Explained with ayahs 1–7
جنات پر قرآن حکیم کا اثر
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ اپنی قوم کو اس واقعہ کی اطلاع دو کہ جنوں نے قرآن کریم سنا اسے سچا مانا اس پر ایمان لائے اور اس کے مطیع بن گئے، فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم کہو میری طرف وحی کی گئی کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کریم سنا اور اپنی قوم میں جا کر خبر دی کہ آج ہم نے عجیب و غریب کتاب سنی جو سچا اور نجات کا راستہ بتاتی ہے ہم تو اسے مان چکے ناممکن ہے کہ اب ہم اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کریں۔ یہی مضمون آیتوں میں گذر چکا ہے آیت (واذ صرفنا الیک الخ، یعنی جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف لوٹایا کہ وہ قرآں سنیں اور اس کی تفسیر…
Read the full tafseer →سورة الْجِنّ 1
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جن اس وقت رسول اللہ ﷺ کو نظر نہیں آ رہے تھے اور آپ کو یہ معلوم نہ تھا کہ وہ قرآن سن رہے ہیں، بلکہ بعد میں وحی کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس واقعہ کی خبر دی۔ حضرت عبداللہ بن عباس بھی اس قصے کو بیان کرتے ہوئے صراحت فرماتے ہیں کہ " رسول اللہ ﷺ نے جنوں کے سامنے قرآن نہیں پڑھا تھا، نہ آپ نے ان کو دیکھا تھا "۔ (مسلم۔ ترمذی۔ مسند احمد۔ ابن جریر)۔
سورة الْجِنّ 2
اصل الفاظ ہیں قرانا عجبا۔ قرآن کے معنی ہیں " پڑھی جانے والی چیز " اور یہ لفظ غالباً جنوں نے اسی معنی میں استعمال کیا ہوگا کیونکہ وہ پہلی مرتبہ اس کلام سے متعارف ہوئے تھے اور شاید اس وقت ان کو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
خلاصہ تفسیر
شان نزول
تفسیر آیات سے پہلے چند واقعات جاننے کے قابل ہیں جن کی ضرورت تفسیر میں پیش آوے گی۔ واقعہ اول، رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے شیاطین آسمان تک پہنچ کر فرشتوں کی باتیں سنتے تھے، آپ کی بعثت کے بعد ان کو شہاب ثاقب کے ذریعہ اس سننے سے روک دیا گیا اور اسی حادثہ کی تحقیق کے ضمن میں یہ جنات آپ تک پہنچے جیسا کہ سورة احقاق میں گذرا۔
واقعہ دوم۔ زمانہ جاہلیت میں عادت تھی کہ جب کسی جنگل یا وادی میں دوران سفر قیام کی نوبت آتی تو اس اعتقاد سے کہ جناب کے سروار ہماری حفاظت کریں گے یہ الفاظ کہا کرتے تھے اعوذ بعزیز ھذا الوادی من شر سفھاء قومہ یعنی میں اس جنگل کے سردار کی پناہ لیتا ہوں اس کی قوم…
Read the full tafseer →جنوں کے تاثرات کی اطلاع پیغمبرؐ کو وحی کے ذریعہ ہوئی:
’قُلْ اُوْحِیَ‘ کے الفاظ سے یہ بات صاف عیاں ہے کہ جنوں کے جو تاثرات اس سورہ میں بیان ہوئے ہیں وہ نبی ﷺ کو براہ راست جنوں کی زبانی نہیں بلکہ وحی الٰہی کے ذریعہ معلوم ہوئے۔ ان کی ایک جماعت نے سرِ راہے کہیں نبی ﷺ کو قرآن پڑھتے سنا جس کی کشش نے ان کے دلوں کو اس طرح موہ لیا کہ وہ اس کے سننے میں ہمہ تن محو ہو گئے اور پھر اس دل پذیر کلام سے اس قدر متاثر ہوئے کہ پلٹے تو اپنی قوم کو اس کی دعوت دینے اٹھ کھڑے ہوئے۔
واقعہ کو سنانے کا مقصد: یہ کس موقع کا ذکر ہے؟ اس کا کوئی قطعی جواب دینا مشکل ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ اسی واقعہ کی تفصیل ہے جس کا اجمالی…
Read the full tafseer →1۔ 1 یہ واقعہ (وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا ۚ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِيْنَ 29) 46۔ الاحقاف :29) کے حاشیہ میں گزر چکا ہے کہ نبی ﷺ وادی نخلہ صحابہ کرام کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ کچھ جنوں کا وہاں سے گزر ہوا تو انہوں نے آپ ﷺ کا قرآن سنا۔ جس سے وہ متاثر ہوئے۔ یہاں بتلایا جا رہا ہے کہ اس وقت جنوں کا قرآن سننا، آپ کے علم میں نہیں آیا، بلکہ وحی کے ذریعے سے ان کو اس سے آگاہ فرمایا گیا،
Read the full tafseer →قل اوحی ........................ احد
