71. Surah Nooh

نوحNoah · 28 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 71:1–2

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 71:1 in the Quran reader

بلا شبہ ہم ہی نے بھیجا نوح کو (پیغمبر بنا کر) ان کی قوم کی طرف کہ خبردار کرو اپنی قوم کو قبل اس سے کہ آپہنچے ان کو (ان کے کفر و انکار پر) ایک بڑا ہی (ہولناک اور) دردناک عذاب

قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 71:2 in the Quran reader

چناچہ انہوں نے (پوری صراحت و وضاحت سے اور درد بھرے انداز میں ان سے) کہا اے میری قوم کے لوگوں بلاشبہ میں تمہارے لئے خبردار کرنے والا ہوں کھول کر (حق اور حقیقت کو)

1 ۔ اللہ تعالیٰ کی ایک سنت اور دستور کا ذکر وبیان : سو حضرت نوح (علیہ السلام) سے ارشاد فرمایا گیا کہ خبردار کرو اپنی قوم کو قبل سے اسے کہ آپہنچے ان کو ایک دردناک عذاب، جس کے یہ لوگ اپنے کفر و انکار اور تکذیب و استکبار کی بناء پر مستحق ہوچکے ہیں۔ خواہ وہ دنیا میں ان پر آئے طوفان و تباہی وغیرہ کی شکل میں یا آخرت میں آئے جہنم و جحیم کی صورت میں (بیان القرآن، وغیرہ) والعیاذ باللہ۔ سو یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کے قانون و دستور کا بیان ہے کہ جب کسی قوم کا اخلاقی فساد و بگاڑ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ عذاب کی مستحق قرار پاجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ عذاب بھیجنے سے پہلے ان کے اندر اپنا رسول بھیج کر ان پر حجت تمام کردیتا ہے، تاکہ گمراہی میں پڑے رہنے کے لیے ان کے پاس کوئی عذر اور حجت باقی نہ رہ جائے۔ سو اپنی اسی سنت اور دستور کے مطابق اس نے حجرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا کہ ان کو خبردار کرو قبل اس سے کہ ان پر آپہنچے وہ دردناک عذاب جس کا مستحق انہوں نے اپنے آپ کو بنا لیا ہے، سو اس سے یہ اہم اور بنیادی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ پیغمبر کا اصل اور اولین کان انذار یعنی خبردار کرنا ہوتا ہے، تاکہ اس سے لوگ چوکنے ہو کر پیغام حق و ہدایت کو غور سے سنیں اور اس کو صدق دل سے قبول کریں، اسی لیے حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو انذار فرمایا۔ چناچہ آپ نے ان سے فرمایا کہ اے میری قوم بیشک میں تمہارے لیے خبردار کرنے والا ہوں کھول کر حق اور حقیقت کو، تاکہ تم لوگ باز آجاؤ اپنی غلط روش سے، اور تم بچ جاؤ اپنے برے انجام اور دائمی عذاب سے قبل اس سے حیات دنیا کی تمہاری یہ فرصت محدود اور مہلت عمل تمہارے ہاتھ سے نکل جائے، سو جس طرح ایک نذیر عریاں اپنی قوم کو حملہ آور دشمن سے آگاہ کرتا ہے، اسی طرح میں تمہارے لیے نذی مبین ہوں، تاکہ میں تم لوگوں کو خبردار کروں اور اس عذاب سے جو تمہارے سروں پر منڈ لارہا ہے، عربوں کے یہاں نذیر عریاں کی اصطلاح انتہائی ہولناک خطرے کے لیے استعمال کی جاتی تھی، لیکن قرآن کریم نے اس کی بجائے نذیر مبین کی اصطلاح استعمال فرمائی ہے، ایک تو اس لیے کہ نذیر عریان کی اصطلاح ایک غیر مہزب اصطلاح، جو اس کلام حکیم میں جگہ پانے کے قابل نہیں تھی، اور دوسرے اس لیے کہ نذیر عریاں میں خطرے کے الارم کے سوا کوئی بیان و پیغام نہیں ہوتا، کہ وہ خطرہ کیسا اور کیا ہے ؟ اور اس سے بچاؤ کا طریقہ کیا ہوسکتا ہے ؟ وغیرہ جبکہ نذیر مبین کی طرف سے ان سب ہی سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں اور پوری تفصیل و وضاحت کے ساتھ دیے گئے اور ایسے کہ اس بارے میں کوئی خفا و غموض باقی نہ رہ جاتا، اور لوگوں پر حجت تمام ہوجاتی ہے۔ والحمدللہ جل وعلا۔
Ayah 71:3

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ Open ayah 71:3 in the Quran reader

(میرا پیغام یہ ہے) کہ تم لوگ بندگی کرو (ایک) اللہ کی اسی سے ڈرو اور میرا کہا مانو

2 ۔ عبادت و بندگی صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے : اسی لیے حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم لوگ بندی کرو صرف اللہ کی کہ معبود برحق وہی وحدہ لا شریک ہے، پس تم لوگ اسی کی بندگی کرو سچے دل سے اس پر ایمان لاکر، کہ ایمان کے بغیر کوئی عبادت و بندگی منظور نہیں سو اس کی وحدانیت پر صدق دل سے ایمان لانا، اس کے یہاں نجات اور قبولیت کی شرط اولین شرط ہے، سو یہ انزار نوح کی تفصیل ہے کہ تم لوگ بندگی صرف اللہ ہی کی کر وہ کہ معبود برحق بہرحال وہی وحدہ لا شریک ہے، پس تم لوگ اپنے ان تمام خود ساختہ اور خود تراشیدہ معبودوں کی پوجا پاٹ چھوڑ دو ، جس میں تم اب لگے ہوئے ہو کہ ان کی کوئی حقیقت نہیں، اور ان خود ساختہ اور بنے حقیقت معبودوں کی پوجا و بندگی انسان کی تحقیر و تذلیل اور اس کی ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس سے یہ اہم اور بنیادی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ پیغمبر کی دعوت و تبلیغ کی اصل اساس و بنیاد توحید خداوندی کی دعوت ہوتی ہے، کیونکہ پورے دین کا مدارو انحصار عقیدہ توحید ہی پر ہے، اور عقیدہ توحید کے بعد دوسری چیز یہ ہے کہ عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے، اسی لیے حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعوت توحید کے بعد دوسری بات اپنی قوم سے یہ فرمائی کہ تم لوگ اللہ ہی کی عبادت و بندگی کرو، تاکہ اس طرح تم اس کی گرفت و پکڑ سے بچ سکو، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ تم میری اطاعت و فرمانبرداری کرو، پس تم پابندی کرو ان حدود وقیود کی جو تمہارے رب نے تمہارے لیے مقرر فرمائی ہیں کہ اس سے تم اس کے غضب سے محفوظ رہو گے کہ تقوی دراصل نام ہی حدود خداوندی کی پابندی و پاسداری کا ہے، سو حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے مقرر کردہ حدود وقیود کا التزام اور ان کی پابندی ہی اصل مقصود اور دین متین کی تعلیمات مقدسہ کا خلاصہ اور نچوڑ ہے، اور یہی ذریعہ سرفرازی اور حاصل ہے تقوی و پرہیزگاری کا اور حق تعالیٰ کی عبادت و بندگی اور تقوی پرہیزگاری سے سرفرازی کا طریقہ پیغمبر کی اطاعت و اتباع ہے، اسی لیے حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ تم لوگ میری اطاعت کرو کہ میری اطاعت و فرمانبرداری دراصل اسی وحدہ لاشریک کی اطاعت و فرمانبرداری ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰهَ (النساء 80 پ 5) یعنی جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، پس تم لوگ صڈق دل سے میرا کہا مانو کہ اس میں خود تمہارا بھلا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، لہذا تم لوگ اپنے مفس لیڈروں کو چھوڑ کر میری اطاعت کرو، کہ یہی ذریعہ و وسیلہ ہے اللہ کی اطاعت و بندگی سے سرفرازی کا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی اطاعت و بندگی پیغمبر کے واسطے اور ان کی تعلیمات کے بغیر ممکن نہیں۔ وللہ الحمد جل وعلا۔
Ayah 71:4

یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 71:4 in the Quran reader

جس پر درگزر فرما لے گا وہ (غفور رحیم) تمہارے گناہوں میں سے اور مہلت عطا فرما دے گا تم کو ایک مقرر وقت تک بلاشبہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آ پہنچتا ہے تو پھر اسے ٹالا نہیں جاسکتا کاش کہ تم لوگ جان لیتے

