Nooh 71:28

Nooh · from ayah 28

71:28

رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ؕ— وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا ۟۠رَبِّ اغۡفِرۡلِىۡ وَلِـوَالِدَىَّ وَلِمَنۡ دَخَلَ بَيۡتِىَ مُؤۡمِنًا وَّلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِؕ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيۡنَ اِلَّا تَبَارًا

اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور جو ایمان لا کر میرے گھر میں آئے اس کو اور تمام ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو معاف فرما اور ظالم لوگوں کے لئے اور زیادہ تباہی بڑھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

My Lord, forgive me and my parents and whoever enters my house a believer and the believing men and believing women. And do not increase the wrongdoers except in destruction."

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 10 of juzع

Read the whole surah · Surah Nooh

All translations of 71:28

میرے رب، مجھے اور میرے والدین کو اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے، اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرما دے، اور ظالموں کے لیے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کر"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور جو ایمان لا کر میرے گھر میں آئے اس کو اور تمام ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو معاف فرما اور ظالم لوگوں کے لئے اور زیادہ تباہی بڑھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے میرے پروردگار! تو مجھے اور میرے ماں باپ اور جو بھی ایمان کی حالت میں میرے گھر میں آئے اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے اور کافروں کو سوائے بربادی کے اور کسی بات میں نہ بڑھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

میرے پروردگار ! میری بھی بخشش فرما دیجیے، میرے والدین کی بھی، ہر اس شخص کی بھی جو میرے گھر میں ایمان کی حالت میں داخل ہوا ہے۔ اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کی بھی۔ اور جو لوگ ظالم ہیں ان کو تباہی کے سوا کوئی اور چیز عطا نہ فرمایے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے میرے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور اسے جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں ہے اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کو، اور کافروں کو نہ بڑھا مگر تباہی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے میرے رب! مجھے بخش دے اور میرے والدین کو اور ہر اس شخص کو جو مومن ہو کر میرے گھر میں داخل ہوا اور (جملہ) مومن مردوں کو اور مومن عورتوں کو، اور ظالموں کے لئے سوائے ہلاکت کے کچھ (بھی) زیادہ نہ فرما،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور اس کو جو مومن بن کر میرے گھر میں داخل ہو اور ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو اور ظالموں کو ہلاکت کے سوا کسی چیز میں نہ بڑھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے میرے پروردگار ! مجھے، میرے والدین کو اور ہر شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہو اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرما دے اور ظالموں کے لیے اور زیادہ ہلاکت بڑھا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے میرے رب ! میری مغفرت فرما، میرے ماں باپ کی مغفرت فرما اور جو میرے گھر میں مومن ہو کر داخل ہوں ان کی مغفرت فرما اور تمام مومنین و مومنات کی مغفرت فرما اور کافروں کی ہلاکت ہی میں اضافہ کر !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے میرے رب بخشش فرما دے تو میری بھی میرے ماں باپ کی بھی اور ہر اس شخص کی بھی جو داخل ہو میرے گھر میں ایمان کی حالت میں اور سب ہی ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کو اور ظالموں کے لئے تباہی (اور بربادی) کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں فرمانا

— مولانا اسحاق مدنی

اے میرے پروردگار مجھے بخش اور میرے ماں باپ کو اور جو بھی میرے گھر میں داخل ہوبحیثیت مومن کے اور کل ایمان والوں اور ایمان والیوں کو اور (ان) ظالموں کی ہلاکت تو بڑھا تا ہی جا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پروردگار ! مغفرت فرما دے میری اور میرے والدین کی اور جو کوئی بھی میرے گھر میں داخل ہوجائے ایمان کے ساتھ اس کی بھی اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کی بھی (مغفرت فرمادے) اور ان ظالموں کے لیے ُ تو اب کسی چیز میں اضافہ مت کر سوائے تباہی اور بربادی کے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے میرے رب مجھے اور میرے ماں باپ کو اور جو ایمان لا کر میرے گھر میں آئے اس کو اور تمام ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو معاف فرما۔ اور ظالم لوگوں کے لیے اور زیادہ تباہی بڑھا

— محترمہ رفعت اعجاز

My Lord, forgive me and my parents, and whoever enters my house as a believer, and forgive all believers, both men and women, and do not increase the wrong-doers in anything except perdition.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

My Lord, grant pardon to me, and to my parents, and to everyone who enters my home as a believer, and to all the believing men and believing women, and do not increase the wrongdoers but in ruin.

— Muhammad Taqi Usmani

My Lord, grant pardon to me, and to my parents, and to everyone who enters my home as a believer, and to all the believing men and believing women, and do not increase the wrongdoers but in ruin.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"My Lord! Forgive me, and my parents, and him who enters my home as a believer, and all the believing men and women. And to the wrongdoers grant You no increase but destruction!") Allah says,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

My Lord! Forgive me and my parents and him who entereth my house believing, and believing men and believing women, and increase not the wrong-doers in aught save ruin.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

My Lord, forgive me and my parents and whoever enters my house a believer and the believing men and believing women. And do not increase the wrongdoers except in destruction."

