Al-Muzzammil 73:19

Al-Muzzammil · from ayah 19

73:19

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ ۚ— فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّهٖ سَبِیْلًا ۟۠اِنَّ هٰذِهٖ تَذۡكِرَةٌ ‌ ۚ فَمَنۡ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيۡلًا

یہ (قرآن) تو نصیحت ہے۔ سو جو چاہے اپنے پروردگار تک (پہنچنے کا) رستہ اختیار کرلے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, this is a reminder, so whoever wills may take to his Lord a way.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Muzzammil

All translations of 73:19

یہ ایک نصیحت ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کر لے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ (قرآن) تو نصیحت ہے۔ سو جو چاہے اپنے پروردگار تک (پہنچنے کا) رستہ اختیار کرلے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک یہ نصیحت ہے پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راه اختیار کرے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ ایک نصیحت کی بات ہے۔ اب جو چاہے، اپنے پروردگار کی طرف جانے والا راستہ اختیار کرلے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک یہ نصیحت ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ لے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بے شک یہ (قرآن) نصیحت ہے، پس جو شخص چاہے اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ اِختیار کر لے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یقینا یہ ایک نصیحت ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف راستہ بنا لے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ (قرآن) یقینا ایک نصیحت ہے اب جو چاہے وہ اپنے پروردگار کی طرف (جانے والی) راہ اختیار کرلے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ ایک یا دو ہانی ہے تو جو چاہے وہ اپنے رب کی راہ اختیار کرلے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ یہ (آیتیں) ایک عظیم الشان نصیحت ہے اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرلے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ (قرآن) ایک نصیحت ہے سو جس کا جی چاہے اپنے پروردگار کی طرف کا راستہ اختیار کرلے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا یہ ایک یاددہانی ہے۔ تو جو کوئی بھی چاہے وہ اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ قرآن تو نصیحت ہے سو جو چاہے اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ اختیار کرے

— محترمہ رفعت اعجاز

Indeed this is nothing but a Good Counsel; so let him who will take a way leading to his Lord.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed, this is a reminder; so let anyone who so wishes, adopt a way to his Lord.

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed, this is a reminder; so let anyone who so wishes, adopt a way to his Lord.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, this is an admonition, therefore whosoever wills, let him take a path to His Lord!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! This is a Reminder. Let him who will, then, choose a way unto his Lord.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, this is a reminder, so whoever wills may take to his Lord a way.

— Saheeh International

This is a reminder. Let anyone who wants, seek guidance from his Lord.

— Muhammad Sarwar

Surely this is a reminder, then let him, who will take the way to his Lord.

— Muhammad Habib Shakir

Verily this is an admonition; let him therefore, who will, choose a way Unto his Lord.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily this is an Admonition: therefore, whoso will, let him take a (straight) path to his Lord!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 73:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–20

پیغام نصیحت و عبرت اور قیام الیل فرماتا ہے کہ یہ سورت عقل مندوں کے لئے سراسر نصیحت وعبرت ہے جو بھی طالب ہدایت ہو وہ مرضی مولا سے ہدایت کا راستہ پالے گا اور اپنے رب کی طرف پہنچ جانے کا ذریعہ حاصل کرلے گا، جیسے دوسری سورت میں فرمایا آیت (وَمَا تَشَاۗءُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا 30 ؀ ڰ) 76۔ الإنسان :30) تمہاری چاہت کام نہیں آتی وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہے۔ صحیح علم والا اور پوری حکمت والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، پھر فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ کا اور آپ کے اصحاب کی ایک جماعت کا کبھی دو تہائی رات تک قیام میں مشغول رہنا کبھی آدھی رات اسی میں گذرنا کبھی تہائی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 17–19

سورة الْمُزَّمِّل 17 یعنی اول تو تمہیں ڈرنا چاہیے کہ اگر ہمارے بھیجے ہوئے رسول کی بات تم نے نہ مانی تو وہ برا انجام تمہیں دنیا میں دیکھنا ہوگا جو فرعون اس سے پہلے اسی جرم کے نتیجے میں دیکھ چکا ہے۔ لیکن اگر فرض کرو کہ دنیا میں تم پر کوئی عذ اب نہ بھی بھیجا گیا تو روز قیامت کے عذاب سے کیسے بچ نکلو گے ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–19

