Explained with ayahs 10–18
نبی اکرم ﷺ کی حوصلہ افزائی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خد ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بےفکر ہیں اور تجھے ستانے کے لئے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بےتعلق ہوجا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے اور عذاب بھی کونسے ؟ سخت قید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
سورة الْمُزَّمِّل 17
یعنی اول تو تمہیں ڈرنا چاہیے کہ اگر ہمارے بھیجے ہوئے رسول کی بات تم نے نہ مانی تو وہ برا انجام تمہیں دنیا میں دیکھنا ہوگا جو فرعون اس سے پہلے اسی جرم کے نتیجے میں دیکھ چکا ہے۔ لیکن اگر فرض کرو کہ دنیا میں تم پر کوئی عذ اب نہ بھی بھیجا گیا تو روز قیامت کے عذاب سے کیسے بچ نکلو گے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
آگے کچھ قیامت کے ہولناک واقعات کا بیان فرمایا يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَال آلایتہ اس کے بعد کفار مکہ کو فرعون اور حضرت موسیٰ ؑ کا قصہ سنا کر اس سے ڈرایا گیا کہ جس طرح فرعون اپنے رسول حضرت موسیٰ ؑ کی تکذیب کر کے گرفتار عذاب ہوا، تم بھی اس پر جمے رہے تو سمجھ لو کہ تم پر بھی ایسا ہی کوئی عذاب دنیا میں آسکتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ اگر دنیا میں کوئی عذاب نہ بھی آیا تو قیامت کے اس دن کے عذاب سے تمہیں کون بچا سکے گا جس کی ہولناکی اور طول کی وجہ سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ روز قیامت کے شدید اور ہولناکی اور طول کی وجہ سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ روز قیامت کے شدید…
Read the full tafseer →یعنی ابھی پکڑ نہیں ہو رہی ہے تو یہ نہ سمجھو کہ کبھی نہیں ہو گی۔ اس دنیا میں نہ بھی ہوئی تو آخرت تو بہرحال شدنی ہے تو سوچ لو کہ اگر تم نے رسول کا انکار کیا تو اس دن کے ہول سے کس طرح بچو گے جو بچوں کو بوڑھا بنا دے گا! ’بچوں کو بوڑھا بنا دے گا‘ کسی ہول کی شدت اور بے پناہی کی تعبیر ہے۔ ہماری زبان میں بھی بولتے ہیں کہ فلاں صدمہ نے مجھے بوڑھا کر دیا۔ روایات میں بھی آتا ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ ’شیبتنی ھود واخواتھا‘ مجھے سورۂ ہود اور اس کی ہم جنس سورتوں نے بوڑھا کر دیا۔ عرب شعراء نے بھی مختلف اسلوبوں سے یہ محاورہ استعمال کیا ہے۔ یہ معروف ہے اس وجہ سے شواہد نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صاحب کشاف نے بعض…
Read the full tafseer →17۔ 1 قیامت والے دن کی ہولناکی بیان کی کہ واقع اس دن بچے بوڑھے ہوجائیں گے یا تمثیل کے طور پر کہا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
7: مکی زندگی میں ہمیشہ حکم یہی دیا گیا ہے کہ کافروں کی تکلیف دہ باتوں پر صبرو کرو، اور ان سے لڑائی ٹھاننے کے بجائے خوبصورتی سے علیحدگی اختیار کرلو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
فکیف .................... شیبا (73:17) ن السمائ ................ بہ (73:18) ” اگر تم ماننے سے انکار کرو گے تو اس دن کیسے بچ جاﺅ گے جو بچوں کو بوڑھا کردے گا اور جس کی سختی سے آسمان پھٹا جارہا ہوگا ؟ “۔ یہ اس قدر ہولناک صورت حالات ہوگی کہ آسمان پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگا ، اس سے عمل زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ ہوگئی ہوگی اور پھر جب اس دن جو بچے بھی ہوں گے وہ غم کے مارے بوڑھے ہوجائیں گے۔ یہ ہولناکی اب انسانی ذات کے اندر آجاتی ہے۔ زندہ انسانوں کی حالت کیا ہوگی ؟ یہ لڑکے بھی بوڑھے ہوجائیں گے اور لوگوں کے احساس کو اس طرف پھیرا جاتا ہے اور پھر بطور تاکید کہا جاتا ہے کہ ایسا ضرور ہوگا۔
