Al-Muzzammil 73:18

Al-Muzzammil · from ayah 18

73:18

١لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌ بِهٖ ؕ— كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا ۟اۨلسَّمَآءُ مُنۡفَطِرٌ ۢ بِهٖ‌ؕ كَانَ وَعۡدُهٗ مَفۡعُوۡلًا

(اور) جس سے آسمان پھٹ جائے گا۔ یہ اس کا وعدہ (پورا) ہو کر رہے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

The heaven will break apart therefrom; ever is His promise fulfilled.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muzzammil

All translations of 73:18

اور جس کی سختی سے آسمان پھٹا جا رہا ہوگا؟ اللہ کا وعدہ تو پورا ہو کر ہی رہنا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اور) جس سے آسمان پھٹ جائے گا۔ یہ اس کا وعدہ (پورا) ہو کر رہے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس دن آسمان پھٹ جائے گا اللہ تعالیٰ کا یہ وعده ہو کر ہی رہنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اور) جس سے آسمان پھٹ پڑے گا۔ اللہ کے وعدے کو تو پورا ہو کر رہنا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

آسمان اس کے صدمے سے پھٹ جائے گا، اللہ کا وعدہ ہوکر رہنا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(جس دن کی) شدت کے باعث آسمان پھٹ جائے گا، اُس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس میں آسمان پھٹ جانے والا ہے، اس کا وعدہ ہمیشہ سے (پورا) ہو کر رہنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس (کی سختی) سے آسمان پھٹ جائے گا یہ اللہ کا وعدہ ہے جو پورا ہو کے رہے گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

آسمان اس کے بوجھ سے پھٹا پڑ رہا ہے اور اللہ کا وعدہ شدنی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آسمان اس روز (کی ہولناکی) کی وجہ سے پھٹ پڑے گا اللہ کے وعدے نے بہرحال پورا ہو کر ہی رہنا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

(اور) جس سے آسمان پھٹ جائے گا بیشک (اللہ کا) وعدہ ضرور پورا ہو کر رہے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آسمان اس سے پھٹ پڑنے والا ہے اس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا ”یہ اس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

the Day whose severity shall cause the heaven to split asunder? Allah's promise is ever bound to be fulfilled.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

whereby the sky will burst apart. His promise has to be fulfilled.

— Muhammad Taqi Usmani

whereby the sky will burst apart. His promise has to be fulfilled.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Whereon the heaven will be cleft asunder His promise is certainly to be accomplished.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The very heaven being then rent asunder. His promise is to be fulfilled.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The heaven will break apart therefrom; ever is His promise fulfilled.

— Saheeh International

On that day, the heavens will be rent asunder. This is the decree of God which has already been ordained.

— Muhammad Sarwar

The heaven shall rend asunder thereby; His promise is ever brought to fulfillment.

— Muhammad Habib Shakir

And the heaven shall be split there in. His promise needs must be fulfilled.

— Abdul Majid Daryabadi

Whereon the sky will be cleft asunder? His Promise needs must be accomplished.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 73:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–18

نبی اکرم ﷺ کی حوصلہ افزائی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خد ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بےفکر ہیں اور تجھے ستانے کے لئے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بےتعلق ہوجا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے اور عذاب بھی کونسے ؟ سخت قید…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 17–19

سورة الْمُزَّمِّل 17 یعنی اول تو تمہیں ڈرنا چاہیے کہ اگر ہمارے بھیجے ہوئے رسول کی بات تم نے نہ مانی تو وہ برا انجام تمہیں دنیا میں دیکھنا ہوگا جو فرعون اس سے پہلے اسی جرم کے نتیجے میں دیکھ چکا ہے۔ لیکن اگر فرض کرو کہ دنیا میں تم پر کوئی عذ اب نہ بھی بھیجا گیا تو روز قیامت کے عذاب سے کیسے بچ نکلو گے ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–19