— Saheeh International

Lord, forgive me, my parents, the believers who have entered my home and all believing men and women. Give nothing to the unjust but destruction.

— Muhammad Sarwar

My Lord! forgive me and my parents and him who enters my house believing, and the believing men and the believing women; and do not increase the unjust in aught but destruction!

— Muhammad Habib Shakir

My Lord! forgive me and my parents and him who entereth my house as a believer, and believing men and believing women, and increase not the wrong-doers in aught save ruin!

— Abdul Majid Daryabadi

"O my Lord! Forgive me, my parents, all who enter my house in Faith, and (all) believing men and believing women: and to the wrong-doers grant Thou no increase but in perdition!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 71:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 25–28

کثرت گناہ تباہی کو دعوت دیتا ہے خطیئاتھم کی دوسری قرأت خطایاھم بھی ہے فرماتا اپنے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے یہ لوگ ہلاک کردیئے گئے ان کی سرکشی، ضد اور ہٹ دھرمی ان کی مخالفت و دشمنی رسول ﷺ حد سے گذر گئی تو انہیں پانی میں ڈبو دیا گیا، اور یہاں سے آگ کے گڑھے میں دھکیل دیئے گئے اور کوئی نہ کھڑا ہوا جو انہیں ان عذابوں سے بچا سکتا، جیسے فرمان ہے آیت (قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ ۚ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ 43؀) 11۔ ھود :43) یعنی آج کے دن عذاب اللہ سے کوئی نہیں بچا سکتا صرف وہی نجات یافتہ ہوگا جس پر اللہ رحم کرے، نوح نبی ؑ ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 25–28

سورة نُوْح 19 یعنی غرق ہونے پر ان کا قصہ تمام نہیں ہوگیا، بلکہ مرنے کے بعد فوراً ہی ان کی روحیں آگ کے عذاب میں مبتلا کردی گئیں۔ یہ بعینہ وہی معاملہ ہے جو فرعون اور اس کی قوم کے ساتھ کیا گیا، جیسا کہ سورة مومن، آیات 45۔ 46 میں بیان کیا گیا ہے (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، المومن، حاشیہ 63)۔ یہ آیت بھی ان آیات میں سے ہے جس سے برزخ کا عذاب ثابت ہوتا ہے۔ سورة نُوْح 20 یعنی اپنے جن معبودوں کو وہ اپنی حامی و مددگار سمجھتے تھے ان میں سے کوئی بھی انہیں بچانے کے لیے نہ آیا۔ یہ گویا تنبیہ تھی اہل مکہ کے لیے کہ تم بھی اگر خدا کے عذاب میں مبتلا ہوگئے تو تمہارے یہ معبود، جن پر تم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–28

(آیت) مِمَّا خَطِيْۗـــٰٔــتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا، یعنی یہ لوگ اپنی خطاؤں کفر و شرک کی وجہ سے پانی میں غرق کئے گئے تو یہ آگ میں داخل ہوگئے۔ یہ متضاد عذاب کہ ڈوبے پانی میں اور نکلے آگ میں، حق تعالیٰ کی قدرت سے کیا بعید ہے اور ظاہر ہے کہ یہاں جہنم کی آگ تو مراد نہیں کیونکہ اس میں داخلہ تو قیامت کے حساب کتاب کے بعد ہوگا یہ برزخی آگ ہے جس میں داخل ہونے کی قرآن کریم نے خبر دی ہے۔ عذاب قبر قرآن سے ثابت ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ عالم برزخ یعنی قبر میں رہنے کے زمانے میں بھی مردوں پر عذاب ہوگا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ جب قبر میں بدعمل کو عذاب ہوگا تو نیک عمل والوں کو ثواب اور نعمت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آخر میں حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے، اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان کے ساتھ ان کے گھر میں پناہ گیر ہو جائیں اور تمام مومنین و مومنات کے لیے مغفرت کی دعا مانگی اور ان لوگوں کی تباہی پر یہ دعا ختم کی جنھوں نے شرک و کفر پر اصرار کر کے اپنے لیے اس تباہی کو دعوت دی۔ والدین کا عظیم حق: ’وَلِوَالِدَیَّ‘۔ والدین کے لیے حضرت نوح علیہ السلام کی اس دعائے مغفرت سے والدین کے اس عظیم حق کا اظہار ہوتا ہے جس کی تاکید قرآن میں بار بار آئی ہے۔ بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ یہ مومن تھے لیکن اس کی تائید میں کوئی اشارہ قرآن میں نہیں ہے۔ ممکن ہے ان کی وفات حضرت نوحؑ کی دعوت یا اتمام حجت سے پہلے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

28۔ 1 کافروں کے لیے بدعا کی تو مومنین کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔ 28۔ 2 یہ بددعا قیامت تک آنے والے ظالموں کے لئے ہے جس طرح مذکورہ دعا تمام مومن مردوں اور تمام مومن عورتوں کے لئے ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

