Explained with ayahs 10–18
نبی اکرم ﷺ کی حوصلہ افزائی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خد ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بےفکر ہیں اور تجھے ستانے کے لئے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بےتعلق ہوجا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے اور عذاب بھی کونسے ؟ سخت قید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
سورة الْمُزَّمِّل 13
جہنم میں بھاری بیڑیاں مجرموں کے پاؤں میں اس لیے نہیں ڈالی جائیں گی کہ وہ بھاگ نہ سکیں، بلکہ اس لیے ڈالی جائیں گی کہ وہ اٹھ نہ سکیں۔ یہ فرار سے روکنے کے لیے نہیں بلکہ عذاب کے لیے ہوں گی۔
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا وّعَذَابًا اَلِـــيْمًا ان معین عذابوں کے ذکر کرنے کے بعد یہ مبہم لفظ لا کر اس طرف اشارہ کیا گیا کہ اور عذاب ان سے بھی زیادہ شدید و سخت ہیں جن کا کوئی انسان تصور نہیں کرسکتا۔ (اللہم احفظنا منہا)
سلف صالحین کا خوف آخرت۔ امام احمد، ابن ابی داؤد، ابن عدی اور بیہقی کی روایت ہے کہ ایک شخص نے قرآن کی یہ آیت سنی تو خوف سے بیہوش ہوگیا اور حضرت حسن بصری ایک دن روزہ سے تھے افطار کے وقت کھانا سامنے آیا تو اس آیت کا دھیان آ گیا، کھانا نہ کھا سکے اٹھوا دیا۔ اگلے روز پھر شام کو ایسا ہی ہوا، کھانا اٹھوا دیا۔ تیسرے روز پھر ایسا ہی ہوا تو ان کے صاحبزادے حضرت ثابت بنانی اور یزید ضبی اور یحییٰ…
Read the full tafseer →’وَطَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ وَعَذَابًا أَلِیْمًا‘۔ یعنی ہم نے ان کو جو تر نوالے بخشے انھوں نے ان کا حق نہیں پہچانا تو یاد رکھیں کہ آخرت میں ان کو وہ کھانا ملے گا جو ان کے حلق میں پھنس کر رہ جائے گا اور اس عیش کی جگہ ان کو ایک دردناک عذاب سے سابقہ پیش آئے گا۔
Read the full tafseer →13۔ 1 ذَا غُصَّۃ حلق میں اٹک جانے والا، نہ حلق سے نیچے اترے اور نہ باہر نکلے۔ یہ زَ قُّوْم کا کھانا ہوگا۔ ضَرِیْع ایک کانٹے دار جھاڑی ہے جو سخت بدبو دار اور زہریلی ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
7: مکی زندگی میں ہمیشہ حکم یہی دیا گیا ہے کہ کافروں کی تکلیف دہ باتوں پر صبرو کرو، اور ان سے لڑائی ٹھاننے کے بجائے خوبصورتی سے علیحدگی اختیار کرلو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ان لدینا ............ وجحیما (12) وطعاما .................... الیما (73:13) ” ہمارے پاس (ان کے لئے) بھاری بیڑیاں ہیں اور بھرکٹی ہوئی آگ اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور درد ناک عذاب “۔
انکال کے معنی بیڑیاں ہیں۔ جحیم جہنم ہے اور طعام ذاغصہ ، وہ جو اس قدر پھنسنے والا ہے جو خلق کو توڑ دے اور یہ صاحبات نعمت کے لئے مناسب جزاء ہے۔ جنہوں نے نعمتوں کی کوئی رعایت نہیں کی اور نہ نعمتوں کا شکر ادا کیا۔ اے محمد صبر کرو ، صبر جمیل کرو ، اور ان سے نمٹنے کا کام ہمارے ذمہ چھوڑ دو ۔ ہمارے پاس ان کے لئے بہت کچھ سامان ہے ۔ پہلے بڑی بڑی بیڑیاں ہیں جو ان کے لئے باعث اذیت ہوں گی ، اور پھر جہنم ہے جو انہیں خوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
7 عذاب دردناک سانپوں اور بچھوؤں کا اور خدا جانے کس کس قسم کا (العیاذ باللہ)
Read the full tafseer →آیت 13{ وَّطَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ } ”اور وہ کھانا جو حلق میں اٹک جائے گا“
