Al-Muzzammil 73:12

Al-Muzzammil · from ayah 12

73:12

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّجَحِیْمًا ۟ۙاِنَّ لَدَيۡنَاۤ اَنۡـكَالًا وَّجَحِيۡمًا

کچھ شک نہیں کہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, with Us [for them] are shackles and burning fire

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muzzammil

All translations of 73:12

ہمارے پاس (ان کے لیے) بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کچھ شک نہیں کہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً ہمارے ہاں سخت بیڑیاں ہیں اور سلگتی ہوئی جہنم ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقین جانو ہمارے پاس بڑی سخت بیڑیاں ہیں، اور دہکتی ہوئی آگ ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ہمارے پاس بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی آگ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک ہمارے پاس بھاری بیڑیاں اور (دوزخ کی) بھڑکتی ہوئی آگ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور سخت بھڑکتی ہوئی آگ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہمارے پاس (ان لوگوں کے لیے) بیڑیاں بھی ہیں اور دوزخ بھی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہمارے پاس ان کے لیے بیڑیاں اور دوزخ کی آگ ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہمارے پاس (ایسے بدبختوں کے لئے) بڑی بھاری بیڑیاں بھی ہیں اور بھڑکتی آگ بھی

— مولانا اسحاق مدنی

ہمارے ہاں تو بیڑیاں ہی ہیں اور دوزخ ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہمارے پاس ان کے لیے بھاری بیڑیاں اور بھڑکتی آگ ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کچھ شک نہیں کہ ہمارے پاس بیڑیاں اور بھڑکتی آگ ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

We have heavy fetters and a blazing Fire in store for them;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely with Us are fetters and flaming fire,

— Muhammad Taqi Usmani

Surely with Us are fetters and flaming fire,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, with Us are Ankal, and Jahim.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! with Us are heavy fetters and a raging fire,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, with Us [for them] are shackles and burning fire

— Saheeh International

We have prepared for them fetters, flaming fire,

— Muhammad Sarwar

Surely with Us are heavy fetters and a flaming fire,

— Muhammad Habib Shakir

Verily with us are heavy fetters and Scorch.

— Abdul Majid Daryabadi

With Us are Fetters (to bind them), and a Fire (to burn them),

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 73:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–18

نبی اکرم ﷺ کی حوصلہ افزائی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خد ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بےفکر ہیں اور تجھے ستانے کے لئے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بےتعلق ہوجا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے اور عذاب بھی کونسے ؟ سخت قید…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 12–13

سورة الْمُزَّمِّل 13 جہنم میں بھاری بیڑیاں مجرموں کے پاؤں میں اس لیے نہیں ڈالی جائیں گی کہ وہ بھاگ نہ سکیں، بلکہ اس لیے ڈالی جائیں گی کہ وہ اٹھ نہ سکیں۔ یہ فرار سے روکنے کے لیے نہیں بلکہ عذاب کے لیے ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

آگے آخرت کے اس سخت ترین عذاب کا ذکر ہے جس میں پہلے انکال کا ذکر کیا جس کے معنی قید و بند اور زنجیروں کے ہیں۔ پھر جہنم کی شدید آگ کا ذکر فرمایا۔ پھر اہل جہنم کے درد ناک کھانے کا ذکر ہے وّطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ ، غصہ کے لفظی معنے گلے میں لگ جانے والے پھندے کے ہیں کہ کوئی لقمہ گلے میں اس طرح پھنس جائے کہ نہ نگلا جاسکے نہ باہر اگلا جاسکے۔ ضریع اور زقوم جو اہل جہنم کو کھانے کے لئے دیا جائے گا ان کا یہی حال ہوگا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس میں آگ کے کانٹے ہوں گے جو گلے میں پھنس جائیں گے (نعوذ باللہ منہ)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی جب ہماری بخشی ہوئی رفاہیت اس دنیا میں ان کے لیے استکبار اور رسول کی تکذیب کا سبب ہوئی تو یاد رکھیں کہ ان کے لیے ہمارے پاس آخرت میں بیڑیاں اور جہنم ہے۔ یعنی بیڑیوں اور زنجیروں کے اندر جکڑ کر جہنم کے اندر جھونک دیے جائیں گے۔ ’اَنْکَالٌ‘ جمع ہے ’نِکْلٌ‘ کی۔ اس کے معنی بیڑی کے بھی ہیں اور آہنی لگام کے بھی۔ دوسرے مقام میں ’سَلَاسِلُ‘ اور ’اَغْلَالٌ‘ کے الفاظ بھی آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 8–12