کان ................…
Read the full tafseer →12 یعنی دنیا میں اگر بچ گئے تو اس دن کیونکر بچو گے جس دن کی شدت اور درازی بچوں کو بوڑھا کردینے والی ہوگی۔ خواہ فی الحقیقت بچے بوڑھے نہ ہوں لیکن اس روز کی سختی اور لمبائی کا اقتضاء یہی ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 17{ فَکَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ کَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَا } ”اب اگر تم کفر کرو گے تو تم کیسے بچ جائو گے اس دن ‘ جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا“
قیامت کا دن اللہ کے نافرمانوں کے لیے بہت سخت ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
15 اس سے پہلی آیات میں مخاطب رسول اللہ ﷺ تھے۔ اب خطاب کا رخ کفار مکہ کی طرف مڑ گیا ہے اور انہیں بتایا یہ جارہا ہے کہ اس رسول کی مخالفت پر تم کمر بستہ ہوگئے ہو۔ تو یہی رسول تمہاری ایک ایک حرکت کی قیامت کے دن تم پر گواہی دینے والا ہے۔ لہذا جو قدم اٹھانا ہے سنبھل کر اٹھاؤ۔ اس سے پہلے ہم نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا تھا۔ فرعون تم سے بہت زیادہ طاقتور، جابر اور ایک وسیع خطہ زمین پر حکمران تھا۔ لیکن اس نے بھی اللہ اور اس کے رسول کی بات نہ مانی اور اکڑ گیا تو ہم نے اسے دریا میں ڈبو کر اس کا اور اس کی آل کا صفحہ ئہستی سے نام و نشان تک مٹا دیا تھا اور تم تو اس کے مقابلہ میں کچھ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
13۔ عرب کا ٹھیک، آج کے فرنگستان کی طرح اصلی روگ آخرت فراموشی بلکہ آخرت سے انکار تھا۔ قرآن مجید اس لئے ابتدائی مکی سورتوں میں بار بار اور مؤثر انداز میں اسی موضوع کا دہرا دہرا کرکے لاتا ہے۔ (آیت) ” یجعل الولدان شیبا “۔ عربی محاورہ میں یہ کنایہ ہے غایت شدت وہیبت سے۔ (آیت) ” منفطربہ “۔ یعنی آسمان یوم قیامت کی سختی سے پھٹ جائے گا۔ ب سبیبہ ہے۔ بہ اے بیوم القیامۃ یعنی انھا تنفطر بشدۃ ذلک الیوم (مدارک) اے بسببہ یعنی بشدتہ وھو لہ (ابن کثیر) (آیت) ” وعدہ “۔ ضمیر فاعل یعنی اللہ تعالیٰ کی جانب ہے۔ اے الفاعل وھو اللہ عزوجل (مدارک) یہ بھی جائز ہے کہ مفعول کی جانب سمجھی جائے اور معنی یہ لئے جائیں کہ وہ یوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
وذرنی و المکذبین اولی النعمۃ الخ ان الفاظ میں صاف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ مکہ میں دراصل جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلا رہے تھے اور طرح طرح کے فریب دے کر، تعصبات کو ابھار کر، عوام کو آپ ﷺ کی مخالفت پر آمادہ کر رہے تھے، وہ قوم کے کھاتے پیتے اور خوشحال لوگ تھے کیونکہ اسلام کی اس دعوت اصلاح کی براہ راست زد، ان کے مفادات پر پڑ رہی تھی، قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ معاملہ صرف رسول اللہ ہی کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ ہمیشہ یہی گروہ، اصلاح کی راہ روکنے کے لئے سنگ گراں بن کر حائل ہوتا رہا ہے۔
Read the full tafseer →فکیف تتقون ان کفرتم . اے اہل مکہ اگر اپنے رسول کا انکار کرو گے تو کس طرح بچو گے۔
یوما . اس دن کے عذاب سے۔ یومًا کا تعلق تتقون سے ہے اور یوماً مضاف الیہ تھا۔ لفظ عذاب مضاف تھا۔
مضاف کو حذف کرنے کے بعد مضاف الیہ کو اس کی جگہ کردیا اور اسی کا اعراف دے دیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یومًا کا تعلق کفرتم سے ہو اور تتقون کا مفعول محذوف ہو۔ مطلب یہ ہوگا کہ اگر روز قیامت کا انکار کرو گے تو عذاب سے کیسے بچو گے۔ اگر یومًا کو کفرتم سے متعلق قرار دیا جائے گا تو یومًا کی تاویل بیوم سے کرنی ہوگی (یعنی مجرور کو بحذف حرف جر منصوب بنانے پڑے گا ‘ کیونکہ کفَر بغیر حرف جر کے مفعول کی طرف متعدی نہیں ہوتا) ۔