اس سے مراد ”زقوم“ ہے جس کا ذکر قرآن میں متعدد بار ہوا ہے۔ اس کی تفصیل سورة الواقعہ ‘ آیت 52 کے ضمن میں دیکھی جاسکتی ہے۔
{ وَّعَذَابًا اَلِیْمًا۔ } ”اور دردناک عذاب ہے۔“
یعنی یہ لوگ جہنم کا ایندھن بننے اور اس کے دردناک عذابوں کا مزہ چکھنے کے لیے کشاں کشاں اس کی طرف جا رہے ہیں ‘ لیکن ابھی ہم کچھ دیر کے لیے انہیں مہلت دینا چاہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
13 یہ آسودہ حال لوگ جو آپ ﷺ کی عداوت اور مخالفت میں پیش پیش ہیں۔ انہیں سزا دینے کے لئے ہمارے پاس بہت کچھ ہے۔ وزنی بیڑیاں بھی جن کے بوجھ کی وجہ سے ہل تک نہ سکیں گے۔ انہیں بھڑکتی ہوئی آگ میں پھینکا جائے گا کھانے کو تھوہر کا درخت ہوگا جو بھوک کی مجبوری کی وجہ سے کھانے کی کوشش کریں گے مگر اس سے گلے میں پھندا لگ جائے گا اور بڑی مشکل سے نیچے اترے گا۔ اس کے علاوہ دردناک سزا بھی ملے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
10۔ (اور اڑتے پھریں گے) یہاں پھر ایک بارذھن کے سامنے اس قوم کو لے آئیے، جو قیامت اور روز جراء کے یکسر منکسر ہیں۔ اور حشرونشر کے تخیل ہی کو مضحکہ خیز اور اپنی روشن خیالی پر ایک داغ سمجھ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
وذرنی و المکذبین اولی النعمۃ الخ ان الفاظ میں صاف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ مکہ میں دراصل جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلا رہے تھے اور طرح طرح کے فریب دے کر، تعصبات کو ابھار کر، عوام کو آپ ﷺ کی مخالفت پر آمادہ کر رہے تھے، وہ قوم کے کھاتے پیتے اور خوشحال لوگ تھے کیونکہ اسلام کی اس دعوت اصلاح کی براہ راست زد، ان کے مفادات پر پڑ رہی تھی، قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ معاملہ صرف رسول اللہ ہی کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ ہمیشہ یہی گروہ، اصلاح کی راہ روکنے کے لئے سنگ گراں بن کر حائل ہوتا رہا ہے۔
Read the full tafseer →و طعاما ذا غصۃ . یعنی ایسا کھانا جس سے پھندہ لگے گا ‘ نہ اندر اترے گا ‘ نہ باہر نکلے گا۔ ابن جریر
اور ابن ابی الدنیا نے اس کو آگ کی صفات میں شمار کیا ہے۔ لیکن حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک ا سے زقوم (تھوہر) کا درخت مراد ہے۔ عبداللہ بن احمد نے بروایت حضرت ابن عباس ؓ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ضریع (سینڈھ یا تھوہر) دوزخ کے اندر کانٹوں (یا خار دار جھاڑی) کی طرح ایک چیز ہوگی جو ایلوے سے زیادہ تلخ ‘ مردار سے زیادہ بدبودار اور آگ سے زیادہ گرم ہوگی۔ جب دوزخی کو کھلائی جائیگی تو نہ پیٹ میں جائیگی ‘ نہ منہ تک لوٹ کر آئے گی ‘ بیچ میں اٹکی ہوئی رہے گی۔ نہ فربہی پیدا کرے گی ‘ نہ بھوک کو دفع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(12۔ 13) آخرت میں ہمارے ہاں ان کے لیے بیڑیاں ہیں جن سے ان کے پیر جکڑ دیں گے اور طوق ہیں جو ان کی گردنوں میں ڈالیں گے اور زنجیریں ہیں جن میں ان کو جکڑا جائے گا اور دوزخ ہے جس میں ان کو داخل کریں گے۔
اور ان کے گلے میں پھنسنے کے لیے زقوم ہے اور دردناک عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(ان لدینا انکالاً…:”انکالاً“ ”نکل“ (نون کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے، جانور کے پاؤں کی زنجیر اور لگام کے لوہے والے حصے کو کہتے ہیں۔ ”ججیماً“ (حجمۃ“ (آگ کا سخت بھڑکنا) سے مشتق ہے۔ (راغب) ”ذاغضۃ“ جو گلے میں پھنس جائے، نہ نگل سکے نہ اگل سکے۔