8۔ 1 یعنی اللہ کی عبادت اور اس سے دعا و مناجات کے لیے یکسو اور ہمہ تن اس کی طرف متوجہ ہوجانا، یہ رہبانیت سے مختلف چیز ہے رہبانیت تو تجرد اور ترک دنیا ہے جو اسلام میں ناپسندیدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–19

7: مکی زندگی میں ہمیشہ حکم یہی دیا گیا ہے کہ کافروں کی تکلیف دہ باتوں پر صبرو کرو، اور ان سے لڑائی ٹھاننے کے بجائے خوبصورتی سے علیحدگی اختیار کرلو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 12–13

ان لدینا ............ وجحیما (12) وطعاما .................... الیما (73:13) ” ہمارے پاس (ان کے لئے) بھاری بیڑیاں ہیں اور بھرکٹی ہوئی آگ اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور درد ناک عذاب “۔ انکال کے معنی بیڑیاں ہیں۔ جحیم جہنم ہے اور طعام ذاغصہ ، وہ جو اس قدر پھنسنے والا ہے جو خلق کو توڑ دے اور یہ صاحبات نعمت کے لئے مناسب جزاء ہے۔ جنہوں نے نعمتوں کی کوئی رعایت نہیں کی اور نہ نعمتوں کا شکر ادا کیا۔ اے محمد صبر کرو ، صبر جمیل کرو ، اور ان سے نمٹنے کا کام ہمارے ذمہ چھوڑ دو ۔ ہمارے پاس ان کے لئے بہت کچھ سامان ہے ۔ پہلے بڑی بڑی بیڑیاں ہیں جو ان کے لئے باعث اذیت ہوں گی ، اور پھر جہنم ہے جو انہیں خوب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 12–13

7 عذاب دردناک سانپوں اور بچھوؤں کا اور خدا جانے کس کس قسم کا (العیاذ باللہ)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 11–12

آیت 1 1{ وَذَرْنِیْ وَالْمُکَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَۃِ } ”آپ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیں ‘ جو بڑی نعمتوں سے نوازے گئے ہیں“ ان کو مال و اولاد ‘ بڑی بڑی جائیدادیں اور طرح طرح کی دوسری نعمتیں بھی میں نے ہی عطا کی ہیں اور اب ان کی سرکشی کا مزہ بھی انہیں میں ہی چکھائوں گا ‘ لہٰذا ان کا معاملہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔ نوٹ کیجیے ابتدائی دور کی ان سورتوں میں ذَرْنِیْ اور ذَرْھُمْ کے صیغے بار بار آرہے ہیں۔ { وَمَہِّلْہُمْ قَلِیْلًا۔ } ”اور ابھی آپ انہیں تھوڑی سی مہلت دیں۔“ قبل ازیں ہم سورة مریم میں اس سے ملتا جلتا یہ حکم بھی پڑھ چکے ہیں : { فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْہِمْط اِنَّمَا نَعُدُّ لَہُمْ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 12–13

13 یہ آسودہ حال لوگ جو آپ ﷺ کی عداوت اور مخالفت میں پیش پیش ہیں۔ انہیں سزا دینے کے لئے ہمارے پاس بہت کچھ ہے۔ وزنی بیڑیاں بھی جن کے بوجھ کی وجہ سے ہل تک نہ سکیں گے۔ انہیں بھڑکتی ہوئی آگ میں پھینکا جائے گا کھانے کو تھوہر کا درخت ہوگا جو بھوک کی مجبوری کی وجہ سے کھانے کی کوشش کریں گے مگر اس سے گلے میں پھندا لگ جائے گا اور بڑی مشکل سے نیچے اترے گا۔ اس کے علاوہ دردناک سزا بھی ملے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 12–14

