71. Surah Nooh

نوحNoah · 28 ayahsاحسن البیان

Ayah 71:1

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 71:1 in the Quran reader

یقیناً ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف (1) بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا دو (اور خبردار کردو) اس سے پہلے کہ ان کے پاس دردناک عذاب آجائے (2)

1۔ 1 حضرت نوح ؑ جلیل القدر پیغمبروں میں سے ہیں، صحیح مسلم وغیرہ کی حدیث شفاعت میں ہے کہ یہ پہلے رسول ہیں، نیز کہا جاتا ہے کہ انہی کی قوم سے شرک کا آغاز ہوا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قوم کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا۔ 1۔ 2 قیامت کے دن عذاب یا دنیا میں عذاب آنے سے قبل، جیسے اس قوم پر طوفان آیا۔
Ayah 71:2

قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 71:2 in the Quran reader

(نوح ؑ نے) کہا اے میری قوم ! میں تمہیں صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔ (1)

2۔ 1 اللہ کے عذاب سے اگر تم ایمان نہ لائے اسی لیے عذاب سے نجات کا نسخہ تمہیں بتلانے آیا ہوں جو آگے بیان ہو رہا ہے۔
Ayah 71:3

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ Open ayah 71:3 in the Quran reader

کہ تم اللہ کی عبادت کرو (1) اور اسی سے ڈرو (2) اور میرا کہنا مانو۔ (3)

2۔ 1 اور شرک چھوڑ دو ، صرف اسی کی عبادت کرو۔ 2۔ 2 اللہ کی نافرمانیوں سے اجتناب کرو، جن سے تم عذاب الٰہی کے مستحق قرار پاسکتے ہو، 2۔ 3 یعنی میں تمہیں جن باتوں کا حکم دوں اس میں میری اطاعت کرو، اس لئے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول اور اس کا نمائندہ بن کر آیا ہوں۔
Ayah 71:4

یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 71:4 in the Quran reader

تو وہ خود تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں ایک وقت مقرہ تک چھوڑ دے گا یقیناً اللہ کا وعدہ جب آجاتا ہے تو مؤخر نہیں ہوتا کاش تمہیں سمجھ ہوتی۔ (1)

4۔ 1 اس کے معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ایمان لانے کی صورت میں تمہاری موت کی جو مدت مقرر ہے اس کو مؤخر کرکے تمہیں مذید مہلت عمر عطا فرمائے گا اور وہ عذاب تم سے دور کردے گا جو عدم ایمان کی صورت میں تمہارے لیے مقدر تھا۔ بلکہ لامحالہ واقع ہو کر رہنا ہے اسی لیے تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ ایمان واطاعت کا راستہ فورا اپنا لو تاخیر خطرہ ہے کہ وعدہ عذاب الہی کی لپیٹ میں نہ آجاؤ۔
Ayah 71:5

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ Open ayah 71:5 in the Quran reader

(نوح ؑ نے) کہا اے میرے پروردگار ! میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری طرف بلایا ہے (1)۔

5۔ 1 یعنی تیرے حکم کی تعمیل میں، بغیر کسی کوتاہی کے رات دن میں نے تیرا پیغام اپنی قوم کو پہنچایا ہے۔
Ayah 71:6

فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 71:6 in the Quran reader

مگر میرے بلانے سے یہ لوگ اور زیادہ بھاگنے لگے (1)۔

6۔ 1 یعنی میری پکار سے یہ ایمان سے اور زیادہ دور ہوگئے ہیں۔ جب کوئی قوم گمراہی کے آخری کنارے پر پہنچ جائے تو پھر اس کا یہی حال ہوتا ہے، اسے جتنا اللہ کی طرف بلاؤ، وہ اتنا ہی دور بھاگتی ہے۔
Ayahs 71:7–8

وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ Open ayah 71:7 in the Quran reader

میں نے جب کبھی انہیں تیری بخشش کے لئے بلایا (1) انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں (2) اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا اور اڑ گئے (3) اور پھر بڑا تکبر کیا، (4)

