70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayah 70:1

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

ایک طلب کرنیوالے نے عذاب طلب کیا جو نازل ہو کر رہگا

اللہ تبارک وتعالی معاندین حق کی جہالت کو اور استہزا کے طور پان کے عذاب الٰہی کو مشکل اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ کو عاجز سمجھتے ہوئے عذاب کے لیے جلدی مچانے کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ (سال سائل) یعنی عذاب کی جو واقع ہو کررہے گا کافروں پر، (بعذاب واقع للکافرین۔ من اللہ) ۔ ان کے کفر وعناد کی بنا پر عذاب کے مستحق ہونے کی وجہ سے۔
Ayah 70:2

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

(یعنی) کافروں پر (اور) کوئی اسکو ٹال نہ سکے گا

(لیس لہ دافع۔ من اللہ) ۔ متکبر اور سرکش مشرکین میں سے جس کسی نے جلد عذاب کی خواہش کی ہے، کوئی اس عذاب کو اس کے نازل ہونے سے قبل روک سکتا ہے نہ اس کے نازل ہونے کے بعد اس کو اٹھا سکتا ہے۔ یہ آیات کریمہ اس وقت نازل ہوئیں جب نضر بن حارث قرشی وغیرہ اہل شرک نے دعا کرتے ہوئے کہا (اللھم ان کان ھذا ھوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوئتنا بعذاب الیم۔ الانفال 32) ۔ اے اللہ، اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر دردناک عذاب لے آ۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عذاب ضرور واقع ہوگا، یا تو اس دنیا ہی میں جلد ان پر عذاب بھیج دیا جائے گا یا آخرت میں (مبتلا کرنے کے لیے) اس عذاب کو ان سے موخر کیا جائے گا۔ اگر انہوں نے اللہ کی معرفت حاصل کی ہوتی، اس کی عظمت، اس کی وسعت سلطنت اور اس کے اسماء اور صفات کو پہچانا ہوتا تو وہ کبھی جلدی نہ مچاتے بلکہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے اور ادب اختیار کرتے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کا ذکر فرمایا جو ان کے اقوال قبیحہ کی ضد ہے۔
Ayahs 70:3–4

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

اور خدائے صاحب درجات کی طرف سے (نازل ہوگا)

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

جس کی طرف روح (الامین) اور فرشتے چڑھتے ہیں (اور) اس روز (نازل ہوگا) جس کا اندازہ پچاس ہزار برس کا ہوگا