آگے کچھ قیامت کے ہولناک واقعات کا بیان فرمایا يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَال آلایتہ اس کے بعد کفار مکہ کو فرعون اور حضرت موسیٰ ؑ کا قصہ سنا کر اس سے ڈرایا گیا کہ جس طرح فرعون اپنے رسول حضرت موسیٰ ؑ کی تکذیب کر کے گرفتار عذاب ہوا، تم بھی اس پر جمے رہے تو سمجھ لو کہ تم پر بھی ایسا ہی کوئی عذاب دنیا میں آسکتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ اگر دنیا میں کوئی عذاب نہ بھی آیا تو قیامت کے اس دن کے عذاب سے تمہیں کون بچا سکے گا جس کی ہولناکی اور طول کی وجہ سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ روز قیامت کے شدید اور ہولناکی اور طول کی وجہ سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ روز قیامت کے شدید…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’ہٰذِہٖ‘ سے اشارہ قرآن کی ان آیات کی طرف ہے جو قریش کو آخرت کی تذکیر کے لیے سنائی گئیں۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب سے پہلے تذکیر و تنبیہ ضروری تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بھیج کر حجت تمام کر دی۔ اب ذمہ داری لوگوں کی اپنی ہے جس کا جی چاہے اپنے رب کی راہ اختیار کر کے اس کی رحمت و رضوان کا مستحق بن جائے اور جس کا چاہے وہ اپنی گمراہی پر اڑا رہے اور اس کا انجام دیکھے۔ اللہ کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 18–19

18۔ 1 یہ یوم کی دوسری صفت ہے اس دن ہولناکی سے آسمان پھٹ جائے گا 18۔ 2 یعنی اللہ نے جو بعث بعد الموت، حساب کتاب اور جنت دوزخ کا وعدہ کیا ہوا ہے یہ یقینا لامحالہ ہو کر رہنا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–19

7: مکی زندگی میں ہمیشہ حکم یہی دیا گیا ہے کہ کافروں کی تکلیف دہ باتوں پر صبرو کرو، اور ان سے لڑائی ٹھاننے کے بجائے خوبصورتی سے علیحدگی اختیار کرلو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان ھذا .................... سبیلا ” یہ ایک نصیحت ہے ، اب جس کا جی چاہے ، اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرلے “۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی طرف جانے کا راستہ بہت ہی آسان ہے۔ ان راستوں کے مقابلے میں جو مشکوک ہیں ، جو ہولناک اور خوفناک ہیں کیونکہ وہ راہ مستقیم ہے۔ یہاں ایک طرف تو اسلام کے ہٹ دھرم مکذبین کے دلوں کے اندر خوف اور زلزلہ پیدا کیا گیا ، دوسری جانب رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک اور ضعیف اور قلیل اہل ایمان کی ڈھارس بندھائی گئی ہے کہ اطمینان رکھو اور یقین کرو ، تمہارا رب تمہارے ساتھ ہے ، وہ تمہارے اعدا سے خود نمٹ لے گا۔ بس ان کے لئے ایک قلیل مہلت مقرر ہے ، یہ ایک معلوم وقت ہے ۔ اس کے بعد حق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

14 یعنی نصیحت کردی گئی اب جو اپنا فائدہ چاہے اس نصیحت پر عمل کر کے اپنے رب سے مل جائے۔ راستہ کھلا پڑا ہے کوئی روک ٹوک نہیں نہ خدا کا کچھ فائدہ ہے۔ تم سو دفعہ اپنا فائدہ سمجھو تو سیدھے لے آؤ۔ (تنبیہ) رات کے جاگنے کا حکم جو شروع سورت میں تھا تقریباً ایک سال تک رہا۔ پھر اگلی آیت سے منسوخ ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 19{ اِنَّ ہٰذِہٖ تَذْکِرَۃٌج } ”یقینا یہ ایک یاددہانی ہے۔“ { فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًا۔ } ”تو جو کوئی بھی چاہے وہ اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے۔“ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو قرآن مجید کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق اور ہمت عطا فرمائے۔ آمین !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

