Explained with ayahs 10–18
نبی اکرم ﷺ کی حوصلہ افزائی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خد ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بےفکر ہیں اور تجھے ستانے کے لئے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بےتعلق ہوجا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے اور عذاب بھی کونسے ؟ سخت قید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
سورة الْمُزَّمِّل 15
اب مکہ کے ان کفار کو خطاب کیا جا رہا ہے جو رسول اللہ ﷺ کو جھٹلا رہے تھے اور آپ کی مخالفت میں سرگرم تھے۔
سورة الْمُزَّمِّل 16
رسول اللہ ﷺ کو لوگوں پر گواہ بنا کر بھیجنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ دنیا میں ان کے سامنے اپنے قول اور عمل سے حق کی شہادت دیں، اور یہ بھی آخرت میں جب اللہ تعالیٰ کی عدالت برپا ہوگی اس وقت آپ یہ گواہی دیں کہ میں نے ان لوگوں کے سامنے حق پیش کردیا تھا (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ 144۔ النساء، حاشیہ 64 جلد دوم، النحل، آیات 84، 89۔ جلد چہارم، الاحزاب، حاشیہ 82، جلد پنجم، الفتح، حاشیہ 14)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
آگے کچھ قیامت کے ہولناک واقعات کا بیان فرمایا يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَال آلایتہ اس کے بعد کفار مکہ کو فرعون اور حضرت موسیٰ ؑ کا قصہ سنا کر اس سے ڈرایا گیا کہ جس طرح فرعون اپنے رسول حضرت موسیٰ ؑ کی تکذیب کر کے گرفتار عذاب ہوا، تم بھی اس پر جمے رہے تو سمجھ لو کہ تم پر بھی ایسا ہی کوئی عذاب دنیا میں آسکتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ اگر دنیا میں کوئی عذاب نہ بھی آیا تو قیامت کے اس دن کے عذاب سے تمہیں کون بچا سکے گا جس کی ہولناکی اور طول کی وجہ سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ روز قیامت کے شدید اور ہولناکی اور طول کی وجہ سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ روز قیامت کے شدید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
قریش کو تنبیہ:
آنحضرت ﷺ کو ضروری ہدایات دینے کے بعد اب یہ قریش کو تنبیہ فرمائی جا رہی ہے کہ جس طرح ہم نے فرعون کی طرف اپنا ایک رسول بھیجا تھا اسی طرح تمہاری طرف بھی ایک رسول بھیج دیا ہے تاکہ وہ ہمارے خاص شاہد کی حیثیت سے تمہیں بتا دے کہ ہماری پسند اور ہمارے احکام کیا ہیں اور تم نے ان کو قبول کیا تو دنیا اور آخرت میں اس کا کیا صلہ ملے گا اور اگر اس کی نافرمانی کی تو اس کا انجام کیا ہو گا مطلب یہ ہے کہ تم جس شخص کی تکذیب و توہین کر رہے ہو اس کے مرتبہ اور اس کی حیثیت کو اچھی طرح جان اور سمجھ لو کہ اس کی تکذیب کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔ وہ کوئی سائل یا محض واعظ نہیں ہے جس کے ردو قبول کی کوئی خاص…
Read the full tafseer →15۔ 1 جو قیامت والے دن تمہارے اعمال کی گواہی دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
7: مکی زندگی میں ہمیشہ حکم یہی دیا گیا ہے کہ کافروں کی تکلیف دہ باتوں پر صبرو کرو، اور ان سے لڑائی ٹھاننے کے بجائے خوبصورتی سے علیحدگی اختیار کرلو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
انا رارسلنا ............................ رسولا (15) فعصی ................ وبیلا (73:16) ” ہم نے تمہارے پاس اسی طرح ایک رسول بھیجا ہے ، جس طرح ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا ، فرعون نے اس رسول کی بات نہ مانی تو ہم نے اسے بڑی سختی سے پکڑ لیا “۔ یوں اختصار کے ساتھ ان کے دلوں کے اندر زلزلہ پیدا کیا جاتا ہے اور ان کو اپنے سخت موقف سے اکھارنے کی سعی کی جاتی ہے جبکہ اس سے قبل پہاڑ کے زلزلہ اور ریزہ ریزہ کردینے کا منظر گزر گیا ہے۔ وہ ہے آخرت کا عذاب اور پکڑ اور یہ ہے دنیاوی پکڑ۔ سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں جو پکڑ بھی ہو تم اس سے کیسے بچ سکتے ہو ؟ خصوصاً قیامت کی پکڑ تو اس قدر شدید ہوگی :