Read the full tafseer →وطعاما ذاغصۃ، جو خوشگوار نہ ہوجوحلق کو پکڑلے نہ نیچے اترے اور نہ ہی باہر نکلے وہ غسلین، زقوم اور ضریع ہے، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، انہیں سے یہ بھی مروی ہے وہ کانٹا ہے جو حلق میں داخل ہوتا ہے نہ وہ نیچے جاتا ہے اور نہ ہی نکلتا ہے۔ زجاج نے کہا، ان کا ٹھکانا ضریع ہوگا جس طرح ارشاد فرمایا، لیس لھم طعام الامن ضریع (غاشیہ) ۔ یہ عوسج جیسا کانٹا ہے۔ مجاہد نے کہا، وہ کھانا زقوم ہے، جس طرح ارشاد فرمایا، ان شجرت الزقوم۔ طعام الاثیم (الدخان) دونوں کا معنی ایک ہے حمران بن اعین نے کہا، نبی کریم ﷺ نے، ان لدینا انکالاوجحیما۔ وطعاما ذاغصۃ۔ کو پڑھا تو آپ بےہوش ہوگئے خلید بن حسان نے کہا، حضرت حسن بصری نے…
Read the full tafseer →جہنمیوں کی خوراک
12۔ الحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وطعاما ذا غصۃ سے زقوم کا درخت مراد ہے۔
13۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
14۔ احمد فی الزہد وہناد وعبد بن حمید ومحمد بن نصر نے حمران (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے یہ آیت پڑھی آیت ان لدینا انکالا وجحیما وطعاما ذا غصہ و عذابا الیما جب آپ الیما پر پہنچے تو بےہوش ہوگئے۔
15۔ ابو عبید فی فضائلہ واحمد فی الزہد وابن ابی الدنیا نعت الخائفین وابن جریر وابن ابی داوٗد فی الشریعۃ وابن عدی فی الکامل والبیہقی فی شعب الایمان حمران بن امین کے طریق سے ابو حرب بن ابو اسود ؓ سے روایت کیا کہ نبی مکرم ﷺ نے ایک آدمی کو آیت ان لدینا…
Read the full tafseer →[وَّطَعَامًا : اور ایک ایسا کھانا ہے جو ] [ذَا غُصَّةٍ : گلے میں اٹکنے والا ہے ] [وَّعَذَابًا اَلِـــيْمًا : اور ایک دردناک عذاب ہے ]
غ ص ص
[غَصَصًا : (س) ] کھانے یا پانی سے گلے میں پھندا لگنا۔ گلے میں اٹکنا۔
غُصَّۃٌ جس سے پھندا لگے۔ اٹکنے والی چیز۔ زیر مطالعہ آیت۔ 13 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
رسول اللہ ﷺ کو صبر فرمانے کا حكم، دوزخ کے عذاب کا تذکرہ، وقوع قیامت کے وقت زمین اور پہاڑوں کا حال
یہ پانچ آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تسلی دی ہے کہ آپ جلدی نہ کریں یہ لوگ جو آپ کو جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں ان کو کچھ مہلت دے دیں۔ یہ ناز و نعمت میں پل رہے ہیں اور بڑھ رہے ہیں اور دنیاوی اموال اور نعمتیں ان کے لیے غفلت کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ ان چیزوں میں پڑ کر وہ آپ کی دعوت کو ٹھکرا رہے ہیں یہ ان کے حق میں کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کھا پی رہے ہیں اور مزے کر رہے ہیں تھوڑے سے دن کی بات ہے اور اس میں ان کا استدراج بھی ہے۔
كما قال تعالیٰ فی سورة القلم ﴿فَذَرْنِيْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