چناچہ فرمایا (ذی المعارج۔ تعرج الملائکۃ والروح الیہ) ۔ یعنی وہ بلندی، جلال اور عظمت کا مالک ہے، تمام مخلوقات کی تدبیر اسی کے ہاتھ میں ہے جس کی طرف اس چیز کے ساتھ فرشتے عروج کرتے ہیں جس کی تدبیر پر انہیں مقرر کیا ہے اور اس کی طرف روح بلند ہوتی ہے۔ یہ اسم جنس ہے جو تمام ارواح کو شامل ہے، خواہ نیک ہوں یابد، اللہ تعالیٰ کی طرف ارواح کا بلند ہونا، وفات کے وقت ہے۔ نیک لوگوں کی ارواح اللہ کی طرف عروج کرتی ہیں، انہیں ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف بلند ہونے کی اجازت دے دی جاتی ہے یہاں تک کہ ارواح اس آسمان پر پہنچ جاتی ہیں جس میں اللہ تعالیٰ ان کا رب تشریف فرما ہے یہ ارواح اللہ کے حضور تحیہ وسلام پیش کرتی ہیں اس کے قرب سے سرفراز ہوتی ہیں اور اس کے قرب سے خوشی اور سرور حاصل کرتی ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ثنا واکرام بھلائی اور بڑائی حاصل ہوتی ہے۔ رہیں فساق وفجار کی ارواح تو وہ عروج کرتی ہیں جب وہ آسمان پر پہنچتی ہیں تو آنے کی اجازت طلب کرتی ہیں مگر ان کو اجازت نہیں دی جاتی اور ان کو زمین کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے پھر اللہ نے اس مسافت کا ذکر فرمایا جس کو طے کرکے فرشتے اور روح اللہ تعالیٰ کی طرف عروج کرتے ہیں، نیز یہ کہ وہ ان اسباب کے ذریعے سے ایک دن میں عروج کرتے ہیں جو اللہ تعای نے ان کے لیے آسان کیے ہیں اور اوپر چڑھنے میں ان کی لطافت اور خفت اور سرعت رفتار ان کی اعانت کرتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ، عام عادی رفتار کے مطابق، یہ مسافت ابتدائے عروج سے لے کر اس حد تک جو ان کے لیے مقرر کی گئی ہے اور ملا اعلی تک، پچاس ہزار برس کے برابر ہے۔ یہ عظیم بادشاہی، یہ وسیع کائنات، علوی، اور سفلی اور اس کی تخلیق اور تدبیر کا انتطام وہی بلندو برتر کرتا ہے پس وہ ان کے ظاہری و باطنی احوال کا علم رکھتا ہے وہ ان کے ٹھکانے کو جانتا ہے اور اسے اس جگہ کا علم ہے جہاں ان کو سونپا جانا ہے۔ اس نے اپنی رحمت اور احسان اور رزق ان تک پہنچایا ہے جو ان سب پر عام اور سب کو شامل ہے اس نے ان پر حمک قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کو جاری کیا۔ پس شدت ہے ان لوگوں کے لیے جو اس کی عظمت کے بارے میں جہالت کا شکار ہیں اور انہوں نے اس کی اس طرح قدر نہ کی جس طرح قدر کرنے کا حق ہے، پس انہوں نے عجز ثابت کرنے اور امتحان کے طور پر عذاب کے لیے جلدی مچائی، ، پاک ہے حلم اور درگزر کرنے والی ہستی جس نے ان کو ڈھیل دیے رکھی مگر ان کو مہمل نہیں چھوڑا انہوں نے اس کو اذیت پہنچائی مگر اس نے ان کے بارے میں صبر کیا، ان کو معاف کردیا اور ان کو رزق عطا کیا۔ یہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں ایک احتمال ہے پس یہ عروج اور چڑھنا دنیا میں ہے کیونکہ آیت کریمہ کا پہلاسیاق اس پر دلالت کرتا ہے ایک احتمال یہ ہے کہ یہ قیامت کے دن ہوگا اور اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اپنے بندوں پر اپنی عظمت، جلال اور کبریائی ظاہر کرے گا جو اس کی معرفت کی سب سے بڑی دلیل ہے وہ فرشتوں اور ارواح کو تدابیر الٰہیہ اور امور ربانیہ کے ساتھ چڑھتے اترتے مشاہدہ کریں گے یہ اس روز ہوگا جس کا اندازہ اس کی لمبائی اور شدت کی بنا پر پچاس ہزار سال ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ مومنوں پر تخفیف فرمائے گا۔
Ayah 70:5

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

(تو تم کافروں کی باتوں کو) حوصلے کے ساتھ برداشت کرتے رہو

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (فاصبر صبرا جمیلا) ۔ اپنی قوم کو دعوت دنے پر صبر جمیل کیجئے اس میں کوئی تنگ دلی ہو نہ کوئی ملال بلکہ اللہ تعالیٰ کے حمک پر قائم رہیے اس کے بندوں کو اس کی توحید کی دعوت دیجئے آپ ان میں عدم اطاعت اور عدم رغبت کا جو مشاہدہ کرتے ہیں یہ چیز آپ انہیں دعوت دینے سے روک نہ دے کیونکہ اس پر صبر کرنے میں خیر کثیر پنہاں ہے۔
Ayahs 70:6–7

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

وہ ان لوگوں کی نگاہ میں دور ہے

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہماری نظر میں نزدیک

(انھم یرونہ بعیدا۔ ونراہ قریبا) ۔ وہ اس (قیامت) کو دور تصور کرتے ہیں اور ہم اسے نزدیک دیکھ رہے ہیں۔ آیت میں مذکورہ ضمیر قیامت کے دن کی طرف لوٹتی ہے جس میں عذاب کے بارے میں سوال کرنے والوں کے لیے عذاب ہوگا یعنی ان کا حال اس شخص کا سا ہے جو قیامت کا منکر ہے جس پر بدبختی اور اندیشہ غالب ہو حتی کہ اسے وہ چیز بھی دور نظر آئے جو اس کے سامنے ہے یعنی مرنے کے بعددوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ (دن) قریب نظر آتا ہے کیونکہ وہ بہت نرم اور بردبار ہے، سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا وہ جانتا ہے کہ جسے آنا ہے وہ آکر رہے گا پس وہ بہت قریب ہے۔
Ayah 70:8

