Explained with ayahs 10–18
نبی اکرم ﷺ کی حوصلہ افزائی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خد ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بےفکر ہیں اور تجھے ستانے کے لئے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بےتعلق ہوجا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے اور عذاب بھی کونسے ؟ سخت قید…
Read the full tafseer →سورة الْمُزَّمِّل 11
الگ ہوجاؤ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان سے مقاطعہ کر کے اپنی تبلیغ بند کردو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے منہ نہ لگو، ان کی بیہودگیوں کو بالکل نظر انداز کردو، اور انکی کسی بد تمیزی کا جواب نہ دو۔ پھر یہ احتراز بھی کسی غم اور غصے اور جھنجھلاہٹ کے ساتھ نہ ہو، بلکہ اس طرح کا احتراز ہو جس طرح ایک شریف آدمی کسی بازاری آدمی کی گالی سن کر اسے نظر انداز کردیتا ہے اور دل پر میل تک نہیں آنے دیتا۔ اس سے یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ کا طرز عمل کچھ اس سے مختلف تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو یہ ہدایت فرمائی۔ اصل میں تو آپ پہلے ہی سے اسی طریقے پر عمل فرما رہے تھے، لیکن…
Read the full tafseer →(آیت) وَاصْبِرْ عَلٰي مَا يَقُوْلُوْنَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيْلًا، بقول امام کرخی یہ چھٹا حکم ہے جو رسول اللہ ﷺ کو دیا گیا ہے یعنی لوگوں کی ایذاؤں اور گالیوں پر صبر جمیل، یہ مقامات سلوک میں سب سے اعلیٰ مقام ہے کہ دشمنوں کی جفا و ایذا پر صبر کیا جائے یعنی یہ حضرات جن لوگوں کی خیر خواہی اور ہمدردی میں اپنی ساری قوت و توانائی اور ساری عمر خرچ کرتے ہیں انہیں کی طرف سے اس کی جزاء میں گالیاں، ایذائیں، طرح طرح کے جور و ستم ان کے مقابلے میں آتے ہیں ان پر صبر جمیل کرنا یعنی انتقام کا ارادہ بھی نہ کرنا یہ وہ اعلیٰ مقام ہے جو اصطلاح صوفیہ میں فناء کامل کے بغیر نصیب نہیں ہوتا۔
وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا…
Read the full tafseer →مخالفین کی باتوں پر صبر اور اس صبر کا طریقہ:
اپنے جھٹلانے والوں کی بے ہودہ گوئیوں پر صبر کرو اور اپنے موقف پر ڈٹے رہو نہ ان کی باتوں کا غم کرو اور نہ زیادہ ان کے درپے ہو، بلکہ ان کو خوبصورتی کے ساتھ چھوڑو۔ وہ اپنی اس روش کا خمیازہ خود بھگتیں گے۔
چھوڑنا دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک چھوڑنا تو وہ ہے جو فضیحتا اور لعن طعن کے بعد، عناد و انتقام کے جذبہ کے ساتھ ہو۔ اس طرح کا چھوڑنا عام دنیا داروں کا شیوہ ہے۔ اخیار و صالحین یہ طریقہ نہیں اختیار کرتے۔ وہ خلق کی اصلاح کی کوشش اپنی کسی ذاتی منفعت کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کی ہدایت اور اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں۔ لوگ ان کی ناقدری اور دل آزاری کرتے ہیں تو انھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
8۔ 1 یعنی اللہ کی عبادت اور اس سے دعا و مناجات کے لیے یکسو اور ہمہ تن اس کی طرف متوجہ ہوجانا، یہ رہبانیت سے مختلف چیز ہے رہبانیت تو تجرد اور ترک دنیا ہے جو اسلام میں ناپسندیدہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
7: مکی زندگی میں ہمیشہ حکم یہی دیا گیا ہے کہ کافروں کی تکلیف دہ باتوں پر صبرو کرو، اور ان سے لڑائی ٹھاننے کے بجائے خوبصورتی سے علیحدگی اختیار کرلو۔
