Ayah 71:1(71:1) انا ارسلنا نوحا الی القومہ : صاحب تفسیر مظہری (رح) لکھتے ہیں :۔
آغاز کلام میں ان (تحقیقیہ) لانے سے واقعہ کی اہمیت کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔ الی قومہ ظاہر کر رہا ہے کہ آپ کی رسالت صرف آپ کی قوم تک محدود تھی۔ تمام انسانوں کے لئے عمومی نہ تھی۔
ان انذرقو مک میں ان تفسیر یہ ہے کیونکہ ارسال کے اندر قول کا معنی پوشیدہ ہے (ان مفسرہ ہمیشہ اس فعل کے بعد آتا ہے جس میں کہنے کے معنی پائے جائیں خواہ کہنے کے معنے پر اس فعل کی دلالت لفظی ہو یا معنوی) یعنی یہ کہنے کے لئے بھیجا۔ اس لئے ان انذر قول مخفی کی تشریح ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان مصدر یہ ہو اور قلنا محذوف ہو یعنی ہم نے نوح سے کہا کہ اپنی قوم کو عذاب سے ڈراؤ۔
من قبل ان یاتیہم عذاب الیہم : من حرف جر۔ قیل مضاف اگلا جملہ مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور : ان مصدریہ ہے۔ اس سے پہلے کہ ان کو دردناک عذاب پہنچے۔
Ayah 71:2(71:2) قال یقوم انی لکم نذیر مبین : قال یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) نے خدا وند تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اپنی قوم سے مخاطب ہوکر کہا۔ لکم میں لام تقویت کے لئے ہے یا تعلیل کے لئے ۔ ای لاجل نفعکم (تمہارے فائدہ کے لئے)
یقوم اصل میں قومی تھا۔ ی کو حذف کیا گیا ہے نذیر مبین موصوف اور صفت۔ صاف صاف کھول کھول کر ڈر سنانے والا۔
Ayah 71:3(71:3) ان اعبدوا اللہ واتقوہ ان مصدریہ۔ جملہ متعلقہ نذیر ہے یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) نے نذیر کی حیثیت سے اپنی قوم سے کہا کہ :۔ (1) اللہ کی عبادت کرو۔ (2) اور اس سے ڈرو۔
اتقوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ اتقاء (افتعال) مصدر سے۔ تم ڈرو۔ تم پرہیزگاری اختیار کرو) ۔
(3) اور میری اطاعت کرو۔ یعنی میں جو توحید اور طاعت الٰہی کی بابت تمہیں حکم دے رہا ہوں اس کو مانو۔
اطیعون امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اطاعۃ (افعال) مصدر سے ن وقایہ ہے اور ی ضمیر واحد متکلم محذوف ہے۔
Ayah 71:4(71:4) یغفر لکم من ذنوبکم ویؤخرکم الی اجل مسمی۔ جواب امر میں ہے متذکرہ بالا تینوں احکام کے جواب ہیں۔
یغفر مضارع مجزوم (بوجہ جواب امر) واحد مذکر غائب۔ مغفرۃ (باب ضرب) مصدر۔ وہ تمہیں بخش دے گا۔
(1) من تبعیضیہ بھی ہوسکتا ہے، وہ تمہارے بعض گناہ معاف کر دے گا۔ یعنی دو گناہ جن کا تعلق اسکی اپنی ذات سے ہے عوام الناس نہیں
(2) یا من زائدہ ہے وہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔
ویؤخرکم۔ جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ یؤخر مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ تاخیر (تفعیل) مصدر سے۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تمہیں مہلت دے گا۔
اجل مسمی موصوف و صفت۔ اسم مفعول واحد مذکر تسمیۃ (تفعیل) مصدر سے مدت مقررہ۔ معینہ۔ تعین کیا ہوا۔
ترجمہ ہوگا :۔ اور (موت کے) وقت مقررہ تک تم کو مہلت عطا کرے گا۔
ان اجل اللہ اذاجاء لایؤخر : حقیقت یہ ہے کہ خدا کا مقرر کیا ہوا وقف جب آجانا ہے تو مؤخر نہیں کیا جاسکتا۔
ان حرف مشبہ بالفعل اجل اللہ مضاف مضاف الیہ۔ اجل منصوب بوجہ عمل ان۔
لایؤخر : فعل نہی مضارع مجہول صیغہ واحد مذکر غائب۔ تاخیر مصدر سے۔ اس میں تاخیر نہیں کی جائے گی۔
لو کتنم تعلمون ۔ کاش تم (یہ حقیقت) جانتے ہوتے۔
Ayah 71:5(71:5) قال۔ یہاں کلام میں اختصار کیا گیا ہے پورا کلام یوں تھا کہ :۔
نوح (علیہ السلام) نے تبلیغ کی۔ قوم نے تکذیب کی، نوح (علیہ السلام) برابر دعوت دیتے رہے مگر قوم انکار پر اڑی رہی۔ آخر نوح (علیہ السلام) نے کہا (تفسیر مظہری)
