Explained with ayahs 10–18
نبی اکرم ﷺ کی حوصلہ افزائی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خد ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بےفکر ہیں اور تجھے ستانے کے لئے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بےتعلق ہوجا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے اور عذاب بھی کونسے ؟ سخت قید…
Read the full tafseer →سورة الْمُزَّمِّل 14
چونکہ اس وقت پہاڑوں کے اجزاء کو باندھ کر رکھنے والی کشش ختم ہوجائے گی، اس لیے پہلے تو وہ باریک بھربھری ریت کے ٹیلے بن جائیں گے، پھر جو زلزلہ زمین کو ہلا رہا ہوگا اس کی وجہ سے یہ ریت بکھر جائے گی اور ساری زمین ایک چٹیل میدان بن جائے گی۔ اسی آخری کیفیت کو سورة طٰہٰ آیات 105 تا 107 میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ " لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ ان پہاڑوں کا کیا بنے گا۔ کہو، میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں تم کوئی بل اور سلوٹ نہ دیکھو گے "۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
آگے کچھ قیامت کے ہولناک واقعات کا بیان فرمایا يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَال آلایتہ اس کے بعد کفار مکہ کو فرعون اور حضرت موسیٰ ؑ کا قصہ سنا کر اس سے ڈرایا گیا کہ جس طرح فرعون اپنے رسول حضرت موسیٰ ؑ کی تکذیب کر کے گرفتار عذاب ہوا، تم بھی اس پر جمے رہے تو سمجھ لو کہ تم پر بھی ایسا ہی کوئی عذاب دنیا میں آسکتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ اگر دنیا میں کوئی عذاب نہ بھی آیا تو قیامت کے اس دن کے عذاب سے تمہیں کون بچا سکے گا جس کی ہولناکی اور طول کی وجہ سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ روز قیامت کے شدید اور ہولناکی اور طول کی وجہ سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ روز قیامت کے شدید…
Read the full tafseer →یہ اس دن کی یاددہانی ہے جس دن ان مغروروں کو مذکورہ حالات سے سابقہ پیش آئے گا۔ فرمایا کہ اس دن یہ زمین اور پہاڑ سب لرز اٹھیں گے اور امراء کے ایوان و محل تو درکنار پہاڑوں کا بھی یہ حال ہو گا کہ وہ بھربھرے ریت کے تودوں کے مانند ہو جائیں گے۔
Read the full tafseer →14۔ 1 یعنی یہ عذاب اس دن ہوگا جس دن زمین پہاڑ بھونچال سے تہ وبالا ہوجائیں گے اور بڑے بڑے پر ہیبت پہاڑ ریت کے ٹیلوں کی طرح بےحثییت ہوجائیں گے۔ کثیب ریت کا ٹیلا، مھیلا کا معنی بھربھری پیروں کے نچیے سے نکل جانے والی ریت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
7: مکی زندگی میں ہمیشہ حکم یہی دیا گیا ہے کہ کافروں کی تکلیف دہ باتوں پر صبرو کرو، اور ان سے لڑائی ٹھاننے کے بجائے خوبصورتی سے علیحدگی اختیار کرلو۔
Read the full tafseer →یوم ترجف ........................ مھیلا (73:14) ” یہ اس دن ہوگا جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے او پہاڑوں کا حال ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جارہے ہیں “۔ یہ اس دن ہوگا جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا حال ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر بکھرے جارہے ہیں “۔ یہ ہے اس دن کی ہولناکی ، اس کی زد میں یہ وسیع زمین بھی آرہی ہے۔ یہ زمین لرز رہی ہے ، ٹکڑے ٹکڑے ہورہی ہے ، یہ انسان تو نہایت ہی کمزور اور حقیر ہیں۔ بڑے بڑے کر ات ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔
اب رخ ذرا ان صاحبان نعمت کی طرف ہوتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ فرعون بڑا جبار تھا ، لیکن اس کا جو انجام ہوا وہ تمہارے سامنے ہے۔ قیامت کا…
Read the full tafseer →8 یعنی اس عذاب کی تمہید اس وقت سے شروع ہوگی جب پہاڑوں کی جڑیں ڈھیلی ہوجائیں گی اور وہ کانپ کر گڑ پڑیں گے اور ریزہ ریزہ ہو کر ایسے ہوجائیں گے جیسے ریت کے تودے جن پر قدم جم نہ سکے۔
Read the full tafseer →آیت 14{ یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَکَانَتِ الْجِبَالُ کَثِیْبًا مَّہِیْلًا۔ } ”جس دن کہ زمین اور پہاڑ لرزنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کے بکھرتے تودے بن جائیں گے۔“
کوہ ہمالیہ جیسے بڑے بڑے پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو کر ریت کے ٹیلوں sand dunes کی طرح ہوجائیں گے۔ پھر ان ٹیلوں کے پھسلنے اور بکھرنے کے باعث زمین کے تمام نشیب و فراز برابر ہوجائیں گے۔ اس طرح کہ : { لاَ تَرٰی فِیْہَا عِوَجًا وَّلَآ اَمْتًا۔ } طٰہٰ ”آپ نہ تو اس میں کوئی ٹیڑھ دیکھیں گے اور نہ کوئی ٹیلا۔“
Read the full tafseer →14 یعنی آج تو پہاڑوں کی جڑیں زمین کے اندر دور نیچے تک مضبوط جمی ہوئی ہیں۔ مگر قیامت کے دن پہاڑوں کی یہ گرفت ڈھیلی پڑجائے گی۔ زمین میں بھی بھونچال آئیں گے اور پہاڑ بھی لرزنے لگیں گے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ پہاڑوں کے پتھر ایک دوسرے کے اوپر ہی گر گر کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور ریت کے ایسے نرم تودے بن جائیں گے کہ پاؤں ان کے اندر دھنسنے لگیں گے اور اگر تھوڑی سی ریت اٹھا کر ان کے اوپر رکھی جائے تو وہ سب پھسل پھسل کر نیچے آرہے۔ واضح رہے کہ کَثِیْبًا میں ک حرف تشبیہ نہیں ہے بلکہ یہ کثیب کے مادہ ک ث ب میں شامل ہے اور کثیب بمعنی ریت کا لمبا چوڑا ٹیلہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
10۔ (اور اڑتے پھریں گے) یہاں پھر ایک بارذھن کے سامنے اس قوم کو لے آئیے، جو قیامت اور روز جراء کے یکسر منکسر ہیں۔ اور حشرونشر کے تخیل ہی کو مضحکہ خیز اور اپنی روشن خیالی پر ایک داغ سمجھ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
وذرنی و المکذبین اولی النعمۃ الخ ان الفاظ میں صاف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ مکہ میں دراصل جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلا رہے تھے اور طرح طرح کے فریب دے کر، تعصبات کو ابھار کر، عوام کو آپ ﷺ کی مخالفت پر آمادہ کر رہے تھے، وہ قوم کے کھاتے پیتے اور خوشحال لوگ تھے کیونکہ اسلام کی اس دعوت اصلاح کی براہ راست زد، ان کے مفادات پر پڑ رہی تھی، قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ معاملہ صرف رسول اللہ ہی کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ ہمیشہ یہی گروہ، اصلاح کی راہ روکنے کے لئے سنگ گراں بن کر حائل ہوتا رہا ہے۔
Read the full tafseer →یوم ترجف الارض والجبال . یوم ظرف زمان ہے (جس میں کسی فعل کا وقوع ہوتا ہے) اس سے پہلے لدینا
انکالاً و جحیمًا میں فعل کا معنی موجود ہے۔
ایک شبہ بظاہر زمین اور پہاڑوں میں زلزلہ ‘ نفخۂ اوّل سے پہلے آئے گا اور کافروں کو قید و بند اور دوزخ کا عذاب ‘ حشر کے بعد ہوگا ‘ پھر کافروں کو عذاب نفخۂ اوّل سے پہلے یعنی زلزلہ کے دن کیسے ہوگا ؟