حکم قیام اللیل وتاکید ترتیل وتحسین درتلاوت کلام اللہ تعالیٰ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المزمل ......... الی ........... کثیبا مھیلا “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں جنوں کا قصہ ذکر فرمایا گیا تھا کہ وہ قرآن کریم کو سن کر کیسے اس پر فریفتہ اور گرویدہ ہوئے اور اس پر ایمان لائے اور ایمان وہدایت کا رنگ ان پر اس قدر غالب آیا کہ اپنی قوم کے واسطے داعی اور ہادی وناصح بن کر لوٹے اب اس سورت میں جو کہ ابتداء نبوت کے زمانہ میں نازل ہوئی اس میں مشرکین مکہ کی بےرخی اور آپ ﷺ کی شان میں توہین و گستاخی کا ذکر کرکے آپ ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے اور انکی ایذاؤں وزیادتیوں پر صبر کی تلقین کی جارہی ہے۔
مشرکین مکہ آپ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12:۔ ” ان لدینا “ تخویف دنیوی۔ انکال، نکل (بکسر نون وفتحہا) کی جمع ہے بھاری اور وزنی بیڑیا۔ ذاغصۃ، گلا گھونٹنے والا، حلق سے نہ اترنے والا۔ دنیوی عذاب کے علاوہ آخرت میں بھی ہم نے ان کے لیے مختلف انواع و اقسام کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ان کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر ان کو بھڑکتی آگ میں ڈال دیا جائے گا اور کھانے کے لیے زقوم، صدید، غسلین اور دیگر خاردار قسم کی چیزیں ہوں گی جن کو حلق سے اتارنا ہی دشوار ہوگا۔ اس کے علاوہ کئی قسم کی دردناک سزائیں ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
گذشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے وہ چھ اصول بتائے ہیں جن کے ذریعے دنیا میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔ اس انقلابی پرو گرام کے متعلق سورة توبہ اور سورة فتح میں ارشاد ہے۔ یعنی اس پروگرام پر عمل کرنے کے لیے اللہ نے اپنے رسول کو معبوث فرمایا ہے۔ تاکہ اس کو سارے دینوں کے مقابلے میں غالب کردے۔ ان مبینہ اصولوں میں رات کا قیام ، قرآن پاک کو ترتیل سے پڑھنا ، رب تعالیٰ کے اسم کو یا دکرنا۔ کچھ علیحدگی ، اختیار کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی ساتھ تعلق کو قوی بنانا ، خدا تعالیٰ کو مالک ار متصرف سمجھنا ، اس کو معبود بر حق جاننا اور اسی کو کارساز سمجھنا۔ اور ایک اہم اصول صبر کا کہ اس راستے میں جو بھی…
Read the full tafseer →وَّطَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ وَّعَذَابًا اَلِـــيْمًا 13 ۤ
طعم
الطَّعْمُ : تناول الغذاء، ويسمّى ما يتناول منه طَعْمٌ وطَعَامٌ. قال تعالی: وَطَعامُهُ مَتاعاً لَكُمْ
[ المائدة/ 96] ، قال : وقد اختصّ بالبرّ فيما روی أبو سعید «أنّ النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أمر بصدقة الفطر صاعا من طَعَامٍ أو صاعا من شعیر» «2» . قال تعالی: وَلا طَعامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ [ الحاقة/ 36] ، طَعاماً ذا غُصَّةٍ [ المزمل/ 13] ، طَعامُ الْأَثِيمِ [ الدخان/ 44] ، وَلا يَحُضُّ عَلى طَعامِ الْمِسْكِينِ [ الماعون/ 3] ، أي : إِطْعَامِهِ الطَّعَامَ ، فَإِذا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا
[ الأحزاب/ 53] ، وقال تعالی: لَيْسَ عَلَى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ترکیب : والمکذبین عطف علی المفعول اومفعول معہ اولی النعمۃ صفۃ للمکذبین اوبیان اوبدل قلیلا زمانا قلیلا یوم ظرف لمافی لدینا من معنی الفعل وقیل لعذاب۔ واصل مھیل مھیول فحدف الواوعند سیبویہ وسکنت الیاء وقیل قلبت الواویائ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