یجعل الولدان…
Read the full tafseer →سو اے مکہ والو جب تم دنیا میں کافر ہو تو کفر و شرک سے کیسے بچو گے اور اللہ تعالیٰ پر قیامت کے دن کیسے ایمان لاؤ گے جبکہ وہ دن بچوں کو بوڑھا کردے گا جبکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو سنیں گے جو کہ اللہ تعالیٰ حضرت آدم سے فرمائے گا اے آدم اپنی اولاد میں سے ایک بڑی جماعت دوزخ کی طرف بھیجو، حضرت آدم عرض کریں گے کتنی، اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ میں اور ایک جنت میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
(انا ارسلنا الیکم رسولاً…:) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو دو طرح سے ڈرایا ہے، ایک فرعون کا قصہ یاد دلا کر کہ اگر تمہاری سرکشی فرعون کی طرح جاری رہی تو تمہارا انجام بھی فرعون اور اس کے لشکروں جیسا ہوگا، دوسرا یہ کہ اگر تم دنیا کے عذاب سے بچ بھی گئے تو قیامت کے اس عذاب سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا ؟
(2) شاھداً علیکم : رسول اللہ ﷺ اس بات کی شہادت دیں گے کہ انہوں نے حق تعالیٰ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا اور یہبھی کہ کس نے اسے مانا اور کس نے انکار کیا۔ یاد رہے کہ آپ انہی لوگوں کے متعلق یہ شہادت دیں گے جو آپ کی زندگی میں موجود تھے، جیسا کہ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ…
Read the full tafseer →فکیف تتقون ان کفرتم یومایجعل الولدان شیبا۔ یہ توبیخ اور تقریع کے لیے ہے، یعنی اگر تم نے کفر کیا تو تم کیسے عذاب سے بچو گے، اس میں تقدیم وتاخیر ہے، یعنی اگر تم نے کفر کیا تو تم اس دن کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا بنا دیتا ہے، عبداللہ اور عطیہ کی قرات اسی طرح ہے، حضرت حسن بصری نے کہا، تم کون سی نماز کے ساتھ عذاب سے بچو گے ؟ کون سے روزے کے ساتھ بچوگے ؟ اس میں اضمار ہے یعنی تم کیسے اس دن کے عذاب سے بچو گے، قتادہ نے کہا، اللہ تعالیٰ کی قسم، جس نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا اس دن کسی بھی چیز کے ساتھ عذاب سے نہیں بچے گا اور یوما تتقون کا مفعول بہ ہے، یہ ظرف نہیں ہے اگر کفر کو انکار کے معنی میں مقدر کیا…
Read the full tafseer →1۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فکیف تتقون ان کفرتم یوما یجعل الولدان شیبا پھر تم کس طرح بچو گے اگر تم نے انکار کیا اس دن جو لڑکوں کو بوڑھا کردے گا یعنی تم اس دن کس طرح بچو گے اگر تم کفر کرتے رہے پھر فرمایا اللہ کی قسم ! اس دن وہ قوم نہیں بچے گی جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
2۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے آیت فکیف تتقون ان کفرتم یوما یجعل الولدان شیبا۔ پھر تم کس طرح بچو گے اگر تم نے انکار کیا اس دن جو لڑکوں کو بوڑھا کردے گا یعنی تم اس دن کس طرح بچو گے اگر تم کفر کرتے رہے پھر فرمایا اللہ کی قسم ! اس دن…
Read the full tafseer →[فَكَيْفَ تَتَّقُوْنَ : پھر تم لوگ کیسے بچو گے ] [ان كَفَرْتم : اگر تم نے انکار کیا ] [يَوْمًا : ایک ایسے دن سے جو ] [يَّجْعَلُ الْوِلْدَان : بنا دے گا بچوں کو ] [شِيْبَۨا : بوڑھا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
فرعون نے رسول کی نافرمانی کی، اسے سختی کے ساتھ پکڑ لیا گیا، قیامت کا دن بچوں کو بوڑھا کر دے گا، قرآن ایک نصیحت ہے، جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کر لے