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ Open ayah 71:8 in the Quran reader

پھر میں نے انہیں با آواز بلند بلایا۔

7۔ 1 یعنی ایمان اور اطاعت کی طرف، جو سبب مغفرت ہے۔ 7۔ 2 تاکہ میری آواز سن سکیں۔ تاکہ میرا چہرہ نہ دیکھ سکیں یا اپنے سروں پر کپڑے ڈال دیے تاکہ میرا کلام نہ سن سکیں 7۔ 3 یعنی کفر پر مصر رہے، اس سے باز نہ آئے اور توبہ نہیں کی۔ 7۔ 4 قبول حق اور امتثال امر سے انہوں نے سخت تکبر کیا۔
Ayah 71:9

ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ Open ayah 71:9 in the Quran reader

بیشک میں نے ان سے اعلانیہ بھی کہا اور چپکے چپکے بھی (1)۔

9۔ 1 یعنی مختلف انداز اور طریقوں سے انہیں دعوت دی۔ بعض کہتے ہیں، کہ اجتماعات اور مجلسوں میں بھی انہیں دعوت دی اور گھروں میں فرساً فرداً بھی تیرا پیغام پہنچایا۔
Ayah 71:10

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ Open ayah 71:10 in the Quran reader

اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواؤ (1) (اور معافی مانگو) وہ یقیناً بڑا بخشنے والا ہے (2)

10۔ 1 یعنی ایمان اور اطاعت کا راستہ اپنالو، اور اپنے رب سے گزشتہ گناہوں کی معافی مانگ لو۔ 10۔ 2 وہ توبہ کرنے والوں کے لئے بڑا رحیم و غفار ہے۔
Ayah 71:11

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ Open ayah 71:11 in the Quran reader

وہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا (1)

11۔ 1 بعض علماء اسی آیت کی وجہ سے نماز استسقاء میں سورة نوح کے پڑھنے کو مستحب سمجھتے ہیں۔ مروی ہے کہ حضرت عمر بھی ایک مرتبہ نماز استسقاء کے لئے منبر پر چڑھے تو صرف آیات استغفار (جن میں یہ آیت بھی تھی) پڑھ کر منبر سے اتر آئے۔ اور فرمایا کہ میں نے بارش کو، بارش کے ان راستوں سے طلب کیا ہے جو آسمانوں میں ہیں جن سے بارش زمین پر اترتی ہے (ابن کثیر)
Ayah 71:12

وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ Open ayah 71:12 in the Quran reader

اور تمہیں خوب پے درپے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لئے نہریں نکال دے گا۔ (1)

12۔ 1 یعنی ایمان و اطاعت سے تمہیں اخروی نعمتیں ملیں گی بلکہ دنیاوی مال ودولت اور بیٹوں کی کثرت سے بھی نوازے جاؤ گے۔
Ayah 71:13

مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ Open ayah 71:13 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی برتری کا عقیدہ نہیں رکھتے۔ (1)

13۔ 1 یعنی جس طرح اس کی عظمت کا حق ہے تم اس سے ڈرتے کیوں نہیں ؟ اور اس کو ایک کیوں نہیں مانتے اور اس کی اطاعت کیوں نہیں کرتے۔
Ayah 71:14

وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا Open ayah 71:14 in the Quran reader

حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح سے (1) پیدا کیا ہے۔

14۔ 1 پہلے نطفہ، پھر علقہ، پھر مضغہ، پھر عظام اور لحم اور پھر خلق تام، جیسا کہ (بَلْ قَالُـوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۢ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ ښ فَلْيَاْتِنَا بِاٰيَةٍ كَمَآ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ ۝) 21۔ الانبیاء :5) ، (اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَاۗءَهُمْ مَّا لَمْ يَاْتِ اٰبَاۗءَهُمُ الْاَوَّلِيْنَ 68؀ۡ) 23۔ المؤمنون :68) وغیرھا میں تفصیل گزری۔
Ayah 71:15

اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ Open ayah 71:15 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے کس طرح سات آسمان پیدا کردیئے ہیں۔ (1)

15۔ 1 جو اس کی قدرت اور کمال صناعت پر دلالت کرتے ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عبادت کے لائق صرف وہی ایک اللہ ہے۔
Ayah 71:16

وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا Open ayah 71:16 in the Quran reader

اور ان میں چاند کو خوب جگمگاتا بنایا (1) اور سورج کو روشن چراغ بنایا ہے۔

16۔ 1 جو روئے زمین کو منور کرنے والا اور اس کے ماتھے کا جھومر ہے۔ تاکہ اس کی روشنی میں انسان معاش کے لیے جو انسانوں کی انتہائی ناگزیر ضرورت ہے کسب و محنت کرسکے۔
Ayah 71:17

وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ Open ayah 71:17 in the Quran reader

اور تم کو زمین سے ایک (خاص) اہتمام سے) اگایا ہے (1)

17۔ 1 یعنی تمہارے باپ آدم ؑ کو، جنہیں مٹی سے بنایا گیا اور پھر اس میں اللہ نے روح پھونکی۔ یا اگر تمام انسانوں کو مخاطب سمجھا جائے، تو مطلب ہوگا کہ تم جس نطفے سے پیدا ہوتے ہو وہ اسی خوراک سے بنتا ہے جو زمین سے حاصل ہوتی ہے، اس اعتبار سے سب کی پیدائش کی اصل زمین ہی قرار پائی ہے۔
Ayah 71:18

ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا Open ayah 71:18 in the Quran reader

پھر تمہیں اسی میں لوٹا لے جائے گا اور (ایک خاص طریقہ) سے پھر نکالے گا (1)

18۔ 1 یعنی، مر کر پھر اسی مٹی میں دفن ہونا ہے اور پھر قیامت والے دن اسی زمین سے تمہیں زندہ کرکے نکالا جائے گا۔
Ayah 71:19

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ Open ayah 71:19 in the Quran reader

اور تمہارے لئے زمین کو اللہ تعالیٰ نے فرش بنادیا ہے۔ (1)

19۔ 1 یعنی اسے فرش کی طرح بچھا دیا ہے تم اس پر اسی طرح چلتے پھرتے ہو جیسے اپنے گھر میں بچھے ہوئے فرش پر چلتے اور اٹھتے بیٹھتے ہو۔
Ayah 71:20

لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ Open ayah 71:20 in the Quran reader

تاکہ تم اس کی کشادہ راہوں میں چلو پھرو۔ (1)

20۔ 1 یعنی اس زمین پر اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے کشادہ راستے بنا دیے ہیں تاکہ انسان آسانی کے ساتھ ایک دوسری جگہ، ایک شہر سے دوسرے شہر یا ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاسکے اس لیے یہ راستے بھی انسان کی کاروباری اور تمدنی ضرورت ہے جس کا انتظام کرکے اللہ نے انسانوں پر احسان عظیم کیا ہے۔
Ayah 71:21

قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ Open ayah 71:21 in the Quran reader

نوح ؑ نے کہا اے میرے پروردگار ! ان لوگوں نے میری تو نافرمانی کی اور ایسوں کی فرمانبرداری کی جن کے مال و اولاد نے (یقیناً) نقصان ہی میں بڑھایا ہے (1)

21۔ 1 لوگ میری نافرمانی پر اڑے ہوئے ہیں اور میری دعوت پر لبیک نہیں کہہ رہے۔ یعنی ان کے اپنے بڑوں اور صاحب ثروت ہی کی پیروی کی جن کے مال و اولاد نے انہیں دنیا اور آخرت کے خسارے میں ہی بڑھایا ہے۔
Ayah 71:22

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ Open ayah 71:22 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے بڑا سخت فریب کیا، (1)