اِنَّ لَدَیْنَـآ اَنْکَالاً وَّجَحِیْمًا۔ وَّطَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ وَّعَذَابًا اَلِیْمًا۔ یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَکَانَتِ الْجِبَالُ کَثِیْبًا مَّھِیْلاً ۔ (المزمل : 12 تا 14)
(بیشک ہمارے پاس (ان کے لیے) بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور نہایت دردناک عذاب۔ جس دن زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑ بھربھرے ٹیلے بن جائیں گے۔ )
اَنْکَالاً…نِکلکی جمع ہے۔ اس کے معنی بیڑی کے بھی ہیں اور آہنی لگام کے بھی۔ بعض دفعہ قید و بند پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔
ذَا غُصَّۃٍ…غُصَّۃٍ کا لفظی معنی گلے میں لگ جانے والے پھندے کے ہیں کہ کوئی لقمہ گلے میں اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ کو صبر کرنے اور جھگڑا کرنے والوں سے کنارہ کش ہونے کی تلقین کرنے کے بعد آپ کے مخالفین کو زبردست انتباہ۔
قرآن مجید نے توحید، رسالت اور آخرت کے بارے میں سینکڑوں دلائل دیئے مگر پھر بھی اہل مکہ آپ ﷺ کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ اس پر ایک طرف آپ کو صبر کی تلقین کی گئی ہے اور دوسری طرف یہ فرمایا کہ اے نبی ! مجھے جھٹلانے والوں سے نبٹ لینے دیں یہ اپنی دولت کے نشے میں مست ہیں انہیں تھوڑی سی مزید مہلت دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر اپنے لیے ” ذَرْنِیْ “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس کا معنٰی ہے کہ مجھے چھوڑ دیں تاکہ جو لوگ بالخصوص سرمایہ دار آپ کو جھٹلاتے ہیں ان کے ساتھ نبٹ لوں۔ اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12، 13 : اِنَّ لَدَیْنَآ (بیشک ہمارے یہاں) کافروں کیلئے آخرت میں اَنْکَالًا (بھاری بیڑیاں ہیں) جمع نِکْلٌ۔ وَّ جَحِیْمًا (اور دوزخ ہے) جلانے والی آگ۔ وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ (اور گلے میں پھنس جانے والا کھانا) جو حلق سے چمٹ جائے گا۔ نہ وہ نگلا جاسکے گا۔ مراد الضریعؔ اور الزقومؔ ہے۔ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًا (دردناک عذاب) جس کا درد دل تک پہنچنے والا ہے۔ روایت میں ہے آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ اور بےہوش ہوگئے۔ ] رواہ الطبری فی تفسیرہ : 14/135[
قول حسن (رح) :
وہ روزے کی حالت میں تھے۔ افطار کا وقت ہوگیا۔ کھانا لایا گیا۔ اچانک ان کے سامنے یہ آیت آگئی۔ تو فرمانے لگے اس کو اٹھا لو۔ دوسری رات آن…
Read the full tafseer →12 ۔” ان لدینا “ ہمارے پاس آخرت میں۔ ” انکالا “ بڑی بیڑیاں جو کبھی جدانہ ہوں گی۔ اس کا واحد نکل ہے۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں لوہے کہ طوق ہیں ” وجحیما “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
10۔ 18۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ اے رسول ﷺ اللہ کے تم اپنے سب کام اللہ کو سونپ دو اللہ تمہارے سب کاموں کے سر انجام کے لئے کافی ہے۔ اس ہدایت کے پورا کرنے کے لئے فرمایا یہ لوگ جو اپنے مال و متاع کے غرور میں تم کو برا بھلا کہتے ہیں اور اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں تم اس کا کچھ خیال نہ کرو اور تھوڑے دنوں کے لئے ان لوگوں کو اللہ کے انتقام پر چھوڑ دو ۔ اللہ ان سے خود سمجھ لے گا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ان آیتوں کے نازل ہونے کے تھوڑے عرصہ کے بعد بدر کی لڑائی پیش آئی جس میں بڑے بڑے سرکش ستر آدمی مشرکین مکہ میں قتل ہوگئے۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے قریش کو دو طرح سے…