ازالہ قیامت کا دن کسی محدود مقدار کا نام نہیں بلکہ نفخۂ اوّل کے پہلے سے اس وقت تک کہ جتنی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں پہنچ جائیں ‘ قیامت ہی کا دن کہلاتا ہے۔
و کانت الجبال کثیبا مھیلا . اس کا عطف ترجف پر پڑا۔ ابن ابی حاتم نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن
عباس ؓ نے کثیبًا مھیلاً…
Read the full tafseer →اب ان سب چیزوں کا وقت بیان کرتا ہے کہ جس روز زمین اور پہاڑ ہلنے لگیں گے اور پہاڑ ریگ رواں ہوجائیں گے۔ مہیل اس چیز کو کہتے ہیں جس کا نیچے کا حصہ اگر اٹھایا جائے تو اوپر کا حصہ گر جائے جیسا کہ ریت۔
Read the full tafseer →(یوم ترجف الارض …:”کثیباً“ ریت کا ٹیلہ۔ ”مھیلاً“ (گرایا ہوا)”ھال یھیل ھیلاً“ سے اسم مفعول ہے۔ ”ھال التربا او الزمل“ اس نے مٹی یا ریت کو گرایا۔ یعنی وہ عذاب اس دن ہوگا جب سخت زلزلے سے پہاڑ لرز اٹھیں گے ، پھر اس زلزلے کی شدت سے ان کی سختی اور ذرات کی باہمی بندش ختم ہو جائیگی اور وہ ٹھوس پہاڑوں کے بجائے ریت کے ٹیلوں کی صورت میں بدل جائیں گے، جو خود بخود اس طرح نیچے گر رہی ہوگی جیسے کوئی اسے گرا رہا ہو۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر پہاڑوں پر اس کے بعد گزرنے والی کیفیات بھی ذکر ہوئی ہیں کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں گے، پھر بادلوں کی طرح اڑنے لگیں گے، پھر زمین چٹیل میدان بن جائے گی۔ مزید…
Read the full tafseer →یوم ترجف الارض والجبال۔ جو کوئی ان پر ہوگا ان کے ساتھ زمین اور پہاڑ مضطرب ہوں گے، یوم کا لفظ ظرف ہونے کی حیثیت سے منصوب ہوتا ہے یعنی انہیں عذاب دیا جائے گا جس دن زمین کا نپے گی، ایک قول یہ کیا گیا ہے یوم سے پہلے حرف جار تھا، اس کے حذف کی وجہ سے یہ منصوب ہے تقدیر کلام یوں ہوگی، ھذہ العقوبۃ فی یوم ترجف الارض والجبال۔ ایک قول یہ کیا گیا، اس کا عامل ذرنی ہے معنی یہ ہوگا جس روز زمین اور پہاڑ کا نپیں گے اس دن مجھے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دینا۔
وکانت الجبال کثیبا مھیلا۔ کثیب سے مراد جمع شدہ ریت ہے، حضرت حسان نے کہا : عرفت دیار زینب بالکثیب، کخط الوحی فی الورق القشیب۔ میں نے ریت کے ٹیلے پر زینب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
16۔ الحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کثیبا مہیلا ریگ سیال میں المہیل سے مراد ہے جب آپ اس میں سے کوئی چیز لے لیں تو اس کا دوسرا حصہ تیرے پیچھے چلا آئے یہاں ریت کے بہتے ہوئے ٹیلے مراد ہیں۔
17۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کثیبا مہیلا سے مراد ہے بہنے والی ریت اور فرمایا آیت واخذ وبیلا سخت پکڑ سے پکڑنا یعنی شدید گرفت۔
Read the full tafseer →[يَوْمَ تَرْجُفُ : جس دن کانپے گی ] [الْاَرْضُ وَالْجبالُ : یہ زمین اور سارے پہاڑ ] [وَكَانتِ الْجبالُ : اور ہوجائیں گے پہاڑ ] [كَثِيْبًا مَّهِيْلًا : بھربھری ریت کا ٹیلہ ]
ک ث ب
کَثْبًا جمع کرنا۔ اکٹھا کرنا (متعدی) جمع ہونا۔ اکٹھا ہونا (لازمی)
کَثِیْبٌ فَعِیْلٌ کا وزن ہے۔ دائمی طور پر اکٹھا ہونے والا۔ ریت کا ٹیلا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 14 ۔
ھـ ی ل
[ھَیْلًا : (ض) مٹی ڈالنا۔ مٹی بکھیرنا۔
مَھِیْلً مَفْعُوْلٌ (اجوف یائی میں مَفِیْلٌ) کے وزن پر صفت ہے۔ بکھیری ہوئی۔ بھربھری مٹی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 14
(آیت۔ 14) کَانَتْ کا اسم اَلْجِبَالُ ہے جو کہ جمع ہے لیکن اس کے خبر کَثِیْبًا مَّھِیْلًا واحد لائی گئی…
