Al-Jinn 72:2

Al-Jinn · from ayah 2

72:2

یَّهْدِیْۤ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ ؕ— وَلَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًا ۟ۙيَّهۡدِىۡۤ اِلَى الرُّشۡدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ‌ ؕ وَلَنۡ نُّشۡرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًا

جو بھلائی کا رستہ بتاتا ہے سو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اور ہم اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

It guides to the right course, and we have believed in it. And we will never associate with our Lord anyone.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jinn

All translations of 72:2

جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے اِس لیے ہم اُس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو بھلائی کا رستہ بتاتا ہے سو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اور ہم اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو راه راست کے طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ہم اس پر ایمان ﻻ چکے (اب) ہم ہرگز کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے، اس لیے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں، اور اب اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو (عبادت میں) ہرگز شریک نہیں مانیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ بھلائی کی راہ بتا تا ہے تو ہم اس پر ایمان لائے، اور ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کا شریک نہ کریں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو ہدایت کی راہ دکھاتا ہے، سو ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں، اور اپنے رب کے ساتھ کسی کو ہرگز شریک نہیں ٹھہرائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو سیدھی راہ کی طرف لے جاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے اور (اب) ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو کبھی شریک نہیں کرینگے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو بھلائی کی راہ بتاتا ہے سو ہم تو اس پر ایمان لے آئے اور ہم (آئندہ) کبھی کسی کو اپنے پروردگار کا شریک نہ ٹھہرائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو ہدایت کی راہ بتاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لائے اور اب ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو راہنمائی کرتا ہے سیدھی (اور صحیح) راہ کی سو ہم (صدق دل سے) اس پر ایمان لے آئے اور اب ہم کسی کو بھی اپنے رب کے ساتھ شریک نہیں ٹھرائیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

جو راہ راست بتلاتا ہے سو ہم تو اس پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے پروردگار کا شریک کسی کو نہ بنائیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اور اب ہم کبھی بھی اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو بھلائی کا رستہ بتاتا ہے سو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

“We have indeed heard a wonderful Qur'an which guides to the Right Way; so we have come to believe in it, and we will not associate aught with Our Lord in His Divinity”;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

that guides to the right way, so we have believed in it, and we will never associate a partner with our Lord.‘

— Muhammad Taqi Usmani

that guides to the right way, so we have believed in it, and we will never associate a partner with our Lord.‘

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

`It guides to the right path, and we have believed therein, and we shall never join anything with our Lord.'

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Which guideth unto righteousness, so we believe in it and we ascribe no partner unto our Lord.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It guides to the right course, and we have believed in it. And we will never associate with our Lord anyone.

— Saheeh International

which guides people to the right path and we believe in it. We shall never consider anyone equal to our Lord;

— Muhammad Sarwar

Guiding to the right way, so we believe in it, and we will not set up any one with our Lord:

— Muhammad Habib Shakir

Guiding Unto rectitude; wherefore we have believed therein, and we shall by no means associate with our Lord anyone.

— Abdul Majid Daryabadi

'It gives guidance to the Right, and we have believed therein: we shall not join (in worship) any (gods) with our Lord.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 72:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–7

جنات پر قرآن حکیم کا اثر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ اپنی قوم کو اس واقعہ کی اطلاع دو کہ جنوں نے قرآن کریم سنا اسے سچا مانا اس پر ایمان لائے اور اس کے مطیع بن گئے، فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم کہو میری طرف وحی کی گئی کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کریم سنا اور اپنی قوم میں جا کر خبر دی کہ آج ہم نے عجیب و غریب کتاب سنی جو سچا اور نجات کا راستہ بتاتی ہے ہم تو اسے مان چکے ناممکن ہے کہ اب ہم اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کریں۔ یہی مضمون آیتوں میں گذر چکا ہے آیت (واذ صرفنا الیک الخ، یعنی جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف لوٹایا کہ وہ قرآں سنیں اور اس کی تفسیر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْجِنّ 3 اس سے کئی باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ جن اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے رب ہونے کے منکر نہیں ہیں۔ دوسرے یہ کہ ان میں بھی مشرکین پائے جاتے ہیں جو مشرک انسانوں کی طرح اللہ کے ساتھ دوسروں کو خدائی میں شریک ٹھہراتے ہیں، چناچہ جنوں کی یہ قوم جس کے افراد قرآن سن کر گئے تھے مشرک ہی تھے۔ تیسرے یہ کہ نبوت اور کتب انسانی آسمانی کے نزول کا سلسلہ جنوں کے ہاں جاری نہیں ہوا، بلکہ ان میں سے جو جن بھی ایمان لاتے ہیں وہ انسانوں میں آنے والے انبیاء اور ان کی لائی ہوئی کتابوں پر ہی ایمان لاتے ہیں۔ یہی بات سورة احقاف آیات 29۔ 31 سے بھی معلوم ہوتی ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ وہ جن جنہوں نے اس وقت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–2