آگے کچھ قیامت کے ہولناک واقعات کا بیان فرمایا يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَال آلایتہ اس کے بعد کفار مکہ کو فرعون اور حضرت موسیٰ ؑ کا قصہ سنا کر اس سے ڈرایا گیا کہ جس طرح فرعون اپنے رسول حضرت موسیٰ ؑ کی تکذیب کر کے گرفتار عذاب ہوا، تم بھی اس پر جمے رہے تو سمجھ لو کہ تم پر بھی ایسا ہی کوئی عذاب دنیا میں آسکتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ اگر دنیا میں کوئی عذاب نہ بھی آیا تو قیامت کے اس دن کے عذاب سے تمہیں کون بچا سکے گا جس کی ہولناکی اور طول کی وجہ سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ روز قیامت کے شدید اور ہولناکی اور طول کی وجہ سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ روز قیامت کے شدید…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی روز قیامت کو کوئی اَن ہونی بات نہ خیال کرو۔ آسمان اس کے بوجھ سے پھٹا پڑ رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پھٹ پڑے اور قیامت اس کے اندر سے نمودار ہو جائے اور تم اسی طرح اس سے غفلت ہی میں رہو۔ یہی مضمون سورۂ اعراف میں اس طرح بیان ہوا ہے: ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَا تَاْتِیْکُمْ اِلَّا بَغَتَۃً.(الاعراف ۷: ۱۸۷) (آسمان و زمین دونوں اس کے حمل سے بوجھل ہیں، وہ تمہارے اوپر اچانک ہی آ دھمکے گی)۔ یعنی آخرت کوئی محتاج ثبوت چیز نہیں ہے، اس کے ظہور کا وقت اگرچہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے علم میں نہیں ہے لیکن اس کے شواہد آسمان و زمین میں اس طرح نمایاں ہیں جس طرح آخری دنوں میں حاملہ کا حمل ہوتا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 18–19

18۔ 1 یہ یوم کی دوسری صفت ہے اس دن ہولناکی سے آسمان پھٹ جائے گا 18۔ 2 یعنی اللہ نے جو بعث بعد الموت، حساب کتاب اور جنت دوزخ کا وعدہ کیا ہوا ہے یہ یقینا لامحالہ ہو کر رہنا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–19

7: مکی زندگی میں ہمیشہ حکم یہی دیا گیا ہے کہ کافروں کی تکلیف دہ باتوں پر صبرو کرو، اور ان سے لڑائی ٹھاننے کے بجائے خوبصورتی سے علیحدگی اختیار کرلو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–18

فکیف .................... شیبا (73:17) ن السمائ ................ بہ (73:18) ” اگر تم ماننے سے انکار کرو گے تو اس دن کیسے بچ جاﺅ گے جو بچوں کو بوڑھا کردے گا اور جس کی سختی سے آسمان پھٹا جارہا ہوگا ؟ “۔ یہ اس قدر ہولناک صورت حالات ہوگی کہ آسمان پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگا ، اس سے عمل زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ ہوگئی ہوگی اور پھر جب اس دن جو بچے بھی ہوں گے وہ غم کے مارے بوڑھے ہوجائیں گے۔ یہ ہولناکی اب انسانی ذات کے اندر آجاتی ہے۔ زندہ انسانوں کی حالت کیا ہوگی ؟ یہ لڑکے بھی بوڑھے ہوجائیں گے اور لوگوں کے احساس کو اس طرف پھیرا جاتا ہے اور پھر بطور تاکید کہا جاتا ہے کہ ایسا ضرور ہوگا۔ کان ................…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

13 یعنی اللہ کا وعدہ اٹل ہے ضرور ہو کر رہے گا۔ خواہ تم اس کو کتنا ہی بعید ازامکان سمجھو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 18{ نِالسَّمَآئُ مُنْفَطِرٌم بِہٖط کَانَ وَعْدُہٗ مَفْعُوْلًا۔ } ”آسمان اس سے پھٹ پڑنے والا ہے ‘ اس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔“ قیامت اس کائنات پر کہیں باہر سے نہیں آئے گی ‘ وہ اس وقت بھی اس کے اندر موجود ہے ‘ جیسے کہ سورة الاعراف میں فرمایا گیا ہے : { ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } آیت 187 کہ وہ آسمان و زمین پر بہت بھاری ہے۔ چناچہ قیامت کا ”بھاری پن“ کائنات کے لیے ناقابل برداشت ہوا جا رہا ہے اور اب اس کے ظہور سے متعلق اللہ کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آیا ہی چاہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

16 اس دنیا میں بھی تم پر فرعون اور آل فرعون کی طرح اللہ کا عذاب آکے رہے گا اگر بالفرض اس دنیا میں عذاب نہ بھی آئے تو اس دن کے عذاب سے تم کیونکر بچ سکتے ہو جس دن آسمان پھٹ جائے گا، یہ نظام کائنات درہم برہم ہوجائے گا۔ اس دن کی دہشت اور ہولناکی کا یہ عالم ہوگا کہ عذاب سے پہلے ہی بچے دہشت کے مارے بوڑھے نظر آنے لگیں گے، چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہوں گی۔ لوگ ان دہشت ناک مناظر سے پناہ کی کوئی جگہ تلاش کرنا چاہیں گے تو وہ بھی کہیں نہ مل سکے گی۔ اس کے بعد اس دن کافروں کو یقینی طور پر جو عذاب ہونے والا ہے اس سے بچنے کی تمہارے پاس کوئی صورت ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 17–18