Read the full tafseer →﴿ يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا 0014﴾ یہ عذاب اس دن ہوگا جس دن زمین اور پہاڑ ہلنے لگیں گے یعنی ان میں بھونچال آجائے گا اور پہاڑ ریت کے تودے بنے ہوئے ہوں گے جن میں جماؤ نہ ہوگا اور نیچے کو ڈھلے جا رہے ہوں گے۔ (یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جبکہ يَوْمَ تَرْجُفُ ظرف ہو ﴿ عَذَابًا اَلِيْمًاۗ0013﴾ کا۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ذرنی سے متعلق ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
حکم قیام اللیل وتاکید ترتیل وتحسین درتلاوت کلام اللہ تعالیٰ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المزمل ......... الی ........... کثیبا مھیلا “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں جنوں کا قصہ ذکر فرمایا گیا تھا کہ وہ قرآن کریم کو سن کر کیسے اس پر فریفتہ اور گرویدہ ہوئے اور اس پر ایمان لائے اور ایمان وہدایت کا رنگ ان پر اس قدر غالب آیا کہ اپنی قوم کے واسطے داعی اور ہادی وناصح بن کر لوٹے اب اس سورت میں جو کہ ابتداء نبوت کے زمانہ میں نازل ہوئی اس میں مشرکین مکہ کی بےرخی اور آپ ﷺ کی شان میں توہین و گستاخی کا ذکر کرکے آپ ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے اور انکی ایذاؤں وزیادتیوں پر صبر کی تلقین کی جارہی ہے۔
مشرکین مکہ آپ ﷺ…
Read the full tafseer →13:۔ ” یوم ترجف “ یوم کا عامل مقدر ہے۔ ای استقر ذلک العذاب لدینا وظھر یوم تضطرب الارض والجبال وتتزلزل (روح ج 29 ص 108) ۔ ترجف، شدید جھٹکے اور زلزلے سے دو چار ہوں گے۔ کثیبا، ریت کا ڈھیر، مہیلا، نرم، پاؤں کی ٹھوکر سے اڑنے والا۔ یہ عذاب ہمارے پاس تیار ہے اور اس دن ان پر پڑے گا جب زمین اور پہاڑ قیامت کے شدید ترین زلزلے سے دو چار ہوں گے۔ اور پہاڑ نرم ریت کا ڈھیر بن جائیں گے اور آخر زمین کے ساتھ ہموار ہوجائیں گے یہ قیامت کے دن کا منظر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
گذشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے وہ چھ اصول بتائے ہیں جن کے ذریعے دنیا میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔ اس انقلابی پرو گرام کے متعلق سورة توبہ اور سورة فتح میں ارشاد ہے۔ یعنی اس پروگرام پر عمل کرنے کے لیے اللہ نے اپنے رسول کو معبوث فرمایا ہے۔ تاکہ اس کو سارے دینوں کے مقابلے میں غالب کردے۔ ان مبینہ اصولوں میں رات کا قیام ، قرآن پاک کو ترتیل سے پڑھنا ، رب تعالیٰ کے اسم کو یا دکرنا۔ کچھ علیحدگی ، اختیار کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی ساتھ تعلق کو قوی بنانا ، خدا تعالیٰ کو مالک ار متصرف سمجھنا ، اس کو معبود بر حق جاننا اور اسی کو کارساز سمجھنا۔ اور ایک اہم اصول صبر کا کہ اس راستے میں جو بھی…
Read the full tafseer →يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّہِيْلًا 14
رجف
الرَّجْفُ : الاضطراب الشدید، يقال : رَجَفَتِ الأرض ورَجَفَ البحر، وبحر رَجَّافٌ. قال تعالی: يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ [ النازعات/ 6] ، يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبالُ [ المزمل/ 14] ، فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ [ الأعراف/ 78] ، والإِرْجَافُ : إيقاع الرّجفة، إمّا بالفعل، وإمّا بالقول، قال تعالی: وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ ويقال : الْأَرَاجِيفُ ملاقیح الفتن .