10۔ (اور اڑتے پھریں گے) یہاں پھر ایک بارذھن کے سامنے اس قوم کو لے آئیے، جو قیامت اور روز جراء کے یکسر منکسر ہیں۔ اور حشرونشر کے تخیل ہی کو مضحکہ خیز اور اپنی روشن خیالی پر ایک داغ سمجھ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–19

وذرنی و المکذبین اولی النعمۃ الخ ان الفاظ میں صاف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ مکہ میں دراصل جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلا رہے تھے اور طرح طرح کے فریب دے کر، تعصبات کو ابھار کر، عوام کو آپ ﷺ کی مخالفت پر آمادہ کر رہے تھے، وہ قوم کے کھاتے پیتے اور خوشحال لوگ تھے کیونکہ اسلام کی اس دعوت اصلاح کی براہ راست زد، ان کے مفادات پر پڑ رہی تھی، قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ معاملہ صرف رسول اللہ ہی کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ ہمیشہ یہی گروہ، اصلاح کی راہ روکنے کے لئے سنگ گراں بن کر حائل ہوتا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان لدینا . یہ حکم سابق کی علّت ہے۔ انکالا . نکل کی جمع۔ بھاری قید ‘ بیڑی۔ بیہقی نے حسن بصری کا قول نقل کیا کہ انکال آگ کی بیڑیاں ہونگی۔ و جحیما

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 12–13

(12۔ 13) آخرت میں ہمارے ہاں ان کے لیے بیڑیاں ہیں جن سے ان کے پیر جکڑ دیں گے اور طوق ہیں جو ان کی گردنوں میں ڈالیں گے اور زنجیریں ہیں جن میں ان کو جکڑا جائے گا اور دوزخ ہے جس میں ان کو داخل کریں گے۔ اور ان کے گلے میں پھنسنے کے لیے زقوم ہے اور دردناک عذاب ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 12–13

(ان لدینا انکالاً…:”انکالاً“ ”نکل“ (نون کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے، جانور کے پاؤں کی زنجیر اور لگام کے لوہے والے حصے کو کہتے ہیں۔ ”ججیماً“ (حجمۃ“ (آگ کا سخت بھڑکنا) سے مشتق ہے۔ (راغب) ”ذاغضۃ“ جو گلے میں پھنس جائے، نہ نگل سکے نہ اگل سکے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ان لدینا انکالاوجحیما۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ مھیلا۔ ان لدینا انکالاوجحیما۔ انکال کا معنی بیڑیاں ہیں یہ حضرت حسن بصری، مجاہد اور دوسرے علماء سے مروی ہے، اس کا واحد نکل ہے نکل اسے کہتے ہیں جو انسان کو حرکت سے روک دے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، اسے نکل اس لیے کہتے ہیں، کیونکہ اس کے ساتھ عبرت حاصل کی جاتی ہے امام شعبی نے کہا، کیا تمہاری یہ رائے ہے کہ اللہ تعالیٰ جہنمیوں کے پاؤں میں بیڑیاں اس لیے ڈالی ہیں کہ کہیں بھاگ نہ جائیں ؟ نہیں اللہ کی قسم، لیکن جب انہوں نے اوپر آنے کا ارادہ کیا تو ان بیڑیوں نے انہیں نیچے کردیا، کلبی نے کہا، انکال کا معنی طوق ہے، پہلا معنی لغت میں بہت معروف ہے اس معنی میں خنساء کا قول ہے،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

4۔ عبد بن حمید نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت لدینا انکالا سے مراد ہے بیڑیاں۔ 5۔ احمد فی الزہد وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان لدینا انکالا سے مراد ہے بیڑیاں۔ 6۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 7۔ عبد بن حمید نے حماد اور طاؤس رحمہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 8۔ ابن جریر و بیہقی نے البعث میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ انکالا سے مراد ہے آگ کی بیڑیاں۔ 9۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے سلیمان تیمی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان لدینا انکالا سے مراد ہے بیڑیاں اللہ کی قسم یہ انتہائی بھاری ہیں ی کبھی، جدا نہ ہوں گی۔ پھر رونے لگے۔ 10۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان لَدَيْنَآ انكَالًا : بیشک ہمارے پاس بیڑیاں ہیں ] [وَّجَحِــيْمًا : اور دہکتی آگ ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–13