نفر اور رھط کا اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے جبکہ جنوں کے بارے میں روایت ہے کہ یہ نو تھے۔ جس انداز سے یہاں اس واقعہ کا آغاز کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ یوں تھا کہ حضور ﷺ نے قرآن کی تلاوت فرمائی اور جنوں نے قرآن کو سنا اور پھر اپنی قوم کے پاس جاکر انہوں نے تبلیغ کی اور اس کا علم حضور اکرم ﷺ نے قرآن کی تلاوت فرمائی اور جنوں نے قرآن کو سنا اور پھر اپنی قوم کے پاس جاکر انہوں نے تبلیغ کی اور اس کا علم حضور اکرم ﷺ کہ نہ تھا ، اس تمام واقعہ کی اطلاع اللہ نے حضور ﷺ کو بذریعہ وحی دی اور یہ پہلا واقعہ تھا اور اس کے بعد بھی کئی واقعات ہوئے ہوں گے کہ حضور…
Read the full tafseer →11 جنوں کے وجود اور حقیقت پر حضرت شاہ عبدالعزیز نے سورة ہذا کی تفسیر میں نہایت مبسوط و مفصل بحث کی ہے۔ اور عربی میں " اکام المرجان فی آحکام الجان " اس موضوع پر نہایت جامع کتاب ہے جس کو شوق ہو مطالعہ کرے۔ یہاں گنجائش نہیں کہ اس قسم کے مباحث درج کیے جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت 2{ یَّہْدِیْٓ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ ط } ”جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے ‘ تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔“
قرآن کے بارے میں جنات کا یہ ردِّعمل ہم انسانوں کے لیے باعث عبرت اور لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ قرآن سنا اور وہ اس پر فوراً ایمان لے آئے ‘ بلکہ قرآن کو سن کر نہ صرف اس پر فوراً ایمان لے آئے بلکہ داعی بن کر اس کا پیغام اپنی قوم تک پہنچانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ دوسری طرف ہم ہیں کہ قرآن کو بار بار پڑھتے ہیں ‘ بار بار سنتے ہیں ‘ لیکن ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم قرآن مجید کو اس نیت سے اور اس انداز سے پڑھتے یا سنتے ہی نہیں کہ وہ ہمارے دلوں میں اترے۔ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 اس سلسلہ میں درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے :
سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ ﷺ اپنے چند اصحاب کے ساتھ عکاظ کے بازار جانے کے ارادہ سے روانہ ہوئے۔ ان دنوں شیطانوں کو آسمان کی خبر ملنا بند ہوگئی تھی اور ان پر انگارے پھینکے جاتے تھے۔ وہ (زمین کی طرف) لوٹے اور (آپس میں) کہنے لگے۔ یہ کیا ہوگیا ؟ ہمیں آسمان کی خبر ملنا بند ہوگئی اور ہم پر انگارے پھینکے جاتے ہیں۔ ضرور کوئی نئی بات واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمیں آسمان کی خبر ملنا بند ہوئی ہے۔ اب یوں کرو کہ ساری زمین کے مشرق و مغرب میں پھر کر دیکھو کہ وہ کیا نئی بات واقع ہوئی ہے۔ ان میں سے کچھ شیطان تہامہ (حجاز) کی طرف بھی آئے اور آپ ﷺ…
Read the full tafseer →1۔ (اور ایسا عجیب کہ مخلوق کے کلام میں تو اس کی نظیر نہیں ملتی) (آیت) ” فقالو “۔ یہ ان جنات نے واپس جاکر اپنی قوم والوں سے کہا) یہ واقعہ کب اور کہاں پیش آیا۔ اس کے لئے ملاحظہ ہو سورة الاحقاف (پ 26) کے حاشیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! لوگوں کو بتائیے کہ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے (یعنی) وحی کے ذریعہ اللہ کی طرف سے مجھے خبر دی گئی ہے کہ نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت نے میری قرأت سنی اور یہ واقعہ بطن نخلہ میں جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے فجر کی نماز میں پیش آیا اور یہ جن وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” واذ صرفنا الیک نفرا من الجن “ میں کیا گیا ہے، تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس واپس جا کر کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے کہ اس کی (لفظی) فصاحت اور (معنوی) بلاغت وغیرہ سے تعجب ہوتا ہے جو راہ راست (اور) ایمان کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس…
