Explained with ayahs 10–18
نبی اکرم ﷺ کی حوصلہ افزائی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خد ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بےفکر ہیں اور تجھے ستانے کے لئے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بےتعلق ہوجا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے اور عذاب بھی کونسے ؟ سخت قید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
سورة الْمُزَّمِّل 15
اب مکہ کے ان کفار کو خطاب کیا جا رہا ہے جو رسول اللہ ﷺ کو جھٹلا رہے تھے اور آپ کی مخالفت میں سرگرم تھے۔
سورة الْمُزَّمِّل 16
رسول اللہ ﷺ کو لوگوں پر گواہ بنا کر بھیجنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ دنیا میں ان کے سامنے اپنے قول اور عمل سے حق کی شہادت دیں، اور یہ بھی آخرت میں جب اللہ تعالیٰ کی عدالت برپا ہوگی اس وقت آپ یہ گواہی دیں کہ میں نے ان لوگوں کے سامنے حق پیش کردیا تھا (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ 144۔ النساء، حاشیہ 64 جلد دوم، النحل، آیات 84، 89۔ جلد چہارم، الاحزاب، حاشیہ 82، جلد پنجم، الفتح، حاشیہ 14)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
آگے کچھ قیامت کے ہولناک واقعات کا بیان فرمایا يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَال آلایتہ اس کے بعد کفار مکہ کو فرعون اور حضرت موسیٰ ؑ کا قصہ سنا کر اس سے ڈرایا گیا کہ جس طرح فرعون اپنے رسول حضرت موسیٰ ؑ کی تکذیب کر کے گرفتار عذاب ہوا، تم بھی اس پر جمے رہے تو سمجھ لو کہ تم پر بھی ایسا ہی کوئی عذاب دنیا میں آسکتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ اگر دنیا میں کوئی عذاب نہ بھی آیا تو قیامت کے اس دن کے عذاب سے تمہیں کون بچا سکے گا جس کی ہولناکی اور طول کی وجہ سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ روز قیامت کے شدید اور ہولناکی اور طول کی وجہ سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ روز قیامت کے شدید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
قریش کو تنبیہ:
آنحضرت ﷺ کو ضروری ہدایات دینے کے بعد اب یہ قریش کو تنبیہ فرمائی جا رہی ہے کہ جس طرح ہم نے فرعون کی طرف اپنا ایک رسول بھیجا تھا اسی طرح تمہاری طرف بھی ایک رسول بھیج دیا ہے تاکہ وہ ہمارے خاص شاہد کی حیثیت سے تمہیں بتا دے کہ ہماری پسند اور ہمارے احکام کیا ہیں اور تم نے ان کو قبول کیا تو دنیا اور آخرت میں اس کا کیا صلہ ملے گا اور اگر اس کی نافرمانی کی تو اس کا انجام کیا ہو گا مطلب یہ ہے کہ تم جس شخص کی تکذیب و توہین کر رہے ہو اس کے مرتبہ اور اس کی حیثیت کو اچھی طرح جان اور سمجھ لو کہ اس کی تکذیب کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔ وہ کوئی سائل یا محض واعظ نہیں ہے جس کے ردو قبول کی کوئی خاص…
Read the full tafseer →16۔ 1 اس میں اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ تمہارا حشر بھی وہی ہوسکتا ہے۔ جو فرعون کا موسیٰ ؑ کی تکذیب کی وجہ سے ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
7: مکی زندگی میں ہمیشہ حکم یہی دیا گیا ہے کہ کافروں کی تکلیف دہ باتوں پر صبرو کرو، اور ان سے لڑائی ٹھاننے کے بجائے خوبصورتی سے علیحدگی اختیار کرلو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
