Explained with ayahs 10–18
نبی اکرم ﷺ کی حوصلہ افزائی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خد ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بےفکر ہیں اور تجھے ستانے کے لئے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بےتعلق ہوجا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے اور عذاب بھی کونسے ؟ سخت قید…
Read the full tafseer →سورة الْمُزَّمِّل 12
ان الفاظ میں صاف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ مکہ میں دراصل جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلا رہے تھے اور طرح طرح کے فریب دے کر اور تعصبات ابھار کر عوام کو آپ کی مخالفت پر آمادہ کر رہے تھے وہ قوم کے کھاتے پیتے، پیٹ بھرے، خوشحال لوگ تھے، کیونکہ انہی کے مفاد پر اسلام کی اس دعوت اصلاح کی زد پڑ رہی تھی۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ معاملہ صرف رسول اللہ ﷺ ہی کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ ہمیشہ یہی گروہ اصلاح کی راہ روکنے کے لیے سنگ گراں بن کر کھڑا ہوتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 60۔ 66۔ 75۔ 88۔ المومنون، 33۔ سبا، 34۔ 35۔ الزخرف، 23۔
Read the full tafseer →یہی مفہوم ہے بعد کی آیت ذَرْنِيْ وَالْمُكَذِّبِيْنَ اُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيْلًا کا اس میں کفار مکذبین کو اولی النعمہ فرمایا ہے نعمت بفتح النون کے معنی تنعم یعنی عیش و عشرت اور مال واولاد کی بہتات کے ہیں اس میں اشارہ ہے کہ دنیا کے مال و اولاد اور ناز و نعمت میں مست ہوجانا اسی شخص سے ہوسکتا ہے جو آخرت کی تکذیب کرنے والا ہو۔ مومن کو بھ یہ چیزیں بسا اوقات نصیب ہوتی ہیں مگر وہ ان میں ایسا مست نہیں ہوتا اس لئے دنیا کے ہر عیش و راحت کے وقت بھی اس کا قلب فکر آخرت سے خالی نہیں ہوتا۔ خالص عیش و عشرت اور بالکل بےفکری اس دنیا میں کافروں اور آخرت کی تکذیب کرنے والوں ہی کا حصہ ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →تکذیب کرنے والوں کو سخت دھمکی:
یہ پیغمبر ﷺ کو خطاب کر کے جھٹلانے والوں کو اللہ تعالیٰ نے نہایت سخت دھمکی دی ہے کہ تم ان کا معاملہ مجھ پر چھوڑو اور تھوڑی سی مہلت ان کو اور دو۔ مطلب یہ ہے کہ پھر دیکھو کہ ان کا حشر کیا ہوتا ہے!
’وَذَرْنِیْ وَالْمُکَذِّبِیْنَ‘ کے اسلوب سے یہ بات نکلتی ہے کہ تم الگ ہو کر بیٹھو اور مجھے تنہا ان سرکشوں سے نمٹ لینے دو، تمہارے ہاتھ لگانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ ان جھٹلانے والوں کی تباہی میں کچھ دیر ہو رہی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی ان کے اندر تم موجود ہو۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ جب تک پیغمبر قوم کے اندر موجود رہتا ہے اس وقت تک قوم پر عذاب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
8۔ 1 یعنی اللہ کی عبادت اور اس سے دعا و مناجات کے لیے یکسو اور ہمہ تن اس کی طرف متوجہ ہوجانا، یہ رہبانیت سے مختلف چیز ہے رہبانیت تو تجرد اور ترک دنیا ہے جو اسلام میں ناپسندیدہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
7: مکی زندگی میں ہمیشہ حکم یہی دیا گیا ہے کہ کافروں کی تکلیف دہ باتوں پر صبرو کرو، اور ان سے لڑائی ٹھاننے کے بجائے خوبصورتی سے علیحدگی اختیار کرلو۔