خلاصہ تفسیر شان نزول تفسیر آیات سے پہلے چند واقعات جاننے کے قابل ہیں جن کی ضرورت تفسیر میں پیش آوے گی۔ واقعہ اول، رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے شیاطین آسمان تک پہنچ کر فرشتوں کی باتیں سنتے تھے، آپ کی بعثت کے بعد ان کو شہاب ثاقب کے ذریعہ اس سننے سے روک دیا گیا اور اسی حادثہ کی تحقیق کے ضمن میں یہ جنات آپ تک پہنچے جیسا کہ سورة احقاق میں گذرا۔ واقعہ دوم۔ زمانہ جاہلیت میں عادت تھی کہ جب کسی جنگل یا وادی میں دوران سفر قیام کی نوبت آتی تو اس اعتقاد سے کہ جناب کے سروار ہماری حفاظت کریں گے یہ الفاظ کہا کرتے تھے اعوذ بعزیز ھذا الوادی من شر سفھاء قومہ یعنی میں اس جنگل کے سردار کی پناہ لیتا ہوں اس کی قوم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قرآن کی دعوت رُشد: یہ قرآن کی اسی دل پذیری کی وضاحت ہے جس کی طرف لفظ ’عجیب‘ اشارہ کر رہا ہے۔ یعنی یہ کتاب اس حق و ہدایت کی طرف رہنمائی کر رہی ہے جس کو ہر سلیم الفطرت کا دل قبول کرتا ہے۔ سورۂ احقاف کی مذکورہ بالا آیت میں ’یَہْدِیْ إِلَی الْحَقِّ وَإِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہاں اسی مضمون کے لیے جامع لفظ ’رُشْدٌ‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ ان تمام بنیادی عقائد اور نیکیوں پر حاوی ہے جو انسانی فطرت کے اندر ودیعت ہیں۔ انسان اپنے اختیار کے سوء اعمال سے اپنی فطرت بگاڑ نہ لے تو یہ اس کی رہنمائی صحیح سمت میں کرتی ہے اور اگر غفلت کے سبب سے ان پر کبھی حجاب بھی آ جاتا ہے تو وہ معمولی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 یہ قرآن کی دوسری صفت ہے کہ وہ راہ راست یعنی حق کو واضح کرتا ہے یا اللہ کی معرفت عطا کرتا ہے۔ یعنی ہم نے سن کر اس بات کی تصدیق کردی کہ واقعی یہ اللہ کا کلام ہے کسی انسان کا نہیں اس میں کفار کو توبیخ و تنبیہ ہے کہ جن تو ایک مرتبہ ہی سن کر قرآن پر ایمان لے آئے لیکن انسانوں کو خاص کر ان کے سرداروں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ کی زبان سے متعدد بار انہوں نے قرآن سنا۔ ہم کسی کو بھی اس کا شریک نہ بنائیں گے نہ مخلوق میں سے نہ کسی اور معبود کو اس لیے کہ وہ اپنی ربوبیت میں متفرد ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 2–3

1: حضور نبی کریم ﷺ کو جس طرح انسانوں کے لئے پیغمبر بنایا گیا تھا، اسی طرح آپ جنات کے لئے بھی پیغمبر تھے، چنانچہ آپ نے جنات کو بھی تبلیغ فرمائی، اور جنات کو تبلیغ کا سلسلہ اس طرح شروع ہوا کہ آپ کی نبوت سے پہلے جنات کو آسمانوں کے قریب تک پہنچنے دیا جاتا تھا، لیکن حضور اقدس ﷺ کی بعثت کے بعد انہیں آسمانوں کے قریب جانے سے اس طرح روک دیا گیا تھا کہ جب کوئی جن یا شیطان آسمان کے قریب پہنچنا چاہتا تو اسے ایک شعلے کے ذریعے ماربھگادیا جاتا تھا، جیسا کہ سورة حجر (17: 15) اور سورة صافات (10: 37) میں گزرچکا ہے، صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ جنات نے جب اس بدلی ہوئی صورت حال کو دیکھا تو ان کے دل میں یہ جستجو…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یھدی الی الرشد (27 : 2) ” جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے “۔ یہ قرآن مجید کی دوسری ممتاز بد یہی صفت ہے ، جنوں کے اس گروہ نے بادی النظر میں اسے محسوس کرلیا۔ اور انہوں نے جب قرآن کی حقیقت کو اپنے دلوں کے اندر پالیا تو انہوں نے معلوم کرلیا کہ یہ کتاب کتاب ہدایت ہے۔ پھر ہدایت کے بجائے انہوں نے ارشاد کا لفظ استعمال کیا جو ہدایت سے زیادہ وسیع المفہوم ہے۔ یعنی یہ کتاب ہدایت کرتی ہے اور حق وصواب کی راہ دکھاتی ہے۔ اور رسد کے لفظ میں ایک اور مفہوم بھی ہے یعنی سنجیدگی ، اعتدال اور علم ومعرفت تو گویا یہ کتاب علم ومعرفت ، سنجیدگی اور اعتدال کے ساتھ راہ صواب کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اور اس کا انداز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 سورة " احقاف " میں گزر چکا کہ نبی کریم ﷺ صبح کی نماز میں قرآن پڑھ رہے تھے کئی جن ادھر کو گزرے اور قرآن کی آواز پر فریفتہ ہو کر سچے دل سے ایمان لے آئے۔ پھر اپنی قوم سے جا کر سب ماجرا بیان کیا۔ کہ ہم نے ایک کلام سنا ہے جو (اپنی فصاحت و بلاغت، حسن اسلوب، قوت تاثیر، شیریں بیانی، طرز موعظت اور علوم و مضامین کے اعتبار سے) عجیب و غریب ہے معرفت ربانی اور رشد و فلاح کی طرف رہبری کرتا ہے۔ اور طالب خیر کا ہاتھ پکڑ کر نیکی اور تقویٰ کی منزل پر پہنچا دیتا ہے اس لیے ہم سنتے ہی بلا توقف اس پر یقین لائے اور ہم کو کچھ شک و شبہ نہیں رہا کہ ایسا کلام اللہ کے سوا کسی کا نہیں ہوسکتا۔ اب ہم اس کی تعلیم و ہدایت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

