71. Surah Nooh

نوحNoah · 28 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 71:1–2

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 71:1 in the Quran reader

ہم نے نوح کو ان کی قوم کر طرف بھیجا کہ پیشتر اسکے کہ ان پر درد دینے والا عذاب واقع ہو اپنی قوم کو ہدایت کردو

قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 71:2 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ بھائیوں میں تم کو کھلے طور پر نصحیت کرتا ہوں

اللہ تبارک وتعالی نے اس سورة مبارکہ میں حضرت نوح کے اپنی قوم کے اندر، ایک طویل زمانے تک رہنے، ان کو بار بار دعوت توحید دینے اور شرک سے روکنے کی بنا پر ان کا الگ قصہ بیان کیا اللہ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت نوح کو قوم پر رحم کرتے ہوئے انکو دردناک عذاب سے متنبہ کرتے ہوئے اور ان کو اپنے کفر پر جمے رہنے سے ڈراتے ہوئے حضرت نوح کو ان کی طرف مبعوث فرمایا، مبادا اللہ تعالیٰ ان کو ابدی ہلاکت اور سرمدی عذاب میں مبتلا کردے۔ حضرت نوح نے سرتسلیم خم کردیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کے لیے آگے بڑھے اور فرمایا یقوم انی لکم نذیر مبین) یعنی میں انداز اور تنبیہ کو واضح کرکے کھول کھول کر بیان کرتا ہوں۔ یہ اس لیے کہ آپ نے جس چیز کے ذریعے سے تنبیہ کی اس کو واضح کیا اور جس کے بارے میں تنبیہ کی گئی اس کو واضح کیا اور جس چیز کے ذریعے سے نجات حاصل ہوتی ہے ان سب باتوں کو شافی طور پر بیان کیا۔
Ayah 71:3

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ Open ayah 71:3 in the Quran reader

کہ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہنا مانو

حضرت نوح نے ان کو آگاہ کیا اور اس بارے میں بنیادی چیز کا حکم دیا، چناچہ فرمایا (ان اعبداللہ واتقوہ) ۔ یہ کہ اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو اور وہ اس طرح کی عبادت توحید میں اللہ تعایل کو یکتا قرار دیا جائے اور شرک کے تمام راستوں اور وسائل سے دور رہا جائے کیونکہ جب وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں گے تو اللہ تعایل ان کے گناہ بخش دے گا جب وہ ان کے گناہ بخش دے گا تو انہیں عذاب سے نجات حاصل ہوجائے گی اور وہ ثواب سے بہرہ مند ہوں گے۔
Ayahs 71:4–6

یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 71:4 in the Quran reader

وہ تمہارے گناہ بخش دیگا اور (موت کے) وقت مقرر تک تم کو مہلت عطا کرے گا جب خدا کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی کاش تم جانتے ہوتے

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ Open ayah 71:5 in the Quran reader

جب لوگوں نے نہ مانا تو نوح نے خدا سے عرض کیا کہ پروردگار میں اپنی قوم کو رات دن بلاتا رہا

فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 71:6 in the Quran reader

لیکن وہ میرے بلانے سے اور زیادہ گریز کرتے رہے

(ویؤخرکم الی اجل مسمی) ۔ یعنی اس دنیا میں تمہیں متمتع کرے گا اور ایک مدت مقررہ تک ہلاکت کو تم سے دور ہٹا دے گا یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر سے دنیا میں باقی رہنے کی مقدار ایک محدودوقت تک موخر کردی جائے گی اور یہ متاع ابدی نہیں ہے موت کو ضرور آنا ہے اس لیے فرمایا (ان اجل اللہ اذا جاء لا یوخر، لو کنتم تعلمون) ، جب اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی، کاش تم جانتے ہوتے۔ تو تم اللہ کا انکار کرتے نہ حق کے ساتھ عناد رکھتے۔ پس انہوں نے حضرت نوح کی دعوت کو قبول کیا نہ ان کے حکم کی اطاعت کی تو حضرت نوح نے اپنے رب سے شکوہ کرتے ہوئے عرض کیا (رب انی دعوت قومی لیلا ونھارا۔ فلم یزدھم دعاءی الافرارا) ، یعنی حق سے نفرت اور اس سے روگردانی میں اضافہ ہی ہوا، پس دعوت کا کوئی فائدہ باقی نہ رہا کیونکہ دعوت کا فائدہ تب ہے کہ دعوت کے تمام مقاصد یا ان سے کچھ مقاصد حاصل ہوں۔
Ayahs 71:7–8

وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ Open ayah 71:7 in the Quran reader

جب جب میں نے انکو بلایا کہ (توبہ کریں اور) تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور کپڑے اوڑھ لئے اور اڑ گئے اور اکڑ بیٹھے

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ Open ayah 71:8 in the Quran reader

پھر میں ان کو کھلے طور پر بھی بلاتا رہا

(وانی کلما دعوتھم لتغفرلھم) ۔ اور میں نے جب بھی ان کو پکارا تاکہ تو ان کو بخش دے۔ یعنی اس وجہ سے پکارا کہ وہ اس دعوت کو قبول کریں۔ جب وہ دعوت کو قبول کرلیں گے تو ان کو بخش دیا جائے گا اور اس میں محض ان کی مصلحت ہے مگر وہ اپنے باطل پر مصر اور حق سے دور بھاگتے رہے۔ (جعلو اصابعھم فی اذانھم) ۔ انہوں نے کانوں میں انگلیاں دے لیں۔ اس ڈر سے کہ کہیں وہ باتیں ان کے کان میں نہ پڑجائیں جو ان سے ان کا نبی نوح کہتا ہے۔ (واستغشوا ثیابھم) یعنی حق سے بعد اور بغض کی بنا پر، اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانپ کر پردہ کرلیا (واصبروا) اور انہوں نے اپنے کفر اور شر پر اصرار کیا (واستکبروا الستکبارا) پھر میں ان کو کھلے طور پر بلاتا رہا۔ یعنی میں ان سب کو سنا کر دعوت دیتا رہا۔
Ayah 71:9

ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ Open ayah 71:9 in the Quran reader

اور ظاہر اور پوشیدہ ہر طرح سمجھاتا رہا

(ثم انی اعلنت لھم واسررت لھم اسرارا) اور ظاہر اور پوشیدہ، ہر طرح سمجھاتا رہا۔ یہ سب ان کے ایمان لانے کی حرص اور ان کی خیرخواہی ہے اور ان پر ہر اس طریقے کا استعمال ہے جس کے ذریعے سے مقصد کے حصول کا گمان ہو۔
Ayah 71:10

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ Open ayah 71:10 in the Quran reader

اور کہا اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ وہ بڑا معاف کرنیوالا ہے

(فقلت ستغفروا ربکم) یعنی میں انہیں کہا کہ تم جن گناہوں کا ارتکاب کررہے ہو، ان کو چھوڑ دو اور اللہ تعالیٰ سے ان گناہوں کی بخشش طلب کرو۔ (انہ کان غفارا) ۔ جو کوئی توبہ کرکے اس سے بخشش طلب کرتا ہے وہ اسے کثرت سے بخشتا ہے پس اللہ تعالیٰ نے ان کو گناہوں کی بخشش اور اس پر جو ثواب مرتب ہوتا ہے اور جو عذاب دور ہوتا ہے اس کی ترغیب دی۔
Ayah 71:11

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ Open ayah 71:11 in the Quran reader

وہ تم پر آسمان سے لگاتار مینہ برسائے گا .

اللہ تبارک وتعالی نے ان کو دیا کی فوری بھلائی کے ذریعے سے ترگیب دی چناچہ فرمایا (یرسل السماء علیکم مدرارا) یعنی وہ تم پر لگاتار بارش برسائے گا جو وادیوں اور ٹیلوں کو سیراب کردے گی، شہروں اور بندوں کو زندگی عطا کرے گی۔
Ayah 71:12

وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ Open ayah 71:12 in the Quran reader

اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں باغ عطا کریگا (اور ان مییں) تمہارے لئے نہریں بہاوے گا

(ویمددکم باموال وبنین) یعنی اللہ تبارک وتعالی تمہارے اموال میں، جن کے ذریعے سے تم دنیا کی ہر وہ چیز حاصل کرتے ہو، جس کی تمہیں طلب ہوتی ہے اور تمہاری اولاد میں کثرت عطاکرے گا (ویجعل لکم جنت ویعلکم انھرا) اور تمہارے لیے باغات پیدا کرے گا اور نہریں جاری کردے گا، یہ دنیا کی لذتوں اور اس کے مطالب کی انتہا ہے۔
Ayah 71:13

مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ Open ayah 71:13 in the Quran reader

تم کو کیا ہوا ہے کہ تم خدا کی عظمت کا اعتقاد نہیں رکھتے

(مالکم لا ترجون للہ وقارا) ۔ تمہیں کیا ہے، تم اللہ کی تعظیم کے لیے اس سے خوف نہیں کھاتے اور تمہارے ہاں اللہ تعالیٰ کی کوئی قدر نہیں۔
Ayah 71:14

وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا Open ayah 71:14 in the Quran reader

حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح (کی حالتوں) کا پیدا کیا ہے

(وقد خلقکم اطوارا) ۔ حالانکہ اس نے تمہیں مختلف اطوار میں پیدا کیا۔ یعنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کے مختلف مراحل میں پیدا کیا پھر رضاعت، پھر سن طفولیت، پھر سن تمیر اور پھر جوانی میں منتقل کیا، پھر اس مرحلے میں لے گیا جہاں تمام مخلوق پہنچتی ہے۔ پس وہ ہستی جو تخلیق اور بےمثال تدبیر میں منفرد ہے، صرف اسی کے لیے عبادت اور توحید مختص ہے۔ بندوں کی تخلیق کی ابتدا کے ذکر میں معاد کی طرف اشارہ ہے اور وہ ہستی جو انہیں عدم سے وجود میں لائی، ان کے مرنے کے بعد انہیں دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کی تخلیق سے بھی استدلال کیا ہے جن کی تخلیق انسانوں کی تخلیق سے زیادہ بڑی ہے۔
Ayah 71:15

اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ Open ayah 71:15 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے سات آسمان کیسے اوپر تلے بنائے ہیں

چناچہ فرمایا (الم تروا کیف خلق اللہ سبع سموات طباقا) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے سات آسمان کیسے اوپر تلے بنائے ہیں یعنی ہر آسمان کو دوسرے آسمان کے اوپر پیدا کیا ہے۔
Ayah 71:16

وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا Open ayah 71:16 in the Quran reader

اور چاند کو ان میں (زمین) کا نور بنایا ہے اور سورج کو چراغ ٹھیرایا ہے

(وجعل القمر فیھن نورا) ۔ اور چاند کو ان میں نور بنایا۔ یعنی زمین والوں کے لیے (وجعل الشمس سراجا) اور سورج کو چراغ بنایا۔ اس میں ان اشیا کی تخلیق کے بڑے ہونے، نیز سورج اور چاند کے فوائد کی کثرت کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے بےپایاں احسان پر دلالت کرتی ہے پس وہ عظیم اور رحیم ہستی، مستحق ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے، اس سے محبت کی جائے اس سے ڈرا جائے اور امید رکھی جائے۔
Ayah 71:17

وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ Open ayah 71:17 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے

(واللہ انبتکم من الارض نباتا) ۔ اور اللہ ہی نے تم کو زمین میں سے پیدا کیا۔ جب تمہارے باپ آدم کو زمین سے پیدا کیا اور تم اس کی صلب میں تھے۔
Ayah 71:18

ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا Open ayah 71:18 in the Quran reader

پھر اسی میں تمہیں لوٹا دیگا اور (اسی سے) تم کو نکال کھڑا کرے گا

(ثم یعیدکم فیھا) پھر تمہیں اسی میں لوٹائے گا یعنی موت کے وقت (ویخرجکم اخراجا) اور وہ تمہیں حشر ونشر کے لیے زمین سے نکالے گا۔ وہی ہے جو زندگی عطا کرنے، موت دینے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر اختیار رکھتا ہے۔
Ayah 71:19

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ Open ayah 71:19 in the Quran reader

اور خدا ہی نے زمین کو تمہارے لئے فرش بنایا

(واللہ جعل لکم الارض بساطا) ۔ اور اللہ ہی نے زمین کو تمہارے لیے فرش بنایا۔ یعنی زمین کو استفادے کی خاطر پھیلا کر تیار کردیا
Ayah 71:20

لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ Open ayah 71:20 in the Quran reader