Read the full tafseer →قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن . نَفَرٌ تین سال سے دس تک کی جماعت ‘ روایت میں آیا ہے کہ نصیبین کے نو جن تھے یا سات تھے۔ جن ‘ دوسرے حیوانوں کی طرح جسم بھی رکھتے ہیں اور جان بھی۔ ان کو انسانوں کی طرح عقل بھی حاصل ہے مگر انسانوں کی نظر سے چھپے ہوئے ہیں ‘ اسی لیے ان کو جن کہا جاتا ہے (جَنٌّ چھپانا ‘ جِنٌّ پوشیدہ) جن کو آگ سے بنایا گیا ہے جیسے آدم کو مٹی سے ‘ آیت میں آیا ہے : والجان خلقنٰہ من قبل من نار السموم۔ جنات میں توالد و تناسل ہوتا ہے ‘ ان میں نر بھی ہوتے ہیں اور مادہ بھی۔ ظاہر یہ ہے کہ شیاطین جنات ہی کی ایک قسم ہے۔ ملائکہ مذکر ‘ مؤنث (نر و مادہ) نہیں ہوتے۔ جنات ‘ شیاطین اور ملائکہ کا…
Read the full tafseer →محمد آپ ان کفار مکہ سے فرمایے کہ میرے پاس جبریل امین تشریف لائے اور انہوں نے مجھے یہ بتالای کہ نصیبین کے جنات میں سے جو یمن میں ہیں ان لوگوں نے قرآن کریم سنا وہ اس پر ایمان لے آئے پھر اپنی قوم میں انہوں نے واپس جاکر کہا اے ہماری قوم ہم نے ایک قرآن کریم سنا ہے جو حضرت موسیٰ کی کتاب سے مشابہہ رکھتا ہے اور یہ جنات توریت پر کار بند تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1) قل اوحی الی انہ استمع…: اس آیت سے معلوم ہوا کہ جنوں کا قرآن سن کر ایمان لانا اور ان کی آپ س کی ساری گفتگو رسول اللہ ﷺ کو وحی کے ذریعے سے معلوم ہوئی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں :(ماقراء رسول اللہ ﷺ علی الجن و ما راھم) (مسلم، الصلاۃ ، باب الجھر بالقراء ۃ فی الصبح …: 339)”رسول اللہ ﷺ نے نہ جنوں کے سامنے قرآن پڑھا اور نہ انہیں دیکھا (وہ تو آپ کے پاس اقت آئے جب آپ نخلہ میں تھے اور انہوں نے اس موقع پر قرآن سنا۔“ ہاں، اس کے بعد کئی دفعہ آپ ﷺ کی جنوں سے ملاقات ہوئی اور آپ نے انہیں قرآن سنایم اور پڑھایا، جیسا کہ صحیح مسلم میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة الجن۔
تمام علماء کے نزدیک یہ سورت مکی ہے اس کی اٹھارہ آیات ہیں۔
اللہ کے نام سے شروع جو بہت ہی مہربان ہمیشہ رحم کرنے والا ہے
اس ارشاد باری تعالیٰ میں پانچ مسائل ہیں : کیا وحی سے پہلے نبی کریم ﷺ کو جنوں کے آنے کی خبر تھی۔
مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، قل اوحی الی۔ اے محمد اپنی امت سے کہو، اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کی زبان پر میری طرف وحی کی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے میری قرات کو سنا۔ وحی سے قبل رسول اللہ اس بارے میں آگاہ نہ تھے حضڑت ابن عباس اور دوسرے علماء نے یہی کہا ہے کہ جیسا کہ ابھی آئے گا۔ ابن ابی عبلہ نے اسے احی پڑھا ہے کہا ہے، اوحی الیہ ووحی الیہ واؤ کو ہمزہ سے بدل دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ احمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن المنذر والحاکم والطبرانی وابن مردویہ و ابونعیم والبیہقی معا دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ اپنے صحابہ میں سے ایک جماعت کے ساتھ چلے سوق عکاظ کے ارادہ سے اور اسی دور میں رکاوٹ کردی گئی شیطانوں اور آسمانوں کی خبر کے درمیان اور ان پر آگ کے شعلے چھوڑے گئے۔ شیاطین اپنی قوم کے پاس واپس آئے تو قوم نے کہا کیا ہوا تمہارے لیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ کردی گئی ہے اور ہم کو بھگانے کے یلے ہم پر آگے کے شعلے چھوڑے گئے تو قوم نے کہا کہ تمہارے اور آسمان کی خبر کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی۔ مگر کوئی نئی…
Read the full tafseer →[قُلْ اُوْحِيَ اِلَيَّ : آپ ﷺ کہیے وحی کیا گیا میری طرف ] [انهُ : کہ حقیقت یہ ہے کہ ] [اسْتمعَ نَفَرٌ: دھیان سے سنا ایک ایسی ٹولی نے جو ] [مِّنَ الْجِنِّ : جنوں میں سے تھی ] [فَقَالُوْٓا انا سَمِعْنَا : پھر انھوں نے کہا بیشک ہم نے سنا ] [قُرْاٰنًا عَجبا : ایک عجیب پڑھی جانے والی چیز ]
ترکیب : آیات۔ 1 ۔ 3 ۔ 4 ۔ 6 ۔ میں اَنَّہٗ کے الفاظ آئے ہیں۔ ان ضمیروں کا کوئی مرجع نہیں ہے، اس لیے یہ سب ضمیر الشان ہیں۔ دیکھیں آیت۔ 2:85، نوٹ۔ 1 ۔ (آیت۔ 1) یہاں پر لفظ قُرْاٰنًا، کلام اللہ کے اسم علم کے طور پر نہیں بلکہ اپنے لغوی معنی میں آیا ہے، دیکھیں آیت۔ 2:185 ۔ مادہ ” ق ر ئ “ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