Read the full tafseer →اگر یہ روایت صحیح ہو کہ اس سورت کی ابتدائی آیات آغاز بعثت میں نازل ہوئیں تو پھر یہ دوسرا حصہ یقینا قدرے بعد کے زمانے میں نازل ہوا ، جبکہ حضور ﷺ نے علانیہ دعوت کا آغاز کردیا تھا اور مکذبین اور تحریک کے کارکنوں پر دست درازیاں کرنے والے میدان میں آگئے تھے اور یہ لوگ رسول اللہ اور اہل اسلام کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ اور اگر دوسری روایت ہو تو پھر پہلا حصہ بھی اس وقت نازل ہوا جب حضور اکرم ﷺ کو مشرکین اور مکذبین نے دیکھ دینا شروع کردیا اور یہ لوگ دعوت اسلامی کا راستہ روکنے کے لئے سرگرم تھے۔
بہرحال جو صورت بھی ہو ، قیام اللیل اور ذکر وفکر کے ساتھ صبر کی تلقین کرنا (اور یہ دونوں باتیں…
Read the full tafseer →4 یعنی کفار آپ ﷺ کو ساحر، کاہن اور مجنون و مسحور وغیرہ کہتے ہیں۔ ان باتوں کو صبر و استقلال سے سہتے رہیے۔
5 بھلی طرح کا چھوڑنا یہ کہ ظاہر میں ان کی صحبت ترک کرو اور باطن میں ان کے حال سے خبردار رہو کہ کیا کرتے ہیں اور کیا کہتے ہیں اور مجھ کو کس طور سے یاد کرتے ہیں، دوسرے ان کی بدسلوکی کی شکایت کسی کے سامنے نہ کرو، نہ انتقام لینے کے درپے ہو، نہ گفتگو یا مقابلہ کے وقت کج خلقی کا اظہار کرو۔ تیسرے یہ کہ باوجود جدائی اور مفارقت کے ان کی نصیحت میں قصور نہ کیجیے بلکہ جس طرح بن پڑے ان کی ہدایت و راہنمائی میں سعی کرتے رہیے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی خلق سے کنارہ کر لیکن لڑ بھڑ کر نہیں، سلوک سے "…
Read the full tafseer →آیت 10{ وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ } ”اور جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں اس پر صبر کیجیے“
{ وَاہْجُرْہُمْ ہَجْرًا جَمِیْلًا۔ } ”اور ان کو چھوڑ دیجیے بڑی خوبصورتی سے کنارہ کشی کرتے ہوئے۔“
یہ لوگ آپ ﷺ کے لیے شاعر ‘ جادوگر اور مجنون جیسے نام رکھتے ہیں۔ یہ صورت حال آپ ﷺ کے لیے بلاشبہ نہایت تکلیف دہ ہے ‘ لیکن آپ ﷺ ان لوگوں کی باتوں پر صبر کریں اور خوبصورت انداز میں ان کو چھوڑ کر الگ ہوجائیں۔ سورة الفرقان میں اللہ کے نیک بندوں کی ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے : { وَاِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا۔ } کہ جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ ان کو سلام کر کے گزر جاتے ہیں۔
دعوت و…
Read the full tafseer →11 اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان سے قطع تعلق کر لیجیے۔ بلکہ یہ ہے کہ جہاں تک ان کے طعن وتشنیع، طنز و تمسخر اور تلخ کلامی کا تعلق ہے۔ تو ان کی یہ باتیں برداشت کیجئے اور انہیں کچھ جواب نہ دیجئے اور جہاں تک ان کی ہدایت اور خیر خواہی کا تعلق ہے تو ایسا کوئی موقع آپ کو فروگذاشت نہ کرنا چاہیے۔ بلکہ ایسے موقع کی جستجو میں رہنا چاہئے اور ہر وقت ان کا بھلا ہی سوچنا چاہیے۔ اور انہیں اللہ کی طرف دعوت دیتے رہنا چاہیے۔
Read the full tafseer →8۔ (یعنی ان سے شکایت وانتقام کی فکر میں بھی نہ پڑیئے۔ (آیت) ” واھجرھم ھجرا جمیلا “۔ جمیل یہ ہے کہ ترک تعلق تو تمام کرلیا جائے۔ لیکن نفرت و حقارت کے ساتھ نہیں بلکہ خیرخواہی کے ماتحت اور حق تعالیٰ کے لئے۔ صوفیہ عارفین نے کہا ہے کہ سالک اہل دنیا سے احتراز تو رکھے۔ لیکن ساتھ ہی ان کی ہوا خواہی میں بھی لگا رہے۔
Read the full tafseer →واھجرھم ھجرا جمیلا، الگ ہوجائو، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے مقاطعہ کر کے اپنی تبلیغ بند کردو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے منہ نہ لگو، ان کی بےہودگیوں کو بالکل نظر انداز کردو اور ان کی کسی بدتمیزی کا جواب نہ دو پھر یہ احتراز بھی کسی غم اور غصے اور جھنجھلاہٹ کے ساتھ نہ ہو بلکہ اس طرح ہو جس طرح کہ ایک شریف انسان کسی بازاری آدمی کی گالی سن کر اسے نظر انداز کردیتا ہے اور دل پر میل تک نہیں آنے دیتا اور سمجھ لیتا ہے کہ وہ گالی مجھے نہیں کسی اور کو دے رہا ہے، اگرچہ آپ ﷺ مذکورہ تمام باتوں پر پہلے سے عمل پیرا تھے پھر بھی حکم دینے کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ بھی آپ ﷺ اسی طرز عمل پر قائم رہیں اور ادھر…