( ر ج) الرجف ( ن ) اضطراب شدید کو کہتے ہیں اور رَجَفَتِ الأرض ورَجَفَ البحر کے معنی زمین یا سمندر میں زلزلہ آنا کے ہیں ۔ بحر رَجَّافٌ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ترکیب : والمکذبین عطف علی المفعول اومفعول معہ اولی النعمۃ صفۃ للمکذبین اوبیان اوبدل قلیلا زمانا قلیلا یوم ظرف لمافی لدینا من معنی الفعل وقیل لعذاب۔ واصل مھیل مھیول فحدف الواوعند سیبویہ وسکنت الیاء وقیل قلبت الواویائ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
اِنَّ لَدَیْنَـآ اَنْکَالاً وَّجَحِیْمًا۔ وَّطَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ وَّعَذَابًا اَلِیْمًا۔ یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَکَانَتِ الْجِبَالُ کَثِیْبًا مَّھِیْلاً ۔ (المزمل : 12 تا 14)
(بیشک ہمارے پاس (ان کے لیے) بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور نہایت دردناک عذاب۔ جس دن زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑ بھربھرے ٹیلے بن جائیں گے۔ )
اَنْکَالاً…نِکلکی جمع ہے۔ اس کے معنی بیڑی کے بھی ہیں اور آہنی لگام کے بھی۔ بعض دفعہ قید و بند پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔
ذَا غُصَّۃٍ…غُصَّۃٍ کا لفظی معنی گلے میں لگ جانے والے پھندے کے ہیں کہ کوئی لقمہ گلے میں اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ کو صبر کرنے اور جھگڑا کرنے والوں سے کنارہ کش ہونے کی تلقین کرنے کے بعد آپ کے مخالفین کو زبردست انتباہ۔
قرآن مجید نے توحید، رسالت اور آخرت کے بارے میں سینکڑوں دلائل دیئے مگر پھر بھی اہل مکہ آپ ﷺ کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ اس پر ایک طرف آپ کو صبر کی تلقین کی گئی ہے اور دوسری طرف یہ فرمایا کہ اے نبی ! مجھے جھٹلانے والوں سے نبٹ لینے دیں یہ اپنی دولت کے نشے میں مست ہیں انہیں تھوڑی سی مزید مہلت دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر اپنے لیے ” ذَرْنِیْ “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس کا معنٰی ہے کہ مجھے چھوڑ دیں تاکہ جو لوگ بالخصوص سرمایہ دار آپ کو جھٹلاتے ہیں ان کے ساتھ نبٹ لوں۔ اس کا…
Read the full tafseer →منظر قیامت :
14 : یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ (جس روز زمین اور پہاڑ ہلنے لگیں گے) ترجفسخت حرکت کریں گے۔
نحو : یوم ؔ، لدیناؔ کے معنی فعل کی وجہ سے منصوب ہے۔ اے استقر للکفار لَدَیْنَا کذا وکذا یوم۔ ثابت ہوچکا کفار کیلئے ہمارے ہاں یہ یہ چیزیں اس دن کو جس دن زمین۔ وَکَانَتِ الْجِبَالُ کَثِیْبًا (اور پہاڑ ہوجائیں گے ریت) کثیب ریت کا ٹیلا۔ یہ کثب الشئی جمع کرنا سے لیا گیا۔ گویا فعیل بمعنی مفعول ہے۔ مَّھِیْلًا (رواں) چلنے والی اس کے بعد کہ وہ مجتمع تھی۔
Read the full tafseer →13 ۔” وطعا ما ذاغصۃ “ بدمزہ جو حلق کو پکڑے گا نہ نیچے اترے گا اور نہ باہر نکلے گا اور زقوم اور ضریع ہے۔ ” وعذابا الیما “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
10۔ 18۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ اے رسول ﷺ اللہ کے تم اپنے سب کام اللہ کو سونپ دو اللہ تمہارے سب کاموں کے سر انجام کے لئے کافی ہے۔ اس ہدایت کے پورا کرنے کے لئے فرمایا یہ لوگ جو اپنے مال و متاع کے غرور میں تم کو برا بھلا کہتے ہیں اور اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں تم اس کا کچھ خیال نہ کرو اور تھوڑے دنوں کے لئے ان لوگوں کو اللہ کے انتقام پر چھوڑ دو ۔ اللہ ان سے خود سمجھ لے گا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ان آیتوں کے نازل ہونے کے تھوڑے عرصہ کے بعد بدر کی لڑائی پیش آئی جس میں بڑے بڑے سرکش ستر آدمی مشرکین مکہ میں قتل ہوگئے۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے قریش کو دو طرح سے…