Read the full tafseer →9 یعنی یہ پیغمبر اللہ کے ہاں گواہی دے گا کہ کس نے اس کا کہنا مانا اور کس نے نہیں مانا تھا۔
10 یعنی حضرت موسیٰ کی طرح تم کو مستقل دین اور عظیم الشان کتاب دے کر بھیجا۔ شاید یہ اس پیشین گوئی کی طرف اشارہ ہے جو تورات سفر استثناء میں ہے کہ " میں ان کے لیے ان کے بھائیوں (بنی اسماعیل) میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا۔ "
Read the full tafseer →آیت 15{ اِنَّــآ اَرْسَلْنَآ اِلَیْکُمْ رَسُوْلًا لا شَاہِدًا عَلَیْکُمْ } ”اے لوگو ! ہم نے تمہاری طرف ایک رسول ﷺ بھیج دیا ہے تم پر گواہ بنا کر۔“
ہمارا یہ رسول ﷺ دنیا میں تمہارے سامنے اپنے قول و عمل سے حق کی گواہی دے گا اور قیامت کے دن تمہارے خلاف گواہی دے گا ‘ کہ اے اللہ ! میں نے تو تیرا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا ‘ اب اس حوالے سے یہ لوگ خود جواب دہ ہیں۔
{ کَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا۔ } ”جیسے کہ ہم نے بھیجا تھا فرعون کی طرف بھی ایک رسول۔“
اسی طرح اس سے پہلے ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنے رسول کی حیثیت سے فرعون کے پاس بھیجا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
15 اس سے پہلی آیات میں مخاطب رسول اللہ ﷺ تھے۔ اب خطاب کا رخ کفار مکہ کی طرف مڑ گیا ہے اور انہیں بتایا یہ جارہا ہے کہ اس رسول کی مخالفت پر تم کمر بستہ ہوگئے ہو۔ تو یہی رسول تمہاری ایک ایک حرکت کی قیامت کے دن تم پر گواہی دینے والا ہے۔ لہذا جو قدم اٹھانا ہے سنبھل کر اٹھاؤ۔ اس سے پہلے ہم نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا تھا۔ فرعون تم سے بہت زیادہ طاقتور، جابر اور ایک وسیع خطہ زمین پر حکمران تھا۔ لیکن اس نے بھی اللہ اور اس کے رسول کی بات نہ مانی اور اکڑ گیا تو ہم نے اسے دریا میں ڈبو کر اس کا اور اس کی آل کا صفحہ ئہستی سے نام و نشان تک مٹا دیا تھا اور تم تو اس کے مقابلہ میں کچھ بھی…
Read the full tafseer →11۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون پر حاشیے بار بار گزر چکے۔ (آیت) ” شاھدا علیکم “۔ یعنی یہ رسول ﷺ تمہارے متعلق حشر میں یہ گواہی آکر دیں گے کہ ان لوگوں نے میری تبلیغ و دعوت سے اثر کس کس قسم کا لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
وذرنی و المکذبین اولی النعمۃ الخ ان الفاظ میں صاف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ مکہ میں دراصل جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلا رہے تھے اور طرح طرح کے فریب دے کر، تعصبات کو ابھار کر، عوام کو آپ ﷺ کی مخالفت پر آمادہ کر رہے تھے، وہ قوم کے کھاتے پیتے اور خوشحال لوگ تھے کیونکہ اسلام کی اس دعوت اصلاح کی براہ راست زد، ان کے مفادات پر پڑ رہی تھی، قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ معاملہ صرف رسول اللہ ہی کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ ہمیشہ یہی گروہ، اصلاح کی راہ روکنے کے لئے سنگ گراں بن کر حائل ہوتا رہا ہے۔
Read the full tafseer →انا ارسلنا الیکم . اہل مکہ کو خطاب ہے۔
رسولا . اس کلام میں نیرنگی ہے ‘ پہلے خطاب کا رخ رسول اللہ ﷺ کی طرف تھا اور علٰی ما یقولون میں
کافروں کا ذکر بصیغۂ غائب کیا تھا ‘ یہاں خطاب کافروں سے ہے اور رسول اللہ ﷺ کا ذکر بصورت غائب ہے۔ اس کلام سے سابق کلام کی تاکید بھی ہوتی ہے کیونکہ پہلے فرمایا تھا : انا سنلقی علیک قولًا ثقیلاً اور یہاں فرمایا : انا ارسلنآ الیکم رسولاً دونوں آیتوں کا مضمون ایک ہی طرح کا ہے۔