رسول اللہ ﷺ کو صبر فرمانے کا حكم، دوزخ کے عذاب کا تذکرہ، وقوع قیامت کے وقت زمین اور پہاڑوں کا حال یہ پانچ آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تسلی دی ہے کہ آپ جلدی نہ کریں یہ لوگ جو آپ کو جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں ان کو کچھ مہلت دے دیں۔ یہ ناز و نعمت میں پل رہے ہیں اور بڑھ رہے ہیں اور دنیاوی اموال اور نعمتیں ان کے لیے غفلت کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ ان چیزوں میں پڑ کر وہ آپ کی دعوت کو ٹھکرا رہے ہیں یہ ان کے حق میں کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کھا پی رہے ہیں اور مزے کر رہے ہیں تھوڑے سے دن کی بات ہے اور اس میں ان کا استدراج بھی ہے۔ كما قال تعالیٰ فی سورة القلم ﴿فَذَرْنِيْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–14

حکم قیام اللیل وتاکید ترتیل وتحسین درتلاوت کلام اللہ تعالیٰ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المزمل ......... الی ........... کثیبا مھیلا “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں جنوں کا قصہ ذکر فرمایا گیا تھا کہ وہ قرآن کریم کو سن کر کیسے اس پر فریفتہ اور گرویدہ ہوئے اور اس پر ایمان لائے اور ایمان وہدایت کا رنگ ان پر اس قدر غالب آیا کہ اپنی قوم کے واسطے داعی اور ہادی وناصح بن کر لوٹے اب اس سورت میں جو کہ ابتداء نبوت کے زمانہ میں نازل ہوئی اس میں مشرکین مکہ کی بےرخی اور آپ ﷺ کی شان میں توہین و گستاخی کا ذکر کرکے آپ ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے اور انکی ایذاؤں وزیادتیوں پر صبر کی تلقین کی جارہی ہے۔ مشرکین مکہ آپ ﷺ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 12–13

12:۔ ” ان لدینا “ تخویف دنیوی۔ انکال، نکل (بکسر نون وفتحہا) کی جمع ہے بھاری اور وزنی بیڑیا۔ ذاغصۃ، گلا گھونٹنے والا، حلق سے نہ اترنے والا۔ دنیوی عذاب کے علاوہ آخرت میں بھی ہم نے ان کے لیے مختلف انواع و اقسام کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ان کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر ان کو بھڑکتی آگ میں ڈال دیا جائے گا اور کھانے کے لیے زقوم، صدید، غسلین اور دیگر خاردار قسم کی چیزیں ہوں گی جن کو حلق سے اتارنا ہی دشوار ہوگا۔ اس کے علاوہ کئی قسم کی دردناک سزائیں ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–14

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے وہ چھ اصول بتائے ہیں جن کے ذریعے دنیا میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔ اس انقلابی پرو گرام کے متعلق سورة توبہ اور سورة فتح میں ارشاد ہے۔ یعنی اس پروگرام پر عمل کرنے کے لیے اللہ نے اپنے رسول کو معبوث فرمایا ہے۔ تاکہ اس کو سارے دینوں کے مقابلے میں غالب کردے۔ ان مبینہ اصولوں میں رات کا قیام ، قرآن پاک کو ترتیل سے پڑھنا ، رب تعالیٰ کے اسم کو یا دکرنا۔ کچھ علیحدگی ، اختیار کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی ساتھ تعلق کو قوی بنانا ، خدا تعالیٰ کو مالک ار متصرف سمجھنا ، اس کو معبود بر حق جاننا اور اسی کو کارساز سمجھنا۔ اور ایک اہم اصول صبر کا کہ اس راستے میں جو بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ لَدَيْنَآ اَنْكَالًا وَّجَحِــيْمًا۝ 12 ۙ لدی لَدَى يقارب لدن . قال تعالی: وَأَلْفَيا سَيِّدَها لَدَى الْبابِ [يوسف/ 25] . ( ل د ی ) لدی یہ تقریبا لدن کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَأَلْفَيا سَيِّدَها لَدَى الْبابِ [يوسف/ 25] اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا كل يقال : نَكَلَ عَنِ الشَّيْءِ : ضَعُفَ وعَجَزَ ونَكَلْتُهُ : قَيَّدْتُهُ ، والنِّكْلُ : قَيْدُ الدَّابَّةِ ، وحدیدةُ اللِّجَامِ ، لکونهما مانِعَيْنِ ، والجمْعُ : الأَنْكَالُ. قال تعالی: إِنَّ لَدَيْنا أَنْكالًا وَجَحِيماً [ المزمل/ 12] ونَكَّلْتُ به : إذا فَعَلْتُ به ما يُنَكَّلُ به غيرُه، واسم ذلک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–14