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

جس دن آسمان ایسا ہوجائیگا جیسا پگھلا ہوا تانبا

پھر اللہ نے اس دن کی ہولناکیوں اور ان امور کا ذکر فرمایا جو اس میں واقع ہوں گے چناچہ فرمایا (یوم) یعنی قیامت کے دن جس میں یہ بڑے برے واقعات وقوع ہوں گے (تکون السماء کالمھل) ۔ آسمان ہوجائے گا مہل کی طرح۔ اور وہ پگھلا ہوا سیسہ ہے آسمان کے پھٹ جانے اور بےانتہا ہولناکی کے باعث آسمان پگھلے ہوئے سیسے کی مانند ہوجائے گا۔
Ayah 70:9

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور پہاڑ (ایسے) جیسے (دہنکی ہوئی) رنگین اون

(وتکون الجبال کالعھن) ۔ اور پہاڑ ہوجائیں گے روئی کی طرح۔ اور وہ ہے بےدھن کی ہوئی اون، اس کے بعد اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ختم ہوجائیں گے جب ان بڑے بڑے اجرام پر یہ گھبراہٹ اور بےقرار طاری ہوگی تو اس کمزور بندے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس کی کمر کو گناہوں کے بوجھ نے بوجھل کررکھا ہوگا۔ کیا وہ اس لائق نہ ہوگا کہ اس کا دل اکھڑ جائے اس کی عقل وخرد زائل ہوجائے اور وہ ہر ایک سے غافل ہوجائے ؟ اس لیے فرمایا۔
Ayah 70:10

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور کوئی دوست کسی دوست کا پرساں نہ ہوگا

(ولا یسئل حمیم حمیما یبصرونھم) ۔ حمیم۔ سے مراد قریبی ہے۔ یعنی قریبی دوست وہ اپنے دوست کو دیکھے کو دیکھے گا مگر اس کے دل میں اتنی گنجائش نہ ہوگی کہ وہ اس کا حال پوچھ سکے، نہ وہ ان امور کے بارے میں پوچھ سکے گا جو ان کی آپس کی معاشرت اور محبت کے متعلق ہوں گے بس اسے اپنے آپ کا غم ہوگا۔
Ayah 70:11

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

(حالانکہ) ایک دوسرے کو سامنے دیکھ رہے ہونگے (اس روز) گنہگار خواہش کریگا کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں (سب کچھ) دیدے یعنی اپنے بیٹے

(یود المجرم) جس پر عذاب کا استحقاق ثابت ہوچکا ہوگا خواہش کرے گا (لویفتدی من عذاب یومئذ ببنیہ۔ وصاحبتہ) کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں اپنے بیٹے اور اپنی بیوی دے دے۔
Ayahs 70:12–14

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اور اپنی بیوی اور اپنے بھائی

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اور اپنا خاندان جس میں وہ رہتا تھا

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور جتنے آدمی زمین میں ہیں (غرض) سب (کچھ دیدے) اور اپنے تئیں عذاب سے چھڑالے

(واخیہ۔ وفصیلۃ) اور اپنا بھائی اور اپنا خاندان۔ یعنی اپنی قرابت (التی تو یہ) ۔ جس میں وہ رہتا تھا۔ یعنی دنیا کے اندر عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے کی مدد اور ایک دوسرے کی اعانت کرتے ہیں پس قیامت کے دن کوئی کسی کے کام آئے گا نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش ہی کرسکے گا بلکہ اگر عذاب کا مستحق، جو کچھ زمین میں ہے، سب فدیہ میں دے کر عذاب سے بچنا چاہے، تب بھی اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
Ayahs 70:15–16

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

(لیکن) ایسا ہرگز نہ ہوگا وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

کھال ادھیڑ ڈالنے والی

(کلا) ۔ یعنی اب ان کے لیے کوئی حیلہ نہ مدد کا موقع، ان پر تیرے رب کا فیصلہ واجب ہوچکا، رشتے داروں اور دوستوں کا فائدہ بھی جاچکا۔ (انھالظی۔ نزاعۃ للشوی) ۔ وہ آگ ہوگی کھالوں کو ادھیڑ دینے والی، یعنی ظاہری و باطنی اعضا کو اپنے سخت عذاب کی وجہ سے اکھاڑ دے گی۔
Ayahs 70:17–18