Read the full tafseer →(يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ ) جس روز زمین اور پہاڑ بہت بڑے خوف سے کانپ اٹھیں گے ( وَكَانَتِ الْجِبَالُ ) اور زمین پر مضبوطی سے جمے ہوئے ٹھوس اور سخت پہاڑ ( كَثِيْبًا مَّهِيْلًا) ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے یعنی بکھری ہوئی ریت کی مانند، پھر اس کے بعد یہ ریت آہستہ آہستہ پھیل کر اڑتا ہوا غبار بن جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
قول باری ہے (واکراسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا۔ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہورہو) مجاہد کا قول ہے ” اللہ سے اپنے اخلاص کا اظہار کرو۔ “ قتادہ کا قول ہے ” پورے اخلاص کے ساتھ اس سے دعا مانگو اور اس کی عبادت کرو۔ “ ایک قول کے مطابق اس سے مراد سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہنا اور صرف اسی سے خیر کی امید رکھنا ہے۔
بعض لوگ تکبیر افتتاح کے سلسلے میں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کیونکہ اس کا ذکر نماز کے ضمن میں ہوا ہے اس لئے یہ اللہ کے تمام اسماء کے ساتھ افتتاح صلوٰۃ کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔
قول باری ہے (سبحا طویلا ۔ (دن کے اوقات میں تمہارے لئے) بہت مصروفیات ہیں) قتادہ کا قول ہے کہ طویل…
Read the full tafseer →16 ۔ زلزلہ قیامت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس روز لرز اٹھے گی یہ زمین یعنی پوری کی پوری زمین باوجود اتنا عظیم الشان کرہ ہونے کے پھر خود سوچو کہ کیا حال ہوگا اس وقت دنیا کا جب کہ یہ اتنا بڑا کرہ اس طرح لزر اٹھے گا، قال تعالیٰ اذا زلزلت الارض زلزالھا (الزلزال -1) سو اس ارشاد سے ان مغروروں اور متکبروں کو اس ہولناک دن کی یاد دہانی کرائی گئی ہے، جس میں ان کو ایسے ایسے ہولناک عذابوں سے واسطہ پڑنا ہے، والعیاذ باللہ العظیم رجفہ کے معنی زلزلہ اور زعزعہ کے ہیں۔ یعنی پے در پے ہلنے اور جھٹکے کھانے کے (روح وغیرہ) سو ایک زلزلہ تو وہ ہوتا ہے جو کسی خاص علاقے اور ملک وغیرہ میں آتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
حساب چکانے کا دن
تشریح : یہاں پھر اس خوفناک دن کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے کہ قیامت کی تباہ کاریاں آنکھوں کے سامنے آنے لگتی ہیں۔ جیسا کہ قرآن کی اس خبر کو آج کا سائنسدان بھی مان چکا ہے واقعی ہمارے قرآن نے یہ بڑی پکی اور سچی خبر دی ہے واقعی وہ اس قدر خوفناک منظر ہوگا کہ خوف کی وجہ سے جوان بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور تمام مخلوقات مر مٹ جائے گی پھر دوبارہ تمام مخلوقات کو زندہ کیا جائے گا اور پھر اللہ کے سامنے حاضری ہوگی اور دوزخ و جنت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کفار مکہ کو ہوش دلانے کے لیے فرعون کی مثال دیتا ہے کہ ان کو اللہ اور اپنے رسول ﷺ کی نافرمانی کی سزا اس دنیا میں بھی مل گئی تھی۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة المزمل۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اے کمبل پوش یہ بات ایک خوبصورت انداز محبت میں ارشاد فرمائی اور فرمایا کہ راتوں کو اٹھیں یعنی قیام فرمائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور تھوڑا وقت آرام کریں قیام کے لیے آدھی رات یا اس سے کچھ کم زیادہ کرلیاکریں اس میں نہایت خوبصورت انداز سے قرآن کی تلاوت کریں۔