13۔ عرب کا ٹھیک، آج کے فرنگستان کی طرح اصلی روگ آخرت فراموشی بلکہ آخرت سے انکار تھا۔ قرآن مجید اس لئے ابتدائی مکی سورتوں میں بار بار اور مؤثر انداز میں اسی موضوع کا دہرا دہرا کرکے لاتا ہے۔ (آیت) ” یجعل الولدان شیبا “۔ عربی محاورہ میں یہ کنایہ ہے غایت شدت وہیبت سے۔ (آیت) ” منفطربہ “۔ یعنی آسمان یوم قیامت کی سختی سے پھٹ جائے گا۔ ب سبیبہ ہے۔ بہ اے بیوم القیامۃ یعنی انھا تنفطر بشدۃ ذلک الیوم (مدارک) اے بسببہ یعنی بشدتہ وھو لہ (ابن کثیر) (آیت) ” وعدہ “۔ ضمیر فاعل یعنی اللہ تعالیٰ کی جانب ہے۔ اے الفاعل وھو اللہ عزوجل (مدارک) یہ بھی جائز ہے کہ مفعول کی جانب سمجھی جائے اور معنی یہ لئے جائیں کہ وہ یوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–19

وذرنی و المکذبین اولی النعمۃ الخ ان الفاظ میں صاف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ مکہ میں دراصل جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلا رہے تھے اور طرح طرح کے فریب دے کر، تعصبات کو ابھار کر، عوام کو آپ ﷺ کی مخالفت پر آمادہ کر رہے تھے، وہ قوم کے کھاتے پیتے اور خوشحال لوگ تھے کیونکہ اسلام کی اس دعوت اصلاح کی براہ راست زد، ان کے مفادات پر پڑ رہی تھی، قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ معاملہ صرف رسول اللہ ہی کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ ہمیشہ یہی گروہ، اصلاح کی راہ روکنے کے لئے سنگ گراں بن کر حائل ہوتا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

السماء منفطر بہ . یعنی آسمان اپنی عظمت اور مضبوطی کے باوجود اس روز کی شدت کی وجہ سے پھٹ جائے گا۔ دوسری چیزوں کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ مُنْفَطِرٌ مذکر ہے السماء کی خبر ہے اور سماء مؤنث ہے اور مبتداء خبر میں تذکیر و تانیث کے اعتبار سے یکسانی ہونی چاہیے ‘ یہاں السماء کو سقف قرار دے کر اس کی خبر کو مذکر کیا ہے کیونکہ لفظ سقف مذکر ہے ‘ یا یوں کہو کہ منفطر سے پہلے لفظ شئی محذوف ہے ‘ یعنی آسمان پھٹ جانے والی چیز ہوگی۔ کان وعدہ مفعولا . وَعْدَہٗ میں مصدر کی اضافت فاعل کی طرح ہے یعنی اللہ کا عذاب کے متعلق کیا ہوا وعدہ ضرور پورا ہوگا اور ضمیر مفعول محذوف ہے ‘ یا اضافت مفعول کی طرف ہے اور ضمیر کا رجوع یوم…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 15–19

(انا ارسلنا الیکم رسولاً…:) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو دو طرح سے ڈرایا ہے، ایک فرعون کا قصہ یاد دلا کر کہ اگر تمہاری سرکشی فرعون کی طرح جاری رہی تو تمہارا انجام بھی فرعون اور اس کے لشکروں جیسا ہوگا، دوسرا یہ کہ اگر تم دنیا کے عذاب سے بچ بھی گئے تو قیامت کے اس عذاب سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا ؟ (2) شاھداً علیکم : رسول اللہ ﷺ اس بات کی شہادت دیں گے کہ انہوں نے حق تعالیٰ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا اور یہبھی کہ کس نے اسے مانا اور کس نے انکار کیا۔ یاد رہے کہ آپ انہی لوگوں کے متعلق یہ شہادت دیں گے جو آپ کی زندگی میں موجود تھے، جیسا کہ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

السماء منفطربہ۔ اس دن کی شدت کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا، بہ میں باء فی کے معنی میں ہے یعنی اس دن میں اس کی ہولنکای کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا، اس کی تعبیر میں جو بھی اقوال ذکر کیے گئے ہیں یہ ان میں سے سب سے اچھا ہے اس کی تاویل میں یہ قول بھی کیا جاتا ہے اس پر ایسا بوجھ ڈالاجائے گا جو اسے شق ہونے کی طرف لے جائے گا کیونکہ وہ اس بوجھ اس پر بہت بھاری ہوگا اور آسمان اس بوجھ کے واقع ہونے کی وجہ سے ڈرجائے گا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ثقلت فی السماوات والارض۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ بہ، لہ کے معنی میں ہے یعنی اس دن کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، فعلت کذا بحرمتک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 18–19

6۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت السماء منفطر بہ اس دن آسمان پھٹ جائے گا یعنی قیامت کے دن کی وجہ سے آسمان بوجھل اور بھاری ہوجائے گا۔۔ 7۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت السماء منفطر بہ یعنی آسمان اس کے سبب بھاری اور وزنی ہوجائے گا۔ 8۔ فریابی وابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت السماء منفطر بہ کے بارے میں روایت کیا کہ حبشی زبان میں اس سے مراد ہے کہ آسمان بھر جائے گا۔ 9۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ منفطر بہ یعنی اس دن کے سبب آسمان انتہائی بھاری اور وزنی ہوجائے گا۔ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا 10۔ قیامت کے دن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ : آسمان پھٹنے والا ہے اس (دن) میں ] [كَان وَعْدُهٗ : اس کا وعدہ ہے ] [مَفْعُوْلًا : کیا ہوا ] (آیت۔ 18) اَلسَّمَائُ مبتدا ہے۔ اس کی خبر مُنْفَطِرَۃٌ مؤنث کے بجائے مذکر مُنْفَطِرٌ آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی میں اَلسَّمَائُ عام طور پر مؤنث استعمال ہوتا ہے لیکن چند قبیلے اس کو مذکر استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے عربی میں اس کا مؤنث اور مذکر، دونوں استعمال درست مانا جاتا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے لکھنؤ والے دہی کو کھٹی کہتے ہیں اور دہلی والے کھٹا کہتے ہیں۔ دونوں اہل زبان ہیں۔ اس لیے اردو میں دہی کا مذکر اور مؤنث دونوں استعمال درست مانا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–18

فرعون نے رسول کی نافرمانی کی، اسے سختی کے ساتھ پکڑ لیا گیا، قیامت کا دن بچوں کو بوڑھا کر دے گا، قرآن ایک نصیحت ہے، جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کر لے ان آیات میں مکذبین کو خطاب ہے کہ جس طرح تم جھٹلاتے ہو اسی طرح تم سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا ہے اور پھر اس کی سزا پائی ہے ہم نے تمہاری طرف رسول بھیجا ہے جو قیامت کے دن تم پر گواہی دے گا کہ ان لوگوں نے مجھے جھٹلایا جیسا کہ ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا فرعون نے رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اس کو سخت پکڑا، دنیا میں وہ اپنے لشکروں کے ساتھ دریا میں ڈبو دیا گیا اور آخرت کی سزا اس کی یہ ہے، اب تم جو ہمارے رسول کو جھٹلا رہے ہو اور کفر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–19

اتمام حجت خداوندی برمنکرین و کفار بہ بعثت سیدالابرار خاتم الانبیاء والمرسلین ﷺ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا ارسلناالیکم رسولا ......... الی ......... الی ربہ سبیلا “۔ (ربط) ابتداء سورت میں حضور اکرم ﷺ کو قیام اللیل کے امر کے ساتھ خدا کے ذکر کی تاکید فرمائی گئی تھی اور یہ کہ منکرین ومشرکین کی ایذاء رسانی پر صبر کریں اور رب العالمین کی مدد کا انتظار فرمائیں اور اس امر کا کہ خدا کا عذاب مجرمین پر دنیا اور آخرت میں آکر رہے گا اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی بعثت کا ذکر فرماکرکفار مکہ کو تنبیہ کی جارہی ہے اور فرمایا جارہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کو کفار مکہ بالکل ایسا ہی سمجھ لیں جیسا کہ موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–18

15:۔ ” فکیف تتقون “ تخویف اخروی، ہول قیامت کی شدت وفظاعت کا بیان ہے۔ اگر ہم تم میں سے کسی کو کسی مصلحت سے دنیا میں نہ پکریں تو قیامت کے عذاب سے تم کسی طرح نہیں بچ سکتے۔ یہ دن نہایت کٹھن اور ہولناک ہوگا۔ شدت ہول اور کثرت حزن و غم میں یہ دن ضرب المثل ہوگا۔ اس دن کی شدت سے آسمان بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے اور ایسا ضرور ہوگا۔ اللہ کے فیصلے میں تخلف نہیں۔ ” یجعل الولدان شیبا “ محاورہ ہے جو شدت سے کنایہ ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے۔ یوم یشیب نواصی الاطفال (کبیر) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن اگر بالفرض یہ معاندین بچے ہوں تو شدت ہول سے بوڑھے ہوجائیں کیونکہ حزن و غم کی کثرت اور خوف و ہراس کی شدت انسان کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–19