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

ان لوگوں کو اپنی طرف بلائے گی جنہوں نے (دین حق سے) اعراض کیا

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور (مال) جمع کیا اور بند کر رکھا

(تدعوا) ۔ اپنی طرف بلائے گی (من ادبر و تولی۔ وجمع فاوعی) ۔ اس کو جس نے اتباع حق سے پیٹھ پھیری، اس سے منہ موڑا اور حق سے کوئی غرض نہ رکھی، مال پہ مال جمع کرتا رہا اور اسے سینت سینت کر رکھتا رہا، اس میں سے اللہ کے راستے میں کچھ بھی خرچ نہ کیا جسے خرچ کرکے اپنے آپ سے جہنم کو دور کرتا پس جہنم ان لوگوں کو اپنی طرف بلاتی ہے اور ان پر شعلہ زن ہونے کے لیے تیار رہتی ہے۔
Ayahs 70:19–20

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ انسان کم حوصلہ پیدا ہوا ہے

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے

یہ انسان کا وصف ہے جیسا کہ وہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت بیان کی ہے کہ وہ انتہائی بےصبرا ہے۔ پھر بےصبرے، کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا (واذا مسہ الشر جزوعا) ۔ پس اگر کبھی اس پر فقر یا کسی مرض کا حملہ ہوتا ہے یا مال ومتاع، گھروالوں اور اولاد میں سے کوئی محبوب چلا جاتا ہے تو وہ انتہائی بےصبری کا مظاہرہ کرتا ہے اس بارے میں صبر کو استعمال نہیں کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی قضا پر راضی ہوتا ہے۔
Ayah 70:21

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب آسائش حاصل ہوتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے

(واذا مسہ الخیر منوعا) ۔ اور جب اسے آسائش پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا اللہ کی نعمتوں اور اس کے احسان پر اس کا شکر ادا نہیں کرتا پس وہ مصیبت اور سختی کے وقت بےصبری کرتا ہے اور فراخی اور خوشحالی کے وقت مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔
Ayah 70:22

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

مگر نماز گزار

(الا المصلین) ۔ سوائے ان نمازیوں کے جو ان اوصاف سے موصوف ہیں کہ جب ان کو بھلائی حاصل ہوتی ہے تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس کے راستے میں وہ مال خرچ کرتے ہیں جس سے اللہ نے ان کو بہرہ مند کیا ہے۔ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں۔
Ayah 70:23

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو نماز کا التزام رکھتے (اور بلا ناغہ پڑھتے) ہیں

ان کے وصف میں فرمایا ( الذین ھم علی صلاتھم دائمون) ۔ یعنی نماز پر، اس کی تمام شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر امور کے ساتھ اس کے اوقات میں ہمیشگی کرتے ہیں وہ اس شخص کی مانند نہیں ہیں جو نماز نہیں پڑھتا یا جو بےوقت پڑھتا ہے یا وہ نماز پڑھتا ہے مگر ناقص طریقے سے۔
Ayahs 70:24–25

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

(یعنی) مانگنے والے کا اور نہ مانگنے والے کا

(والذین فی اموالھم حق معلوم) ۔ اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے یعنی زکوۃ اور صدقات میں سے (للسائل 9 سائل کے لیے۔ جو سوال کرتا ہے (والمحروم) ۔ اور محروم کے لیے) ۔ یہ وہ مسکین ہے جو لوگوں سے وال نہیں کرتا کہ لوگ اسے عطا کریں اور نہ اس کے حاجت مند ہونے کا پتا چلتا ہے کہ لوگ اس پر صدقہ کریں۔
Ayah 70:26

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

اور جو روز جزا کو سچ سمجھتے ہیں

(والذین یصدقون بیوم الدین) ۔ یعنی جزا وسزا اور قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے جو خبر دی ہے اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انہیں اس پر یقین ہے پس وہ آخرت کے لیے تیاری کررہے ہیں اور اس کے لیے پوری کوشش کرتے ہیں قیامت کے دن کی تصدیق سے رسولوں اور ان کتابوں کی جن کو لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں تصدیق لازم آتی ہے۔
Ayah 70:27

