71. Surah Nooh

نوحNoah · 28 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayah 71:1

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 71:1 in the Quran reader

ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تھا کہ اپنی قوم کو اس دن سے پہلے کہ ان پر سخت عذاب آئے متنبہ کر دو ۔

Ayahs 71:2–7

قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 71:2 in the Quran reader

نوح نے کہا اے قوم ! میں تم کو صاف صاف ڈر سنانے والا ہوں

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ Open ayah 71:3 in the Quran reader

کہ تم اللہ کی عبادت کیا کرو اور اس سے ڈرا کرو اور میرے کہنے پر چلو

یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 71:4 in the Quran reader

تاکہ وہ تمہارے گناہوں کو بخش دے اور تم کو ایک معین وقت تک مہلت دے۔ کس لیے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آجاتا ہے تو وہ ڈھیل نہیں دیتا اگر تم جانتے ہو (تو مانو) ۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ Open ayah 71:5 in the Quran reader

نوح نے کہا اے رب ! میں اپنی قوم کو رات دن بلایا کیا

فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 71:6 in the Quran reader

پھر تو وہ میرے بلانے سے اور بھی زیادہ بھاگتے رہے

وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ Open ayah 71:7 in the Quran reader

اور میں نے ان کو بتایا کہ تو انہیں بخش دے تو اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونسنے لگے اور کپڑے ڈھانکنے لگے اور ضد کرنے لگے اور بڑا غرور کرنے لگے۔

ترکیب : ان انذر ان معنی ای ویجوزان یکون مصدریۃ ‘ من قبل متعلق بانذر قال یا قوم قوم بکسرالمیم اصلہ قومی حذفت الیاء والکسرۃ دلیل علیھا والجملۃ مستانفۃ ان اعبدواللہ ان تفسیریۃ لنذیرا وھی مصدریۃ یغفر مجذوم علی انہ جواب الاوامرا لثلاثۃ و من للتبعیض وقال الاخفش زائدۃ ویؤخر معطوف علے یغفر لیلا ونہارا ظرفان لدعوت الافرارا الاستثناء مفرغ۔ لتغفر واللام للسییۃ جعلوا جواب کلہا۔ تفسیر : یہ سورة مبارکہ بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ قریش کی سرکشی اور اخیر نبی (علیہ السلام) کی ہدایتوں پر تمسخر اور وعدوں کی تکذیب اور تکبر حد کو پہنچ گیا تھا۔ اس لیے ان لوگوں کی مثل سرکش اور نافرمان قوم کا عبرتناک واقعہ سنایا جاتا ہے جو نوح (علیہ السلام) پیغمبر کی نبوۃ میں گزرا جس سے قریش کے کان بھی آشنا تھے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) لمک کے بیٹے اور وہ متوشلخ کا بیٹا اور وہ حنوک کا اور وہ یارو کا اور وہ محلل ایل کا اور وہ قینان کا اور وہ آنوس کا اور وہ شیث کا اور وہ آدم (علیہ السلام) کا۔ آدم (علیہ السلام) سے تخمیناً سولہ سو برس گزرے تھے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ اس عرصہ میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد دنیا میں بہت پھیل گئی تھی اور زمین بدکاری اور ظلم سے بھر گئی تھی۔ توریت یا اور کسی صحیفہ سے یہ صاف نہیں معلوم ہوتا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کس ملک میں اور کس شہر میں پیدا ہوئے تھے ؟ مگر اکثر مؤرخین کہتے ہیں کہ حضرت نوح آرمیناوکردستان وغیرہ ایشیائِ کو چک میں پیدا ہوئے تھے اور اس شہر اور گائوں کا نام معلوم نہیں کہ کیا تھا جہاں حضرت رہا کرتے تھے اور طوفان کے بعد جو باردگر دنیا آباد ہوئی تو سب سے پہلا یہی ملک بنی آدم کا وطن معلوم ہوتا ہے۔ انہیں اطراف میں وہ برج بنایا گیا تھا جو طوفان کے بعد آیندہ طوفان سے بچنے کے لیے لوگوں نے بنایا تھا۔ اس کے نشان اب تک بغداد کے نواح میں سیاحوں کو دکھائی دیتے ہیں اور شہر بابل اور نینوا بھی یہیں بسے تھے جو اب خاک کے تودے اور ڈھئی ہوئی عمارات کے نشان کچھ کچھ معلوم ہوتے ہیں اور کھودنے سے بڑی بڑی اینٹیں اور حیرت انگیز بنیادیں نکلتی ہیں اور بابل کی اینٹوں سے۔
Ayahs 71:8–12

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ Open ayah 71:8 in the Quran reader

پھر میں نے ان کو کھلم کھلا بھی بلایا

ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ Open ayah 71:9 in the Quran reader

پھر میں نے ان کو خبردار بھی کردیا اور چپکے چپکے بھی کہا۔

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ Open ayah 71:10 in the Quran reader

سو میں نے کہہ دیا کہ اپنے رب سے بخشش مانگو کیونکہ وہ بڑا بخشنے والا ہے

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ Open ayah 71:11 in the Quran reader

تاکہ تم پر برستے ہوئے بادل بھیجے

وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ Open ayah 71:12 in the Quran reader

اور تم کو مال اور اولاد میں ترقی دے اور تمہارے لیے باغ تیار کر دے اور تمہارے لیے نہریں جاری کر دے۔

ترکیب : جھارا منصوب علی المصدریۃ لان الدعاء یکون جھارا وغیر جھار فالجھاراحد نوعیہ ویجوزان یکون مصدرا فی موضع الحال ای مجاھرا اوذاجھارا وصفۃ مصدر محذوف بمعنی دعاء جھارا ای مجاھرابہ ‘ اسرارا مفعول مطلق من اسررت یرسل وکذاما بعدہ یمدو یجعل مجزوم علی انہ جواب الامرای استغفروا والمدار الدرورھو التحلب بالمطروانتصابہ اماعلی الحال من السماء ولم یؤنث لان مفعا لایذکرو یونث اوانہ نعت لمصدر محذوف ای ارسالا مدارا۔ تفسیر… : کسریٰ نے مدائن میں طاق بنایا اور خلفائِ بنی العباس کے عہد میں بغداد شہر کی عمارات چنی گئیں اور کوفہ اور بصرہ بھی آباد ہوا تھا۔ الغرض حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بت پرستی اور مکاری سے منع کرنا شروع کیا اور توحید اور مکارم اخلاق اور خدا پرستی کی تعلیم کی۔ لوگوں کی زندگی کے ایام پورے ہو چکنے کو تھے۔ نہ مانا اور مقابلہ کو آمادہ ہوئے۔ اب ان آیات میں خدا تعالیٰ حضرت نوح (علیہ السلام) کا بھیجنا اور قوم کو ڈر سنانا اور قوم کا نہ ماننا اور پھر نوح ( علیہ السلام) کا حق سبحانہ ٗ سے بطور شکایت قوم یہ عرض کرنا کہ میں نے ان کو یوں سمجھایا یا میرا کہا انہوں نے نہ مانا بیان فرماتا ہے، فقال انا ارسلنا نوحاً الی قومہ ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کس لیے کہ ان انذرقومک من قبل ان یاتیھم عذاب الیم کہ اپنی قوم کو عذاب الیم (دنیا کا غرق ‘ آخرت کا جہنم) کے آنے سے پہلے ڈرا اور خبردار کرتا کہ وہ اپنی بدکرداری سے باز آئیں قال یا قوم انی لکم نذیر مبین نوح نے حسب الامرقوم سے کہا اے قوم میں تمہارے لیے صاف صاف ڈرانے والا ہوں کوئی مخفی اور مبہم اور معما کی بات نہیں۔ ایسی قوم جو دریائے نکبت میں ڈوب رہی ہو اس کے ناصح کو مناسب یہی ہے صاف صاف کہے۔ ابہام اور معما میں گول گول باتیں نہ کہے کہ وہ سودمند نہیں ہوتیں۔ ان اعبدوا اللہ اول یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو، بت پرستی اور توہمات باطلہ کی پابندی چھوڑ دو اسی کے ہاتھ میں موت وحیات، نفع و نقصان ہے۔ معلوم ہوا کہ قوم بت پرست تھی۔ اس لیے پہلے توحید کا حکم دیا کیونکہ تمام مکارم اخلاق کی بنیاد توحید پرستی ہے۔ (2) واتقوہ اور اللہ سے ڈرا بھی کرو، بدکرداری اور جس قدر مکروہ کام ہیں چھوڑو۔ کس لیے کہ ایسے کاموں پر وہ سزا دیتا ہے۔ یہ ہیں اللہ سے ڈرنے کے معنی۔ معلوم ہوا کہ قوم بڑی بدکار تھی، زمین کو ان کی بدکاری اور گندے کاموں نے گندہ کر رکھا تھا۔ (3) واطیعون اور معاملات اور اصلاح رسم و رواج اور درستی اخلاق و امور تمدن و معاشرت و طریق عبادت میں میرا کہنا مانو، جس راہ میں تم کو لے چلوں چلو۔ کس لیے کہ سعادت کے پرخطر رستہ کا ہادی نبی ہوتا ہے جو قوم اس کے قدم بقدم چلے گی سعادت دارین تک پہنچے گی اور جس نے اپنے رسول کو چھوڑ دیا وہ پرخار اور عمیق گھاٹیوں میں ٹکرا ٹکرا کر مرجائے گی۔ صحابہ آنحضرت ﷺ کے قدم بقدم چلے ‘ دین و دنیا کے بادشاہ ہوگئے۔ آج کل اکثر مسلمانوں نے اپنے ہادی برحق کا رستہ چھوڑ رکھا ہے اس لیے دین و دنیا کی رسوائیاں اور ذلتیں ان پر سوار ہیں۔
Ayahs 71:13–20

مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ Open ayah 71:13 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا جو تم اللہ کی عظمت نہیں سمجھتے

وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا Open ayah 71:14 in the Quran reader

حالانکہ اس نے تم کو رنگ برنگ کا پیدا کیا ہے

اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ Open ayah 71:15 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ سات آسمان اوپر تلے (کیسے) بنائے ہیں

وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا Open ayah 71:16 in the Quran reader

اور ان میں چاند کو چمکتا ہوا بنایا اور آفتاب کو چراغ بنا دیا

وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ Open ayah 71:17 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے تم کو زمین سے اگایا لہلہاتا ہوا اگایا

ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا Open ayah 71:18 in the Quran reader

پھر وہ اسی میں تم کو لوٹا کرلے جائے گا اور اسی میں سے (پھر) باہر نکال لے گا

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ Open ayah 71:19 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے زمین کو تمہارے لیے بچھونا کردیا

لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ Open ayah 71:20 in the Quran reader

تاکہ تم اس کے کھلے رستوں میں چلا کرو۔

ترکیب : الوقار بمعنی التوقیر ترجون بمعنی تعتقدون وانما عبرعن الاعتقاد بالرجاء التابع لاونی الظن مبالغۃ وللہ اللام للتبین بیان للموقرو یمکن ان یکون صلۃ للوقار ‘ وقد خلقکم الجملۃ حال من الضمیر فی لکم اطوارا مختلفین حال من ضمیر فی خلقکم وقیل مفعول ثان لخلق بمعنی جعل قال اللیث الطور التارۃ یعنی حال بعد حال وقال ابن الانباری الطور الحال والھیئۃ وجمعۃ اطوار ‘ طباقا انتصابہ علی المصدریۃ یقال طابقہ طباقا ومطابقۃ اوحال بمعنی ذات طباقٍ فحذف ذات واقیم طباقا مقامہ نباتا منصوب علی انہ مفعول مطلق ولم یقل انباتاً کما یقتضیۃ الظاہر للدقیقۃ اللطیفۃ وھی انہ لوقال ابناتا کان صفۃ للہ تعالیٰ وھم لایعتقدونہ بل اکثر المادین بل کلھم یقولون اللہ لاینبتنا ولماقال نباتا صارصفۃ للنبات والنبات العجیب مشاہد محسوس یستدل بہ علی وجود الباری تعالیٰ شانہ فنباتا امامصدر علی حذف الزوائد ویسمیٰ اسم المصدرویجوزان یکون مصدر النبتم مقدر تقدیرہ انبتکم فنبتم نباتا حسنافیکون منصوبا بالمطاوع المقدرو عندالخلیل والزجاج ھو مصدر محمول علی المعنی لان معنی انبتکم جعلکم تنبتون نباتا وقیل المعنی اللہ انبت لکم من الارض النبات فعلی ھذا ھو مفعول بہ وعلی لا اول معنی انبتکم انشاء کم فاستعیر الانبات للانشاء لانہ اول علی الحدوث والتکون من الارض۔ فجاجا جمع فج وھوا لطریق الواسع ‘ سبلا جمع سبیل وھو مفعول فیہ۔ تفسیر : اس حکم برداری کا یہ ثمرہ ہوگا (1) یغفرلکم من ذنوبکم تمہارے گناہ بخش دے گا۔ بعض علماء کہتے ہیں من تبعیض کے لیے ہے۔ تب اس کے یہ معنی ہوں گے کہ کچھ گناہ بخش دے گا یعنی حقوق العباد معاف نہ ہوں گے، وہ ادا کرنے سے یا ان کے معاف کرنے سے معاف ہوتے ہیں۔ (2) ویؤخرکم الی اجل مسمٰی اور تم کو ایک معین مدت تک دنیا میں رہنے آرام کرنے دے گا، غارت و برباد نہ کرے گا جیسا معتوب لوگ کئے جاتے ہیں اور آخرکار یہ بھی کئے گئے مدت معین تک۔ اس لیے فرمایا کہ دنیا میں ہمیشہ کوئی نہیں ٹھہرتا اور نہ یہ ہمیشہ ٹھہرنے کا مقام ہے۔ کس لیے کہ ان اجل اللہ اذاجاء لایؤخر اللہ کا وعدہ جب آتا ہے تو ٹلتا نہیں۔ یعنی موت کا وقت معہود نہیں ٹلتا، باقی عقاب و عذاب میں گرفتار ہو کر فنا ہونا جو گناہوں پر ہوتا ہے نیکوکاری سے ٹل جاتا ہے۔ لوکنتم تعلمون اگر تم کو خبر ہے تو میری اطاعت کرو ایمان لائو، یا یہ کہ کاش وہ جانتے مگر وہ بدنصیب قوم برسوں بلکہ سینکڑوں برسوں کے سمجھانے پر بھی نہ مانی اور اس قدر عرصے میں عذاب نہ آنے سے اور بھی دلیر ہوگئی۔ تب حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے بطور مناجات عرض کرنا شروع کیا۔ قال رب انی دعوت قومی لیلاً ونہار افلم یزدھم دعائی الافرارا کہ اے رب ! میں نے اپنی قوم کو رات دن ہدایت کی طرف بلایا، وعظ و پند کیا، اس کام میں کوئی کمی نہیں کی مگر وہ اس سے اور بھی بھاگنے لگے۔ وانی کلما دعوتہم لتغفرلہم جعلوا اصابعہم فی اذانہم واستغشواثیا بہم واصروا واستکبروا استکبارا اور میں نے جب کبھی ان کو بلایا کہ تو انہیں معاف کر دے یعنی تیری طرف معافی کے لیے بلانا چاہا تو انہوں نے (1) اپنی انگلیاں کانوں میں ڈال لیں کہ کہیں میری بات سننے میں نہ آئے اور اسی پر بس نہیں کیا (2) بلکہ اپنے اوپر کپڑا ڈال لیا، منہ چھپا لیے کہ میری صورت بھی نہ دیکھیں یا یہ عداوت کرنے سے کنایہ ہے۔ کہتے ہیں کہ فلاں نے دشمن کا جامہ پہن لیا۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں اس لیے کپڑا ڈالتے تھے کہ پہچانے نہ جائیں اور ان کو پیغمبر نہ بلائے۔ (3) اور اپنے کفروبدکاری پر اڑ گئے ہرگز توبہ و ندامت نہیں کرتے۔ (4) اور بڑا غرور کرنے لگے اس پر بھی میں نے بس نہیں کی بلکہ ثم انی دعوتہم جہارا اس کے بعد بھی میں نے بآواز بلند ان کو بلایا۔ ثم انی اعلنت لہم پھر میں نے ان کو خبردار بھی کیا اور جتا دیا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے تمہارے پاس پیغام لایا ہوں۔ واسررت لہم اسرارا اور مخفی طور پر بھی سمجھا دیا یعنی ہر طور سے بلایا اور نصیحت کی۔ استغفار کے فوائد : فقلت استغفروا ربکم کہ تم اور کسی سے نہیں بلکہ اپنے پرورش کرنے والے محسن اور مربی سے معافی مانگو۔ انہ کان غفارا کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ یرسل السماء علیکم مدرارا وہ (1) تم پر بارش برسا دے گا، قحط و گرانی کے عذاب سے نجات دے گا۔ لفظی معنی یہ ہوئے کہ وہ تم پر برستے ہوئے بادل بھیجے گا سماء سے مراد بادل ہے۔ (2) ویمددکم باموال و بنین اور تم کو مال اور اولاد میں ترقی دے گا۔ اولاد نہ کہا جس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں کس لیے کہ لڑکیوں کی پیدائش سے وہ ناخوش ہوتے تھے اس لیے بنین کہا یعنی لڑکے دے گا۔ (3) ویعجل لکم جنات اور تمہارے لیے باغ تیار کر دے گا خوب میوے کھاؤ گے۔ (4) ویجعل لکم انہارا اور تمہارے لیے نہریں تیار کر دے گا۔ ان دنیا کی چیزوں کی طرف طبائع عامہ کی رغبت ہوتی ہے اور وہ قوم بھی انہیں پر فریفتہ تھی اس لیے معافی مانگنے پر ان چیزوں کا وعدہ دیا اور یہ وعدہ سچا تھا، طمع خام نہ تھی۔ اب بھی استغفار کی یہ خاصیت ہے کہ جو کوئی سچے دل سے اور عجزونیاز سے اپنے رب العالمین سے معافی مانگتا رہے گا اس کے مال و اولاد میں برکت ہوگی، قحط سالی رفع ہوگی، زمین کی پیداوار زیادہ ہوگی مجرب بات ہے۔ روایت : روایت ہے کسی نے حسن بصریٰ (رح) سے قحط سالی کی شکایت کی، فرمایا استغفار کر۔ ایک نے تنگدستی کا گلہ کیا، کسی اور نے نسل کی قلت کا شکوہ کیا۔ ایک اور نے کہا زمین کی پیداوار کم ہوتی ہے۔ سب کو آپ نے اللہ سے مغفرت مانگنے کا حکم دیا۔ ربیع بن صبیح نے کہا آپ سے لوگوں نے مختلف اغراض بیان کئے اور جدا جدا چیزیں چاہیں آپ نے سب کو استغفار کا ہی حکم دیا۔ حسن نے یہ آیت پڑھی۔ علمائے کرام فرماتے ہیں صرف زبان سے استغفر اللہ کہنا کافی نہیں بلکہ گناہوں سے باز آئے اور دل سے اور زبان کو پاک رکھے اور عجزونیاز اور خلوص دل سے استغفار کرے۔ دنیا میں اس کی یہ برکتیں ہیں آخرت میں جنت ہے۔ کس لیے کہ اہل جنت کی شان میں آیا ہے۔ وبالاسحارھم یستغفرون کہ صبح کے وقت خدا سے معافی مانگا کرتے تھے اور احادیث صحیحہ میں استغفار کے بہت سے فوائد بیان ہوئے ہیں۔ راقم الحروف بھی ہر صبح استغفر اللہ الذی لا الہ الاہوا الحی القیوم واتوب الیہ پڑھا کرتا ہے۔ مگر واہ رے بدنصیب قوم ! اس پر بھی نوح (علیہ السلام) کا کہنا نہ مانا جس پر ناچار ہو کر حضرت نوح ( علیہ السلام) نے ان سے کہا، مالکم لاترجون للہ وقارا کہ تمہیں کیا ہوگیا جو تم اللہ سے عزت و حرمت کی امید نہیں رکھتے، اپنے بتوں سے رکھتے ہو کہ فلاں عزت دے گا، فلاں مال دے گا۔ یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ تمہیں کیا ہوگیا جو تم اللہ کی توقیر و عزت نہیں خیال کرتے اور دل میں نہیں لاتے اوروں کی عزت و حرمت دل میں ہے مگر ہائے اللہ کی نہیں۔ جس لیے ان سے ڈرتے اور ان کی نذرونیاز کرتے ہو۔ دلیل توحید : نوح (علیہ السلام) نے اول توحید کا حکم دیا اس کے بعد اس کے ثبوت میں چند دلائل بیان فرمائے۔ پہلی دلیل : (1) وقدخلقکم اطوارا کہ اس نے تم کو طرح طرح سے بنایا، تم اول نطفہ تھے ‘ پھر علقہ ہوئے ‘ پھر مضغہ ہوئے ‘ پھر انسان بنے یا یہ کہ کسی کو امیر، کسی کو غریب، کسی کو خوبصورت، کسی کو بدصورت بنایا۔ پھر سب کا ڈھانچ ایک ہے مگر صورتیں جدا جدا۔ یہ نہ مادہ بےشعور کا کام ہے نہ طبیعت کی کاریگری ہے۔ آخر کوئی علیم وخبیر ہے کہ جس نے یہ بڑا کام کیا ہے۔ یہ بڑی مستحکم دلیل ہے جو انسان ہی کے حالات سے متعلق ہے اپنے آپ ہی میں غور کرے گا تو سینکڑوں نشان قدرت پائے گا۔ دلائلِ انفس کے بعد اب دلائلِ آفاق شروع کرتا ہے۔ دوسری دلیل : (1) الم تروا کیف خلق اللہ سبع سماوات طباقا کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس نے کیسے سات آسمان اوپر تلے بنائے ؟ آسمانوں کے وجود پر کئی بار بحث ہوچکی ہے۔ سماوات اس کی قدرت کاملہ کا بڑا نمونہ ہیں۔ (2) وجعل القمر فیھن نورا وجعل الشمس سراجا کہ اس نے آسمانوں میں چاند کو روشنی اور سورج کو چراغ بنایا۔ آفتاب و ماہتاب کا فرق دہریوں اور مادیوں کو حیرت میں ڈال دینے والا ہے اور ناچار ایک حکیم علیم و قدیر کا قائل ہونا پڑتا ہے۔ سوال 1 : چاند پہلے آسمان پر ہے، ساتویں میں نور ہونا کیونکر فرما دیا ؟ جواب : کبھی ایک چیز کو جو ایک جز خاص میں ہوتی ہے اس کا مجموعہ میں ہونا عرفاً بیان کردیا جاتا ہے کہتے ہیں بادشاہ ہندوستان میں ہے حالانکہ وہ اس کے ایک خاص جزو میں ہوتا ہے اسی طرح یہاں بیان فرمایا گیا۔ سوال 2: چاند نہ روشنی میں بڑھ کر ہے نہ جسم میں پھر اس کو تو نور فرمایا جو بڑھ کر بات ہے اور آفتاب کو چراغ اس میں کیا رمز ہے ؟ جواب : (1) آفتاب کی روشنی میں گرمی ہے جس طرح چراغ کی۔ اس لیے اس کو چراغ کہا۔ اور چاند میں یہ بات نہیں اس کو محض نور کہہ دیا۔ (2) ضوء جس کو چمک کہتے ہیں نور یعنی روشنی سے بڑھ کر ہے اس لیے آفتاب جو چمکتا ہوا ہے اس کو ضیا 1 ؎ اور سراج کہا کیونکہ چراغ میں چمک ہے اور اس چمک سے روشنی پیدا ہوتی ہے اس لیے ماہتاب کو روشنی فرمایا جو آفتاب کی چمک سے ہے۔ تیسری دلیل : پھر اول دلیل کی تشریح کرتے ہیں جو ایک طور سے نئی دلیل ہے۔ فقال واللہ انتبکم من الارض نباتا ثم یعیدکم فیہاو یخرجکم اخراجا کہ اللہ نے تم کو زمین سے اگایا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جو سب بنی آدم کی اصل ہیں ان کا زمین سے بنانا اور اگانا ان کی اولاد کا اگانا یا یوں کہو کہ انسان منی سے بنتا ہے اور منی زمین کی غذائوں سے اور وہ غذائیں زمین سے اگتی ہیں اس لیے کہا جاتا ہے کہ انسان کو خاک سے اگایا مگر نباتا کے لفظ میں اس اگنے کی دلکش کیفیت کی طرف اجمالاً اشارہ ہے۔ اول کیسے پودے لہلہاتے ہوئے اگتے ہیں۔ لڑکپن کا نشوونما ‘ جوانی کی بہاریں کیا دلکش نظارہ ہوتا ہے، پھر رفتہ رفتہ کس طرح سوکھتے جاتے ہیں اور پھر خاک میں جا ملتے ہیں۔ ان باتوں کو وہ خود بھی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے تھے جب اس قدیر کی یہ قدرت کاملہ ثابت ہوگئی تو گویا حشر کے دن قبروں سے نکالنے پر قادر ہونا بھی ثابت کردیا۔ ان کے مقابلہ میں یہ کہنا بھی صحیح ہوگیا کہ حشر کے دن وہ پھر تم کو اس خاک میں سے نکالے گا اور لفظ اخراجا میں اس کی کیفیت خاص کی طرف اشارہ ہے جس کو حضرات انبیاء (علیہم السلام) نے بیان فرمایا ہے۔ اس دلیل میں انسان کی ابتداء اور انتہاء اور اس کی بےثباتی سب کچھ بیان کردی اور 1 ؎ ھو الذی جعل الشمس ضیاء والقمر نورا مسئلہ مبدء و معاد پورا ثبوت کردیا جو نبوت کا اہم کام تھا۔ چوتھی دلیل : (4) واللہ جعل لکم الارض بساطا کہ اللہ نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنا دیا۔ نہ زیادہ سخت کیا نہ زیادہ نرم بلکہ رہنے ٹھہرنے ‘ چلنے پھرنے کے قابل۔ نہ یہ مادہ کا کام ہے نہ طبیعت اجسام کا نہ کسی اور کا بلکہ اس علیم و حکیم کا تسلکوا منہا سبلا فجاجا تاکہ تم کشادہ رستوں میں چلا کرو۔ اول دنیا کے گھر کے باشندے بیان فرمائے یعنی انسان اور ان کا بنانا بھی بتایا کہ کس طرح اور کس چیز سے پیدا ہوئے اور کب تک یہاں رہیں گے، آخر کیا ہوجائیں گے۔ پھر اس گھر کی چھت سبع سماوات بیان فرمائی کہ کس صناع نے کس حکمت کاملہ سے اس کو بنایا اور اس کو چاند و سورج سے منور کیا۔ رات میں ماہتاب اور دن میں آفتاب روشنی دیتے ہیں۔ کیسی عمدہ قندیلیں اس حکیم نے روشن کی ہیں اور ان میں نور کا کیا مادہ ڈالا ہے جو ہزاروں برسوں سے اسی طرح چلا آتا ہے اس کے بعد زمین کی کیفیت بیان فرمائی جو اس گھر کا فرش ہے جس سے یہ مقصود کہ دنیا کا گھر فرش اور چھت اور اس کے رہنے والے اسی نے بنائے ہیں پھر اور کسی کا کیا حق اور کون سا حصہ ہے جو اس کو بھی اس کے ساتھ پکارا جاتا ہے۔ سبلا فجاجا میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ کفروبدکاری کے رستے تنگ اور پرخار اور پرخطر ہیں ان پر نہ چلو، توحید و خدا پرستی کا وسیع رستہ ہے اس پر چلو تاکہ منزل سعادت کو پہنچو۔
Ayahs 71:21–24

قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ Open ayah 71:21 in the Quran reader

نوح نے کہا اے میرے رب انہوں نے میرا کہنا نہ مانا اور اس کو مانا کہ جس کو اس کے مال اور اولاد نے نقصان کے سوا کچھ بھی فائدہ نہیں دیا

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ Open ayah 71:22 in the Quran reader

اور انہوں نے بڑا فریب کیا

وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ Open ayah 71:23 in the Quran reader

اور قوم نے (آپس میں) کہا اپنے معبودوں کو ہرگز ہرگز نہ چھوڑنا اور نہ ود کو اور نہ سواع کو اور نہ یغوث کو اور نہ یعوق و نسر کو

وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا Open ayah 71:24 in the Quran reader

حالانکہ وہ بہت کو گمراہ کرچکے ہیں (وہ بت) ستمگاروں کو تباہی کے سوائے اور کچھ فائدہ نہیں دیا کرتے۔

ترکیب : انہم الجملۃ مفعول قال ‘ من مفعول اتبعوا والضمیر فاعلہ قریٔ ولدہ بفتح الواو واللام وبضم الواو و سکون اللام وھما سبعی بتان وقریٔ بفتح الاول و سکون الثانی وھی نعۃً وقیل جمع الولد۔ کبارا قرء الجمہور بالتشدید ای کبیر اعظیما کقراء وحمال قال المبرد الفعال للمبالغۃ وقری بکسر الکاف وتخفیف الباء ھو جمع کبیر ود قرء الجمہور بفتح الوا ووقریٔ بضمھما قال اللیث بضم الواؤ صنم لقریش وبفتحہا صنم کان لقوم نوح و فی الصحاح الود بالفتح الوتد فی لغۃ اہل نجد کانھم سکنوا التاء وادغموھا فی الدال سواعاً ھما منصرفان یغوث و یعوق عندالجمہور غیرمنصرفین فان کان عربیین فللعلمیۃ ووزن الفعل وان کان عجمیین فللعجمۃ والعلمتیہ و قری منصرفین للتناسب بماقبلھا۔ ولاتزدا لظالمین معطوف علی رب انہم عصونی وقال ابوحیان انہ معطوف علی قداضلوا و معنی الضلال الخسران والعذاب۔ تفسیر : حضرت نوح (علیہ السلام) نے دلائل بھی قائم کئے پھر بھی اس کم بخت قوم نے خدا پاک کی طرف رجوع نہ کیا اور کوئی امید ان کی ہدایت کی باقی نہ رہی تب ناامید ہو کر بارگاہ الٰہی میں یوں عرض کرنے لگے قال نوح رب انہم عصونی کہ یا رب ان لوگوں نے میرا کہا نہ مانا واتبعوا من لم یزدہ مالہ وولدہ الاخسارا اور ان ناپاک اور گمراہوں کے تابع ہوگئے کہ جن کے مال اور اولاد نے بجائے فائدہ آخرت کے ان کو اور نقصان دیا آل اور اولاد کی افزائش سے اور بھی سرکشی و گمراہی میں پڑگئے اور اترا گئے اور سمجھنے لگے کہ ہم جس طریقے پر ہیں وہی برحق ہے کس لیے کہ اگر برحق نہ ہوتا تو پھلتے پھولتے نہیں یہ شخص ناحق کی بک بک کیا کرتا ہے۔ فائدہ : خدا کی پناہ انسان بدکاری پر بدکاری و بت پرستی کرے اور خدا کی طرف سے اس کو کوئی روکنے والی سزا نہ ملے اور وہ افزائشِ مال اور اولاد میں ترقی کرتا جائے پھر وہ تو اپنے طریقہ کو کبھی برا نہیں سمجھے گا بلکہ اور بھی دل کھول کر کرے گا اور مغرور ہوتا جائے گا۔ یہ بڑا فتنہ اور آزمائش ہے۔ اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کہ بت پرست و بدکار قومیں کس طرح سے پھولتی پھیلتی ہیں۔ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے لیے دنیا یا آخرت میں کوئی سخت عذاب تیار ہے۔ ومکروامکرا کبار اور بڑے مکروفریب کئے۔ کہیں ان بتوں اور ہیاکل کی پرستش کی عجیب دلیلیں بنا رکھی تھیں اور بحث میں ہارتے نہ تھے۔ کمینوں اور لچوں شہدوں کو لالچ دے کر حضرت نوح (علیہ السلام) کی توہین و ایذا پر آمادہ کیا اور انہوں نے کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ وقالوا لاتذرن الہتکم اور بڑی دلیری سے ان کے سرداروں نے کہہ دیا کہ خبردار اپنے معبودوں کو اس شخص کے کہنے سے نہ چھوڑنا۔ ولاتذرن وواً ولاسواعاً ولایغوث ویعوق ونسرا خصوصاً ان پانچ معبودوں کو تو ہرگز نہ چھوڑنا، ود کو، سواع کو، یغوث کو، یعوق کو، نسر کو۔ 1 ؎ 1 ؎ مشہور یہ ہے کہ پانچ نیک آدمی تھے جو آدم و نوح (علیہم السلام) کے وسطی حصہ میں تھے بوجہ ان کی نیک بختی کے عامہ الناس ان پر اعتقاد رکھتے تھے۔ مرنے کے بعد لوگوں نے ان کے بت بنا کر پرستش شروع کردی۔ صاحب مواہب اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ودمرد کی صورت کا بت تھا اور سواع عورت کی صورت اور یغوث بصورت بیل اور یعوق بصورت گھوڑا اور نسر بصورت گدھ۔ طوفان میں یہ سب بت غرق ہوگئے تھے مگر ابلیس نے ان بتوں کو نکال کر عرب کو ان کی پرستش پر مامور کیا۔ چناچہ عرب کی پانچ جماعتیں ہوگئیں اور ہر ایک جماعت نے ایک بت اپنے لیے خاص کرلیا چناچہ قضاء نے ود اختیار کیا اور ہذیل نے سواع اور قبیلہ اعلیٰ و ادنیٰ نے یغوث کی پرستش شروع کی اور ہمدان نے یعوق کی اور حمیر نے نسر کی یہاں تک تمام عالم پر ظلمت کی گہری گھٹائیں چھا رہی تھیں کہ فاران کی چوٹیوں سے اس نور محمدی کا ظہور فرمایا اور ایک عالم کو مشرق سے مغرب تک روشن ومنور کیا۔ 12 منہ فائدہ 2 : دنیا میں جب حضرت آدم (علیہ السلام) آئے اور ان کی اولاد پھیلی اس کے ساتھ ہی شیطان نے بھی قابو پایا۔ تھوڑے ہی زمانے بعد حضرت کی اولاد میں بدکاری اور جو روجفا نے رواج پانا شروع کیا۔ قوت بہیمیہ اور قوت غضبیہ نے اپنا جلوہ دکھایا اور فرشتوں کا من یفسد فیہا ویسفک الدماء کہنا صادق آیا۔ قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو مار ڈالا۔ شیطان کا اثر اول انہیں دونوں قوتوں پر ہوا کرتا ہے اس کے بعد قوت عملیہ میں بھی ان کے ظلمات سے خلل ڈال دیتا ہے۔ پھر سینکڑوں توہمات باطلہ علمی حقیقی قرار پا جاتے ہیں۔ صابیہ کا حدوث : شدہ شدہ توہمات و تخیلات کی پرستش بھی شروع ہوگئی اور اس وادی جہالت میں ٹکریں مارتے مارتے ایک باقاعدہ مخلوق پرستی بھی شروع ہوئی اور ایک جدید مذہب کی بنیاد پڑگئی جو صابیہ 2 ؎ کے نام سے مشہور تھا۔ 2 ؎ یقال صبا الرجل اذامال وزاغ فیز یغھم عن طریق الحق یقال لھم الصابیۃ وقدیقال صبا الرجل اذاعشق وھوا۔ یہ فرقہ اپنے تئیں عاذیمون و ہرمس (ادریس علیہ السلام) (ا) کا پیرو کہتا تھا اس کا حدوث عہد طہمورث میں بیان کرتے ہیں۔ طہمورث ہوشنگ کا جانشین ہے اور ہوشنگ کیومرث کا جس کو پارسی آدم (علیہ السلام) کہتے ہیں۔ یہ فرقہ ایشیائِ کو چک اور شام اور عراق میں ظاہر ہوا تھا۔ یہ ہمیشہ سے فریق انبیاء کا منکر تھا اور فریق متبع انبیاء (علیہ السلام) حنفیہ اور اس کے پیروحنفا کہلاتے تھے۔ اس لیے ابراہیم (علیہ السلام) کو حنیف اس فرقہ صابیہ کے مقابلہ میں کہا گیا اور قرآن مجید میں اکثر جا اس لفظ کا انہیں معنی میں استعمال ہوا ہے جس سے مراد بت پرستی سے یکسو ہونا ہے اور بت پرستی فریق صابیہ کے اصول میں داخل ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد میں اس فریق صابیہ کا عراق میں بہت زور تھا اور انہیں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مقابلہ ہوا تھا۔ 12 یہ فرقہ بقول بعض مؤرخین طہمورث کے اول سال جلوس میں پیدا ہوا ان کا یہ مذہب تھا کہ بیشک اس جہان کا ایک پیدا کرنے والا ہے جو تمام حدوث کے دھبوں سے پاک ہے اور وہ حکیم بھی ہے اور ہم اس کے جلال تک بغیر واسطے کے پہنچ نہیں سکتے اس لیے ہم کو ان وسائط سے کام پڑا جو اس کے ہاں مقرب ہیں اور وہ روحانیات ہیں (اس لیے اس فریق کو اصحاب الروحانیات بھی کہتے ہیں) اور وہ اپنے جوہر اور افعال و حالت میں پاک ہیں جوہر میں۔ اس لیے کہ وہ مواد جسمانیہ و قوائے جسدانیہ و حرکات مکانیہ و تغیرات زمانیہ سے پاک ہیں وہ طہارت پر مجہول اور تسبیح و تقدیسِ الٰہی پر مفطور ہیں۔ پس یہ ہمارے رب اور سفارشی ہیں وہ رب الارباب ہے یہی ہماری حاجات کا پورا سامان کرتے ہیں اور افعال میں یوں کہ ایجاد و اختراع میں اور تبدل حالات میں اور مخلوقات کو کمال تک پہنچانے میں یہی واسطہ ہیں۔ حق سبحانہ ٗ کی طرف سے قوت حاصل کر کے موجودات سفلیہ تک پہنچاتے ہیں پھر کچھ ان روحانیات میں سے سات ستاروں کے مدبر ہیں اور یہ ستارے ان کے لیے ہیکل ہیں جیسا کہ ارواح انسانیہ کے لیے ان کے ابدان اور ہر ایک روحانی کے لیے ایک ہیکل ہے اور ہر ہیکل ایک آسمان میں ہے اور کچھ روحانیات کے آثار علویہ کے مدبر ہیں جو زمین اور آسمان کے درمیان ظاہر ہوتے ہیں اور کچھ ان قوتوں پر مؤکل ہیں جو تمام مخلوقات میں پائی جاتی ہیں اور کچھ ہدایت کے لیے اور کچھ ہلاکت کے لئے۔ غرض ہر کام کے لیے وہی وسائط ہیں اور حالت ان کی یہ ہے کہ وہ قرب الٰہی میں خوش و خرم ہیں۔ ان کا کھانا پینا تسبیح و تقدیس ہے۔ کوئی رکوع میں ہے ‘ کوئی سجدے میں ہے۔ وہ جو حق سبحانہ ٗ فرماتا ہے وہی کرتے ہیں۔ طریق عبادت ان کا یہ ہے ستاروں اور بتوں کی پرستش کرنا، نذر و نیاز چڑھانا، بخور جلا کر وہ منتر و عزائم پڑھنا جن میں ان ستاروں آفتاب، ماہتاب، زہرہ، مشتری، زحل، عطارد، مریخ اور بتوں کی بےحد مدح اور اپنی عاجزی ہوتی ہے اور پھر ہر ایک ستارہ کی پرستش کے بڑے بڑے دستورات ہیں۔ پھر صابیہ کے دو فریق ہوگئے اصحاب الہیا کل یعنی ستاروں کے پوجنے والے، ہر ستارہ کا مندر اس کے اوقات مخصوصہ میں مع رعایت اقلیم و دیگر شروط بنا رکھے تھے رومیوں نے جو پیٹر کا مندر یعنی مشتری کا اور اسی طرح ڈینس یعنی زہرہ کا بنایا تھا۔ دوسرے اصحاب الاشخاص کہ انہوں نے ستاروں کے خواص و آثار کے لحاظ سے مورتیں بنائیں، کسی کی بہادری کے لحاظ سے شیر کی ‘ خوبصورتی کے لحاظ سے حسین عورت کی اور وہ پھر ان مورتوں کو پوجنے لگے اور نیز ان مورتوں کے جواہر میں بھی ستاروں کی رعایت ہوتی تھی، کسی کو لوہے کا کسی کو تانبے کا کسی کو پیتل کا ڈھالتے تھے۔ یہ بت جو قوم نوح (علیہ السلام) میں تھے غالباً انہیں سیارات کے تھے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد میں پھر اس فرقہ کا زور ہوگیا تھا پھر پارسیوں اور اہل ہند و یونان و روم میں بھی صابیت نے زور کیا اور ہر ملک میں اس پر نئی قلعی چڑھی۔ اگر رگوید کے حصہ اول کو ملاحظہ کریں گے تو اس میں انہیں ارواح اور عناصر اور جنوں کی مدح کے منتر پائیں گے اور پھر ان کی پرستش اور پاٹ کے طریقے ہیں اور کچھ ان کے پوجنے والوں کے لیے جو جو مددیں پہنچیں ان کے جھوٹے سچے مبالغہ آمیز قصے ہیں۔ اسی طرح دساتیر میں ستاروں کی پرستش اور ان کی دعائیں مذکور ہیں۔ ستاروں کی پابندی اور ان سے سعادت و نحوست کا تعلق اور نیرنجات و شعبدے اور فال گنڈے اور دیگر توہمات باطلہ اسی فرقہ کے آثار ہیں۔ عرب میں بھی صابیت آئی تھی گو وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف منسوب ہونے کے سبب صابیت کو برا جانتے تھے۔ حنفاء کا طریق جو سلسلہ انبیاء (علیہم السلام) ہے ہمیشہ صابیت کا رد کرتا آیا ہے اور یہ بتلاتا رہا ہے کہ گو ملائکہ عالم کے تدبیر و تصرف میں اس کے حکم سے مصروف ہیں مگر وہ یا اور کوئی سیارہ وغیرہ جز حق سبحانہ ٗ کے نفع و ضرر نہیں دے سکتا ہر حال میں اسی کی پرستش ‘ اسی کی نذر و نیاز ‘ اسی سے مدد مانگتا ‘ اسی کو پکارنا لازم ہے اور دوسرے کو اس کے اقتدار الوہیت میں ملانا شرک ہے۔ جو اکبر الکبار ہے۔ محمدیت کا اصل منشاء توحید ہے۔ مگر افسوس تابع انبیاء میں بھی اجنبیوں کی صحبت سے صابیت نے اثر کرلیا۔ 