Read the full tafseer →وذرنی .................... قلیلا (73:11) ” ان جھٹلانے والے خوشحال لوگوں سے نمٹنے کا کام تم مجھ پر چھوڑدو اور انہیں ذرا کچھ دیر اسی حالت پر رہنے دو “۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو ہمیشہ جبار وقہار اور مضبوط قوت والے کہا کرتے ہیں۔ یہ جھٹلانے والے تو ابن آدم میں سے ہیں اور دھمکی دینے والی ذات وہ ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے اور جس ذات نے اس عظیم اور وسیع کائنات کو پیدا کیا ہے اس نے اس تمام جہاں کو صرف لفظ کن کے ساتھ پیدا کیا ہے۔
مجھے ذرا چھوڑ دو کہ میں ان مکذبین کے کام سے نمٹ لوں ، یہ دعوت تو میری دعوت ہے ، تمہارے ذمہ تو صرف تبلیغ ہے۔ انہیں جھٹلانے دو اور تم ان کو شریفانہ انداز میں چھوڑ دو ۔ ان کے ساتھ جنگ…
Read the full tafseer →6 یعنی حق و صداقت کو جھٹلانے والے جو دنیا میں عیش و آرام کر رہے ہیں ان کا معاملہ میرے سپرد کیجیے میں خود ان سے نبٹ لوں گا، مگر تھوڑی سی ڈھیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
آیت 1 1{ وَذَرْنِیْ وَالْمُکَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَۃِ } ”آپ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیں ‘ جو بڑی نعمتوں سے نوازے گئے ہیں“
ان کو مال و اولاد ‘ بڑی بڑی جائیدادیں اور طرح طرح کی دوسری نعمتیں بھی میں نے ہی عطا کی ہیں اور اب ان کی سرکشی کا مزہ بھی انہیں میں ہی چکھائوں گا ‘ لہٰذا ان کا معاملہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔ نوٹ کیجیے ابتدائی دور کی ان سورتوں میں ذَرْنِیْ اور ذَرْھُمْ کے صیغے بار بار آرہے ہیں۔
{ وَمَہِّلْہُمْ قَلِیْلًا۔ } ”اور ابھی آپ انہیں تھوڑی سی مہلت دیں۔“
قبل ازیں ہم سورة مریم میں اس سے ملتا جلتا یہ حکم بھی پڑھ چکے ہیں : { فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْہِمْط اِنَّمَا نَعُدُّ لَہُمْ…
Read the full tafseer →12 مترفین کا کردار :۔ معلوم ہوا کہ انبیاء کی دعوت کو جھٹلانے والے عموماً یہی کھاتے پیتے اور خوشحال لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔ انہیں ہی قرآن نے بعض دوسرے مقامات پر مترفین کے لفظ سے ذکر کیا ہے ان لوگوں کا چونکہ معاشرہ میں اپنا ایک حلقہ اثر اور مخصوص مقام ہوتا ہے اور نبی کی دعوت قبول کرنے سے انہیں یہ مقام چھن جانے کا خطرہ ہوتا ہے لہذا یہی لوگ انبیاء کی دعوت کی مخالفت میں سب سے پیش پیش ہوتے ہیں۔ یعنی آپ ﷺ ایسے لوگوں کی مخالفت کی پروا نہ کیجئے۔ ان سے میں نمٹ لوں گا۔ مگر ابھی کچھ وقت انہیں مخالفت کرنے کا موقع دیا جائے گا جس میں کئی طرح کی مصلحتیں پوشیدہ ہیں۔
Read the full tafseer →9۔ (میں خود ہی وقت مناسب پر ان سے نپٹ لوں گا) (آیت) ” وذرنی والمکذبین “ یعنی میرے اور ان مکذبیوں کے باب میں صبر وانتظار سے کام لیجئے (آیت) ” اولی النعمۃ “۔ یہ قریش مکہ ایک تجارت پیشہ، مرفہ الحال قوم تھے، انہیں کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
وذرنی و المکذبین اولی النعمۃ الخ ان الفاظ میں صاف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ مکہ میں دراصل جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلا رہے تھے اور طرح طرح کے فریب دے کر، تعصبات کو ابھار کر، عوام کو آپ ﷺ کی مخالفت پر آمادہ کر رہے تھے، وہ قوم کے کھاتے پیتے اور خوشحال لوگ تھے کیونکہ اسلام کی اس دعوت اصلاح کی براہ راست زد، ان کے مفادات پر پڑ رہی تھی، قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ معاملہ صرف رسول اللہ ہی کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ ہمیشہ یہی گروہ، اصلاح کی راہ روکنے کے لئے سنگ گراں بن کر حائل ہوتا رہا ہے۔
Read the full tafseer →و ذری المکذبین اول النعمۃ . اور ان مالدار ‘ عیش پرست ‘ تکذیب کرنے والوں کو میرے ہی حوالے کر دو