8: ایمان کی قید اس لیے لگائی کہ آپ کے گھر والوں میں سے آپ کی بیوی آخر تک کافر رہی، اور ایمان نہیں لائی، جیسا کہ سورة تحریم میں : 10 میں گذر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ایک طرف حضرت نوح (علیہ السلام) نے کفار کے بارے میں دعا فرمائی کہ ان کو نیست ونابود کردیا جائے۔ ولا تزد ................ الاتبارا (17 : 82) ” اور ظالموں کے لئے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کر “۔ اور دوسری جانب انہوں نے اپنے لئے دعا فرمائی : رب اغفرلی ............................ المومنت (17 : 82) ” میرے رب ، مجھے اور میرے والدین کو ، اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے ، اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرمادے “۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ کو اپنی مغفرت کے لئے بھی پکارا۔ اور یہ ہیں انبیاء کے آداب بارگاہ رب تعالیٰ میں۔ اللہ کے سامنے بندے کو اس طرح عاجزی سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی میرے مرتبہ کے موافق مجھ سے جو تقصیر ہوئی ہو، اپنے فضل سے معاف کیجیے، اور میرے والدین اور جو میری کشتی یا میرے گھر یا میری مسجد میں مومن ہو کر آئے ان سب کی خطاؤں سے درگزر فرمائیے۔ بلکہ قیامت تک جس قدر مرد اور عورتیں مومن ہوں سب کی مغفرت کیجیے۔ اللہ ! نوح کی دعاء کی برکت سے اس بندہ عاصی و خاطی کو بھی اپنی رحمت و کرم سے مغفور کر کے بدون تعذیب دنیاوی و اخروی اپنی رضاء و کرامت کے محل میں پہنچائیے۔ " اِنَّکَ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ مُجِیْبُ الدَّعْوَاتِ ۔ " تم سورة نوح وللہ الحمدالمنۃ

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28{ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا } ”پروردگار ! مغفرت فرما دے میری اور میرے والدین کی اور جو کوئی بھی میرے گھر میں داخل ہوجائے ایمان کے ساتھ اس کی بھی“ { وَّلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ط } ”اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کی بھی مغفرت فرمادے “ یہ دعا اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں اگلے اور پچھلے زمانوں کے تمام اہل ایمان شامل ہوگئے ہیں۔ { وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَـبَارًا۔ } ”اور ان ظالموں کے لیے ُ تو اب کسی چیز میں اضافہ مت کر سوائے تباہی اور بربادی کے۔“ سورة المعارج اور سورة نوح کے مطالعے کے بعد یہ نکتہ بھی اچھی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

17 کافروں کے حق میں سیدنا نوح کی بددعا : سیدنا نوح کی دعا کا پہلا حصہ تو کافروں کے متعلق تھا جن کے متعلق آپ نے اپنے تجربہ کی بنا پر یہ کہا تھا کہ ایسے بدکردار لوگ ہیں کہ ان کے نطفہ سے بھی بےحیا، بدکردار اللہ کے نافرمان اور ناشکرے ہی پیدا ہوں گے۔ وہ خود تو کیا ایمان لائیں گے، دوسروں کو بھی گمراہ ہی کرنے کی کوشش کریں گے۔ خ اپنے اور مومنوں کے حق میں دعائے خیر :۔ اسی دعا کا دوسرا حصہ جو اپنے لیے اور جملہ مومنین کے لیے ہے اس میں خاصی نرمی و لچک اور وسعت قلبی پائی جاتی ہے۔ یعنی سب سے پہلے تو آپ نے اپنے حق میں اپنی تقصیرات سے بخشش کی دعا فرمائی پھر اپنے والدین کے لیے پھر ان لوگوں کے لیے جو ایمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

17۔ (کہ انکی نجات کی کوئی صورت ہی نہ رہے، اور عذاب کا پورا تحقق ان پر ہوجائے) (آیت) ” رب اغفرلی “۔ دعائے نوح (علیہ السلام) میں ترتیب دعاء قابل غور وسبق آموز ہے۔ سب سے پہلے دعاء خود اپنے حق میں کی۔ (آیت) ” والوالدی “۔ اس کے بعد اپنے والدین کا نام لیا۔ (آیت) ” ولمن دخل بیتی مومن ا “۔ پھر نمبر اپنے مومن متعلقین کا آیا۔ (آیت) ” ولل مومنین وال مومنت “۔ پھر سارے اہل ایمان کو اس میں شامل کرلیا۔ حق تعالیٰ اپنے اس مقبول پیغمبر کی دعاء کی برکت سے ہم سب کو بھی اسی زمرہ میں شامل کرلے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–28

قال نوح رب لا تذر علی الارض من الکافرین دیارا حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ دعاء اس وقت فرمائی جب حضرت نوح (علیہ السلام) ان کے ایمان لانے سے بالکل ناامید اور مایوس ہوگئے، اور اللہ نے بھی بذریعہ وحی اطلاع کردی کہ اب ان میں سے کوئی ایمان لانے والا نہیں دیار، فیعال کے وزن پر دیوار تھا وائو کو یاء سے بدل کر یاء میں ادغام کردیا، رہنے بسنے والے۔ بحمدتم اللہ

