرمایا گیا پس تم اسی کو اپنا وکیل اور کار ساز بناؤ کہ مشرق و مغرب کی وسعتوں پر محیط اس عظیم کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف، وہی وحدہ لاشریک ہے اور ہر کسی کی اور ہر طرح کی کارسازی وہی اور صرف وہی فرماتا ہے، سبحانہ و تعالیٰ پس وکیل و کار ساز اسی کو اور صرف اسی کو بناؤ، سبحان اللہ امام الانبیاء افضل خلق اللہ، سیدنا محمد رسول اللہ کو بھی یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ وکیل کار ساز اسی اللہ وحدہ لاشریک کو بنئایں، کہ آپ ﷺ بھی باینہمہ عظمت و مرتبت اسی کی کارسازی اور حاجت روائی و مشکل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

نماز تہجد کا حکم تشریح : یہ بابرکت سورت اس لحاظ سے بھی خاص ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺ کو بڑے محبت بھرے انداز میں مخاطب کیا ہے۔ یعنی اے کپڑوں میں لپٹنے والے (مزّمل کا مطلب ہے ہلکا کپڑا یعنی چادر) اور پھر اس برگزیدہ نیک فطرت اور متقی انسان کو اس آنے والے مشکل ترین کام کی تیاری کی خبر دی گئی اور اس کو سنبھالنے کے لیے اپنے اندر وہ جذبہ توکل صبر و ضبط اور جان نثاری پیدا کرنے کے مزید طریقے بتائے گئے جو ان کو ایک کامل آخری نبی بننے کے قابل بنا سکیں۔ اور ان میں سب سے پہلا کام جو کہا گیا وہ تھا شب بیداری یعنی رات کو اٹھ کر نماز پڑھنا عبادت کرنا اور اللہ سے مدد مانگنا اور اس کلام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة المزمل۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اے کمبل پوش یہ بات ایک خوبصورت انداز محبت میں ارشاد فرمائی اور فرمایا کہ راتوں کو اٹھیں یعنی قیام فرمائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور تھوڑا وقت آرام کریں قیام کے لیے آدھی رات یا اس سے کچھ کم زیادہ کرلیاکریں اس میں نہایت خوبصورت انداز سے قرآن کی تلاوت کریں۔ نماز تہجد۔ یہ آیات ابتدائے اسلام کی ہیں اور ان میں آپ پر اور مسلمانوں پر تہجد کی نماز فرض کی گئی نیز رات کا اکثر حصہ قیام کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر درست طریقے سے اور خوبصورت انداز می پڑھنے کا حکم ہوا چناچہ آپ اور صحابہ کرام سال بھر تک تہجد ہی ادا فرماتے رہے جس میں طویل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 8–12