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

اور جو اپنے پروردگار کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں

(والذین ھم من عذاب ربھم مشفقون) ۔ یعنی اپنے رب کے عذاب سے خائف اور ڈرتے ہیں اس لیے وہ ہر اس کام کو چھوڑ دیتے ہیں جو انہیں الہ کے عذاب سے قریب کرتا ہے۔
Ayah 70:28

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

بیشک ان کے پروردگار کا عذاب ہے ہی ایسا کہ اس سے بےخوف نہ ہوا جائے

(ان عذاب ربھم غیر مامون) ۔ بیشک ان کے رب کا عذاب بےخوف ہونے والی چیز نہیں، یہ وہ عذاب ہے جس سے ڈرا جاتا ہے اور بچا جاتا ہے۔
Ayah 70:29

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

(والذین ھم لفروجھم حفظون) ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کے ذریعے سے ایسی مجامعت نہیں کرتے جو حرام قرار دی گئی ہو، یعنی زنا، سدو میت (قوم لوط والا عمل) ۔ بیوی کی دبر میں مجامعت اور حالت حیض وغیرہ میں مجامعت سے بچتے ہیں نیز وہ اپنی شرمگاہوں کی ان لوگوں کے دیکھنے اور چھونے سے حفاظت کرتے ہیں جن کے لیے دیکھنا اور چھونا جائز نہیں۔ وہ ان تمام وسائل محرمہ کو بھی ترک کردیتے ہیں جو فحش کام کے ارتکاب کی دعوت دیتے ہیں۔
Ayah 70:30

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے کہ (ان کے پاس جانے پر) انہیں کچھ ملامت نہیں

(الا علی ازواجھم او ماملکت ایمانھم) ۔ مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے۔ یعنی ان کے پاس جانے میں (فانھم غیر ملومین) ان پر کوئی ملامت نہیں۔ یعنی اس مقام میں جمع کرنے پر، جو کھیتی کا مقام ہے ان پر کوئی ملامت نہیں۔
Ayah 70:31

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

اور جو لوگ ان کے سوا اور کے خواستگار ہوں وہ حد سے نکل جانے والے ہیں

(فمن ابتغی ورآء ذالک) ۔ پس جو بیوی اور لونڈی کے علاوہ تلاش کریں (فاولئک ھم العادون) ۔ تو وہ حد سے نکل جانے والے ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرائی ہے اس سے تجاوز کرکے اس میں پڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ آیت کریمہ نکاح متعہ (اور مروجہ حلالہ) کی حرمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ زوجہ مقصود ہے نہ لونڈی۔
Ayah 70:32

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

اور جو اپنی امانتوں اوراقراروں کا پاس کرتے ہیں

(والذین ھم لامنتھم وعھدھم راعون) ۔ یعنی وہ امانتوں اور عہد کی رعایت رکھنے اور حفاظت کرنے والے ہیں، امانتوں کو ادا کرنے اور عہد کو پورا کرنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں یہ آیت کریمہ ان تمام امانتوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے وہ پوشیدہ امور جن کا انسان مکلف بنایا گیا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور وہ امانتیں جو ان اموال اور اسرار کے بارے میں جو آپس میں بندوں کے مابین ہیں۔ اسی طرح یہ عہد اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے مخلوق سے کیا ہے کیونکہ عہد کے بارے میں بندے سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اس عہد پر قائم رہا اور اسے پورا کیا یاس نے اسے دور پھینک دیا، اس میں خیانت کی اور اس پر قائم نہ رہا ؟۔
Ayah 70:33

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

اور جو اپنی شہادتوں پر قائم رہتے ہیں

(والذین ھم بشھدتھم قائمون) ۔ یعنی وہ کسی کمی بیشی اور کچھ چھپائے بغیر صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں وہ گواہی میں کسی رشتہ کی رعایت رکھتے ہیں نہ کسی دوست وغیرہ کی۔ ان کے نزدیک، اس گواہی کو قئم کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (واقیموا لشھادۃ للہ۔ (الطلاق 2) ۔ اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی کو قائم کرو۔ اور فرمایا (یا ایھا الذین آمنوا کو نو قوامین بالقسط شھداء للہ ولو علی انفسکم اوالوالدین والاقربین۔ النسا 135) ۔ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ، اللہ کے لیے گواہی دو ، خواہ یہ گواہی خود تمہارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
Ayah 70:34