17 لہذا تمہارے لیے بہترین طرز عمل یہی ہے کہ اس قرآن کی نصیحت پر عمل کرو۔ اور اللہ کی نافرمانی کے بجائے فرمانبرداری کا رویہ اپنا کر اس دن کے عذاب سے بچ جاؤ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

14۔ یعنی یہ قرآن ہدایت نامہ ہے تو سب ہی کے لئے لیکن اس سے فائدہ وہی اٹھائیں گے، جو اٹھانا چاہیں گے، جو فائدہ اٹھانے کا قصد کریں گے۔ (آیت) ” تذکرۃ “ یعنی ہدایت نامہ اور وہ بھی کیسا جامع بلیغ، مؤثر ودلنشین ! (آیت) ” فمن ..... سبیلا “۔ متکلمین نے اس سے یہ استنباط کیا ہے کہ طالب سالک محروم نہیں رکھا جاتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–19

وذرنی و المکذبین اولی النعمۃ الخ ان الفاظ میں صاف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ مکہ میں دراصل جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلا رہے تھے اور طرح طرح کے فریب دے کر، تعصبات کو ابھار کر، عوام کو آپ ﷺ کی مخالفت پر آمادہ کر رہے تھے، وہ قوم کے کھاتے پیتے اور خوشحال لوگ تھے کیونکہ اسلام کی اس دعوت اصلاح کی براہ راست زد، ان کے مفادات پر پڑ رہی تھی، قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ معاملہ صرف رسول اللہ ہی کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ ہمیشہ یہی گروہ، اصلاح کی راہ روکنے کے لئے سنگ گراں بن کر حائل ہوتا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان ھذہ . یہ آیات جن کا القاء ہم تم پر کر رہے ہیں۔ تذکرۃ . یادداشت ہیں ‘ مبدء اور معاد کی یاد دلانے والی۔ اللہ تک ‘ اللہ کے جود و انعام اور اس کی رضا اور ہدایت تک پہنچنے کا راستہ بتانے والی ہیں۔ فمن شاء . جو نصیحت قبول کرنا اور رب کے راستہ پر چلنا چاہے۔ اتخذ الی ربہ سبیلا . وہ اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ پکڑ لے۔ فمن شاء میں فاء سببی ہے۔ یعنی یہ تذکرہ ہی اللہ تک پہنچانے کا راستہ ہے ‘ اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ بات یہ ہے کہ اللہ کا قرب ہم سے ہماری اپنی جانوں سے بھی زیادہ ہے مگر ہماری غفلت اور اللہ کی عظمت و بزرگی کا پردہ حائل ہے ‘ انہی حجابوں کی طرف ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اشارہ کیا ہے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یہ سورت نصیحت و عبرت ہے سو جس کا جی چاہے اپنے پروردگار کی طرف راستہ اختیار کرے یا یہ کہ توحید کا قائل ہوجائے جو اسے اس کے پروردگار تک پہنچا دے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 15–19

(انا ارسلنا الیکم رسولاً…:) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو دو طرح سے ڈرایا ہے، ایک فرعون کا قصہ یاد دلا کر کہ اگر تمہاری سرکشی فرعون کی طرح جاری رہی تو تمہارا انجام بھی فرعون اور اس کے لشکروں جیسا ہوگا، دوسرا یہ کہ اگر تم دنیا کے عذاب سے بچ بھی گئے تو قیامت کے اس عذاب سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا ؟ (2) شاھداً علیکم : رسول اللہ ﷺ اس بات کی شہادت دیں گے کہ انہوں نے حق تعالیٰ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا اور یہبھی کہ کس نے اسے مانا اور کس نے انکار کیا۔ یاد رہے کہ آپ انہی لوگوں کے متعلق یہ شہادت دیں گے جو آپ کی زندگی میں موجود تھے، جیسا کہ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ان ھذہ تذکرۃ، ھذہ سے مراد سورت ہے، آیات ہیں، ایک قول یہ کیا گیا ہے قرآن کی آیات مراد ہیں کیونکہ وہ سورة واحدہ کی طرح ہے۔ فمن شاء اتخذ الی ربہ سبیلا۔ جو یہ ارادہ رکھتا ہے کہ وہ ایمان لائے اور اپنے رب کی رضا اور رحمت تک پہنچنے کا راستہ بنائے تو وہ رغبت کرے پس یہ اس لیے ممکن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دلائل ظاہر کردیے ہیں پھر ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ آیت، آیت سیف سے منسوخ ہوگئی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی اسی طرح ہے، فمن شاء ذکرہ (المدثر) ثعلبی نے کہا، زیادہ مناسب یہ ہے کہ یہ منسوخ نہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 18–19

6۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت السماء منفطر بہ اس دن آسمان پھٹ جائے گا یعنی قیامت کے دن کی وجہ سے آسمان بوجھل اور بھاری ہوجائے گا۔۔ 7۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت السماء منفطر بہ یعنی آسمان اس کے سبب بھاری اور وزنی ہوجائے گا۔ 8۔ فریابی وابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت السماء منفطر بہ کے بارے میں روایت کیا کہ حبشی زبان میں اس سے مراد ہے کہ آسمان بھر جائے گا۔ 9۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ منفطر بہ یعنی اس دن کے سبب آسمان انتہائی بھاری اور وزنی ہوجائے گا۔ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا 10۔ قیامت کے دن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ: بیشک یہ ایک یاددہانی ہے ] [فَمَنْ شَاۗءَ : پھر جو چاہے ] [اتَّخَذَ اِلٰى رَبِهٖ : وہ بنائے اپنے رب کی طرف ] [سَبِيْلًا : ایک راستہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ1ۚ﴾ (بلاشبہ یہ نصیحت ہے) ﴿ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا (رح) 0019﴾ (سو جو چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے) یعنی جس راستہ پر چلنے سے وہ راضی ہوتا ہے اور جس کے اختیار کرنے پر اس سے آخرت کی نعمتوں کا وعدہ ہے اس راستہ کو اختیار کرلے وہ دین اسلام ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–19

اتمام حجت خداوندی برمنکرین و کفار بہ بعثت سیدالابرار خاتم الانبیاء والمرسلین ﷺ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا ارسلناالیکم رسولا ......... الی ......... الی ربہ سبیلا “۔ (ربط) ابتداء سورت میں حضور اکرم ﷺ کو قیام اللیل کے امر کے ساتھ خدا کے ذکر کی تاکید فرمائی گئی تھی اور یہ کہ منکرین ومشرکین کی ایذاء رسانی پر صبر کریں اور رب العالمین کی مدد کا انتظار فرمائیں اور اس امر کا کہ خدا کا عذاب مجرمین پر دنیا اور آخرت میں آکر رہے گا اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی بعثت کا ذکر فرماکرکفار مکہ کو تنبیہ کی جارہی ہے اور فرمایا جارہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کو کفار مکہ بالکل ایسا ہی سمجھ لیں جیسا کہ موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 16:۔ ” ان ھذہ تذکرۃ “ یہ تمام مذکورہ بالا بیان عبرت و نصیحت ہے جو شخص چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ کی بارگاہ میں باریابی اور تقرب کی راہ اختیار کرلے یعنی ایمان لے آئے اور نیک کام کرے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–19

گذشتہ سے پیوستہ : اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں چند اہم اصول بیان فرمائے اس کے بعد مخالفت کرنے والے مکذبین کا ذکر فرمایا اور کہا یعنی آپ چھوڑ دیں مجھے اور ان مکذبین کو جو نعمت والے ہیں۔ اور انہیں تھوڑی سی مہلت دیں ۔ مقصدیہ ہے کہ ان کے ساتھ ابھی مقابلہ نہیں کرنا ہے۔ بلکہ صبر کرنا ہے۔ آپ برداشت کریں ۔ میں کود ان کو سزا دو نگا۔ ان لوگون سے جواب طلبی ہوگی جس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اس جماعت کے ذریعے باز پرس کریں گے جن کی تربیت سابقہ اصولوں کے مطابق آپ کریں گے۔ یہ چھ اصول ہیں جو اس سے پہلے بیان ہوچکے ہیں۔ انہی اصولوں کی روشنی میں انقلاب بر پا کیا جاسکتا ہے۔ لہذا فی الحال آپ اپنی جماعت کو تیار کریں۔ شاہد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 19–20