فائدہ : صاحب ضیاء القرآن یون رقمطراز ہیں :۔
حضرت نوح (علیہ السلام) منصب رسالت پر فائز ہونے کے بعد اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف ہوگئے۔ آپ کو برا بھلا کہا جاتا۔ طعن و تشنیع کے تیر برسائے جاتے، افتراء و بہتان کے طوفان اٹھائے جاتے، حتی کہ آپ کو مار مار کر لہولہان کردیا جاتا۔ آپ پہروں بیہوش پڑے رہتے۔ آپ کو کسی مکان میں بند کردیا جاتا۔
لیکن اس جو روبنفا کے باوجود یہ اللہ کا پیغمبر ان ناہنجاروں کی اصلاح میں لگا رہا۔ اور بارگاہ الٰہی میں ان کے لئے دعائیں مانگتا رہا۔ اور شب روز ان کو تبلیغ بھی کرتے رہے۔ عام اجتماعوں میں بلند آواز سے انہیں وعظ فرماتے اور جب اپنی خلوت گاہوں میں بیٹھے ہوتے تو آپ وہاں جاکر رازدارانہ طور پر اور چپکے چپکے ان کو گمراہیاں چھوڑنے کی تلقین کرتے اور یہ سلسلہ جلدی رہا۔ سالوں نہیں بلکہ تو صدیاں بیت گئیں۔ اور ان میں حق پذیری کے آثار نمایاں نہ ہوئے۔ بلکہ ان کی ہٹ دھرمی اور تعصب میں روز بروز اضافہ ہوتا ہی چلا گیا۔
جب آپ کو ان کے ایمان لانے کی امید نہ رہی تو آپ نے اپنے پروردگار کے حضور میں اپنی روداد الم بیان کرنی شروع کی۔
عرض کرتے ہیں الٰہی ! ان کو سمجھانے میں میں نے دن رات ایک کردیا کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ لیکن جتنا میں ان کو حق کی طرف کھینچتا ہوں اتنا ہی وہ اس سے دور بھاگتے ہیں اور ان کی نفرت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
رب اصل میں یاربی تھا۔ شروع سے حرف نداء اور آخر سے ی ضمیر واحد متکلم حذف ہوکر رب رہ گیا۔
لیلا ونھارا۔ دونوں دعوت کے ظرف ہیں۔ رات اور دن۔
Ayah 71:6(71:6) فلم یردھم دعائی الافرارا۔بمعنی لیکن : لم یرد مضارع نفی جحد بلم۔ صیغہ واحد مذکر غائب۔ زیادۃ (باب ضرب) مصدر ۔ بمعنی بڑھانا ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب دعاء ی مضاف مضاف الیہ مل کر فاعل : الا فرارا استثناء مفرغ (جس کا مستثنیٰ منہ مذکور نہ ہو) فرارا مفعول ثانی دعوت کا۔
ترجمہ ہوگا :۔ لیکن میری دعوت نے ان میں زیادتی نہ کی مگر فرار کی، یعنی میری دعوت نے ان پر اور تو کوئی اثر نہ کیا سوائے اس کے کہ وہ مجھ سے دور بھاگتے رہے۔
Ayah 71:7(71:7) وانی کلما دعوتھم لتغفرلہم : واؤ عاطفہ ہے کلما یہ لفظ مرکب ہے کل اور ما سے۔ اکثر کلما کے بعد فعل ماضی آتا ہے۔ کلما جب بھی، جس وقت بھی۔
لتغفر میں لام سببیہ ہے۔ بمعنی تاکہ : تغفر۔ مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) واحد مذکر حاضر۔ غفر (باب ضرب) مصدر سے۔ لہم ان کا۔ ترجمہ :۔ تاکہ تو ان کو بخش دے۔ یا معاف کر دے۔
(1) جعلوا اصابعہم فی اذانھم (تو لگے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونسنے)
(2) واستغشو اثیابھم (اور لگے اپنے اوپر کپڑوں کو لپیٹنے)
(3) واصروا۔ (اور ضد کرنے لگے)
(4) واستکبروا استکبارا۔ (اور بڑا گھمنڈ کرنے لگے)
یہ چاروں جملے کلما دعوتھم کے جواب میں ہیں۔
اصابعھم : مضاف مضاف الیہ۔ مفعول جعلوا کا۔ اصابع جمع اصبع کی اپنی انگلیاں۔
استغشوا۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب استغشاء (استفعال) مصدر بمعنی اپنے اوپر پردہ ڈال لینا۔ اپنے آپ کو کپڑے میں لپیٹ لینا۔ غشو، غشی مادہ۔ غشیہ غشاوۃ وغشائ : اس کے پاس اس چیز کی طرح آیا جو اسے چھپائے۔ غشاوۃ (اسم) پردہ جس سے کوئی چیز ڈھانپ دی جائے۔ جیسے کہ قرآن مجید میں ہے وعلی ابصارھم غشاوۃ (2:7) اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ اور وتغشی وجوہہم النار (14:5) اور ان کے چہروں کو آگ لپٹ رہی ہوگی۔