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

رب اغفرلی ولو الدی . حضرت نوح کے باپ کا نام لمک بن منوشلخ اور ماں کا نام سمجار بنت اتوش تھا اور دونوں مؤمن تھے (پیغمبر کسی کافر کے لیے دعاء مغفرت نہیں کرسکتا) ۔ ولمن دخل بیتی . بیت سے مراد ہے گھر اور بقول ضحاک مسجد اور بعض کے نزدیک کشتی تھی۔ مؤمنا . اس قید کے لگانے سے ابلیس (دعاء مغفرت سے) خارج ہوگیا کشتی میں وہ بھی آگیا تھا مگر کافر تھا۔ وللمومنین والمومنت . قیامت تک آنے والے تمام مؤمن مرد اور عورتیں اس میں داخل ہیں۔ ولا تزد الظالمین . الظٰلمین سے مراد ہیں کافر۔ الا تبارا . یعنی ہلاکت۔ اللہ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی (اور اس قوم کے تمام کافر تباہ کردیئے گئے۔ ) الحمد اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

پروردگار مجھ کو اور میرے مومن باپ کو اور جو مومن ہونے کی حالت میں میرے دین یا یہ کہ میری مسجد یا یہ کہ میری کشتی میں داخل ہیں ان کو اور تمام مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو جو کہ میرے بعد ہوں گے بخش دیجیے اور ان مشرکین کی ہلاکت اور نقصان کو اور بڑھا دیجیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(رب اغفرلی ولوالدی…: اس ایٓ میں نوح ؑ کی اس دعائے مغفرت کا ذکر ہے جو انہوں نے اپنے لئے، اپنے والدین کے لئے اور ان اہل ایمان کے لئے کی جو عذاب کی پیش گوئی سچ مان کر اس سے بچنے اور کشتی میں سوار ہونے کے لئے ان کے گھر جمع ہوگئے تھے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے پہلے تمام مومن مردوں اور عورتوں کے لئے مغفرت کی دعا کی اور کافروں کے لئے مزید ہلاکت کی بد دعا کی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نوح ؑ کے والدین موحد تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

رب اغفرلی ولوالدی حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے لئے اور اپنے والدین کے لئے دعا کی۔ وہ دونوں مومن تھے۔ لمک بن متوشلخ وسمخی بنت انوش، قشیری اور تعلبی نے اسے ذکر کیا ہے۔ ماوردی نے آپ کی والدہ کا نام منجل بتایا ہے۔ (1) سعید بن جبیر نے کہا، والدیہ سے انہوں نے باپ اور دادا امراد لیا ہے سعید بن جبیر نے لوالدی دال کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ واحد کا صیغہ ہے۔ کلبی نے کہا، ان کے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے درمیان دس آباء ہیں۔ سب کے سب مومن تھے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، حضرت نوح اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے درمیان کسی فرد (والد) نے کفر نہیں کیا۔ ولمن دخل بیتی مومنا بیت سے مراد مسجد، مصلی ہے، اس حال میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

20۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت رب اغفر لی ولولالدی سے مراد ہے آپ کے باپ اور داد ا۔ 21۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولمن دخل بیتی مومنا سے مراد ہے کہ یعنی میری مسجد۔ 22۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تزد الظلمین الا تبا را سے مراد ہے خسارہ۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[رَبِ اغْفِرْ لِيْ : اے میرے رب تو بخش دے میرے لیے ] [وَلِوَالِدَيَّ : اور میرے والدین کے لیے ] [وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ : اور اس کے لیے جو داخل ہوا میرے گھر میں ] [مُؤْمِنًا : ایمان لانے والا ہوتے ہوئے ] [وَّلِلْمُؤْمِنِيْنَ : اور ایمان لانے والوں ] [وَالْمُؤْمِنٰتِ : اور ایمان لانے والیوں کے لئے (گناہوں کو)] [وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ : اور تو زیادہ مت کر ظالموں کو ] [اِلَّا تَبَارًا : مگر بلحاظ بربادی کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 25–28

فائدہ : یہ جو فرمایا : ﴿ مِمَّا خَطِيْٓـٰٔتِهِمْ۠ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا ﴾ (اپنی خطاؤں کی وجہ سے وہ لوگ غرق کردیئے گئے پھر آگ میں داخل کردیئے گئے) اس میں چونکہ اغرقوا اور ادخلوا دونوں ماضی کے صیغے ہیں اس لیے حضرات علماء کرام نے اس آیت سے عذاب قبر کو ثابت کیا ہے عذاب قبر میں کافر مبتلا ہوتے ہیں اور بعض گناہگار اہل ایمان کا بھی ابتلا ہوتا ہے۔ احادیث شریفہ میں اس کی تفصیلات وارد ہوئی ہیں۔ ثبوت عذاب قبر کے جو دلائل ہیں ان میں ایک یہ آیت بھی ہے ظاہر ہے دوزخ کا داخلہ تو قیامت کے دن ہوگا صیغہ ماضی کے ساتھ جو فرمایا ہے کہ وہ لوگ غرق کردیئے جانے کے بعد آگ میں داخل کردیئے گئے۔ اس سے ثابت ہوا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–28