Read the full tafseer →واصبر علی ما یقولون . یعنی کافر جو خرافات بکتے ہیں تم کو کاہن ‘ شاعر ‘ مجنون وغیرہ کہتے ہیں اس پر تم صبر کرو۔
واھجرھم ھجرا جمیلا . ان سے اچھی طرح کنارہ کش رہو ‘ بدلہ نہ لو ‘ ان کے معاملہ کو اللہ کے سپرد کر دو ۔
اس آیت کا حکم آیت قتال سے منسوخ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(10۔ 11) اور کافروں کی سب و شتم اور جھٹلانے پر صبر کرو اور ان سے بغیر جھگڑے کے خوبی کے ساتھ علیحدہ ہوجاؤ اور مجھے اور اس قرآن حکیم کو جھٹلانے والوں کو مال و دولت میں رہنے والوں کو چھوڑ اور ان کو غزوہ بدر تک اور مہلت دو۔
Read the full tafseer →واصبر علی مایقولون…: یعنی ایک اللہ کو اپنا سہارا بنانے، ان کے معبودوں کو یکسر چھوڑنے اور اس عمل کی دعوت و تبلیغ پر یہ آپ کو جو کچھ بھی کہیں آپ صبر کریں، خواہ یہ آپ کو جھوٹا کہیں یا دیوانہ یا کاہن یا شاعر ، یا محمد کے بجائے مذمم کہیں، غرض کچھ بھی کہیں یا جو بھی بہتان باندھیں آپ صبر کریں، انتقا کے چکر میں نہ پڑیں، نہ ا ن کی بدسلوکی کا شکوہ کریں۔ خوبصورت طریقے سے الگ ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ لڑ جھگڑ کر اور بدزبانی کر کے نہیں بلکہ نہایت حسن سلوک، صبر اور شرافت کے ساتھ ان سے کنارہ کش ہوجائیں۔ تیسری یہ کہ ظاہری کنارہ کشی کے باوجود ان کی خیر خواہی و ہمدردی اور ہدایت و رہنمائی میں کسی قسم کی کمی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
رب المشرق والمغرب۔۔۔ تا۔۔۔۔ قلیلا۔
اہل حرمین، ابن محصین، مجاہد، ابوعمرو، ابن اسحاق، اور حفص نے لفظ رب کو مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع پڑھا ہے، اس کی خبر لا الہ الاھو ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے پہلے ھومضمر ہے، باقی قراء نے لفظ رب کو مجرور پڑھا ہے، کیونکہ یہ واذکر اسم ربک، اور رب المشرق کے لفظ رب کی صفت ہے جو آدمی یہ جان لیتا ہے کہ وہ مشارق اور مغارب کا رب ہے تو اس کا عمل اور آرزو اور اس کے ساتھ وابستہ ہوگئی، فاتخذوہ وکیلا۔ یعنی تو اسے یوں بنالے کہ وہ تیرے امور کی نگہبانی کرنے والا ہے، اور اسی نے تیرے ساتھ جو وعدہ کیا ہے اس پر اسے ضامن بنالے۔ کفار جو آپ کو اذیت دیتے ہیں سب وشتم کرتے ہیں…
Read the full tafseer →71 ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت واھجرہم ھجرا جمیلا یعنی ان کو چھوڑ دیجیے یعنی ان سے اعراض کیجیے آیت وقل سلام اور ان سے سلام کہہ دیجیے جان چھڑانے کے لیے اور یہ حکم تلوار سے پہلے کا ہے یعنی جنگ کی اجازت سے پہلے کا ہے۔
Read the full tafseer →[وَاصْبِرْ عَلٰي مَا : اور آپ ﷺ صبر کریں اس پر جو ] [يَقُوْلُوْنَ : یہ لوگ کہتے ہیں ] [وَاهْجُرْهُمْ : اور آپ ﷺ چھوڑ دیں ان کو ] [هَجْرًا جَمِيْلًا : جیسا خوبصورتی سے چھوڑنے کا حق ہے ]
نوٹ۔ 3: چھوڑنا دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک چھوڑنا تو وہ ہے جو لعن طعن کے بعد فساد و انتقام کے جذبے کے ساتھ ہو اس طرح کا چھوڑنا عام دنیاداروں کا شیوہ ہے۔ انبیاء و صالحین یہ شیوہ اختیار نہیں کرتے۔ وہ خلق کی اصلاح کی کوشش اپنی کسی ذاتی منفعت کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کی ہدایت اور اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں۔ لوگ ان کی دل آزاری اور ناقدری کرتے ہیں تو انھیں غصہ یا نفرت کے بجائے ان کی محرومی اور بدانجامی پر صدمہ ہوتا ہے۔ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