میں تمہاری طرف سے ان کو سزا دینے کے لیے کافی ہوں۔ تم رنجیدہ نہ ہو ‘ اولی النعمۃ سے مراد قریش کے سردار ہیں اور المکذّبین میں واؤ عاطفہ نہیں بلکہ مع کے معنی میں ہے۔
و مھلھم قلیلا . اور ان کو کچھ مہلت یا کچھ زمانہ کے لیے ڈھیل دے دو ‘ یعنی اس وقت تک کہ یہ خود ہی مر
جائیں یا اللہ ان سے لڑنے کا حکم نازل فرما دے اور اہل ایمان کے ہاتھوں سے ان کو عذاب دے اور مسلمانوں کے دلوں کو ٹھنڈا کرے۔
مقاتل بن حبان نے کہا : اس آیت کا نزول مقتولین بدر کے بارے میں ہوا ‘ کچھ ہی مدت گزری تھی کہ وہ بدر کی لڑائی میں مارے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(10۔ 11) اور کافروں کی سب و شتم اور جھٹلانے پر صبر کرو اور ان سے بغیر جھگڑے کے خوبی کے ساتھ علیحدہ ہوجاؤ اور مجھے اور اس قرآن حکیم کو جھٹلانے والوں کو مال و دولت میں رہنے والوں کو چھوڑ اور ان کو غزوہ بدر تک اور مہلت دو۔
Read the full tafseer →وذرنی والمکذبین…: یعنی جب تم نے مجھے اپنا وکیل بنا لیا اور اپنا سب کچھ میرے سپرد کردیا تو ان خوش حال جھٹلانے والوں کا معاملہ بھی مجھ پر چھوڑ دو جن کی نعمت و خوش حالی ایمان لانے کے بجائے ان کے انکار کا باعث بن گئی ہے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا، آپ انہیں تھوڑی مہلت دیں۔ تھوڑی مہلت سے مراد دنیا میں تھوڑی مہلت ہے، جیسا کہ کفار مکہ کو جھٹلانے کی سزا جلد ہی میدان بدر میں مل گئی۔ اس کے علاوہ اگر زیادہ سے زیادہ مہلت بھی ہو تو دنیا میں زندہ رہنے تک ہے جو یقینا بالکل کم ہے، پھر اس کے بعد میں جانوں اور یہ جانیں، آپ ایک طرف ہوجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
رب المشرق والمغرب۔۔۔ تا۔۔۔۔ قلیلا۔
اہل حرمین، ابن محصین، مجاہد، ابوعمرو، ابن اسحاق، اور حفص نے لفظ رب کو مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع پڑھا ہے، اس کی خبر لا الہ الاھو ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے پہلے ھومضمر ہے، باقی قراء نے لفظ رب کو مجرور پڑھا ہے، کیونکہ یہ واذکر اسم ربک، اور رب المشرق کے لفظ رب کی صفت ہے جو آدمی یہ جان لیتا ہے کہ وہ مشارق اور مغارب کا رب ہے تو اس کا عمل اور آرزو اور اس کے ساتھ وابستہ ہوگئی، فاتخذوہ وکیلا۔ یعنی تو اسے یوں بنالے کہ وہ تیرے امور کی نگہبانی کرنے والا ہے، اور اسی نے تیرے ساتھ جو وعدہ کیا ہے اس پر اسے ضامن بنالے۔ کفار جو آپ کو اذیت دیتے ہیں سب وشتم کرتے ہیں…
Read the full tafseer →1۔ ابو یعلی وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ اور بیہقی نے دلائل میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت وذرنی والمکذبین اولی النعمۃ ومہلہم قلیلا نازل ہوئی اور مجھے جھٹلانے والے دولتمندوں کو چھوڑ دو ۔ تو ان کو تھوڑی سی مہلت ملی یہاں تک کہ بدر کا واقعہ رونما ہوا۔
فقراء جنت میں پہلے داخل ہوں گے۔
2۔ ابن المنذر نے ابن جریر (رح) سے آیت وذرنی والمکذبین اولی النعمۃ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی کی اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایمان والے غریب لوگ اپنے مالداروں سے جنت میں چالیس سال پہلے داخل ہوں گے۔ اور ان کے مالداروں کو اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ وہ اپنے گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں…
Read the full tafseer →[وَذَرْنِيْ : اور آپ ﷺ چھوڑیں مجھ کو ] [وَالْمُكَذِّبِيْنَ : اور ان جھٹلانے والوں کو ] [اُولِي النَّعْمَةِ : جو خوشحالی والے ہیں ] [وَمَهِلْهُمْ : اور آپ ﷺ ڈھیل دیں ان کو ] [قَلِيْلًا : تھوڑی سی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