گذشتہ سے پیوستہ : اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں چند اہم اصول بیان فرمائے اس کے بعد مخالفت کرنے والے مکذبین کا ذکر فرمایا اور کہا یعنی آپ چھوڑ دیں مجھے اور ان مکذبین کو جو نعمت والے ہیں۔ اور انہیں تھوڑی سی مہلت دیں ۔ مقصدیہ ہے کہ ان کے ساتھ ابھی مقابلہ نہیں کرنا ہے۔ بلکہ صبر کرنا ہے۔ آپ برداشت کریں ۔ میں کود ان کو سزا دو نگا۔ ان لوگون سے جواب طلبی ہوگی جس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اس جماعت کے ذریعے باز پرس کریں گے جن کی تربیت سابقہ اصولوں کے مطابق آپ کریں گے۔ یہ چھ اصول ہیں جو اس سے پہلے بیان ہوچکے ہیں۔ انہی اصولوں کی روشنی میں انقلاب بر پا کیا جاسکتا ہے۔ لہذا فی الحال آپ اپنی جماعت کو تیار کریں۔ شاہد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِہٖ۝ 0 ۭ كَانَ وَعْدُہٗ مَفْعُوْلًا۝ 18 سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–19

ترکیب : شاہد اوصف لرسولا و بیلا قال الاخفش شدیدا اوبہ قال ابن عباس و منہ مطروابل و طعام وبیل اذاکان لایستمرائ۔ یوما مفعول تتقون ای کیف تتقون یوما ان کفرتم وقیل مفعول کفرتم ‘ یجعل الجملۃ صفۃ یوم شیبا جمع اشیب والاصل فی شین شیب الضم وکسرت لمجانسۃ الیاء منفطربہ والباء سببیۃ ویمکن ان تکون بمعنی فی۔ وانما قال منفطرو لم یقل منفطرۃ تنزیل السماء منزلۃ الشیء لتغیرھا عن صف تھا وقال الفراء السماء یذکر و یؤنث۔ تفسیر : قریش اپنے تکبر اور سرکشی میں آنحضرت ﷺ کے مطیع نہیں ہوتے تھے اور ان کو فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بھی معلوم تھا اس لیے ان آیات میں بتلایا جاتا ہے کہ ہم نے تمہارے پاس بھی ویسا ہی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 17–18

فَکَیْفَ تَـتَّـقُوْنَ اِنْ کَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَا نِ ۔ السَّمَـآئُ مُنْفَطِرٌ م بِہٖط کَانَ وَعْدُہٗ مَفْعُوْلاً ۔ (المزمل : 17، 18) (تو اگر تم نے ماننے سے انکار کیا تو اس دن کے عذاب سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ آسمان اس سے پھٹا پڑ رہا ہے، اللہ کا وعدہ تو پورا ہو کر ہی رہنا ہے۔ ) قیامت کی ہولناکی سے تنبیہ گزشتہ آیتوں میں فرعون کا حوالہ دے کر قریش کو متنبہ کیا ہے کہ جس طرح دنیا ہی میں فرعون اپنی سرکشی کی پاداش میں پکڑا گیا اور بدترین عذاب کا شکار ہوا، تمہیں بھی لرزاں اور ترساں رہنا چاہیے اس تصور سے کہ تمہارا انجام بھی فرعون جیسا نہ ہو۔ اب پیش نظر آیت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–19

فہم القرآن ربط کلام : فرعون کا انجام بتلا کر اہل مکہ کو ان کا آخرت کا انجام بتلایا گیا ہے۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت کا انکار کرنے والی اقوام کا دنیا میں بدترین انجام ہوا جن میں سر فہرست فرعون اور اس کے ساتھی ہیں۔ ان کا انجام بتلاتے ہوئے اہل مکہ کو ایک دفعہ پھر براہ راست خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر تم نبی ﷺ کی مخالفت اور آپ کی دعوت کا انکار کروگے تو بتاؤ اس دن کی سختیوں سے کس طرح بچ سکو گے جو دن بچوں کو بوڑھا کردے گا ؟ اور آسمان پھٹ جائے گا۔ یاد رکھو کہ یہ سب کچھ ہو کر رہے گا کیونکہ یہ رب ذوالجلال کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہوگا۔ جس قرآن کے ذریعے تمہیں ڈرایا جاتا ہے اس میں تمہارے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

18 : السَّمَآ ئُ مُنْفَطِرٌم بِہٖ (جس میں آسمان پھٹ جائے گا) دن کی تعریف سختی کے ساتھ فرمائی یعنی کہ آسمان باوجود اپنی عظمت اور مضبوطی کے اس دن پھٹ جائے گا۔ پھر دوسری مخلوق کے حال کا خود اندازہ کرلو ؟ فائدہ : منفطر کو مذکر اس لیئے لائے کہ سماء کی تاویل السقفؔ سے کی۔ نمبر 2۔ تقدیرعبارت اس طرح ہے السماء شئی منفطر۔ بہٖؔ یعنی یوم القیامۃ۔ وہ اس دن کی سختی اور ہول کی وجہ سے پھٹ جائے گا۔ جیسا کہ چیز اس سے پھٹ جاتی ہے جس سے اس کو پھاڑا جائے۔ کَانَ وَعْدُہٗ (بیشک اس کا وعدہ ضرور ہو کر رہے گا) وعد مصدر ہے جس کی اضافت مفعول کی طرف کی گئی ہے۔ اور وہ دن ہے نمبر 2۔ یا فاعل کی طرف ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