اصروا ماضی جمع مذکر غائب اصرار (افعال) مصدر۔ انہوں نے ضد کی ۔ انہوں نے اصرار کیا۔
استکبروا ماضی جمع مذکر غائب استکبار (استفعال) مصدر بمعنی گھمنڈ کرنا۔ تکبر کرنا استکبارا مفعول مطلق تاکید کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اور بڑا گھمنڈ کرنے لگے۔
Ayah 71:8(71:8) ثم حرف عطف ہے، ماقبل سے بعد کے متأخر ہونے پر دلالت کرتا ہے خواہ یہ متاخر ہونا وقتی لحاظ سے ہو (تراخی فی الوقت) خواہ رتبہ (ترتیب) کے لحاظ سے (التراخی فی الرتبہ) ۔
بصورت اول اس کے معنی ہوں گے پھر، اس کے بعد ، صورت دوم میں اس سے بھی بڑھ کر معنی ہوں گے۔
صورت اول کی مثال :۔ وکنتم امواتا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحیکم ثم الیہ ترجعون (2:28) اور تم بےجان تھے تو اس نے تم کو جان بخشی۔ پھر وہی تم کو مارتا ہے پھر وہی تم کو زندہ کرے گا۔ پھر اسی کی طرف تم لوٹ جاؤ گے۔
صورت دوم کی مثال :۔ حضرت علی کا شعر ہے :َ
فعار ثم عار ثم عار - شقاء المرء من اکل الطعام۔
(شرم کی بات ہے بہت شرم کی بات ہے بہت ہی شرم کی بات ہے : کہ آدمی کھانا کھا کر بیمار ہوجائے) ۔
صاحب تفسیر مظہری لکھتے ہیں :۔ لفظ ثم کا اس جگہ استعمال دعوت کے مختلف طریقوں پر دلالت کرتا ہے کیونکہ سری دعوت سے جہری دعوت زیادہ سخت ہوتی ہے۔ اور صرف سری یا صرف جہری دعوت سے سری اور جہری دعوت زیادہ سخت ہوتی ہے۔ اس طرح ہر (ترتیبی) صورت اول صورت سے بعد کو آتی ہے۔
جھارا : جھر یجھر (باب فتح) کا مصدر سے ۔ پکارنا۔ بلند آواز کرنا۔ کھلم کھلا برملا۔ مصدر۔ موضع حال میں ہے ای مجاھرا
ترجمہ ہوگا :۔ پھر میں نے ان کو کھلم کھلا بھی بلایا۔
Ayah 71:9(71:9) اعلنت۔ ماضی واحد متکلم اعلان (افعال) مصدر۔ میں نے کھلم کھلا کہا۔ میں نے اعلانیہ کہا۔
اسررت : ماضی واحد متکلم۔ اسرار (افعال) مصدر۔ میں نے پوشیدہ طور پر کہا اسرار مفعول مطلق تاکید کے لئے آیا ہے۔ اور ان کو بہت چپکے چپکے بھی کہا۔
Ayah 71:10(71:10) فقلت :حرف عطف ہے۔ سو میں نے (ان سے) کہا۔
استغفروا ربکم : امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر استغفار (استفعال) مصدر۔ تم مغفرت مانگو، تم بخشش چاہو۔
ربکم (مضاف مضاف الیہ) اپنے رب سے۔
غفارا : غفران (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد۔ مبالغہ کا صیغہ بہت بخشنے والا۔ منصوب بوجہ کان کی خبر کے ہے۔ کیونکہ وہ بہت بڑا بخشنے والا ہے۔
Ayah 71:11(71:11) یرسل السماء علیکم مدرارا : یرسل مضارع مجزوم (بوجہ جواب امر) وصل کی وجہ سے مکسور ہے۔ ارسال (افعال) مصدر سے۔ وہ بھیجے گا۔ السماء ابر، بارش، آسمان، یہاں بمعنی ابر آیا ہے۔ یرسل کا مفعول ہے۔
مدرارا : درودرور۔ (باب ضرب و نصر) مصدر سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت آنسو بہانے والی آنکھ۔ بہت بارش برسانے والا بادل۔ مدرارا حال ہے السماء سے لہذا منصوب ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ تاکہ تم پر بہت برسنے والا بادل بھیجے۔
Ayah 71:12(71:12) ویمددکم ب اموال وبنین۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔
یمدد مضارع مجزوم (بوجہ جواب امر) واحد مذکر غائب ۔ امداد (افعال) مصدر وہ بڑھائے گا۔ وہ مدد کرے گا۔
بنین : ابن کی جمع بحالت جر۔ بیٹے۔ مطلب یہ کہ تمہارے مال و اولاد کو بہت کودیگا۔
ویجعل لکم جنت اور تمہیں باغات دے گا۔ یجعل مضارع مجزوم بوجہ جواب امر۔ واحد مذکر غائب جعل (باب فتح) مصدر۔ کر دے گا۔ بنا دے گا۔
Ayah 71:13(71:13) مالکم لا ترجون اللہ : ما استفہامیہ، لام حرف جر۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ نیز ملاحظہ ہو 70:35 ۔