ترکیب : والمکذبین عطف علی المفعول اومفعول معہ اولی النعمۃ صفۃ للمکذبین اوبیان اوبدل قلیلا زمانا قلیلا یوم ظرف لمافی لدینا من معنی الفعل وقیل لعذاب۔ واصل مھیل مھیول فحدف الواوعند سیبویہ وسکنت الیاء وقیل قلبت الواویائ۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–14

اِنَّ لَدَیْنَـآ اَنْکَالاً وَّجَحِیْمًا۔ وَّطَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ وَّعَذَابًا اَلِیْمًا۔ یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَکَانَتِ الْجِبَالُ کَثِیْبًا مَّھِیْلاً ۔ (المزمل : 12 تا 14) (بیشک ہمارے پاس (ان کے لیے) بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور نہایت دردناک عذاب۔ جس دن زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑ بھربھرے ٹیلے بن جائیں گے۔ ) اَنْکَالاً…نِکلکی جمع ہے۔ اس کے معنی بیڑی کے بھی ہیں اور آہنی لگام کے بھی۔ بعض دفعہ قید و بند پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ ذَا غُصَّۃٍ…غُصَّۃٍ کا لفظی معنی گلے میں لگ جانے والے پھندے کے ہیں کہ کوئی لقمہ گلے میں اس طرح…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–14

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کو صبر کرنے اور جھگڑا کرنے والوں سے کنارہ کش ہونے کی تلقین کرنے کے بعد آپ کے مخالفین کو زبردست انتباہ۔ قرآن مجید نے توحید، رسالت اور آخرت کے بارے میں سینکڑوں دلائل دیئے مگر پھر بھی اہل مکہ آپ ﷺ کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ اس پر ایک طرف آپ کو صبر کی تلقین کی گئی ہے اور دوسری طرف یہ فرمایا کہ اے نبی ! مجھے جھٹلانے والوں سے نبٹ لینے دیں یہ اپنی دولت کے نشے میں مست ہیں انہیں تھوڑی سی مزید مہلت دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر اپنے لیے ” ذَرْنِیْ “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس کا معنٰی ہے کہ مجھے چھوڑ دیں تاکہ جو لوگ بالخصوص سرمایہ دار آپ کو جھٹلاتے ہیں ان کے ساتھ نبٹ لوں۔ اس کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 12–13

12، 13 : اِنَّ لَدَیْنَآ (بیشک ہمارے یہاں) کافروں کیلئے آخرت میں اَنْکَالًا (بھاری بیڑیاں ہیں) جمع نِکْلٌ۔ وَّ جَحِیْمًا (اور دوزخ ہے) جلانے والی آگ۔ وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ (اور گلے میں پھنس جانے والا کھانا) جو حلق سے چمٹ جائے گا۔ نہ وہ نگلا جاسکے گا۔ مراد الضریعؔ اور الزقومؔ ہے۔ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًا (دردناک عذاب) جس کا درد دل تک پہنچنے والا ہے۔ روایت میں ہے آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ اور بےہوش ہوگئے۔ ] رواہ الطبری فی تفسیرہ : 14/135[ قول حسن (رح) : وہ روزے کی حالت میں تھے۔ افطار کا وقت ہوگیا۔ کھانا لایا گیا۔ اچانک ان کے سامنے یہ آیت آگئی۔ تو فرمانے لگے اس کو اٹھا لو۔ دوسری رات آن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11 ۔” وذرنی والمکذبین اولی النعمۃ ومھلھم قلیلا “ یہ قریشی کے سرداروں کے بارے میں نازل ہوئی جو استہزاء کرنے والے تھے اور مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں یہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بدر میں کھانا کھلانے والے لھے۔ یہ تھوڑے سے تھے حتیٰ کہ بدر میں مارے گئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 10–18