رسول اللہ ﷺ کو صبر فرمانے کا حكم، دوزخ کے عذاب کا تذکرہ، وقوع قیامت کے وقت زمین اور پہاڑوں کا حال
یہ پانچ آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تسلی دی ہے کہ آپ جلدی نہ کریں یہ لوگ جو آپ کو جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں ان کو کچھ مہلت دے دیں۔ یہ ناز و نعمت میں پل رہے ہیں اور بڑھ رہے ہیں اور دنیاوی اموال اور نعمتیں ان کے لیے غفلت کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ ان چیزوں میں پڑ کر وہ آپ کی دعوت کو ٹھکرا رہے ہیں یہ ان کے حق میں کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کھا پی رہے ہیں اور مزے کر رہے ہیں تھوڑے سے دن کی بات ہے اور اس میں ان کا استدراج بھی ہے۔
كما قال تعالیٰ فی سورة القلم ﴿فَذَرْنِيْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
حکم قیام اللیل وتاکید ترتیل وتحسین درتلاوت کلام اللہ تعالیٰ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المزمل ......... الی ........... کثیبا مھیلا “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں جنوں کا قصہ ذکر فرمایا گیا تھا کہ وہ قرآن کریم کو سن کر کیسے اس پر فریفتہ اور گرویدہ ہوئے اور اس پر ایمان لائے اور ایمان وہدایت کا رنگ ان پر اس قدر غالب آیا کہ اپنی قوم کے واسطے داعی اور ہادی وناصح بن کر لوٹے اب اس سورت میں جو کہ ابتداء نبوت کے زمانہ میں نازل ہوئی اس میں مشرکین مکہ کی بےرخی اور آپ ﷺ کی شان میں توہین و گستاخی کا ذکر کرکے آپ ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے اور انکی ایذاؤں وزیادتیوں پر صبر کی تلقین کی جارہی ہے۔
مشرکین مکہ آپ ﷺ…
Read the full tafseer →10:۔ ” واصبر “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے۔ مشرکین کی خرافات اور ان کی تکلیف دہ باتوں کو آپ صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کریں اور ان کا معاملہ اپنے کارساز کے حوالے فرما دیں اور عمدہ پیرایہ میں ان سے الگ رہیں۔ دل سے اور عمل سے ان کی مخالفت کریں اور ظاہری مدارات برقرار رکھیں والھجر الجمیل ان یجانبھم بقلبہ وھواہ و یخالفہم فی الافعال مع المداراۃ والاغضاء وترک المکافاۃ (کبیر ج 8 ص 340)
Read the full tafseer →گذشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے پانچ باتیں بیان فرمائیں تھیں۔ اس درس میں چھٹی بات کا تذکرہ ہوگا۔ گذشتہ پانچ امور کی تفصیل یہ ہے۔
قیام الیل :
ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے پہلا حکم قیام الیل کا دیا ہے۔ اور نبی ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ راب کا تھوڑا حصہ نماز کے لیے وقف کریں۔ را ت کا تھوڑا حصہ رات کے اعتبار سے بھی ہوسکتا ہے۔ اور انسانی عمر کے اعتبار سے بھی ۔ ابتداء میں حکم یہ تھا کہ آپ رات کا زیادہ حصہ عباد ت کریں اور تھوڑا حصہ آرام کریں۔ لہذا آنحضرت محمد ﷺ اور آپ کے ساتھی رات کو عبادت کرتے رہتے تھے۔ بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے آسانی پیدا فرمادی۔ چناچہ دوسرے رکوع…
Read the full tafseer →وَاصْبِرْ عَلٰي مَا يَقُوْلُوْنَ وَاہْجُرْہُمْ ہَجْرًا جَمِيْلًا 10
صبر
الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر»
( ص ب ر ) الصبر
کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
1 ؎ مواطاۃ بمعنی مطابقہ ہے کمافی قولہٖ تعالیٰ لیواطئو عدۃ ماحرم اللہ
