71. Surah Nooh
نوحNoah · 28 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف سورة نوح سورة نمبر 71 کل رکوع 2 آیات 28 الفاظ و کلمات 231 حروف 974 مقام نزول مکہ مکرمہ تعارف : سورة نوح اس زمانہ میں نازل ہوئی جب مکہ مکرمہ میں کفار مکہ نے اسلامی دعوت کے خلاف زبردست مزاحمت شروع کردی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے کفار قریش اور مشرکین پر سورة نوح کے ذریعہ اس بات کو صاف صاف واضح فرما دیا ہے کہ جس طرح آج اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کو کفار مکہ رد کر رہے ہیں اور مخالفت کی انتہاؤں پر پہنچ گئے ہیں اسی طرح حضرت نوح (علیہ السلام) نے دن رات اپنی قوم کو سمجھایا مگر وہ قوم اللہ ورسول کی نافرمانیوں میں لگی رہی جب حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم سے قطعاً مایوس ہوگئے تو انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں سارے معاملہ کو رکھ کر دعا کی جو قبول کرلی گئی اور پھر پوری قوم کو نہ صرف پانی میں غرق کردیا گیا بلکہ آخرت میں بھی ان پر آگ کا عذاب مسلط کیا جائے گا۔ کفار قریش سے کہا جا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری نافرمانیاں بھی انتہا تک پہنچ جائیں اور ہمارا نبی ہماری بارگاہ میں فریاد پہنچا دے۔ اگر تم نے اپنا انداز اور طریقہ نہ بدلا تو تمہارا انجام بھی قوم نوح جیسا ہوسکتا ہے۔ سورة نوح میں صرف حضرت نوح (علیہ السلام) کی ان نصیحتوں کو بیان کیا گیا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کے سامنے بیان فرمائی تھیں۔ پوری سورة کا خلاصہ یہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف اپنا پیغام دے کر بھیجا تھا کہ وہ اپنی قوم کے لوگوں کو ایک المناک عذاب آنے سے پہلے آگاہ اور خبردار کردیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا۔ لوگو ! میں تمہیں صاف صاف انداز سے یہ بات بتا رہا ہوں کہ تم اللہ کی عبادت و بندگی کرو۔ اسی سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ وہ اللہ اتنا مہربان ہے کہ نہ صرف تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا بلکہ تمہیں ایک مقرر اور معین وقت تک باقی رکھے گا۔ یہ بات یاد رکھو کہ اللہ کی طرف سے مقرروقت گزرجاتا ہے تو پھر (عذاب الٰہی کو) ٹالا نہیں جاسکتا۔ کاش تم میرے اس بات کو سمجھ سکو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا۔ میرے پروردگار میں نے اپنی قوم کو دن رات دعوت پیش کی مگر وہ میری پکار اور دعوت سے بھاگتے ہی رہے۔ جب میں نے ان سے کہا کہ تم اللہ سے پانے گناہوں اور خطاؤں کی معافی مانگ لو تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے منہ پر کپڑا ڈھانپ لیا تاکہ نہ سنائی دے نہ دکھائی دے۔ پھر وہ اپنے کفر پر اسی طرح اڑ گئے کہ تکبر کے ساتھ انہوں نے ہر بات کو رد کردیا۔ میں نے پھر بھی بلند آواز سے، کھل کر، چھپ کر ہر طرح سمجھایا۔ میں نے ان سے کہا کہ تم اللہ سے معافی مانگ لو وہ بہت معاف کرنے والا مہربان ہے۔ وہ تم پر خوب بارشیں برسائے گا، تمہیں مال و دولت، اولاد اور خاص طور پر بیٹوں سے نواز دے گا۔ تمہارے لئے ہرے بھرے باغ پیدا کرکے نہریں بہا دے گا۔ تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کی عظمت و وقار کا اعتقاد ہی نہیں رکھتے۔ حالانکہ اس نے تمہیں کس کس طرح نشوونما دی ہے۔ کیا تمہیں نظر نہیں آتا کہ اسی نے ایک پر ایک سات آسمان بنائے ہیں اس نے چاند کو نور اور سورج کو چراگ کی طرح روشن کیا ہے اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا ہے وہ تمہیں اسی زمین میں واپس لے جائے گا اور پھر اسی زمین سے تمہیں دوبارہ نکال کر کھڑا کر دے گا۔ اسی نے تو زمین کو فرش کی طرح بچھا دیا ہے تاکہ تم اس کے کھلے اور کشادہ راستوں میں چلو پھرو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا الٰہی ! وہ لوگ میری اطاعت کے بجائے ان لوگوں کے پیچھے لگ گئے ہیں جو ان میں سے مال دار اور رئیس ہیں جنہوں نے مکرو فریب کے جال ہر طرف پھیلا رکھے ہیں۔ وہ لوگوں سے کہتے ہیں کہ لوگو تم ہرگز اپنے معبودوں ود، سواع، یغوچ، یعوق اور نسر کو مت چھوڑنا یہی تو ہمارے کام بنانے والے ہیں۔ اس طرح انہوں نے پوری قوم کو گمراہ کرکے رکھ دیا ہے۔ الٰہی ! جب انہوں نے گمراہی کا راستہ اختیار ہی کرلیا ہے تو آپ بھی ان ظالموں کو گمراہیی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دیجئے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا اے میرے پروردگار ان کافروں میں سے زمین پر بسنے والے کسی کافر کو نہ چھوڑئیے۔ اگر آپ نے ان کو چھوڑ دیا تو یہ لوگ آپ کے بندوں کو گمراہ کرکے چھوڑیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا وہ فاسق و بدکار ہی ہوگا۔ میرے رب ! مجھے، میرے والدین کو اور جو بھی میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہے اس کو اور تمام مومن مردوں اور تمام مومن عورتوں کو معاف فرما دیجئے اور ظالموں کے لئے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ فرمائیے۔ ” آخر کار اس طرح وہ پوری قوم اپنی خطاؤں کی وجہ سے غرق کردی گئی اور قیامت کے دن وہ جہنم کی آگ میں جھونکے جائیں گے۔ پھر وہ اللہ کے سوا نہ کسی کو بچانے والا پائیں گے اور نہ اپنا مددگار۔ “
اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 71:1 in the Quran reader
بیشک ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف یہ حکم دے کر بھیجا تھا کہ تم اپنی قوم کو دردناک عذاب آنے سے پہلے آگاہ کردو۔
قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 71:2 in the Quran reader
اس نے کہا اے میری قوم میں تمہیں صاف صاف طور پر آگاہ و خبردار کرنے والا ہوں
اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ Open ayah 71:3 in the Quran reader
یہ کہ تم اللہ کی عبادت و بندگی کرو۔ اسی سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔
یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 71:4 in the Quran reader
اللہ تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا اور وہ ایک مقرر مدت تک مہلت دے گا۔ (یاد رکھو) جب اللہ کا مقرر کیا ہو اوقت آجاتا ہے تو پھر اس کو ٹالنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ کاش تم یہ جانتے ہوتے۔
قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ Open ayah 71:5 in the Quran reader
نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار میں نے اپنی قوم کو رات دن (حق و صدات کی طرف) بلایا
فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 71:6 in the Quran reader
مگر میرا پکارنا ان کے لئے (قریب آنے کے بجائے) دور بھاگنے کا بہانہ بن گیا۔
وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ Open ayah 71:7 in the Quran reader
اور جب میں نے ان کو یہ کہہ کر بلایا تاکہ آپ ان کی خطائیں معاف فرما دیں تو انہوں نے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑے (ہر طرف) اپنے اوپر لپیٹ لئے۔ کفر پر اڑے رہے اور خوب تکبر کیا۔
ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ Open ayah 71:8 in the Quran reader
پھر میں نے ان کو بلند آواز سے پکارا۔
ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ Open ayah 71:9 in the Quran reader
میں نے ان کو کھلم کھلا اور چپکے چپکے بھی سمجھایا
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ Open ayah 71:10 in the Quran reader
اور میں نے ان سے کہا کہ تم اپنے پروردگار سے اپنی خطائوں کی معافی مانگ لو بیشک وہ بہت بخشنے والا ہے۔
یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ Open ayah 71:11 in the Quran reader
وہ تم پر مسلسل بارش برسائے گا
وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ Open ayah 71:12 in the Quran reader
اور تمہارے مالوں اور اولاد سے مدد کرے گا۔ وہ تمہارے لئے باغ اور تمہارے لئے نہریں جاری کردے گا۔
مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ Open ayah 71:13 in the Quran reader
(وہی خالق ہے) تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کی عظمت و شان کا لحاظ نہیں کرتے۔
وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا Open ayah 71:14 in the Quran reader
حالانکہ اس نے تمہیں جس طرح چاہا بنایا۔
اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ Open ayah 71:15 in the Quran reader
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے سات آسمان اوپر تلے کس طرح بنائے ہیں
وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا Open ayah 71:16 in the Quran reader
اور اس نے آسمان میں چاند کو روشن اور سورج کو چراغ بنایا ہے
وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ Open ayah 71:17 in the Quran reader
اور اس نے تمہیں خاص طور سے زمین میں پروان چڑھایا۔
ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا Open ayah 71:18 in the Quran reader
پھر وہ تمہیں اسی زمین میں لوٹا دے گا اور پھر (قیامت میں زمین سے) تمہیں باہر نکالے گا
وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ Open ayah 71:19 in the Quran reader
اور اللہ ہی نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا ہے
لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ Open ayah 71:20 in the Quran reader
تاکہ تم اس کے کھلے راستوں میں چلو پھرو۔
قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ Open ayah 71:21 in the Quran reader
(حضرت) نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پروردگار بیشک ان لوگوں نے میرا کہا نہیں مانا اور وہ ایسے لوگوں کے پیچھے چلتے رہے جن کے مال اور اولاد نے ان کو نقصان پہنچایا اور اس میں اضافہ ہی کیا۔
وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ Open ayah 71:22 in the Quran reader
اور انہوں نے میرے خلاف طرح طرح کی چالیں چلیں
وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ Open ayah 71:23 in the Quran reader
اور انہوں نے (اپنے ماننے والوں سے) کہا کہ تم اپنے معبودوں کو ہرگز مت چھوڑنا۔ نہ ود کو نہ سواع کو نہ یغوث کو نہ یعوق کو اور نہ نسر کو۔
وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا Open ayah 71:24 in the Quran reader
اور بیشک انہوں نے بہت سوں کو گمراہ کردیا ہے۔ اے اللہ آپ بھی ان ظالموں کی گمراہی کے سوا کسی چیز میں ترقی عطا نہ فرمائیے۔
مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا Open ayah 71:25 in the Quran reader
چناچہ وہ لوگ اپنے گناہوں کے سبب (زبردست طوفان میں) غرق کر دئیے گئے ، آگ میں داخل کر دئیے گئے اور انہوں نے اللہ کے سوا بچانے میں کسی کو مددگار نہ پایا۔
وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا Open ayah 71:26 in the Quran reader
اور نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پروردگار آپ ان کافروں میں سے زمین پر بسنے والے کسی شخص کو نہ چھوڑئیے
اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا Open ayah 71:27 in the Quran reader
کیونکہ اگر آپ نے ان کو چھوڑ دیا تو یہ آپ کے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کے ہاں جو بھی اولاد پیدا ہوگی وہ بدکار اور ناشکری ہی ہوگی۔
رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ Open ayah 71:28 in the Quran reader
میرے پروردگار میری، میرے والدین کی اور جو مومن ہونے کی حالت میں میرے گھر میں داخل ہیں اور سب مومن مردوں اور مومن عورتوں کی بخشش کردیجئے اور آپ ان ظالموں کے لئے سوائے تباہی کے کسی اور چیز میں اضافہ نہ کیجئے۔