ان آیات میں مکذبین کو خطاب ہے کہ جس طرح تم جھٹلاتے ہو اسی طرح تم سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا ہے اور پھر اس کی سزا پائی ہے ہم نے تمہاری طرف رسول بھیجا ہے جو قیامت کے دن تم پر گواہی دے گا کہ ان لوگوں نے مجھے جھٹلایا جیسا کہ ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا فرعون نے رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اس کو سخت پکڑا، دنیا میں وہ اپنے لشکروں کے ساتھ دریا میں ڈبو دیا گیا اور آخرت کی سزا اس کی یہ ہے، اب تم جو ہمارے رسول کو جھٹلا رہے ہو اور کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
اتمام حجت خداوندی برمنکرین و کفار بہ بعثت سیدالابرار خاتم الانبیاء والمرسلین ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا ارسلناالیکم رسولا ......... الی ......... الی ربہ سبیلا “۔
(ربط) ابتداء سورت میں حضور اکرم ﷺ کو قیام اللیل کے امر کے ساتھ خدا کے ذکر کی تاکید فرمائی گئی تھی اور یہ کہ منکرین ومشرکین کی ایذاء رسانی پر صبر کریں اور رب العالمین کی مدد کا انتظار فرمائیں اور اس امر کا کہ خدا کا عذاب مجرمین پر دنیا اور آخرت میں آکر رہے گا اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی بعثت کا ذکر فرماکرکفار مکہ کو تنبیہ کی جارہی ہے اور فرمایا جارہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کو کفار مکہ بالکل ایسا ہی سمجھ لیں جیسا کہ موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
15:۔ ” فکیف تتقون “ تخویف اخروی، ہول قیامت کی شدت وفظاعت کا بیان ہے۔ اگر ہم تم میں سے کسی کو کسی مصلحت سے دنیا میں نہ پکریں تو قیامت کے عذاب سے تم کسی طرح نہیں بچ سکتے۔ یہ دن نہایت کٹھن اور ہولناک ہوگا۔ شدت ہول اور کثرت حزن و غم میں یہ دن ضرب المثل ہوگا۔ اس دن کی شدت سے آسمان بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے اور ایسا ضرور ہوگا۔ اللہ کے فیصلے میں تخلف نہیں۔ ” یجعل الولدان شیبا “ محاورہ ہے جو شدت سے کنایہ ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے۔ یوم یشیب نواصی الاطفال (کبیر) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن اگر بالفرض یہ معاندین بچے ہوں تو شدت ہول سے بوڑھے ہوجائیں کیونکہ حزن و غم کی کثرت اور خوف و ہراس کی شدت انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
گذشتہ سے پیوستہ :
اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں چند اہم اصول بیان فرمائے اس کے بعد مخالفت کرنے والے مکذبین کا ذکر فرمایا اور کہا یعنی آپ چھوڑ دیں مجھے اور ان مکذبین کو جو نعمت والے ہیں۔ اور انہیں تھوڑی سی مہلت دیں ۔ مقصدیہ ہے کہ ان کے ساتھ ابھی مقابلہ نہیں کرنا ہے۔ بلکہ صبر کرنا ہے۔ آپ برداشت کریں ۔ میں کود ان کو سزا دو نگا۔ ان لوگون سے جواب طلبی ہوگی جس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اس جماعت کے ذریعے باز پرس کریں گے جن کی تربیت سابقہ اصولوں کے مطابق آپ کریں گے۔ یہ چھ اصول ہیں جو اس سے پہلے بیان ہوچکے ہیں۔ انہی اصولوں کی روشنی میں انقلاب بر پا کیا جاسکتا ہے۔ لہذا فی الحال آپ اپنی جماعت کو تیار کریں۔
شاہد…
Read the full tafseer →فَكَيْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ يَوْمًا يَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيْبَۨا 17 ۤ
كيف
كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] ، انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