ف 1 یعنی ان کی شامت آیا چاہتی ہے ذرا انتظار کیجیے۔ چناچہ بدر کے دن مشرکین مکہ کی یہ شامت آگی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(73:9) رب المشرق والمغرب۔ اس کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) یہ جملہ خبر ہے اس کا مبتداء محذوف ہے۔ کلام یوں ہوگا۔ ھو رب المشرق والمغرب۔ (2) یہ جملہ مبتداء ہے اور لا الہ الا ھو اس کی خبر ہے۔ لا الہ الا ھو : لا۔ لاء نہی ہے الہ کا نصب لا کے عمل سے ہے۔ الا حرف استثناء ہے ھو مستثنیٰ ۔ ماسوائے الوہیت کی نفی کا ذکر ہے۔ یعنی اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ یہ خدا کی صفت ہے۔ فاتخذہ وکیلا :سببیہ ہے اتخذ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ اتخاذ (افتعال) مصدر ہے۔ تو بنالے۔ تو پکڑ رکھ۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع اللہ ہے۔ وکیلا : وکل سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے منصوب بوجہ مفعول کے ہے بمعنی کارساز ۔ مددگار،…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ المزمل۔ کپڑوں میں لپٹنے والا۔ قم۔ کھڑا ہوجا۔ انقص کم کرلے۔ گھٹالے۔ رتل۔ صاف صاف پڑھ۔ سنلقی۔ ہم بہت جلدڈالیں گے۔ قول ثقیل۔ بھاری کلام۔ ناشئۃ۔ رات کو اٹھنا۔ بیدار ہونا۔ وطئہ ۔ مشقت۔ روندنا۔ اقومل قیلا۔ زیادہ درست بات۔ سبح طویل۔ زیادہ کام۔ زیادہ مشغولیت۔ تبتل۔ کاٹ ڈال۔ تبتیل۔ خوب کٹنا۔ ھجر۔ چھوڑ دینا۔ مھل۔ مہلت دے۔ لدینا۔ ہمارے پاس۔ انکال۔ بیڑیاں۔ زنجیریں۔ ذاغصۃ۔ گلے میں پھنس جانے والا۔ ترجف۔ کانپے گی۔ کشیب۔ ریت کے ٹیلے۔ مھیل۔ نیچے دھکیلا گیا۔ بیل۔ سخت۔ عبرت ناک۔ شیب۔ بوڑھا۔ منفظر۔ پھٹ جانے والا۔ ثلثی الیل۔ دو تہائی رات۔ تیسر۔ آسان ہوگا۔ اعظم اجرا۔ بہت بوڑھا ہوا ثواب۔ تشریح : سورة…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 6) اس آیت میں فرمایا کہ مشرق اور مغرب سارے جہان کا پرورش کرنے والا جبکہ وہی وحدہ لاشریک ہے تو وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اسی کی خالص عبادت کی جائے اور دین ودنیا کے ہر ایک کام کا اسی پر بھروسہ رکھا جائے یہ دنیا عالم اسباب سے ہے ، اس لیے دنیا کے کاموں میں اللہ پر بھروسہ رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی اسباب کو بیکار سمجھے بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی سبب کو سبب کی طرح برتے اور ہر کام میں اصل بھروسہ اللہ کی ذات پر رکھے سبب کو اصل بھروسہ کی چیز نہ سمجھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–9

[4] دن کے وقت مشغولیت کا ذکر کرنے کے بعد یہ فرمانا کہ '' اپنے رب کا نام لیتے رہو '' خودبخود یہ مفہوم ظاہر کرتا ہے کہ دنیا میں ہر طرح کے کام کرتے ہوئے بھی اپنے رب کی یاد سے کبھی غافل نہ رہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–10

سورة المزمل 1: المزمل کے معنے لفظ اس شخص کے بھی ہیں جو ایک بارعظیم کو اپنے کندوں پر اٹھالے ۔ اور نبوت و رسالت سے زیادہ بڑھ کر اور کون بار عظیم ہوسکتا ہے ۔ اس لئے فرمایا ۔ کہ اے وہ شخص جو نبوت کی گراں بار ذمہ داریوں کا حامل ہے ۔ اٹھ اور رات کو چندے حضور خداوندی میں قیام کر ۔ رات بھر نہیں ۔ کیونکہ تمہیں دن کو بھی دین کی نشرواشاعت کے سلسلہ میں بہت کام کرنا ہے ۔ غور فرمائیے ۔ ایسا شخص جو رات کی تاریکیوں میں جبکہ ساری کائنات سورة ی ہے ۔ اپنے قلب کو نور اور روشنی سے بھررہا ہے ۔ اور اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہے ۔ کیا وہ جھوٹا ہوسکتا ہے جس کے ذوق عبودیت کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ رات بھر عبادت میں مصروف…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) اور وہ مشرق ومغرب کا مالک اور پروردگار ہے اس کے سوا کوئی دوسرا قابل پرستش اور پوجنے کے لائق نہیں لہٰذا آپ اسی کو اپنا کام بنانے والا مقرر رکھیے اور آپ اپنا ہر کام سپرد کرنے کے لئے اسی کی تجویز کیجئے۔ مطلب یہ ہے کہ آفتاب کے نکلنے اور غروب ہونے کی جگہ کا وہی مالک ہے یعنی تمام عالم کا وہی مالک ہے جب وہی بادشاہ اور وہی پروردگار ہے تو آپ اپنا کارساز اور مددگار اسی کو بنائیے۔ جیسا کہ اب تک اسی کو اپنا وکیل سمجھتے ہیں اور تمام کام اسی کے سپرد کرتے رہا کیجئے اور اس کے تعلق کے مقابلے میں کسی اور کے تعلقات کی پروانہ کیجئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–9