Read the full tafseer →وَاصْبِرْعَلٰی مَایَقُوْلُوْنَ وَاھْجُرْھُمْ ھَجْرًا جَمِیْلاً ۔ (المزمل : 10)
(اور لوگ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے اور ان کو خوبصورتی سے نظرانداز کردیجیے۔ )
مخالفین کی یا وہ گوئی پر صبرجمیل کا حکم
اس سورة میں آنحضرت ﷺ کو جو احکام دیئے گئے ہیں یہ ان میں سے چھٹا حکم ہے۔ یعنی لوگوں کی ایذائوں اور گالیوں پر صبرجمیل۔ یہ عجیب معاملہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول جن لوگوں کی طرف مبعوث ہوتے ہیں وہ ان کی ہدایت کے لیے نہایت حریص اور ان کی بہتری کے لیے نہایت شفیق ہوتے ہیں۔ کوئی باپ اپنے بچوں کے لیے شاید اس قدر ہمدرد و غمگسار نہ ہو جتنا پیغمبر ان لوگوں کے لیے ہوتا ہے، لیکن لوگ ان کی تمام تر خیرخواہیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
فہم القرآن
ربط کلام : نماز تہجد اور اس میں تلاوت قرآن کا فائدہ۔
نبوت کا فریضہ تمام کاموں سے مشکل ترین کام ہے کسب معاش اور گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ کسی لالچ کے بغیر دن، رات لوگوں کی خدمت کرنا بالخصوص انہیں توحید کی دعوت دینا اور شرک سے منع کرنا انتہائی مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ اس کے لیے انتہادرجے کی جفاکشی اور بڑے صبر و حوصلہ کی ضرورت ہے، صبر و حوصلہ اور جفاکش بننے کے لیے آدھی رات کو اٹھ کر مصلّے پر کھڑا ہونا اور غور وفکر کرتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر قرآن مجید کی تلاوت کرنا اپنے نفس پر قابو پانے کا بہترین طریقہ ہے۔ بشرطیکہ اسے صرف عادت اور عبادت کے طور پر نہیں بلکہ اپنے احتساب اور تربیت کے…
Read the full tafseer →10 : وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ (اور یہ لوگ جو جو باتیں کہتے ہیں ان پر صبر کرو) یعنی میرے متعلق اولاد، بیوی جیسی باتیں۔ نمبر 2۔ آپ کے متعلق جو ساحرو شاعر کا طعنہ دیتے ہیں۔ وَاھْجُرْ ھُمْ ھَجْرًا جَمِیْلاً (اور خوبصورتی کے ساتھ ان سے الگ ہوجائو) دل کے ساتھ ان سے پہلو تہی اختیار کرو۔ اچھے انداز سے ان کی مخالفت کرتے رہو۔ بدلہ لینا ترک کردو ایک قول یہ ہے۔ یہ آیت قتال سے منسوخ ہے۔
Read the full tafseer →9 ۔” رب المشرق والمغرب “ اہل حجاز، ابو عمر اور حفص رحمہم اللہ نے ” رب “ کو باء کی پیش کے ساتھ ابتداء پر پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے زبر کے ساتھ اس ” رب “ کی صفت ہونے کی بناء پر جو باری تعالیٰ کے قول ” واذکر اسم ربک “ میں ہے۔ ” لا الہالا ھو فاتخذہ وکیلا “ تیرے امور کا نگہبان پس تو تمام امور کو اس کے سپرد کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
10۔ 18۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ اے رسول ﷺ اللہ کے تم اپنے سب کام اللہ کو سونپ دو اللہ تمہارے سب کاموں کے سر انجام کے لئے کافی ہے۔ اس ہدایت کے پورا کرنے کے لئے فرمایا یہ لوگ جو اپنے مال و متاع کے غرور میں تم کو برا بھلا کہتے ہیں اور اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں تم اس کا کچھ خیال نہ کرو اور تھوڑے دنوں کے لئے ان لوگوں کو اللہ کے انتقام پر چھوڑ دو ۔ اللہ ان سے خود سمجھ لے گا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ان آیتوں کے نازل ہونے کے تھوڑے عرصہ کے بعد بدر کی لڑائی پیش آئی جس میں بڑے بڑے سرکش ستر آدمی مشرکین مکہ میں قتل ہوگئے۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے قریش کو دو طرح سے…