اِنَّ ہٰذِہٖ تَذْكِرَۃٌ۝ 0 ۚ فَمَنْ شَاۗءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّہٖ سَبِيْلًا۝ 19 ۧ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–19

ترکیب : شاہد اوصف لرسولا و بیلا قال الاخفش شدیدا اوبہ قال ابن عباس و منہ مطروابل و طعام وبیل اذاکان لایستمرائ۔ یوما مفعول تتقون ای کیف تتقون یوما ان کفرتم وقیل مفعول کفرتم ‘ یجعل الجملۃ صفۃ یوم شیبا جمع اشیب والاصل فی شین شیب الضم وکسرت لمجانسۃ الیاء منفطربہ والباء سببیۃ ویمکن ان تکون بمعنی فی۔ وانما قال منفطرو لم یقل منفطرۃ تنزیل السماء منزلۃ الشیء لتغیرھا عن صف تھا وقال الفراء السماء یذکر و یؤنث۔ تفسیر : قریش اپنے تکبر اور سرکشی میں آنحضرت ﷺ کے مطیع نہیں ہوتے تھے اور ان کو فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بھی معلوم تھا اس لیے ان آیات میں بتلایا جاتا ہے کہ ہم نے تمہارے پاس بھی ویسا ہی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ ھٰذِہٖ تَذْکِرَۃٌ ج فَمَنْ شَـآئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلاً ۔ (المزمل : 19) (یہ ایک نصیحت ہے تو جو چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرلے۔ ) ھٰذِہٖسے اشارہ قرآن کریم کی ان آیات کی طرف ہے جو قریش کو آخرت کی یاددہانی کے لیے سنائی گئیں۔ مقصود تذکیر و تنبیہ کرنا تھا تاکہ ہر سننے والا غفلت سے نکل کر آخرت کی تیاری کی فکر کرے۔ اسی مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بھیج کر حجت تمام کردی۔ اب ذمہ داری لوگوں کی اپنی ہے جس کا جی چاہے اپنے رب کی راہ اختیار کرکے اس کی رحمت و رضوان کا مستحق بن جائے اور جس کا جی چاہے اپنی گمراہی پر اڑا رہے اور اپنے انجام کو پہنچے۔ اللہ تعالیٰ کو اس کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–19

فہم القرآن ربط کلام : فرعون کا انجام بتلا کر اہل مکہ کو ان کا آخرت کا انجام بتلایا گیا ہے۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت کا انکار کرنے والی اقوام کا دنیا میں بدترین انجام ہوا جن میں سر فہرست فرعون اور اس کے ساتھی ہیں۔ ان کا انجام بتلاتے ہوئے اہل مکہ کو ایک دفعہ پھر براہ راست خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر تم نبی ﷺ کی مخالفت اور آپ کی دعوت کا انکار کروگے تو بتاؤ اس دن کی سختیوں سے کس طرح بچ سکو گے جو دن بچوں کو بوڑھا کردے گا ؟ اور آسمان پھٹ جائے گا۔ یاد رکھو کہ یہ سب کچھ ہو کر رہے گا کیونکہ یہ رب ذوالجلال کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہوگا۔ جس قرآن کے ذریعے تمہیں ڈرایا جاتا ہے اس میں تمہارے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

19 : اِنَّ ھٰذِہٖ (یہ ایک نصیحت ہے) مشارالیہ وہ آیات ہیں جو وعید پر دلالت کر رہی ہیں۔ تَذْکِرَۃٌ (ایک نصیحت ہے) فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًا (پس جس کا جی چاہے اپنے پروردگار کی طرف راستہ اختیار کرے) پس جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے۔ اور تقویٰ اور خشیت سے اس کی طرف راستہ بنائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

18 ۔” پھر اس ہولناکی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ” السماء منفطر بہ “ پھٹنے والا ہے اس جگہ پر فرشوں کے اترنے کی وجہ سے اور کہا گیا ہے ھاء ” رب “ کی طرف لوٹ رہا ہے یعنی اس کے حکم اور ہیبت سے ” کان وعدہ مفعولا “ ہونے والا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–20