انا رارسلنا ............................ رسولا (15) فعصی ................ وبیلا (73:16) ” ہم نے تمہارے پاس اسی طرح ایک رسول بھیجا ہے ، جس طرح ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا ، فرعون نے اس رسول کی بات نہ مانی تو ہم نے اسے بڑی سختی سے پکڑ لیا “۔ یوں اختصار کے ساتھ ان کے دلوں کے اندر زلزلہ پیدا کیا جاتا ہے اور ان کو اپنے سخت موقف سے اکھارنے کی سعی کی جاتی ہے جبکہ اس سے قبل پہاڑ کے زلزلہ اور ریزہ ریزہ کردینے کا منظر گزر گیا ہے۔ وہ ہے آخرت کا عذاب اور پکڑ اور یہ ہے دنیاوی پکڑ۔ سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں جو پکڑ بھی ہو تم اس سے کیسے بچ سکتے ہو ؟ خصوصاً قیامت کی پکڑ تو اس قدر شدید ہوگی :
Read the full tafseer →11 جب موسیٰ کے منکر کو ایسا سخت پکڑا تو محمد ﷺ کے منکرین کو کیوں نہ پکڑے گا۔ جو تمام انبیاء سے افضل اور برتر ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 16{ فَعَصٰی فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ } ”پس فرعون نے نافرمانی کی ہمارے رسول علیہ السلام کی“
{ فَاَخَذْنٰـہُ اَخْذًا وَّبِیْلًا۔ } ”تو ہم نے پکڑ لیا اس کو بڑے وبال والی پکڑ۔“
اب تم خود ہی سوچو کہ اللہ کے رسول علیہ السلام کو جھٹلا کر اگر فرعون جیسا مطلق العنان بادشاہ نہیں بچ پایا تھا اور اسی جرم کی پاداش میں اگر عاد وثمود جیسی طاقتور قوموں کو نیست و نابود کردیا گیا تھا تو تم لوگ اللہ کے رسول ﷺ کو جھٹلا کر کیسے بچے رہو گے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
15 اس سے پہلی آیات میں مخاطب رسول اللہ ﷺ تھے۔ اب خطاب کا رخ کفار مکہ کی طرف مڑ گیا ہے اور انہیں بتایا یہ جارہا ہے کہ اس رسول کی مخالفت پر تم کمر بستہ ہوگئے ہو۔ تو یہی رسول تمہاری ایک ایک حرکت کی قیامت کے دن تم پر گواہی دینے والا ہے۔ لہذا جو قدم اٹھانا ہے سنبھل کر اٹھاؤ۔ اس سے پہلے ہم نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا تھا۔ فرعون تم سے بہت زیادہ طاقتور، جابر اور ایک وسیع خطہ زمین پر حکمران تھا۔ لیکن اس نے بھی اللہ اور اس کے رسول کی بات نہ مانی اور اکڑ گیا تو ہم نے اسے دریا میں ڈبو کر اس کا اور اس کی آل کا صفحہ ئہستی سے نام و نشان تک مٹا دیا تھا اور تم تو اس کے مقابلہ میں کچھ بھی…
Read the full tafseer →12۔ (انہیں کا سا انجام تمہیں بھی پیش آنے والا ہے، اگر تم نے اصلاح حال نہ کرلی) فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا حوالہ ممکن ہے اس لئے دیا گیا ہو کہ یہود عرب کے توسط سے قریش حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کارناموں سے اور فرعون کے انجام سے خوب واقف ہوچکے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
وذرنی و المکذبین اولی النعمۃ الخ ان الفاظ میں صاف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ مکہ میں دراصل جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلا رہے تھے اور طرح طرح کے فریب دے کر، تعصبات کو ابھار کر، عوام کو آپ ﷺ کی مخالفت پر آمادہ کر رہے تھے، وہ قوم کے کھاتے پیتے اور خوشحال لوگ تھے کیونکہ اسلام کی اس دعوت اصلاح کی براہ راست زد، ان کے مفادات پر پڑ رہی تھی، قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ معاملہ صرف رسول اللہ ہی کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ ہمیشہ یہی گروہ، اصلاح کی راہ روکنے کے لئے سنگ گراں بن کر حائل ہوتا رہا ہے۔
Read the full tafseer →فعصی فرعون الرسول . الرسول سے مراد حضرت موسیٰ ہیں۔
فاخذناہ اخذدا و بیلا . سخت بھاری پکڑ ‘ طعام و بیل ‘ ثقیل کھانا جو ہضم پر بار ہو۔ وابلٌ۔ بڑی بارش۔ اللہ نے
فرعون کو سمندر میں غرق کر کے آگ میں داخل کیا۔ اگر تم اپنے رسولوں کی نافرمانی کرو گے تو تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کیا جائے گا (یعنی تمہیں تباہ کیا جائے گا ‘ پھر جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ )
Read the full tafseer →پھر فرعون نے حضرت موسیٰ کی بات نہ مانی تو ہم نے اس کو غرق کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
(انا ارسلنا الیکم رسولاً…:) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو دو طرح سے ڈرایا ہے، ایک فرعون کا قصہ یاد دلا کر کہ اگر تمہاری سرکشی فرعون کی طرح جاری رہی تو تمہارا انجام بھی فرعون اور اس کے لشکروں جیسا ہوگا، دوسرا یہ کہ اگر تم دنیا کے عذاب سے بچ بھی گئے تو قیامت کے اس عذاب سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا ؟
(2) شاھداً علیکم : رسول اللہ ﷺ اس بات کی شہادت دیں گے کہ انہوں نے حق تعالیٰ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا اور یہبھی کہ کس نے اسے مانا اور کس نے انکار کیا۔ یاد رہے کہ آپ انہی لوگوں کے متعلق یہ شہادت دیں گے جو آپ کی زندگی میں موجود تھے، جیسا کہ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
انا ارسلنا الیکم رسولا۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ ربہ سبیلا۔
اناارسلناالیکم رسولا، یہاں رسولا سے مراد نبی کریم ﷺ کی ذات ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قریش کی طرف بھیجا، کما ارسلنا الی فرعون رسولا۔ اس میں رسولا سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ فعصٰی فرعون الرسول۔ یعنی فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ایمان نہ لایا۔ مقاتل نے کہا، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا ذکر کیا کہا، کیونکہ اہل مکہ نے حضرت محمد ﷺ کی شان کا لحاظ نہ کیا اور آپ کی تحقیر کی کیونکہ آپ کی ولادت ان میں ہوئی تھی جس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ کی شان کا لحاظ نہ کیا کیونکہ فرعون نے آپ کی پرورش کی تھی اور حضر تموسی…
Read the full tafseer →18۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت اخذا وبیلا کے بارے میں بتائیے تو فرمایا اس سے مراد ہے سخت پکڑنا کہ اس سے بچنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا۔
خزی الحیاۃ وخزی الممات وکلا اراہ طعاما وبیلا
ترجمہ : زندگی کی رسوائی اور موت کی رسوائی اور ہر ایک کے بارے میں میں خیال کرتا ہوں کہ وہ شدید ضرر رساں کھانا ہے
Read the full tafseer →[فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ : پھر نافرمانی کی فرعون نے ان رسول (علیہ السلام) کی ] [فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِيْلًا : تو ہم نے پکڑا اس کو ایک سخت پکڑ میں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
فرعون نے رسول کی نافرمانی کی، اسے سختی کے ساتھ پکڑ لیا گیا، قیامت کا دن بچوں کو بوڑھا کر دے گا، قرآن ایک نصیحت ہے، جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کر لے
ان آیات میں مکذبین کو خطاب ہے کہ جس طرح تم جھٹلاتے ہو اسی طرح تم سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا ہے اور پھر اس کی سزا پائی ہے ہم نے تمہاری طرف رسول بھیجا ہے جو قیامت کے دن تم پر گواہی دے گا کہ ان لوگوں نے مجھے جھٹلایا جیسا کہ ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا فرعون نے رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اس کو سخت پکڑا، دنیا میں وہ اپنے لشکروں کے ساتھ دریا میں ڈبو دیا گیا اور آخرت کی سزا اس کی یہ ہے، اب تم جو ہمارے رسول کو جھٹلا رہے ہو اور کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