ف 6۔ وجہ اس عنوان سے خطاب کرنے کی یہ ہے کہ ابتدائے نبوت میں قریش نے دار الندوہ میں جمع ہو کر آپ کے بارے میں مشورہ کیا کہ آپ کی حالت کے مناسب کوئی لقب تجویز کرنا چاہئے کہ اس پر سب متفق رہیں، کسی نے کہا کہ کاہن ہیں، پھر ائے قرار پائی کہ کاہن نہیں ہیں، کسی نے مجنون کہا، پھر اس کو بھی سب نے غلط قرار دیا، پھر ساحر کہا، پھر بعض نے اس کو بھی رد کیا، لیکن پھر کہنے لگے کہ ساحر اس لئے ہیں کہ حبیب کو حبیب سے جدا کردیتے ہیں، آپ کو یہ خبر پہنچ کر رنج ہوا اور رنج کی حالت میں کپڑوں میں لپٹ گئے جیسا اکثر سوچ اور غم میں مغموم آدمی اس طرح کرلیتا ہے۔ پس تانیس و ملاطفت کے لئے اس عنوان سے خطاب فرمایا کہ صفت…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ ہی مشرق و مغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، اسی کو کار ساز سمجھو ۔ 9 اس کائنات ہست و بود میں جو کچھ ہے وہ مغرب میں ہے یا مشرق میں ، جنوب میں ہے یا شمال میں ، فضائوں میں ہے یا آسمانوں پر یا زمین میں ہے مختصر یہ کہ تحت الشریٰ سے لے کر ثریا تک جو کچھ ہے وہ اس کے لئے ہے کیونکہ سب کچھ اس کا پیدا کیا ہوا ہے۔ اس کا بنایا ہوا ہے۔ اسی کا بسایا ہوا ہے او پھر سب نظام اسی کا چلایا ہوا ہے۔ ہر کام ہی اس کی کرشمہ سازی سے ہو رہا ہے ہوتا رہے گا۔ تمہارے لئے پہلی اور آخری ہدایت یہی ہے کہ تم ہر حال میں اس ذات الہ کو اپنا کار ساز بنائو اور اسی کے سامنے اپنی ضرورتوں ، حاجتوں اور خواہشوں کو پیش کرو کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا (He is the Lord of the East and the West; there is no god but He; so take Him for [ your ] Guardian...73:9). The word wakil, lexicologically, refers to a 'person who has been given a task to do'. 'To take Allah as guardian' means that all matters and affairs should be entrusted to Allah. Technically, this is called tawakkul 'trust'. The Holy Prophet ﷺ is given several injunctions in this Surah. This is the fifth injunction. Imam Ya` qub Karkhi says that from the beginning of the Surah up to this verse there is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

10 " Wakil is a person in whom one has complete faith; so much so that one can entrust all one's affairs to him with full satisfaction of the heart. Thus, the verse means: "Do not feel distressed at the hardships that you are experiencing at the storm of opposition that has been provoked by your invitation to we Faith. Your Lord is He Who is the Owner of the East and the West, (i.e. of the whole universe) besides Whom no one else possesses the powers of Godhead. Entrust your affair to Him and be satisfied that He will fight your case, He will deal with your opponents, and He will look after…

Read the full tafseer →