22۔ 1 یہ مکر یا فریب کیا تھا بعض کہتے ہیں ان کا بعض لوگوں کو حضرت نوح ؑ کے قتل پر ابھارنا تھا بعض کہتے ہیں کہ مال واولاد کی وجہ سے جس فریب نفس کا وہ شکار ہوئے حتی کہ بعض نے کہا کہ اگر یہ حق پر نہ ہوتے تو ان کو یہ نعمتیں میسر کیوں آتیں ؟ بعض کے نزدیک ان کا کفر ہی بڑا مکر تھا۔
Ayah 71:23

وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ Open ayah 71:23 in the Quran reader

اور کہا انہوں نے کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو (چھوڑنا) (1)

23۔ 1 یہ قوم نوح ؑ کے وہ لوگ تھے جن کی عبادت کرتے تھے اور ان کی اتنی شہرت ہوئی کہ عرب میں بھی ان کی پوجا ہوتی رہی، یہ پانچوں قوم نوح ؑ کے نیک آدمیوں کے نام تھے، جب یہ مرگئے تو شیطان نے ان کے عقیدت مندوں کو کہا کہ ان کی تصوریں بنا کر تم اپنے گھروں اور دکانوں میں رکھ لو تاکہ ان کی یاد تازہ رہے اور ان کے تصور سے تم بھی ان کی طرح نیکیاں کرتے رہو، جب یہ تصویریں رکھنے والے فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی نسلوں کو یہ کہہ کر کہ شرک میں ملوث کردیا کہ تمہارے آباء تو ان کی عبادت کرتے تھے جن کی تصویریں تمہارے گھروں میں لٹک رہی ہیں چناچہ انہوں نے ان کی پوجا شروع کردی (صحیح بخاری)
Ayahs 71:24–25

وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا Open ayah 71:24 in the Quran reader

اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا (1) (الٰہی) تو ان ظالموں کی گمراہی اور بڑھا۔ (1)

مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا Open ayah 71:25 in the Quran reader

یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے ڈبو دیئے گئے اور جہنم میں پہنچا دیئے گئے اور اللہ کے سوا اپنا کوئی مددگار انہوں نہیں پایا۔

24۔ 1 انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا اور اس کا مرجع یہی مذکورہ پانچ بت ہیں، اس کا مطلب ہوگا کہ ان کے سبب بہت سے لوگ گمراہی میں مبتلا ہوئے۔ جیسے ابراہیم ؑ نے بھی کہا تھا۔
Ayahs 71:26–27

وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا Open ayah 71:26 in the Quran reader

اور (حضرت) نوح ؑ نے کہا کہ اے میرے پالنے والے ! تو روئے زمین پر کسی کافر کو رہنے سہنے والا نہ چھوڑ (1)

اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا Open ayah 71:27 in the Quran reader

اگر تو انہیں چھوڑ دے گا تو (یقیناً) یہ تیرے (اور) بندوں کو (بھی) گمراہ کردیں گے اور یہ فاجروں اور ڈھیٹ کافروں ہی کو جنم دیں گے۔

26۔ 1 یہ بددعا اس وقت کی جب حضرت نوح ؑ ان کے ایمان لانے سے بالکل ناامید ہوگئے اور اللہ نے بھی اطلاع کردی کہ اب ان میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا (وَاُوْحِيَ اِلٰي نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ يُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ 36؀ښ) 11۔ ہود :36) مطلب ہے کسی کو باقی نہ چھوڑ۔
Ayah 71:28

رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ Open ayah 71:28 in the Quran reader

اے میرے پروردگار ! تو مجھے اور میرے ماں باپ اور جو بھی ایماندار ہو کر میرے گھر میں آئے اور تمام مومن مردوں اور کل ایماندار عورتوں کو بخش دے (1) اور کافروں کو سوائے بربادی کے اور کسی بات میں نہ بڑھا (2)

28۔ 1 کافروں کے لیے بدعا کی تو مومنین کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔ 28۔ 2 یہ بددعا قیامت تک آنے والے ظالموں کے لئے ہے جس طرح مذکورہ دعا تمام مومن مردوں اور تمام مومن عورتوں کے لئے ہے۔