تاکہ اس کے بڑے بڑے کشادہ راستوں میں چلو پھرو

(لتسلکوا منھا سبلا فجاجا) تاکہ اس کے بڑے بڑے کشادہ راستوں میں چلو پھرو۔ پس اگر اللہ نے زمین کو پھیلایا نہ ہوتا تو یہ سب کچھ ممکن نہ ہوتا بلکہ زمین پر کھیتی باڑی کرنا، باغ لگانا، زراعت کرنا، عمارتیں تعمیر کرنا اور سکونت اختیار کرنا بھی ممکن نہ ہوتا۔
Ayah 71:21

قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ Open ayah 71:21 in the Quran reader

(اسکے بعد) نوح نے عرض کی کہ اے میرے پروردگار یہ لوگ میرے کہنے پر نہیں چلے اور ایسوں کے تابع ہوئے ہیں جن کو انکے مال اور اولاد نے نقصان کے سوا کچھ فائدہ نہیں دیا

(قال نوح) نوح نے اپنے رب کے حضور شکوہ کرتے ہوئے عرض کیا کہ ان کے اندر اس کلام اور وعظ و نصیحت نے کوئی فائدہ نہیں (رب انھم عصونی) اے میرے رب انہوں نے ان تمام امور میں میری نافرمانی کی ہے جن کا میں نے ان کو حکم دیا ہے۔ (واتبعوہ من لم یزدہ مالہ وولدہ الاخسارا) یعنی انہوں نے خیرخواہی کرنے اور بھلائی کی طرف راہ نمائی کرنے والے رسول کی نافرمانی کی اور ان بڑے لوگوں اور اشراف کی پیروی کی جن کو ان کے مال اور اولاد نے خسارے میں ڈالا، یعنی ان کو ہلاکت میں مبتلا کیا اور منافع سے محروم کردیا تب اس شخص کا کیا حال ہوگا جس نے ان کی اطاعت کی اور ان کے احکام پر عمل کیا۔
Ayah 71:22

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ Open ayah 71:22 in the Quran reader

اور وہ بڑی بڑی چالیں چلے

(ومکروا مکرا کبارا) یعنی انہوں نے حق کے خلاف عناد میں بہت بڑی چال چلی۔
Ayah 71:23

وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ Open ayah 71:23 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا

(وقالوا) اور انہوں نے شرک کی دعوت دیتے اور اس کو مزین کرتے ہوئے کہا (لاتذرن الھتکم) اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا۔ انہوں نے ان کو اس شرک کے تعصب کی طرف بلایا جس پر وہ عمل پیرا تھے اور کہا کہ وہ اس دین کو نہ چھوڑیں جس کو ان کے پہلے آباء و اجداد نے اختیار کیا ہوا تھا، پھر انہوں نے اپنے معبودوں کا نام لے کر کہا (ولاتذرن ودا ولاسواعا ولایغوث ویعوق ونسرا) ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا۔ یہ نیک لوگوں کے نام ہیں جب وہ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی قوم کے سامنے یہ مزین کردیا کہ وہ ان نیک لوگوں کے بت بنائیں تاکہ۔۔۔ بزعم خود۔۔ جب وہ ان کو دیکھیں تو ان کو اطاعت میں نشاط حاصل ہو۔ جب طویل زمانہ گزر گیا اور ان کے بعد دوسرے لوگ آئے تو شیطان نے ان سے کہا، تمہارے اسلاف ان بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے، ان کو وسیلہ بنایا کرتے تھے اور ان کے وسیلے سے بارش مانگا کرتے تھے تو انہوں نے ان کی پوجا شروع کردی، اسی لیے ان کے سرداروں نے اپنے پیروگاروں کو نصیحت کی کہ وہ ان بتوں کی عبادت کو نہ چھوڑیں۔
Ayah 71:24

وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا Open ayah 71:24 in the Quran reader

(پروردگار) انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے اور تو ان کو اور گمراہ کر دے