Read the full tafseer →جب اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر نماز اور عمومی طور پر ذکر الہی کا حکم دیا۔۔۔ جس سے بندہ مومن میں بھاری بوجھ اٹھانے اور مشقت اعمال بجالانے کامل کہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ نے آپ کو ان باتوں پر صبر کرنے کا حکم دیا جو آپ کے معاندین آپکو کہتے ہیں اور آپ کو اور جو کچھ آپ لے کر آئے ہیں اسے سب وشتم کرتے ہیں نیز یہ کہ آپ اللہ کے حکم کے مطابق چلتے رہیں کوئی روکنے والا آپ کی راہ کھوٹی کرسکے نہ کوئی آپ کو لوٹا سکے اور یہ کہ آپ بھلے طریقے سے ان سے کنارہ کش ہوجائیں اور یہ کنارہ کشی وہاں ہے جہاں مصلحت کنارہ کشی کا تقاجا کرتی ہے جس میں کوئی اذیت نہ ہو بلکہ ان کی تکلیف دہ باتوں سے اعراض کرتے ہوئے، ان سے کنارہ کشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
قول باری ہے (واکراسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا۔ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہورہو) مجاہد کا قول ہے ” اللہ سے اپنے اخلاص کا اظہار کرو۔ “ قتادہ کا قول ہے ” پورے اخلاص کے ساتھ اس سے دعا مانگو اور اس کی عبادت کرو۔ “ ایک قول کے مطابق اس سے مراد سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہنا اور صرف اسی سے خیر کی امید رکھنا ہے۔
بعض لوگ تکبیر افتتاح کے سلسلے میں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کیونکہ اس کا ذکر نماز کے ضمن میں ہوا ہے اس لئے یہ اللہ کے تمام اسماء کے ساتھ افتتاح صلوٰۃ کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔
قول باری ہے (سبحا طویلا ۔ (دن کے اوقات میں تمہارے لئے) بہت مصروفیات ہیں) قتادہ کا قول ہے کہ طویل…
Read the full tafseer →12 مخالفین کی باتوں پر صبر و برداشت سے کام لینے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ صبر سے کام لو ان باتوں پر جو یہ لوگ بنا رہے ہیں اور چھوڑ دو ان کو اچھی طرح کا چھوڑنا۔ یعنی ایسا چھوڑنا جس میں نہ ان سے الجھنا ہو، نہ ان سے بدلہ و انتقام کی فکر، اور نہ شکوہ و شکایات کی ضرورت، کہ اس طرح کے صبر و ہجران سے ایک طرف تو آپ ﷺ کے اجر وثواب میں اضافہ ہوگا، اور دوسری طرف ان ناہنجار لوگوں سے اللہ خود نمٹ لے گا اور اپنے حکمت بھرے اور بھرپور انداز سے نبھٹ لیگا، واضح رہے کہ چھوڑنا دو طرح کا ہوتا ہے ایک چھوڑنا وہ ہوتا ہے جو فضیحت و رسوائی اور لعن طعن کے بعد عناد و انتقا مکہ جذبے کے ساتھ ہو، اس طرح کا چھوڑنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
نماز تہجد کا حکم
تشریح : یہ بابرکت سورت اس لحاظ سے بھی خاص ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺ کو بڑے محبت بھرے انداز میں مخاطب کیا ہے۔ یعنی اے کپڑوں میں لپٹنے والے (مزّمل کا مطلب ہے ہلکا کپڑا یعنی چادر) اور پھر اس برگزیدہ نیک فطرت اور متقی انسان کو اس آنے والے مشکل ترین کام کی تیاری کی خبر دی گئی اور اس کو سنبھالنے کے لیے اپنے اندر وہ جذبہ توکل صبر و ضبط اور جان نثاری پیدا کرنے کے مزید طریقے بتائے گئے جو ان کو ایک کامل آخری نبی بننے کے قابل بنا سکیں۔ اور ان میں سب سے پہلا کام جو کہا گیا وہ تھا شب بیداری یعنی رات کو اٹھ کر نماز پڑھنا عبادت کرنا اور اللہ سے مدد مانگنا اور اس کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة المزمل۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اے کمبل پوش یہ بات ایک خوبصورت انداز محبت میں ارشاد فرمائی اور فرمایا کہ راتوں کو اٹھیں یعنی قیام فرمائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور تھوڑا وقت آرام کریں قیام کے لیے آدھی رات یا اس سے کچھ کم زیادہ کرلیاکریں اس میں نہایت خوبصورت انداز سے قرآن کی تلاوت کریں۔