ترکیب : شاہد اوصف لرسولا و بیلا قال الاخفش شدیدا اوبہ قال ابن عباس و منہ مطروابل و طعام وبیل اذاکان لایستمرائ۔ یوما مفعول تتقون ای کیف تتقون یوما ان کفرتم وقیل مفعول کفرتم ‘ یجعل الجملۃ صفۃ یوم شیبا جمع اشیب والاصل فی شین شیب الضم وکسرت لمجانسۃ الیاء منفطربہ والباء سببیۃ ویمکن ان تکون بمعنی فی۔ وانما قال منفطرو لم یقل منفطرۃ تنزیل السماء منزلۃ الشیء لتغیرھا عن صف تھا وقال الفراء السماء یذکر و یؤنث۔
تفسیر : قریش اپنے تکبر اور سرکشی میں آنحضرت ﷺ کے مطیع نہیں ہوتے تھے اور ان کو فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بھی معلوم تھا اس لیے ان آیات میں بتلایا جاتا ہے کہ ہم نے تمہارے پاس بھی ویسا ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
فَکَیْفَ تَـتَّـقُوْنَ اِنْ کَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَا نِ ۔ السَّمَـآئُ مُنْفَطِرٌ م بِہٖط کَانَ وَعْدُہٗ مَفْعُوْلاً ۔ (المزمل : 17، 18)
(تو اگر تم نے ماننے سے انکار کیا تو اس دن کے عذاب سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ آسمان اس سے پھٹا پڑ رہا ہے، اللہ کا وعدہ تو پورا ہو کر ہی رہنا ہے۔ )
قیامت کی ہولناکی سے تنبیہ
گزشتہ آیتوں میں فرعون کا حوالہ دے کر قریش کو متنبہ کیا ہے کہ جس طرح دنیا ہی میں فرعون اپنی سرکشی کی پاداش میں پکڑا گیا اور بدترین عذاب کا شکار ہوا، تمہیں بھی لرزاں اور ترساں رہنا چاہیے اس تصور سے کہ تمہارا انجام بھی فرعون جیسا نہ ہو۔ اب پیش نظر آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون کا انجام بتلا کر اہل مکہ کو ان کا آخرت کا انجام بتلایا گیا ہے۔
انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت کا انکار کرنے والی اقوام کا دنیا میں بدترین انجام ہوا جن میں سر فہرست فرعون اور اس کے ساتھی ہیں۔ ان کا انجام بتلاتے ہوئے اہل مکہ کو ایک دفعہ پھر براہ راست خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر تم نبی ﷺ کی مخالفت اور آپ کی دعوت کا انکار کروگے تو بتاؤ اس دن کی سختیوں سے کس طرح بچ سکو گے جو دن بچوں کو بوڑھا کردے گا ؟ اور آسمان پھٹ جائے گا۔ یاد رکھو کہ یہ سب کچھ ہو کر رہے گا کیونکہ یہ رب ذوالجلال کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہوگا۔ جس قرآن کے ذریعے تمہیں ڈرایا جاتا ہے اس میں تمہارے…
Read the full tafseer →17 : فَکَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ کَفَرْتُمْ یَوْمًا (پس تم کفر کرو گے تو اس دن سے کیسے بچو گے) ۔ یوماً یہ تتقون کا مفعول ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے : کیف تتقون عذاب یوم کذا ان کفر تم ھنا ؟ تم اس دن کے عذاب سے کیسے بچو گے اگر تم نے یہاں کفر کیا ؟ نمبر 2۔ یہ ظرف ہے تقدیر کلام یہ ہے : فکیف لکم التقوٰی فی یوم القیامۃ ان کفرتم فی الدنیا ؟ قیامت کے دن تمہار ابچنا کیسے ہوگا اگر تم دنیا میں کفر کرو گے ؟ نمبر 3۔ کفرتم کی وجہ سے منصوب ہے اور وہ جحد تم کے معنی میں ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے : فکیف لکم تتقون اللہ وتخشونہ ان جحدتم یوم القیامۃ والجزاء ؟ لان تقوٰی اللہ خوف عقابہٖ ۔ تمہارا تقویٰ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنا…
Read the full tafseer →16 ۔” فعصیٰ فرعون الرسول فاخذناہ اخذا وبیلا “ سخت بوجھل ، یعنی ہم نے اس کو سخت سزادی کفار مکہ کو ڈرا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