رسول اللہ ﷺ سے جنات کا قرآن سننا اور اپنی قوم کو ایمان کی دعوت دینا
یہاں سے سورة الجن شروع ہو رہی ہے جن پرانی مخلوق ہے جو حضرت آدم اور بنی آدم کی تخلیق سے پہلے سے دنیا میں موجود ہے ان لوگوں میں بھی مومن اور کافر نیک اور بدسب قسم کے افراد ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بھی ایمان کے مکلف تھے اور ہیں جس طرح بنی آدم میں انسانوں میں کافر اور مشرک ہیں اس طرح جنات میں بھی مشرک اور کافر رہے ہیں اور ان میں مومن بھی ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ :
حضور خاتم الانبیاء سیدنا محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے شیاطین نے ایک دھندہ بنا رکھا تھا۔ انسانوں میں کچھ لوگ کاہن بنے ہوئے تھے یہ لوگ آنے والے واقعات کی خبریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
تاثیر حقانیت قرآن برقوم جن و قبول ایمان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن ...... الی ...... یکونون علیہ لبدا “۔
(ربط) گذشتہ سورة نوح میں یہ بیان تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کس قدر طویل مدت تک اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن بدنصیب قوم بجائے اس کے کہ ہدایت قبول کرتی اور شقاوت وبدبختی میں اضافہ ہی ہوتا رہا اب اس سورت میں قوم جن کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ کس طرح ان میں سے ایک گروہ قرآن سن کر اسکی حقانیت کا گرویدہ ہوگیا کلام الہی کی معرفت نصیب ہوتی اور حق پہچان کر اس کھلے دل سے تیار ہوگئے صرف یہی نہیں کہ خود انہوں نے حق قبول کیا بلکہ وہ تو داعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ ” قل اوحی “ دلیل نقلی از جنات۔ آنحضرت ﷺ پر ابتداء وحی سے شیاطین کا آسمان پر جا کر فرشتوں کی باتیں سننا بند ہوگیا۔ پہلے وہ اوپر جا کر بیٹھ جاتے اور فرشتوں کی باتیں سنتے تھے، لیکن اب جو اوپر جاتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا تعاقب کرتا ہے۔ شیاطین اس سے پریشان ہوئے اور ابلیس سے سارا معاملہ بیان کیا۔ اس نے کہا ضرور کوئی نئی بات رونما ہوئی ہے جس کی وجہ سے تمہارا آسمان پر جانا محال ہوگیا ہے ابلیس نے جنوں کی جماعتیں منظم کر کے مختلف سمتوں میں روانہ کردیں تاکہ وہ اصل حقیقت کا سراغ لگائیں۔ جنوں کی ایک جماعت تہامہ کی طرف روانہ کی گئی۔ یہ جماعت پھرتی پھراتی مقام نخلہ میں پہنچی تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ چند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
کوائف :
اس سورة کا نام سورة جن ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق جن اس کے عقائد اور ہدایت قبول کرنے کا ذکر ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی اٹھائیس آیات ، دو رکوع ، دو صدپچاسی الفاظ اور آٹھ سو ستر حروف ہیں۔ پہلی سورة کی طرح اس کا موضوع بھی بنیادی عقائد ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ توحید ہے۔ اسکے بعد قیامت اور رسالت کا بیان ہے۔ قرآن پاک کا کلام الہٰی اور برحق ہونا بھی اس کے موضوع میں شامل ہے۔
لفظ جن کا معنیٰ :
جن کا لفظی معنی پوشیدہ یا مستور ہے۔ یعنی وہ چیز جو مستور ہو۔ اسے جن کہتے ہیں۔ جنکے مادے سے کئی ایک چیزیں مشتق ہیں۔ مثلاََ جنت کو جنت اس لیے کہتے ہیں کہ یہ اپنے گنجان اور گھنے…
Read the full tafseer →قُلْ اُوْحِيَ اِلَيَّ اَنَّہُ اسْتَـمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْٓا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَــبًا 1 ۙ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
والقَوْلُ يستعمل علی أوجه :
أظهرها أن يكون للمرکّب من الحروف المبرز بالنّطق، مفردا کان أو جملة، فالمفرد کقولک : زيد، وخرج . والمرکّب، زيد منطلق، وهل خرج عمرو، ونحو ذلك، وقد يستعمل الجزء الواحد من الأنواع الثلاثة أعني : الاسم والفعل والأداة قَوْلًا، كما قد تسمّى القصیدة والخطبة ونحوهما قَوْلًا .