اتمام حجت خداوندی برمنکرین و کفار بہ بعثت سیدالابرار خاتم الانبیاء والمرسلین ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا ارسلناالیکم رسولا ......... الی ......... الی ربہ سبیلا “۔
(ربط) ابتداء سورت میں حضور اکرم ﷺ کو قیام اللیل کے امر کے ساتھ خدا کے ذکر کی تاکید فرمائی گئی تھی اور یہ کہ منکرین ومشرکین کی ایذاء رسانی پر صبر کریں اور رب العالمین کی مدد کا انتظار فرمائیں اور اس امر کا کہ خدا کا عذاب مجرمین پر دنیا اور آخرت میں آکر رہے گا اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی بعثت کا ذکر فرماکرکفار مکہ کو تنبیہ کی جارہی ہے اور فرمایا جارہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کو کفار مکہ بالکل ایسا ہی سمجھ لیں جیسا کہ موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
14:۔ ” انا ارسلنا “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ شاھد، حق بیان کرنے والا، بتانے والا (شاہ عبدالقادر) ۔ لفظ شاہد سے گواہ مراد لے کر اس سے آنحضرت ﷺ کے حاضر ناظر ہونے پر استدلال درست نہیں۔ اس کی تحقیق سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکی ہے (ص 70) ۔ خطاب مشرکین سے ہے۔ وبیلا، شدیدا غلیظا (مدارک) ۔ جس طرح ہم نے فرعون کے پاس ایک رسول (موسی علیہ السلام) بھیجا جس نے فرعون اور اس کی قوم کو توحید کی دعوت دی اسی طرح ہم نے تمہارے پاس بھی ایک عظیم الشان رسول (محمد مصطفیٰ ﷺ بھیجا ہے جو تمہیں توحید کی دعوت دیتا اور سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ فعصی فرعون، فرعون اور اس کی قم نے اس رسول (علیہ السلام) کی نافرمانی کی اور اس کی دعوت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
گذشتہ سے پیوستہ :
اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں چند اہم اصول بیان فرمائے اس کے بعد مخالفت کرنے والے مکذبین کا ذکر فرمایا اور کہا یعنی آپ چھوڑ دیں مجھے اور ان مکذبین کو جو نعمت والے ہیں۔ اور انہیں تھوڑی سی مہلت دیں ۔ مقصدیہ ہے کہ ان کے ساتھ ابھی مقابلہ نہیں کرنا ہے۔ بلکہ صبر کرنا ہے۔ آپ برداشت کریں ۔ میں کود ان کو سزا دو نگا۔ ان لوگون سے جواب طلبی ہوگی جس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اس جماعت کے ذریعے باز پرس کریں گے جن کی تربیت سابقہ اصولوں کے مطابق آپ کریں گے۔ یہ چھ اصول ہیں جو اس سے پہلے بیان ہوچکے ہیں۔ انہی اصولوں کی روشنی میں انقلاب بر پا کیا جاسکتا ہے۔ لہذا فی الحال آپ اپنی جماعت کو تیار کریں۔
شاہد…
Read the full tafseer →فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰہُ اَخْذًا وَّبِيْلًا 16
عصا
العَصَا أصله من الواو، لقولهم في تثنیته : عَصَوَانِ ، ويقال في جمعه : عِصِيٌّ. وعَصَوْتُهُ :
ضربته بالعَصَا، وعَصَيْتُ بالسّيف . قال تعالی: وَأَلْقِ عَصاكَ [ النمل/ 10] ، فَأَلْقى عَصاهُ
[ الأعراف/ 107] ، قالَ هِيَ عَصايَ [ طه/ 18] ، فَأَلْقَوْا حِبالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ [ الشعراء/ 44] . ويقال : ألقی فلانٌ عَصَاهُ : إذا نزل، تصوّرا بحال من عاد من سفره، قال الشاعر : فألقت عَصَاهَا واستقرّت بها النّوى وعَصَى عِصْيَاناً : إذا خرج عن الطاعة، وأصله أن يتمنّع بِعَصَاهُ. قال تعالی: وَعَصى آدَمُ رَبَّهُ [ طه/ 121] ، وَمَنْ يَعْصِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
ترکیب : شاہد اوصف لرسولا و بیلا قال الاخفش شدیدا اوبہ قال ابن عباس و منہ مطروابل و طعام وبیل اذاکان لایستمرائ۔ یوما مفعول تتقون ای کیف تتقون یوما ان کفرتم وقیل مفعول کفرتم ‘ یجعل الجملۃ صفۃ یوم شیبا جمع اشیب والاصل فی شین شیب الضم وکسرت لمجانسۃ الیاء منفطربہ والباء سببیۃ ویمکن ان تکون بمعنی فی۔ وانما قال منفطرو لم یقل منفطرۃ تنزیل السماء منزلۃ الشیء لتغیرھا عن صف تھا وقال الفراء السماء یذکر و یؤنث۔