17 ۔” فکیف تتقون ان کفرتم “ یعنی تمہارے لئے قیامت کے دن بچنا کیسے ہوگا جب تم نے دنیا میں کفر کیا ؟ یعنی تمہارے لئے بچنے کے لئے کوئی راہ نہ ہوگی اس کا معنی تم قیامت کے دن عذاب سے کیسے بچو گے ؟ اور کس چیز سے تم بچائوکرو گے جب تم نے کفر کیا ؟ ” یوما یجعل الولدان شیبا “ اس کی سختی وہولنا کی کی وجہ سے بالکل سفید بالوں والا اور یہ اس وقت جب آدم (علیہ السلام) کو کہا جائے گا آپ کھڑے ہوں پس اپنی اولاد میں سے آگ میں لوگوں کو بھیجیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 10–18

10۔ 18۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ اے رسول ﷺ اللہ کے تم اپنے سب کام اللہ کو سونپ دو اللہ تمہارے سب کاموں کے سر انجام کے لئے کافی ہے۔ اس ہدایت کے پورا کرنے کے لئے فرمایا یہ لوگ جو اپنے مال و متاع کے غرور میں تم کو برا بھلا کہتے ہیں اور اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں تم اس کا کچھ خیال نہ کرو اور تھوڑے دنوں کے لئے ان لوگوں کو اللہ کے انتقام پر چھوڑ دو ۔ اللہ ان سے خود سمجھ لے گا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ان آیتوں کے نازل ہونے کے تھوڑے عرصہ کے بعد بدر کی لڑائی پیش آئی جس میں بڑے بڑے سرکش ستر آدمی مشرکین مکہ میں قتل ہوگئے۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے قریش کو دو طرح سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–18

یعنی تمہیں قیامت کے دن کیسے نجات حاصل ہوسکتی ہے، وہ ایسا دن ہے جس کا معاملہ نہایت ہولناک اور جس کا خطرہ بہت عظیم ہوگا۔ جو بچوں کو بوڑھا، اور بڑے بڑے جمادات کو پگھلا کر رکھ دے گا، پس اس کے خوف سے آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے بکھر جائیں گے۔ ( كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا) یعنی اس کا وقوع لازمی ہے، کوئی چیز اس کے سامنے حائل نہیں ہوسکتی۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–19

قول باری ہے (واکراسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا۔ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہورہو) مجاہد کا قول ہے ” اللہ سے اپنے اخلاص کا اظہار کرو۔ “ قتادہ کا قول ہے ” پورے اخلاص کے ساتھ اس سے دعا مانگو اور اس کی عبادت کرو۔ “ ایک قول کے مطابق اس سے مراد سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہنا اور صرف اسی سے خیر کی امید رکھنا ہے۔ بعض لوگ تکبیر افتتاح کے سلسلے میں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کیونکہ اس کا ذکر نماز کے ضمن میں ہوا ہے اس لئے یہ اللہ کے تمام اسماء کے ساتھ افتتاح صلوٰۃ کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔ قول باری ہے (سبحا طویلا ۔ (دن کے اوقات میں تمہارے لئے) بہت مصروفیات ہیں) قتادہ کا قول ہے کہ طویل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

22 ۔ یوم قیامت کی شدت کا اثر آسمان پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آسمان اس دن کی ہولناکی کی وجہ سے پھٹ پڑیگا با یہاں پر سبیبہ ہے، جیسا کہ ابن کثیر، صفوۃ التقاسیر، المراغی اور جامع البیان وغیرہ میں ہے اور بعض حضرات نے اس کو ظریفہ مانا ہے یعنی ان کے نزدیک یہاں پر بہ بمعنی فیہ ہے، جیسا کہ حضرت شیخ الہند اور حضرت تھانوی کے ترجموں سے ظاہر ہوتا ہے، جب کہ ان دونوں حضرات کے بعد آنے والے مترجمین نے بالعموم انہی کی پیروی کی ہے، اگرچہ یہ دونوں ہی مطلب صحیح اور درست ہیں لیکن سبیت والے معنی میں زور کلام زیادہ ہے، اس لئے ہم نے اپنے ترجمہ میں اسی کو اختیار کیا ہے، والحمد اللہ والعلم عند اللہ تعالیٰ حضرت حسن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 14–18