لاترجون مضارع منفی جمع مذکر حاضر۔ رجاء (باب نصر) مصدر۔ تم امید نہیں رکھتے ہو مفسرین کے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ مثلا
(1) رجاء بمعنی اعتقاد ہے۔ یعنی تم اپنے اعتقاد میں اللہ کی عظمت کو نہیں جانتے۔ (ابن عباس مجاہد)
(2) رجاء بمعنی خوف ہے۔ یعنی کیا تم اللہ کی عظمت سے نہیں ڈرتے۔ (کلبی)
(3) کای تم اللہ کا حق نہیں پہچانتے اور اس کی نعمت کا شکر نہیں کرتے۔ (حسن بصری)
(4) تم کو اپنی عبادت میں اس بات کی امید نہیں کہ ہم جو خدا کی تعظیم کرتے ہیں خدا اس کا ثواب بھی دے گا۔ (ابن کیسان)
(5) کیا اپنی عبادت میں تم کو اس امر کی امید نہیں ہے کہ خدا تمہاری عبادت کی قدردانی کریگا ۔
(6) تم کو کیا ہوگیا ہے کہ تم کیوں نہیں رکھتے امید اللہ سے بڑائی کی۔ (شاہ عبد القادر دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)
وقارا۔ اسم ومصدر۔ رزت و عظمت۔ توقیر و تعظیم کرنا۔
Ayah 71:14(71:14) وقد خلقکم اطوارا۔ جملہ حال ہے لکم کی ضمیر جمع مذکر حاضر سے اور اطوار حال ہے۔ خلقکم کی ضمیر جمع مذکر حاضر سے
ترجمہ ہوگا :۔ حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح کا پیدا کیا ہے۔
اطوارا طور کی جمع ہے۔ طرح طرح ۔ طرح طرح کی شکل کے بھی ہوسکتے ہیں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اول توحید کی دعوت دی اس کے بعد اس کے ثبوت میں چند دلائل دئیے۔ جن میں سے ایک یہ کہ :۔
وقد خلقکم اطوار۔ کہ اس نے تم کو طرح سے بنایا۔ کہ تم اول نطفہ تھے پھر علقہ ہوئے پھر مضغہ ہوئے۔ پھر انسان بنے۔
یا یہ کہ کسی کو امیر کسی کو غریب کسی کو خوبصورت کسی کو بدصورت بنایا۔ پھر سب کا ڈھانچہ ایک ہے مگر صورتیں جدا جدا ۔ یہ نہ مادہ بےشعور کا کام ہے نہ طبیعت کی کاریگری کا آخر کوئی علم وخبیر ہے کہ میں نے یہ بڑا کام کیا ہے یہ بڑی مستحکم دلیل ہے جو انسان ہی سے متعلق ہے
مفسرین کے اس بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ مثلاً
(1) اطوار یعنی نطفہ علقہ ثم مضغہ ای طور بعد طور الی اتمام الخلق (ابن عباس) ۔ یعنی پہلے نطفہ کی حالت پھر علقہ (جمے ہوئے خون کا ٹکڑا) پھر مضغہ (گوشت کا لوتھڑا) یعنی کئی مرحلوں سے گزار کر مکمل صورت میں پیدا کیا۔
(2) وقیل اطوار ، صبیانا ثم شبانا، ثم شیوخا و ضعفاء یعنی پہلے بچے کی حالت ، پھر جوانی پھر بڑھاپا اور ضعیف العمری۔
(3) وقیل اطوارا، ای انواعا صحیحا وسقیما وبصیرا او ضریرا و غنیا وفقیرا۔ یعنی مختلف انواع و اقسام کی صورت میں۔ کوئی صحت مند۔ کوئی بیمار، کوئی بینا کوئی نابینا۔ کوئی غنی کوئی فقیر۔ (قرطبی)
Ayah 71:15(71:15) الم تروا۔ الف استفہامیہ لم تروا مضارع نفی جحد بلم۔ صیغہ جمع مذکر حاضر کیا تم نے نہیں دیکھا۔ استفہام حقیقی نہیں ہے مجازی بمعنی تعجب ہے۔
کیف حرف استفہام ہے بمعنی کیسے۔ کیونکر، کس طرح۔
طباقا : تہ بہ تہ۔ کئی پرت ہونا۔ اوپر تلے۔ منزل نہ منزل۔ طباقا بوجہ حال ہونے کے منصوب ہے بمعنی ذات طباق تھا۔ ذات کو حذف کرکے طباقا قائم مقام کردیا۔
ترجمہ ہوگا :۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے سات آسمان اوپر تلے کیسے بنائے ہیں۔
Ayah 71:16(71:16) فیہن سراجا : ھن ضمیر جمع مؤنث غائب کا مرجع السموت ہے۔
سراجا۔ چراغ، دیا، مجازا ہر روشن چیز کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ آفتاب کو یہاں سراجا کہا گیا ہے۔
نور و سراجا۔ القمر اور الشمس سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔
Ayah 71:17(71:17) واللہ انبتکم من الارض نباتا : انبت ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ انبات (افعال) مصدر۔ بمعنی اگانا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ نباتا مفعول مطلق۔ اسم منصوب ہے۔