نماز تہجد۔
یہ آیات ابتدائے اسلام کی ہیں اور ان میں آپ پر اور مسلمانوں پر تہجد کی نماز فرض کی گئی نیز رات کا اکثر حصہ قیام کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر درست طریقے سے اور خوبصورت انداز می پڑھنے کا حکم ہوا چناچہ آپ اور صحابہ کرام سال بھر تک تہجد ہی ادا فرماتے رہے جس میں طویل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
ف 2 یعنی قیامت کے دن تم سب کے متعلق گواہی دے گا کہ کس نے اس کا کہنا مانا اور کس نے نافرمانی کی۔
Read the full tafseer →(73:14) یوم ترجف الارض والجبال، یوم ظرف زمان ہے جس میں کسی فعل کا وقوع ہوتا ہے اس سے پہلے لدینا انکالا وجحیما میں فعل کا معنی موجود ہے۔
مدارک التنزیل میں ہے :۔ یوم منصوب بما فی لدینا من معنی الفعل (مکذبین کے لئے یہ بیڑیاں، یہ بھڑکتی ہوئی آگ یہ حلق میں پھنس جانے والی خوراک اور یہ درد ناک عذاب ہم نے اس دن کے لئے رکھا ہوا ہے (یوم ترجف الارض الخ) جس دن زمین اور پہاڑ لرز جائیں گے الخ۔
ترجعف مضارع واھد مؤنث غائب رجف (باب نصر) مصدر۔ وہ لرزے گی۔ وہ کانپنے لگے گی۔ وہ کانپے گی۔
وکانت الجبال کثینا مہیلا۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور پہاڑ ریت کے بہتے ٹیلے ہوجائیں گے۔
کانت ماضی واحد مؤنث غائب۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
المزمل۔ کپڑوں میں لپٹنے والا۔ قم۔ کھڑا ہوجا۔ انقص کم کرلے۔ گھٹالے۔ رتل۔ صاف صاف پڑھ۔ سنلقی۔ ہم بہت جلدڈالیں گے۔ قول ثقیل۔ بھاری کلام۔ ناشئۃ۔ رات کو اٹھنا۔ بیدار ہونا۔ وطئہ ۔ مشقت۔ روندنا۔ اقومل قیلا۔ زیادہ درست بات۔ سبح طویل۔ زیادہ کام۔ زیادہ مشغولیت۔ تبتل۔ کاٹ ڈال۔ تبتیل۔ خوب کٹنا۔ ھجر۔ چھوڑ دینا۔ مھل۔ مہلت دے۔ لدینا۔ ہمارے پاس۔ انکال۔ بیڑیاں۔ زنجیریں۔ ذاغصۃ۔ گلے میں پھنس جانے والا۔ ترجف۔ کانپے گی۔ کشیب۔ ریت کے ٹیلے۔ مھیل۔ نیچے دھکیلا گیا۔ بیل۔ سخت۔ عبرت ناک۔ شیب۔ بوڑھا۔ منفظر۔ پھٹ جانے والا۔ ثلثی الیل۔ دو تہائی رات۔ تیسر۔ آسان ہوگا۔ اعظم اجرا۔ بہت بوڑھا ہوا ثواب۔
تشریح : سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
نیک بختوں اور بدبختوں کا ذکر۔
(ف 1) اوپر اللہ نے اپنے محبوب کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ اے محبوب تم اپنے سب کام اللہ کو سونپ دو ، اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کے سرانجامی کے لیے کافی ہے ، اس ہدایت کے پورا کرنے کے لیے فرمایا یہ لوگ جو اپنے مال ومتاع کے غرور میں تم کو برابھلا کہتے ہیں اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں تم اس کا کچھ خیال نہ کرو اور تھورے دنوں کے لیے ان لوگوں کو اللہ کے انتقام پر چھوڑ دو ، اللہ ان سے خود سمجھ لے گا، اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے ان آیتوں کے نازل ہونے کے تھوڑے عرصہ بعد بدر کی لڑائی پیش آئی۔ جس میں بڑے بڑے سرکش مشرکین مکہ کے قتل ہوگئے اب آگے اللہ نے قریش کو دوطرح سے ڈرایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
[5] یعنی ان کے منہ نہ لگو، ان کی بیہودگیوں کو بالکل نظرانداز کردو اور ان کی کسی بدتمیزی کا جواب نہ دو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
امراء کیوں مخالفت کرتے ہیں !