3 ۔ عبادت و اطاعت کا پہلا اہم ثمرہ مغفرت ذنوب : سو ارشاد فرمایا گیا اور عبادت وتقوی اور اطاعت و فرمانبرداری کے ثمرات کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا سو اطاعت پیغمبر کے ثمران کے بیان کے سلسلے میں پہال نتیجہ وثمرہ یہ فرمایا گیا کہ وہ درگزر فرما دے گا تمہارے گناہوں سے، یعنی تمہارے ان گناہوں سے جو اس سے پہلے تم نے زمانہ کفر کے دور میں کیے ہیں کہ اسلام لانے سے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں، جیسا کہ صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا گیا الاسلام یھدم ما کان قبلہ یعنی اس سے پہلے کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور گناہوں سے یہاں پر مراد وہ گناہ ہیں جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے کیونکہ حقوق العباد اس وقت تک معاف نہیں ہوتے، جب تک کہ ادا کردیے جائیں یا جب تک کہ اصحاب حقوق ان کو خود اپنی مرضی اور خوشی سے معاف نہ کردیں، بہرکیف یہاں پر حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کے تین ارکان بیان ہوئے۔ اللہ کی توحید، شریعت الہی کی پابندی اور رسول کی اطاعت، اور انہی تین ارکان پر حضرات انبیاء کرام (علیہم السلام) کی دعوت مبنی رہی ہے، اور انہی کے استحکام پر دین کے استحکام کا دارومدار ہے اور ان تینوں پر انسان کو ان عظیم الشان فوائد وثمرات سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے، جن میں سب سے اہم اور بنیادی نتیجہ وثمرہ ہے مغفرت ذنوب۔ یعنی اس سے وہ تمام گناہ معاف فرما دیے جائیں گے جو اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں کیے ہوں گے اور جن گناہوں کا صدور و ارتکاب انسان سے ایمان کی زندگی اختیار کرنے کے بعد ہوتا ہے، ان کی معافی کا طریقہ توبہ و استغفار ہی ہے، جیسا کہ سورة توبہ کی آیت نمبر 17 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے، سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اگر تم لوگ میری دعوت کو قبول کر کے ایمان لے آؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے وہ سب گناہ معاف فرما دے گا جو تم لوگوں نے زمانہ جاہلیت میں کیے تھے اور آئندہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے ذریعے اپنے لیے ذخیرہ آخرت کا سامان کرسکو گے، اور اس طرح تمہاری بگڑی بن جائے گی۔ 4 ۔ عبادت و اطاعت کا دوسرا بڑا ثمرہ مہلت سے سرفرازی : سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ایمان و اطاعت کے دوسرے بڑے ثمرے کا ذکر کرتے ہوئے اپنی قوم سے فرمایا کہ اور وہ تم کو مہلت دے گا ایک معین مدت تک کے لیے یعنی اس مدت تک کے لیے جو تمہاری موت کے لیے اس کی طرف سے مقرر ہے، اس سے پہلے تم پر عذاب نہیں آئے گا، اس سے علماء کرام نے یہ استدلال فرمایا ہے اعمال صالحہ سے عمر میں اضافہ ہوتا ہے اور برکت نصیب ہوتی ہے، جیسا کہ صلہ رحمی کے بارے میں صحیح حدیث میں وارد ہے کہ اس سے عمر بڑھتی ہے اور رزق میں اضافہ ہوتا ہے۔ چناچہ اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا " من احب ان یبیط لہ فی رزقہ وینسالہ فی اثرہ فلیصل رحمہ " یعنی جو کوئی یہ چاہتا ہو کہ اس کے رزق میں وسعت اور کشادگی کی جائے اس کی زندگی لمبی ہو تو وہ صلہ رحمی کرے۔ بہرکیف حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ اگر تم لوگوں نے میری یہ تینوں باتیں مان لیں تو اللہ تمہارے گزشتہ جرائم اور گناہوں کو معاف فرما دے گا اور ایک معین مدت تک تم کو اس دنیا میں مہلت دے دے گا اور اجل مسمی (معین مدت) کی اس قید سے اس حقیقت کو بھی ظاہر فرمایا گیا کہ اس دنیا کی کوئی بھی مہلت غیر محدود نہیں ہوتی، بلکہ وہ محدود و مقید ہی ہوتی ہے، یہ دنیا پوری اور اس کی ہر چیز فانی اور وقتی ہے۔ سو حضرت نوح (علیہ السلام) کے اس ارشاد سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا۔ پس ہر انسان کو خواہ وہ نیک ہو یا بد اس امر کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت بہرحال محدود اور فانی و مختصر ہے جس نے بہرحال ختم ہو کر رہنا ہے، پس جس نے اس سے صحیح طور پر فائدہ اٹھا لیا وہی کامیاب ہے اور جس نے اس اہم حقیقت سے غفلت و لاپرواہی برتی وہ ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہوگیا۔ 5 ۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ قطعی طور پر حق ہے، سبحانہ وتعالی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ اللہ کا مقرر فرمودہ وقت جب آجاتا ہے تو اس کو ٹالا نہیں جاسکتا، کہ خود وہ قادر مطلق سبحانہ وتعالی تو اس موقع پر اس کو ٹالتا نہیں اور اس کے سوا کسی اور کے ٹالے کا یارا نہیں ہوسکتا اس لیے اللہ کا مقرر کردہ وقت اور وعدہ بہرحال پورا ہو کر رہتا ہے، پس اس کا وقت آجانے پر اس کے ٹلنے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہوسکتی، لہذا اس سے پیشتر ہی اس سے بچنے کی فکر کرو اے عقل سلیم رکھنے والو، اس سے جیسا کہ ابھی اوپر والے حاشیے میں بھی گزرا، حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس حقیقت کی طرف توجہد لائی کہ اس دنیا کی ہر فرصت بہرحال فانی اور محدود ہے، اس لیے نیک اور بد میں سے ہر کسی کو یہ حقیقت ہمیشہ مسحضر رکھنی چاہیے، پس جو اس حقیقت کو مستحضر رکھیں گے وہی زندگی کی اس فرصت محدود سے فائدہ اٹھا سکیں گے اور جو اس کو بھول جائیں گے ان کے لیے یہ دنیا سراسر وبال اور خسران ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس سے اس امر کو واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کا وعدہ بہرحال اور قطعی طور پر اٹل ہے، اس نے اپنے وقت پر بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے کوئی اس میں رکاوٹ نہیں بن سکتا کہ معاملہ سب کا اللہ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے، اپنی حکمت پے پایاں کے مطابق۔ 6 ۔ علم حق کی روشنی صلاح و فلاح کی اصل اساس : سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ کاش کہ تم لوگ جان لیتے، یعنی تم جان لیتے حق اور حقیقت امر کو اور تم اپنی اپنی اصلاح کرلیتے، فرصت عمر کے ہاتھ سے نکلنے ہونے سے پہلے اور اس طرح تم بچ جاتے اس دردناک عذاب اور اپنے اس برے انجام سے، جس کے تم مستحق ہو، اور جس نے آنے کے بعد پھر ٹلنا نہیں، سو اس کے آجانے کے بعد اس سے نکلنے اور بچنے کی کوئی صورت تمہارے لیے ممکن نہیں ہوسکے گی، سو ا سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ صلاح و فلاح کی اصل اساس و بنیاد علم حق کی روشنی ہی ہے جو انسان کے لیے راہ نجات کو روشن اور واضح کرتی ہے، اور اس کو مہالک و مخاطر سے آگہی بخشتی ہے۔ لیکن اس حقیقت کو سمجھنے اور اپنانے والے لوگ تھوڑ؁ اور بہت تھوڑے ہیں، ورنہ اکثریت غفلت اور جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبی ہوئی مہالک کی طرف بڑھی چلی جارہی ہے، اس لیے حضرت نوح (علیہ السلام) نے بڑے درد بھرے انداز میں ان سے فرمایا کہ کاش کہ تم لوگ جان لیتے، اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و صواب پر مستقیم و گامزن رہنے کی توفیق بخشے، اور نفس و شیطان کے ہر مکرو فریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 71:5

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ Open ayah 71:5 in the Quran reader

(آخر کار) نوح نے (نہایت درد بھرے انداز میں اپنے رب کے حضور) عرض کیا کہ اے میرے رب بیشک میں نے بلایا اپنی قوم کو (حق و ہدایت کی طرف) دن کو بھی اور رات کو بھی