الثاني :
يقال للمتصوّر في النّفس قبل الإبراز باللفظ : قَوْلٌ ، فيقال : في نفسي قول لم أظهره .…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب : اوحی من الایحاء ھو القاء المعنی الی النفس فی خفاء کالالھام و انزال الملک و یکون ذلک فی سرعۃ انہ بالفتح الجملۃ فاعل اوحی والضمیر فی انہ للشان ای اخبرت بالوحی من اللہ عجبا مصدر و صف بہ للمبالغۃ۔ یھدی الخ الجملہ صفۃ قرآنا اوحال منہ و انہ تعالیٰ قرء ابن کثیر وغیرہ من اھل البصرۃ بالکسر فی احد عشرموضعا الی قولہ و انہ لماقام عبداللہ الا قولہ و ان لواستقاموا وان المساجد و انہ لمقام عبداللہ فانہا من جملۃ الموحی بہ وافقھم نافع وابوبکر الافی قولہ وانہ لما قام علی انہ استیناف اومقول وجہ الکسرۃ انھا من جملۃ المح کی بعدالقول وقرء الباقون بالفتح فی ھذہ المواضع عطفاً علی محل الجار و المجرور فی آمنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّـہُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَـقَالُوْٓا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبً ۔ ایَّھْدِیْٓ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰ مَنَّا بِہٖ ط وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَـآ اَحَدً ۔ (الجن : 1، 2)
(اے پیغمبر، کہہ دیجیے مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے غور سے (قرآن کو) سنا، پھر (جا کر اپنی قوم کے لوگوں سے) کہا کہ ہم نے بڑا ہی عجیب قرآن سنا ہے۔ جو ہدایت کی راہ بتاتا ہے، تو ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں او اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ )
پہلی آیت کریمہ کے پہلے لفظ سے یہ بات واضح ہے کہ جنوں کے جو تأثرات اس سورة میں بیان کیے گئے ہیں وہ نبی کریم ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
فہم القرآن
ربط سورت : حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد لوگوں کو شرک سے روکنا اور توحید کی دعوت دینا تھا اسی دعوت کے ساتھ نبی آخر الزمان ﷺ مبعوث کیے گئے جس کا تذکرہ اس سورت میں جنوں کی زبان سے کیا گیا ہے۔
اہل مکہ جب کسی سفر کے دوران صحراء یا جنگل میں پڑاؤ ڈالتے تو قافلے کا ایک فرد کسی اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر آواز دیتا کہ اے جنوں کے سردار ہم نے یہاں پڑاؤڈالا ہے، ہماری تجھ سے درخواست ہے کہ اس صحراء میں ہماری حفاظت فرمانا۔ اس عقیدے کی تردید کے لیے نبی ﷺ کو ” قُلْ “ کے لفظ کے ساتھ حکم دیا گیا ہے کہ جو واقعہ آپ کے ساتھ پیش آیا ہے آپ یہ واقعہ اور جنوں کا عقیدہ اہل مکہ کے سامنے بیان فرمائیں۔…
Read the full tafseer →1 : قُلْ اے محمد ﷺ اپنی امت کو کہہ دیجئے اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّہٗ معاملہ اور شان یہ ہے
قراءت : تمام قراء اَنَّہ کے فتحہ پر اتفاق کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ اوحی کا نائب فاعل ہے۔ اور نمبر 2۔ اَنْ لَّوِ استقامُوا ] الجن : 16[ او اَن المساجد ] الجن : 18[ میں انہ استمع پر عطف ہے پس ان مخففہ من المثقلہ ہے۔ اور نمبر 3۔ اَن قد اَبْلَغُوا ] الجن : 28[ تاکہ یعلم اس کی طرف متعدی ہوسکے۔ اور فاء جزائیہ کے بعد مکسور ہوتا ہے اور قال کے بعد بھی جیسے فاِن لہ نارجھنم ] الجن : 23[ وقالوا انا سمعنا کیونکہ یہ ابتدائی کلام اور قال کا مقولہ ہے۔ ج نمبر 1۔ اَنّہٗ تَعالٰی جدربنا الی اَنَّا منا المسلمون ] الجن : 3۔ 14[ کے…
Read the full tafseer →سورة جن