شاھدا علیکم . تمہارے قبول یا انکار کی شہادت دینے والا۔
کما ارسلنا . یہ مصدر محذوف کی صفت ہے یعنی تمہارے پاس رسول کو بھیجنا ایسا ہی ہے جیسا فرعون کے پاس رسول
کو بھیجا تھا (مطلب یہ کہ روانگی میں…
Read the full tafseer →ہم نے تمہارے پاس محمد کو بھیجا ہے جو تم پر تبلیغ رسالت کی گواہی دیں گے جیسا کہ ہم نے فرعون کے پاس حضرت موسیٰ کو بھیجا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
(انا ارسلنا الیکم رسولاً…:) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو دو طرح سے ڈرایا ہے، ایک فرعون کا قصہ یاد دلا کر کہ اگر تمہاری سرکشی فرعون کی طرح جاری رہی تو تمہارا انجام بھی فرعون اور اس کے لشکروں جیسا ہوگا، دوسرا یہ کہ اگر تم دنیا کے عذاب سے بچ بھی گئے تو قیامت کے اس عذاب سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا ؟
(2) شاھداً علیکم : رسول اللہ ﷺ اس بات کی شہادت دیں گے کہ انہوں نے حق تعالیٰ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا اور یہبھی کہ کس نے اسے مانا اور کس نے انکار کیا۔ یاد رہے کہ آپ انہی لوگوں کے متعلق یہ شہادت دیں گے جو آپ کی زندگی میں موجود تھے، جیسا کہ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
انا ارسلنا الیکم رسولا۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ ربہ سبیلا۔
اناارسلناالیکم رسولا، یہاں رسولا سے مراد نبی کریم ﷺ کی ذات ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قریش کی طرف بھیجا، کما ارسلنا الی فرعون رسولا۔ اس میں رسولا سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ فعصٰی فرعون الرسول۔ یعنی فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ایمان نہ لایا۔ مقاتل نے کہا، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا ذکر کیا کہا، کیونکہ اہل مکہ نے حضرت محمد ﷺ کی شان کا لحاظ نہ کیا اور آپ کی تحقیر کی کیونکہ آپ کی ولادت ان میں ہوئی تھی جس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ کی شان کا لحاظ نہ کیا کیونکہ فرعون نے آپ کی پرورش کی تھی اور حضر تموسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
16۔ الحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کثیبا مہیلا ریگ سیال میں المہیل سے مراد ہے جب آپ اس میں سے کوئی چیز لے لیں تو اس کا دوسرا حصہ تیرے پیچھے چلا آئے یہاں ریت کے بہتے ہوئے ٹیلے مراد ہیں۔
17۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کثیبا مہیلا سے مراد ہے بہنے والی ریت اور فرمایا آیت واخذ وبیلا سخت پکڑ سے پکڑنا یعنی شدید گرفت۔
Read the full tafseer →[انآ اَرْسَلْنَآ اِلَيْكُمْ : بیشک ہم نے بھیجا تم لوگوں کی طرف ] [رَسُوْلًا ڏ شَاهِدًا عَلَيْكُمْ : ایک ایسا رسول جو گواہی دینے والا ہے تم لوگوں پر ] [كَمَآ اَرْسَلْنَآ : جیسے کہ ہم نے بھیجا ] [اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا : فرعون کی طرف ایک رسول ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
فرعون نے رسول کی نافرمانی کی، اسے سختی کے ساتھ پکڑ لیا گیا، قیامت کا دن بچوں کو بوڑھا کر دے گا، قرآن ایک نصیحت ہے، جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کر لے