یہاں انبتکم (باب افعال) کی رعایت سے موضع مصدر میں لایا گیا ہے ای بمعنی انباتا۔ (الخازن)
ترجمہ ہوگا :۔ اور اللہ نے تم کو زمین سے اگایا۔
فائدہ (1): اگانے سے مراد سے پیدا کرنا۔ روئیدگی کا لفظ پیدائش کے لفظ سے زیادہ حدوث (کسی ایسی چیز کا وجود میں آنا جو پہلے نہ ہو) کے مفہوم کو ظاہر کر رہا ہے اس لئے انشاکم کی بجائے انبتکم فرمایا ہے ۔ (تفسیر مظہری)
فائدہ (2): انبات من الرض (زمین سے اگایا جانا) دو طرح سے ہے :۔
(1) اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا لہٰذا آپ کی نسل بھی ایک طرح سے مٹی ہی سے پیدا کی گئی۔
(2) انسان نطفہ منی سے پیدا ہوتا ہے اور منی زمین کی غذاؤں سے بنتی ہے اور وہ غزائیں زمین سے اگتی ہیں۔ لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ انسان کو خاک سے اگایا گیا (تفسیر حقانی وغیرہ)
فائدہ (3): ” اللہ نے تم کو اگایا “ میں ضمیر پر اکتفاء کرنے کے بجائے (لفظ اللہ) اسم ظاہر پر فرمایا کیونکہ محبوب کا نام لذت آفریں ہوتا ہے (تفسیر مظہری) ۔
Ayah 71:18(71:18) ثم یعیدکم : ثم تراخی وقت کے لئے ہے یعنی پھر۔ اس کے بعد۔ یعید مضارع واحد مذکر غائب اعادۃ (افعال) بمعنی لوٹا دینا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو پھر اسی میں لوٹا دے گا۔ فیہا میں ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الارض ہے۔
ویخرجکم اخراجا۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ یخرج مضارع واحد مذکر غائب اخراج (افعال) مصدر۔ باہر نکالنا۔ اخراجا مفعول مطلق تاکید کے لئے اور پھر تم کو باہر نکال کھڑا کریگا۔
فائدہ : پہلے انبتکم کی تاکید نباتا سے کی تھی اب یخرجکم کی تاکید کے لئے اخراجا فرمایا۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ تخلیق اول کی طرح حشر بھی یقینی ہے۔
Ayah 71:19(71:19) بساطا : الارض سے حال ہے (اور اللہ ہی نے زمین کو تمہارے لئے بصورت بستر بنایا) بساطا اسم ہے۔ بچھونا۔ فرش۔ ہر پھیلی ہوئی چیز کو بساش کہتے ہیں ۔ چناچہ وسیع زمین کا نام بھی بساط ہے۔ بسط یبسط (باب نصر) بسط مصدر۔ بمعنی کشادہ کرنا ۔
Ayah 71:20(71:20) لتسکلوا لام تعلیل کا ہے تاکہ۔ تسلکوا مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر، منصوب بوجہ عمل لام سلوک (باب نصر) مصدر بمعنی چلنا پھرنا۔ داخل ہونا منھا ای من الارض۔ سبلا مفعول فیہ۔ سبیل کی جمع بمعنی راستے۔ موصوف، فجاجا صفت۔ بمعنی کھلا۔ کشادہ کرنا۔ ترجمہ ہوگا :۔ تاکہ تم اس کے کھلے اور کشادہ راستوں میں چلو پھرو۔
Ayah 71:21(71:21) رب : ای یا ربی۔
انھم : ہم ضمیر جمع مذکر غائب حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے افراد کی طرف راجح ہے۔
عصونی : عصوا ماضی جمع مذکر غائب معصیۃ وعصیان (باب ضرب) مصدر سے انہوں نے نافرمانی کی۔ انہوں نے اطاعت نہ کی، انہوں نے کہنا نہ مانا۔ عصوا اصل میں عصیوا تھا۔ ی متحرک ماقبل مفتوح ی کو الف سے بدلا۔ اجتماع ساکنین کی وجہ سے الف کر گرا دیا گیا۔ عصوا ہوگیا۔ ن وقایہ اور ی ضمیر واحد متکلم انہوں نے میرا کہنا نہ مانا۔
واتبعوا من لم یردہ مالہ وولدہ الاخسارا : واؤ عاطفہ، اتبعوا فعل بافاعل من موصولہ، مفعول اتبعوا کا۔ لم یزدہ ۔۔ الخ صلہ۔ اتبعوا ماضی جمع مذکر غائب اتباع (افتعال) مصدر۔ انہوں نے اتباع کی۔ انہوں نے کہا مانا۔
لم یزدہ : مضارع نفی جحد بلم واحد مذکر غائب زیادۃ (باب ضرب) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب اس نے اس کو فائدہ نہ دیا۔ الا حرف استثناء خسارا مستثنیٰ ۔ گھاٹا۔ ٹوٹا۔ ضمیر واحد مذکر غائب مذکور ہے مگر مراد قوم کے سارے رؤسا ہیں۔