آیت 2{ یَّہْدِیْٓ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ ط } ”جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے ‘ تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔“ قرآن کے بارے میں جنات کا یہ ردِّعمل ہم انسانوں کے لیے باعث عبرت اور لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ قرآن سنا اور وہ اس پر فوراً ایمان لے آئے ‘ بلکہ قرآن کو سن کر نہ صرف اس پر فوراً ایمان لے آئے بلکہ داعی بن کر اس کا پیغام اپنی قوم تک پہنچانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ دوسری طرف ہم ہیں کہ قرآن کو بار بار پڑھتے ہیں ‘ بار بار سنتے ہیں ‘ لیکن ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم قرآن مجید کو اس نیت سے اور اس انداز سے پڑھتے یا سنتے ہی نہیں کہ وہ ہمارے دلوں میں اترے۔ ہم…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–2

1 اس سلسلہ میں درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے : سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ ﷺ اپنے چند اصحاب کے ساتھ عکاظ کے بازار جانے کے ارادہ سے روانہ ہوئے۔ ان دنوں شیطانوں کو آسمان کی خبر ملنا بند ہوگئی تھی اور ان پر انگارے پھینکے جاتے تھے۔ وہ (زمین کی طرف) لوٹے اور (آپس میں) کہنے لگے۔ یہ کیا ہوگیا ؟ ہمیں آسمان کی خبر ملنا بند ہوگئی اور ہم پر انگارے پھینکے جاتے ہیں۔ ضرور کوئی نئی بات واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمیں آسمان کی خبر ملنا بند ہوئی ہے۔ اب یوں کرو کہ ساری زمین کے مشرق و مغرب میں پھر کر دیکھو کہ وہ کیا نئی بات واقع ہوئی ہے۔ ان میں سے کچھ شیطان تہامہ (حجاز) کی طرف بھی آئے اور آپ ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 2–3

2۔ (جیسا کہ بہت سی مشرک، جاہلی قوموں نے فرض کر رکھا ہے) (آیت) ” ولن نشرک بربنااحدا “۔ یہ اس ایمان لانے کی تفسیر وتتمیم ہے۔ اور اس سے یہ حقیقت بھی آشکارا ہوگئی کہ ایمان کا جوہر یا جزء اعظم عقیدہ توحید ہی ہے۔ (آیت) ” مااتخذ صاحبۃ ولاولدا “۔ جو لوگ مسلمان کے گھر میں پیدا ہوئے۔ وہ اس کا گمان بھی نہیں رکھتے۔ کہ دیوتاؤں کے ساتھ ساتھ بیویوں، اور اولاد کا دم چھلا دنیا کی بڑی بڑی ” مہذب “ جاہلی قوموں اہل مصر، اہل عراق، اہل یونان، اہل چین، اہل ہند، اہل ایران وغیرہ کی دیومالا کا کیسا جزولانیفک رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–20

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! لوگوں کو بتائیے کہ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے (یعنی) وحی کے ذریعہ اللہ کی طرف سے مجھے خبر دی گئی ہے کہ نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت نے میری قرأت سنی اور یہ واقعہ بطن نخلہ میں جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے فجر کی نماز میں پیش آیا اور یہ جن وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” واذ صرفنا الیک نفرا من الجن “ میں کیا گیا ہے، تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس واپس جا کر کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے کہ اس کی (لفظی) فصاحت اور (معنوی) بلاغت وغیرہ سے تعجب ہوتا ہے جو راہ راست (اور) ایمان کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یھدی الی الرشد . یہ قرآن کا وصف ہے ‘ الرشد سے مراد ہے حق و صواب یعنی توحید اور وہ احکام صحیحہ جو بتقاضاء عقل وبرہان ثابت ہیں۔ فامنا بہ . یعنی ہم قرآن پر ایمان لے آئے۔ ولن لشرک بربنا احدا . اب کبھی عبادت میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو ساجھی نہ بنائیں گے کیونکہ اللہ نے اس کی ممانعت فرما دی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