19۔ 20۔ آدمی رات یا اس سے کچھ کم و زیادہ تک تہجد کی نماز کے پڑھنے کا جو حکم اول سورة میں تھا وہ انہی آیتوں سے منسوخ ہوگیا اور اس کے آگے پنجگانہ فرض نماز کا جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس تھوڑی دیر تہجد کی نماز میں قرآن شریف پڑھنے کا حکم فرض کے طور پر جو نکلتا تھا وہ بھی منسوخ ہوگیا بعض علماء نے صحیح 1 ؎ بخاری کی حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی اس حدیث سے تہجد کی نماز کے فرض ہونے کی تائید نکالی ہے جس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے رو برو ایک شخص کا ذکر آیا کہ وہ صبح تک سوتا رہتا ہے اور نماز کیو نہیں اٹھتا۔ لیکن یہ تائید صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ صحیح ابن 2 ؎ حبان کی روایت میں یہ صراحت موجود ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یہ وعظ جس کے ذریعے سے اللہ نے قیامت کے دن کے احوال اور اس کی ہولناکیوں کی خبر دی ہے، ایک یاد دہانی ہے جس سے اہل تقوی نصیحت پکڑتے ہیں اور اہل ایمان (برائیوں) رک جاتے ہیں۔ (فَمَنْ شَاۗءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا) پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ اختیار کرے یعنی وہ راستہ جو اسے اس کے رب تک پہنچاتا ہے وہ راستہ اللہ کی شریعت کی اتباع کے ذریعے سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعایل نے اس کو کھول کھول کر بیان کیا اور پوری طرح واضح کردیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ نے بندوں کو ان کے افعال پر قدرت اور اختیار عطا کیا ہے ایسے نہیں جیسے جبریہ کہتے ہیں کہ بندوں کے افعال ان کی مشیت کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–19

قول باری ہے (واکراسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا۔ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہورہو) مجاہد کا قول ہے ” اللہ سے اپنے اخلاص کا اظہار کرو۔ “ قتادہ کا قول ہے ” پورے اخلاص کے ساتھ اس سے دعا مانگو اور اس کی عبادت کرو۔ “ ایک قول کے مطابق اس سے مراد سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہنا اور صرف اسی سے خیر کی امید رکھنا ہے۔ بعض لوگ تکبیر افتتاح کے سلسلے میں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کیونکہ اس کا ذکر نماز کے ضمن میں ہوا ہے اس لئے یہ اللہ کے تمام اسماء کے ساتھ افتتاح صلوٰۃ کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔ قول باری ہے (سبحا طویلا ۔ (دن کے اوقات میں تمہارے لئے) بہت مصروفیات ہیں) قتادہ کا قول ہے کہ طویل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 19–20

24 ۔ قرآن ایک عظیم الشان اور بےمثال تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ ایک عظیم الشان نصیحت اور یا دہانی ہے اور ایسی عظیم الشان نصیحت کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال اس نیلے آسمان کے نیچے نہ اس سے پہلے کبھی ہوئی ہے اور نہ آئندہ کبھی ممکن ہوسکتی ہے، اور ایسی عظیم الشان کہ جو اپنے ماننے والوں اور سچے پیروکاروں کو دنیا و آخرت کی سعادتوں اور حقیقی فوز و فلاح سے بہرہ ور کرنے والی ہے، ایسی عظیم الشان کہ اس سے منہ موڑنے الوں کے لئے سعادت و کامیابی کی دوسری کوئی راہ ممکن ہی نہیں، والعیاذ باللہ العظیم سو " ان ھذہ تذکرۃ " کے اس مختصر سے جملے سے دو اہم اور بنیادی باتیں واضح ہوجاتی ہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–20