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور جو اپنی نماز کی خبر رکھتے ہیں

(والذین ھم علی صلاتھم یحافظون) ۔ اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، یعنی بہترین طریقے سے اس پر مداومت کے ذریعے سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔
Ayah 70:35

اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ Open ayah 70:35 in the Quran reader

یہی لوگ باغ ہائے بہشت میں عزت و اکرام سے ہونگے

(اولئک) یعنی جو لوگ ان صفات سے موصوف ہیں وہ (فی جنت مکرمون) ۔ جنتوں میں عزت والے ہوں گے، یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اکرام و تکریم اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے نوازے گا جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی اور وہ ان نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل سعادت وخیر کو اوصاف کاملہ، اخلاق فاضلہ سے موصوف کیا ہے، یعنی عبادت بدنیہ، مثلا نماز اور اس پر مداومت، اعمال قلبیہ، مثلا، خشیت الٰہی جو ہر بھلائی کو دعوت دیتی ہے، عبادت مالیہ، عقائد نافعی، اخلاق فاضلہ، اللہ سے معاملہ، اللہ کی مخلوق سے بہترین معاملہ، یعنی ان کے ساتھ انصاف کرنا، ان کے حقوق اور ان کی امانتوں کی حفاظت کرنا، ایسے افعال سے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرکے عفت کامل اختیار کرنا۔
Ayahs 70:36–37

فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ Open ayah 70:36 in the Quran reader

تو ان کافروں کو کیا ہوا ہے کہ تمہاری طرف دوڑے چلے آتے ہیں

عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ Open ayah 70:37 in the Quran reader

(اور) دائیں بائیں سے گروہ گروہ ہو کر (جمع ہوجاتے ہیں)

اللہ تبارک وتعالی کفار کی فریب خوردگی بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے (فمال الذین کفروا قبلک مھطعین) ۔ پس ان کافروں کو کیا ہوا کہ تمہاری طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔ یعنی بڑی سرعت سے (عن الیمین وعن الشمال عزین) ۔ دائیں بائیں سے گروہ گروہ ہو کر۔ یعنی متفرق گروہوں اور مختلف جماعتوں میں سے ہر ایک کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی پر خوش ہے۔
Ayah 70:38

اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍۙ Open ayah 70:38 in the Quran reader

کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ نعمت کے باغ میں داخل کیا جائے گا

(ایطمع کل امری منھم ان یدخل جنۃ نعیم) کیا ان میں سے ہر شخص تو یہ توقع رکھتا ہے کہ نعمت کے باغ میں داخل کیا جائے گا۔ یعنی کسی سبب کی بنا پر وہ توقع رکھتے ہیں جبکہ ان سب کا حال یہ ہے کہ انہوں نے کفر اور رب کائنات کے انکار کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا ؟ بنا بریں فرمایا (کلا) یعنی معاملہ ان کی آرزوں کے مطابق ہوگا نہ وہ اپنی قوت کے ذریعے سے ہر وہ چیز حاصل کرسکیں گے جسے وہ چاہیں گے۔
Ayah 70:39

كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 70:39 in the Quran reader

ہرگز نہیں ہم نے انکو اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں

(انا خلقنھم مما یعلمون) ہم نے انہیں اس چیز سے پیدا کیا جسے وہ جانتے ہیں۔ یعنی ہم نے انہیں اچھل کر گرنے والے پانی سے بنایا جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے۔ پس وہ بہت کمزور ہیں وہ خود اپنے کسی نفع و نقصان کے مالک نہیں وہ موت پر قادر ہیں نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر۔
Ayah 70:40

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ Open ayah 70:40 in the Quran reader

ہمیں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کہ ہم طاقت رکھتے ہیں

یہ اللہ کی طرف سے مشارق ومغارب، سورج، چاند اور ستاروں کی قسم ہے کیونکہ ان میں قیامت پر اور ان کی مانند ایسے لوگ لے آنے میں اس کی قدرت پر بڑی بڑی نشانیاں ہیں جو عین انہی کی طرح ہوں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (وننشئکم فی مالاتعلمون۔ الواقعہ 61) ۔ اور ہم تمہیں ایسے جہان میں پیدا کریں جس کو تم نہیں جانتے۔