10۔ 18۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ اے رسول ﷺ اللہ کے تم اپنے سب کام اللہ کو سونپ دو اللہ تمہارے سب کاموں کے سر انجام کے لئے کافی ہے۔ اس ہدایت کے پورا کرنے کے لئے فرمایا یہ لوگ جو اپنے مال و متاع کے غرور میں تم کو برا بھلا کہتے ہیں اور اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں تم اس کا کچھ خیال نہ کرو اور تھوڑے دنوں کے لئے ان لوگوں کو اللہ کے انتقام پر چھوڑ دو ۔ اللہ ان سے خود سمجھ لے گا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ان آیتوں کے نازل ہونے کے تھوڑے عرصہ کے بعد بدر کی لڑائی پیش آئی جس میں بڑے بڑے سرکش ستر آدمی مشرکین مکہ میں قتل ہوگئے۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے قریش کو دو طرح سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یعنی ہمارے پاس (اَنْكَالًا) سخت عذاب ہے، اسے ہم نے اس شخص کے لیے عبرتناک سزا بنایا ہے جو ان امور پر جما ہوا ہے جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے (وَّجَحِــيْمًا) اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–19

قول باری ہے (واکراسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا۔ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہورہو) مجاہد کا قول ہے ” اللہ سے اپنے اخلاص کا اظہار کرو۔ “ قتادہ کا قول ہے ” پورے اخلاص کے ساتھ اس سے دعا مانگو اور اس کی عبادت کرو۔ “ ایک قول کے مطابق اس سے مراد سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہنا اور صرف اسی سے خیر کی امید رکھنا ہے۔ بعض لوگ تکبیر افتتاح کے سلسلے میں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کیونکہ اس کا ذکر نماز کے ضمن میں ہوا ہے اس لئے یہ اللہ کے تمام اسماء کے ساتھ افتتاح صلوٰۃ کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔ قول باری ہے (سبحا طویلا ۔ (دن کے اوقات میں تمہارے لئے) بہت مصروفیات ہیں) قتادہ کا قول ہے کہ طویل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 11–12

13 ۔ مکذبین کے لیے بڑی سخت تنبیہ و تہدید : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا اور مجھ پر چھوڑ دو ان جھٹلانے والے عیش پرست لوگوں کا معاملہ۔ جو اپنی دنیا داری اور عیش پرستی کی بناء پر مست ہوگئے، اور وہ اپنی سرکشی اور اپنے کفر و باطل پر ایسے اڑ گئے، کہ حق بات کو سننے اور ماننے کے لئے تیار ہی نہیں۔ سو ان لوگوں کو اور ان کے معاملے کو مجھ پر چھوڑ دو ، میں ان سے خو دنبھٹ لوگوں گا اور ان کو ایسی سزا دوں گا جو ان کے جرائم کے مطابق ہوگی اور جس کے یہ لائق و حقدار ہوں گے اور جس سے بھاگنے اور بچ نکلنے کی کوئی صورت ان کے لئے ممکن نہ ہوگی، والعیاذ باللہ العظیم مطلب یہ کہ ان کے پیچھے لگ کر آپ ﷺ خواہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