رسول اللہ ﷺ کو صبر فرمانے کا حكم، دوزخ کے عذاب کا تذکرہ، وقوع قیامت کے وقت زمین اور پہاڑوں کا حال
یہ پانچ آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تسلی دی ہے کہ آپ جلدی نہ کریں یہ لوگ جو آپ کو جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں ان کو کچھ مہلت دے دیں۔ یہ ناز و نعمت میں پل رہے ہیں اور بڑھ رہے ہیں اور دنیاوی اموال اور نعمتیں ان کے لیے غفلت کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ ان چیزوں میں پڑ کر وہ آپ کی دعوت کو ٹھکرا رہے ہیں یہ ان کے حق میں کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کھا پی رہے ہیں اور مزے کر رہے ہیں تھوڑے سے دن کی بات ہے اور اس میں ان کا استدراج بھی ہے۔
كما قال تعالیٰ فی سورة القلم ﴿فَذَرْنِيْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
حکم قیام اللیل وتاکید ترتیل وتحسین درتلاوت کلام اللہ تعالیٰ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المزمل ......... الی ........... کثیبا مھیلا “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں جنوں کا قصہ ذکر فرمایا گیا تھا کہ وہ قرآن کریم کو سن کر کیسے اس پر فریفتہ اور گرویدہ ہوئے اور اس پر ایمان لائے اور ایمان وہدایت کا رنگ ان پر اس قدر غالب آیا کہ اپنی قوم کے واسطے داعی اور ہادی وناصح بن کر لوٹے اب اس سورت میں جو کہ ابتداء نبوت کے زمانہ میں نازل ہوئی اس میں مشرکین مکہ کی بےرخی اور آپ ﷺ کی شان میں توہین و گستاخی کا ذکر کرکے آپ ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے اور انکی ایذاؤں وزیادتیوں پر صبر کی تلقین کی جارہی ہے۔
مشرکین مکہ آپ ﷺ…
Read the full tafseer →11:۔ ” وذرنی “ زجر و تخویف دنیوی یا اخروی۔ نعمۃ، عیش و عشرت۔ یہ اسلوب اس سے کنایہ ہے کہ آپ فکر نہ کریں ہم خود ان معاندین سے نمٹ لیں گے۔ ان عیش و عشرت کے دلدادہ جھٹلانے والوں کو چھوڑ دو اور ان کا معاملہ میرے حوالہ کردو اور تھوڑی سی ان کو مہلت دیدو پھر دیکھو ان کا کیا حشر ہوتا ہے۔ تھوڑی سی مہلت سے مراد مدت حیات ہے یا جنگ بدر تک کا وقت مراد ہے۔ ان معاندین کو میدانِ بدر میں ذلت آمیز عذاب کا مزہ چکھایا گیا اور جو اس عذاب سے بچ گئے وہ مرتے ہی عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
گذشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے وہ چھ اصول بتائے ہیں جن کے ذریعے دنیا میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔ اس انقلابی پرو گرام کے متعلق سورة توبہ اور سورة فتح میں ارشاد ہے۔ یعنی اس پروگرام پر عمل کرنے کے لیے اللہ نے اپنے رسول کو معبوث فرمایا ہے۔ تاکہ اس کو سارے دینوں کے مقابلے میں غالب کردے۔ ان مبینہ اصولوں میں رات کا قیام ، قرآن پاک کو ترتیل سے پڑھنا ، رب تعالیٰ کے اسم کو یا دکرنا۔ کچھ علیحدگی ، اختیار کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی ساتھ تعلق کو قوی بنانا ، خدا تعالیٰ کو مالک ار متصرف سمجھنا ، اس کو معبود بر حق جاننا اور اسی کو کارساز سمجھنا۔ اور ایک اہم اصول صبر کا کہ اس راستے میں جو بھی…
Read the full tafseer →وَذَرْنِيْ وَالْمُكَذِّبِيْنَ اُولِي النَّعْمَۃِ وَمَہِلْہُمْ قَلِيْلًا 11
وذر
[يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی:
قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] ، فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] ، وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] إلى أمثاله وتخصیصه في قوله : وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] ، ولم يقل : يترکون ويخلّفون، فإنه يذكر فيما بعد هذا الکتاب إن شاء اللہ . [ والوَذَرَةُ : قطعة من اللّحم، وتسمیتها بذلک لقلة الاعتداد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ترکیب : والمکذبین عطف علی المفعول اومفعول معہ اولی النعمۃ صفۃ للمکذبین اوبیان اوبدل قلیلا زمانا قلیلا یوم ظرف لمافی لدینا من معنی الفعل وقیل لعذاب۔ واصل مھیل مھیول فحدف الواوعند سیبویہ وسکنت الیاء وقیل قلبت الواویائ۔
Read the full tafseer →وَذَرْنِیْ وَالْمُکَذِّبِیْنَ اُوْلِی النَّعْمَۃِ وَمَھِّلْہُمْ قَلِیْلاً ۔ (المزمل : 11)
(اور ان جھٹلانے والے خوشحال لوگوں کا معاملہ آپ ﷺ مجھ پر چھوڑ دیجیے اور ان کو کچھ دیر اور مہلت دیجیے۔ )
اُوْلِی النَّعْمَۃِ…نَعمت کے معنیتنعم یعنی عیش و عشرت اور مال و اولاد کی بہتات کے ہیں۔ اسی کو رفاہیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
تکذیب کرنے والوں کو سخت دھمکی
اس آیت کریمہ میں مخالفین کے لیے سخت دھمکی ہے کہ تم لوگ ہمارے رسول کی مخالفت میں حد سے بڑھتے جارہے ہو، لیکن تمہیں اندازہ نہیں کہ تمہارا معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے رسول سے نہیں بلکہ ہم سے ہے۔ اور جب ہماری پکڑ آتی ہے تو پھر نہ افراد بچتے ہیں، نہ حکومتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ کو صبر کرنے اور جھگڑا کرنے والوں سے کنارہ کش ہونے کی تلقین کرنے کے بعد آپ کے مخالفین کو زبردست انتباہ۔
قرآن مجید نے توحید، رسالت اور آخرت کے بارے میں سینکڑوں دلائل دیئے مگر پھر بھی اہل مکہ آپ ﷺ کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ اس پر ایک طرف آپ کو صبر کی تلقین کی گئی ہے اور دوسری طرف یہ فرمایا کہ اے نبی ! مجھے جھٹلانے والوں سے نبٹ لینے دیں یہ اپنی دولت کے نشے میں مست ہیں انہیں تھوڑی سی مزید مہلت دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر اپنے لیے ” ذَرْنِیْ “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس کا معنٰی ہے کہ مجھے چھوڑ دیں تاکہ جو لوگ بالخصوص سرمایہ دار آپ کو جھٹلاتے ہیں ان کے ساتھ نبٹ لوں۔ اس کا…
Read the full tafseer →1 1 : وَذَرْنِیْ (اور چھوڑدو مجھے) ان کو میرے سپرد کرو میں جانوں اور وہ جانیں۔ وَالْمُکَذِّبِیْنَ (اور ان جھٹلانے والوں کو) رئوسائے قریش۔
نحو : یہ مفعول معہ ہے نمبر 2۔ ذرنی پر اس کا عطف ہے ای دعنی و ایا ھم۔ اُولِی النَّعْمَۃِ (نازو نعمت والوں کو) النعمۃ کسرہ نون سے ہو تو انعام اور ضمہ سے ہو تو خوشی۔ وَمَھِّلْہُمْ (ان لوگوں کو مہلت دو مہلت دینا) قَلِیْلاً (تھوڑے دنوں) یوم بدر تک نمبر 2۔ قیامت کے دن تک۔
Read the full tafseer →10 ۔” واصبر علی مایقولون واھجرھم ھجرا جمیلا “ اس کو قتال کی آیت نے منسوخ کردیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
10۔ 18۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ اے رسول ﷺ اللہ کے تم اپنے سب کام اللہ کو سونپ دو اللہ تمہارے سب کاموں کے سر انجام کے لئے کافی ہے۔ اس ہدایت کے پورا کرنے کے لئے فرمایا یہ لوگ جو اپنے مال و متاع کے غرور میں تم کو برا بھلا کہتے ہیں اور اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں تم اس کا کچھ خیال نہ کرو اور تھوڑے دنوں کے لئے ان لوگوں کو اللہ کے انتقام پر چھوڑ دو ۔ اللہ ان سے خود سمجھ لے گا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ان آیتوں کے نازل ہونے کے تھوڑے عرصہ کے بعد بدر کی لڑائی پیش آئی جس میں بڑے بڑے سرکش ستر آدمی مشرکین مکہ میں قتل ہوگئے۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے قریش کو دو طرح سے…