10۔ 18۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ اے رسول ﷺ اللہ کے تم اپنے سب کام اللہ کو سونپ دو اللہ تمہارے سب کاموں کے سر انجام کے لئے کافی ہے۔ اس ہدایت کے پورا کرنے کے لئے فرمایا یہ لوگ جو اپنے مال و متاع کے غرور میں تم کو برا بھلا کہتے ہیں اور اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں تم اس کا کچھ خیال نہ کرو اور تھوڑے دنوں کے لئے ان لوگوں کو اللہ کے انتقام پر چھوڑ دو ۔ اللہ ان سے خود سمجھ لے گا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ان آیتوں کے نازل ہونے کے تھوڑے عرصہ کے بعد بدر کی لڑائی پیش آئی جس میں بڑے بڑے سرکش ستر آدمی مشرکین مکہ میں قتل ہوگئے۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے قریش کو دو طرح سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
یعنی تمہیں قیامت کے دن کیسے نجات حاصل ہوسکتی ہے، وہ ایسا دن ہے جس کا معاملہ نہایت ہولناک اور جس کا خطرہ بہت عظیم ہوگا۔ جو بچوں کو بوڑھا، اور بڑے بڑے جمادات کو پگھلا کر رکھ دے گا، پس اس کے خوف سے آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے بکھر جائیں گے۔ ( كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا) یعنی اس کا وقوع لازمی ہے، کوئی چیز اس کے سامنے حائل نہیں ہوسکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
قول باری ہے (واکراسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا۔ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہورہو) مجاہد کا قول ہے ” اللہ سے اپنے اخلاص کا اظہار کرو۔ “ قتادہ کا قول ہے ” پورے اخلاص کے ساتھ اس سے دعا مانگو اور اس کی عبادت کرو۔ “ ایک قول کے مطابق اس سے مراد سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہنا اور صرف اسی سے خیر کی امید رکھنا ہے۔
بعض لوگ تکبیر افتتاح کے سلسلے میں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کیونکہ اس کا ذکر نماز کے ضمن میں ہوا ہے اس لئے یہ اللہ کے تمام اسماء کے ساتھ افتتاح صلوٰۃ کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔
قول باری ہے (سبحا طویلا ۔ (دن کے اوقات میں تمہارے لئے) بہت مصروفیات ہیں) قتادہ کا قول ہے کہ طویل…
Read the full tafseer →20 ۔ منکرین و مکذبین کو قیامت کے یوم عظیم کی تذکیر و یاد دھانی : سو منکرین کو خطاب کر کے ان سے ارشاد فرمایا گیا کہ آج اگر تم لوگ اے منکر و عذاب سے بچ بھی گئے تو کیا ؟ آخرت کا عذاب تو تمارے لیے مقرر رہی ہی ؟ اس نے تو اپنے وقت پر تم پر بہرحال آ کر رہنا ہے۔ اس غفور رحیم رب کریم کی گرفت و پکڑ سے، بوجہ اس کے حلم بےپایاں اور کرم بےنہایت کے، سو کیا یہ تمہارے لیے بہرحال کوئی خوشی کا سامان نہیں۔ کیونکہ آج اگر تمہاری پکڑ نہیں ہو رہی، تو اس سے تم یہ نہ سمجھنا کہ تمہاری گرفت و پکڑ کبھی ہوگی ہی نہیں، سو ایسے نہیں ہوسکتا کہ یہ اس کی شان عدل و انصاف اور اس کی حکمت کے تقاضوں کے لخاف ہے، حق کا انکار کرنے الوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
حساب چکانے کا دن
تشریح : یہاں پھر اس خوفناک دن کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے کہ قیامت کی تباہ کاریاں آنکھوں کے سامنے آنے لگتی ہیں۔ جیسا کہ قرآن کی اس خبر کو آج کا سائنسدان بھی مان چکا ہے واقعی ہمارے قرآن نے یہ بڑی پکی اور سچی خبر دی ہے واقعی وہ اس قدر خوفناک منظر ہوگا کہ خوف کی وجہ سے جوان بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور تمام مخلوقات مر مٹ جائے گی پھر دوبارہ تمام مخلوقات کو زندہ کیا جائے گا اور پھر اللہ کے سامنے حاضری ہوگی اور دوزخ و جنت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کفار مکہ کو ہوش دلانے کے لیے فرعون کی مثال دیتا ہے کہ ان کو اللہ اور اپنے رسول ﷺ کی نافرمانی کی سزا اس دنیا میں بھی مل گئی تھی۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة المزمل۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اے کمبل پوش یہ بات ایک خوبصورت انداز محبت میں ارشاد فرمائی اور فرمایا کہ راتوں کو اٹھیں یعنی قیام فرمائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور تھوڑا وقت آرام کریں قیام کے لیے آدھی رات یا اس سے کچھ کم زیادہ کرلیاکریں اس میں نہایت خوبصورت انداز سے قرآن کی تلاوت کریں۔