ان آیات میں مکذبین کو خطاب ہے کہ جس طرح تم جھٹلاتے ہو اسی طرح تم سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا ہے اور پھر اس کی سزا پائی ہے ہم نے تمہاری طرف رسول بھیجا ہے جو قیامت کے دن تم پر گواہی دے گا کہ ان لوگوں نے مجھے جھٹلایا جیسا کہ ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا فرعون نے رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اس کو سخت پکڑا، دنیا میں وہ اپنے لشکروں کے ساتھ دریا میں ڈبو دیا گیا اور آخرت کی سزا اس کی یہ ہے، اب تم جو ہمارے رسول کو جھٹلا رہے ہو اور کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
اتمام حجت خداوندی برمنکرین و کفار بہ بعثت سیدالابرار خاتم الانبیاء والمرسلین ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا ارسلناالیکم رسولا ......... الی ......... الی ربہ سبیلا “۔
(ربط) ابتداء سورت میں حضور اکرم ﷺ کو قیام اللیل کے امر کے ساتھ خدا کے ذکر کی تاکید فرمائی گئی تھی اور یہ کہ منکرین ومشرکین کی ایذاء رسانی پر صبر کریں اور رب العالمین کی مدد کا انتظار فرمائیں اور اس امر کا کہ خدا کا عذاب مجرمین پر دنیا اور آخرت میں آکر رہے گا اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی بعثت کا ذکر فرماکرکفار مکہ کو تنبیہ کی جارہی ہے اور فرمایا جارہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کو کفار مکہ بالکل ایسا ہی سمجھ لیں جیسا کہ موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
14:۔ ” انا ارسلنا “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ شاھد، حق بیان کرنے والا، بتانے والا (شاہ عبدالقادر) ۔ لفظ شاہد سے گواہ مراد لے کر اس سے آنحضرت ﷺ کے حاضر ناظر ہونے پر استدلال درست نہیں۔ اس کی تحقیق سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکی ہے (ص 70) ۔ خطاب مشرکین سے ہے۔ وبیلا، شدیدا غلیظا (مدارک) ۔ جس طرح ہم نے فرعون کے پاس ایک رسول (موسی علیہ السلام) بھیجا جس نے فرعون اور اس کی قوم کو توحید کی دعوت دی اسی طرح ہم نے تمہارے پاس بھی ایک عظیم الشان رسول (محمد مصطفیٰ ﷺ بھیجا ہے جو تمہیں توحید کی دعوت دیتا اور سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ فعصی فرعون، فرعون اور اس کی قم نے اس رسول (علیہ السلام) کی نافرمانی کی اور اس کی دعوت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
گذشتہ سے پیوستہ :
اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں چند اہم اصول بیان فرمائے اس کے بعد مخالفت کرنے والے مکذبین کا ذکر فرمایا اور کہا یعنی آپ چھوڑ دیں مجھے اور ان مکذبین کو جو نعمت والے ہیں۔ اور انہیں تھوڑی سی مہلت دیں ۔ مقصدیہ ہے کہ ان کے ساتھ ابھی مقابلہ نہیں کرنا ہے۔ بلکہ صبر کرنا ہے۔ آپ برداشت کریں ۔ میں کود ان کو سزا دو نگا۔ ان لوگون سے جواب طلبی ہوگی جس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اس جماعت کے ذریعے باز پرس کریں گے جن کی تربیت سابقہ اصولوں کے مطابق آپ کریں گے۔ یہ چھ اصول ہیں جو اس سے پہلے بیان ہوچکے ہیں۔ انہی اصولوں کی روشنی میں انقلاب بر پا کیا جاسکتا ہے۔ لہذا فی الحال آپ اپنی جماعت کو تیار کریں۔
شاہد…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَرْسَلْنَآ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاہِدًا عَلَيْكُمْ كَـمَآ اَرْسَلْنَآ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا 15 ۭ
رسل
وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ،
( ر س ل ) الرسل
اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
ترکیب : شاہد اوصف لرسولا و بیلا قال الاخفش شدیدا اوبہ قال ابن عباس و منہ مطروابل و طعام وبیل اذاکان لایستمرائ۔ یوما مفعول تتقون ای کیف تتقون یوما ان کفرتم وقیل مفعول کفرتم ‘ یجعل الجملۃ صفۃ یوم شیبا جمع اشیب والاصل فی شین شیب الضم وکسرت لمجانسۃ الیاء منفطربہ والباء سببیۃ ویمکن ان تکون بمعنی فی۔ وانما قال منفطرو لم یقل منفطرۃ تنزیل السماء منزلۃ الشیء لتغیرھا عن صف تھا وقال الفراء السماء یذکر و یؤنث۔