شکوۂ نوح (علیہ السلام) ببارگاہ خداوندی برنافرمانی وسرکشی قوم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قال نوح رب انھم ......... الی ......... الا تبارا “۔ (ربط) ابتداء سورت سے حضرت نوح (علیہ السلام) کے جذبہ تبلیغ اور دعوت الی اللہ کا ذکر تھا کہ کیسے انہماک اور دل سوزی سے دن رات اپنی قوم کو خدا کی طرف بلاتے رہے ہدایت وسعادت کا پیغام دیتے رہے کوئی حالت اور کوئی مجلس ایسی نہ چھوڑی جس میں ایسی لگن اور ولولہ سے قوم کو راہ حق کی طرف لانے کی کوشش نہ کرتے ہوں اب ان آیات میں اس کے بالمقابل ان کی قوم کا کردار ظاہر کیا جارہا ہے کہ جس قدر نصیحت وہمدردی بڑھتی گئی، اسی قدر قوم کی شقاوت و گستاخی بڑھتی چلی گئی حتی کہ اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

15:۔ ” رب اغفرلی “ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے والدین اور تمام مومنوں کے لیے خواہ ان کی امت کے ہوں یا دوسرے پیغمبروں کی امتوں سے تعلق رکھتے ہوں، سب کے لیے مغفرت کی دعا کی اور مشرکین کے لیے تباہی و بربادی کی بد دعاء کی۔ مشرکین پر ان کی بد دعاء تو قبول ہوچکی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بعید نہیں کہ تمام مومنوں کے حق میں بھی ان کی دعاء کو قبول فرما لے۔ قد دعا (علیہ السلام) دعوتین دعوۃ علی الکافرین ودعوۃ للمومنین وحیث استجیبت لہ الاولی فلا یبعد ان تستجاب لہ الثانیۃ واللہ تعالیٰ اکرم الاکرمین (روح ج 29 ص 81) ۔ سورة نوح (علیہ السلام) میں آیات توحید 1 ۔ ” اعبدوا اللہ واتقوہ “ نفی شرک ہر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 25–28

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ درس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا کے دوران ان دائوپیچوں کا ذکر تھا جو آپ کی قوم نے آپ کی دعوت کے خلاف آزمائے۔ نبوت میں شبہات پیدا کئے لوگوں کو تلقین کی کہ اپنے معبودوں کو مت چھوڑنا۔ خاص طور پر دو ، سواع ، یغوث ، یعوق اور نسر سے وابستگی پر آمادہ رکھا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ نوح (علیہ السلام) کی بات نہ ماننا بلکہ اپنے معبودوں پر جمے رہنا۔ سابقہ درس میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ قوم نوح کے معبود ان باطلہ کی پرستش نبی (علیہ السلام) کے زمانے کے مشرکین بھی کرتے تھے اور انہوں نے بھی انہیں ناموں سے مجسمے بنا رکھے تھے۔ یہ تصور ہندوستان میں بھی برہما ، بش دشنو ، اندر دیوتا اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَّلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ۝ 0 ۭ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِـمِيْنَ اِلَّا تَبَارًا۝ 28 ۧ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 25–28

ترکیب : مما ما مزیدۃ لتاکیدوا لمعنی من۔ خطیئتھم قرء الجمہور علی جمع السلام ۃ وقری خطایاھم علی جمع التکسیر ‘ دیارا من یسکن الدیار ویدورفی الارض ولاتستعمل الافی النفی العام اصلہ دیوار علی وزن فیعال من الدارا والدورفقلبت الواویا ئً وادغمت احدھمافی الاخری قالہ الزجاج والفراء قال ابن قتیبہ مابھاد یارا ای نازل دارلافعال والا لکان دوارا۔ البیضاوی۔ مؤمنا حال لمن دخل۔ تبارا۔ ہلاکا۔ تفسیر : اس کشمکش میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو سینکڑوں برس گزر گئے اور سوائے چند شخصوں کے کوئی بھی ہدایت پر نہ آیا تب ان حضرت کی بددعا کے سبب عذاب آیا کہ آسمان سے بےانتہا پانی برسا اور زمین نے بھی اپنی سوتیں کھول دیں، تمام…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَـیْـتِیَ مُوْمِنًا وَّلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ط وَلاَ تَزِدِالظّٰلِمِیْنَ اِلاَّ تَبَارًا۔ (نوح : 28) (اے میرے رب ! مجھے اور میرے والدین کو اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرما دے اور کافروں کی ہلاکت ہی میں اضافہ فرما۔ ) اس آیت کو پڑھتے ہوئے سب سے پہلی بات جس کا احساس ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ دعا کرنے والے حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبر ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بےنیازی کا کیا کہنا کہ وہ سب سے پہلے اپنی مغفرت کی دعا کرتے ہیں حالانکہ ان کی مغفرت میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 21–28