ترجمہ ہوگا :۔ اور انہوں نے (میری قوم نے) پیروی کی یا کہا مانا ان لوگوں کا جن کے مال اور اولاد نے ان کا کچھ نہ بڑھایا (یعنی کچھ نفع نہ دیا) سوائے ٹوٹے کے۔
مطلب یہ کہ چاہیے تو یہ تھا کہ مال کی فراوانی اور اولاد کی کثرت پر وہ محسن اعظم (یعنی اللہ تعالیٰ ) کا شکر کرتے اور اپنے گناہوں پر نادم ہوکر اس کے رسول کی اطاعت کرتے اور برائیوں سے بچتے نیکیاں بجالاتے۔ اس طرح آخرت کے لئے نفع کماتے۔ لیکن ہوا یہ کہ وہ اور گھمنڈ اور تکبر میں ڈوب گئے۔ مال و اولاد کو اپنی کوششوں کا ثمرہ خیال کرنے لگے اور اس کے رسول کی مخالفت میں اور تیز ہوگئے اور اس طرح بجائے نفع کے الٹا اخروی خسارے اور محرومی کا سودا اپنے پلے باندھ لیا۔ ساری قوم بھی بجائے رسول کے اتباع کرنے کے ایسے مال دار رئیسوں کے پیچھے لگ گئی۔
Ayah 71:22(71:22) ومکروا مکرا کبارا۔ جملہ کا عطف من یزد پر ہے۔ من گو لفظا مفرد ہے لیکن معنی کے لحاظ سے جمع ہے یا اس کا عطف اتبعوا پر ہے۔
مکروا کی ضمیر فاعل کا مرجع رؤسا قوم نوح ہیں (جلالین) یا سرداروں اور نچلے طبقے کے منکرین ہر دو گروہوں کے لئے ہے۔ سرداروں کی طرف سے مکریہ تھا کہ وہ لوگوں کو حضرت نوح (علیہ السلام) کو دکھ پہنچانے اور کفر کرنے پر ابھارتے تھے اور نچلے طبقے کا مکریہ تھا کہ وہ حضرت نوح کو دکھ پہنچاتے تھے اور طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے ۔ یہی ان کی تدبیر تھی جس کو مکر کہا گیا ہے۔
مکروا ماضی جمع مذکر غائب مکر (باب نصر) مصدر سے۔ انہوں نے چال چلی انہوں نے خفیہ تدبیر کی۔ مصدر بمعنی دھوکہ دینا۔ فریب کرنا۔ کسی کو سزا دینے کی خفیہ تدبیر کرنا۔
مکروا کبارا : مکرا مفعول مطلق، فعل کی تاکید کے لئے آیا ہے۔ کبار کبر سے مبالغہ کا صیغہ ۔ بہت بڑا۔
ترجمہ : اور وہ بہت بڑی چالیں چلے۔
Ayah 71:23(71:23) وقالوا : ای وقال الرؤسائ۔ یعنی انہوں نے آپس میں کہا۔
لاتذرون : فعل نہی تاکید بانون ثقیلہ۔ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ (باب فتح وسمع) مصدر۔ تم ہرگز نہ چھوڑیو۔ یعنی ان کی پوجا کو ہرگز نہ چھوڑنا۔ (نیز ملاحظہ ہو 70:42)
الہتکم : مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے معبود۔ اپنے معبودوں کو۔ الہ کی جمع ولا تذرن ودا ولا سواعا ولا یغوث ویعروق ونسرا۔ اور ہرگز نہ چھوڑو ود کو اور نہ سواع کو اور نہ یغوث کو اور یعوق کو اور نہ نسر کو۔ (بھی ہرگز نہ چھوڑنا)
ود، سواع، یغوث، یعوق وغیرہ حضرت نوح کی قوم کے چند بتوں کے نام تھے۔ جو کہ دوسرے بتوں سے ممتاز تھے۔ ان کی اہمیت ظاہر کرنے کے لئے خصوصیت کے ساتھ نام لئے ورنہ الھتکم میں بطور عموم ان کا ذکر بھی آگیا تھا۔
Ayah 71:24(71:24) وقدا ضلوا کثیرا۔ واؤ عاطفہ ، قد ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے اور فعل کو زمانہ حال کے قریب کردیتا ہے۔ اضلوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب اضلال (افعال) مصدر سے۔ انہوں نے گمراہ کیا۔ انہوں نے بہکا دیا۔ اس میں ضمیر فاعل قوم نوح کے سرداروں کی طرف راجع ہے یا بتوں کی طرف راجع ہے بہکانے کی نسبت بتوں کی طرف مجازی ہے بت گمراہی کا سبب ہیں وہ گمراہ نہیں کرتے۔ ان کے ذریعہ شیطان نے گمراہ کیا تھا۔ جیسا کہ آیت رب انھن اضللن کثیرا من الناس (14:36) میں گمراہ کرنے کی نسبت بتوں کی طرف مجازی ہے۔
کثیرا : ای خلقا کثیرا۔ ترجمہ ہوگا :۔
اور (اے پروردگار) انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا ہے جملہ وقد اضلوا کثیرا حالیہ ہے اور اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے
ولاتزد الظالمین الا ضلال : واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف انھم عصوفی پر ہے یا جملہ قد اضلوا کثیرا پر ہے۔
لا تزد فعل نہی واحد مذکر حاضر زیادۃ (باب ضرب) مصدر تو زیادہ نہ کر۔ تو مت بڑھا الظلمین ظلم کرنے والے۔ منصوب بوجہ مفعول ہونے کے۔ الاضلال مستثنیٰ مفرغ۔ ضلال گمراہی، ہلاکت۔
ترجمہ :۔ اور تو نہ بڑھا ظالموں کو مگر گمراہی میں (یعنی ان ظالموں کی گمراہی کو اور بڑھا دے ، تاکہ جلدی عذاب کا مزہ چکھیں) ۔
فائدہ : حضرت نوح (علیہ السلام) کی یہ بددعا کسی بےصبری کا نتیجہ نہ تھی۔ بلکہ یہ اس وقت آپ کی زبان مبارک سے نکلی تھی جب صدیوں تک تبلیغ کا حق ادا کرنے کے بعد وہ اپنی قوم سے مایوس ہوچکے تھے اور وحی الٰہی خود ظالموں کے قبول اسلام نہ کرنے سے مطلق کرچکی تھی سورة ہود میں ارشاد الٰہی ہے :۔
واوحی الی نوح انہ لن یؤمن من قومک الا من قدا من فلا تبتئس بما کانوا یفعلون ۔ (11:34) اور نوح علیہ السلام) کی طرف وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں جو لوگ ایمان لاچکے (لاچکے) ان کے سوا اور کوئی ایمان نہ لائے گا۔ تو جو یہ کام کر رہے ہیں ان کی وجہ سے غم نہ کھاؤ۔
ایسے ہی حالات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی فرعون اور قوم فرعون کے لئے یہ بددعا کی تھی۔ وقال موسیٰ ربنا انک اتیت فرعون وملاہ زینۃ و امنو الا فی الحیوۃ الدنیا ربنا لیضلوا عن سبیلک ربنا اطمس علی اموالہم واشدد علی قلوبھم فلا یؤمنوا حتی یروا العذاب الالیم (11:88) اور (حضررت) موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں (بہت سا) سازوبرگ اور مال و زر دے رکھا ہے اے پروردگار اس کا مال یہ ہے کہ تیرے رستے سے گمراہ کردیں۔ اے پروردگار ان کے مالوں کو برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا :۔
قال قد اجیبت دعوتکما فاستقیما ولا تتبعن سبیل الذین لا یعلمون (11:89) (خدا نے) فرمایا : ۔ کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی ہے تو تم ثابت قدم رہنا اور بےعقلوں کے راستے پر نہ چلنا۔
فائدہ : (2): بعض نے ضلال کے معنی ہلاکت کے لئے ہیں جیسے آیت ان المجرمین فی ضلل وسعر (54:47) میں ضلال سے تباہی مراد ہے۔
فائدہ : (3) صاحب تفسیر حقانی نے اس آیت کا ترجمہ کیا ہے (وہ بت ستمگاروں کو یعنی اپنے پرستاروں کو تباہی کے سوا اور کچھ نہیں دیا کرتے
Ayah 71:25(71:25) مما خطیئتھم اغرقوا : مما ، من سببیہ اور ما زائدہ سے۔ مرکب ہے ما زائدہ تاکید کے لئے لایا گیا ہے خطیئات مضاف ہم مضاف الیہ ۔ جمع ہے خطیئۃ کی بمعنی گناہ، تقصیر، خطاء ھم ضمیر جمع مذکر غائب ان کی خطائیں۔ ان کی تقصیریں۔ ان کے گناہ
اغرقوا : ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ اغرقوا۔ اغراق (افعال) مصدر سے وہ غرق کئے گئے وہ ڈبو دئیے گئے۔ بوجہ اپنی خطاؤں کے ڈبو دئیے گئے وہ۔
فادخلوا ناراعاطفہ ہے۔ تفسیر ضیاء القرآن میں ہے :۔
جہاں ترتیب اور تعقیب بتانا مقصود ہو یعنی یہ کام پہلے کام کے بععد ہوا اور اس کے بعد فورا ہوا۔ تو یہاستعمال ہوتی ہے۔ یعنی ان کے غرق ہونے کے بعد۔
فادخلوا نارا۔ کہ انہیں معا آگ میں ڈال دیا گیا۔ اسی سے اہلسنت عذاب قبر پر استدلال کرتے ہیں ۔۔ الخ۔
علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) تعالیٰ رقمطراز ہیں :۔ ہم کہتے ہیں یہ توجیہات مجازی ہیں اصل کلام میں حقیقت ہے۔ خواہ مخواہ حقیقی معنی کو چھوڑ کر مجازی کی طرف رجوع کرنا جائز نہیں۔ اس کے علاوہ بیشمار احادیث ہیں کہ عذاب قبر کا ثبوت ملتا ہے اجماع سلف صالحین بھی اسی پر ہے ۔۔ اس کے بعد آپ نے چند احادیث نقل فرمائی ہیں۔
نارا مفعول فیہ آگ میں (یعنی عذاب قبر میں) ۔
فلم یجدوا :عاطفہ ہے لم یجدوا فعل مضارع نفی جحد بلم جمع مذکر غائب۔ انہوں نے نہ پایا۔ لہم اپنے لئے۔
لم یجدوا میں ضمیر فاعل اور لہم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب قوم نوح کے لئے ہے۔
انصارا منصوب بوجہ مفعول ہونے لم یجدوا کے۔ پھر انہوں نے اپنے لئے کوئی مددگار اللہ کے سوا نہ پایا۔ (کہ ان کو اللہ کے عذاب سے بچائے) ۔ انصار جمع نصیر اور ناصر کی۔ قرآن مجید میں جہاں مہاجرین و انصار کا ذکر ہے وہاں انصار سے مراد انصار مدینہ ہیں۔ جو نصرت نبی کریم ﷺ کی بدولت اسی لقب سے سرفراز کئے گئے۔
Ayah 71:26(71:26) رب : ای یا ربی۔ لاتذر۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر، نہ چھوڑ، نیز ملاحظہ ہو : 70:42 ۔
علی الارض۔ میں الارض کا لاف لام عہدی ہے مخصوص زمین یعنی وہ زمین جس میں قوم نوح آباد تھی۔ مطلب یہ کہ اس قوم کی زمین پر کسی کافر کو چلتا پھرتا نہ چھوڑ۔
من الکفرین۔ میں من تبعیضیہ نہیں ہے بیانہ ہے بیان جنس کے لئے ہے جیسے اور جگہ آیا ہے فاجتبوا الرحمن من الاوثان (22:30) تو بتوں کی پلیدی سے بچو۔ یہاں بھی آیت زیر مطالعہ میں من الکفرین سے کافروں کی جنس مراد ہے اور کافروں سے مراد بھی وہ کافر مراد ہیں جن کی طرف حضرت نوح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے۔
دیارا۔ بسنے والا۔ گھومنے اور چلنے پھرنے والا۔
دور (باب نصر) مصدر سے بمعنی گھومنا۔ چلنا پھرنا۔ دیار دور سے فیعال کے وزن پر اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے اصل دیوار تھا واؤ کی حرکت ماقبل کو دی پھر واؤ کو ی سے بدل دیا۔ ی کو ی میں مدغم کیا۔ دیار ہوگیا۔ گھومنے، چلنے پھرنے والا۔
دیار ان اسماء میں سے ہے جو فعل منفی کے بعد آکر عموم کا فائدہ دیتے ہیں یعنی کسی ایک کافر کو بھی زمین پر چلتا پھرتا نہ چھوڑ (ابن کثیر)
Ayah 71:27(71:27) انک ان تذرھم یضلو اعبادک ۔۔ الخ یہ بددعا کی وجہ ہے۔ ان تذرہم جملہ شرطیہ ہے یضلوا عبادک جواب شرط۔ ان شرطیہ بمعنی اگر۔ تذر مضارع مجزوم بوجہ عمل ان۔ صیغہ واحد مذکر حاضر۔ وذر (باب سمع، فتح) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اگر تو نے ان کو چھوڑ دیا۔ (نیز ملاحظ ہو 70:42) یضلوا مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) جمع مذکر غائب اضلال (افعال) مصدر۔ وہ بھٹکائیں گے وہ بہکا دیں گے۔ یا جھٹکاتے رہیں گے۔ بہکاتے رہیں گے۔ عبادک مضاف مضاف الیہ۔ تیرے بندے، تیرے بندوں کو۔
ولا یلدوا الا فاجرا کفارا۔ جملہ کا عطف جملہ سابقہ ہے واؤ عاطفہ ہے۔ لائلدوا مضارع منفی (مجزوم) جمع مذکر غائب ولادۃ (باب ضرب) مصدر۔ وہ نہیں جنیں گے۔ وہ نہیں پیدا کریں گے۔
الا حرف استثناء فاجرا مستثنیٰ فجور (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ فاسق و فاجرا اور بڑی ناشکر گزار ہوگی۔
Ayah 71:28(71:28) رب : ای یا ربی اے میرے پروردگار۔
اغفر : امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ غفر (باب ضرب) مصدر تو معاف کردے۔ تو بخش دے ۔ لی مجھے۔
ولوالدی اور میرے والدین کو۔ مضاف مضاف الیہ۔ والذین تثنیہ ی ضمیر واحد متکلم اضافت کی وجہ سے نون گرا کر ی کو ی میں ادغام کردیا۔ والدی ہوگیا۔ جیسے یدی میرے دونوں ہاتھ۔ والدی میرے دونوں والدین۔ یعنی ماں اور باپ ولمن۔ من موصولہ۔ بمعنی اور وہ جو مؤمنا حالیہ (مومن ہوکر)
وللمؤمنین اور مومن مردوں کو والمؤمنات اور مومن عورتوں کو۔
ولا تزر الظلمین واؤ عاطفہ، لا تزد فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ زیادۃ (باب ضرب) مصدر اور نہ بڑھا۔ اور نہ زیادہ کر۔
الظلمین : ظالم لوگ۔ ظلم کرنے والے۔ ناانصاف، منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے۔
الا تبارا۔ مستثنیٰ مفرغ۔ تبارا ای ہلاکا حال ہے ظلمین سے ، اور نہ بڑھا ظالموں کو مگر بربادی اور ہلاکت یعنی ظالم لوگوں کے لئے اور تباہی بڑھا دے۔