نماز تہجد کا حکم تشریح : یہ بابرکت سورت اس لحاظ سے بھی خاص ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺ کو بڑے محبت بھرے انداز میں مخاطب کیا ہے۔ یعنی اے کپڑوں میں لپٹنے والے (مزّمل کا مطلب ہے ہلکا کپڑا یعنی چادر) اور پھر اس برگزیدہ نیک فطرت اور متقی انسان کو اس آنے والے مشکل ترین کام کی تیاری کی خبر دی گئی اور اس کو سنبھالنے کے لیے اپنے اندر وہ جذبہ توکل صبر و ضبط اور جان نثاری پیدا کرنے کے مزید طریقے بتائے گئے جو ان کو ایک کامل آخری نبی بننے کے قابل بنا سکیں۔ اور ان میں سب سے پہلا کام جو کہا گیا وہ تھا شب بیداری یعنی رات کو اٹھ کر نماز پڑھنا عبادت کرنا اور اللہ سے مدد مانگنا اور اس کلام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة المزمل۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اے کمبل پوش یہ بات ایک خوبصورت انداز محبت میں ارشاد فرمائی اور فرمایا کہ راتوں کو اٹھیں یعنی قیام فرمائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور تھوڑا وقت آرام کریں قیام کے لیے آدھی رات یا اس سے کچھ کم زیادہ کرلیاکریں اس میں نہایت خوبصورت انداز سے قرآن کی تلاوت کریں۔ نماز تہجد۔ یہ آیات ابتدائے اسلام کی ہیں اور ان میں آپ پر اور مسلمانوں پر تہجد کی نماز فرض کی گئی نیز رات کا اکثر حصہ قیام کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر درست طریقے سے اور خوبصورت انداز می پڑھنے کا حکم ہوا چناچہ آپ اور صحابہ کرام سال بھر تک تہجد ہی ادا فرماتے رہے جس میں طویل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 8–12

ف 1 یعنی ان کی شامت آیا چاہتی ہے ذرا انتظار کیجیے۔ چناچہ بدر کے دن مشرکین مکہ کی یہ شامت آگی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(73:12) ان لدینا انکالا وجحیما : ای ان لدینا للکفرین فی الاخرۃ انکالا وجحیما۔ تحقیق آخرت میں ہمارے پاس کافروں کے لئے بیڑیاں اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ ان حرف تحقیق ہے لدینا مرکب ہے لدی (اسم ظرف) پاس ، نزدیک، مضاف اور نا ضمیر جمع متکلم مضاف الیہ سے۔ ہمارے پاس۔ انکالا : نکل کی جمع ہے جس کے معنی سخت قید اور آہنی لگام کے ہیں۔ بیڑیاں۔ جحیما جحم سے (باب سمع) بروزن فعیل بمعنی فاعل، دہکتی ہوئی آگ۔ انکالا اور جحیما منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ المزمل۔ کپڑوں میں لپٹنے والا۔ قم۔ کھڑا ہوجا۔ انقص کم کرلے۔ گھٹالے۔ رتل۔ صاف صاف پڑھ۔ سنلقی۔ ہم بہت جلدڈالیں گے۔ قول ثقیل۔ بھاری کلام۔ ناشئۃ۔ رات کو اٹھنا۔ بیدار ہونا۔ وطئہ ۔ مشقت۔ روندنا۔ اقومل قیلا۔ زیادہ درست بات۔ سبح طویل۔ زیادہ کام۔ زیادہ مشغولیت۔ تبتل۔ کاٹ ڈال۔ تبتیل۔ خوب کٹنا۔ ھجر۔ چھوڑ دینا۔ مھل۔ مہلت دے۔ لدینا۔ ہمارے پاس۔ انکال۔ بیڑیاں۔ زنجیریں۔ ذاغصۃ۔ گلے میں پھنس جانے والا۔ ترجف۔ کانپے گی۔ کشیب۔ ریت کے ٹیلے۔ مھیل۔ نیچے دھکیلا گیا۔ بیل۔ سخت۔ عبرت ناک۔ شیب۔ بوڑھا۔ منفظر۔ پھٹ جانے والا۔ ثلثی الیل۔ دو تہائی رات۔ تیسر۔ آسان ہوگا۔ اعظم اجرا۔ بہت بوڑھا ہوا ثواب۔ تشریح : سورة…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–18