7 ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا استغاثہ اپنے رب کے حضور : سو ارشاد فرمایا گیا کہ سیدنا نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور عرض کیا، یعنی آنجناب نے اپنی قوم کا استغاثہ اپنے رب کے حضور پیش کیا اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعوت دینے کے فورا بعد ہی ان لوگوں کے بارے میں اس طرح کا اظہار فرما دیا نہیں، بلکہ یہاں پر دراصل کم و بیش ایک ہزار برس کی طویل تاریخ کو قرآن حکیم کی بےمثل اعجاز اور ایجاز بیان کی بناء پر ان مختصر الفاظ میں سمیٹ دیا گیا، جس کی طرف اشارہ کرنے کے لیے ہم نے یہاں پر اپنے ترجمے میں بین القوسین کے یہ لفظ بڑھا دیے ہیں، والحمدللہ رب العالمین جل وعلا۔ اور یہاں سے دراصل حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کا دوسرا مرحلہ بیان فرمایا جارہا ہے جبکہ آپ دیکھا کہ اتنے طویل عرصے کی محنت اور دن رات کی لگاتار دعوت کے باوجود اس بدبخت قوم پر اس کا کوئی اثر نہیں ہورہا اور وہ بدستور اپنے کفر و انکار پر اڑی ہوئی ہے، تو آپ نے اپنے رب کے حضور استغاثہ پیش کرتے ہوئے اس طرح عرض کیا۔ واضح رہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جتنا طویل عرصہ اپنی قوم کو دعوت دی اس کی دوسری کوئی مثال پوری تاریخ انسانیت میں نہیں مل سکتی۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام۔
Ayah 71:6

فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 71:6 in the Quran reader

مگر میری اس دعوت (و پکار) سے وہ اور بھی (بدکتے اور) بھاگتے گئے (راہ حق و صواب سے)

8 ۔ قوم نوح کے شدت اعراض و انکار کا ذکر وبیان : سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے میرے میں نے تو ان کو دن رات حق کی طرف بلایا اور پکارا، مگر میری دعوت و پکار سے یہ لوگ اور بھی بدکتے اور بھاگتے گئے، اپنے اس بغض وعناد اور نفرت و استکبار کی بناء پر جو یہ لوگ حق اور اہل حق کے خلاف اپنے باطن میں رکھتے ہیں اور جس سے ان کے سینوں کی بھٹیاں ہمیشہ سلگتی اور بھڑکتی رہتی ہیں، اور یہی خاصہ اور نتیجہ ہوتا ہے حق اور اہل حق کے خلاف بغض وعناد کا، کہ اس سے ایک طرف تو انسان حق سے اور دور اور محروم ہوتا جاتا ہے اور دوسری طرف اس کے باطن میں حق اور اہل حق کے خلاف بغض وعناد کی ایک ایسی غیر مرئی آغ جلنے بھڑکنے لگتی ہے، جس سے وہ ایک فوری و نقد اور دردناک عذاب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف حضرت نوح علی السلام نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ میرے رب میں نے ان کو شب و روز دعوت دی، مگر اس کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا، بلکہ یہ اس سے اور بھی بدکتے بھاگتے اور راہ حق و ہدایت سے دور ہوتے گئے، سو حق اور اہل حق سے بغض وعناد اور نفرت و ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ ان لوگوں کے پاس چونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی باتوں کا کوئی جواب تھا نہیں اور دوسری طرف پیغام حق کو قبول کرنا اور اپنی زندگی اور اس کی روش کا بدلنا بھی ان کو گوارا نہیں تھا، اس لیے انہوں نے اپنی سلامتی گریز و فرار کی راہ ہی میں سمجھی، تاکہ اس طرح وہ اپنے مجرم ضمیر کو احساس جرم کی اذیت سے بچا سکیں، اور یہی طریقہ ہوتا ہے حق اور حقیقت سے گریز و فرار اختیار کرنے والوں کا جس سے کے نتیجے میں ایسے لوگ اپنی محرومی کے داغ کو اور پکار کرتے جاتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 71:7–8

وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ Open ayah 71:7 in the Quran reader

اور میں نے جب بھی ان کو بلایا کہ تو بخشش فرما دے ان کی (اے میرے مالک ! ) تو انہوں نے ٹھونس دیں اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں اور لپیٹ لئے (اپنے اوپر) اپنے کپڑے اور وہ اڑ گئے (اپنے کفر و باطل پر) اور بپھر گئے اپنی (جھوٹی) بڑائی کے گھمنڈ میں بہت بری طرح سے1

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ Open ayah 71:8 in the Quran reader

پھر بھی میں ان کو (حق کی) دعوت دی ہانکے پکارے

9 پیغمبر (علیہ السلام) کے اخلاص و خیر خواہی کا ایک نمونہ و مظہر : سو حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور مزید عرض کیا کہ میں نے ان کو جب بھی بلایا تاکہ تو ان کی بخشش فرما دے اے میرے مالک۔ یعنی میری اس دعوت میں میرا ذاتی کوئی مفاد پیش نظر نہیں تھا بلکہ سراسر انہی کی بھلائی اور خیر خواہی مطلوب تھی اور یہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت و تبلیغ کا ایک امتیازی نشان ہوتا ہے کہ تبلیغ حق کے کام میں کوئی ذاتی غرض ان کے پیش نظر نہیں ہوتی اور ان کا صاف اور صریح طور پر اعلان ہوتا ہے " وما اسئلکم علیہ من اجر " " میری قوم کے لوگو ! میں تم سے تبلیغ حق کے اس کام پر کسی طرح کے کسی اجر و صلہ کا کوئی سوال نہیں کرتا۔ " میرا اجر وصلہ تو میرے رب ہی کے ذمے ہے اور بس " ان اجری الاعلی رب العلمین سو حضرات انبیاء کرام علیھم الصلوۃ والسلام جو بھی کچھ محنت کرتے ہیں، وہ پوری للہیت اور صدق و اخلاق کے ساتھ محض دوسروں کے بھلے اور بہتری کے لئے کرتے ہیں کہ لوگوں کا دوزخ کی طرف بڑھے چلے جانا ان قدسی صفت حضرات پر سخت گراں اور نہایت شاق ہوتا ہے علیھم الصلوۃ والسلام مگر حضرت نوح کے اس جذبہ عضر خوری اور دن رات کی اس دعوت کے باوجود وہ بدبخت قوم اپنے عناد اور ہٹ دھرمی ہی پر اڑ رہی ہے چناچہ حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور مزید عرض کیا کہ میں نے جب بھی ان کو بلایا کہ تو ان کی بخشش فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس لیں، تاکہ حق و صداقت کی آواز ان کے کانوں میں پڑنے ہی نہ پائے سو ایسے بدبختوں کو نور حق و ہدایت سے سرفرازی کی توفیق کس طرح اور کیونکر مل سکتی ہے ؟ کہ اس کے لئے تو اولین شرط طلب صادق ہی ہے، سو میں نے تو ان کو اس لئے بلایا کہ یہ تیری رحمت و عنایت اور تیری مغفرت و بخشش کے حقدار بنیں، لیکن یہ ایسے محروم اور بدبخت اور شامت زدہ نکلے کہ انہوں نے میری بات کو سننا ہی گوارہ نہ کیا اور انہوں نے اپنے کانوں ہی کو بند کردیا۔ سو اس سے ان لوگوں کی محرومی اور بدبختی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح نے مزید عرض کیا کہ میں نے جب بھی ان کو دعوت دی انہوں نے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھوس لیں اور اپنے اوپر اپنے کپڑے لپیٹ لیے۔ تاکہ میری شکل بھی نہ دیکھ سکیں اور میں ان کو پہچان بھی نہ سکوں، سبحان اللہ قوم کی بدبختی بھی ملاحظہ ہو اور اس کے باوجود پیغمبر کی شفقت و عنایت اور رحمت ورافت بھی، علیہ وعلیہ نبینا الصلوۃ والسلام ! بہرکیف اس ارشاد سے ان لوگوں خاص کر ان کے لیڈروں پلیڈروں اور ان کے سرداروں اور کھڑپنچوں کے حق سے عناد اور ان کی حق دشمنی و ہٹ دھرمی کی تصویر پیش کردی گئی کہ دعوت حق کے جواب میں وہ اپنے کپڑے لپیٹ کر وہاں سے چل دیئے۔ تو پھر ایسے میں ان کے لئے نر حق و ہدایت سے سرفرازی کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین 10 استکبار محرومی کی جڑ بنیاد ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح نے مزید عرض کیا کہ یہ لوگ سختی سے اڑے رہے اور اپنے کفر و باطل پر اور یہ مبتلا رہے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں اور اپنے اس زعم اور گھمنڈ میں وہ بری طرح مبتلا رہے، جس کی بناء پر وہ لوگ صاف صاف کہتے تھے کہ نوح ہم تمہاری پیروی کس طرح کرسکتے ہیں جب کہ تمہارے پیرو کار سب سے رذیل لوگ ہیں۔ والعیاذ باللہ " انومن لک و اتبعک الارذلون " (الشعراء :111) اور اس طرح اپنی بڑائی کے گھمنڈ کے باعث وہ لوگ حق و ہدایت کے نور سے محروم ہو کر دائمی نقصان اور ابدی خسران سے ہمکنار ہوگئے۔ والعیاذ باللہ العظیم اور اسی بناء پر وہ اپنے کفر و باطل پر ایسے اڑ گئے کہ حق بات کو سننے اور ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوئے سو استکبار یعنی اپنی بڑائی کا زعم و گھمنڈ محرومی جی جڑ بنیاد ہے کہ ایسا انسان حق بات کو سننا اور ماننا اپنی توہین اور کسر شان سمجھنے لگتا ہے حالانکہ حق کے آگے سر تسلیم خم ہوجانا توہین اور کسر شان نہیں بلکہ سچی اور حقیقی عزت و عظمت سے سرفرازی کا پروانہ ہے۔ کیونکہ بندے کی عزت و عظمت کمال عبدیت سے وابستہ ہے۔ یعنی اس سے کہ وہ دل و جان سے اپنے خالق ومالک کے حضور جھک جائے اور ہمیشہ جھکا ہی رہے کیونکہ اسی میں اسی کا بھلا اور فائدہ ہے دنیا کی اس فانی زندگی پر بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں جو اس کے بعد آنے والا ہے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید، و علی مایحب ویرید۔
Ayah 71:9

ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ Open ayah 71:9 in the Quran reader

پھر میں نے ان کو اعلانیہ بھی تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی ان کو سمجھایا

11 دعوت حق میں مزید تیزی اور قوت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح نے اپنے خالق ومالک کے حضور اپنی عرض والتجاء میں مزید عرض کیا کہ میں نے ان کو ڈنکے کی چوٹ پر پکارا۔ یعنی ان کے ان خرمستیوں کے باوجود میں ان کی خیر خواہی میں لگا ہی رہا اور ان کو حق و ہدایت کی طرف بلاتا ہی رہا، بلکہ جب میں نے ان کو دیکھا کہ انہوں نے حق سے پوری طرح منہ موڑ لیا ہے، اپنے کانوں میں انہوں نے اپنی انگلیاں ٹھوس دیں اور اپنے اوپر کپڑے لپیٹ دیئے تو میں نے اپنی دعوت کے لب و لہجہ کو تیز سے تیز تر اور بلند سے بلند تر کردیا اور حضرت انبیاء کرام کا طریق دعوت یہی رہا ہے کہ ان کی قوم کی بیزاری دعوت حق سے جتنی بڑھتی گئی، اتنا ہی ان کا جوش دعوت اور بڑھتا گیا، اور اس میں تیزی آتی گئی اور وہ جھنجھوڑنے والا اور پرجوش ہوتا گیا اور حق اور اہل حق کی فطرت یہی ہے کہ مزاحمت اور مخالفت کی حدت و شدت حق کی سطوت و قوت کو اور زیادہ نمایاں کرتی اور اس کو بھارتی نکھارتی ہے اور اہل حق کا جذبہ اس سے دینے کی بجائے اور بھرتا ہے، بقول شاعر اسلام کی فطرت میں قدرت نے یہ لچک دی ہے کہ یہ اتنا ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر مستقیم و گامزن رکھے۔ آمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور مزید فرمایا کہ پھر میں نے ان کو اعلانیہ بھی تبلیغ کی۔ یعنی ان کے مجمعوں اور اجتماعات کے اندر اجتماعی طور پر بھی حق کی تبلیغ کی۔ سو جہاں ڈنکے کی چوٹ بات کہنے کی ضرورت ہوئی، وہاں میں نے ڈنکے کی چوٹ اور بےدریغ اپنی بات کہی تاکہ ان کو جھنجھوڑا جاسکے اور بہروں تک بھی میری بات پہنچ سکے۔ تاکہ شاید اس طرح میری بات ان کے دلوں میں اتر جائے۔ یہ خواب غفلت سے چونک پڑیں اور میری بات سننے ماننے کو تیار ہو جئایں اور اس کے نتیجے میں یہ اپنے رب کے آگے جھک جائیں اور اس طرح ان کی بگڑی بن جائے اور یہ دائمی خسارے اور ہولناک عذاب سے بچ جائیں۔ سو اس سے پیغمبر کے جذبہ خیر خواہی کا اندازہ کیا جاسکتا ہ۔ علیہم الصلاۃ والسلام حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور اور اسی جزبہ خیر خواہی کی بناء پر حضرت نوح نے اپنی قوم کو پوشیدہ طور پر بھی حق کی دعوت دی چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ مزید فرمایا اور میں نے ان کو چپکے چپکے بھی سمجھایا : ۔ کہ شاید اس طرح میری بات ان کے دل و دماغ تک پہنچ جائے یعنی میں نے ان کی ہدایت کے لئے ہر طرح کی اور ہر ممکن کوشش کی اور میں نے ہر طور طریقہ اپنایا، سو جہاں میں نے دیکھا کہ ان کے اندر گھس کر بات کہنے اور کچھ سنانے کا موقع ہے تو وہاں میں نے یہی طریقہ آزمایا، تاکہ جن کے اندر زندگی کی کچھ رمق باقی ہے وہ اگر چاہیں تو فیصلے کی گھڑی آنے سے پہلے پہلے اپنے انجام کی فکر کرلیں اور اپنے دائمی خسارے سے بچ جائیں سو اس سے ایک طرف تو حضرت نوح کی رحمت ورافت اور صدق و اخلاص کا کمال بھی واضح ہوجاتا ہے اور دوسری طرف اس ہٹ دھرم اور بدبخت قوم کی ہٹ دھرمی اور بدبختی و محرومی کا حال بھی عیاں اور آشکار ہوجاتا ہے۔ سو ایسے ہی لوگ آخر کار اپنے اس اس آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں جس کا حق دار انہوں نے اپنے آپ کو بنایا ہوتا ہے اور جس کی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں رہتی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہر قسم کے شرور رفتن سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے محفوظ رکھے۔ امین ثم آمین
Ayahs 71:10–11

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ Open ayah 71:10 in the Quran reader

سو میں نے (ان سے) کہا کہ تم لوگ بخشش مانگو اپنے رب سے (اپنے گناہوں کی وہ بخش دے گا کہ) بلاشبہ وہ بڑا ہی بخشنے والا ہے2

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ Open ayah 71:11 in the Quran reader

وہ (اپنی رحمت و عنایت سے) تم پر دھانے کھول دے گا باران رحمت کے

12 طلب مغفرت کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح نے فرمایا کہ میں نے ان سے کہا کہ تم لوگ بخشش مانگو اپنے رب سے : یعنی ایمان لا کر اور سچے دل سے اس کی طرف رجوع ہو کر اور تمہارے گناہ اگرچہ بہت زیادہ اور بہت بڑے ہیں مگر پھر بھی تم اس کی رحمت سے مایوس مت ہوؤ، کہ وہ بڑا ہی بخشنے والا غفار ہے اور اس غفار کی طرف تمہارا اپنا رجوع ہی کافی ہے، تمہارے مزعومہ دیویوں، دیوتاؤں اور تمہارے خود ساختہ معبودوں، سرکاروں اور من گھڑت وسیلوں وا سطوں کی واں کوئی ضرورت نہیں، جیسا کہ تم لوگ اپنے خود ساختہ مشرکانہ فلسفے کی بناء پر کہتے رہتے ہو کہ " ہم ان ھوٹے اور خود ساختہ خداؤں کی پوجا پاٹ اس لئے کرتے ہیں کہ تاکہ یہ ہمیں اللہ تک پہنچا دیں۔ " (الزمر :3) یہ ہمارے واسطے اور وسیلے ہیں، ہماری ان کے آگے اور ان کی ان کے آگے وغیرہ وغیرہ۔ سو حضرت نوح نے اپنی قوم کو نہایت صدق و اخلاق اور دلسوزی و خیر خواہی کے ساتھ استغفار کی تعلیم و تلقین فرمائی کہ تم لوگ صدق دل سے اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس سے اپنے گناہوں کی مغفرت و بخشش طلب کرو۔ وہ اپنے فضل و کرم سے تمہارے سب گناہوں کو معاف فرما دے گا کہ وہ یقیناً بڑا ہی بخشنے والا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ اور اتنا بڑا کہ اس کی مغفرت و بخشش کا کوئی کنارہ نہیں اسی لئے حضرت نوح نے ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ وہ بڑا ہی بخشنے والا ہے۔ سو سچی توبہ پر وہ زندگی بھر کے سب گناہ معاف فرما دیتا ہے، اگرچہ وہ گناہ اتنے ہوں کہ پوری روئے زمین ان سے بھر جائے اور اتنے ہوں کہ ان کے انبار آسمان کی بلندیوں تک پہنچتے ہوں، جیسا کہ حدیث قدسی میں اس کی تصریح وارد ہوئی ہے۔ فسبحان اللہ وبحمدہ و سبحان اللہ العظیم ۔ فاغفرالھم دنوبنا واسرافنا فی امرنا۔ سو حضرت نوح نے اپنی قوم سے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ صدق دل سے اس کی طرف رجوع کرو اور براہ راست اس کی طرف رجوع ہو کر اس کی بخشش مانگو اور اپنے خود ساختہ اور من گھڑت وسیلوں اور واسطوں کو چھوڑ دو ۔ سو استغفار اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور عنایتوں سے سرفرازی کا ایک بڑا اہم ذریعہ و وسیلہ ہے۔ چناچہ صحیح حدیث میں اس کے عظیم الشان فوائد وثمرات کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا۔ کہ جس نے استغفار کو لازم پکڑا اللہ تعالیٰ اس کو ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ عطا فرمائے گا۔ ہر غم سے اس کو کشائش بخشے گا اور اس کو روزی وہاں سے عطا فرمائے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوگا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا۔ من لزم الاستغفار جعل اللہ لہ من کل صیق مخرجا ومن کل ھم فرجا و رزقہ من حیث لا یحتسب فاستغفر اللہ الذی لا الہ الا ہو الحی القیوم واتوب الیہ بکل حال من الاحوال و فی کل حین من الاحیان فی الحیاۃ یا ذوالجلال والاکرام۔
Ayah 71:12

وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ Open ayah 71:12 in the Quran reader

وہ تم کو نوازے گا طرح طرح کے مالوں (کی ترقی و) مدد سے اور (ہونہار) بیٹوں سے وہ تمہارے لئے باغات بھی پیدا فرما دے گا اور نہریں بھی جاری کر دے گا

13 توبہ و استغفار ذریعہ برکات و سرفرازی سو حضرت نوح نے مزید فرمایا کہ میں نے ان سے کہا کہ تم لوگ معافی مانگو اپنے رب سے۔ وہ تمہارے لئے دھانے کھول دے گا باران رحمت کے : جس سے تمہاری قحط سالی دور ہوجائے گی اور تمہیں خوش حالی نصیب ہوگی، روایات میں ہے کہ کفر و تکذیب کی بناء پر ان لوگوں پر قحط سالی مسلط کردی گئی تھی، جس سے بارشیں بند ہوگئیں، فصلیں اجڑ گئیں، باغات خشک ہوگئے، پانی سوکھ گئے، مویشیہ لاک ہوگئے، اور عورتیں بانجھ ہوگئیں تو اس پر حضرت نوح نے ان کو یہ ارشاد فرمایا، سو اس سے ایک طرف تو یہ معلوم ہوا کہ برے اعمال کی سزا کسی حد تک اس دنیا میں بھی ملتی ہے، والعیاذ باللہ اور دوسرے یہ کہ توبہ و استغفار سے ایسا عذاب اٹھ جاتا ہے کہ اس سے گناہوں کی لے صاف ہوجاتی ہے، جیسا کہ حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ استغفار گناہوں کو مٹا دیتا ہے (الاستغفار ممحاۃ للذنوب) نیز فرمایا کہ اللہ کی اطاعت دنیا و آخرت کو پانے کا ذریعہ ہے (روح، قرطبی وغیرہ) اور یہ مضمون قرآن و سنت کی بہت سی نصوص میں وارد ہے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی (رح) نے اپنے مشہور رسالہ جزا الاعمال میں بڑی حد تک ان کو جمع فرما دیا ہے، جزاء اللہ خیراً حضرت عمر ؓ کے بارے میں مروی ہے ایک مرتبہ آپ ؓ صلوۃ استقاء کے لئے باہر نکلے اور صرف استغفار پر اکتفاء فرمایا، لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت آپ ؓ نے تو استقاء کی دعا فرمائی ہی نہیں، تو آپ ؓ نے فرمایا کہ میں نے تو آسمان کے ان دروازوں کو لہا دیا جن سے بارش برستی ہے۔ (لقد طلبت المطر بمجادع السماء التیی یستنزل بھا المطر) چناچہ اللہ پاک نے بارش بھی عطا فرما دی ( ابن کثیر، قرطبی، مراغی وغیرہ) اسی بناء پر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے بھی استغفار کو استقاء کی اصل و بنیاد قرار دیا ہے اور حضرت حسن بصری کے بارے میں مروی ہے کہ ان سے ایک مرتبہ ایک شخص نے قحط سالی کی شکایت کی اور نے مال کی قلت کی شکایت کی ایک اور نے اولاد کی قلت کی شکایت کی، ایک اور نے فصلوں اور باغات کی تباہی کی، تو آپ نے ان میں سے ہر ایک کو استغفار ہی کی تعلیم و تلقی فرمائی، تو اس پر جب حضارین میں سے بعض نے سوال کیا کہ حضرت یہ کیا کہ ان میں سے ہر ایک نے الگ الگ شکایت کی اور آپ نے ان سب کو ایک ہی جواب دیا اور ایک ہی بات ارشاد فرمائی، یہ کیسے ؟ تو آپ نے جواب میں یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی یعنی استغافر میں ان سب مصیبتوں اور پریشانیوں کا حل اور علاج ہے، (قرطبی، ابن کثیر، مراغی، معارف، وغیرہ) سو توبہ و استغفار وباللہ التوفیق۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
Ayah 71:13

مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ Open ayah 71:13 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا (اے میری قوم کے لوگو ! ) کہ تم لوگ اللہ (پاک سبحانہ و تعالیٰ ) کے لئے توقع نہیں رکھتے کسی (عظمت و) وقار کی

14 حضرت نوح کی اپنی قوم کے ضمیر پر ایک دستک : سو حضرت نوح نے اپنی قوم کو جھنجھوڑتے ہوئے اور ان کے ضمیروں پر دستک دیتے ہوئے ان سے فرمایا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم لوگ اللہ کے لئے کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے ؟ کہ نہ سچے دل سے اس پر ایمان لاتے ہو، نہ اس کی معصیت و نافرمانی سے بچتے ہوئ، اور نہ اس کی گرفت اور پکڑے ڈرتے ہو۔ والعیاذ باللہ۔ سو ترجون یہاں پر منتظر اور متوقع رہنے کے معنی میں ہے اور وقار کے معنی عظمت، شان اور جلال کے ہیں، سو حضرت نوح نے ان سے فرمایا کہ یہ کیا بات ہے کہ میں تم لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے اور اس سے استغفار کی دعوت دیتا ہوں، مگر تم لوگ ہو کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے اور سنی ان سنی کردیتے ہو کیا تم لوگ اپنی خرمستیوں اور دلچسپیوں میں یونہی مست و مگن رہو گے، تم سے کبھی پوچھ نہیں ہوگی ؟ سو اگر تم نے ایسا سمجھ رکھا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تمہاری نگاہوں میں اس کی رفعت و جلال اور عظمت شان موجود نہیں سو اس کا بھگتان تم لوگوں کو بہرحال بھگتنا پڑے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم بہرکیف اس سے انسان کی ناشکری کی اس روش کو آشکارا فرمایا گیا ہے کہ اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ جب اس کو اپنی شان کریمی سے طرح طرح کی نعمتوں سے نوازتا ہے اور اس کو اس کی خرمستیوں پر وہ فوراً پکڑتا نہیں تو یہ تنگ ظرف اور ناشکرا انسان اس کی گرفت و پکڑ سے نچنت اور بےفکر ہوجاتا ہے۔ اسی کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے " یا ایھا الانسان ماغرک بریک الکریم " (الانفطار :6) " اے انسان تجھے کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا اپنے رب کریم کے بارے میں ؟ " والعیاذ باللہ العظیم
Ayahs 71:14–15

وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا Open ayah 71:14 in the Quran reader

حالانکہ اس نے تم کو پیدا کیا طرح طرح سے (اور مختلف مراحل سے گزار کر)

اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ Open ayah 71:15 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ نے کس طرح بنایا سات آسمانوں کو تہ بہ تہ