تفسیر : قریش اپنے تکبر اور سرکشی میں آنحضرت ﷺ کے مطیع نہیں ہوتے تھے اور ان کو فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بھی معلوم تھا اس لیے ان آیات میں بتلایا جاتا ہے کہ ہم نے تمہارے پاس بھی ویسا ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
اِنَّـآ اَرْسَلْنَـآ اِلَیْکُمْ رَسُوْلاً لا 5 شَاہِدًا عَلَیْکُمْ کَمَـآ اَرْسَلْنَـآ اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلاً ۔ فَعَصٰی فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰـہُ اَخْذًا وَّبِیْلاً ۔ (المزمل : 15، 16)
(ہم نے تم لوگوں کی طرف ایک رسول بھیجا ہے تم پر گواہ بنا کر، جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا۔ تو فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی، تو ہم نے اس کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑ لیا۔ )
قریش کو براہ راست تنبیہ
اب قریش مکہ کو براہ راست پروردگار خطاب فرما رہے ہیں کہ تم نے آنحضرت ﷺ کی بعثت کو قرارواقعی مقام نہ دینے کی وجہ سے ایک مذاق بنا لیا ہے حالانکہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کسی رسول کا کسی قوم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
فہم القرآن
ربط کلام : جن مکذبین کو بیڑیوں سے جکڑا جائے گا اور ان کو اذّیت ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا ان میں سرفہرست فرعون اور اس کے پیروکار ہوں گے۔
سورة مزمل کی چوتھی آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ ہم آپ پر بھاری فرمان نازل کرنے والے ہیں اس کی تفسیر کرتے ہوئے یہ عرض کی ہے کہ کفار اور مشرکین کے سامنے قرآن مجید کی دعوت پیش کرنا فی نفسہٖ بڑا مشکل اور بھاری کام ہے۔ اس بھاری کام کو آپ ﷺ صبح وشام مکہ اور اس کے گرد ونواح میں سرانجام دے رہے تھے۔ اس کا رد عمل وہی تھا جس کا مظاہرہ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے کیا تھا۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں کا انجام بتلانے کے لیے اہل مکہ کو…
Read the full tafseer →15 : اِنَّآ اَرْسَلْنَآ اِلَیْکُمْ (بیشک ہم نے بھیجا تمہاری طرف) اے اہل مکہ رَسُوْلًا (ایک ایسا رسول) یعنی محمد ﷺ شَاھِدًا عَلَیْکُمْ (جو تم پر گواہی دیں گے) جو تمہارے کفر اور تکذیب کی قیامت کے دن گواہی دیں گے۔ کَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا (جیسا ہم نے فرعون کے پاس ایک رسول بھیجا تھا) یعنی موسیٰ (علیہ السلام) ۔
Read the full tafseer →14 ۔” یوم ترجف الارض والجبال “ یعنی جھٹکے کھائیں گے اور حرکت کریں گے۔ ” وکانت الجبال کثیبا مھیلا “ ریت بہنے والی۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں وہریت جس سے تھوڑی سی لی جائے تو اس کا مابعد اس کے پیچھے سرکتا آئے ، کہا جاتا ہے ” اھلت الرمل اھیلہ ھیلا “ جب تو اس کے نچلے حصہ کو حرکت دے حتیٰ کہ وہ اوپر سے گرپڑے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
10۔ 18۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ اے رسول ﷺ اللہ کے تم اپنے سب کام اللہ کو سونپ دو اللہ تمہارے سب کاموں کے سر انجام کے لئے کافی ہے۔ اس ہدایت کے پورا کرنے کے لئے فرمایا یہ لوگ جو اپنے مال و متاع کے غرور میں تم کو برا بھلا کہتے ہیں اور اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں تم اس کا کچھ خیال نہ کرو اور تھوڑے دنوں کے لئے ان لوگوں کو اللہ کے انتقام پر چھوڑ دو ۔ اللہ ان سے خود سمجھ لے گا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ان آیتوں کے نازل ہونے کے تھوڑے عرصہ کے بعد بدر کی لڑائی پیش آئی جس میں بڑے بڑے سرکش ستر آدمی مشرکین مکہ میں قتل ہوگئے۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے قریش کو دو طرح سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے کہ اس نبی امی و عربی کے بھیجے جانے پر۔۔ جو خوش خبری دینے والا، تنبیہ کرنے والا اور امت پر ان کے اعمال کے ذریعے سے گواہ ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش کرو، اس کا شکر ادا کرو اور اس نعمت جلیلہ کا اعتراف کرو، اپنے رسول کا انکار کرنے اور اس کی نافرمانی کرنے سے بچو، ایسا نہ ہو کہ تم فرعون کی مانند ہوجاؤ، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو اس کی طرف مبعوث فرمایا تو حضرت موسیٰ نے اس کو اللہ کی طرف دعوت دی اور اسے توحید کا حکم دیا مگر اس نے حضرت موسیٰ کی تصدیق نہ کی بلکہ اس کے برعکس اس نے آپ کی نافرمانی کی۔ پس اللہ نے اس کو بڑے وبال یعنی انتہائی شدت کے ساتھ پکڑ لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
قول باری ہے (واکراسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا۔ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہورہو) مجاہد کا قول ہے ” اللہ سے اپنے اخلاص کا اظہار کرو۔ “ قتادہ کا قول ہے ” پورے اخلاص کے ساتھ اس سے دعا مانگو اور اس کی عبادت کرو۔ “ ایک قول کے مطابق اس سے مراد سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہنا اور صرف اسی سے خیر کی امید رکھنا ہے۔
بعض لوگ تکبیر افتتاح کے سلسلے میں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کیونکہ اس کا ذکر نماز کے ضمن میں ہوا ہے اس لئے یہ اللہ کے تمام اسماء کے ساتھ افتتاح صلوٰۃ کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔
قول باری ہے (سبحا طویلا ۔ (دن کے اوقات میں تمہارے لئے) بہت مصروفیات ہیں) قتادہ کا قول ہے کہ طویل…
Read the full tafseer →18 ۔ پیغمبر کے شاہد ہونے کا مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم نے تمہاری طرف ایک عظیم الشان رسول بھیجا تم لوگوں پر شاہد بنا کر، جو کہ اس دنیا میں اپنی شہادت حق سے حق کو واضح کر دتا ہے اور پھر وہ قیامت کے دن اپنی امت کے بارے میں گواہی دیگا، اور گواہ کے لئے ہر جگہ خود موجود ہونا اور اپنی آنکھوں سے دیکھنا ضروری نہیں ہوتا جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا ہے، بلکہ گواہی کے لئے یقینی علم کا ونا ضروری ہوتا ہے، خواہ وہ کسی بھی ذریعے سے حاصل ہو، جیسا کہ ہم لوگ جنت، دوزخ، آخرت، قیامت اور اس کے مختلف مناظر وغیرہ سب کی گواہی دیتے ہیں، مگر ان حقائق کے خود دیکھنے یا وہاں بطور خود وہاں پر حاض رو موجود ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
حساب چکانے کا دن
تشریح : یہاں پھر اس خوفناک دن کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے کہ قیامت کی تباہ کاریاں آنکھوں کے سامنے آنے لگتی ہیں۔ جیسا کہ قرآن کی اس خبر کو آج کا سائنسدان بھی مان چکا ہے واقعی ہمارے قرآن نے یہ بڑی پکی اور سچی خبر دی ہے واقعی وہ اس قدر خوفناک منظر ہوگا کہ خوف کی وجہ سے جوان بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور تمام مخلوقات مر مٹ جائے گی پھر دوبارہ تمام مخلوقات کو زندہ کیا جائے گا اور پھر اللہ کے سامنے حاضری ہوگی اور دوزخ و جنت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کفار مکہ کو ہوش دلانے کے لیے فرعون کی مثال دیتا ہے کہ ان کو اللہ اور اپنے رسول ﷺ کی نافرمانی کی سزا اس دنیا میں بھی مل گئی تھی۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة المزمل۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اے کمبل پوش یہ بات ایک خوبصورت انداز محبت میں ارشاد فرمائی اور فرمایا کہ راتوں کو اٹھیں یعنی قیام فرمائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور تھوڑا وقت آرام کریں قیام کے لیے آدھی رات یا اس سے کچھ کم زیادہ کرلیاکریں اس میں نہایت خوبصورت انداز سے قرآن کی تلاوت کریں۔