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو مدت مدید تک دن اور رات سمجھایا مگر قوم نے کھلے لفظوں میں ان کی دعوت ماننے سے انکار کردیا۔ جس کے نتیجے میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان الفاظ میں اپنے رب کے حضور فریاد کی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو دن اور رات، جلوت اور خلوت میں اللہ کی طرف بلاتے رہے مگر قوم نے کہا کہ تیرے کہنے پر وَدّ ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو نہیں چھوڑ سکتے۔ یاد رہے یہ اس قوم کے سب سے بڑے بت تھے اور اس قوم کے فوت شدہ بزرگوں کے تخیلاتی مجسمے تھے جو انہوں نے ان کی یاد میں بنائے ہوئے تھے۔ قوم نے نوح (علیہ السلام) کو یہ بھی دھمکی دی کہ اگر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

28 : رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ (اے میرے رب مجھ کو اور میرے ماں باپ) آپ کے والدین مسلمان تھے۔ آپ کے والد کا نام لمک اور والدہ کا نام شمخاء ایک قول یہ ہے وہ آدم وحواء ہیں۔ قراءت : لولدیّ پڑھا گیا اس سے مراد سام اور حام ہیں۔ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ (اور جو مومن ہونے کی حالت میں میرے گھر میں داخل ہیں ان کو) بیتیؔ سے مراد میرا مکان نمبر 2۔ میری مسجد نمبر 3۔ میری کشتی مُؤْمِنًا کیونکہ ان کو معلوم ہوگیا کہ جو ان کے گھر میں آگئے ہیں وہ کفر کی طرف نہ لوٹیں گے۔ وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ( اور تمام مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو بخش دے) جو قیامت تک آنے والے ہیں۔ آیت میں پہلے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

27 ۔” انک ان تذرھم یضلوا عبادک “ ابن عباس ؓ ، کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی اپنے بیٹے کے ساتھ نوح (علیہ السلام) کے پاس جاتا اور کہتا اس سے بچ کر رہنا یہ بڑا جھوٹا ہے اور میرے باپ نے بھی مجھے اس سے روکا تھا۔ پس بڑے مرجاتے اور چھوٹے اس حالت پر پیدا ہوتے۔ ” ولا یلدوا الا فاجرا کفارا “ محمد بن کعب، مقاتل اور ربیع اور ان کے علاوہ حضرات کہتے ہیں کہ نوع (علیہ السلام) نے یہ تب کہا جب اللہ تعالیٰ نے ہر مومن کو ان کی پشتوں سے نکال لیا اور ان کی بیویوں کے رحموں سے اور ان کی عورتوں کے رحموں کو بانجھ کردیا اور ان کے مردوں کی پشتوں کو خشک کردیا عذاب سے چالیس سال پہلے۔ اورکہا گیا ہے ستر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 25–28

25۔ 28۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی شکایت اور بددعا کا آخر نتیجہ یہ ہوا کہ سوا تھوڑے سے آدمیوں کے جو حضرت نوح کے سمجھانے سے راہ راست پر آگئے تھے اور سب قوم کے لوگ طوفان سے ہلاک ہو کر سیدھے جہنم کو چلے گئے یہ طوفان کا قصہ سورة عنکبوت اور سورة ہود میں تفصیل سے گزر چکا ہے ساڑھے نو سو برس تک حضرت نوح (علیہ السلام) کو اپنی قوم کی سرکشی کا خوب تجربہ ہوچکا تھا اس لئے طوفان کے وقت انہوں نے یہ دعا مانگی کہ یا اللہ اس سرکش قوم میں کا ایک گھر بھی طوفان کی آفت سے باقی نہ رہے کیونکہ ان میں کا ایک گھر بھی باقی رہے گا تو وہ اور ان کی اولاد لوگوں کو بہکائیں گے پھر اپنی ذات اور اپنے ماں باپ اور جو فرمانبردار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا) اے میرے رب مجھے میرے ماں باپ کو اور اس کو جو ایمان لاکر میرے گھر میں آئے بخش دے۔ حضرت نوح نے اپنی دعا کے لیے مذکورہ لوگوں کو خاص کیا کیونکہ ان کے حق موکد اور ان کے ساتھ نیکی مقدم ہے پھر اپنی دعا کو عام کرتے ہوئے کہا (وَّلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ۭ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا تَبَارًا) اور ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بھی معاف فرما اور ظالم لوگوں کے لیے اور زیادہ تباہی بڑھا۔ یعنی ظالموں کے لیے حسرت تباہی اور ہلاکت میں اضافہ کر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

28 حضرت نوح کی طرف سے اہل ایمان کے لئے مغفرت و بخشش کی دعا : سو حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور اپنی دعا میں مزید عرض کیا کہ اے میرے رب بخشش فرما دے تو میری بھی اور میرے ماں باپ کی بھی اور ہر اس شخص کی جو میرے گھر میں داخل ہو ایمان کی حالت میں اور عام ایماندار مردوں اور عورتوں کی اور ظالموں کے لئے تباہی کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں فرمانا۔ سو یہ حضرت نوح کی طرف سے سب کے لئے مغفرت و بخشش کی ایک عظیم الشان اور جامع دعاء ہے کہ اس میں سایر ہی ایماندار مرد اور عورتیں شامل ہوگئے، پس آپ کی یہ دعا ان سب کے لئے ہے۔ اللہ پاک حضرت نوح کی اس دعاء کی برکت سے میری بھی بخشش فرما دے۔ میرے والدین مرحومین کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–28