نماز تہجد۔
یہ آیات ابتدائے اسلام کی ہیں اور ان میں آپ پر اور مسلمانوں پر تہجد کی نماز فرض کی گئی نیز رات کا اکثر حصہ قیام کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر درست طریقے سے اور خوبصورت انداز می پڑھنے کا حکم ہوا چناچہ آپ اور صحابہ کرام سال بھر تک تہجد ہی ادا فرماتے رہے جس میں طویل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
ف 1 یعنی ان کی شامت آیا چاہتی ہے ذرا انتظار کیجیے۔ چناچہ بدر کے دن مشرکین مکہ کی یہ شامت آگی۔
Read the full tafseer →(73:10) واصبر علی ما یقولون واؤ عاطفہ ہے ما موصولہ ہے۔ یقولون مضارع جمع مذکر غائب صلہ۔ اپنے موصول کا۔ مطلب یہ ہے کہ جو یہ کافر خرافات بکتے ہیں۔ تم کو شاعر۔ کاہن۔ ساحر۔ مجنون وغیرہ کہتے ہیں تم اس پر صبر کرو۔
واھجرہم ھجرا جمیلا واؤ عاطفہ اھجر فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ھجر باب نصر مصدر۔ بمعنی چھوڑ دینا۔ دور رہنا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ جمیل بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے ۔ بمعنی بہتر۔ خوب تر۔ عمدہ۔ مطلب یہ کہ ان سے عمدگی کے ساتھ کنارہ کش ہوجاؤ۔ اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کردو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
المزمل۔ کپڑوں میں لپٹنے والا۔ قم۔ کھڑا ہوجا۔ انقص کم کرلے۔ گھٹالے۔ رتل۔ صاف صاف پڑھ۔ سنلقی۔ ہم بہت جلدڈالیں گے۔ قول ثقیل۔ بھاری کلام۔ ناشئۃ۔ رات کو اٹھنا۔ بیدار ہونا۔ وطئہ ۔ مشقت۔ روندنا۔ اقومل قیلا۔ زیادہ درست بات۔ سبح طویل۔ زیادہ کام۔ زیادہ مشغولیت۔ تبتل۔ کاٹ ڈال۔ تبتیل۔ خوب کٹنا۔ ھجر۔ چھوڑ دینا۔ مھل۔ مہلت دے۔ لدینا۔ ہمارے پاس۔ انکال۔ بیڑیاں۔ زنجیریں۔ ذاغصۃ۔ گلے میں پھنس جانے والا۔ ترجف۔ کانپے گی۔ کشیب۔ ریت کے ٹیلے۔ مھیل۔ نیچے دھکیلا گیا۔ بیل۔ سخت۔ عبرت ناک۔ شیب۔ بوڑھا۔ منفظر۔ پھٹ جانے والا۔ ثلثی الیل۔ دو تہائی رات۔ تیسر۔ آسان ہوگا۔ اعظم اجرا۔ بہت بوڑھا ہوا ثواب۔
تشریح : سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
نیک بختوں اور بدبختوں کا ذکر۔
(ف 1) اوپر اللہ نے اپنے محبوب کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ اے محبوب تم اپنے سب کام اللہ کو سونپ دو ، اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کے سرانجامی کے لیے کافی ہے ، اس ہدایت کے پورا کرنے کے لیے فرمایا یہ لوگ جو اپنے مال ومتاع کے غرور میں تم کو برابھلا کہتے ہیں اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں تم اس کا کچھ خیال نہ کرو اور تھورے دنوں کے لیے ان لوگوں کو اللہ کے انتقام پر چھوڑ دو ، اللہ ان سے خود سمجھ لے گا، اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے ان آیتوں کے نازل ہونے کے تھوڑے عرصہ بعد بدر کی لڑائی پیش آئی۔ جس میں بڑے بڑے سرکش مشرکین مکہ کے قتل ہوگئے اب آگے اللہ نے قریش کو دوطرح سے ڈرایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
[5] یعنی ان کے منہ نہ لگو، ان کی بیہودگیوں کو بالکل نظرانداز کردو اور ان کی کسی بدتمیزی کا جواب نہ دو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة المزمل
1: المزمل کے معنے لفظ اس شخص کے بھی ہیں جو ایک بارعظیم کو اپنے کندوں پر اٹھالے ۔ اور نبوت و رسالت سے زیادہ بڑھ کر اور کون بار عظیم ہوسکتا ہے ۔ اس لئے فرمایا ۔ کہ اے وہ شخص جو نبوت کی گراں بار ذمہ داریوں کا حامل ہے ۔ اٹھ اور رات کو چندے حضور خداوندی میں قیام کر ۔ رات بھر نہیں ۔ کیونکہ تمہیں دن کو بھی دین کی نشرواشاعت کے سلسلہ میں بہت کام کرنا ہے ۔ غور فرمائیے ۔ ایسا شخص جو رات کی تاریکیوں میں جبکہ ساری کائنات سورة ی ہے ۔ اپنے قلب کو نور اور روشنی سے بھررہا ہے ۔ اور اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہے ۔ کیا وہ جھوٹا ہوسکتا ہے جس کے ذوق عبودیت کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ رات بھر عبادت میں مصروف…