نماز تہجد۔
یہ آیات ابتدائے اسلام کی ہیں اور ان میں آپ پر اور مسلمانوں پر تہجد کی نماز فرض کی گئی نیز رات کا اکثر حصہ قیام کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر درست طریقے سے اور خوبصورت انداز می پڑھنے کا حکم ہوا چناچہ آپ اور صحابہ کرام سال بھر تک تہجد ہی ادا فرماتے رہے جس میں طویل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ف 4 یعنی کفر و شرک کو چھوڑ کر توحید کی راہ پر آجائے یہ راہ اسے ٹھیک ٹھیک خدا تک پہنچا دے گی۔
Read the full tafseer →(73:17) فکیف تتقون :بمعنی پس، پھر۔ کیف حرف استفہام ہے۔ بمعنی کیسے۔ کس طرح ۔ کیونکر۔ تتقون مضارع جمع مذکر حاضر۔ اتقاء (افتعال) مصدر بمعنی ڈرنا۔ پرہیز کرنا بچنا۔ پھر تم کیسے بچ سکو گے (خطاب کفار مکہ سے ہے) ۔
ان کفرتم : ان شرطیہ کفرتم ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر کفر (باب نصر) مصدر۔ بمعنی انکار کرنا۔
یوما : ای عذاب یوم۔ اس صورت میں یوما کا تعلق تتقون سے ہے۔ یوما مضاف الیہ ہے اور لفظ عذاب مضاف۔ مضاف کو حذف کرکے کے بعد مضاف الیہ کو اس کی جگہ کردیا اور اسی کا اعراب دیدیا۔ (مظہری)
ترجمہ ہوگا :۔ (اے کفار مکہ جب فرعون کو حضرت موسیٰ کی نافرمانی کی پاداش میں غرق کردیا گیا اور وہ واصل یہ جہنم ہوگیا) تو پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
المزمل۔ کپڑوں میں لپٹنے والا۔ قم۔ کھڑا ہوجا۔ انقص کم کرلے۔ گھٹالے۔ رتل۔ صاف صاف پڑھ۔ سنلقی۔ ہم بہت جلدڈالیں گے۔ قول ثقیل۔ بھاری کلام۔ ناشئۃ۔ رات کو اٹھنا۔ بیدار ہونا۔ وطئہ ۔ مشقت۔ روندنا۔ اقومل قیلا۔ زیادہ درست بات۔ سبح طویل۔ زیادہ کام۔ زیادہ مشغولیت۔ تبتل۔ کاٹ ڈال۔ تبتیل۔ خوب کٹنا۔ ھجر۔ چھوڑ دینا۔ مھل۔ مہلت دے۔ لدینا۔ ہمارے پاس۔ انکال۔ بیڑیاں۔ زنجیریں۔ ذاغصۃ۔ گلے میں پھنس جانے والا۔ ترجف۔ کانپے گی۔ کشیب۔ ریت کے ٹیلے۔ مھیل۔ نیچے دھکیلا گیا۔ بیل۔ سخت۔ عبرت ناک۔ شیب۔ بوڑھا۔ منفظر۔ پھٹ جانے والا۔ ثلثی الیل۔ دو تہائی رات۔ تیسر۔ آسان ہوگا۔ اعظم اجرا۔ بہت بوڑھا ہوا ثواب۔
تشریح : سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
نیک بختوں اور بدبختوں کا ذکر۔
(ف 1) اوپر اللہ نے اپنے محبوب کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ اے محبوب تم اپنے سب کام اللہ کو سونپ دو ، اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کے سرانجامی کے لیے کافی ہے ، اس ہدایت کے پورا کرنے کے لیے فرمایا یہ لوگ جو اپنے مال ومتاع کے غرور میں تم کو برابھلا کہتے ہیں اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں تم اس کا کچھ خیال نہ کرو اور تھورے دنوں کے لیے ان لوگوں کو اللہ کے انتقام پر چھوڑ دو ، اللہ ان سے خود سمجھ لے گا، اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے ان آیتوں کے نازل ہونے کے تھوڑے عرصہ بعد بدر کی لڑائی پیش آئی۔ جس میں بڑے بڑے سرکش مشرکین مکہ کے قتل ہوگئے اب آگے اللہ نے قریش کو دوطرح سے ڈرایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
[7] عربی محاورے میں کنایہ ہے غایت شدت وہیبت سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
امراء کیوں مخالفت کرتے ہیں !