1: حضور ﷺ نے جب اپنی بعثت کا اعلان کیا ۔ تو حسب دستور جن لوگوں نے انکار کیا ۔ وہ مفلس اور قلاش لوگ نہ تھے ۔ بلکہ وہ لوگ تھے ۔ جو صاحب مال ومنال تھے ۔ اور ابتداء سے یہ سنت چلی آرہی ہے ۔ کہ حق وصداقت کی مخالفت میں بھی روسا کا طبقہ پیش پیش رہتا ہے ۔ اور اس کی وجہ غالباً یہ ہے ۔ کہ غرباء کا دین سے کوئی تصادم نہیں ہوتا ۔ ان کی آرزوئیں اور خواہشیں نہایت محدود اور ادنی قسم کی ہوتی ہیں ۔ مگر یہ اکابر سیادت و قیادت کے خلاں اور منصب وجاہ کے متوالے ہوتے ہیں ۔ اور یہ بھی چاہتے ہیں ۔ کہ قانون واخلاق کی کوئی پابندی ان پر عائد نہ ہو ۔ مذہب کی پہلی لڑائی انہیں اغراض کی اصلاح کے…
Read the full tafseer →(14) جس دن زمین اور پہاڑ زلزلے سے ہلنے اور تھر تھرانے لگیں اور پہاڑ رریگ رواں کے ٹیلے ہوجائیں۔ یعنی زلزلہ سخت ہوگا اور پہاڑ ریت کا ڈھیر بن جائیں گے جس طرح ریت کا ڈھیر پھسلواں ہوتا ہے پہاڑوں کی یہی حالت ہوجائے گی۔ کثیب ریت کا ٹیلہ ، مہیل، وہ ریت جو جمع ہونے کے بعد ہوا سے بہتی پھرے، آگے اثبات رسالت کا ذکر فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
ف 2۔ یہ کنایہ ہے صبر و انتظار سے یعنی چندے اور صبر کرلیجئے، عنقریب ان کو سزا ہونے والی ہے۔
Read the full tafseer →جس روز زمن اور پہاڑ کانپنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کے تودے ہوں گے
۔ 14 یہ بیانات اس بات پر دال ہیں کہ یہ جو کچھ ہوگا اچانک نہیں ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تبدیلی اچانک نہیں بلک آہستہ آہستہ نمودار ہوگی اور حالات بدلتے رہیں گے اور سب کو نظر آئے گا کہ حالات پہلے جیسے نہیں ہیں بلکہ خاص تبدیلیاں آرہی ہیں اور تھوڑا تھوڑا کر کے کچھ نہ کچھ ہوتا رہے گا یہاں تک کہ وہ خاص وقت آجائے گا جس کا نام قیامت ہے اور وہ بلاریب اچانک ہوگی۔ جس طرح کوئی چیز بنتے بنتی ہے اسی طرح ہرچیز بگڑتے بگڑتے بگڑ جاتی ہے لیکن یہ بننا اور بگڑنا بہت کم لوگوں کو یاد رہ جاتا ہے اکثر لوگ اس سے وہ اثر قبول نہیں کرتے جو اثر قبول کرنا چاہئے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا (on the Day when the earth and the mountains will quake, and the mountains will turn into a slipping heap of sand. [ 14] We have sent to you a messenger, as a witness over you, just as We sent a messenger to Fir'aun (the Pharaoh). [ 15] Then, Fir'aun disobeyed the messenger; so We seized him with a severe seizure. [ 16] So, if you disbelieve, how will you save yourself from a day that will turn the small boys into grey-headed old men...17).
These verses describe the horrors and terrors of the Day of…
Read the full tafseer →14 Since at that time the cohesive force to bind the parts of the mountains together will cease to work, first they will become like crumbling dunes of fine sand, then because of the earthquake which will be shaking the earth; the sand will scatter and shift and the whole earth will turn into an empty level plain. This last state has been described in Ta Ha: 105-107, thus: "They ask you: where will the mountains go on that Day? Say: My Lord will reduce them to fine dust and scatter it away. He will turn the earth into an empty level plain, wherein you will neither see any curve no crease."
Read the full tafseer →