عبادت میں سہولت اور نجات کا راستہ تشریح : تہجد کے بارے میں لوگوں کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے کافی سہولت دیدی ہے بالکل اسی طرح جیسے نماز میں روزے اور حج میں سہولت دی گئی ہے۔ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ پہلے حکم کے بعد یہ دوسرا حکم ایک سال کے بعد نازل ہوا ” اور رات کا قیام فرض سے نفل کردیا گیا۔ حلال طریقہ سے روزی کمانا اور جہاد میں شامل ہونا یہ قرآن پر عمل کرنے کی صورتیں ہیں۔ پھر زکوۃٰ پر زور دیا گیا ہے اور اس کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ گویا یہ اللہ کو قرض دینے کے برابر ہے۔ حالانکہ یہ انسانی معاشرے کی اصلاح اور اکنامکس کا ایک بہت بڑا اصول ہے جو معاشی ناہمواری کو ختم کرتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة المزمل۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اے کمبل پوش یہ بات ایک خوبصورت انداز محبت میں ارشاد فرمائی اور فرمایا کہ راتوں کو اٹھیں یعنی قیام فرمائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور تھوڑا وقت آرام کریں قیام کے لیے آدھی رات یا اس سے کچھ کم زیادہ کرلیاکریں اس میں نہایت خوبصورت انداز سے قرآن کی تلاوت کریں۔ نماز تہجد۔ یہ آیات ابتدائے اسلام کی ہیں اور ان میں آپ پر اور مسلمانوں پر تہجد کی نماز فرض کی گئی نیز رات کا اکثر حصہ قیام کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر درست طریقے سے اور خوبصورت انداز می پڑھنے کا حکم ہوا چناچہ آپ اور صحابہ کرام سال بھر تک تہجد ہی ادا فرماتے رہے جس میں طویل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 17–19

ف 4 یعنی کفر و شرک کو چھوڑ کر توحید کی راہ پر آجائے یہ راہ اسے ٹھیک ٹھیک خدا تک پہنچا دے گی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(73:19) ان ھذہ تذکرۃ : ان حرف مشبہ بالفعل ھذہ اس کا اسم۔ تذکرۃ اس کی خبر۔ ھذہ : ای ایات القران، الایات الناطقۃ بالوعید (مدارک التنزیل عذاب کے متعلق آیات۔ ایات الموعدۃ۔ (بیضاوی) وعدہ عذاب کے متعلق آیات۔ تذکرۃ۔ نصیحت ، یاد دہانی۔ بروزن تفعلۃ باب تفعیل کا مصدر ہے ۔ بیشک یہ قرآنی آیات۔ یا یہ قرآن ایک نصیحت ہے۔ فمن شاء اتخذ الی ربہ سبیلا۔ پھر جو چاہے اپنے رب کی طرف آنے کا راستہ اختیار کرے۔ سبیلا بوجہ مفعول منصوب ہے

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ المزمل۔ کپڑوں میں لپٹنے والا۔ قم۔ کھڑا ہوجا۔ انقص کم کرلے۔ گھٹالے۔ رتل۔ صاف صاف پڑھ۔ سنلقی۔ ہم بہت جلدڈالیں گے۔ قول ثقیل۔ بھاری کلام۔ ناشئۃ۔ رات کو اٹھنا۔ بیدار ہونا۔ وطئہ ۔ مشقت۔ روندنا۔ اقومل قیلا۔ زیادہ درست بات۔ سبح طویل۔ زیادہ کام۔ زیادہ مشغولیت۔ تبتل۔ کاٹ ڈال۔ تبتیل۔ خوب کٹنا۔ ھجر۔ چھوڑ دینا۔ مھل۔ مہلت دے۔ لدینا۔ ہمارے پاس۔ انکال۔ بیڑیاں۔ زنجیریں۔ ذاغصۃ۔ گلے میں پھنس جانے والا۔ ترجف۔ کانپے گی۔ کشیب۔ ریت کے ٹیلے۔ مھیل۔ نیچے دھکیلا گیا۔ بیل۔ سخت۔ عبرت ناک۔ شیب۔ بوڑھا۔ منفظر۔ پھٹ جانے والا۔ ثلثی الیل۔ دو تہائی رات۔ تیسر۔ آسان ہوگا۔ اعظم اجرا۔ بہت بوڑھا ہوا ثواب۔ تشریح : سورة…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) یعنی نصیحت کردی گئی اب جو اپنا فائدہ چاہے اس نصیحت پر عمل کرکے اپنے رب سے مل جائے، راستہ کھلا پڑا ہے کوئی روک ٹوک نہیں نہ خدا کا کچھ فائدہ ہے تم سو دفعہ اپنا فائدہ سمجھو تو سیدھے چلے آؤ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–19