Read the full tafseer →فرمایا (وَذَرْنِيْ وَالْمُكَذِّبِيْنَ ) مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجئے۔ میں ان سے انتقام لوں گا، میں نے اگرچہ ان کو مہلت دی ہے مگر میں ان کو مہمل نہیں چھوڑوں گا۔ (اُولِي النَّعْمَةِ ) یعنی نعمتوں سے بہرہ مند اور دولت مند لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رزق سے فراخی عطا کی اور اپنے فضل سے ان کو نوازا تو انہوں نے سرکشی کارویہ اختیار کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (کلا ان الانسان لیطغی، ان راہ استغنی۔ العلق 6۔ 7) ہرگز نہیں، انسان جب اپنے آپ کو بےنیاز دیکھتا ہے تو سرکش ہوجاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کی وعید سنائی جو اس کے پاس ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
قول باری ہے (واکراسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا۔ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہورہو) مجاہد کا قول ہے ” اللہ سے اپنے اخلاص کا اظہار کرو۔ “ قتادہ کا قول ہے ” پورے اخلاص کے ساتھ اس سے دعا مانگو اور اس کی عبادت کرو۔ “ ایک قول کے مطابق اس سے مراد سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہنا اور صرف اسی سے خیر کی امید رکھنا ہے۔
بعض لوگ تکبیر افتتاح کے سلسلے میں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کیونکہ اس کا ذکر نماز کے ضمن میں ہوا ہے اس لئے یہ اللہ کے تمام اسماء کے ساتھ افتتاح صلوٰۃ کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔
قول باری ہے (سبحا طویلا ۔ (دن کے اوقات میں تمہارے لئے) بہت مصروفیات ہیں) قتادہ کا قول ہے کہ طویل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
13 ۔ مکذبین کے لیے بڑی سخت تنبیہ و تہدید : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا اور مجھ پر چھوڑ دو ان جھٹلانے والے عیش پرست لوگوں کا معاملہ۔ جو اپنی دنیا داری اور عیش پرستی کی بناء پر مست ہوگئے، اور وہ اپنی سرکشی اور اپنے کفر و باطل پر ایسے اڑ گئے، کہ حق بات کو سننے اور ماننے کے لئے تیار ہی نہیں۔ سو ان لوگوں کو اور ان کے معاملے کو مجھ پر چھوڑ دو ، میں ان سے خو دنبھٹ لوگوں گا اور ان کو ایسی سزا دوں گا جو ان کے جرائم کے مطابق ہوگی اور جس کے یہ لائق و حقدار ہوں گے اور جس سے بھاگنے اور بچ نکلنے کی کوئی صورت ان کے لئے ممکن نہ ہوگی، والعیاذ باللہ العظیم مطلب یہ کہ ان کے پیچھے لگ کر آپ ﷺ خواہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
نماز تہجد کا حکم
تشریح : یہ بابرکت سورت اس لحاظ سے بھی خاص ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺ کو بڑے محبت بھرے انداز میں مخاطب کیا ہے۔ یعنی اے کپڑوں میں لپٹنے والے (مزّمل کا مطلب ہے ہلکا کپڑا یعنی چادر) اور پھر اس برگزیدہ نیک فطرت اور متقی انسان کو اس آنے والے مشکل ترین کام کی تیاری کی خبر دی گئی اور اس کو سنبھالنے کے لیے اپنے اندر وہ جذبہ توکل صبر و ضبط اور جان نثاری پیدا کرنے کے مزید طریقے بتائے گئے جو ان کو ایک کامل آخری نبی بننے کے قابل بنا سکیں۔ اور ان میں سب سے پہلا کام جو کہا گیا وہ تھا شب بیداری یعنی رات کو اٹھ کر نماز پڑھنا عبادت کرنا اور اللہ سے مدد مانگنا اور اس کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة المزمل۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اے کمبل پوش یہ بات ایک خوبصورت انداز محبت میں ارشاد فرمائی اور فرمایا کہ راتوں کو اٹھیں یعنی قیام فرمائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور تھوڑا وقت آرام کریں قیام کے لیے آدھی رات یا اس سے کچھ کم زیادہ کرلیاکریں اس میں نہایت خوبصورت انداز سے قرآن کی تلاوت کریں۔