مکی ہے اور اس کی اٹھائیس 28 آیات ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ قدیم زمانہ سے علماء مفسرین میں یہ ایک اختلاف چلا آتا ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود صحیح 1 ؎ مسلم کی روایت میں اس بات کے قائل ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جنات سے ملاقات کی اور ان کو قرآن شریف سکھایا اور صحیح بخاری 2 ؎ اور صحیح مسلم وغیرہ کی روایت میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اس کے منکر ہیں اور فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جنات سے ملاقات کی اور نہ ان کو قرآن شریف سکھایا بلکہ آنحضرت ﷺ کی بیخبر ی میں جنات قرآن شریف سن کر چلے گئے۔ بیہقی ‘ حافظ ابن حجر اور علماء نے اس اختلاف کو یوں رفع کیا ہے کہ ان دونوں روایتوں کا قصہ جدا جدا ہے پہلے پہل جنات نے آنحضرت ﷺ کی بیخبر ی میں قرآن شریف سنا اور ایمان لائے اور جس کا…
Read the full tafseer →(قل) اے رسول ! لوگوں سے کہہ دیجئے (اُوْحِيَ اِلَيَّ اَنَّهُ اسْتَـمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ ) میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (اس کتاب کو) سنا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی آیات کے سماع کے لیے اپنے رسول کی طرف متوجہ کیا تاکہ ان پر حجت قائم ہو، ان پر نعمتوں کا اتمام ہوا اور وہ اپنی قوم کو متنبہ کرنے والے بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ ان کا قصہ لوگوں کو سنادیں۔ وہ قصہ یہ ہے کہ جب وہ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپس میں کہنے لگے، خاموش رہو، پس جب وہ خاموش ہوگئے تو وہ قرآن کے معافی کے فہم سے بہرہ ور ہوئے اور قرآن کے حقائق ان کے دلوں تک پہنچ گئے۔ (فقالوا انا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
3 قرآن حکیم منبع رشد و ہدایت، والحمد للہ جل و علا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنوں نے قرآن کے بارے میں مزید کہا کہ جو راہنمائی کرتا ہے سیدھی راہ کی : ایسی سیدھی راہ کی جو کہ انسان کو اس کی حقیقی کامرانی کی منزل تک پہنچاتی ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، کہ دنیا میں اس سے اس کو حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں جنت کی نعیم مقیم اور ابدی فوز و فلاح سے سرفرازی، جو کہ سب سے بڑی اور اصل اور حقیقی کامیابی ہے اور اس راہ حق کا اس کلام حق پر ایمان و یقین کے بغیر ملنا ممکن ہی نہیں، سو یہ قرآن قرآن حکیم کی اسی اثر انگیزی اور دل پذیری کی وضاحت ہے جس کی طرف لفظ عجب میں اشارہ پایا جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
جنوں پر تلاوت قرآن کا اثر
تشریح : جیسا کہ قرآن پاک کی عظمت کا کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے۔ قرآن پاک میں کوئی زیر زبر پیش، حرف، لفظ آیت اور سورت ایسی نہیں کہ جو کسی خاص مقصد خاص پیغام یا موضوع سے خالی ہو۔ اس کا ہر ہر حرف حکمت و ہدایت کا منبع ہے۔ اسی طرح سورت جن کا سب سے بڑا مقصد بھی اس بہترین کتاب ہدایت، بہترین ادبی کتاب ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ کیونکہ جنوں کے جس گروہ نے قرآن نبی پاک ﷺ کی زبان سے سنا وہ اس قدر متاثر ہوا کہ فوراً ایمان لے آیا اور پھر اپنی جنوں کی جماعت میں جاکر اس کی تبلیغ بھی کی۔ اور انہوں نے بہترین الفاظ میں اسلام اور کتاب آخر کی تعریف کی۔ جس کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں۔
یہ کتاب مقدس ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الجن۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ لوگوں کو بتادیجئے کہ اللہ رب العزت نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے میری تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔
جن :