Read the full tafseer →(وَّطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ ) اور گلوگیر کھانا۔ یہ اچھو اس کھانے کی تلخی، بدمزگی، اس کے ذائقے کی کراہت اور اس کی بےانتہا گندی بدبو کی بنا لگے گا۔ (وَّعَذَابًا اَلِـــيْمًا) اور انتہائی دردناک اور تکلیف دہ عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
قول باری ہے (واکراسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا۔ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہورہو) مجاہد کا قول ہے ” اللہ سے اپنے اخلاص کا اظہار کرو۔ “ قتادہ کا قول ہے ” پورے اخلاص کے ساتھ اس سے دعا مانگو اور اس کی عبادت کرو۔ “ ایک قول کے مطابق اس سے مراد سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہنا اور صرف اسی سے خیر کی امید رکھنا ہے۔
بعض لوگ تکبیر افتتاح کے سلسلے میں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کیونکہ اس کا ذکر نماز کے ضمن میں ہوا ہے اس لئے یہ اللہ کے تمام اسماء کے ساتھ افتتاح صلوٰۃ کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔
قول باری ہے (سبحا طویلا ۔ (دن کے اوقات میں تمہارے لئے) بہت مصروفیات ہیں) قتادہ کا قول ہے کہ طویل…
Read the full tafseer →15 ۔ منکرین کے لئے بڑا ہی ہولناک عذاب : والعیاذ باللہ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہمارے یہاں (ایسے بدبختوں کے لئے) بھاری بیڑیاں بھی ہیں اور دہکتی بھڑکتی آگ بھی اور گلے میں اٹک جانے والا کھانا بھی اور ہمارے یہاں ان کے لئے ایک بڑا ہی درد ناک عذاب ہے۔ اتنا بڑا اور ایسا درد ناک کہ اس کی ہولناکی کا ادنازہ لگانا بھی کسی کے بس میں نہیں، فیومئذ لایعذب عذابۃ احد ولایوثق وثاقہ احد ٭ (الفجر۔ 26-25) سو جب دنیا میں ہماری بخشی ہوئی رفاہیت سے یہ لوگ اعراض و استکبار میں مبتلا ہوگئے اور اس کے نتیجے میں انہوں نے انکار حق اور تکذیب رسول کے سنگین جرم کا ارتکاب کیا تو یہ یاد رکھیں کہ آخرت میں ہم نے ان کے لئے بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
نماز تہجد کا حکم
تشریح : یہ بابرکت سورت اس لحاظ سے بھی خاص ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺ کو بڑے محبت بھرے انداز میں مخاطب کیا ہے۔ یعنی اے کپڑوں میں لپٹنے والے (مزّمل کا مطلب ہے ہلکا کپڑا یعنی چادر) اور پھر اس برگزیدہ نیک فطرت اور متقی انسان کو اس آنے والے مشکل ترین کام کی تیاری کی خبر دی گئی اور اس کو سنبھالنے کے لیے اپنے اندر وہ جذبہ توکل صبر و ضبط اور جان نثاری پیدا کرنے کے مزید طریقے بتائے گئے جو ان کو ایک کامل آخری نبی بننے کے قابل بنا سکیں۔ اور ان میں سب سے پہلا کام جو کہا گیا وہ تھا شب بیداری یعنی رات کو اٹھ کر نماز پڑھنا عبادت کرنا اور اللہ سے مدد مانگنا اور اس کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة المزمل۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اے کمبل پوش یہ بات ایک خوبصورت انداز محبت میں ارشاد فرمائی اور فرمایا کہ راتوں کو اٹھیں یعنی قیام فرمائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور تھوڑا وقت آرام کریں قیام کے لیے آدھی رات یا اس سے کچھ کم زیادہ کرلیاکریں اس میں نہایت خوبصورت انداز سے قرآن کی تلاوت کریں۔