نماز تہجد۔
یہ آیات ابتدائے اسلام کی ہیں اور ان میں آپ پر اور مسلمانوں پر تہجد کی نماز فرض کی گئی نیز رات کا اکثر حصہ قیام کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر درست طریقے سے اور خوبصورت انداز می پڑھنے کا حکم ہوا چناچہ آپ اور صحابہ کرام سال بھر تک تہجد ہی ادا فرماتے رہے جس میں طویل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
ف 1 یعنی ان کی شامت آیا چاہتی ہے ذرا انتظار کیجیے۔ چناچہ بدر کے دن مشرکین مکہ کی یہ شامت آگی۔
Read the full tafseer →(73:11) ذرنی : ذر فعل امر واحد مذکر حاضر۔ وذر (باب فتح، سمع) سے مصدر۔ جس کے معنی چھوڑ دینے کے ہوتے ہیں۔ ن وقایہ ی ضمیر مفعول واحد متکلم کی ہے۔ تو مجھے چھوڑ دے۔
والمکذبین اولی النعمۃ۔ واؤ عاطفہ۔ المکذبین اسم فاعل جمع مذکر (بحالت نصب۔ بوجہ مفعول) تکذیب (تفعیل) مصدر سے۔ المکذبین کا عطف ذرنی پر ہے یا المکذبین مفعول معہ ہے ۔ (مدارک التنزیل) ۔ اولی النعمۃ موصوف و صفت مل کر صفت ہے المکذبین کی۔ مال دار۔
آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ آپ مجھے اور (ان) جھٹلانے والے مالداروں کو (اپنی حالت پر) چھوڑ ئیے۔
ومہلہم قلیلا : اس کا عطف ذرنی پر ہے۔ واؤ عاطفہ۔ مہل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تمہیل (تفعیل) مصدر سے۔ بمعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
المزمل۔ کپڑوں میں لپٹنے والا۔ قم۔ کھڑا ہوجا۔ انقص کم کرلے۔ گھٹالے۔ رتل۔ صاف صاف پڑھ۔ سنلقی۔ ہم بہت جلدڈالیں گے۔ قول ثقیل۔ بھاری کلام۔ ناشئۃ۔ رات کو اٹھنا۔ بیدار ہونا۔ وطئہ ۔ مشقت۔ روندنا۔ اقومل قیلا۔ زیادہ درست بات۔ سبح طویل۔ زیادہ کام۔ زیادہ مشغولیت۔ تبتل۔ کاٹ ڈال۔ تبتیل۔ خوب کٹنا۔ ھجر۔ چھوڑ دینا۔ مھل۔ مہلت دے۔ لدینا۔ ہمارے پاس۔ انکال۔ بیڑیاں۔ زنجیریں۔ ذاغصۃ۔ گلے میں پھنس جانے والا۔ ترجف۔ کانپے گی۔ کشیب۔ ریت کے ٹیلے۔ مھیل۔ نیچے دھکیلا گیا۔ بیل۔ سخت۔ عبرت ناک۔ شیب۔ بوڑھا۔ منفظر۔ پھٹ جانے والا۔ ثلثی الیل۔ دو تہائی رات۔ تیسر۔ آسان ہوگا۔ اعظم اجرا۔ بہت بوڑھا ہوا ثواب۔
تشریح : سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
نیک بختوں اور بدبختوں کا ذکر۔
(ف 1) اوپر اللہ نے اپنے محبوب کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ اے محبوب تم اپنے سب کام اللہ کو سونپ دو ، اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کے سرانجامی کے لیے کافی ہے ، اس ہدایت کے پورا کرنے کے لیے فرمایا یہ لوگ جو اپنے مال ومتاع کے غرور میں تم کو برابھلا کہتے ہیں اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں تم اس کا کچھ خیال نہ کرو اور تھورے دنوں کے لیے ان لوگوں کو اللہ کے انتقام پر چھوڑ دو ، اللہ ان سے خود سمجھ لے گا، اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے ان آیتوں کے نازل ہونے کے تھوڑے عرصہ بعد بدر کی لڑائی پیش آئی۔ جس میں بڑے بڑے سرکش مشرکین مکہ کے قتل ہوگئے اب آگے اللہ نے قریش کو دوطرح سے ڈرایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
[5] یعنی ان کے منہ نہ لگو، ان کی بیہودگیوں کو بالکل نظرانداز کردو اور ان کی کسی بدتمیزی کا جواب نہ دو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
امراء کیوں مخالفت کرتے ہیں !