نماز تہجد۔
یہ آیات ابتدائے اسلام کی ہیں اور ان میں آپ پر اور مسلمانوں پر تہجد کی نماز فرض کی گئی نیز رات کا اکثر حصہ قیام کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر درست طریقے سے اور خوبصورت انداز می پڑھنے کا حکم ہوا چناچہ آپ اور صحابہ کرام سال بھر تک تہجد ہی ادا فرماتے رہے جس میں طویل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
ف 2 یعنی قیامت کے دن تم سب کے متعلق گواہی دے گا کہ کس نے اس کا کہنا مانا اور کس نے نافرمانی کی۔
Read the full tafseer →(73:15) انا ارسلنا الیکم رسولا : کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ یہ خطاب مکہ کے المکذبین اولی النعمۃ سے۔
شاھدا علیکم : ای یشھد یوم القیامۃ بما صدر منکم من الکفر والعصیان (روح المعانی) جو کفر و نافرمانی تم سے صادر ہوتی ہے قیامت کے روز وہ اس کی گواہی دے گا۔
شاھدا۔ گواہ، حاضر ہونے والا۔ شہادت دینے والا۔ بتانے والا۔ شھادۃ وشھود (باب سمع ) مصدر سے اسم فاعل کا سیغہ واحد مذکر۔ بنی کریم ﷺ کے اسماء گرامی میں سے ہے کیونکہ آپ قیامت میں امت کے گواہ اور دنیا میں تعلیم ربانی کے بتانے والے ہیں۔ شاھدا صفت ہے رسولا کی۔
کما : ک تشبیہ اور ما موصولہ سے مرکب ہے۔ کہ جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا۔
ارسلنا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
المزمل۔ کپڑوں میں لپٹنے والا۔ قم۔ کھڑا ہوجا۔ انقص کم کرلے۔ گھٹالے۔ رتل۔ صاف صاف پڑھ۔ سنلقی۔ ہم بہت جلدڈالیں گے۔ قول ثقیل۔ بھاری کلام۔ ناشئۃ۔ رات کو اٹھنا۔ بیدار ہونا۔ وطئہ ۔ مشقت۔ روندنا۔ اقومل قیلا۔ زیادہ درست بات۔ سبح طویل۔ زیادہ کام۔ زیادہ مشغولیت۔ تبتل۔ کاٹ ڈال۔ تبتیل۔ خوب کٹنا۔ ھجر۔ چھوڑ دینا۔ مھل۔ مہلت دے۔ لدینا۔ ہمارے پاس۔ انکال۔ بیڑیاں۔ زنجیریں۔ ذاغصۃ۔ گلے میں پھنس جانے والا۔ ترجف۔ کانپے گی۔ کشیب۔ ریت کے ٹیلے۔ مھیل۔ نیچے دھکیلا گیا۔ بیل۔ سخت۔ عبرت ناک۔ شیب۔ بوڑھا۔ منفظر۔ پھٹ جانے والا۔ ثلثی الیل۔ دو تہائی رات۔ تیسر۔ آسان ہوگا۔ اعظم اجرا۔ بہت بوڑھا ہوا ثواب۔
تشریح : سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
نیک بختوں اور بدبختوں کا ذکر۔
(ف 1) اوپر اللہ نے اپنے محبوب کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ اے محبوب تم اپنے سب کام اللہ کو سونپ دو ، اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کے سرانجامی کے لیے کافی ہے ، اس ہدایت کے پورا کرنے کے لیے فرمایا یہ لوگ جو اپنے مال ومتاع کے غرور میں تم کو برابھلا کہتے ہیں اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں تم اس کا کچھ خیال نہ کرو اور تھورے دنوں کے لیے ان لوگوں کو اللہ کے انتقام پر چھوڑ دو ، اللہ ان سے خود سمجھ لے گا، اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے ان آیتوں کے نازل ہونے کے تھوڑے عرصہ بعد بدر کی لڑائی پیش آئی۔ جس میں بڑے بڑے سرکش مشرکین مکہ کے قتل ہوگئے اب آگے اللہ نے قریش کو دوطرح سے ڈرایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
[6] رسول اللہ ﷺ کو لوگوں پر گواہ بنا کر بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ دنیا میں ان کے سامنے اپنے قول و فعل سے حق کی شہادت دیں اور روز آخرت اس بات کی گواہی دیں گے کہ آپ ﷺ نے لوگوں کے سامنے دین حق پیش کردیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
امراء کیوں مخالفت کرتے ہیں !