نماز تہجد۔
یہ آیات ابتدائے اسلام کی ہیں اور ان میں آپ پر اور مسلمانوں پر تہجد کی نماز فرض کی گئی نیز رات کا اکثر حصہ قیام کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر درست طریقے سے اور خوبصورت انداز می پڑھنے کا حکم ہوا چناچہ آپ اور صحابہ کرام سال بھر تک تہجد ہی ادا فرماتے رہے جس میں طویل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
ف 2 یعنی قیامت کے دن تم سب کے متعلق گواہی دے گا کہ کس نے اس کا کہنا مانا اور کس نے نافرمانی کی۔
Read the full tafseer →(73:13) وطعاما ذاغصۃ۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ ذا بمعنی صاحب بحالت نصب مضاف، غصبۃ مضاف الیہ۔ دونوں مل کر صفت طعاما کی۔ غصبۃ سکی چیز کا حلق میں پھنسنا۔ وہ ہڑی جو حلق میں پھنس جائے یہاں مراد درخت زقوم یا ضریع یا غسلین جو دوزخیوں کی خوراک ہوگی۔ اور (ہمارے پاس کے لئے) ایسی خوراک ہے جو حلق میں پھنس جانے والی ہے نہ نیچے اترنے نہ باہر نکل سکے ۔ ای ذاغصبۃ یاخذ بالحلق لاھو نازل ولاھو خارج۔
وعذابا الیما۔ یہ جملہ بھی معطوف ہے اس کا عطف جحیما پر ہے یا طعاما پر ہے اور ہمارے پاس ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
ان لدینا ۔۔ الیما۔ حکم سابق کی علت ہے یعنی ان جھٹلانے والے دولت مندوں سے نپٹنے کا کام تم ہم پر چھوڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
المزمل۔ کپڑوں میں لپٹنے والا۔ قم۔ کھڑا ہوجا۔ انقص کم کرلے۔ گھٹالے۔ رتل۔ صاف صاف پڑھ۔ سنلقی۔ ہم بہت جلدڈالیں گے۔ قول ثقیل۔ بھاری کلام۔ ناشئۃ۔ رات کو اٹھنا۔ بیدار ہونا۔ وطئہ ۔ مشقت۔ روندنا۔ اقومل قیلا۔ زیادہ درست بات۔ سبح طویل۔ زیادہ کام۔ زیادہ مشغولیت۔ تبتل۔ کاٹ ڈال۔ تبتیل۔ خوب کٹنا۔ ھجر۔ چھوڑ دینا۔ مھل۔ مہلت دے۔ لدینا۔ ہمارے پاس۔ انکال۔ بیڑیاں۔ زنجیریں۔ ذاغصۃ۔ گلے میں پھنس جانے والا۔ ترجف۔ کانپے گی۔ کشیب۔ ریت کے ٹیلے۔ مھیل۔ نیچے دھکیلا گیا۔ بیل۔ سخت۔ عبرت ناک۔ شیب۔ بوڑھا۔ منفظر۔ پھٹ جانے والا۔ ثلثی الیل۔ دو تہائی رات۔ تیسر۔ آسان ہوگا۔ اعظم اجرا۔ بہت بوڑھا ہوا ثواب۔
تشریح : سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
نیک بختوں اور بدبختوں کا ذکر۔
(ف 1) اوپر اللہ نے اپنے محبوب کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ اے محبوب تم اپنے سب کام اللہ کو سونپ دو ، اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کے سرانجامی کے لیے کافی ہے ، اس ہدایت کے پورا کرنے کے لیے فرمایا یہ لوگ جو اپنے مال ومتاع کے غرور میں تم کو برابھلا کہتے ہیں اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں تم اس کا کچھ خیال نہ کرو اور تھورے دنوں کے لیے ان لوگوں کو اللہ کے انتقام پر چھوڑ دو ، اللہ ان سے خود سمجھ لے گا، اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے ان آیتوں کے نازل ہونے کے تھوڑے عرصہ بعد بدر کی لڑائی پیش آئی۔ جس میں بڑے بڑے سرکش مشرکین مکہ کے قتل ہوگئے اب آگے اللہ نے قریش کو دوطرح سے ڈرایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
[5] یعنی ان کے منہ نہ لگو، ان کی بیہودگیوں کو بالکل نظرانداز کردو اور ان کی کسی بدتمیزی کا جواب نہ دو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
امراء کیوں مخالفت کرتے ہیں !