تفسیر : قریش اپنے تکبر اور سرکشی میں آنحضرت ﷺ کے مطیع نہیں ہوتے تھے اور ان کو فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بھی معلوم تھا اس لیے ان آیات میں بتلایا جاتا ہے کہ ہم نے تمہارے پاس بھی ویسا ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
اِنَّـآ اَرْسَلْنَـآ اِلَیْکُمْ رَسُوْلاً لا 5 شَاہِدًا عَلَیْکُمْ کَمَـآ اَرْسَلْنَـآ اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلاً ۔ فَعَصٰی فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰـہُ اَخْذًا وَّبِیْلاً ۔ (المزمل : 15، 16)
(ہم نے تم لوگوں کی طرف ایک رسول بھیجا ہے تم پر گواہ بنا کر، جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا۔ تو فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی، تو ہم نے اس کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑ لیا۔ )
قریش کو براہ راست تنبیہ
اب قریش مکہ کو براہ راست پروردگار خطاب فرما رہے ہیں کہ تم نے آنحضرت ﷺ کی بعثت کو قرارواقعی مقام نہ دینے کی وجہ سے ایک مذاق بنا لیا ہے حالانکہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کسی رسول کا کسی قوم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
فہم القرآن
ربط کلام : جن مکذبین کو بیڑیوں سے جکڑا جائے گا اور ان کو اذّیت ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا ان میں سرفہرست فرعون اور اس کے پیروکار ہوں گے۔
سورة مزمل کی چوتھی آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ ہم آپ پر بھاری فرمان نازل کرنے والے ہیں اس کی تفسیر کرتے ہوئے یہ عرض کی ہے کہ کفار اور مشرکین کے سامنے قرآن مجید کی دعوت پیش کرنا فی نفسہٖ بڑا مشکل اور بھاری کام ہے۔ اس بھاری کام کو آپ ﷺ صبح وشام مکہ اور اس کے گرد ونواح میں سرانجام دے رہے تھے۔ اس کا رد عمل وہی تھا جس کا مظاہرہ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے کیا تھا۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں کا انجام بتلانے کے لیے اہل مکہ کو…
Read the full tafseer →تذکرئہ فرعون :
16 : فَعَصٰی فِرْ عَوْنُ الرَّسُوْلَ (پھر فرعون نے اس رسول کا کہنا نہ مانا)
نحو : نکرہ کو جب معرفہ کی صورت میں لوٹا یا جائے تو ثانی بعینہٖ اول ہوتا ہے۔
فَاَخَذْنٰـہُ اَخْذًا وَّبِیْلًا (تو ہم نے اس کو سخت پکڑا پکڑنا) وبیلا : سخت۔ یہاں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ خصوصًا ذکر کیا کیونکہ ان کے حالات یہود کی زبانی اہل مکہ سنتے رہتے تھے۔
Read the full tafseer →15 ۔” انا ارسلنا الیکم رسولا شاھدا علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولا “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
10۔ 18۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ اے رسول ﷺ اللہ کے تم اپنے سب کام اللہ کو سونپ دو اللہ تمہارے سب کاموں کے سر انجام کے لئے کافی ہے۔ اس ہدایت کے پورا کرنے کے لئے فرمایا یہ لوگ جو اپنے مال و متاع کے غرور میں تم کو برا بھلا کہتے ہیں اور اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں تم اس کا کچھ خیال نہ کرو اور تھوڑے دنوں کے لئے ان لوگوں کو اللہ کے انتقام پر چھوڑ دو ۔ اللہ ان سے خود سمجھ لے گا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ان آیتوں کے نازل ہونے کے تھوڑے عرصہ کے بعد بدر کی لڑائی پیش آئی جس میں بڑے بڑے سرکش ستر آدمی مشرکین مکہ میں قتل ہوگئے۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے قریش کو دو طرح سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے کہ اس نبی امی و عربی کے بھیجے جانے پر۔۔ جو خوش خبری دینے والا، تنبیہ کرنے والا اور امت پر ان کے اعمال کے ذریعے سے گواہ ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش کرو، اس کا شکر ادا کرو اور اس نعمت جلیلہ کا اعتراف کرو، اپنے رسول کا انکار کرنے اور اس کی نافرمانی کرنے سے بچو، ایسا نہ ہو کہ تم فرعون کی مانند ہوجاؤ، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو اس کی طرف مبعوث فرمایا تو حضرت موسیٰ نے اس کو اللہ کی طرف دعوت دی اور اسے توحید کا حکم دیا مگر اس نے حضرت موسیٰ کی تصدیق نہ کی بلکہ اس کے برعکس اس نے آپ کی نافرمانی کی۔ پس اللہ نے اس کو بڑے وبال یعنی انتہائی شدت کے ساتھ پکڑ لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
قول باری ہے (واکراسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا۔ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہورہو) مجاہد کا قول ہے ” اللہ سے اپنے اخلاص کا اظہار کرو۔ “ قتادہ کا قول ہے ” پورے اخلاص کے ساتھ اس سے دعا مانگو اور اس کی عبادت کرو۔ “ ایک قول کے مطابق اس سے مراد سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہنا اور صرف اسی سے خیر کی امید رکھنا ہے۔
بعض لوگ تکبیر افتتاح کے سلسلے میں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کیونکہ اس کا ذکر نماز کے ضمن میں ہوا ہے اس لئے یہ اللہ کے تمام اسماء کے ساتھ افتتاح صلوٰۃ کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔
قول باری ہے (سبحا طویلا ۔ (دن کے اوقات میں تمہارے لئے) بہت مصروفیات ہیں) قتادہ کا قول ہے کہ طویل…
Read the full tafseer →19 فرعون کے ہولناک انجام کا حوالہ و ذکر برائے عبرت پذیری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس طرح ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا پھر فعون کو رسول کی تکذیب و معصیت کے بعد اگرچہ ایک لمبے عرصے تک ڈھیل ملی، مگر آخر کار اللہ نے اس کو پکڑا اور ایسی سخت پکڑ میں پکڑا کہ وہ دنیا کے لئے ہمیشہ کا ایک نمونہ عبرت بن گیا۔ پس تم لوگ بھی اگر تکذیب حق کے اس جرم سے باز نہ آئے، تو اے دور حاضر کے کافر اور منکرو تو وہ تمہیں تو اسی طرح کے کسی عذاب میں پکڑ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون عام و بےلاگ اور سب کے لئے یکساں اور ایک برابر ہے، والعیاذ باللہ العظیم سو اس ارشاد میں منکرین کے لئے فرعون کے انجام سے درس عبرت لینے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
حساب چکانے کا دن
تشریح : یہاں پھر اس خوفناک دن کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے کہ قیامت کی تباہ کاریاں آنکھوں کے سامنے آنے لگتی ہیں۔ جیسا کہ قرآن کی اس خبر کو آج کا سائنسدان بھی مان چکا ہے واقعی ہمارے قرآن نے یہ بڑی پکی اور سچی خبر دی ہے واقعی وہ اس قدر خوفناک منظر ہوگا کہ خوف کی وجہ سے جوان بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور تمام مخلوقات مر مٹ جائے گی پھر دوبارہ تمام مخلوقات کو زندہ کیا جائے گا اور پھر اللہ کے سامنے حاضری ہوگی اور دوزخ و جنت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کفار مکہ کو ہوش دلانے کے لیے فرعون کی مثال دیتا ہے کہ ان کو اللہ اور اپنے رسول ﷺ کی نافرمانی کی سزا اس دنیا میں بھی مل گئی تھی۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة المزمل۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اے کمبل پوش یہ بات ایک خوبصورت انداز محبت میں ارشاد فرمائی اور فرمایا کہ راتوں کو اٹھیں یعنی قیام فرمائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور تھوڑا وقت آرام کریں قیام کے لیے آدھی رات یا اس سے کچھ کم زیادہ کرلیاکریں اس میں نہایت خوبصورت انداز سے قرآن کی تلاوت کریں۔