1: حضور ﷺ نے جب اپنی بعثت کا اعلان کیا ۔ تو حسب دستور جن لوگوں نے انکار کیا ۔ وہ مفلس اور قلاش لوگ نہ تھے ۔ بلکہ وہ لوگ تھے ۔ جو صاحب مال ومنال تھے ۔ اور ابتداء سے یہ سنت چلی آرہی ہے ۔ کہ حق وصداقت کی مخالفت میں بھی روسا کا طبقہ پیش پیش رہتا ہے ۔ اور اس کی وجہ غالباً یہ ہے ۔ کہ غرباء کا دین سے کوئی تصادم نہیں ہوتا ۔ ان کی آرزوئیں اور خواہشیں نہایت محدود اور ادنی قسم کی ہوتی ہیں ۔ مگر یہ اکابر سیادت و قیادت کے خلاں اور منصب وجاہ کے متوالے ہوتے ہیں ۔ اور یہ بھی چاہتے ہیں ۔ کہ قانون واخلاق کی کوئی پابندی ان پر عائد نہ ہو ۔ مذہب کی پہلی لڑائی انہیں اغراض کی اصلاح کے…
Read the full tafseer →(11) اور اے پیغمبر مجھ کو اور ان جھٹلانے والوں اور تکذیب کرنے والے ارباب تنعم اور نازونعمت میں رہنے والوں کو موجودہ حالت پر چھوڑ دیجئے اور ان کو تھوڑی مہلت اور دیجئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
ف 2۔ یہ کنایہ ہے صبر و انتظار سے یعنی چندے اور صبر کرلیجئے، عنقریب ان کو سزا ہونے والی ہے۔
Read the full tafseer →مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو بس چھوڑ دو اور تھوڑی ڈھیل مزید ان کو دے دو
۔ 11 گزشتہ آیت کے مضمون کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ان کی طرف سے توجہ ہٹا لیں ، ان کی گستاخیوں اور اذیت رسانیوں کا انتقام لینے کا خیال تک نہ کریں اور آپ ان سارے کاموں کو میرے سپرد کردیں کیونکہ یہ کام آپ کے کرنے کے نہیں ہیں آپ بھی وہی کام کریں جس کے لئے آپ کو مبعوث کیا گیا ہے میں ان جھوٹے بولنے والوں اور بکواس کرنے والوں سے خود نمٹ لوں گا۔ میں جانتا ہوں کہ ان کو اس طرح کی جرأت کیسے پیدا ہوگئی جس طرح کی یہ آپ سے باتیں کر رہے ہیں یہ محض اس لئے کر رہے ہیں کہ میں نے ان کو مال دیا ہے اور…
Read the full tafseer →وَذَرْنِيْ وَالْمُكَذِّبِيْنَ اُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيْلًا (And leave Me [ to deal ] with the deniers, the people of luxury, and give them respite for a while....73:11). The 'deniers' are referred to as 'the people of luxury'. The word na` mah', the first letter [ n ] bearing lath [=a ], signifies 'ease and plenty; abundance of wealth and children'. This indicates that people who live a life of ease, plenty and luxury can only be the ones who deny the Hereafter. These things do often fall to the lot of the believers, but they do not intoxicate them. Therefore, even when they…
Read the full tafseer →12 These words clearly contain the sense that the people who were actually denying the Holy Prophet (upon whom be peace) in Makkah and were inciting the common people to oppose and resist him by stirring up prejudices and by deceit and fraud were the well-to-do, prosperous and affluent people, for it was their interests, which were being hit by Islam's message of reform. The Qur'an tells us that this was not peculiar only to the Holy Prophet's case but in every age this very class of the people have been the main obstacle to every movement of reform. For example, see Al-A`raf; 60, 6b, 75, 88;…
Read the full tafseer →