12 منہ فائدہ 3: دنیا میں بت پرستی کا ایک تو یہی سبب ہے جو بیان ہوا اس کے سوا اور اسباب بھی ہیں۔ ازانجملہ یہ کہ خدا تعالیٰ کو ایک مجسم چیز تصور کرلیا اور یہ خیال کیا کہ ملائکہ اس کے تخت کے اردگرد کھڑے ہیں اسی خیال باطل کے مطابق انہوں نے حق سبحانہ ٗ کی بلند مورت بنائی اور چھوٹی چھوٹی ملائکہ کی اور اس کا دھیان دھرنے کے حیلہ سے انہیں مورتوں کو پوجنے لگے۔ ازانجملہ یہ کہ جو دنیا میں نیک اور نامور یا صاحب کرامات لوگ گزرے ہیں ان کی یادگار میں پہلے لوگوں نے تانبے پیتل لوہے پتھر کے بت ان کی شبیہ پر تراشے۔ بعد میں جہل بڑھتا گیا، انہیں کو پوجنے لگے اور ان کے نام کی من گھڑت مورتیں بنانی شروع کردیں۔ شبیہ کا بھی قاعدہ ملحوظ نہ رہا۔ ازانجملہ یہ کہ خدا تعالیٰ کی صفات کو محبوس اشکال میں ایک مناسبت خاصہ سے ڈھالا اس لیے ہر ایک صفت کی جدا مورت بنائی اور بابرکت اور اہل قدرت اشخاص کی نسبت کہ جن کو اپنی فہم میں معمولی درجے کی قدرت و طاقت سے زیادہ سمجھتے تھے یہ خیال کیا کہ ان میں خدا تعالیٰ گھس گیا اور ان بےچون و بےچگوں نے اس پیکر انسانی یا نباتی یا حیوانی یا علوی میں ظہور کیا تو اسی کو معبود حقیقی سمجھ کر پرستش کرنے لگے۔ ہنود کا اوتاروں اور عیسائیوں کا حضرت مسیح (علیہ السلام) کی نسبت یہی اعتقاد ہے اور اس لیے انہوں نے ان اوتاروں کی مورتیں بنائیں اور پوجنے لگے اور کہنے لگے ان مورتوں کی پرستش در اصل ان کی پرستش ہے کہ جن کی یہ مورتیں ہیں اور ان کی پرستش عین حق تعالیٰ کی پرستش اور باعث نجات ہے۔ یہ قوت متوہمہ کا ضلال مبین ہے۔ برہمابشن، مہادیو کو اس کی صفت کا مظہر جان کر پرستش کرتے ہیں۔ اسی طرح عناصر و سیارات و نباتات و حیوانات میں سے اہل ہند نے کوئی چیز نہیں چھوڑی کہ اس کو پوجتے نہ ہوں۔ فائدہ 4: ودیہ محبت و خواہش کا بت تھا اس معنی کو ظاہر کرنے کے لیے اس کو مرد کی صورت میں ڈھالا تھا اور اسی کو تمام کائنات کا باعث ایجاد جانتے تھے کہ حق سبحانہ ٗ تعالیٰ کی محبت و خواہش ہوئی کہ میں ظاہر ہوں اس لیے اس نے دنیا پیدا کی اور مرد کی صورت اس لیے بنائی کہ مرد کے دل میں عورت کی محبت ورغبت ہوتی ہے اور ہندو اس مظہر کو برہما کہتے ہیں۔ سواع کے معنی قائم کرنے اور ٹھہرنے کے ہیں شرع میں اس کو صفت قیومیت کہتے ہیں۔ یہی صفت بقائیِ عالم کا باعث ہے اس معنی کو عورت کی شکل میں متشکل کیا۔ (رح) اس لیے کہ خانہ داری و انتظام خانگی سب عورت کی ذات سے ہے۔ ہندو اس صفت کو بشن سے تعبیر کرتے ہیں اور انہوں نے بھی اس کو ایک صورت و مورت بنا رکھی ہے۔ یغوث (غوث بمعنی مدد کے) حاجت روائی و مشکل کشائی کی صفت کا بت گھوڑے کی تصویر میں بنا رکھا تھا۔ اس لیے کہ گھوڑا جلد دوڑ کر آتا ہے اس لحاظ سے کہ یہ بت اپنے پوجنے والوں کی مدد کو جلد آتا ہے۔ اہل ہند اس کا مظہر اندردیوتا کو بتاتے ہیں۔ یعوق عوق روکنے اور مصائب و اعدا کے دفع کرنے کی صفت اس کا بت بشکل شیر بنا رکھا تھا کہ یہ بہادر جانور دشمنوں پر بڑا حملہ کرتا ہے۔ اہل ہند اس کا مظہر شیو بتاتے ہیں۔ نسر گدھ یہ صفت سرمدیت کا بت بشکل گدھ اس لحاظ سے بنایا تھا کہ گدھ کی بھی بڑی عمر ہے۔ اور بھی ہر ایک خیال سے بت اور آلہء باطلہ تھے مگر ان پانچوں پر تو مٹے ہوئے تھے اس لیے بالخصوص ان کی بابت تاکید کی کہ ان کو نہ چھوڑنا۔ اور بت پرستی کی یہ توجیہات جیسا کہ ہنود کرتے ہیں مکر عظیم تھا جس کے سبب قد اضلوکثیرا ہزاروں بندگان خدا کو گمراہی میں ڈال دیا تھا۔ خدا پاک کو چھوڑ کر انہیں مظاہر کی پرستش میں اٹک کر رہ گئے اس تک رسائی نہیں ہوئی۔ فائدہ 5: طوفان کے بعد یہی پانچوں بت جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم میں پجتے تھے آنحضرت ﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے تک قبائل عرب میں بھی پجتے تھے۔ بخاری نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ قوم نوح کے بت عرب میں بھی پوجے جایا کرتے تھے۔ ود دومۃ الجندل میں قبیلہ کلب کا بت تھا اور سواع ہذیل کا یغوث مراد کا پھر بنی غطیف کا اور یعوق ہمدان کا اور نسر حمیرآل ذی الکلاع کا بت تھا۔ یہ اس قوم کے نیک لوگوں کے نام ہیں۔ جب وہ مرگئے تو شیطان کے کہنے سے ان کے نام کے بت بنا کر پوجنے لگے۔ ان کے علاوہ عرب کے اور بھی بت تھے۔ لات بنی ثقیف کا اور عزیٰ بنی سلیم و بنی غطفان و بنی نظروبنی سعد و بنی بکر کا بت تھا اور منات اہل قدید و مشلل کا بت تھا اور اہل مدینہ بھی ان کی زیارت کو جایا کرتے تھے۔ اساف و نائلہ و ہبل اہل مکہ کے بت تھے۔ اساف کو حجر اسود کے سامنے کوہ صفا پر کھڑا کر رکھا تھا اور نائلہ کو رکن یمانی کے سامنے اور ہبل کو کعبہ کے اندر۔ یہ بڑا قدآور آٹھ گز کا اونچا بت تھا۔ جنگ کے وقت اسی کا نام پکارتے تھے۔ ابوسفیان نے احد کی لڑائی میں پکارا تھا۔ اعل ہبل جس کے جواب میں حضرت عمر ؓ نے کہا اللہ اعزواجل۔ جب حضرت نوح (علیہ السلام) بالکل ناامید ہوگئے تو اس ناپاک قوم کی نسبت یہ بددعا کی۔ ولاتزد الظالمین الاضلالا کہ یہ ظالم اور بھی گمراہی میں بڑھیں کہ جلد عذاب آ کر تمام ہوجائیں یا یہ معنی کہ ان پر عذاب نازل ہو کس لیے کہ ضلال کے معنی ہلاکت و تباہی کے بھی ہیں۔ (کے دو فریق تھے۔ ایک اصحاب ہیاکل یعنی ستاروں کی شکل و صورت کو ان کی روحانیت کا مظہر جان کر پرستش کرتے تھے۔ دوسرے اصحاب اشخاص جو ان چیزوں کی مورتیں پوجا کرتے تھے۔ یہ پانچ بت بھی اسی قسم سے تھے۔ )
Ayahs 71:25–28

مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا Open ayah 71:25 in the Quran reader

اپنے بعض گناہوں کے سبب غرق کردیے گئے پھر جہنم میں داخل کئے گئے پھر انہوں نے اللہ کے سوا کوئی بھی مددگار نہ پایا

وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا Open ayah 71:26 in the Quran reader

اور نوح نے کہا اے رب ! زمین پر کسی کافر کو بستا ہوا نہ چھوڑنا۔

اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا Open ayah 71:27 in the Quran reader

اگر تو نے ان کو چھوڑ دیا تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور نسل بھی جو ہوگی تو فاجر و کافر ہوگی۔

رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ Open ayah 71:28 in the Quran reader

اے رب ! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو بھی اور اس کو بھی جو میرے گھر (کشتی) میں مومن ہو کر آگیا ہے اور ایماندار مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی اور ظالموں کو تو بربادی کے سوا اور کچھ زیادہ نہ کرنا۔

ترکیب : مما ما مزیدۃ لتاکیدوا لمعنی من۔ خطیئتھم قرء الجمہور علی جمع السلام ۃ وقری خطایاھم علی جمع التکسیر ‘ دیارا من یسکن الدیار ویدورفی الارض ولاتستعمل الافی النفی العام اصلہ دیوار علی وزن فیعال من الدارا والدورفقلبت الواویا ئً وادغمت احدھمافی الاخری قالہ الزجاج والفراء قال ابن قتیبہ مابھاد یارا ای نازل دارلافعال والا لکان دوارا۔ البیضاوی۔ مؤمنا حال لمن دخل۔ تبارا۔ ہلاکا۔ تفسیر : اس کشمکش میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو سینکڑوں برس گزر گئے اور سوائے چند شخصوں کے کوئی بھی ہدایت پر نہ آیا تب ان حضرت کی بددعا کے سبب عذاب آیا کہ آسمان سے بےانتہا پانی برسا اور زمین نے بھی اپنی سوتیں کھول دیں، تمام قوم غرق ہوئی مگر مما خطیئتھم ان کے گناہوں کے سبب۔ اور غرق ہو کر بھی چھٹکارا نہ ہوا بلکہ ادخلوا نارا مرنے کے بعد آگ یعنی جہنم میں داخل کئے گئے۔ دنیا و آخرت دونوں میں مبتلائے عذاب ہوئے۔ فلم یجدوا لھم من دون اللہ انصارا اور ان کے ان معبودوں میں سے ان کے کوئی بھی کام نہ آیا، کسی نے مدد نہ کی کوئی بچا نہ سکا۔ یہ برہان قاطع مذہب صابیہ اور بت پرستی کے ابطال کے لیے ہے اور طلسم و نجوم فال گنڈے بھی اس سے باطل ٹھہرتے ہیں۔ کس لیے کہ اس وقت کچھ بھی کوئی ٹوٹکا شعبدہ و ستارہ دیوتا کام نہ آیا اور نہ آسکتا تھا۔ معلوم ہوا کہ معبودِ حق وہی ایک ہے اسی کی عبادت اسی کی اطاعت فرض ہے۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔ حضرات انبیاء محض اس رستہ کے رہنما ہیں۔ تبوت عذاب قبر : فادخلوا کی فایٔ اور صیغہ ماضی سے اہل سنت والجماعت نے ثابت کیا ہے کہ حشر سے پہلے بھی مومن و کافر کو ثواب و عذاب اس کے اعمال و ایمان سے ملتا ہے اور عالم قبر اور عالم برزخ اسی کو کہتے ہیں۔ کس لیے کہ مرنے سے روح نہیں مرجاتی وہ ایک دوسرے عالم میں چلی جاتی ہے اور وہاں اس کو نیک و بد بدلہ ملتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ڈبوئے گئے اور فوراً آگ میں داخل کئے گئے۔ معلوم ہوا کہ حشر سے پہلے بھی آگ میں داخل ہوتے ہیں اور قرآن مجید میں اور جگہ بھی اس کا ذکر ہے۔ النار یعرضون علیہا غدوا وعشیا ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا آل فرعون اشدا العذاب کہ فرعونی صبح و شام آتش جہنم کے سامنے لائے جاتے ہیں اور قیامت کو سخت عذاب میں داخل کرنے کا حکم ہوگا اور احادیث صحیحہ صریحہ میں بھی اس کا ثبوت بہت کچھ ہے۔ مگر معتزلہ اور شیعہ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد حشر سے پہلے عذاب وثواب کا کچھ ثبوت نہیں۔ وقال نوح اور جب قوم غرق ہونے لگی تب حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس پرخار کھیتی کو کٹتے ہوئے دیکھ کر اسی قہرالٰہی کی تجلی میں حق سبحانہ ٗ سے یہ عرض کیا۔ رب لاتذرعلی الارض من الکافرین دیارا کہ اے رب زمین پر کسی کافر کو بسنے کے لیے نہ چھوڑ۔ انک ان تذرھم یضلوا عبادک ولایلدوا الافاجرا کفارا کس لیے کہ اگر آپ نے کسی کو چھوڑا تو یہ جبلی گمراہ تیرے اور بندوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ ان کا خبیث مرض اوروں تک نہ پہنچ جائے، ان سے دنیا کو پاک ہی کرنا چاہیے اور ان کی گمراہی اور کجی جس کا میں نے سینکڑوں برس تجربہ کیا ہے ان کے خمیر میں داخل ہوگئی۔ اصلی فطرت کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہا اس لیے اگر ان کی نسل سے اولاد بھی ہوگئی تو گندی بوٹی کا گندہ شوربا بدکار اور کافر ہی پیدا ہوں گے نہ ان میں ہدایت پانے کا مادہ باقی رہا نہ ان کی نسلوں میں پھر جب یہ دونوں باتیں نہیں تو ایسے خاردار ناپاک پیڑ سے باغ دنیا کو پاک ہی کرنا چاہیے۔ سوال :۔ کبھی کافروں بدوں کے گھر نیک اور نیکوں کے گھر شیطان بھی پیدا ہوجایا کرتے ہیں وہاں نطفہ کا اثر کیوں بدل جایا کرتا ہے۔ جواب :۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض کافر و فاجر ایسے ہوتے ہیں کہ ہنوز ان کی اصلی فطرت سالم ہوتی ہے اس لیے کبھی وہ خود بھی ہدایت پا جاتے ہیں اور بوقت مقاربت کبھی فطرت کا نور ان پر غالب ہوجاتا ہے۔ حالت کفر و فجور کی ظلمت کم ہوجاتی ہے اس لیے اس نطفہ سے نیک اور باخدا لوگ پیدا ہوتے ہیں۔ ابھی ان کے تخم میں وہ زہر اثر نہیں کر گیا ہے۔ برعکس اس کے کبھی نیک اور باخدا لوگوں پر بعض گناہوں یا ترک اولیٰ وغیرہ امور یا حالت قبض سے ایک ظلمت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ فضلات کے ذریعہ سے جسم میں سے جلد خروج کرنا چاہتی ہے اس وقت کے نطفے سے بدکردار ‘ ناہنجار پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ایک وجہ ہے ورنہ وہ فاعل حقیقی جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ رات میں سے دن اور دن میں سے رات ‘ نور میں سے ظلمت اور ظلمت میں سے نور ‘ زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ پیدا کرتا ہے۔ وہ اسباب کی رسیوں میں جکڑا ہوا نہیں فافھم فانہ من سوانح الوقت العزیز۔ اس کے ساتھ ہی حضرت نوح (علیہ السلام) نے جب قہرالٰہی کے شعلے بلند ہوتے دیکھے تو اس کی شان کبریائی اور بےپروائی سے ڈرے اور ڈرنا چاہیے بھی اور یہی کمال ایمان بھی ہے تو اپنے لیے اور اپنے والدین کے لیے یہ دعا کرنے لگے۔ رب اغفرلی کہ الٰہی مجھے بخش دے جو کوئی بشریت سے چوک ہوگئی ہے اس کا انتقام نہ لے، ولوالدی اور میرے ماں باپ کو بھی، اولاد پر حق ہے کہ ماں باپ کے لیے دعائے خیر کرے۔ پہلے آپ مغفور ہو لے کہ دعا مستجاب ہو اور آپ کے والدین مواحد اور باخدا تھے۔ ولمن دخل بیتی مومنا اور جو کوئی ایمان لا کر میرے گھر میں آجائے یعنی کشتی میں۔ کس لیے کہ یہ تیری پناہ کی جگہ ہے اور ان کے سوا للمومنین والمؤمنات اور جس قدر ایمان دار مرد اور عورت ہوں کہیں ہوں اور کسی زمانے میں ہوں سب کو معاف کر۔ ولاتزد الظالمین الاتبارا مگر ظالموں کو تو ہلاک ہی کر ڈال یہ بدبخت نہ بچیں۔ فائدہ : حضرت نوح (علیہ السلام) نے تمام مومنوں کے لیے دعائے خیر کی۔ پھر جس طرح ان کی بددعا کفار پر پڑی کوئی نہ بچا اور مقبول ہوگئی تو دعائے خیر کے مقبول ہونے میں کیا کلام ہے لیکن مومن ہونا چاہیے۔ اول ان پانچ ظاہری بتوں سے بچے مگر خانہ دل میں بھی یہ پانچوں بت موجود ہیں ان سے بھی دور رہے۔ ود تن پروری لذات خسیسہ کی محبت ہے۔ سواع نفس کی معشوقہ ہے جس کے لیے لذات و عیش و آرام میں غرق ہے اس لیے تکلیف و رنج سے بھاگتا اور تقویٰ و اطاعت میں قصور کرتا ہے۔ یغوث اس کے اقارب مادرو پدر و فرزند برادر ہیں جن کی مدد پر بھولا ہوا ہے جن کی دلجوئی میں حکم خدا اور رسول کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ برادری کی رسم پر مٹا ہوا ہے۔ یعوق اس کا مال و اسباب ہے کہ اس کو زکوٰۃ و صدقات سے روک رہا ہے اور بوقت ضرورت مال کی مدد پر بڑا بھروسہ ہے اور خدا سے غافل ہو رہا ہے۔ نسر اس کا شیطان ہے جو حرص و غصہ کے دونوں بازوئوں سے دفعۃً اڑ کر آتا ہے اور نیک و بد کی امتیاز کو کھو دیتا ہے اور وسواس اور خیالات فاسدہ اس کے دل میں ڈال کر ہزاروں برسوں کے اہتمام و انتظام میں لگا کر خدا سے دور پھینکتا ہے۔ ان پانچوں بتوں سے بھی بچنا چاہیے تاکہ ایمان کامل ہو اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا سے حصہ ملے۔ طوفان تمام دنیا پر آیا تھا نہ کہ بعض جگہ : فائدہ : اکثر مؤرخین کہتے ہیں کہ طوفان تمام دنیا پر آیا تھا کس لیے کہ اس وقت دنیا میں یہی بدکاری پھیلی ہوئی تھی اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی نسل کے سوا دنیا میں اور کوئی نسل باقی نہیں رہی یہ بھی ایک دلیل ہے۔ اور نیز قرآن مجید کی انہی آیات میں ولاتذرعلی الارض من الکافرین دیارا آیا ہے کہ زمین پر کسی کافر کو نہ چھوڑ۔ اور نیز کشتی میں ہر ایک چیز کا جوڑا لینا بھی اسی کی دلیل ہے کس لیے کہ طوفان اگر تمام دنیا پر نہ تھا تو ان چیزوں کی نسل منقطع ہوجانے کا کوئی سبب نہ تھا پھر کشتی میں لینے سے کیا فائدہ تھا ؟ رہا یہ شبہ کہ اور ملکوں کے لوگوں کے پاس حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت نہیں پہنچی کس لیے کہ وہ خاص ایک ملک میں رہے جہان میں پھر کر منادی کرنا ثابت نہیں پھر جب دعوت نہیں پہنچی تو بحکم آیت وماکنا معذبین حتی نبعث رسولا۔ ان کا ہلاک کرنا منافی انصاف و عدالت ہے اور اگر اور قوموں میں بھی نبی آئے تھے تو ان کا کشتی میں سوار ہونا ثابت نہیں پھر وہ کیوں ہلاک ہوئے اور کشتی کے سوا اور کوئی چیز پناہ کے لیے نہ تھی۔ بقولہ ساوی الیٰ جبل یعصمنی من الماء الخ اس کا جواب یہ ہے کہ اور ملکوں میں رسول عقل توحید و مکارم اخلاق کا معلم ضرور آیا تھا اور نیز اس زمانے میں ایسی دور دراز جگہوں میں بنی آدم پھیلے ہوئے بھی نہیں تھے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی سینکڑوں برس کی منادی ان تک پہنچنا خیال میں آسکتا ہے اور ممکن ہے کہ ان ایمانداروں میں سے جو آپ پر ایمان لائے تھے آپ کی طرف سے ان ممالیک میں گئے ہوں۔ بعض لوگ کہتے ہیں صرف آرمینا وغیرہ بلاد ایشیائِ کو چک میں طوفان آیا تھا یا اس کے آس پاس کے ملکوں میں۔ مگر عام اہل اسلام اور یہود و عیسائی سب طوفان کے قائل ہیں لیکن بعض بت پرست قومیں انکار کرتی ہیں۔ ان کا انکار محض قیاسی بات ہے کسی دلیل و حجت پر مبنی نہیں۔ اور اہل ہند کی بعض کتابوں سے بھی طوفان کا پتا چلتا ہے۔ جس کے ذکر کی اس مختصر میں گنجائش نہیں۔ خدا تعالیٰ مجھے اور میرے والدین اور جمیع ایمانداروں کو اپنے غضب و قہر کے طوفان سے دنیا و آخرت میں بچائے اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی کشتی میں پناہ دیتا رہے۔ آمین آمین۔