نماز تہجد۔
یہ آیات ابتدائے اسلام کی ہیں اور ان میں آپ پر اور مسلمانوں پر تہجد کی نماز فرض کی گئی نیز رات کا اکثر حصہ قیام کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر درست طریقے سے اور خوبصورت انداز می پڑھنے کا حکم ہوا چناچہ آپ اور صحابہ کرام سال بھر تک تہجد ہی ادا فرماتے رہے جس میں طویل…
Read the full tafseer →ف 3 اس میں کفار قریش کو تنبیہ ہے کہ تم نے بھی اگر اپنے رسول کی نافرمانی کی توت مہارا بھی وہی حال ہوگا جو فرعون کا ہوا۔
Read the full tafseer →(73:16) فعصی :تعقیب کا ہے عصی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب عصیان باب ضرب مصدر۔ اس نے نافرمانی کی۔ اس نے کہا نہ مانا۔ اس نے اطاعت نہ کی۔
الرسول : پیغمبر، رسول۔ یہاں مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔
فاخذنہ اخذا وبیلا :سببیہ ہے اخذنا ماضی جمع متکلم اخذ (باب نصر) مصدر ہم نے پکڑا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع فرعون ہے۔ اخذا مفعول مطلق (پکڑ) (موصوف) وبیلا۔ وبل یوبل ونل و ویوم (باب کرم) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ سخت، ناخوشگوار یہ صفت ہے ۔ اخذ کی۔ ہم نے اس کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
المزمل۔ کپڑوں میں لپٹنے والا۔ قم۔ کھڑا ہوجا۔ انقص کم کرلے۔ گھٹالے۔ رتل۔ صاف صاف پڑھ۔ سنلقی۔ ہم بہت جلدڈالیں گے۔ قول ثقیل۔ بھاری کلام۔ ناشئۃ۔ رات کو اٹھنا۔ بیدار ہونا۔ وطئہ ۔ مشقت۔ روندنا۔ اقومل قیلا۔ زیادہ درست بات۔ سبح طویل۔ زیادہ کام۔ زیادہ مشغولیت۔ تبتل۔ کاٹ ڈال۔ تبتیل۔ خوب کٹنا۔ ھجر۔ چھوڑ دینا۔ مھل۔ مہلت دے۔ لدینا۔ ہمارے پاس۔ انکال۔ بیڑیاں۔ زنجیریں۔ ذاغصۃ۔ گلے میں پھنس جانے والا۔ ترجف۔ کانپے گی۔ کشیب۔ ریت کے ٹیلے۔ مھیل۔ نیچے دھکیلا گیا۔ بیل۔ سخت۔ عبرت ناک۔ شیب۔ بوڑھا۔ منفظر۔ پھٹ جانے والا۔ ثلثی الیل۔ دو تہائی رات۔ تیسر۔ آسان ہوگا۔ اعظم اجرا۔ بہت بوڑھا ہوا ثواب۔
تشریح : سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
نیک بختوں اور بدبختوں کا ذکر۔
(ف 1) اوپر اللہ نے اپنے محبوب کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ اے محبوب تم اپنے سب کام اللہ کو سونپ دو ، اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کے سرانجامی کے لیے کافی ہے ، اس ہدایت کے پورا کرنے کے لیے فرمایا یہ لوگ جو اپنے مال ومتاع کے غرور میں تم کو برابھلا کہتے ہیں اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں تم اس کا کچھ خیال نہ کرو اور تھورے دنوں کے لیے ان لوگوں کو اللہ کے انتقام پر چھوڑ دو ، اللہ ان سے خود سمجھ لے گا، اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے ان آیتوں کے نازل ہونے کے تھوڑے عرصہ بعد بدر کی لڑائی پیش آئی۔ جس میں بڑے بڑے سرکش مشرکین مکہ کے قتل ہوگئے اب آگے اللہ نے قریش کو دوطرح سے ڈرایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
[6] رسول اللہ ﷺ کو لوگوں پر گواہ بنا کر بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ دنیا میں ان کے سامنے اپنے قول و فعل سے حق کی شہادت دیں اور روز آخرت اس بات کی گواہی دیں گے کہ آپ ﷺ نے لوگوں کے سامنے دین حق پیش کردیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
امراء کیوں مخالفت کرتے ہیں !