نیک بختوں اور بدبختوں کا ذکر۔ (ف 1) اوپر اللہ نے اپنے محبوب کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ اے محبوب تم اپنے سب کام اللہ کو سونپ دو ، اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کے سرانجامی کے لیے کافی ہے ، اس ہدایت کے پورا کرنے کے لیے فرمایا یہ لوگ جو اپنے مال ومتاع کے غرور میں تم کو برابھلا کہتے ہیں اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں تم اس کا کچھ خیال نہ کرو اور تھورے دنوں کے لیے ان لوگوں کو اللہ کے انتقام پر چھوڑ دو ، اللہ ان سے خود سمجھ لے گا، اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے ان آیتوں کے نازل ہونے کے تھوڑے عرصہ بعد بدر کی لڑائی پیش آئی۔ جس میں بڑے بڑے سرکش مشرکین مکہ کے قتل ہوگئے اب آگے اللہ نے قریش کو دوطرح سے ڈرایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–14

[5] یعنی ان کے منہ نہ لگو، ان کی بیہودگیوں کو بالکل نظرانداز کردو اور ان کی کسی بدتمیزی کا جواب نہ دو ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–19

امراء کیوں مخالفت کرتے ہیں ! 1: حضور ﷺ نے جب اپنی بعثت کا اعلان کیا ۔ تو حسب دستور جن لوگوں نے انکار کیا ۔ وہ مفلس اور قلاش لوگ نہ تھے ۔ بلکہ وہ لوگ تھے ۔ جو صاحب مال ومنال تھے ۔ اور ابتداء سے یہ سنت چلی آرہی ہے ۔ کہ حق وصداقت کی مخالفت میں بھی روسا کا طبقہ پیش پیش رہتا ہے ۔ اور اس کی وجہ غالباً یہ ہے ۔ کہ غرباء کا دین سے کوئی تصادم نہیں ہوتا ۔ ان کی آرزوئیں اور خواہشیں نہایت محدود اور ادنی قسم کی ہوتی ہیں ۔ مگر یہ اکابر سیادت و قیادت کے خلاں اور منصب وجاہ کے متوالے ہوتے ہیں ۔ اور یہ بھی چاہتے ہیں ۔ کہ قانون واخلاق کی کوئی پابندی ان پر عائد نہ ہو ۔ مذہب کی پہلی لڑائی انہیں اغراض کی اصلاح کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 11–16

ف 2۔ یہ کنایہ ہے صبر و انتظار سے یعنی چندے اور صبر کرلیجئے، عنقریب ان کو سزا ہونے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلا شبہ ہمارے پاس قسم قسم کی بیڑیاں ہیں اور جہنم بھی ہے ۔ 12 (انکالا) بیڑیاں ، قید ، نکل کی جمع جس کے معنی سخت قید اور آہنی لگام کے ہیں۔ لگام یا لجام اکثر جانوروں کے منہ میں دی جاتی ہے اور بیڑیاں پائوں میں پہنائی جاتی ہیں اور انسانوں کے حق میں یہ دونوں ہی بڑی سزائیں ہیں۔ دنیوی لحاظ سے بھی وہ ان قیدیوں کو پہنائی جاتی ہیں جن کو مقدمہ قتل میں یا کسی دوسرے معاملہ میں موت کی سزا سنائی گئی ہو اور ابھی سزا سنا نہ دی گئی ہو بلکہ اس کے لئے تاریخ مقرر کردی جائے تو پھر ایسے قیدیوں کو بیڑیاں پہنائی جاتی ہیں گویا یہ سزا دنیا کی سزائوں میں سے بہت سخت سزا سمجھی جاتی ہے۔ فرمایا ہمارے پاس ان کو جکڑنے کے لئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

اِنَّ لَدَيْنَآ اَنْكَالًا وَّجَحِــيْمًا (Surely with Us are fetters and flaming fire, and food that chokes, and a painful punishment...73:12-13). The terrible punishment of the Hereafter is described in these verses. First, there is the mention of ankal which is the plural of nakal. It denotes 'fetter, chain, shackle'. Then, there is the mention of 'flaming fire'. Then, verse [ 13] describes the 'choking food' the inmates of Hell will be given to eat. The word ghussah literally denotes 'a thing by which one is choked'. For example, a morsel may block the throat in such a way as it can…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–13

13 Heavy fetters in Hell will not be put on the criminals' feet to stop them from escape but in order that they are not able to stand up and move; these will not be used to prevent their escape but as an instrument of their torment.

Read the full tafseer →