جنات اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے اجسام بھی ہیں اور ارواح بھی انسانوں کی طرح مردو عورت بھی ہیں اور نسل بھی چلتی ہے ان کی تخلیق کا غالب مادہ آگ ہے لہذا نظروں سے اوجھل رہتے ہیں چونکہ شیطان بھی جنوں میں سے تھا ، لہذا اس کی اولاد بھی جن ہی ہے مگر بہت زیادہ برے ہیں اور فرشتوں کی طرح جنات کا وجود قرآن وسنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے جس کا انکار کفر ہے۔ تفسیر مظہری میں لوگوں کے جنات سے ملنے کے واقعات بھی موجود ہیں اور ، اکام…
Read the full tafseer →ف 5 سورة احقاف میں گزرچکا ہے کہ نبی ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ چند جنوں کا ادھر سے گزر ہوا۔ انہوں نے جب قرآن سنا تو اس پر سچے دل سے ایمان لائے پھر اپنے قبیلے کی طرف واپس ہوگئے اور اسے قرآن پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ اسی واقعہ کا ذکر سورة جن کی ان آیات میں کیا گیا ہے اور یہاں جنوں کی اس تقدیر کو جو انہوں نے واپس جا کر اپنے قبیلے کے سامنے کی زیادہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس واقعہ سے متعلق دوسری تفصیلات کو سورة احقاف کی آیت 29 تا 32 کیتحت فوائد ہیں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔6 یعنی جو اپنی فصاحت و بلاغت طرز بیان قوت تاثیر اور علوم و مضامین کے اعتبار سے حیرت انگیز ہے۔
Read the full tafseer →(72:1) قل ای قل یا محمد ﷺ ۔
اوحی الی : اوحی ماضی مجہول واحد مذکر غائب : ایحاء (افعال) مصدر۔ بمعنی وحی کرنا۔ وحی بھیجنا۔ اشارہ کرنا۔ الی : الی حرف جار اور ی صیغہ واحد متکلم سے مرکب ہے۔ میری طرف۔
(اے محمد ﷺ لوگوں سے) کہہ دیجئے کہ وحی کے ذریعہ مجھے بتایا گیا ہے : انہ استمع نفر من الجن۔ جملہ نائب فاعل ہے اوحی الی کا۔ انہ میں ان حرف مشبہ بالفعل ہے ہ ضمیر شان اس کا اسم اور باقی جملہ استمع نفر من الجن اس کی خبر ہے۔
استمع واحد مذکر غائب استماع (افتعال) مصدر۔ اس نے گور سے سنا۔ اس نے اچھی طرح متوجہ ہوکر سنا۔ اس نے کان لگا کر سنا۔
نفر اسم جمع۔ جماعت۔ گروہ۔ متعدد افراد کی ٹولی۔ نفر تین سے دن تک کی جماعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن۔
استمع۔ غور سے سنا۔ نفر۔ افراد۔ الرشد۔ ہدایت۔ سیدھا راستہ۔ شطط۔ حد سے بڑھئی ہوئی بات۔ یعوذون۔ پناہ مانگتے ہیں۔ رھق۔ ضد۔ سرکشی ۔ بددماغی۔ ملئت۔ بھردیا گیا۔ شھب۔ شہاب۔ انگارے۔ نقعد۔ ہم بیٹھتے ہیں۔ رصد۔ گھات میں لگا ہوا۔ قدد۔ مختلف۔ ٹکڑے ٹکڑے۔ ھرب۔ بھاگنا۔ بخس۔ نقصان۔ رھق۔ دبائو۔ حطب۔ ایندھن۔
تشریح : رسول اللہ ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے جنات آسمان کے کسی کونے تک پہنچ کر چوری چھپے کسی رکاوٹ کے بغیر فرشتوں کی اس گفتگو کو سننے کی کوشش کرتے جو وہ دنیا کے کاموں کے تدبیر کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے باتیں کرتے تھے۔ یہ جنات فرشتوں کی باتیں سن کر اپنے کاہنوں کو بتا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
جنات کا قرآن پر ایمان لانا۔
(ف 1) سورة احقاف میں گزرچکا ہے کہ نبی ﷺ صبح کی نماز میں قرآن شریف پڑھ رہے تھے کئی جن ادھر سے گزرے اور قرآن شریف کی آواز کی سن کر فریفتہ ہوکرسچے دل سے ایمان لائے پھر اپنی قوم سے جاکرسب ماجرابیان کیا کہ ہم نے ایک کلام سنا ہے جو اپنی فصاحت وبلاغت ، حسن اسلوب، قوت تاثیر ، شریں بیانی طرز موعظت اور علوم ومضامین کے اعتبار سے عجیب و غریب ہے معرفت ربانی رشد و فلاح کی طرف رہبری کرتا ہے اور طالب خیرکاہاتھ پکڑ کر نیکی اور تقوی کی منزل پر پہنچادیتا ہے اس لیے ہم سنتے ہی بلاتوقف فاس پر ایمان لائے اور ہم کو کچھ شک وشبہ نہیں رہا کہ یہ ایسا کلام اللہ کے سوا کسی کا نہیں ہوسکتا۔ اب ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