(وقد اضلوا کثیرا) یعنی ان بڑوں اور سرداروں نے اپنی دعوت کے ذریعے سے بہت سی مخلوق کو گمراہ کردیا (ولاتزدالظالمین الاضلالا) تو تو ان کو اور گمراہ کردے۔ میرے ان کو حق کی دعوت دینے کے وقت اگر وہ گمراہ ہوتے تو یہ مصلحت تھی مگر ان سرداروں کی دعوت سے ان کی گمراہی میں اضافہ ہی ہوا ہے یعنی اب ان کی کامیابی اور اصلاح کا کوئی امکان باقی نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دنیاوی اور اخروی عذاب اور عقوبت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (مما خطیئتھم اغرقوا) وہ اپنے گناہوں کے سبب غرق کردیے گئے۔ سمندر کی مانند سیلاب میں غرق کردیے گئے جس نے ان کو گھیر لیا تھا۔
Ayah 71:25

مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا Open ayah 71:25 in the Quran reader

(آخر) وہ اپنے گناہوں کے سبب ہی غرقاب کردیے گئے پھر آگ میں ڈال دیئے گئے تو انہوں نے خدا کے سوا کسی کو اپنا مددگار نہ پایا

(فا ادخلوانارا) پس وہ آگ میں ڈال دیے گئے، ان کے اجساد پانی میں چلے گئے اور ارواح آگ کے حوالے کردی گئیں۔ یہ سب کچھ ان کے گناہوں کے سبب سے تھا جن کے بارے میں ان کا نبی نوح آکر انہیں متنبہ کرتا رہا، ان کے گناہوں کی نحوست اور ان کے برے کام کا انجام سے آگاہ کرتا رہا۔ ان کے نبی نے جو کچھ کہا انہوں نے اس کو دور پھینک دیا یہاں تک کہ ان پر عذاب نازل ہوگیا۔ (فلم یجدولھم من دون اللہ انصارا) پس انہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مددگار نہ ملے جو ان کی اس وقت مدد کرتے جب ان پر عذاب نازل ہوا اور نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر کا ہی مقابلہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 71:26

وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا Open ayah 71:26 in the Quran reader

اور (پھر) نوح نے (یہ) دعا کی کہ اے میرے پروردگار کسی کافر کو روئے زمین پر بسا نہ رہنے دے

(وقال نوح رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا) ، نوح نے دعا کی، میرے رب۔ کسی کافر کو روئے زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ جو روئے زمین پر گھومتا پھرتا رہے۔ اور اس کا سبب بھی ذکر کیا۔
Ayah 71:27

اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا Open ayah 71:27 in the Quran reader

اگر تو انکو رہنے دے گا تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان سے جو اولاد ہوگی وہ بھی بدکار اور ناشکر گزار ہوگی

چناچہ فرمایا (انک ان تذرھم یضلوا عبادک ولا یلدوا الا فاجرا کفارا) اگر تو ان کو رہنے دے گا تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان سے جو اولاد ہوگی وہ بھی ناشکرگزار ہوگی۔ یعنی ان کا باقی رہنا، خود ان کے لیے اور دوسروں کے لیے محض فساد کا باعث ہوگا۔ حضرت نوح نے یہ بات اس لیے کہی تھی کیونکہ ان کے ساتھ کثرت اختلاط اور ان کے اخلاق سے واسطہ ہونے کی بنا پر آپ کو ان کے اعمال کا نتیجہ معلوم تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی دعا قبول فرما لی۔ پس اللہ نے ان سب کو غرق کردیا اور حضرت نوح اور ان کے ساتھ جو اہل ایمان تھے ان سب کو بچا لیا۔
Ayah 71:28

رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ Open ayah 71:28 in the Quran reader

اے میرے پر دوردگار مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور جو ایمان لا کر میرے گھر میں آئے اسکو اور تمام ایمان والے مردوں اور ایمان ولی عورتوں کو معاف فرما۔ اور ظالم لوگوں کے لیے اور زیادہ تباہی بڑھا۔

(رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا) اے میرے رب مجھے میرے ماں باپ کو اور اس کو جو ایمان لاکر میرے گھر میں آئے بخش دے۔ حضرت نوح نے اپنی دعا کے لیے مذکورہ لوگوں کو خاص کیا کیونکہ ان کے حق موکد اور ان کے ساتھ نیکی مقدم ہے پھر اپنی دعا کو عام کرتے ہوئے کہا (وَّلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ۭ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا تَبَارًا) اور ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بھی معاف فرما اور ظالم لوگوں کے لیے اور زیادہ تباہی بڑھا۔ یعنی ظالموں کے لیے حسرت تباہی اور ہلاکت میں اضافہ کر۔