جو حق و ہدایت اور کلمہ طیبہ کی رہنمائی کرتا ہے سو ہم تو رسول اکرم اور اس قرآن کریم پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے رب کے ساتھ ابلیس کو شریک نہیں کریں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–2

(1) قل اوحی الی انہ استمع…: اس آیت سے معلوم ہوا کہ جنوں کا قرآن سن کر ایمان لانا اور ان کی آپ س کی ساری گفتگو رسول اللہ ﷺ کو وحی کے ذریعے سے معلوم ہوئی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں :(ماقراء رسول اللہ ﷺ علی الجن و ما راھم) (مسلم، الصلاۃ ، باب الجھر بالقراء ۃ فی الصبح …: 339)”رسول اللہ ﷺ نے نہ جنوں کے سامنے قرآن پڑھا اور نہ انہیں دیکھا (وہ تو آپ کے پاس اقت آئے جب آپ نخلہ میں تھے اور انہوں نے اس موقع پر قرآن سنا۔“ ہاں، اس کے بعد کئی دفعہ آپ ﷺ کی جنوں سے ملاقات ہوئی اور آپ نے انہیں قرآن سنایم اور پڑھایا، جیسا کہ صحیح مسلم میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–2

سورة الجن۔ تمام علماء کے نزدیک یہ سورت مکی ہے اس کی اٹھارہ آیات ہیں۔ اللہ کے نام سے شروع جو بہت ہی مہربان ہمیشہ رحم کرنے والا ہے اس ارشاد باری تعالیٰ میں پانچ مسائل ہیں : کیا وحی سے پہلے نبی کریم ﷺ کو جنوں کے آنے کی خبر تھی۔ مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، قل اوحی الی۔ اے محمد اپنی امت سے کہو، اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کی زبان پر میری طرف وحی کی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے میری قرات کو سنا۔ وحی سے قبل رسول اللہ اس بارے میں آگاہ نہ تھے حضڑت ابن عباس اور دوسرے علماء نے یہی کہا ہے کہ جیسا کہ ابھی آئے گا۔ ابن ابی عبلہ نے اسے احی پڑھا ہے کہا ہے، اوحی الیہ ووحی الیہ واؤ کو ہمزہ سے بدل دیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–2

1۔ احمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن المنذر والحاکم والطبرانی وابن مردویہ و ابونعیم والبیہقی معا دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ اپنے صحابہ میں سے ایک جماعت کے ساتھ چلے سوق عکاظ کے ارادہ سے اور اسی دور میں رکاوٹ کردی گئی شیطانوں اور آسمانوں کی خبر کے درمیان اور ان پر آگ کے شعلے چھوڑے گئے۔ شیاطین اپنی قوم کے پاس واپس آئے تو قوم نے کہا کیا ہوا تمہارے لیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ کردی گئی ہے اور ہم کو بھگانے کے یلے ہم پر آگے کے شعلے چھوڑے گئے تو قوم نے کہا کہ تمہارے اور آسمان کی خبر کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی۔ مگر کوئی نئی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَّهْدِيْٓ اِلَى الرُّشْدِ : جو ہدایت دیتی ہے نیک راہ کی طرف ] [فَاٰمَنَا بِهٖ : تو ہم ایمان لائے اس پر ] [وَلَنْ نُّشْرِكَ : اور ہم ہرگز شریک نہیں کریں گے ] [بِرَبِنَآ اَحَدًا : اپنے رب کے ساتھ کسی ایک کو (بھی)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–7

رسول اللہ ﷺ سے جنات کا قرآن سننا اور اپنی قوم کو ایمان کی دعوت دینا یہاں سے سورة الجن شروع ہو رہی ہے جن پرانی مخلوق ہے جو حضرت آدم اور بنی آدم کی تخلیق سے پہلے سے دنیا میں موجود ہے ان لوگوں میں بھی مومن اور کافر نیک اور بدسب قسم کے افراد ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بھی ایمان کے مکلف تھے اور ہیں جس طرح بنی آدم میں انسانوں میں کافر اور مشرک ہیں اس طرح جنات میں بھی مشرک اور کافر رہے ہیں اور ان میں مومن بھی ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ : حضور خاتم الانبیاء سیدنا محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے شیاطین نے ایک دھندہ بنا رکھا تھا۔ انسانوں میں کچھ لوگ کاہن بنے ہوئے تھے یہ لوگ آنے والے واقعات کی خبریں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–19

تاثیر حقانیت قرآن برقوم جن و قبول ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن ...... الی ...... یکونون علیہ لبدا “۔ (ربط) گذشتہ سورة نوح میں یہ بیان تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کس قدر طویل مدت تک اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن بدنصیب قوم بجائے اس کے کہ ہدایت قبول کرتی اور شقاوت وبدبختی میں اضافہ ہی ہوتا رہا اب اس سورت میں قوم جن کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ کس طرح ان میں سے ایک گروہ قرآن سن کر اسکی حقانیت کا گرویدہ ہوگیا کلام الہی کی معرفت نصیب ہوتی اور حق پہچان کر اس کھلے دل سے تیار ہوگئے صرف یہی نہیں کہ خود انہوں نے حق قبول کیا بلکہ وہ تو داعی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ ” قل اوحی “ دلیل نقلی از جنات۔ آنحضرت ﷺ پر ابتداء وحی سے شیاطین کا آسمان پر جا کر فرشتوں کی باتیں سننا بند ہوگیا۔ پہلے وہ اوپر جا کر بیٹھ جاتے اور فرشتوں کی باتیں سنتے تھے، لیکن اب جو اوپر جاتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا تعاقب کرتا ہے۔ شیاطین اس سے پریشان ہوئے اور ابلیس سے سارا معاملہ بیان کیا۔ اس نے کہا ضرور کوئی نئی بات رونما ہوئی ہے جس کی وجہ سے تمہارا آسمان پر جانا محال ہوگیا ہے ابلیس نے جنوں کی جماعتیں منظم کر کے مختلف سمتوں میں روانہ کردیں تاکہ وہ اصل حقیقت کا سراغ لگائیں۔ جنوں کی ایک جماعت تہامہ کی طرف روانہ کی گئی۔ یہ جماعت پھرتی پھراتی مقام نخلہ میں پہنچی تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ چند…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

کوائف : اس سورة کا نام سورة جن ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق جن اس کے عقائد اور ہدایت قبول کرنے کا ذکر ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی اٹھائیس آیات ، دو رکوع ، دو صدپچاسی الفاظ اور آٹھ سو ستر حروف ہیں۔ پہلی سورة کی طرح اس کا موضوع بھی بنیادی عقائد ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ توحید ہے۔ اسکے بعد قیامت اور رسالت کا بیان ہے۔ قرآن پاک کا کلام الہٰی اور برحق ہونا بھی اس کے موضوع میں شامل ہے۔ لفظ جن کا معنیٰ : جن کا لفظی معنی پوشیدہ یا مستور ہے۔ یعنی وہ چیز جو مستور ہو۔ اسے جن کہتے ہیں۔ جنکے مادے سے کئی ایک چیزیں مشتق ہیں۔ مثلاََ جنت کو جنت اس لیے کہتے ہیں کہ یہ اپنے گنجان اور گھنے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَّہْدِيْٓ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ۝ 0 ۭ وَلَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَآ اَحَدًا۝ 2 ۙ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب : اوحی من الایحاء ھو القاء المعنی الی النفس فی خفاء کالالھام و انزال الملک و یکون ذلک فی سرعۃ انہ بالفتح الجملۃ فاعل اوحی والضمیر فی انہ للشان ای اخبرت بالوحی من اللہ عجبا مصدر و صف بہ للمبالغۃ۔ یھدی الخ الجملہ صفۃ قرآنا اوحال منہ و انہ تعالیٰ قرء ابن کثیر وغیرہ من اھل البصرۃ بالکسر فی احد عشرموضعا الی قولہ و انہ لماقام عبداللہ الا قولہ و ان لواستقاموا وان المساجد و انہ لمقام عبداللہ فانہا من جملۃ الموحی بہ وافقھم نافع وابوبکر الافی قولہ وانہ لما قام علی انہ استیناف اومقول وجہ الکسرۃ انھا من جملۃ المح کی بعدالقول وقرء الباقون بالفتح فی ھذہ المواضع عطفاً علی محل الجار و المجرور فی آمنا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّـہُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَـقَالُوْٓا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبً ۔ ایَّھْدِیْٓ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰ مَنَّا بِہٖ ط وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَـآ اَحَدً ۔ (الجن : 1، 2) (اے پیغمبر، کہہ دیجیے مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے غور سے (قرآن کو) سنا، پھر (جا کر اپنی قوم کے لوگوں سے) کہا کہ ہم نے بڑا ہی عجیب قرآن سنا ہے۔ جو ہدایت کی راہ بتاتا ہے، تو ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں او اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ) پہلی آیت کریمہ کے پہلے لفظ سے یہ بات واضح ہے کہ جنوں کے جو تأثرات اس سورة میں بیان کیے گئے ہیں وہ نبی کریم ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–7