امراء کیوں مخالفت کرتے ہیں ! 1: حضور ﷺ نے جب اپنی بعثت کا اعلان کیا ۔ تو حسب دستور جن لوگوں نے انکار کیا ۔ وہ مفلس اور قلاش لوگ نہ تھے ۔ بلکہ وہ لوگ تھے ۔ جو صاحب مال ومنال تھے ۔ اور ابتداء سے یہ سنت چلی آرہی ہے ۔ کہ حق وصداقت کی مخالفت میں بھی روسا کا طبقہ پیش پیش رہتا ہے ۔ اور اس کی وجہ غالباً یہ ہے ۔ کہ غرباء کا دین سے کوئی تصادم نہیں ہوتا ۔ ان کی آرزوئیں اور خواہشیں نہایت محدود اور ادنی قسم کی ہوتی ہیں ۔ مگر یہ اکابر سیادت و قیادت کے خلاں اور منصب وجاہ کے متوالے ہوتے ہیں ۔ اور یہ بھی چاہتے ہیں ۔ کہ قانون واخلاق کی کوئی پابندی ان پر عائد نہ ہو ۔ مذہب کی پہلی لڑائی انہیں اغراض کی اصلاح کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(19) بلا شبہ یہ تمام مضمون ایک نصیحت ہے پس جو چاہے اپنے پروردگار تک پہنچنے کا راستہ اختیار کرلے۔ یعنی یہ مضامین نصیحت کے بیان کیے گئے ہیں اور یہ مضامین سب نصیحت ہیں جو شخص اپنا نفع چاہے وہ ان نصائح پر عمل کرکے اپنے پروردگار سے مل جائے اس کا راستہ کھلا ہوا ہے کسی کے لئے روک نہیں ہے جو اس تک پہنچنا چاہتا ہے وہ ان نصائح پر عمل کرے اور پہنچ جائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں رات جاگنے کا حکم ایک برس رہ کر موقوف ہوا اگلی آیت اتری۔ خلاصہ : یہ کہ شروع سورت میں جو شب بیداری اور رات کے جاگنے کا حکم ہوا تھا وہ تقریباً ایک سال کے بعد منسوخ ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ قرآن کریم ایک نصیحت ہے جو چاہے نصیحت اختیار کر لے ۔ 19 آنے والے وقت کے بارے میں ہم نے اس قرآن کریم میں تم کو بار بار نصیحت کرنے کی کوشش کی ہے کہ تم نصیحت حاصل کرلو اور خواب غفلت سے بیدا رہو جائو۔ دیکھ لو کتنے ہی لوگ ہیں کہ تم اپنے ہاتھوں ان کو رخصت کر آئے ہو اور پھر جو گیا ہے ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں آیا اس لئے اس دار فانی سے نکل جانے کے بعد دوبارہ دار عمل کی طرف تم کو لوٹایا نہیں جائے گا۔ اب تو تمہارے لئے وہ وعدہ کا دن جو مقرر کیا گیا ہے اس کی انتظار کے سوا چارہ نہیں ہے اور ابھی تمہارا وقت ہے جو چلے گئے وہ تو چلے گئے لیکن تم کو سنبھلنے کے لئے جو مہلت دی گئی ہے اگر تم نے بھی اس کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–19

يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا (on the Day when the earth and the mountains will quake, and the mountains will turn into a slipping heap of sand. [ 14] We have sent to you a messenger, as a witness over you, just as We sent a messenger to Fir'aun (the Pharaoh). [ 15] Then, Fir'aun disobeyed the messenger; so We seized him with a severe seizure. [ 16] So, if you disbelieve, how will you save yourself from a day that will turn the small boys into grey-headed old men...17). These verses describe the horrors and terrors of the Day of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–19

17 That is, "In the first place, you should be afraid that if you do not accept the invitation of the Messenger sent by Us, you will have to meet the same evil end in this world, which the Pharaoh has already met in consequence of this very crime. But even if no torment is sent on you in the world, how will you save yourselves from the punishment of the Day of Resurrection?"

Read the full tafseer →