اللہ کی نعمتیں تشریح : کائنات کی ترتیب اس کا نظام سب کا سب حیرت انگیز پر آسائش اور ناقابل فہم ہے۔ گو کہ سائنس دان تحقیق و جستجو میں لگے رہتے ہیں اور جو قرآنی آیات کی روشنی میں تحقیق کرتے ہیں وہی مسلم سائنس دان زیادہ کامیاب رہے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ علم الافلاک فزکس، حیاتیات، بیالوجی وغیرہ وغیرہ تاریخ کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ تمام علوم کی جڑیں مکمل طور پر مسلم سائنس دانوں کے کئے ہوئے کاموں ہی سے نکلتی ہیں۔ مثلاً ابن عربی، جابر خراسانی، ابن سینا وغیرہ ایک عام انسان کے لئے اور ایک خاص انسان کے لیے آسمانوں کا ذکر چاند، سورج اور زمین کا ذکر انسان کی پیدائش، مرجانا زمین…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–28

آیات 21 تا 28۔ اسرار معارف۔ لہذا پوری محنت شاقہ کے بعد نوح (علیہ السلام) نے ناامید ہوکردعا فرمائی کہ اے اللہ یہ میری بات نہیں مانتے اور ایسے کام کرتے ہیں جس میں عذاب کا خطرہ اور جان ومال کا نقصان ہے اور میرے خلاف میرے لائے ہوئے نظام کے خلاف بڑی بڑی سازشیں کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو تلقین کرتے ہیں کہ اپنے ، ود ، سواع ، یعوث ، یعوق ، اور نسر بت کو مت چھوڑ کہا گیا ہے کہ یہ پہلے گزرنے والے نیک لوگ تھے جن کے انہوں نے بت بنارکھے تھے لہذا یہ گمراہی میں حد سے گزرچکے تھے اب ان کو اس گمراہی کی ذلت میں دھنسا دے چناچہ اپنے گناہوں کے باعث غرق کردیے گئے اور آگ میں داخل ہوئے انہیں اللہ کے مقابلے میں کوئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 میرے گھر میں آ کر پناہ لے یا میری مسجد میں آئے یا میری کشتی میں سوار ہو۔3 اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی یہ دعا قبول فرمائی اور طوفان بھجیا جس نے تمام مشرکوں اور کافروں کو غرق کردیا۔ حضرت نوح کی یہ دعا قیامت تک آینوالے تمام ایماندار مردوں اور عورتوں اور ظالم مشرک و کافر مردوں اور عورتوں کے لئے ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(71:28) رب : ای یا ربی اے میرے پروردگار۔ اغفر : امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ غفر (باب ضرب) مصدر تو معاف کردے۔ تو بخش دے ۔ لی مجھے۔ ولوالدی اور میرے والدین کو۔ مضاف مضاف الیہ۔ والذین تثنیہ ی ضمیر واحد متکلم اضافت کی وجہ سے نون گرا کر ی کو ی میں ادغام کردیا۔ والدی ہوگیا۔ جیسے یدی میرے دونوں ہاتھ۔ والدی میرے دونوں والدین۔ یعنی ماں اور باپ ولمن۔ من موصولہ۔ بمعنی اور وہ جو مؤمنا حالیہ (مومن ہوکر) وللمؤمنین اور مومن مردوں کو والمؤمنات اور مومن عورتوں کو۔ ولا تزر الظلمین واؤ عاطفہ، لا تزد فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ زیادۃ (باب ضرب) مصدر اور نہ بڑھا۔ اور نہ زیادہ کر۔ الظلمین : ظالم لوگ۔ ظلم کرنے والے۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–28

لغات القرآن۔ لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔ تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔ فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 25–28

(ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) کی شکایت اور بددعا کا آخرنتیجہ یہ ہوا کہ سواتھوڑے سے آدمیوں کے جو حضرت نوح کے سمجھانے سے راہ راست پر آگئے تھے اور سب قوم کے لوگ طوفان سے ہلاک ہوکر سیدھے جہنم کو چلے گئے یہ طوفان کا قصہ سورة عنکبوت اور سورة ہود میں تفصیل سے گذرچکا ہے ۔ حضرت نوح کو ساڑھے نوسو برس تک اپنی قوم کی سرکشی کا خوب تجربہ ہوا اس لیے طوفان کے وقت انہوں نے یہ دعامانگی کہ یا اللہ اس سرکش قوم میں ایک بھی گھر طوفان کی آفت سے باقی نہ رہے کیونکہ ان میں کا ایک گھر بھی باقی رہے گا تو وہ ان کی اولاد لوگوں کو بہکائیں گے پھر اپنی ذات اور اپنے ماں باپ اور جو فرمانبردار عورت حضرت نوح کے گھر میں طوفان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–28