فہم القرآن ربط سورت : حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد لوگوں کو شرک سے روکنا اور توحید کی دعوت دینا تھا اسی دعوت کے ساتھ نبی آخر الزمان ﷺ مبعوث کیے گئے جس کا تذکرہ اس سورت میں جنوں کی زبان سے کیا گیا ہے۔ اہل مکہ جب کسی سفر کے دوران صحراء یا جنگل میں پڑاؤ ڈالتے تو قافلے کا ایک فرد کسی اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر آواز دیتا کہ اے جنوں کے سردار ہم نے یہاں پڑاؤڈالا ہے، ہماری تجھ سے درخواست ہے کہ اس صحراء میں ہماری حفاظت فرمانا۔ اس عقیدے کی تردید کے لیے نبی ﷺ کو ” قُلْ “ کے لفظ کے ساتھ حکم دیا گیا ہے کہ جو واقعہ آپ کے ساتھ پیش آیا ہے آپ یہ واقعہ اور جنوں کا عقیدہ اہل مکہ کے سامنے بیان فرمائیں۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2 : یَّھْدِیْ اِلَی الرُّشْدِ (وہ راہ راست بتلاتا ہے) وہ درست بات کی طرف دعوت دینے والا ہے یا توحید و ایمان کی طرف۔ فَاٰمَنَّابِہٖ (پس ہم تو اس پر ایمان لائے) ہٗ سے قرآن مجید مراد ہے۔ اور جب قرآن پر ایمان یہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کی وحدانیت پر یقین کرنا اور شرک سے بیزاری اختیار کرنا ہے۔ تو کہنے لگے وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَآ اَحَدًا (ہم اپنے رب کے ساتھ اس کی مخلوق میں سے کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے) ۔ نمبر 2۔ یہ بھی درست ہے کہ بہٖ میں ضمیر کا مرجع ذات عزوجل ہو۔ کیونکہ بربِّنا ؔ اس کی تفسیر کر رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1 ۔” قل اوحی الی انہ استمع نفرمن الجن “ اور یہ نو تھے نصیبین کے جنوں میں سے اور کہا گیا ہے سات تھے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی قرات توجہ سے سنی۔ ہم ان کا واقعہ سورة الاحقاف میں بیان کرچکے ہیں۔ ” فقالوا “ جب اپنی قوم کی طرف لوٹے۔ ” انا سمعنا قرانا عجبا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” بلیغا “ یعنی قرآن ذاعجب اس کی بلاغت کی وجہ سے تعجب کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1۔ 7۔ قدیم زمانہ سے علماء مفسرین میں یہ ایک اختلاف چلا آتا ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود صحیح 1 ؎ مسلم کی روایت میں اس بات کے قائل ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جنات سے ملاقات کی اور ان کو قرآن شریف سکھایا اور صحیح بخاری 2 ؎ اور صحیح مسلم وغیرہ کی روایت میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اس کے منکر ہیں اور فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جنات سے ملاقات کی اور نہ ان کو قرآن شریف سکھایا بلکہ آنحضرت ﷺ کی بیخبر ی میں جنات قرآن شریف سن کر چلے گئے۔ بیہقی ‘ حافظ ابن حجر اور علماء نے اس اختلاف کو یوں رفع کیا ہے کہ ان دونوں روایتوں کا قصہ جدا جدا ہے پہلے پہل جنات نے آنحضرت ﷺ کی بیخبر ی میں قرآن شریف سنا اور ایمان لائے اور جس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(یھدی الی الرشد) ۔ وہ قرآن رشد کی طرف ہدایت کرتا ہے (رشد) ہر اس چیز کے لیے جامع نام جو لوگوں کے دین ودنیا کے مصالح کی طرف ان کی راہ نمائی کرے (فامنا بہ ولن نشرک بربنا احدا) تو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے پس انہوں نے ایمان کو جس میں اعمال خیر داخل ہیں تقوی کو، جو ہر قسم کے شر کو ترک کرنے کو متضمن ہے، جمع کرلیا۔ انہوں نے اس کا سبب، جس نے ان کو ایمان اور اس کے توابع کی طرف دعوت دی، قرآن کے ان ارشادات کو قرار دیا جن کا ان کو علم ہوا جو مصالح اور فوائد پر مشتمل اور ضرر سے خالی ہیں۔ یہ اس شخص کے لیے بہت بڑی دلیل اور قطعی حجت ہے جو اس سے روشنی حاصل کرتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

3 قرآن حکیم منبع رشد و ہدایت، والحمد للہ جل و علا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنوں نے قرآن کے بارے میں مزید کہا کہ جو راہنمائی کرتا ہے سیدھی راہ کی : ایسی سیدھی راہ کی جو کہ انسان کو اس کی حقیقی کامرانی کی منزل تک پہنچاتی ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، کہ دنیا میں اس سے اس کو حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں جنت کی نعیم مقیم اور ابدی فوز و فلاح سے سرفرازی، جو کہ سب سے بڑی اور اصل اور حقیقی کامیابی ہے اور اس راہ حق کا اس کلام حق پر ایمان و یقین کے بغیر ملنا ممکن ہی نہیں، سو یہ قرآن قرآن حکیم کی اسی اثر انگیزی اور دل پذیری کی وضاحت ہے جس کی طرف لفظ عجب میں اشارہ پایا جاتا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–15

