71. Surah Nooh

نوحNoah · 28 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 71:1

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 71:1 in the Quran reader

ہم نے نوحؑ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ پیشتر اس کے کہ ان پر درد دینے والا عذاب واقع ہو اپنی قوم کو ہدایت کردو

انا ارسلنا نوحا الی قومہ . آغاز کلام میں اِنَّ (تحقیقیہ) لانے سے واقعہ کی اہمیت کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔ رسالت نوح کو صرف آپ کی قوم کے ساتھ مقید کرنا بتارہا ہے کہ آپ کی نبوت تمام آدمیوں کے لیے عمومی نہ تھی۔ حضرت جابر کی روایت کردہ حدیث بھی اس پر دلالت کر رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا فرمائی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں ہوئیں۔ ایک ماہ کی راہ کی مسافت سے میرا رعب (دشمنوں پر) ڈال کر میری مدد کی گئی (تمام) زمین کو میرے لیے مسجد اور طاہر قرار دیا گیا۔ اس لیے میری امت کے کسی آدمی کو روا ہے کہ جہاں نماز (کا وقت) آجائے وہیں پڑھ لے۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ‘ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کیا گیا۔ مجھے شفاعت کا حق دیا گیا (گزشتہ) انبیاء خصوصیت کے ساتھ اپنی قوم کی ہدایت کے لیے مبعوث ہوتے تھے ‘ مجھے تمام لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا۔ (بخاری و مسلم) حضرت ابوہریرہ کی روایت کردہ حدیث میں چھ خصوصیات کا ذکر ہے مگر شفاعت کا تذکرہ نہیں ہے بلکہ یہ الفاظ ہیں کہ ” مجھے ساری مخلوق کے لیے بھیجا گیا ہے اور نبوت کو مجھ پر ختم کردیا گیا۔ “ (مسلم) ان انذرر قومک . ارسال کے اندر قول کا معنی پوشیدہ ہے (یہ کہنے کے لیے بھیجا) اس لیے ان انذر قول مخفی کی تشریح ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ ان مصدری ہو (اور قلنا محذوف ہو) یعنی ہم نے نوح سے کہا کہ اپنی قوم کو عذاب سے ڈراؤ۔ اس جگہ اَنْ سے پہلے ب محذوف نہیں ہے یعنی تقدیر کلام بان انذر قرار دینا غلط ہے ‘ اس سے کلام میں گڑبڑ پیدا ہوجائے گی کیونکہ یہاں (قَوْمَکَ میں) ضمیر خطاب ہے اور مذکورۂ بالا فقرہ میں (قومہ) ضمیر غائب کے ساتھ ہے۔ من قبل ان یاتیھم عذاب الیم . یعنی اس سے پہلے کہ بصورت عدم ایمان دنیا میں ان پر طوفان کا عذاب اور آخرت میں دوزخ کا عذاب آئے تم اپنی قوم کو عذاب سے ڈراؤ۔
Ayah 71:2

قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 71:2 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اے قوم! میں تم کو کھلے طور پر نصیحت کرتا ہوں

قال یقوم انی لکم نذیر مبین . میں کھول کر بیان کرنے والا نذیر ہوں یعنی تم کو ڈراتا ہوں اور کھول کر بیان کرتا ہوں۔
Ayah 71:3

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ Open ayah 71:3 in the Quran reader

کہ خدا کی عبات کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہا مانو

ان اعبدوا اللہ واتقواہ . کہ اللہ کی عبادت کرو ‘ اس سے ڈرو کہ کسی چیز کو (الوہیت اور عبادت میں) اس کا شریک نہ قرار دو ۔ واطیعون . اور توحید وطاعت الٰہی کی بابت جو کچھ میں حکم دے رہا ہوں اس کو مانو۔
Ayah 71:4

یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 71:4 in the Quran reader

وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور (موت کے) وقت مقررہ تک تم کو مہلت عطا کرے گا۔ جب خدا کا مقرر کیا ہوگا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی۔ کاش تم جانتے ہوتے

یغفرلکم . ایمان و اطاعت مغفرت کا سبب ہے اس لیے یہ جملہ امر مذکور کا جواب ہے یعنی اگر تم اطاعت کرو گے تو اللہ تمہاری مغفرت کر دے گا۔ حضرت عمرو بن عاص کا قول ہے میں نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! دست مبارک پھیلائیے ‘ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ حضور ﷺ نے دایاں ہاتھ پھیلا دیا۔ مگر میں نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا ‘ فرمایا : عمرو ! کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کیا ‘ کچھ شرط رکھنا چاہتا ہوں۔ فرمایا : شرط بیان کرو۔ میں نے عرض کیا : شرط بیعت یہ ہے کہ میرے گناہ بخش دیئے جائینگے۔ فرمایا : عمرو ! کیا تم کو نہیں معلوم کہ اسلام گزشتہ گناہ ڈھا دیتا ہے اور ہجرت بھی پہلے گناہ گرا دیتی ہے اور حج بھی سابق گناہ ساقط کردیتا ہے۔ (مسلم) حضرت معاذ نے بیان کیا کہ میں (ایک سفر) میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا۔ میرے اور حضور ﷺ کے درمیان صرف کجاوہ کا پچھلا حصہ حائل تھا۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : معاذ ! کیا تجھے معلوم ہے کہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا خدا پر کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا : اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کو پورا علم ہے ‘ فرمایا : اللہ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ بندے اس کی عبادت کریں۔ کسی کو اس کا شریک نہ قرار دیں اور بندوں کا حق خدا پر یہ ہے کہ وہ غیر مشرک کو عذاب نہ دے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ کیا لوگوں کو میں یہ خوشخبری نہ سنا دوں ؟ فرمایا : لوگوں کو یہ بشارت نہ دو ورنہ وہ (اسی پر) بھروسہ کر بیٹھیں گے (بخاری و مسلم) حضرت انس ؓ سے بھی اسی قسم کا واقعہ منقول ہے۔ حضرت معاذ ؓ نے (اخفاءِ حق کے) گناہ سے بچنے کے لیے مرنے کے وقت یہ حدیث بیان کی تھی۔ (مسلم و بخاری) من ذنوبکم . مِنْ بیانیہ ہے (یعنی تمہارے گناہ بخش دے گا) یا تبعیضیہ ہے (یعنی تمہارے گناہ معاف کر دے گا) مراد یہ ہے کہ اللہ وہ گناہ معاف کر دے گا جو محض حق خدا سے تعلق رکھتے ہیں (بندوں کی باہمی حق تلفیوں کو معاف نہیں کرے گا) ۔ و یوخرکم الی اجل مسمی . یعنی ایمان و اطاعت کی شرط پر اللہ تم کو معاف کر دے گا اور گناہوں کی سزا اس مدت تک تم کو نہ دے گا جو تمہارے لیے مقرر کردی گئی ہے۔ مسئلہ قضاء کی دو قسمیں ہیں : 1) قضاء مبرم (قطعی ناقابل فسخ) ‘ 2) معلق ‘ معلق کی صورت مثلاً یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے کہ زید اگر اللہ کی اطاعت کرے گا تو اتنی مدت تک اس کو تباہی سے محفوظ رکھا جائے گا اور نافرمانی کرے گا تو اللہ اس پر طوفان مسلط کر دے گا۔ قضاء معلق کی تبدیلی جائز ہے۔ جب شرط مفقود ہو (تو حکم قضاء بھی نافذ نہ ہوگا) آیت : یمحوا اللہ ما یشآء و یثبت و عندہ ام الکتٰب کا یہی مطلب ہے۔ حضرت سلمان فارسی ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دعا کے سواء قضاء کو کوئی چیز نہیں لوٹاتی اور عمر میں زیادتی نیکی ہی سے ہوتی ہے۔ (ترمذی) قضاء مبرم ناقابل تبدیل ہے۔ آیت : لا تبدیل لکلمٰت اللہ سے یہی مراد ہے 1 ؂۔ ان اجل اللہ اذا جاء لا یوخر . اللہ کی مقرر کی ہوئی اجل جب مقررہ طریقہ سے آجاتی ہے تو اس کو ٹالا نہیں جا ............ 1 ؂ قضاء مبرہم اصلی اور حقیقی قضاء ہے۔ قضاء معلق کو قضاء کہنا مجازاً ہے۔ اس کا تعلق ارادۂ انسانی سے ہے۔ حقیقت میں یہ قضاء ہی نہیں ہے۔ صرف معلق فیصلہ ہے۔ ہاں ! فیصلہ کا جس شرط کے وقوع یا عدم وقوع سے تعلق ہے اس شرط کا واقع ہونا یا نہ واقع ہونا قضاء مبرم ہے۔ مثلاً زید زہر کھائے گا تو 24 گھنٹہ کے اندر مرجائے گا۔ یہ قضاء معلق یا قضاء مشروط ہے لیکن زید کا زہر کھانا یا نہ کھانا مقدر ہوچکا ہے۔ یہ تقدیم مبرم ہے تمام نتائج اور مسببات کی اسباب سے وابستگی اور اسباب و نتائج کی مسلسل زنجیر قضاء معلق کی مظہر ہے ‘ دھوکہ کھا کر مادہ پرستوں نے انہی اسباب کو نتائج کا خالق اور مؤثر حقیقی سمجھ لیا ہے حالانکہ یہ حقیقی ناقابل شکست وابستگی نہیں بلکہ اسباب ظاہرہ دوامی طور پر نتائج پیدا نہیں کرتے کبھی اسباب ظاہرہ موجود ہوتے ہیں اور نتیجہ مفقود ہوتا ہے۔ ہاں ! ان اسباب کی حاکم اور حسب منشاء اثر انگیز اور نتیجہ آفریں بنانے والی قضاء مبرم ہے۔ عناصر کے جتنے طبعی خواص کہے جاتے ہیں ‘ ان کی حاکم قضاء مبرم ہے بیشک آگ کی خاصیت جلانا ‘ پانی کی خاصیت روانی اور ہوا کی خاصیت دوانی ہے اور خالق کائنات نے ان کو یہ خصوصیات عطا کی ہیں لیکن یہ قضاء مبرم نہیں ‘ قضاء معلق ہے جس میں تبدیلی ممکن ہے۔ ہوسکتا ہے اور ہوتا ہے کہ آگ نہ جلائے ‘ پانی رواں نہ ہو اور ہوا جامد ہوجائے۔ انقلاب عنصری کے تو فلاسفر بھی قائل ہیں اور یہ تغیر ہے بھی بدیہی مگر اسلام قائل ہے کہ عناصر متاثرہ ہوں یا ان کی مؤثرہ طاقتیں ہوں سب قضاء مبرم کے زیر حکم ہیں۔ سکتا۔ اس میں تاخیر کی جانی ممکن نہیں۔ مبرم میں تو کبھی تاخیر نہیں ہوتی اور معلق میں بھی اس وقت تاخیر ممکن نہیں جب اس کی شرط موجود ہوگئی ہو اس لیے اجل قطعی کے آنے سے پہلے مہلت اور فرصت کے اوقات میں طاعت کی طرف پیش قدمی کرنا لازم ہے۔ ایسے گناہ نہ کرو جو موجب عذاب اور اجل معلق ان سے وابستہ ہے۔ سوال اہل سنت کا مسلک ہے کہ اجل ایک ہے ‘ نہ بڑھتی ہے ‘ نہ گھٹتی ہے۔ یہاں تک کہ مقتول بھی اپنی اجل پر مرتا ہے۔ رہی وہ حدیث جس میں نیکی کو زیادتی عمر کا سبب بتایا گیا ہے تو اس میں عمر کی زیادتی سے مراد ہے عمر کی برکت یعنی کثرت ثواب اجل کی کمی بیشی کا قول تو معتزلہ فرقہ کے مذہب کے موافق ہے۔ جواب معتزلہ تو تقدیر کے بالکل منکر ہیں۔ قاتل کو مقتول کی موت کا خالق مانتے ہیں۔ ہم نے قضاء کا مفہوم اہل سنت کے مسلک کے موافق بیان کیا ہے۔ اہل سنت جو کہتے ہیں کہ اجل ایک ہے ‘ نہ گھٹتی ہے نہ بڑھتی ہے۔ اس سے مراد ہے قضاء مبرم جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ ایک منٹ بھی آگے پیچھے نہیں ہوسکتی۔ مقتول اسی قضاء مبرم سے مرتا ہے ‘ یہ تو ہوسکتا ہے کہ لوح محفوظ میں مقتول کی موت معلق ہو کہ اگر اس کو فلاں شخص قتل کر دے گا تو مرجائے گا ورنہ نہیں مرے گا لیکن لوح محفوظ میں قضاء مبرم کے طور پر یہ بھی درج ہوگا کہ فلاں وقت فلاں شخص کو ضرور مار ڈالے گا اور اس کی زندگی کی کوئی شرط (سبب ‘ ذریعہ وغیرہ) باقی نہیں رہے گی۔ اس جواب کی تقدیر پر اس حدیث کی تاویل کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی جو ابو خزامہ نے اپنے باپ کی وساطت سے بیان کی ہے۔ ابو خزامہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ ہم کچھ منتردَم کرتے ہیں اور دوا بھی کرتے ہیں اور دوسرے بچاؤ بھی اپنے لیے کرتے ہیں ‘ فرمائیے کہ کیا یہ فعل اللہ کی تقدیر کو کچھ بھی لوٹا سکتا ہے ؟ فرمایا : یہ بھی تو اللہ ہی کی تقدیر سے ہے۔ (احمد ‘ ترمذی ‘ ابن ماجہ) یعنی اللہ نے مقدر کردیا ہے کہ فلاں شخص علاج کرے گا تو اس کو شفاء حاصل ہوگی۔ لو کنتم تعلمون . یعنی اگر تم اہل علم ہو اور اپنے مصالح کو سمجھنے والے ہو (تو میری اطاعت کرو) اس فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ (قوم نوح کو اگرچہ مرنے میں کوئی شرک نہ تھا لیکن) ان کا خواہشات نفسانی میں ڈوب جانا بتارہا تھا کہ گویا ان کو مرنے میں شک ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : حضرت نوح چالیس سال کی عمر میں پیغمبر ہوئے اور طوفان کے بعد ساٹھ سال زندہ رہے۔ مقاتل نے وقت بعثت سو سال کی عمر بتائی ہے۔ بعض نے پچاس برس اور بعض نے دو سو پچاس برس بھی کہا ہے۔ حضرت نوح کی عمر ایک ہزار چار سو پچاس برس ہوئی ہے اور یہ بات تو ناقابل شک ہے کہ ساڑھے نو سو برس تک آپ قوم کو نصیحت کرتے رہے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ قوم والے حضرت نوح کو اتنا مارتے تھے کہ اپنی دانست میں مردہ سمجھ کر نمدہ میں لپیٹ کر گھر میں ڈال آتے تھے لیکن آپ دوسرے روز پھر باہر تشریف لا کر لوگوں کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دیتے تھے۔ محمد بن اسحاق نے عبید بن عمر لیثی کا قول نقل کیا ہے کہ لوگ حضرت نوح کو پکڑ کر اتنا گلا گھونٹتے تھے کہ آپ بیہوش ہوجاتے تھے لیکن جب ہوش آتا تو دعا کرتے : الٰہی میری قوم کو بخش دے۔ یہ ناواقف ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بار بار گناہوں میں منہمک رہے اور قوم کی طرح سے حضرت نوح پر تکلیفیں شدید ترین ہونے لگیں تو آپ آئندہ نسل کے انتظار میں رہے (کہ شاید ان کی نسل ہدایت یاب ہوجائے) مگر جو نسل آتی تھی وہ اگلوں سے زیادہ خبیث ہوتی تھی۔ سلف ‘ خلف سے کہہ مرتے تھے کہ یہ شخص دیوانہ ہے ہمارے باپ ‘ دادا کے ساتھ بھی رہا ہے ‘ اس طرح کوئی آپ کی بات نہیں مانتا تھا۔ بالآخر حضرت نوح نے اللہ سے شکایت کی اور عرض کیا :
Ayah 71:5

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ Open ayah 71:5 in the Quran reader

جب لوگوں نے نہ مانا تو (نوحؑ نے) خدا سے عرض کی کہ پروردگار میں اپنی قوم کو رات دن بلاتا رہا

قال . یہاں کلام میں اختصار کیا گیا ہے۔ پورا کلام یوں تھا کہ نوح نے تبلیغ کی ‘ قوم نے تکذیب کی۔ نوح (علیہ السلام) برابر دعوت دیتے رہے مگر قوم انکار پر اڑی رہی۔ آخر نوح (علیہ السلام) نے کہا : ربی انی دعوت قومی لیلا ونھارا . یعنی ہمیشہ
Ayah 71:6

فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 71:6 in the Quran reader

لیکن میرے بلانے سے وہ اور زیادہ گزیر کرتے رہے

فلم یزدھم دعاء ی الا فرارا . دعاء زیادت فراء کا سبب تھی ‘ اس لیے دعاء کو فراء میں اضافہ کرنے والا قرار دیا۔ یعنی میری دعوت نے ایمان وطاعت سے بھاگنے میں اور اضافہ کردیا (گویا زیادہ کرنے کی دعوت کی طرف نسبت مجازی ہے حقیقی فاعل تو خدا ہے مگر دعوت سبب ہے اور سبب کو فاعل قرار دینا مجازاً ہوتا ہے) جیسے آیت : فزادتھم ایمانا اور زادتھم رحبا میں اسناد مجازی ہے۔
Ayah 71:7

وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ Open ayah 71:7 in the Quran reader

جب جب میں نے ان کو بلایا کہ (توبہ کریں اور) تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور کپڑے اوڑھ لئے اور اڑ گئے اور اکڑ بیٹھے

وانی کلما دعوتھم لتغفرلھم . یعنی جب بھی میں نے ان کو ایمان کی دعوت دی کہ ایمان کے ذریعہ سے تو ان کو معاف فرما دے۔ جعلوا اصابعھم فی اذانھم . تو انہوں نے میری دعوت کو سننے سے کان بند کرلیے۔ واستغشوا اثیابھم . اور کپڑے اوڑھ لیے تاکہ آنکھوں سے بھی نہ دیکھیں۔ واصروا . اور کفر و معصیت پر جمے رہے۔ واستکبروا استکبارا . اور سخت مغرور بن گئے۔
Ayah 71:8

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ Open ayah 71:8 in the Quran reader

پھر میں ان کو کھلے طور پر بھی بلاتا رہا

ثم انی دعوتھم جھارا . جھارًا کا نصب مفعول مطلق ہونے کی بناء پر ہے کیونکہ دعوت کی (دو قسمیں ہیں علی الاعلان اور پوشیدہ طور پر) ایک قسم جہری دعوت بھی ہے یا یہ مصدر محذوف کی صفت ہے (اور وہ مصدر مفعول مطلق ہے) اور جہارا اسم مفعول کے معنی میں ہے یعنی میں نے اعلانیہ دعوت دی یا جہاراً حال ہے اور بمعنی اسم فاعل ہے یعنی اعلان کے ساتھ میں نے انکو بلایا۔
Ayah 71:9

ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ Open ayah 71:9 in the Quran reader

اور ظاہر اور پوشیدہ ہر طرح سمجھاتا رہا

ثم انی اعلنت لھم واسررت لھم اسررار . لفظ ثم (تراخی کے لیے آتا ہے یعنی ثم کے بعد والا فعل قبل والے فعل سے کچھ دیر بعد کو ہوتا ہے) کا اس جگہ استعمال دعوت کے مختلف طریقوں پر دلالت کر رہا ہے کیونکہ سری دعوت سے جہری دعوت زیادہ سخت ہوتی ہے اور صرف سری یا صرف جہری سے سری اور جہری دعوتوں کا مجموعہ زیادہ سخت ہوتا ہے۔ اس طرح دعوت کی ہر (ترتیبی) صورت اوّل صورت سے بعد کو آتی ہے۔
Ayah 71:10

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ Open ayah 71:10 in the Quran reader

اور کہا کہ اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے

فقلت . یہ دعوت کا بیان ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ قوم نوح جب حضرت نوح کی تکذیب مدت دراز تک کرتی رہی تو اللہ نے بارش روک دی اور چالیس برس تک پیدائش نسل بند کردی ‘ اس طرح انکے مال اور چوپائے تباہ ہوگئے۔ اس وقت حضرت نوح نے فرمایا : استغفروا ربکم . کفر و معصیت سے توبہ کر کے پچھلے گناہوں پر نادم ہو کر اپنے رب سے گناہوں کی مغفرت کے طلبگار ہو کیونکہ انہ کان غفارا . وہ توبہ کرنے والوں کے گناہ بہت زیادہ معاف کردینے والا ہے۔
Ayah 71:11

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ Open ayah 71:11 in the Quran reader

وہ تم پر آسمان سے لگاتار مینہ برسائے گا

یرسل السماء . یعنی بارش علیکم مدرارا . مدرارًا (بکثرت بارش والا) السمآء سے حال ہے یہ مذکر کی صفت بھی ہوسکتا ہے اور مؤنث کی بھی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ استغفار معصیت ‘ نزول بارش ‘ حصول نعمت اور عموماً دفع مصیبت کا سبب ہے یا خصوصیت کے ساتھ صرف اس مصیبت کے دفع کا سبب ہے ‘ جس میں مبتلا ہونے کی وجہ گناہوں کی نحوست ہو جیسا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا حال تھا اور اسی کی تائید آیت : ما اصابکم من مصیبۃ فیما کسبت ایدیکم سے ہوتی ہے لیکن اگر نزول مصیبت ترقی درجات کا سبب ہو تو ایسی مصیبت استغفار سے دفع نہیں ہوتی جیسے حضرت ایوب (علیہ السلام) اور بعض دوسرے انبیاء کی مصیبتیں تھیں۔ حضرت سعید کی روایت ہے ‘ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے زیادہ کڑی مصیبت انبیاء کی ہوتی ہے۔ انبیاء کے بعد ان لوگوں کی جو باقی لوگوں سے افضل ہوں پھر ان لوگوں کی جو بقیہ سے افضل ہوں۔ آدمی کی آزمائش اس کے دین کے مرتبہ کے موافق ہوتی ہے اگر وہ دین میں پختہ ہے تو اس کی آزمائش بھی کڑی ہوتی ہے اور اگر اس کے دین میں کچھ کمزوری ہے تو درجہ دینی کے موافق اس کی آزمائش ہوتی ہے صرف عہد کرنے سے بلاء نہیں ٹلتی۔ جب تک گناہ کو چھوڑ نہ دے اور گناہ سے پاک ہو کر زمین پر چلنے نہ لگے۔ (احمد ‘ بخاری ‘ ترمذی ‘ ابن ماجہ) بخاری (رح) نے اپنی تاریخ میں کسی امّ المؤمنین کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دنیا میں سب سے کڑی مصیبت والا نبی ہوتا ہے یا صفی (یعنی ولی) حاکم نے مستدرک میں اور ابن ماجہ نے اور عبدالرزاق نے حضرت ابو سعید ؓ وغیرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جتنے تم عطیہ ملنے سے خوش ہوتے ہو ‘ انبیاء مصیبت پر اس سے زیادہ خوش ہوتے ہیں۔ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ بارش نہ ہونا ایک عمومی مصیبت ہے ‘ جو عمومی گناہوں کی نحوست سے ہی آتی ہے۔ معصیت عوام کے بغیر اس مصیبت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا اس صورت میں استغفار عمومی بارش کا سبب قرار پائے گا۔ استسقاء میں استغفار کی مشروعیت اسی وجہ سے ہے۔ مطرفؔ نے شعبی کا قول نقل کیا ہے کہ ایک بار حضرت عمر ؓ لوگوں کو لے کر دعاء بارش کے لیے شہر سے باہر نکلے لیکن صرف استغفار کے بعد لوٹ آئے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا (یعنی نماز نہیں پڑھی) عرض کیا گیا : ہم نے سنا تھا کہ آپ بارش کی دعا کریں گے (مگر آپ نے صرف استغفار پر اکتفاء کیا) فرمایا : میں نے بارش کی دعا ان سرچشموں (یا راستوں) سے کی جن سے آسمان کی بارش ہوتی ہے۔ اس کے بعد آپ نے آیت : استغفروا ربکم انہ کان غفارا یرسل السمآء علیکم مدرارًا تلاوت کی۔
Ayah 71:12

وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ Open ayah 71:12 in the Quran reader

اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں باغ عطا کرے گا اور ان میں تمہارے لئے نہریں بہا دے گا

و یمددکم باموال و بنین . عطاء نے کہا یعنی تمہارے مال و اولاد کو وہ بہت کر دے گا۔ و یجعل لکم جنات . باغات (یعنی تکذیب سے پہلے جیسے تمہارے باغ سرسبز تھے ‘ ویسے ہی کر دیگا۔ و یججعل لکم انھارا یعنی تکذیب نوح سے پہلے جیسے تمہارے دریا (رواں اور لبریز) تھے ویسے ہی کر دیگا۔
Ayah 71:13

مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ Open ayah 71:13 in the Quran reader

تم کو کیا ہوا ہے کہ تم خدا کی عظمت کا اعتقاد نہیں رکھتے

مالکم لا ترجون للہ وقارا . ما استفہامیہ ہے وقار ‘ عظمت ‘ توقیر سے اسم مصدر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد ؓ کے نزدیک رجاء کا معنی ہے اعتقاد یعنی تم اپنے اعتقاد میں اللہ کی عظمت نہیں جانتے۔ رجاء (اُمید) تو ادنیٰ ظن کے تابع ہوتی ہے (یعنی کسی بات کے ہونے کا ذرا سا بھی گمان غالب ہوجاتا ہے تو اس کی امید ہوجاتی ہے) لیکن یہاں اعتقاد کو رجاء فرمایا یہ محض کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے ہے (یعنی خدا کی عظمت تمہارے عقیدہ میں تو بہرحال نہیں ہے اور عقیدہ کیا تمہارے ظن میں بھی نہیں ہے) کلبی نے آیت کا معنی بیان کیا تم اللہ کی عظمت سے نہیں ڈرتے گویا کلبی کے نزدیک رجاء اس جگہ بمعنی خوف ہے۔ حسن بصری نے آیت کی تفسیر اس طرح کی تم اللہ تعالیٰ کا حق نہیں پہچانتے اور اس کی نعمت کا شکر نہیں کرتے۔ ابن کیسان نے کہا : تم کو اپنی عبادت میں اس بات کی امید نہیں کہ ہم جو خدا کی تعظیم کرتے ہیں ‘ خدا اس کا ثواب بھی دے گا۔ یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اپنی عبادت میں تم کو اس امر کی امید نہیں ہے کہ خدا تمہاری عبادت کی قدر دانی اور تمہارا اکرام کرے گا۔
Ayah 71:14

وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا Open ayah 71:14 in the Quran reader

حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح (کی حالتوں) کا پیدا کیا ہے

وقد خلقکم اطوارا . یعنی متعدد بار تمہاری تخلیق ‘ مختلف حالات میں ہوئی (اور ہوگی) پہلے تم عنصری تخلیق میں تھے پھر مرکب غذائی کی تخلیق میں آئے ‘ پھر نطفہ ‘ پھر خون بستہ ‘ پھر لوتھڑا ‘ پھر ہڈیاں اور گوشت بنا پھر ایک جدید تخلیق کی یعنی روح پھونک کر انسان بنایا۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین پھر تم کو موت آئے گی ‘ پھر اللہ تم کو قبر (عالم برزخ) میں لے جائے گا۔ پھر لوٹا کر دوبارہ زندہ کر دے گا ‘ پھر فرمانبردار کو ثواب دے کر اس کی عزت افزائی کرے گا اور نافرمان کو سزا دے گا۔ یہ اللہ کی وہ تخلیقی نشانیاں تھیں جو ہر شخص کی شخصیت سے تعلق رکھتی ہیں ‘ اس کے بعد آفاقی نشانیاں بیان کیں اور فرمایا :
Ayah 71:15

اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ Open ayah 71:15 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے سات آسمان کیسے اوپر تلے بنائے ہیں

الم تروا . استفہام حقیقی نہیں مجازی بمعنی تعجب ہے۔ کیف خلق اللہ سبع سموت طباقا . طباقاً یعنی ایک کے اوپر دوسرا اور دوسرے کے اوپر تیسرا وغیرہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے اور پہلے ذکر بھی ہوچکا ہے کہ ہر بالائی اور زیرینی آسمان کے درمیان پانچ سو برس کی مسافت ہے۔ وجعل المقرفیھن نورا . (تمام آسمانوں میں تو چاند نہیں ہے اس لیے) فیھن کا معنی ہے فی بعضھن یعنی تمام دنیا والے آسمان میں اللہ نے چاند پیدا کیا جیسے روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ قبیلۂ بنی نجار کے گھروں میں (سب سے اوّل مدینہ میں رونق افروز ہونے کے وقت) اترے تھے یعنی بنی نجار کے مکانوں میں سے کسی ایک مکان میں بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو نے فرمایا کہ چاند ‘ سورج کے رخ آسمانوں کی طرف ہیں اور ان کا نور آسمانوں میں ہی ہے لیکن ان کی (انعکاسی) کرنیں زمین کی طرف آتی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی اسی طرح کا قول منقول ہے۔
Ayah 71:16

وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا Open ayah 71:16 in the Quran reader

اور چاند کو ان میں (زمین کا) نور بنایا ہے اور سورج کو چراغ ٹھہرایا ہے

و جعل الشمس سراجا . یعنی سورج کو چراغ کی طرح بنایا جس طرح چراغ کی روشنی سے ماحول کی تاریکی جاتی رہتی ہے اسی طرح سورج کی روشنی سے سامنے کا اندھیرا دور ہوجاتا ہے۔ شبہ چراغ کی روشنی سورج کی روشنی سے کم ہوتی ہے پھر اعلیٰ کو ادنیٰ سے تشبیہ کیوں دی گئی ؟ ازالہ سننے والوں کے سامنے چراغ کے علاوہ کوئی روشن چیز ایسی نہیں کہ سورج کو اس سے تشبیہ دی جائے ان کے سامنے تو چراغ ہی ہے اس لیے چراغ سے تمثیل دی گئی۔ ایک آیت میں چاند کو نور قرار دیا اور دوسری میں سورج کو چراغ۔ شاید اس سے اس جانب اشارہ مقصود ہو کہ چاند کی روشنی سورج سے حاصل ہوتی ہے کیو کہ نور چراغ سے ہی حاصل ہوتا ہے۔
Ayah 71:17

وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ Open ayah 71:17 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے

واللہ انبتکم اللہ نے تم کو اگایا۔ ضمیر پر اکتفا کی بجائے (لفظ اللہ) اسم ظاہر ذکر فرمایا کیونکہ محبوب کا نام لذت آفریں ہوتا ہے۔ اُگانے سے مراد ہے پیدا کرنا ‘ روئیدگی کا لفظ پیدائش کے لفظ سے زیادہ حدوث کے مفہوم کو ظاہر کر رہا ہے اس لیے انشاء کم کی بجائے انبتکم فرمایا۔ من الارض . زمین سے پیدا کیا یعنی آدم کو مٹی سے بنایا یا یہ کہ تم کو نطفہ سے پیدا کیا اور نطفہ کو غذا سے اور غذا زمین سے پیدا ہوتی ہے۔ نباتا . مصدر یا اسم مصدر ہے یا فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے بطور دلالت التزامی فعل معذوف سمجھ میں آتا ہے اس لیے اس کے ذکر کی ضرورت نہیں یعنی اللہ نے تم کو پیدا کیا اور تم پیدا ہوگئے۔
Ayah 71:18

ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا Open ayah 71:18 in the Quran reader

پھر اسی میں تمہیں لوٹا دے گا اور (اسی سے) تم کو نکال کھڑا کرے گا

ثم یعیدکم فیھا . یعنی موت کے بعد تم کو قبروں میں لوٹا دے گا۔ و یخرجکم اخراجا . اور پھر تم کو قبروں سے نکالے گا یعنی تمہارا حشر یقیناً کرے گا۔ اخراجاً مفعول مطلق تاکیدی ہے پہلے انبتکم کی تاکید نباتا سے کی تھی۔ یہاں یخرجُکم کی تاکید کے لیے اخراجًا فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ تخلیق اوّل کی طرح حشر بھی یقینی ہے۔
Ayah 71:19

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ Open ayah 71:19 in the Quran reader

اور خدا ہی نے زمین کو تمہارے لئے فرش بنایا

واللہ جعل لکم الارض بساطا . زمین کو تمہارے لیے بستر بنایا تم اس پر لوٹتے ہو۔
Ayah 71:20

لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ Open ayah 71:20 in the Quran reader

تاکہ اس کے بڑے بڑے کشادہ رستوں میں چلو پھرو

لتسئلکوا منھا سبلا فجاجا . کشادہ راستے۔ فجاج ‘ فج کی جمع ہے۔ منھا میں مِنْ لانے کی وجہ یہ ہے کہ لتسلکوا کے اندر اتخاذ کا معنی پوشیدہ ہے یعنی تاکہ تم زمین سے کشادہ راستے اپنے چلنے کے لیے بنا لو۔
Ayah 71:21

قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ Open ayah 71:21 in the Quran reader

(اس کے بعد) نوح نے عرض کی کہ میرے پروردگار! یہ لوگ میرے کہنے پر نہیں چلے اور ایسوں کے تابع ہوئے جن کو ان کے مال اور اولاد نے نقصان کے سوا کچھ فائدہ نہیں دیا

قال نوح رب انھم عصونی . یعنی میں نے ان کو جو حکم دیا وہ انہوں نے نہیں مانا ‘ یہ جملہ گزشتہ آیت : قال ربی انی دعوت قومی لیلا و نھارا فلم یزدھم دعائی الافرارا کی معنوی تاکید ہے۔ دونوں جملوں کا حاصل ایک ہی ہے ‘ دعوت سے بھاگنا ‘ کان بند کرلینا اور آنکھوں کا چھپا لینا ‘ عین نافرمانی ہے یا کم از کم نافرمانی کا تقاضا ہے لفظ قال کو مکرر لانے کی وجہ یہ ہے کہ اوّل قول کا ذکر اداء فرض تبلیغ کے بیان کے لیے تھا ‘ اس جگہ لفظ قال بددعا کی تمہید ہے۔ واتبعوا من لم یزدہ مالہ وولدہ الاخسارا . یعنی نچلے طبقہ نے اپنے ان سرداروں کا اتباع کیا جو اپنے مال پر مغرور اور کثرت اولاد پر نازاں ہیں اور مال و اولاد نے ان کی تباہی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ آخرت میں ان کا خسران اسی وجہ سے زیادہ ہوگا۔ و مکروا . من لم یزدہ پر اس کا عطف ہے۔ من لفظاً مفرد ہے لیکن معنی کے لحاظ سے جمع ہے یا اتبعوا پر عطف ہے۔
Ayah 71:22

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ Open ayah 71:22 in the Quran reader

اور وہ بڑی بڑی چالیں چلے

مکرا کبارا . کبارًا صیغہ مبالغہ ہے کبیرٌ سے بنا ہے۔ بہت بڑا مکر۔ سرداروں کی طرف سے مکر یہ تھا کہ وہ لوگوں کو حضرت نوح کو دکھ پہنچانے اور کفر کرنے پر ابھارتے تھے اور نچلے طبقہ کا مکر یہ تھا کہ وہ حضرت کو طرح طرح سے دکھ پہنچاتے تھے ‘ یہی ان کی تدبیر تھی جس کو مکر کہا گیا۔
Ayah 71:23

وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ Open ayah 71:23 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور یعقوب اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا

و قالوا یعنی انہوں نے آپس میں کہا۔ لا تذرون الھتکم . اپنے معبودوں کی پوجا ہرگز نہ چھوڑنا۔ ولا تذرن ودا ولا سواعا ولا یغوث و یعوق و نسرا . ان معبودوں کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے ان کے نام لیے ورنہ الھتکم میں بطور عموم ان کا ذکر بھی آگیا تھا۔ بغوی (رح) نے محمد بن کعب کا قول لکھا ہے کہ یہ تمام نام ان نیک لوگوں کے تھے جو حضرت نوح اور حضرت آدم کے درمیان گزرے تھے۔ جب وہ مرگئے تو ان کی اتباع میں ان کے ساتھی ویسے ہی عبادت میں مشغول رہے جیسے پہلے تھے مگر ان کو عبادت کا ذریعہ بنا لیا۔ پھر شیطان نے ان کو بہکایا اور ترغیب دی کہ ان کی مورتیاں بنا لیں۔ مورتیوں کے سامنے ہونے سے عبادت میں چستی پیدا ہوگی اور شوق بڑھے گا۔ انہوں نے شیطانی اغواء کو مان لیا اور مورتیاں بنا لیں پھر ان کے بعد وسری نسل آئی تو شیطان نے ان سے کہا : تمہارے باپ دادا ان مورتیوں کی پوجا کرتے تھے تم بھی کرو ‘ وہ بہکاوے میں آگئے۔ مورتی پوجا کا آغاز اسی طرح ہوگیا پھر ان مورتیوں کے ہی مذکورہ بالا نام رکھ لیے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ قوم نوح کے نیک لوگوں کے یہ اسماء تھے ‘ جب وہ مرگئے تو شیطان نے ان کی قوم سے کہا کہ جس جگہ یہ لوگ بیٹھتے تھے وہاں ان کے بت نصب کر دو اور وہی بتوں کے نام رکھ دو جو ان کے تھے۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا مگر کسی نے ان بتوں کی پوجا نہیں کی جب یہ طبقہ مرگیا تو بعد والوں نے ان کو معبود بنا لیا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ طوفان میں یہ مورتیاں ڈوب گئی تھیں اور مٹی کے اندر دب گئی تھیں ‘ مدت تک دفن رہیں آخر مکہ کے مشرکوں کے لیے شیطان نے ان کو برآمد کیا۔ یہ بھی حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے جو بت قوم نوح کے معبود تھے وہ آخر میں عرب میں آگئے۔ دومۃ الجندل میں ودّ کی پرستش بنی کلب کرتے تھے۔ سواع بنی ہذیل کا بت تھا۔ یغوث ‘ اوّل بنی مرۃ کا بت تھا ‘ پھر مقام جرف میں بنی عطیف کا معبود ہوگیا اور سبا (واقع یمن) میں پہنچ گیا ‘ یعوق بنی ہمدان کا بت تھا اور نسر حمیر کے قبیلہ میں خاندان ذی الکلاع کا۔
Ayah 71:24

وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا Open ayah 71:24 in the Quran reader

(پروردگار) انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا ہے۔ تو تُو ان کو اور گمراہ کردے

وقد اضلوا . یعنی بتوں نے یا قوم نوح کے سرداروں نے۔ کثیرا . بہت لوگوں کو بہکا دیا۔ بہکانے کی نسبت بتوں کی طرف مجازی ہے (بت گمراہی کا سبب ہیں ‘ گمراہ کرنے والے نہیں ہیں) ان کے ذریعہ سے شیطان نے گمراہ کیا تھا جیسا کہ آیت : رب انھن اضللن کثیرًا من الناس میں گمراہ کرنے کی نسبت بتوں کی طرف مجازاً کی ہے۔ ولا تزد الظالمین . ظالمین سے مراد ہیں ‘ کافر۔ الا ضلا . ضلال سے مراد ہے ہلاکت اور تباہی جیسے آیت : ان المجرمین فی ضٰللٍ و سعر میں ضٰلل سے تباہی مراد ہے یا ضلال سے مراد یہ ہے کہ مکر کی وجہ سے جو مقصد انہوں نے حاصل کرنا چاہا تھا اس کا راستہ ان کو نہیں ملا یا یہ مراد ہے کہ وہ اپنے دنیوی منافع حاصل نہ کرسکے۔
Ayah 71:25

مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا Open ayah 71:25 in the Quran reader

(آخر) وہ اپنے گناہوں کے سبب پہلے غرقاب کردیئے گئے پھر آگ میں ڈال دیئے گئے۔ تو انہوں نے خدا کے سوا کسی کو اپنا مددگار نہ پایا

مما خطیئتھم اغرقوا فادخلوا نارا . مِمَّا میں من سببی ہے اور ما زائد ہے جس کو تاکید اور اظہار عظمت کے لیے ذکر کیا گیا ہے (یعنی عظیم ترین گناہوں کی وجہ سے ہی) غرق کئے گئے۔ جس سے مراد ہے طوفان میں غرق کرنا اور آگ سے مراد ہے عالم برزخ یعنی قبر کی آگ کیونکہ قبر یا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے کوئی گڑھا۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ قوم نوح عالم برزخ میں عذاب قبر میں مبتلا کردی گئی کیونکہ فاء کا مفہوم ہے (فوراً ) کسی فعل کا اوّل فعل کے بعد واقع ہوجانا اور اُدْخُلُوا ماضی کا صیغہ ہے یعنی غرق کردینے کے بعد فوراً ان کو آگ میں داخل کردیا گیا۔ فرقہ معتزلہ اور دوسرے بدعتیوں کو اس سے اختلاف ہے 1 ؂۔ انہوں نے اس آیت کی تاویل یہ کی ہے کہ آگ میں داخل کرنے اور پانی میں ڈبونے میں کچھ قابل اعتناء فرق نہیں تھا (گویا غرق کرنا ہی آگ میں داخل کرنا ہے) ڈوبنے کے بعد مستقبل میں آگ میں داخلہ یقینی ہے اسی لیے ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا (گویا آگ میں داخلہ ہوچکا اور وہ جہنم میں پہنچ گئے) یا یہ کہ سبب کے بعد مسبب کا آنا .............. 1 ؂ معتزلہ کہتے ہیں کہ جنت و دزوخ کی تخلیق ابھی نہیں ہوئی لیکن آئندہ ضرور ہوگی مستقبل میں یقینی پیدا ہوجانے والی چیز کو بصورت ماضی ذکر کردیا جاتا ہے تاکہ اس کا یقینی الوقوع ہونا معلوم ہوجائے معتزلہ عذاب قبر کے بھی منکر ہیں ان کی نظر میں عذاب کی جگہ صرف دوزخ ہے۔ اشاعرہ عذاب قبر کے قائل ہیں ‘ تورات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور صحیح احادیث میں بھی اس کا ثبوت ملتا ہے اور قرآن مجید کی اس آیت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ غرق کرنے کے بعد فوراً قوم نوح کو آگ میں داخل کردیا گیا اور ظاہر ہے کہ روز قیامت سے پہلے بغیر تفضیلی حساب کے دوزخ میں داخل ہونا خلاف روایت ہے ‘ اس لیے آگ سے دوزخ مراد نہیں ہوسکتی۔ اس کے علاوہ برقول معتزلہ دوزخ کی ابھی تخلیق ہی نہیں ہوئی ‘ اس میں داخل کیے جانے کا معنی ہی کیا ہوسکتا ہے ‘ لامحالہ آگ سے عذاب قبر ہی مراد ہے۔ لازم ہے اگرچہ اسی وقت سبب (ڈبونا) موجود تھا مگر مسبّب (یعنی جہنم میں داخلہ) یقینی تھا۔ اس لیے مسبب کو سبب کے پیچھے بغیر تراخی اور تاخیر کے ذکر کردیا۔ ہم کہتے ہیں یہ توجیہات مجازی ہیں۔ اصل کلام میں حقیقت ہے ‘ خواہ مخواہ حقیقی معنی کو چھوڑ کر مجاز کی طرف رجوع کرنا جائز نہیں۔ اس کے علاوہ بےانتہا احادیث سے عذاب قبر کا ثبوت ملتا ہے اور اجماع سلف صالحین بھی اسی پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب بندہ کو قبر میں رکھ کر اس کے ساتھی لوٹ کر جاتے ہیں اور وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہوتا ہے تو دو فرشتے آکر اس کو بٹھاتے ہیں اور ایک فرشتہ محمد ﷺ کے متعلق پوچھتا ہے ‘ تو اس شخص کے متعلق کیا کہتا تھا ؟ اگر وہ مردہ مؤمن ہے تو وہ جواب دیتا ہے میں شہادت دیتا تھا کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ ہیں۔ اس وقت مردہ سے کہا جاتا ہے اپنے آگ والے ٹھکانے کو دیکھ ‘ اللہ نے اس کے عوض تجھے جنت میں جگہ دے دی ‘ بندہ دونوں مقامات کو دیکھتا ہے لیکن اگر مردہ منافق یا کافر ہے تو اس سے وہی سوال کیا جاتا ہے اور وہ جواب میں کہتا ہے مجھے کچھ معلوم نہیں جو بات لوگ کہتے تھے میں بھی کہہ دیتا تھا۔ اس جواب پر اس سے کہا جاتا ہے تو جانتا بھی نہ تھا اور تو نے پڑھا بھی نہ تھا ‘ پھر اس کو لوہے کے ہتھوڑوں سے ایسا مارا جاتا ہے کہ جن و انس کے علاوہ برابر والے (جانور وغیرہ) اس کی چیخیں سنتے ہیں۔ (بخاری و مسلم) حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ : ﷺ نے کوئی نماز پڑھی ہو اور عذاب قبر سے اللہ کی پناہ نہ مانگی ہو۔ (بخاری و مسلم) حضرت عثمان غنی ؓ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ آپ کی داڑھی تر ہوجاتی ‘ کسی نے پوچھا حضرت آپ جنت و دوزخ کے ذکر کے وقت تو نہیں روتے اور اس پر روتے ہیں ؟ فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ قبر آخرت کی پہلی منزل ہے اگر اس سے نجات پا لی تو بعد والی (منزلیں) اس سے آسان ہیں اور اس سے نجات نہ ملی تو بعد کی منزلیں اس سے سخت ہوں گی۔ (ترمذی و ابن ماجہ) حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قبر کے اندر کافر پر ننانوے سانپ مقرر کردیئے جاتے ہیں جو قیامت بپا ہونے تک اس کو ڈستے اور کاٹتے رہیں گے۔ اگر ایک سانپ زمین پر پھونک مار دے تو سبزہ پیدا نہ ہو۔ (دارمی و ترمذی) ترمذی میں ننانوے کی جگہ ستّر ہے۔ آیت مذکورہ میں نارًا کی تنوین عظمت نار کو ظاہر کر رہی ہے یا تنکیر کے لیے ہے یعنی جس آگ میں قوم نوح کو داخل کیا گیا وہ دوزخ کی آگ سے غیر تھی۔ فلم یجدوا لھم من دون اللہ انصارا . جب مجموع کا مجموع سے مقابلہ ہوتا ہے تو ایک کے مقابل ایک کا ہوناضروری ہے (مثلاً لوگوں نے کپڑے پہن لیے۔ یعنی ہر ایک نے ایک کپڑا یا اپنا کپڑا) یعنی کسی نے کسی کو اپنا مددگار نہ پایا۔ اس جملہ میں اس بات پر تعریض ہے کہ جن معبودوں کو انہوں نے پکڑ رکھا تھا ‘ وہ ان کی مدد نہ کرسکے۔
Ayah 71:26

وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا Open ayah 71:26 in the Quran reader

اور (پھر) نوحؑ نے (یہ) دعا کی کہ میرے پروردگار اگر کسی کافر کو روئے زمین پر بسا نہ رہنے دے

و قال نوح رب لا تذر علی الارض . الارض میں لام عہدی ہے۔ مخصوص زمین یعنی قوم کی زمین۔ مطلب یہ ہے کہ اس قوم کی زمین پر نہ چھوڑ۔ من الکافرین دیارا . دیارًا : رہنے والا۔ یہ نکرہ ہے جو فعل منفی کے بعد آیا ہے ‘ اس لیے مفید عموم ہے یعنی کسی رہنے والے کو نہ چھوڑ۔ دیار کی اصل دیوار تھی جیسے سید اصل سیود ہے اگر یہ لفظ اصل میں دو وارٌ ہو تو ادغام کے بعد دَوَّار ہونا چاہیے۔
Ayah 71:27

اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا Open ayah 71:27 in the Quran reader

اگر تم ان کو رہنے دے گا تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان سے جو اولاد ہوگی وہ بھی بدکار اور ناشکر گزار ہوگی

انک ان تذرھم . یہ بددعا کی وجہ ہے۔ یضلوا . گمراہ کردیں گے ‘ یعنی گمراہ کردینا چاہیں گے۔ 1 ؂ عبادک . یعنی تیرے مؤمن بندوں کو (کافر تو گمراہ تھے ہی ‘ ان کو گمراہ کرنے کا ارادہ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا) ۔ ولا یلدوا الا فاجرا کفارا . محمد بن کعب (قرظی) مقاتل اور ربیع کا قول ہے کہ حضرت نوح نے یہ بددعا اس وقت کی جب اللہ نے ہر مؤمن روح کو قوم نوح کے مردوں کی پشت اور عورتوں کے پیٹ سے پیدا کردیا اور چالیس سال یا نوے سال تک تمام مردوں کا مادۂ تولید خشک اور بےثمر ہوگیا تو اللہ نے نوح کو خبر دی کہ آئندہ یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے اور ان کی اولاد بھی مؤمن نہ ہوگی۔ عذاب کے وقت کوئی بچہ نہ تھا کیونکہ اللہ نے فرمایا : و قوم نوح بما کذبوا الرسل اغرقناھم۔ قوم نوح نے جب پیغمبروں کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو غرق کردیا اور ظاہر ہے کہ بچہ تکذیب کر نہیں سکتا (اگر بچہ کسی کی تکذیب کرے بھی تو ناقابل عذاب ہے) اسی سے استدلال کیا جاتا ہے کہ طوفان ساری زمین پر نہیں آیا تھا بلکہ صرف قوم نوح کی زمین پر آیا تھا کیونکہ (مختلف ممالک کے رہنے والوں کا تو کوئی قصور نہ تھا اور) نزول عذاب بغیر تکذیب کے ممکن نہیں۔
Ayah 71:28

رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ Open ayah 71:28 in the Quran reader

اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور جو ایمان لا کر میرے گھر میں آئے اس کو اور تمام ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو معاف فرما اور ظالم لوگوں کے لئے اور زیادہ تباہی بڑھا

رب اغفرلی ولو الدی . حضرت نوح کے باپ کا نام لمک بن منوشلخ اور ماں کا نام سمجار بنت اتوش تھا اور دونوں مؤمن تھے (پیغمبر کسی کافر کے لیے دعاء مغفرت نہیں کرسکتا) ۔ ولمن دخل بیتی . بیت سے مراد ہے گھر اور بقول ضحاک مسجد اور بعض کے نزدیک کشتی تھی۔ مؤمنا . اس قید کے لگانے سے ابلیس (دعاء مغفرت سے) خارج ہوگیا کشتی میں وہ بھی آگیا تھا مگر کافر تھا۔ وللمومنین والمومنت . قیامت تک آنے والے تمام مؤمن مرد اور عورتیں اس میں داخل ہیں۔ ولا تزد الظالمین . الظٰلمین سے مراد ہیں کافر۔ الا تبارا . یعنی ہلاکت۔ اللہ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی (اور اس قوم کے تمام کافر تباہ کردیئے گئے۔ ) الحمد اللہ سورة نوح کی تفسیر کا ترجمہ مکمل ہوا .............. 1 ؂ اہل سنت کا قول ہے کہ گمراہ کرنے والا اور ہدایت دینے والا محض خدا ہے ‘ کوئی سوائے خدا کے کسی کو نہ گمراہ کرسکتا ہے نہ ہدایت یاب کرسکتا ہے اور یضلوا کا لفظ بظاہر اس کے خلاف ہے ‘ اس لیے حضرت مفسر (رح) نے فرمایا کہ گمراہ کرنے سے مراد ہے گمراہ کرنے کا ارادہ کرنا۔