1: حضور ﷺ نے جب اپنی بعثت کا اعلان کیا ۔ تو حسب دستور جن لوگوں نے انکار کیا ۔ وہ مفلس اور قلاش لوگ نہ تھے ۔ بلکہ وہ لوگ تھے ۔ جو صاحب مال ومنال تھے ۔ اور ابتداء سے یہ سنت چلی آرہی ہے ۔ کہ حق وصداقت کی مخالفت میں بھی روسا کا طبقہ پیش پیش رہتا ہے ۔ اور اس کی وجہ غالباً یہ ہے ۔ کہ غرباء کا دین سے کوئی تصادم نہیں ہوتا ۔ ان کی آرزوئیں اور خواہشیں نہایت محدود اور ادنی قسم کی ہوتی ہیں ۔ مگر یہ اکابر سیادت و قیادت کے خلاں اور منصب وجاہ کے متوالے ہوتے ہیں ۔ اور یہ بھی چاہتے ہیں ۔ کہ قانون واخلاق کی کوئی پابندی ان پر عائد نہ ہو ۔ مذہب کی پہلی لڑائی انہیں اغراض کی اصلاح کے…
Read the full tafseer →(16) سو فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی پھر ہم نے فرعون کی بہت ہی سخت گرفت کی یعنی سابقہ پیشین گوئیوں کی بنا پر ان پیشین گوئیوں کا مصداق تمہاری طرف نبی آخرالزماں کو رسول بنا کر بھیجا جیسا ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو صاحب شریعت رسول بناکر فرعون کی طرف بھیجا تھا جس طرح وہ اصحب کتاب اور صاحب شریعت تھے اسی طرح یہ نبی بھی صاحب شریعت اور صاحب کتاب ہے اور تمہارے احوال بتانے والا ہے یعنی قیامت میں فرماں برداروں اور نافرمانوں کو بتائے گا۔
پھر فرعون کا حال تم کو معلوم ہے کہ جب اس نے اپنے پیغمبر کی نافرمانی کی اور ان کا کہنا نہ مانا تو ہم نے اس کو سخت قسم کا پکڑنا پکڑا۔ اسی طرح جو اس پیغمبر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
ف 2۔ یہ کنایہ ہے صبر و انتظار سے یعنی چندے اور صبر کرلیجئے، عنقریب ان کو سزا ہونے والی ہے۔
Read the full tafseer →فرعون نے ہمارے رسول کا کہا نہ مانا تو ہم نے اس کو بری طرح پکڑ لیا
۔ 16 اے قریش مکہ ! تمہاری طرح فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کی بات ماننے سے انکار کردیا تھا اور ہم نے فرعون کو تباہ و بربدا کرنے کے لئے بنی اسرائیل کے پیچھے لگا دیا اور جب اس نے اور اس کے لکشر نے بنی اسرائیل کو دیکھ کر دور سے للکارا اور میرے رسول کی دعوت کی ذرا پروا نہ کرتے ہوئے اس کا اور بنی اسرائیل کا پیچھا شروع کردیا اور عین اس وقت جب وہ بزعم خویش بنی اسرائیل کو پکڑنے ہی والا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو پکڑ لیا اور پھر ان میں سے ایک بھی نہ بچا اور ان کو اس طرح سختی سے پکڑ لیا گیا کہ ان کا نام و نشان ہی نہ چھوڑا۔ اسی لئے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا (on the Day when the earth and the mountains will quake, and the mountains will turn into a slipping heap of sand. [ 14] We have sent to you a messenger, as a witness over you, just as We sent a messenger to Fir'aun (the Pharaoh). [ 15] Then, Fir'aun disobeyed the messenger; so We seized him with a severe seizure. [ 16] So, if you disbelieve, how will you save yourself from a day that will turn the small boys into grey-headed old men...17).
These verses describe the horrors and terrors of the Day of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
15 The address now turns to the disbelievers of Makkah, who were denying the Holy Prophet (upon whom be peace) and persecuting him relentlessly.
16 Sending the Holy Prophet to be a witness over the people also means that he should testify to the Truth by his word and deed before them in the world and also that in the Hereafter when Allah's Court is established, he will testify that he had presented the whole Truth before the people in the world. (For further explanation, see E.N. 144 of Al-Baqarah, E.N. 64 of An-Nisa', An-Nahl: 84, 89, E.N. 82 of Al-Azab, E.N. 14 of Al-Fath) .
Read the full tafseer →