جنوں پر تلاوت قرآن کا اثر تشریح : جیسا کہ قرآن پاک کی عظمت کا کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے۔ قرآن پاک میں کوئی زیر زبر پیش، حرف، لفظ آیت اور سورت ایسی نہیں کہ جو کسی خاص مقصد خاص پیغام یا موضوع سے خالی ہو۔ اس کا ہر ہر حرف حکمت و ہدایت کا منبع ہے۔ اسی طرح سورت جن کا سب سے بڑا مقصد بھی اس بہترین کتاب ہدایت، بہترین ادبی کتاب ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ کیونکہ جنوں کے جس گروہ نے قرآن نبی پاک ﷺ کی زبان سے سنا وہ اس قدر متاثر ہوا کہ فوراً ایمان لے آیا اور پھر اپنی جنوں کی جماعت میں جاکر اس کی تبلیغ بھی کی۔ اور انہوں نے بہترین الفاظ میں اسلام اور کتاب آخر کی تعریف کی۔ جس کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں۔ یہ کتاب مقدس ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة الجن۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ لوگوں کو بتادیجئے کہ اللہ رب العزت نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے میری تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔ جن : جنات اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے اجسام بھی ہیں اور ارواح بھی انسانوں کی طرح مردو عورت بھی ہیں اور نسل بھی چلتی ہے ان کی تخلیق کا غالب مادہ آگ ہے لہذا نظروں سے اوجھل رہتے ہیں چونکہ شیطان بھی جنوں میں سے تھا ، لہذا اس کی اولاد بھی جن ہی ہے مگر بہت زیادہ برے ہیں اور فرشتوں کی طرح جنات کا وجود قرآن وسنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے جس کا انکار کفر ہے۔ تفسیر مظہری میں لوگوں کے جنات سے ملنے کے واقعات بھی موجود ہیں اور ، اکام…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 اس میں بنی آدم خصوصاً رئوسا نے قریش میں سے کافر لوگوں کو شرم دلائی گئی ہے کہ جنوں نے جب پہلی ہی مرتبہ قرآن سنا تو وہ سمجھ گئے کہا یسا کلام کسی انسان کا تصنیف کیا ہوا نہیں ہوسکتا، لیکنتم ہو کہ بار بار قرآن کو سنتے ہو لیکن اس پر ایمان نہیں لاتے بلکہ یہی رٹ لگائے جا رہے ہو کہ محمد (ﷺ) نے یہ قرآن خود تصنیف کرلیا ہے یا کوئی عجمی ہے جو انہیں یہ قرآن سکھا جاتا ہے

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(72:2) یہدی الی الرشد۔ یہ جملہ قرآن کی صفت ہے۔ یھدی مضارع معروف واحد مذکر غائب ھدایۃ (باب ضرب) مصدر سے۔ یہ ہدایت کرتا ہے رہنمائی کرتا ہے ۔ الرشد، بھلائی۔ نیک راہ، راستی، راہ راست۔ فامنا بہ :تعلیل کا ہے۔ امنا ماضی جمع متکلم ایمان (افعال) مصدر سے۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع قرآن ہے۔ سو (اس لئے) ہم اس (قرآن) پر ایمان لے آئے۔ ولن تشرک۔ واؤ عاطفہ۔ اس کا عطف امنا بہ پر ہے۔ لن نشرک مضارع منفی تاکید بلن۔ صیغہ جمع متکلم اشراک (افعال) مصدر۔ ہم ہرگز شریک نہ ٹھہرائیں گے۔ احد (کسی کو) منصوب بوجہ مفعول ہونے لن نشرک کے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن۔ استمع۔ غور سے سنا۔ نفر۔ افراد۔ الرشد۔ ہدایت۔ سیدھا راستہ۔ شطط۔ حد سے بڑھئی ہوئی بات۔ یعوذون۔ پناہ مانگتے ہیں۔ رھق۔ ضد۔ سرکشی ۔ بددماغی۔ ملئت۔ بھردیا گیا۔ شھب۔ شہاب۔ انگارے۔ نقعد۔ ہم بیٹھتے ہیں۔ رصد۔ گھات میں لگا ہوا۔ قدد۔ مختلف۔ ٹکڑے ٹکڑے۔ ھرب۔ بھاگنا۔ بخس۔ نقصان۔ رھق۔ دبائو۔ حطب۔ ایندھن۔ تشریح : رسول اللہ ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے جنات آسمان کے کسی کونے تک پہنچ کر چوری چھپے کسی رکاوٹ کے بغیر فرشتوں کی اس گفتگو کو سننے کی کوشش کرتے جو وہ دنیا کے کاموں کے تدبیر کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے باتیں کرتے تھے۔ یہ جنات فرشتوں کی باتیں سن کر اپنے کاہنوں کو بتا دیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–2

جنات کا قرآن پر ایمان لانا۔ (ف 1) سورة احقاف میں گزرچکا ہے کہ نبی ﷺ صبح کی نماز میں قرآن شریف پڑھ رہے تھے کئی جن ادھر سے گزرے اور قرآن شریف کی آواز کی سن کر فریفتہ ہوکرسچے دل سے ایمان لائے پھر اپنی قوم سے جاکرسب ماجرابیان کیا کہ ہم نے ایک کلام سنا ہے جو اپنی فصاحت وبلاغت ، حسن اسلوب، قوت تاثیر ، شریں بیانی طرز موعظت اور علوم ومضامین کے اعتبار سے عجیب و غریب ہے معرفت ربانی رشد و فلاح کی طرف رہبری کرتا ہے اور طالب خیرکاہاتھ پکڑ کر نیکی اور تقوی کی منزل پر پہنچادیتا ہے اس لیے ہم سنتے ہی بلاتوقف فاس پر ایمان لائے اور ہم کو کچھ شک وشبہ نہیں رہا کہ یہ ایسا کلام اللہ کے سوا کسی کا نہیں ہوسکتا۔ اب ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–17

[1] اشارہ ہے اس قحط کی طرف جو مکہ والوں کے ظلم و شرارت کی سزا میں آپ ﷺ کی دعا سے کئی سال ان پر مسلط رہا۔ اس لئے فرمایا کہ اگر لوگ ظلم و شرارت سے باز آ کر اللہ کے راستے پر چلتے تو قحط دور ہوتا اور باران رحمت سے ملک سرسبز و شاداب کردیا جاتا۔ اس میں ان کی آزمائش ہوتی کہ وہ نعمت پاکر شکر گزار ہوتے ہیں یا نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–7

جنات ، تاویل اور شہاب ثاقبہ 1: حکمائے یونان کے مقتدین نے جنات کا انکار کیا اور بعد میں یورپ نے حضرات نے اس ضمن میں اتاویلات کو ضروری سمجھا ۔ حالانکہ قرآن حکیم میں احادث میں مذہبی صحائت میں اور مشرقی لٹریچر میں ان کے متعلق اتنا ذخیرہ ہے ۔ کہ انکار ناممکن ہے ۔ اور اب تو وہ عقلی مشکلات بھی درمیان میں نہیں رہی ہیں ۔ اب تو یورپ والے بھی کہہ رہے ہیں ۔ کہ جنات اور ارواح کا وجود برحق ہے ۔ اب ان کی تصویریں لی جارہی ہیں ۔ ان کا وزن دریافت کرلیا گیا ہے ۔ ان سے باتیں کی جاتی ہیں ۔ اور بغیر کسی قریب انفس اور سہود خطاء کے اب ایسا ایک مستقل سائنس ہے ۔ یعنی روحانیت مگر اس وقت بھی بدقسمتی سے کچھ لوگ ایسے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) جو سیدھی اور نیک راہ بتاتا ہے لہٰذا ہم تو اس قرآن پر ایمان لے آئے اور ہم آئندہ اپنے رب کا ہرگز کسی کو شریک نہ بنائیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سورة احقاف میں گزرا کہ حضرت نماز صبح پڑھتے تھے کتے جن سن کر ایمان لائے پھر جاکر اپنی قوم سے سے بیان کیا یہاں ان کے بیان کو اللہ نے وحی فرمائی رسول ﷺ پر بعد اس کے بہت یار جن حضرت پاس آکر ملے اور ایمان لائے قرآن سیکھا۔ خلاصہ : یہ کہ سورة احقاف کے آخر میں جنوں کا مختصر سا واقعہ مذکور ہوا تھا یہاں اسی واقعہ کی تفصیل کا ذکر ہے اور مکہ والوں کو جنوں کے خیالات سے آگاہ کرنا ہے کیونکہ جنات کی قابلیت اور ان کی غیب دانی کا دماغوں پر بہت اثر تھا اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

ف 1۔ قرآن ہونا تو اس کے مضمون سے معلوم ہوا اور عجیب ہونا اس سے کہ مشابہ کلام بشر کے نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کہ وہ بھلائی کی طرف راہ دکھاتا ہے پس ہم اس پر ایمان لے آئے جو وہ کہتا ہے : 2 ؎ اس بیان میں مقصودیہ ہے کہ مکہ کے لوگوں کو شہری آبادی سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے اب کو مہذب لوگ خیال کرتے ہیں ، صاحب زبان ہیں اور اس بیان کو سن کرا چھی طرح اس کو سمجھ سکتے ہیں جب ان کے سامنے قرآن کریم پڑھا جاتا ہے تو اس طرح بےاعتنائی سے سنتے ہیں کہ گویا انہوں نے کچھ سنا ہی نہیں اور کم ازکم یہ کہ ان سے کچھ کہا ہی نہیں گیا ۔ ایسے ہی آوارہ بات اس کو وہ سمجھتے ہیں لیکن ان کے مقابلے میں دیہاتی اور گنوار لوگوں کے ایک گروہ نے اس قرآن کریم کے بعض حصہ کو سنا اور نہایت دِل لگا کر سنا حالانکہ ان کو مخاطب کر کے کچھ کہا بھی نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

Commentary Preliminary Remarks It seems necessary to know a few facts before the start of the study of the Surah, which are as follows: Fact [ 1] Before the advent of the Holy Prophet ﷺ the devils used to go up to the heavens and eavesdrop on the conversations of the angels. After his advent, they were pelted with a piercing flame if they attempted to go up and eavesdrop. It is mentioned in Surah Al-Ahqaf that a group of jinn went up to the Holy Prophet to investigate the reason for this new phenomenon. Fact [ 2] It was customary in the Days of Ignorance that when people halted in a jungle…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

3 This throws light on several things: (1) That the jinn do not deny Allah's existence and His being Lord and Sustainer; (2) that among them also there are polytheists, who like polytheistic human beings ascribe divinity to others than AIlah: thus, the community of the jinn whose members heard the Qur'an was polytheistic; (3) that the Prophethood and revelation of Divine scriptures dces not exist among the jinn, but whoever of them believe, they believe in the Prophets raised among human beings and in the Books brought by them. This same thing is confirmed by Al-Ahqaf: 29-30, where it has…

Read the full tafseer →