حساب چکانے کا دن تشریح : یہاں پھر اس خوفناک دن کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے کہ قیامت کی تباہ کاریاں آنکھوں کے سامنے آنے لگتی ہیں۔ جیسا کہ قرآن کی اس خبر کو آج کا سائنسدان بھی مان چکا ہے واقعی ہمارے قرآن نے یہ بڑی پکی اور سچی خبر دی ہے واقعی وہ اس قدر خوفناک منظر ہوگا کہ خوف کی وجہ سے جوان بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور تمام مخلوقات مر مٹ جائے گی پھر دوبارہ تمام مخلوقات کو زندہ کیا جائے گا اور پھر اللہ کے سامنے حاضری ہوگی اور دوزخ و جنت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کفار مکہ کو ہوش دلانے کے لیے فرعون کی مثال دیتا ہے کہ ان کو اللہ اور اپنے رسول ﷺ کی نافرمانی کی سزا اس دنیا میں بھی مل گئی تھی۔ یہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة المزمل۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اے کمبل پوش یہ بات ایک خوبصورت انداز محبت میں ارشاد فرمائی اور فرمایا کہ راتوں کو اٹھیں یعنی قیام فرمائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور تھوڑا وقت آرام کریں قیام کے لیے آدھی رات یا اس سے کچھ کم زیادہ کرلیاکریں اس میں نہایت خوبصورت انداز سے قرآن کی تلاوت کریں۔ نماز تہجد۔ یہ آیات ابتدائے اسلام کی ہیں اور ان میں آپ پر اور مسلمانوں پر تہجد کی نماز فرض کی گئی نیز رات کا اکثر حصہ قیام کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر درست طریقے سے اور خوبصورت انداز می پڑھنے کا حکم ہوا چناچہ آپ اور صحابہ کرام سال بھر تک تہجد ہی ادا فرماتے رہے جس میں طویل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 17–19

ف 4 یعنی کفر و شرک کو چھوڑ کر توحید کی راہ پر آجائے یہ راہ اسے ٹھیک ٹھیک خدا تک پہنچا دے گی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(73:18) السماء منفطر بہ : منفطر۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ انفطار (انفعال) مصدر۔ پھٹ جانے والا۔ یعنی پھٹ جائے گا۔ (اسم فاعل بمعنی مستقبل) ۔ فطر (مصدر۔ مجرد ثلاثی) بمعنی ہست سے نیست کرنا۔ عدم سے وجود میں لانا۔ پیدا کرنا۔ لغوی لحاظ سے فطر کے مفہوم میں پھاڑ کر وجود میں لانا یعنی پیدا کرنا۔ اسی مناسبت سے اس کا مفہوم قرار پایا۔ بہ میں ب سببیہ ہے اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب یوما کے لئے ہے یعنی آسمان اس روز (اس کی شدت سے) پھٹ جائے گا۔ یا ب بمعنی فی ہے : اس روز میں آسمان پھٹ جائے گا۔ یہ جملہ یوما کی صفت ثانیہ ہے۔ وکان وعدہ مفعولا ۔ : کان افعال ناقصہ میں سے ہے وعدہ مضاف مضاف الیہ مل کر اسم کان ۔ ہ ضمیر واحد…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ المزمل۔ کپڑوں میں لپٹنے والا۔ قم۔ کھڑا ہوجا۔ انقص کم کرلے۔ گھٹالے۔ رتل۔ صاف صاف پڑھ۔ سنلقی۔ ہم بہت جلدڈالیں گے۔ قول ثقیل۔ بھاری کلام۔ ناشئۃ۔ رات کو اٹھنا۔ بیدار ہونا۔ وطئہ ۔ مشقت۔ روندنا۔ اقومل قیلا۔ زیادہ درست بات۔ سبح طویل۔ زیادہ کام۔ زیادہ مشغولیت۔ تبتل۔ کاٹ ڈال۔ تبتیل۔ خوب کٹنا۔ ھجر۔ چھوڑ دینا۔ مھل۔ مہلت دے۔ لدینا۔ ہمارے پاس۔ انکال۔ بیڑیاں۔ زنجیریں۔ ذاغصۃ۔ گلے میں پھنس جانے والا۔ ترجف۔ کانپے گی۔ کشیب۔ ریت کے ٹیلے۔ مھیل۔ نیچے دھکیلا گیا۔ بیل۔ سخت۔ عبرت ناک۔ شیب۔ بوڑھا۔ منفظر۔ پھٹ جانے والا۔ ثلثی الیل۔ دو تہائی رات۔ تیسر۔ آسان ہوگا۔ اعظم اجرا۔ بہت بوڑھا ہوا ثواب۔ تشریح : سورة…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–18