1: حضور ﷺ نے جب اپنی بعثت کا اعلان کیا ۔ تو حسب دستور جن لوگوں نے انکار کیا ۔ وہ مفلس اور قلاش لوگ نہ تھے ۔ بلکہ وہ لوگ تھے ۔ جو صاحب مال ومنال تھے ۔ اور ابتداء سے یہ سنت چلی آرہی ہے ۔ کہ حق وصداقت کی مخالفت میں بھی روسا کا طبقہ پیش پیش رہتا ہے ۔ اور اس کی وجہ غالباً یہ ہے ۔ کہ غرباء کا دین سے کوئی تصادم نہیں ہوتا ۔ ان کی آرزوئیں اور خواہشیں نہایت محدود اور ادنی قسم کی ہوتی ہیں ۔ مگر یہ اکابر سیادت و قیادت کے خلاں اور منصب وجاہ کے متوالے ہوتے ہیں ۔ اور یہ بھی چاہتے ہیں ۔ کہ قانون واخلاق کی کوئی پابندی ان پر عائد نہ ہو ۔ مذہب کی پہلی لڑائی انہیں اغراض کی اصلاح کے…
Read the full tafseer →(17) پس اگر تم کفر پر قائم رہے تو اس دن کی مصیبت اور عذاب سے کیسے بچو گے جو دن اپنی شدت وہیبت اور امتداد کی وجہ سے بچوں کو بوڑھا بنادے گا۔
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی شدت اور درازی کی وجہ سے۔
Read the full tafseer →تم بھی اگر انکار کرتے رہو گے تو کیسے بچو گے اس دن سے جو بچوں کو بوڑھا کردینے والا ہے
۔ 17 کفار مکہ سے بات کہی جا رہی ہے کہ تم نے جو ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی قسم کھائی ہے اور ہر معاملہ میں مخالفت ہی کرتے چلے جا رہے ہو اور مخالفت میں اس حد تک اندھے ہوچکے ہو کہ اپنے آپ کا خیال بھی نہیں رہا کہ اگر تم کو پکڑ لیا گیا تو تمہارا مددگار کون ہوگا ؟ گویا تمہارے مخالفت اندھی ہوچکی ہے۔ اب تم ہی بتائو کہ اگر اللہ نے تم کو پکڑ لیا تو تم کس طرح بچو گے خصوصاً اس دن کے عذاب سے جو دن بچوں کو بوڑھا کردینے والا ہے اور اس کی ہولناکیاں اتنی سخت ہیں کہ اس کے خوف سے بچے بوڑھے نظر آئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا (on the Day when the earth and the mountains will quake, and the mountains will turn into a slipping heap of sand. [ 14] We have sent to you a messenger, as a witness over you, just as We sent a messenger to Fir'aun (the Pharaoh). [ 15] Then, Fir'aun disobeyed the messenger; so We seized him with a severe seizure. [ 16] So, if you disbelieve, how will you save yourself from a day that will turn the small boys into grey-headed old men...17).
These verses describe the horrors and terrors of the Day of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
17 That is, "In the first place, you should be afraid that if you do not accept the invitation of the Messenger sent by Us, you will have to meet the same evil end in this world, which the Pharaoh has already met in consequence of this very crime. But even if no torment is sent on you in the world, how will you save yourselves from the punishment of the Day of Resurrection?"
Read the full tafseer →