15 انسان کے خود اپنے وجود کے اندر عظیم الشان سامان غور و فکر : ۔ سو انسان کے خود اپنے وجود میں سامان غور و فکر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو کیا ہوگیا کہ تم اپنے رب کے لئے کسی وفا کی امید نہیں رکھتے۔ حالانکہ اسی نے تم کو پیدا فرمایا طور در طور۔ کبھی تم نطفہ کی شکل میں تھے پھر علقہ بنے اور پھر مضغہ، پھر اس قادر مطلق نے تمہاری ہڈیاں بنائیں، پھر ان پر گوشت چڑھایا اور پھر تم کو ایک اور ہی مخلوق کی شکل میں وجود بخشا اور یہ سب کچھ ایک طرف تو اس کی بےپایاں قدرت کا پتہ دیتا ہے اور دوسری طرف یہ اس وحدہ لاشریک کی بےنہایت رحمت کا بھی ایک عظیم الشان مظہر و ثبوت ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ سو اس کے باوجود اگر تم لوگ اس کے لئے کسی عظمت و وقار کی توقع نہیں رکھتے اور اس سے غافل اور اس کے منکر ہو۔ والعیاذ باللہ تو تم سے بڑھ کر ظالم اور بےانصاف اور کون ہوسکتا ہے اور اس سے بڑھ کر ناشکری اور بےانصافی اور ظلم اور کیا ہوسکتا ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم بہر کیف اس سے خود انسان کے اپنے وجود کے اندر موجود سامان غور و فکر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جس میں غور و فکر سے کام لے کر انسان اپنے خالق ومالک کی قدرت و حکمت، اس کی رحمت و عنایت اور اس کی وحدانیت ویکتائی کے لئے عظیم الشان دلائل سے بہرہ ور ہوسکتا ہے۔ نیز یہ کہ اس انسان کی حکمتوں بھری تخلیق اور اس کا یہ وجود عبث و بیکار نہیں ہوسکتا۔ نیز یہ کہ جس خالق ومالک نے اس کو وجود بخشا ہے اس کے لئے اس کو دوبارہ زندہ کر کے اٹھانا کچھ بھی مشکل نہیں ہوسکتا اور اس کا دوبارہ اٹھایا جانا اس خالق ومالک کی حکمت اور اس کی شان عدل و قسط کا تقاضا ہے۔ سو انسان کے اپنے وجود میں یہ عظیم الشان دلائل قدرت و حکمت موجود ہیں لیکن مشکل اور مشکلوں کی مشکل یہ ہے کہ انسان اس طرف توجہ ہی نہیں کرتا اور سوچتا ہی نہیں۔ اس نے خواہشات نفس ہی کو اپنا قبلہ مقصود بنا لیا ہے۔ الا ماشاء اللہ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا بکل حال من الاحوال
Ayah 71:16

وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا Open ayah 71:16 in the Quran reader

اور ان میں اس نے رکھ دیا چاند کو ایک عظیم الشان نور کی شکل میں اور سورج کو ایک عظیم الشان چراغ بنا کر

16 کائنات کے بعض نشانہائے قدرت میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح پیدا فرمایا سات آسمانوں کو تہ بہ تہ۔ اور اس نے اس میں رکھ دیا چاند کو ایک عظیم الشان روشنی کے طور پر اور اس نے سورج کو ایک عظیم الشان چراغ بنایا اور ایسا عظیم الشان چراغ کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال مل ہی نہیں سکتی، سو یہ سب مظاہر اس کی عظیم الشان قدرت کے شاہکار بھ ہیں اور اس کی بےپایاں رحمت و عنایت کے شواہد بھی، جل جلالہ و عم نوالہ سو یہاں پر آسمانوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد سورج اور چاند کی ان دو عظیم الشان نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، جو ان کے اندر پائی جاتی ہیں، سو عقل و نقل اور عدل و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ انسان چاند کے اس عظیم الشان دیئے اور سورج کے اس بےمثال چراغ کو دیکھ کر اپنے خالق ومالک کی معرفت سے سرفراز سرشار ہوتا اور دل و جان سی اس کے آگے جھک جھک جاتا ہے۔ لیکن اس کی بےانصافی اور ناشکری کا عالم یہ ہے کہ کتنے ہی بدبخت ایسے ہیں جنہوں نے سورج اور چاند کے انہی دو مظاہر کی پوجا کی اور کر رہے ہیں اور انہوں نے ان عظیم الشان نشانائے قدرت کے ذریعے اپنے خالق ومالک کی معفرت سے سرفرازی کی بجائے الٹا انہی کو اپنا معبود بنادیا اور اس طرح وہ اسفل السافلین بن کر رہے۔ والعیاذ باللہ العظیم
Ayah 71:17

وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ Open ayah 71:17 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے اگایا تم سب کو زمین سے ایک عظیم الشان (اور حکمتوں بھرے) طریقے سے

17 تخلیق آسانی میں عظیم انسان دلائل قدرت و حکمت : انسانی کی پیدائش مٹی سے خالق کرنا، حضرت کی قدرت و حکمت کا ایک اور عظیم الشان مظہر اور نمونہ ہے۔ چناچہ انسان کی تخلیق اور حضرت خالق۔ جل مجدہ کی قدرت و حکمت کی ایک اور مظہر کی نشاندہی کی طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی نے اگایا تم سب کو خاص اہتمام کے ساتھ اس زمین سے کہ ایک طرف تو اس نے تمہارے جد امجد آدم کو اسی مٹی سے پیدا فرمایا اور تم سب اسی کی اولاد ہو اور دوسری طرف تمہارا مادہ تولید جن غذاؤں سے بنتا ہے وہ سب اس زمین سے پیدا ہوتی ہیں، سو اس طرح تم سب کی تخلیق و پیدائش بالواسطہ طور پر اسی مٹی سے ہوئی، سو دیکھ لو کہ اس کی قدتر مطلقہ کا یہ کس قدر عظیم الشان او کتنا محیر العقول کرشمہ اور مظہر و ثبوت ہے، اس نے تمہیں اس حیرت انگیز طریقے سے خلعت وجود سے نوازا ہے، پھر اس سے منہ موڑنا اور اعراض برتنا کس قدر ظلم اور کتنی بڑی بےانصافی اور ناشکری ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم سو ایک دن ایسا آئے گا اور ضرور آئے گا جس میں شکر گزاروں کو ان کے شکر کا انعام ملے اور ناشکروں کو سزا ہو۔ ایسے ناشکرے لوگوں سے پوچھ ہوگی، تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے بھرپورے پورے ہو سکیں اور حکمتوں بھری اس کائنات اور اس کی مخدوم ومطاع اس انسان کی تخلیق اور اس کے مقصد وجود کا تحقیق ہو سکے ورنہ یہ سب کچھ عبث اور بیکار قرار پائے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم
Ayahs 71:18–19

ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا Open ayah 71:18 in the Quran reader

پھر وہی تم کو واپس لے جائے گا اس میں اور وہی تم کو اس سے باہر نکال لائے گا (قیامت کے روز) ایک ہی حکم سے

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ Open ayah 71:19 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے بنادیا تمہارے لئے (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) اس زمین کو ایک عظیم الشان بچھونا

18 بعث بعدالموت کا ذکر مع اس کی دلیل کے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہی تم سب کو لوٹائے گا اس زمین میں اور پھر وہی تم سب کو اس سے نکالے گا اپنے حکم سے اور اس نکالنے کے لئے محض اس کے حکم و ارشاد کی دیر ہوگی، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا فانماھی زجرۃ واحدۃ فاذا ھم بالساھرۃ (النازعات :13-14) تاکہ اس طرح تم اپنی زندگی بھر کے کئے کرائے کا بھرپور صلہ و بدلہ پا سکو اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہو سکیں، سو اس یوم حساب کو آنا چاہئے اور وہ ضرور اپنے وقت پر آ کر رہے گا کہ اس کے بغیر عدل و انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ سو اس ارشاد میں بعث بعد المتو کا ذکر بھی فرمایا گیا اور اس طور پر کہ اس دعوے کے ساتھ اس کی دلیل کو بھی بیان فرما دیا گیا۔ سو جس طرح زمین سے سبزہ اگتا ہے اور تم لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ ہمیشہ اگتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تم سب لوگوں کو بھی اسی زمین سے اگایا اور پھر جس طرح زمین سے اگنے والی چیزیں چندے بعد فنا ہو کر زمین میں مل جاتی ہیں، اسی طرح تم لوگ بھی مر کر زمین میں مل جاتے ہو۔ پھر جس طرح تم لوگ خود دیکھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے ان فناشدہ چیزوں کو از سر نو زندہ کردیتا ہ، اسی طرح وہ جب چاہے گا تم سب کو بغیر کسی مشکل کے از سر نو زندہ کر کے اٹھا کھڑا کرے گا۔ سو تمہارا وجود خود تمہارے اعادے کی دلیل اور اس کا ثبوت ہے اور بعث بعد الموت تمہارے وجود کا طبعی تقاضا ہے اس لئے ہمیشہ اس کے لئے فکر و کوشش میں رہنا چاہئے۔ کیونکہ بعد والی زندگی ہی اصل حقیقی اور ابدی زندگی ہے۔ وباللہ التفویق لمایحب ویریدو علی مایحب ویرید۔
Ayah 71:20

لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ Open ayah 71:20 in the Quran reader

تاکہ تم لوگ چلو اس کے اندر کھلے (کشادہ) راستوں میں

19 بچھونہ ارضی میں دعوت غور و فکر : سو زمین کے عظیم الشان بچھونے میں دعوت غور و فکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی نے تمہارے لئے اس زمین کو ایک عظیم الشان بچھونا بنایا تاکہ تم لوگ چلو پھرو اس کے کھلے کشادہ راستوں میں تاکہ اس طرح تم لوگ اس کرہ ارض کے، جس حصے میں بھی چاہو پہنچ جاؤ اور طرح طرح سے اس سے گوناگوں فائدے اٹھاؤ، سو اس ارشاد سے اب زمین کے اس عظیم الشان بچھونے میں غور و فکر کی دعوت دی جا رہی ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت کا ایک عظیم الشان مظہر ہے۔ جس میں دلائل و حکم اور عبرتوں اور بصیرتوں کے بےنہایت اور لاتعداد سامان پھیلے بکھرے ہیں جو اپنی زبان حال سے پکار پکار کر دوت غور و فکر دے رہے ہیں۔ پس ضرورت ہے نگاہ عبرت کی۔
Ayah 71:21

قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ Open ayah 71:21 in the Quran reader

نوح نے عرض کیا اے میرے رب ان لوگوں نے رد کردیا ہے میری بات کو اور یہ پیچھے چل پڑے ان لوگوں کے جن کو ان کے مال و اولاد (وغیرہ نعمتوں) نے خسارے (اور نقصان) میں اضافے کے سوا کچھ نہیں دیا

20 ۔ حضرت نوح کی شکایت اپنے رب کے حضور : سو اس سے حضرت نوح کی اپنے رب کے حضور اپنی قوم کے بارے میں درد بھری شکایت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی اس ناہنجار اور بدبخت قوم کے بارے میں اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ ان لوگوں نے میری نافرمانی کر کے اپنے بڑوں کی بات مانی۔ اور انہوں نے میری دعوت و پکار سے منہ موڑ کر ان کی پیروی کئی جن کے جانوں اور ان کی اولادوں نے ان کے لئے اضافہ نہیں کیا مگر خسارے اور نقصان کا یعنی میری یہ قوم اپنے ان رئیسوں، مال داروں، اور سرداروں کے پیچھے چل پڑی جو نور حق و ہدایت سے محروم ہیں اور ان کے مال و اولاد ان کے لئے سو حضرت نوح نے عرض کیا کہ اے میرے رب میں نے اپنی اس قوم کی دعوت و تبلیغ اور اس کے فرمائش و انداز کے لئے سارے جتن کر ڈالے لیکن ان سنگ دلوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور انہوں نے میری بات کو مان کر نہیں دیا اور انہوں نے میری بات ماننے کی بجائے ان لوگوں کی پیروی کی جن کے مال و اولاد نے ان کے خسارے اور نقصان کے سوا اور کسی بات میں اضافہ نہیں کیا۔ سو اس سے حضرت نوح کی دعوت کے اس آخری مرحلے کا ذکر فرمایا گیا ہے جو کہ اتمام حجت کا آخری مرحلہ تھا جس کے بعد وہ بدبخت قوم اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہی سو اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ منکرین کے لئے ان کے مال و حوالے و خسارے ہی کا باعث بنتے ہیں انہی چیزوں کی بناء پر ایسے لوگ استکبار یعنی اپنی بڑائی کے زعم اور گھمنڈ میں مبتلا ہو کر نور حق و ہدایت سے مزید دور اور محروم ہوتے چل جاتے ہیں اسی لئے حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ میری قوم کے ان لوگوں نے میری نافرمانی کر کے ان لوگوں کی پیروی کی جن کے مال و اولاد نے ان کے لئے خسارے کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کیا کہ انہی کی بناء پر یہ لوگ حق سے محروم اور نامراد ہوئے۔ والعیاذ باللہ۔ سو مال و اولاد نے شکر گزاری کی بجائے ان کے عجب و اسکتبار ہی میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ کفر و باطل کی غلط اور تبا کن روش پر اڑ گئے اور ان چیزوں کو انہوں نے اپنے حق پر ہونے کی دلیل قرار دیا کہ اگر ہم غلط راہ پر ہوتے تو ہمیں یہ سب کچھ آخر کیوں ملتا۔ سو اس طرح منکرین کے اموال و اولاد ان کے لئے باعث خسارہ و ہلاکت بن جاتے ہیں اور ایسے لوگ عجب و استکبار اور کبروغرور میں مبتلا ہو کر حق بات کو سننے اور ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے جس کے نتیجے میں آخر کار وہ ہلاکت و تباہی کے دائمی اور ہولناک گڑھے میں گر کر رہتے ہیں جس سے بڑا خسارہ کوئی نہیں ہوسکتا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین
Ayahs 71:22–23

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ Open ayah 71:22 in the Quran reader

انہوں نے بڑی بھاری چالیں چلیں

وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ Open ayah 71:23 in the Quran reader

اور انہوں نے (اپنے پیرؤوں سے) کہا کہ تم لوگ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور نہ ہی تم ود1، سواع اور یغوث، یعوق اور نسر کو کسی قیمت پر چھوڑنا

21 منکرین کی حق اور اہل حق کے خلاف چالوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح نے اپنے مخالفین کے بارے میں اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ انہوں نے بڑی بھاری چالیں چلیں۔ حق اور اہل حق کے خلاف ان کو نیچا دکھانے کے لئے، سو انہوں نے اپنے اسی استکبار اور اپنی بڑائی کے جھوٹے گھمنڈ میں میری دعوت کو شکست دینے، اپنے عوام کو مجھ سے برگشتہ کرنے اور ان کو میرے خلاف بھڑکانے کے لئے بڑی بڑی چالیں چلیں، اور ہر زمانے کے منکرین نے حق اور اہل حق کے خلاف یہی کچھ کیا، لیکن آخر کار ایسی چالیں خود انہی پر پڑتی ہیں۔ " ولا یحیق المکر السیء الاباھلہ " اللہ (فاطر :43) بہرکیف حضرت بہر کیف حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور اپنی قوم کے بڑوں اور سرداروں کے مکر کبار کی شکایت کی۔ مکر کے معنی چال اور سازش وغیرہ کے آتے ہیں اور " کبار " مبالغہ ہے کبیر کا۔ سو مطلب یہ ہوا کہ ان لوگوں نے حق اور اہل حق کے خلاف بڑی ہولناک وغیرہ کے آتے ہیں اور " کبار " مبالغہ ہے کبیر کا۔ سو مطلب یہ ہوا کہ ان لوگوں نے حق اور اہل حق کے خلاف بڑی ہولناک چالیں چلیں تاکہ اس طرح یہ ان کو نیچا دکھا سکیں اور حق اور اہل حق کے خلاف اہل کفر و باطل کا طریقہ و وطیرہ ہمیشہ یہی رہا۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے جس کے مظاہر آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور جگہ جگہ اور طرح طرح سے دیکھتے ہیں اور اس کے لئے دور حاضر کی مادی ترقی کے نت نئے وسائل کو بھی بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ جعل اللہ کیدہم فی نحور ہم واعاذ نامن شرور ہم۔
Ayah 71:24

وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا Open ayah 71:24 in the Quran reader

انہوں نے بہتوں کو گمراہ کردیا ہے پس اب تو بھی (اے میرے مالک ! ) ان ظالموں کو گمراہی کے سوا اور کسی چیز میں ترقی نہ دے

23 ۔ حضرت نوح کی طرف سے جرم اضلال کے مرتکبوں پر اظہار افسوس : سو حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور عرض کیا او حرف تاکید کے ساتھ عرض کیا کہ انہوں نے بہتوں کو گمراہ کردیا ہے۔ یعنی ان بتوں نے کہ یہ اس گمراہی کا سبب بنے۔ سو یہ ایسے ہی جیسا کہ حضرت ابراہیم نے فرمایا تھا رب انھن اضللن کثیرا من الناس، یا اصلوا کی ضمیر فاعل کا مرجع ان کافر و مشرکین کے وہ روؤسا و امراء ہیں جو ان کے بڑے گرد تھے، یعنی ان کے ان بڑے سرداروں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا اور ان کو راہ راست سے محروم کیا، والعیاذ باللہ جل وعلا بہرکیف اضلوا کی ضمیر مرقوع کے مرجع میں یہ دونوں ہی احتمال موجود ہیں، مفسرین کرام میں سے کسی نے ایک کو ذکر کیا ہے اور کسی نے دوسرے ک، (ابن کثیر، جامع البیان، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر اور مراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف حضرت نوح نے جرم اضلال پر اظہار افسوس کیا۔ کیونکہ حضرات انبیاء و رسئل کی قدسی صفت ہستیوں کو سب سے زیادہ افسوس اور قلق و اضطراب اپنی قوموں کی گمراہی اور بےراہ روی ہی پر ہوتا ہے۔ اور جو بدبخت ضلال کے ساتھ اضلال کے بھی مرتکب ہوتے ہیں ان پر ان حضرات کو اور بھی زیادہ دکھ اور افسوس ہوتا ہے کہ ان کا جرم اور بھی زیادہ اور دوہرا اور ڈبل ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم 24 حضرت نوح کے ظالموں کے لئے بد دعاء کا ذکر وبیان : اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین سو آنجناب نے (علیہ السلام) ۔ اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ پس تو بھی اے میرے مالک اب ان کو گمراہی کے سوا اور کسی چیز میں تری نہ دے : تاکہ ان کا پیمانہ جرم پوری طرح لبریز ہوجائے اور یہ اپنے کئے کی پوری سزا پاسکیں اور تاکہ اس طرح ان کی عذاب کی جانب تیز روی اور بڑھ جائے، یہ اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہیں اور ان کے ناپاک وجود اور ان کے تعفن سے یہ زمین جلد از جلد پاک ہوجائے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس زمین پر رہنے بسنے کے لئے نہیں پیدا کیا بلکہ اس لئے پیدا کیا ہے کہ یہ حصول سعادت کی جدوجہد کرے، تاکہ اس کے ذریعے بالاخر یہ ابدی سعادت اور حقیقی بادشاہی سے سرفراز ہو سکے، اس لئے اس کو زمین پر باقی رہنے کا حق اسی وقت تک رہتا ہے، جب تک کہ اس کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی رہتی ہے، یہ رمق اگر ختم ہوجائے تو پھر اس کا وجود زمین کے لئے لعنت بن جاتا ہے، والعیاذ باللہ اسی لئے حضرت نوح نے اپنی دعوت کے آخری مرحلے میں اپنی قوم کے لئے اپنے رب کے حضور اس طرح کی دعاء فرمائی۔ کیونکہ آنجناب نے صدیوں کی محنت اور دعوت مسلسل سے دیکھ لیا تھا کہ اس قوم میں جتنا جو ہر موجود تھا وہ نکل آیا ہے۔ اب جو باقی رہ گئیا ہے اس میں کوئی خیر نہیں بلکہ وہ غلاظت و نجاست کا ڈھیر ہے جس سے اللہ کی زمین کا پاک ہوجانا ہی بہتر ہے اور ذاتی تجربے کے علاوہ حضت نوح کو ان لوگوں کے بارے میں وحی کے ذریعے بھی اس بارے آگاہ فرما دیا گیا تھا کہ اب ان میں سے کوئی بھی ایمان نہیں لائے گا مگر وہی جو ایمان لا کے اور بس۔ جیسا کہ سورة ہود کی آیت نمبر 36 میں اس کی تصریح فرما دی گئی۔ جیسا کہ آگے حاشیہ نمبر 36 میں آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔
Ayah 71:25

مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا Open ayah 71:25 in the Quran reader

(سو انجام کار) غرق کردیا گیا ان لوگوں کو ان کی اپنی انہی خطاؤں کی بناء پر پھر (غرقابی کے بعد) جھونک دیا گیا ان کو ایک بڑی ہی ہولناک آگ میں پھر نہ مل سکا ان کو اپنے لئے اللہ (کی پکڑ اور اس کے عذاب) سے بچانے والا کوئی (یارو) مددگار

25 ۔ قوم نوح کے آخری اور انتہائی ہو لناک انجام کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار ان لوگوں کو ان کی خطاؤں کی بناء پر غرق کردیا گیا۔ پھر ان کو جھونک دیا گیا ایک ولناک آگ میں۔ پھر ان کو اپنے لیے کوئی مددگار نہ مل سکا جو ایسے آڑے وقت میں ان کے کچھ کام آسکتا اور ان کے خود ساختہ حاجت روا و مشکل کشاسب یونہی دھرے کے دھرے رہ گئے۔ والعیاذ باللہ العظیم سو وہ بدبخت لوگ بالاخر اپنی خطاکاریوں اور اپنے جرائم کی بناء پر پانی میں غرق ہوئے اور پھر ایک انتہائی ولناک آگ میں داخل کردیئے گئے اور ان کے لئے غرقابی اور آگ کے دونوں عذابوں کو جمع کردیا گیا اور یہ اللہ تعالیٰ کی شانوں میں سے ایک شان تھی جو ان بدبخت لوگوں کے حق میں ظاہر ہوئی، سو اس دنیا میں وہ پانی کے طوفان میں غرق ہوئے اور آخرت میں ان کو دوزخ کی آگ میں داخل ہونا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم اور اپنی جس قوت و جمعیت پر ان لوگوں کو بڑا ناز تھا اور جن خود ساختہ حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں پر انہوں نے تکیہ کر رکھا تھا ان میں سے کوئی بھی چیز اس وقت ان کے کام نہیں آسکی۔ والعیاذ باللہ العظیم سو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی چیز نہیں بچا سکتی سوائے اس کی رحمت و عنایت کے سبحان اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 71:26

وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا Open ayah 71:26 in the Quran reader

اور نوح نے مزید عرض کیا کہ اے میرے رب اب اس زمین پر ان کافروں میں سے کوئی ایک باشندہ بھی باقی نہ چھوڑنا

26 ۔ کافروں کے ایک متنفس کو بھی باقی نہ چھوڑنے کی دعا : سو حضرت نوح نے اپنی دعا میں اپنے رب کے حضور کے بوجھ سے پاک اور ان کی شر انگیزوں سے محفوظ ہوجائے۔ " دیارا "۔ کا لفظ یا تو۔ " دار یدور " سے ماخوذ ہے یا " دار " کی طرف منسوب ہے اس کی اصل " دیوار " ہے اس میں وہی تعلیل جاری ہوتی ہے جو کہ سید کے لفظ میں ہوتی ہے، (جامع البیان وغیرہ) سو حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ اب ان میں سے کسی متنفس کو بھی زندہ نہ چھوڑنا کہ اب اس بدبخت قوم سے کسی خیر کی کوئی توقع نہیں ہوسکتی۔ ان پر حجت تمام ہوگئی ہے۔ اب ان میں سے نہ کسی کو زندہ رہنے کا حق ہے اور نہ ہی ان میں سے کسی سے کسی خیر کی توقع کی جاسکتی ہے۔ رسول کی بعثت و تشریف آوری اور ان کی طویل بلکہ طویل ترین دعوت و تبلیغ کے ذریعے فضل وتمیز کے چھاج میں پوری طرح جھان کر اور چھانٹ پھٹک کر اور چھانٹ پھٹک کر دیکھ لیا گیا ہے اور صالح عناصر کو الگ کر کے فاسد عناصر کو جدا کردیا گیا ہے۔ اب ان فاسد عناصر کا باقی اور برقرار رہنا عباد وبلاد کیلئے کسی خبر کا فریقین بلکہ شر و سادی کا باعث ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم
Ayah 71:27

اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا Open ayah 71:27 in the Quran reader

(کیونکہ) اگر تو نے ان کو (زندہ) چھوڑ دیا (اے میرے مالک ! ) تو یہ گمراہ کریں گے تیرے بندوں کو (راہ حق و صواب سے) اور ان کی نسل سے بھی اب بدکار اور سخت کافر کے سوا کوئی جنم نہ لے گا

27 ہٹ دھرم منکرین کا وجود شر محض والعیاذ باللہ العظیم : سو حضرت نوح نے اپنی دعا میں مزید عرض کیا کہ اب ان کی نسل سے فاسق اور بڑے کافر ہی جنم لیں گے۔ اس سے پیغمبر کی غیب دانی کا ثبوت نہیں ملتا جیسا کہ اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں نے مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے، بلکہ اس کے پیچھے ای کطرف تو ساڑھے نو سو برس کے طویل زمانے پر پھیلا ہوا وہ تجربہ کار فرما تھا جو حضرت نوح کو اس بدبخت قوم کے بارے میں تھا اور دوسری طرف آپ کو اللہ پاک کی طرف سے اس بارہ صاف وصریح وحی کے ذریعے خبر کردی گئی تھی کہ اب آپ کی قوم کے ان بدبختوں میں سے کسی نے بھی ایمان نہیں لانا سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لا چکے، چناچہ دوسرے مقام پر اس بارہ نص صریح میں ارشاد فرمایا گیا۔ " واوحی الی نوح انہ لن یومن من قومک الا من قدا امن " (ھود :36) ۔ پس اہل بدعت کا اس سے اپنے شرکیہ عقائد کے لئے استدلال باطل و مردود ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم بہرکیف حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ مالک اب اگر تو نے ان میں سے کسی کو زندہ چھوڑ دیا تو ان سے آئندہ فاسق و بدکار اور بڑے کٹے کافی ہی پیدا ہوں گے، جن کے ناپاک وجودوں سے آگے مزید گندگی پھیلے گی اور تعفن بڑھے گا، ہر بچہ پیدا تو فطرت اسلام ہی پر ہوتا ہے، لیکن آگے ماحول اس کو اپنے رنگ میں رنگ لیتا ہے، جیسا کہ فابواہ یہو دانہ اوینصر انہ والی حدیث میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے، حضرت نوح (علیہ السلام) نے چونکہ ایک ہزار برس کی اپنی طویل زندگی میں اپنے معاشرے کو اچھی طرح چھانٹ پھٹک کر دیکھ لیا تھا کہ اب ان میں ایمان اور نیکی کی کوئی رمق باقی نہیں، اس لئے فرمایا کہ اب ان سے فاسق اور کافر ہی جنم لیں گے جو آگے مزید ہلاکت و تباہی اور خرابی و فساد کا باعث بنیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم