71. Surah Nooh

نوحNoah · 28 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة نوح سورة نمبر 71 کل رکوع 2 آیات 28 الفاظ و کلمات 231 حروف 974 مقام نزول مکہ مکرمہ تعارف : سورة نوح اس زمانہ میں نازل ہوئی جب مکہ مکرمہ میں کفار مکہ نے اسلامی دعوت کے خلاف زبردست مزاحمت شروع کردی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے کفار قریش اور مشرکین پر سورة نوح کے ذریعہ اس بات کو صاف صاف واضح فرما دیا ہے کہ جس طرح آج اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کو کفار مکہ رد کر رہے ہیں اور مخالفت کی انتہاؤں پر پہنچ گئے ہیں اسی طرح حضرت نوح (علیہ السلام) نے دن رات اپنی قوم کو سمجھایا مگر وہ قوم اللہ ورسول کی نافرمانیوں میں لگی رہی جب حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم سے قطعاً مایوس ہوگئے تو انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں سارے معاملہ کو رکھ کر دعا کی جو قبول کرلی گئی اور پھر پوری قوم کو نہ صرف پانی میں غرق کردیا گیا بلکہ آخرت میں بھی ان پر آگ کا عذاب مسلط کیا جائے گا۔ کفار قریش سے کہا جا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری نافرمانیاں بھی انتہا تک پہنچ جائیں اور ہمارا نبی ہماری بارگاہ میں فریاد پہنچا دے۔ اگر تم نے اپنا انداز اور طریقہ نہ بدلا تو تمہارا انجام بھی قوم نوح جیسا ہوسکتا ہے۔ سورة نوح میں صرف حضرت نوح (علیہ السلام) کی ان نصیحتوں کو بیان کیا گیا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کے سامنے بیان فرمائی تھیں۔ پوری سورة کا خلاصہ یہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف اپنا پیغام دے کر بھیجا تھا کہ وہ اپنی قوم کے لوگوں کو ایک المناک عذاب آنے سے پہلے آگاہ اور خبردار کردیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا۔ لوگو ! میں تمہیں صاف صاف انداز سے یہ بات بتا رہا ہوں کہ تم اللہ کی عبادت و بندگی کرو۔ اسی سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ وہ اللہ اتنا مہربان ہے کہ نہ صرف تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا بلکہ تمہیں ایک مقرر اور معین وقت تک باقی رکھے گا۔ یہ بات یاد رکھو کہ اللہ کی طرف سے مقرروقت گزرجاتا ہے تو پھر (عذاب الٰہی کو) ٹالا نہیں جاسکتا۔ کاش تم میرے اس بات کو سمجھ سکو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا۔ میرے پروردگار میں نے اپنی قوم کو دن رات دعوت پیش کی مگر وہ میری پکار اور دعوت سے بھاگتے ہی رہے۔ جب میں نے ان سے کہا کہ تم اللہ سے پانے گناہوں اور خطاؤں کی معافی مانگ لو تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے منہ پر کپڑا ڈھانپ لیا تاکہ نہ سنائی دے نہ دکھائی دے۔ پھر وہ اپنے کفر پر اسی طرح اڑ گئے کہ تکبر کے ساتھ انہوں نے ہر بات کو رد کردیا۔ میں نے پھر بھی بلند آواز سے، کھل کر، چھپ کر ہر طرح سمجھایا۔ میں نے ان سے کہا کہ تم اللہ سے معافی مانگ لو وہ بہت معاف کرنے والا مہربان ہے۔ وہ تم پر خوب بارشیں برسائے گا، تمہیں مال و دولت، اولاد اور خاص طور پر بیٹوں سے نواز دے گا۔ تمہارے لئے ہرے بھرے باغ پیدا کرکے نہریں بہا دے گا۔ تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کی عظمت و وقار کا اعتقاد ہی نہیں رکھتے۔ حالانکہ اس نے تمہیں کس کس طرح نشوونما دی ہے۔ کیا تمہیں نظر نہیں آتا کہ اسی نے ایک پر ایک سات آسمان بنائے ہیں اس نے چاند کو نور اور سورج کو چراگ کی طرح روشن کیا ہے اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا ہے وہ تمہیں اسی زمین میں واپس لے جائے گا اور پھر اسی زمین سے تمہیں دوبارہ نکال کر کھڑا کر دے گا۔ اسی نے تو زمین کو فرش کی طرح بچھا دیا ہے تاکہ تم اس کے کھلے اور کشادہ راستوں میں چلو پھرو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا الٰہی ! وہ لوگ میری اطاعت کے بجائے ان لوگوں کے پیچھے لگ گئے ہیں جو ان میں سے مال دار اور رئیس ہیں جنہوں نے مکرو فریب کے جال ہر طرف پھیلا رکھے ہیں۔ وہ لوگوں سے کہتے ہیں کہ لوگو تم ہرگز اپنے معبودوں ود، سواع، یغوچ، یعوق اور نسر کو مت چھوڑنا یہی تو ہمارے کام بنانے والے ہیں۔ اس طرح انہوں نے پوری قوم کو گمراہ کرکے رکھ دیا ہے۔ الٰہی ! جب انہوں نے گمراہی کا راستہ اختیار ہی کرلیا ہے تو آپ بھی ان ظالموں کو گمراہیی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دیجئے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا اے میرے پروردگار ان کافروں میں سے زمین پر بسنے والے کسی کافر کو نہ چھوڑئیے۔ اگر آپ نے ان کو چھوڑ دیا تو یہ لوگ آپ کے بندوں کو گمراہ کرکے چھوڑیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا وہ فاسق و بدکار ہی ہوگا۔ میرے رب ! مجھے، میرے والدین کو اور جو بھی میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہے اس کو اور تمام مومن مردوں اور تمام مومن عورتوں کو معاف فرما دیجئے اور ظالموں کے لئے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ فرمائیے۔ ” آخر کار اس طرح وہ پوری قوم اپنی خطاؤں کی وجہ سے غرق کردی گئی اور قیامت کے دن وہ جہنم کی آگ میں جھونکے جائیں گے۔ پھر وہ اللہ کے سوا نہ کسی کو بچانے والا پائیں گے اور نہ اپنا مددگار۔ “

Ayahs 71:1–28

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 71:1 in the Quran reader

بیشک ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف یہ حکم دے کر بھیجا تھا کہ تم اپنی قوم کو دردناک عذاب آنے سے پہلے آگاہ کردو۔

قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 71:2 in the Quran reader

اس نے کہا اے میری قوم میں تمہیں صاف صاف طور پر آگاہ و خبردار کرنے والا ہوں

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ Open ayah 71:3 in the Quran reader

یہ کہ تم اللہ کی عبادت و بندگی کرو۔ اسی سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 71:4 in the Quran reader

اللہ تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا اور وہ ایک مقرر مدت تک مہلت دے گا۔ (یاد رکھو) جب اللہ کا مقرر کیا ہو اوقت آجاتا ہے تو پھر اس کو ٹالنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ کاش تم یہ جانتے ہوتے۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ Open ayah 71:5 in the Quran reader

نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار میں نے اپنی قوم کو رات دن (حق و صدات کی طرف) بلایا

فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 71:6 in the Quran reader

مگر میرا پکارنا ان کے لئے (قریب آنے کے بجائے) دور بھاگنے کا بہانہ بن گیا۔

وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ Open ayah 71:7 in the Quran reader

اور جب میں نے ان کو یہ کہہ کر بلایا تاکہ آپ ان کی خطائیں معاف فرما دیں تو انہوں نے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑے (ہر طرف) اپنے اوپر لپیٹ لئے۔ کفر پر اڑے رہے اور خوب تکبر کیا۔

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ Open ayah 71:8 in the Quran reader

پھر میں نے ان کو بلند آواز سے پکارا۔

ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ Open ayah 71:9 in the Quran reader

میں نے ان کو کھلم کھلا اور چپکے چپکے بھی سمجھایا

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ Open ayah 71:10 in the Quran reader

اور میں نے ان سے کہا کہ تم اپنے پروردگار سے اپنی خطائوں کی معافی مانگ لو بیشک وہ بہت بخشنے والا ہے۔

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ Open ayah 71:11 in the Quran reader

وہ تم پر مسلسل بارش برسائے گا

وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ Open ayah 71:12 in the Quran reader

اور تمہارے مالوں اور اولاد سے مدد کرے گا۔ وہ تمہارے لئے باغ اور تمہارے لئے نہریں جاری کردے گا۔

مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ Open ayah 71:13 in the Quran reader

(وہی خالق ہے) تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کی عظمت و شان کا لحاظ نہیں کرتے۔

وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا Open ayah 71:14 in the Quran reader

حالانکہ اس نے تمہیں جس طرح چاہا بنایا۔

اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ Open ayah 71:15 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے سات آسمان اوپر تلے کس طرح بنائے ہیں

وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا Open ayah 71:16 in the Quran reader

اور اس نے آسمان میں چاند کو روشن اور سورج کو چراغ بنایا ہے

وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ Open ayah 71:17 in the Quran reader

اور اس نے تمہیں خاص طور سے زمین میں پروان چڑھایا۔

ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا Open ayah 71:18 in the Quran reader

پھر وہ تمہیں اسی زمین میں لوٹا دے گا اور پھر (قیامت میں زمین سے) تمہیں باہر نکالے گا

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ Open ayah 71:19 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا ہے

لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ Open ayah 71:20 in the Quran reader

تاکہ تم اس کے کھلے راستوں میں چلو پھرو۔

قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ Open ayah 71:21 in the Quran reader

(حضرت) نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پروردگار بیشک ان لوگوں نے میرا کہا نہیں مانا اور وہ ایسے لوگوں کے پیچھے چلتے رہے جن کے مال اور اولاد نے ان کو نقصان پہنچایا اور اس میں اضافہ ہی کیا۔

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ Open ayah 71:22 in the Quran reader

اور انہوں نے میرے خلاف طرح طرح کی چالیں چلیں

وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ Open ayah 71:23 in the Quran reader

اور انہوں نے (اپنے ماننے والوں سے) کہا کہ تم اپنے معبودوں کو ہرگز مت چھوڑنا۔ نہ ود کو نہ سواع کو نہ یغوث کو نہ یعوق کو اور نہ نسر کو۔

وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا Open ayah 71:24 in the Quran reader

اور بیشک انہوں نے بہت سوں کو گمراہ کردیا ہے۔ اے اللہ آپ بھی ان ظالموں کی گمراہی کے سوا کسی چیز میں ترقی عطا نہ فرمائیے۔

مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا Open ayah 71:25 in the Quran reader

چناچہ وہ لوگ اپنے گناہوں کے سبب (زبردست طوفان میں) غرق کر دئیے گئے ، آگ میں داخل کر دئیے گئے اور انہوں نے اللہ کے سوا بچانے میں کسی کو مددگار نہ پایا۔

وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا Open ayah 71:26 in the Quran reader

اور نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پروردگار آپ ان کافروں میں سے زمین پر بسنے والے کسی شخص کو نہ چھوڑئیے

اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا Open ayah 71:27 in the Quran reader

کیونکہ اگر آپ نے ان کو چھوڑ دیا تو یہ آپ کے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کے ہاں جو بھی اولاد پیدا ہوگی وہ بدکار اور ناشکری ہی ہوگی۔

رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ Open ayah 71:28 in the Quran reader

میرے پروردگار میری، میرے والدین کی اور جو مومن ہونے کی حالت میں میرے گھر میں داخل ہیں اور سب مومن مردوں اور مومن عورتوں کی بخشش کردیجئے اور آپ ان ظالموں کے لئے سوائے تباہی کے کسی اور چیز میں اضافہ نہ کیجئے۔

لغات القرآن۔ لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔ تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔ فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول بنا کر بھیجا گیا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی آٹھویں پشت تک کوئی کافر و مشرک نہ تھا۔ جو لوگ راہ حق سے ہٹ جاتے ان کی اصلاح کے لئے نبی آتے رہے اور حضرت ادریس (علیہ السلام) جو حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے انہوں نے پوری قوم کو توحید کا درس دیا۔ ان کے ماننے والے بزرگوں میں سے ود، سواع، یغوچ، یعقو، اور نسر تھے جنہوں نے دین کی سچائی پر پوری قوم کو چلایا۔ پوری قوم ان سے بےانتہا عقیدت و محبت رکھتی تھی اور ان کے بتائے ہوئے طریقہ پر چلتی تھی۔ جب ان پانچوں بزرگوں کا انتقال ہوگیا تو لوگوں کے عقیدوں میں بھی کمزوریاں آنا شروع ہوگئیں۔ کسی طرح شیطان نے ان کے دلوں میں یہ وسوسہ پیدا کیا کہ اگر بزرگوں کو یاد رکھنے کے لئے ان کی تصویریں بنا لی جائیں تو نہ صرف عبادت میں خشوع و خضوع اور سکون حاصل ہوگا بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی یہ معلوم ہوگا کہ ان بزرگوں کے طفیل انہیں راہ ہدایت نصیب ہوئی ہے۔ چونکہ ہر گمراہی کیا بتداء ہمیشہ عقیدت و محبت میں حد سے بڑھ جانے سے ہوتی ہے لہٰذا لوگوں نے ان بزرگوں کی مورتیاں بنالیں اور ان کی زیارت کرکے اپنی عقیدت و محبت میں ایک خاص لذت محسوس کرنے لگے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا اس کے بعد کی نسلوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہمارے باپ دادا ان تصویروں سے محبت وعقیدتے رکھتے تھے۔ ہمیں ان کا پوری طرح احترام کرنا چاہیے۔ پھر شطان نے ان کو یہ بات سمجھا دی کہہ اصل میں یہی تمہارے معبود ہیں۔ اس طرح بت پرستی کا آغاز ہوا جس کے بہت کچھ آثار عربوں میں بت پرستی کی شکل میں بھی پائے جاتے ہں۔ بت پرستی کی شدت بڑھتی چلی گئی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں پورے معاشرہ میں بسنے والے لوگوں کا اخلاقی اور مذہبی بگاڑ اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ جو بھی اٹھتا وہ مزید خرابیاں پیدا کرنے کا ذریعہ بن جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو جب چالیس سال کی عمر میں نبوت و رسالت سے نوازا تو انہوں نے تمام پیغمبروں کی طرح عبادت و بندگی، تقویٰ ، پرہیز گاری اور اطاعت رسول کا درس دینا شروع کیا۔ ابتداء میں تو لوگوں نے کوئی توجہ نہ کی لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا اچھا خاصا اثر ہونا شروع ہوگیا ہے تو انہوں نے ان کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ کہنے لگ کہ اے نوح (علیہ السلام) ! نہ تو تمہارے پاس کوئی مال و دولت ہے اور نہ کوئی صاحب حیثیت مال دار تمہاری کسی بات کو سننا پسند کرتا ہے۔ کچھ غریب و مفلس لوگ تمہاری باتوں کو سن کر تمہارے اردگرد جمع ہوگئے ہیں اور یہ معاشرہ کے وہ لو گ ہیں جن کے پاس بیٹھنا نہ صرف ہماری توہین ہے بلکہ ہمیں ان کے قریب آنے سے بھی گھن آتی ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اس کا یہی جواب دیتے تھے کہ میں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا ہے اب اگر میری بات غریب اور مفلس لوگ ہی سنتے ہیں تو یہ ان کی سعادت ہے یہ اللہ کے نیک اور مخلص بندے ہیں میں ان کو اپنے پاس سے کیسے بھگا سکتا ہوں۔ اگر میں نے بھی ان سے وہی معاملہ کیا جو تم کر رہے ہو تو بتائو مجھے اللہ سے کون بچائے گا ؟ حضرت نوح (علیہ السلام) نے نسل در نسل ساڑھے نو سو سال تک مسلسل اللہ کا دین پھیلانے کی جدوجہد کی اس طویل عرصہ میں نہ تو آپ نے اپنی جدوجہد اور کوشش میں کمی آنے دی اور نہ مایوس ہوئے بلکہ تبلیغ دین کی وجہ سے قوم نے جو بدترین تکلیفیں پہنچائیں ان پر صبر کیا۔ اس قوم کا یہ حال تھا کہ وہ کبھی ان کا گلا گھونٹ دیتے جس سے وہ بےہوش ہوجاتے۔ کبھی وہ پتھر مار مار کر ان کو زخمی کردیتے۔ کبھی اتنا مارتے کہ آپ پر غشی طاری ہوجاتی لیکن ہوش میں آنے پر ان کی زبان پر بدعا کے بجائے یہ الفاظ ہوتے رب اغفر لقومی بانھم لا یعلمون۔ اے میرے پروردگا ان کو معاف فرما دے کیونکہ یہ مجھے جانتے نہیں۔ ان تمام تر اذیتوں کے باوجود حضرت نوح (علیہ السلام) صبح و شام رات اور دن اپنی قوم کو یہی پیغام دیتے تھے کہ لوگو ! اللہ کی عبادت و بندگی کرو، اسی سے ڈرو میں جو کچھ کہتا ہوں اس کی اطاعت کرو جس سے منع کردوں اس سے رک جائو۔ اگر تم نے بتوں کے بجائے صرف اللہ کی عبادت و بندگی کی اور میری اطاعت کی تو اللہ نہ صرف تمہارے گناہ معاف کردے گا بلکہ وہ قحط کو دور کرکے تم پر مسلسل بارش برسائے گا جس سے تمہارے کھیل لہلہا اتھیں گے۔ تمہارے مالوں اور اولاد میں برکت اور ترقی ہوگی۔ تمہارے لئے حسین ترین باغات پیدا کرکے نہریں جاری کردے گا۔ جس نے اوپر تلے سات آسمان بنائے، چاند کو روشن کیا، سورج کی دھکایا، زمین کو راحت و آرام کا ذریعہ بنایا۔ اسی نے راستے بنائے تاکہ تم ان میں چل پھر سکو تم صرف اسی کی عبادت و بندگی کرو۔ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا۔ وہ مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ تم جس عذا کی دھمکی دیتے ہو وہ آخر کب آئے گا ؟ ہم تو سن سن کر حیران و پریشان ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا سنجید جواب یہی ہوا کرتا تھا کہ اس کا علم تو اللہ کو ہے مجھے اس کو کوئی علم نہیں البتہ مجھے یہ معلوم ہے کہ نافرمان قوموں کا انجام بڑا بھیانک ہوا کرتا ہے۔ جب اس کا عذاب آتا ہے تو پھر کسی میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اس عذاب کو ٹال سکے۔ ابھی وقت ہے کہ تم ایمان لا کر اعمال صالح اختیار کرلو۔ وہ قوم حضرت نوح کی باتوں سے بچنے کے لئے کبھی کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتی کبھی منہ پر کپڑا دال لیتی تاکہ نہ وہ سن سکیں اور نہ دیکھ سکیں۔ وہ اپنے لوگوں سے کہتے کہ تمہارے معبود تو ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر ہیں تم ان کو ہرگز نہ چھوڑنا۔ حق و صداقت کی باتوں کو سننے کے باوجود ان میں ضد اور ہٹ دھرمی بڑھتی گئی اور انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبردست مخالفت میں اور شدت پیدا کردی۔ جب اسلاح کی ہر کوشش ناکام ہوگئی اور ان کو اشارہ الٰہی بھی مل گیا کہ اب اس قوم میں سے جن لوگوں کو ایمان لانا تھا وہ لا چکے تب حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ کی بارگاہ میں فریاد پیش کردی اور عرض کیا الٰہی ! میں نے ان کو دن رات ہر مجلس میں اور ہر جگہ پوری طرح سمجھایا مگر وہ میرے قریب آنے کے بجائے مجھ سے دور ہی بھاگتے رہے۔ اب آپ اس قوم کے لئے فیصلہ فرما دیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نوح (علیہ السلام) آپ ایساجہاز (ایسی کشتی) تیار کیجئے جس میں اہل ایمان کو اور جانوروں میں سے ایک ایک جوڑے کو سوار کرا سکیں اور راکھ سکیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جب کشتی تیار کرنا شروع کی تو کفار نے مذاق اڑانا شروع کیا کہ کیا خشکی میں بھی کشتیاں چلا کریں گے ؟ حضرت نوح (علیہ السلام) نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی سے کشتی تیار کرتے رہے۔ جب انہوں نے اس بڑی کشتی کو تیار کرلیا تو زمین کی تہہ سے پانی کا چشمہ ابلنا شروع ہوا۔ روایات کے مطابق صرف چالیس یا کچھ زیادہ اہل ایمان آپ کے ساتھ تھے جن کو کشتی پر سوار کرلیا گیا تھا۔ اور جانوروں میں سے ایک ایک جوڑے کو رکھ لیا گیا تھا۔ پھر اس کے بعد اللہ نے زمین و آسمان کے سوتے کھول دئیے۔ ہر طرف سے پانی کا طوفان آیا تو لوگ پہاڑوں کو رکھ لیا گیا تھا۔ پھر اس کے بعد اللہ نے زمین و آسمان کے سوتے کھول دیئے۔ ہر طرف سے پانی کا طوفان آیا تو لوگ پہاڑوں پر پناہ لینے کے لئے دوڑے مگر پانی بڑھتا چلا گیا اور پہاڑوں پر پناہ لینے والے بھی ڈوب گئے۔ یہ کشتی نوح چلتی رہی جب یہ طوفانی پانی کم ہونا شروع ہوا تو وہ اراراط کے پہاڑی سلسلہ میں سے ایک پہاڑ جس کا نام ” جودی “ تھا جو دجلہ و فرات کے درمیان میں موجود تھا یہ سفینہ نوح وہاں جا کر ٹھہر گیا۔ اور اس طرح اللہ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا کو قبول کرکے کفار و مشرکین اور ان کی ترقیات کو تہس نہس کردیا اور اللہ نے اہل ایمان کو بچالیا۔ اہل مکہ کو خاص طور پر بتایا جا رہا ہے کہ یہ اللہ کا وہ نظام ہے جو شروع سے چلا آرہا ہے اگر انہوں نے بھی اللہ کے رسول کی نافرمانی کی اور ان کو حضرت نوح کی طرح سے ستایا ان پر ایمان لانے والے غریب اور مفلسوں کا مذاق اڑایا اور اللہ کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری نہ کی تو ان کو انجام بھی حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد آنے والے پیغمبروں کی نافرمان امتوں سے مختلف نہ ہوگا۔