[6] اس سورت میں نوح (علیہ السلام) کا قصہ محض قصہ گوئی کی خاطر بیان نہیں کیا گیا ہے بلکہ مقصود اس سے رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی قوم کے سامنے ایک ایسا آئینہ رکھ دینا ہے جس میں آپ ﷺ بھی دیکھ لیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کو اپنی آخری منزل تک پہنچنے کے لئے صبروانتظار کے کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ساتھ ہی آپ ﷺ کی قوم بھی دیکھ لے کہ اس نے بھی وہی روش اختیار کر رکھی ہے جو نوح (علیہ السلام) کی قوم نے کر رکھی تھی اور اگر اس روش سے یہ لوگ باز نہ آئے تو انہیں بھی وہی انجام دیکھنا پڑے گا جو ان لوگوں نے دیکھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 27–28

بت پرستی کی وجہ 1: حضرت نوح نے بطور فریاد فرمایا ہے ۔ کہ اے اللہ ان لوگوں کے میرے اخلاق کی پرواہ نہ کی ۔ اور ان لوگوں کے پیچھے لگے ۔ جو مال و دولت اور دنیوی اعزاز میں مشہور تھے ۔ اور جنہوں نے حق وصداقت کو مٹانے کے لئے بڑی بڑی تدبیریں اختیار کیں ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ خود ان سرمایہ دار ان عزت وجاہ اور اولاد والوں اور ان کے ورثاء کو نقصان ہی پہنچا ۔ اور یہ لوگ سچائی کے مقابلہ میں صراحتاً گھاٹے میں رہے ۔ ان اکابر نے قوم کو یہ پٹی پڑھائی ۔ کہ دیکھو ۔ کہیں توحید کے اختیار کرکے اپنے مضبوط اور پکے عقیدے سے دست بردار نہ ہوجانا اپنے بتوں کو عزت واحترام سے رکھنا ۔ اور کسی وقت بھی ان سے عقیدت منقطع نہ کرنا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(28) اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے ماں باپ اور اس کو جو مومن ہونے کی حالت میں میرے گھر میں داخل ہوجائے اور تمام ایمان والے مردوں اور تمام ایمان والی عورتوں کو بخش دیجئے اور ان مذکورین کی مغفرت فرمادیجئے اور آپ ان ظالموں کے لئے سوائے تباہی کے اور کسی چیز کو زیادہ نہ کیجئے ان پر تباہی اور ہلاکت ہی کو بڑھاتے رہیے۔ چونکہ کفار کے حق میں بددعا کا سلسلہ جاری تھا اسی دوران میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی اور اپنے متعلقین کی اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کی مغفرت کے لئے دعا فرمادی اور اپنی دعا کے آخری حصے کو پھر کفار کی تباہی اور ہلاکت پر ختم کیا، مطلب یہ ہے کہ میری مغفرت فرمادیجئے اور مجھ سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے والدین مومن تھے، اور اگر اس کے خلاف ثابت ہوجاوے تو والدین سے مراد آباء و امہات بعیدہ لیں گے، اور تثنیہ مفرد کا نہ ہوگا بلکہ جنس کا ہوگا، اور آباء بعیدہ میں مومنین کا تحقق یقینی ہے۔ 5۔ یعنی ان کی نجات کی کوئی صورت نہ رہے ہلاک ہی ہوجاویں، اور یہی مقصود تھا دعائے ضلال سے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور میرے والدین اور ایمان والوں کو بھی 28 ؎ زیر نظر آیت میں نوح (علیہ السلام) نے دعا مانگی ہے کہ اے میرے رب مجھے بخش دے اور اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بخشش طلب کرنے کے لئے ضروری نہیں کہ آدمی پہلے گناہ کرچکا ہو تب ہی بخشش طلب کرے۔ ایک آدمی اگر گناہ کے قریب بھی نہ گیا ہو اور نہ ہی قریب جانے کا امکان ہو تو بھی اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے ہی رہنا چاہئے کہ انسانیت کے لئے یہ ضروری اور لازم ہے اور اس سے انسان کے درجات بلند ہوتے ہیں اور نیکی اور تقویٰ میں مزید ترقی حاصل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا بہت بہترین طریقہ ہے اور اس سے نخوت وتکبر کے گلے پر چھریچلتی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–28

مِّمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِ‌قُوا فَأُدْخِلُوا نَارً‌ا فَلَمْ يَجِدُوا لَهُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَنصَارً‌ا (Because of their sins they were drowned, and then admitted into the Fire. So they found no helpers for them besides Allah…1:25). The 'sins' referred to here are unpardonable sins of 'kufr and shirk'. They were drowned in water and emerged in fire, an opposing punishment which is not impossible for Divine power. Obviously, the ‘Fire’ mentioned in the verse does not refer to the fire of Hell, but refers to the fire in the realm of ‘Barzakh’ (the existence between the worldly life and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–28

19 That is, "Drowning was not their end, but after death their souls were immediately subjected to the punishment of the Fire." This precisely was the treatment that was meted out to Pharaoh and his people, as has been stated in Surah Al-Mu'min: 45-46. (For explanation, see E.N. 63 of Al-Mu'min) . This verse also is of those verses which prove the punishment of barzakh (intermediary stage between death and Resurrection) . 20 That is, "None of the gods whom they looked upon as their supporters and helpers came to their rescue." This, in fact, was a warning to the people of Makkah, as if to…

Read the full tafseer →