1: حضور ﷺ نے جب اپنی بعثت کا اعلان کیا ۔ تو حسب دستور جن لوگوں نے انکار کیا ۔ وہ مفلس اور قلاش لوگ نہ تھے ۔ بلکہ وہ لوگ تھے ۔ جو صاحب مال ومنال تھے ۔ اور ابتداء سے یہ سنت چلی آرہی ہے ۔ کہ حق وصداقت کی مخالفت میں بھی روسا کا طبقہ پیش پیش رہتا ہے ۔ اور اس کی وجہ غالباً یہ ہے ۔ کہ غرباء کا دین سے کوئی تصادم نہیں ہوتا ۔ ان کی آرزوئیں اور خواہشیں نہایت محدود اور ادنی قسم کی ہوتی ہیں ۔ مگر یہ اکابر سیادت و قیادت کے خلاں اور منصب وجاہ کے متوالے ہوتے ہیں ۔ اور یہ بھی چاہتے ہیں ۔ کہ قانون واخلاق کی کوئی پابندی ان پر عائد نہ ہو ۔ مذہب کی پہلی لڑائی انہیں اغراض کی اصلاح کے…
Read the full tafseer →(15) بلاشبہ ہم نے تمہاری جانب تم پر گواہی دینے والا اور تمہارے احوال بتانے والا ایک ایسا رسول بھیجا ہے جیسا ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
ف 2۔ یہ کنایہ ہے صبر و انتظار سے یعنی چندے اور صبر کرلیجئے، عنقریب ان کو سزا ہونے والی ہے۔
Read the full tafseer →ہمارا رسول تم پر اس روز گواہ ہوگا جیسے فرعون کی طرف رسول بھیجا گیا تھا
۔ 15 اہل مکہ فرعون مصر کے حالات سے واقف ہوں گے اس لئے ان کو محمد رسول اللہ ﷺ کا تعارف کرایا جا رہا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کی تھی اور اس کا انجام کیا نکلا تھا ؟ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں تھی اس لئے انکو گویا تقابل کر کے بات سمجھائی جا رہی ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا ہے جس طرح موسٰی (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا اور پھر کیا ہوا ؟ یہی کہ ہم نے اپنے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کی مدد کی اور فرعن کو دریا یا سمندر میں غرق کر کے رکھ دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا (on the Day when the earth and the mountains will quake, and the mountains will turn into a slipping heap of sand. [ 14] We have sent to you a messenger, as a witness over you, just as We sent a messenger to Fir'aun (the Pharaoh). [ 15] Then, Fir'aun disobeyed the messenger; so We seized him with a severe seizure. [ 16] So, if you disbelieve, how will you save yourself from a day that will turn the small boys into grey-headed old men...17).
These verses describe the horrors and terrors of the Day of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
15 The address now turns to the disbelievers of Makkah, who were denying the Holy Prophet (upon whom be peace) and persecuting him relentlessly.
16 Sending the Holy Prophet to be a witness over the people also means that he should testify to the Truth by his word and deed before them in the world and also that in the Hereafter when Allah's Court is established, he will testify that he had presented the whole Truth before the people in the world. (For further explanation, see E.N. 144 of Al-Baqarah, E.N. 64 of An-Nisa', An-Nahl: 84, 89, E.N. 82 of Al-Azab, E.N. 14 of Al-Fath) .
Read the full tafseer →