[1] اشارہ ہے اس قحط کی طرف جو مکہ والوں کے ظلم و شرارت کی سزا میں آپ ﷺ کی دعا سے کئی سال ان پر مسلط رہا۔ اس لئے فرمایا کہ اگر لوگ ظلم و شرارت سے باز آ کر اللہ کے راستے پر چلتے تو قحط دور ہوتا اور باران رحمت سے ملک سرسبز و شاداب کردیا جاتا۔ اس میں ان کی آزمائش ہوتی کہ وہ نعمت پاکر شکر گزار ہوتے ہیں یا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
جنات ، تاویل اور شہاب ثاقبہ
1: حکمائے یونان کے مقتدین نے جنات کا انکار کیا اور بعد میں یورپ نے حضرات نے اس ضمن میں اتاویلات کو ضروری سمجھا ۔ حالانکہ قرآن حکیم میں احادث میں مذہبی صحائت میں اور مشرقی لٹریچر میں ان کے متعلق اتنا ذخیرہ ہے ۔ کہ انکار ناممکن ہے ۔ اور اب تو وہ عقلی مشکلات بھی درمیان میں نہیں رہی ہیں ۔ اب تو یورپ والے بھی کہہ رہے ہیں ۔ کہ جنات اور ارواح کا وجود برحق ہے ۔ اب ان کی تصویریں لی جارہی ہیں ۔ ان کا وزن دریافت کرلیا گیا ہے ۔ ان سے باتیں کی جاتی ہیں ۔ اور بغیر کسی قریب انفس اور سہود خطاء کے اب ایسا ایک مستقل سائنس ہے ۔ یعنی روحانیت مگر اس وقت بھی بدقسمتی سے کچھ لوگ ایسے…
Read the full tafseer →(1) انے نبی آپ فرمادیجئے کہ میرے پاس یہ وحی بھجی گئی ہے اور میرے جانب یہ وحی کی گئی ہے کہ جنات میں سے ایک جماعت نے قرآن سنا پھر انہوں نے واپس جاکر اپنی قوم میں بیان کیا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 1۔ قرآن ہونا تو اس کے مضمون سے معلوم ہوا اور عجیب ہونا اس سے کہ مشابہ کلام بشر کے نہیں۔
Read the full tafseer →آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میر پاس وحی آئی کہ جنوں کے ایک گروہ نے قرآن کریم کان لگا کر سنا
1 ؎” جن “ کیا ہے ؟ جن کے متعلق ہم پیچھے بہت سے مقامات پر بحث کرچکے ہیں اور خصوصاً اس کی وضاحت عروۃ الوثقی جلد ہشتم سورة الاحقاف کی آیت 29 تا 1 3 میں کرائے ہیں اور اس سورت کے اختتام پر ایک مختصر مضمون نقل کریں گے تاکہ مزید وضاحت ہوجائے ۔ روایات میں نبی کریم ﷺ سے براہ راست اتفا قا جنوں کے قرآن ِ کریم سننے کا ذکر آیا ہے اور بعض روایات میں اس طرح کا اشارہ پایا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے ایک رات جنوں کو قرآن ِکریم سنانے کا اہتمام بھی فرمایا ۔ ہم اس جگہ روایات پر بحث کرنا نہیں چاہتے کیونکہ اس طرح بحث طول پکڑے گی۔ ہم قبل ازیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
Commentary
Preliminary Remarks
It seems necessary to know a few facts before the start of the study of the Surah, which are as follows:
Fact [ 1]
Before the advent of the Holy Prophet ﷺ the devils used to go up to the heavens and eavesdrop on the conversations of the angels. After his advent, they were pelted with a piercing flame if they attempted to go up and eavesdrop. It is mentioned in Surah Al-Ahqaf that a group of jinn went up to the Holy Prophet to investigate the reason for this new phenomenon.
Fact [ 2]
It was customary in the Days of Ignorance that when people halted in a jungle…
Read the full tafseer →1 This shows that the jinn at that tithe were not visible to the Holy Prophet (upon whom be peace) , nor he knew that they were hearing the Qur'an being recited, but AIIah informed him of the incident afterwards by Revelation. Hadrat 'Abdullah bin 'Abbas also has, in connection with this incident, stated: "The Holy Messenger of AIIah had not recited the Qur'an before the jinn, nor did he see them." (Muslim, Tirmidhi, Musnad Ahmad, Ibn Jarir) .
2 The words in the original are: Qur an-an 'ajaba. Qur an means "something which is read again and again", and the jinn probably used this word in this…
Read the full tafseer →