نیک بختوں اور بدبختوں کا ذکر۔ (ف 1) اوپر اللہ نے اپنے محبوب کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ اے محبوب تم اپنے سب کام اللہ کو سونپ دو ، اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کے سرانجامی کے لیے کافی ہے ، اس ہدایت کے پورا کرنے کے لیے فرمایا یہ لوگ جو اپنے مال ومتاع کے غرور میں تم کو برابھلا کہتے ہیں اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں تم اس کا کچھ خیال نہ کرو اور تھورے دنوں کے لیے ان لوگوں کو اللہ کے انتقام پر چھوڑ دو ، اللہ ان سے خود سمجھ لے گا، اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے ان آیتوں کے نازل ہونے کے تھوڑے عرصہ بعد بدر کی لڑائی پیش آئی۔ جس میں بڑے بڑے سرکش مشرکین مکہ کے قتل ہوگئے اب آگے اللہ نے قریش کو دوطرح سے ڈرایا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–19

امراء کیوں مخالفت کرتے ہیں ! 1: حضور ﷺ نے جب اپنی بعثت کا اعلان کیا ۔ تو حسب دستور جن لوگوں نے انکار کیا ۔ وہ مفلس اور قلاش لوگ نہ تھے ۔ بلکہ وہ لوگ تھے ۔ جو صاحب مال ومنال تھے ۔ اور ابتداء سے یہ سنت چلی آرہی ہے ۔ کہ حق وصداقت کی مخالفت میں بھی روسا کا طبقہ پیش پیش رہتا ہے ۔ اور اس کی وجہ غالباً یہ ہے ۔ کہ غرباء کا دین سے کوئی تصادم نہیں ہوتا ۔ ان کی آرزوئیں اور خواہشیں نہایت محدود اور ادنی قسم کی ہوتی ہیں ۔ مگر یہ اکابر سیادت و قیادت کے خلاں اور منصب وجاہ کے متوالے ہوتے ہیں ۔ اور یہ بھی چاہتے ہیں ۔ کہ قانون واخلاق کی کوئی پابندی ان پر عائد نہ ہو ۔ مذہب کی پہلی لڑائی انہیں اغراض کی اصلاح کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(18) وہ دن ایسا ہے جس دن آسمان پھٹ جائے گا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ضرور پورا ہوکر رہے گا۔ یعنی اگر دنیا میں کچھ دن بچے بھی رہے تو آخر اس دن سے کیسے بچوگے جو دن اتنا طویل ہوگا کہ بچوں کو بڑھاپا آجائے یا اتنا ہولناک اور دہشت ناک ہوگا کہ بچوں کے بال سفید ہوجائیں اور بچے بوڑھے ہوجائیں اس دن آسمان پھٹ جائے گا حضرت حق تعالیٰ کا وعدہ ضرور پورا ہونا ہے جو ہو کررہے گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس دن کی شدت سے یا درازی سے اگرچہ وہاں جیسے ہیں تی سے رہیں گے پر مدت اتنی ہے کہ لڑکے بوڑھے ہوجائیں۔ خلاصہ : یہ کہ گ ایسا نہ ہگا بلکہ جو جیسا ہے ویسا ہی رہے گا مگر دن کی شدت اور طوالت ایسی ہوگی جس میں بچے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس دن آسمان پھٹ جائیں گے اور اس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا ۔ 18 (منقطر) اسم فاعل واحد مذکر انفطار مصدر باب انفعال۔ پھٹ جانے والا یعنی پھٹ جائے گا۔ اسم فاعل بمعنی مستقبل۔ اس دن کی ہولناکی سے آسمان پھٹ جائے گا اور یہ وہی وقت ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ جو اس نے قیامت کے بپا کرنے کا لوگوں سے کر رکھا ہے وہ پوا ہوجائے گا یعنی قیامت بپا ہوجائے گی اور ہر ایک انسان اپنے اعمال کے نتیجے سے دوچار ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–19

يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا (on the Day when the earth and the mountains will quake, and the mountains will turn into a slipping heap of sand. [ 14] We have sent to you a messenger, as a witness over you, just as We sent a messenger to Fir'aun (the Pharaoh). [ 15] Then, Fir'aun disobeyed the messenger; so We seized him with a severe seizure. [ 16] So, if you disbelieve, how will you save yourself from a day that will turn the small boys into grey-headed old men...17). These verses describe the horrors and terrors of the Day of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–19

17 That is, "In the first place, you should be afraid that if you do not accept the invitation of the Messenger sent by Us, you will have to meet the same evil end in this world, which the Pharaoh has already met in consequence of this very crime. But even if no torment is sent on you in the world, how will you save yourselves from the punishment of the Day of Resurrection?"

Read the full tafseer →