Read the full tafseer →(10) اور یہ دین حق کے منکر آپ کی ایذا رسانی کے لئے جو کچھ کہتے ہیں اس کو سہتے اور برداشت کرتے رہیے اور خوش اسلوبی کے ساتھ ان سے کنارہ کش ہوجائیے۔
پیغمبر (علیہ السلام) کو ایذا پہنچانے کی غرض سے صرف حضور اکرم ﷺ کی شان اقدس ہی میں گستاخی نہ کرتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کو بھی عیب لگاتے تھے قرآن کو بھی برا کہتے تھے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی بھی توہین کرتے تھے اور ظاہر ہے کہ ان سب باتوں سے حضور ﷺ کو تکلیف ہوتی تھی ان سب باتوں پر حضور کو صبر کی تعلیم دی اور یہ سہار کی طاقت اور برداشت کی قوت رات کی عبادت ہی سے میسر ہوتی ہے۔ اس لئے قیام لیل کا حکم دینے کے بعد یہ فرمایا کہ کفار کی اذیت اور ایذارسانی…
Read the full tafseer →ف 1۔ الگ ہونا یہ کہ کوئی تعلق نہ رکھو، اور خوبصورتی سے یہ کہ ان کی شکایت و انتقام کی فکر میں نہ پڑو۔
Read the full tafseer →اور جو کچھ لوگ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور شریفانہ طور پر الگ تھلگ رہو
۔ 10 لوگوں کی راہوں سے ہٹ کر جب تم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی راہ پر گامزن ہو گے تو تمہاری مخالفت ہونا یقینی ہے کیونکہ پیچھے سے اسی طرح ہوتا چلا آ رہا ہے اور اسی طرح ہوتا رہے گا تم ان حالات کو دیکھ کر دلبرداشتہ نہ ہونا بلکہ صبر و ثبات کے ساتھ اپنی راہ پر گامزن رہنا۔ ہم کو معلوم ہے کہ وہ دل جو ان کے لئے ہمدردی اور خلوص کے جذبات سے لبریز ہے وہ بغیر کسی حیل و حجت کے اس کو دکھانے پر لگے ہوئے ہیں اور لگے رہیں گے جو دعوت حق دینے والا ہے اس کو وہ کاہن ، شاعر ، ساحر ، سحر زدہ اور مجنون کے ناموں سے ید کرتے ہیں اور اس طرح…
Read the full tafseer →وَاصْبِرْ عَلٰي مَا يَقُوْلُوْنَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيْلًا
(And bear patiently what they say, and part with them in a beautiful manner...73:10). According to Imam Karkhi (رح) تعالیٰ ، this is the sixth injunction given to the Holy Prophet that he should bear with patience and fortitude the jibes, opposition and persecution of his enemies. Perfect patience is the supreme station of suluk (methodical travelling along the spiritual path). Spiritual reformers expend their entire strength, energy and life in reforming the deviant people. In return, they have to hear vile language, they are…
Read the full tafseer →11 "Depart from them" does not mean "Break off all ties with them and stop preaching to them", but it means; "Do not have intimate and friendly relations with them: disregard their foolish behaviour and their nonsense." However, you should do so without showing any grief, anger or temper but gracefully like a noble person, who would disregard the abusive remarks of a mean person without minding them at all. This should not create the misunderstanding that the Holy Prophet's conduct was any different from it; therefore, Allah gave him this instruction. As a matter of fact, the Holy Prophet…
Read the full tafseer →