1: حضور ﷺ نے جب اپنی بعثت کا اعلان کیا ۔ تو حسب دستور جن لوگوں نے انکار کیا ۔ وہ مفلس اور قلاش لوگ نہ تھے ۔ بلکہ وہ لوگ تھے ۔ جو صاحب مال ومنال تھے ۔ اور ابتداء سے یہ سنت چلی آرہی ہے ۔ کہ حق وصداقت کی مخالفت میں بھی روسا کا طبقہ پیش پیش رہتا ہے ۔ اور اس کی وجہ غالباً یہ ہے ۔ کہ غرباء کا دین سے کوئی تصادم نہیں ہوتا ۔ ان کی آرزوئیں اور خواہشیں نہایت محدود اور ادنی قسم کی ہوتی ہیں ۔ مگر یہ اکابر سیادت و قیادت کے خلاں اور منصب وجاہ کے متوالے ہوتے ہیں ۔ اور یہ بھی چاہتے ہیں ۔ کہ قانون واخلاق کی کوئی پابندی ان پر عائد نہ ہو ۔ مذہب کی پہلی لڑائی انہیں اغراض کی اصلاح کے…
Read the full tafseer →(13) حلق میں پھنس جانے اور اٹک جانے والا کھانا ہے اور دردناک عذاب ہے یعنی یہ اہل نعمت اور مرفہ الحال لوگ جو آپ کی تکذیب کرنے والے ہیں اور ان کو اور مجھ کو چھوڑ دیجئے اور ان کو میرے سپرد کردیجئے، میں خود ان سے سمجھ لوں گا تھوڑا سا موقعہ ان کو اور دیجئے ان کے عذاب کے لئے جلدی نہ کیجئے تاکہ ان کے گناہوں کا پیمانہ لبریز ہوجائے نیز جن کو اسلام کی دولت سے سرفراز ہونا ہے وہ اسلام قبول کرلیں۔ بلاشبہ ہمارے پاس عذاب کا بہت سامان ہے بیڑیاں ہیں جیسا کہ سورة حاقہ میں گزر چکا ہے ، دوزخ اور اس کی آگ کا ڈھیر ہے خوراک ایسی ہے جو نگلتے وقت حلق میں پھنس جائے گی۔
زقوم مراد ہے جیسا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہوسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
ف 2۔ یہ کنایہ ہے صبر و انتظار سے یعنی چندے اور صبر کرلیجئے، عنقریب ان کو سزا ہونے والی ہے۔
Read the full tafseer →گلے میں پھنسنے والا کھانا بھی ہے اور درد ناک عذاب بھی ہے
۔ 13 (ذاغصۃ) ایسی چیز جو گلے میں جا کر اس طرح اٹک جائے کہ نہ وہ نگلی جاسکے اور نہ ہی باہر لائی جاسکے (غصہ) دراصل گلے کی اس ہڈی کو کہا جاتا ہے یا کوے کو جو گلے کو ضرورت کے مطابق بند کردیتا ہے اور یہ عمل خود بخود طے پا جاتا ہے۔ اس کھانے کی تشریح پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے کہ اہل دوزخ کو دوزخ میں کھانے کے لئے کیا کچھ دیا جائے گا جیسے غسلین زقوم اور حمیم وغیرہ جو عذاب دوزخ میں جلائے جانے کے علاوہ ہوگا اور بلا شبہ یہ عذاب بھی درد ناک عذاب ہے۔ دوزخ میں کیا کچھ دوزخیوں کو پیش کیا جائے گا اس کا ذکر بڑی وضاحت کے ساتھ سورة الرحمٰن اور…
Read the full tafseer →The verse says in conclusion: وَّعَذَابًا اَلِـــيْمًا (...and a
painful punishment... 73:13).
Having described specific forms of punishment, this description is general - indicating that there will be many more horrible and terrible forms of punishment which man cannot even imagine. [ 0 Allah, save us from all forms of punishment!]
The Righteous Elders' Fear of the Hereafter
Imam Alhmad, Ibn Abi Dawud, Ibn ` Adiyy and Baihaqi record a narration that a person heard this verse and fell fainted. One day Hasan al-Basri (رح) تعالیٰ was fasting. When the food was brought to him at the time of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
13 Heavy fetters in Hell will not be put on the criminals' feet to stop them from escape but in order that they are not able to stand up and move; these will not be used to prevent their escape but as an instrument of their torment.
Read the full tafseer →