71. Surah Nooh

نوحNoah · 28 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 71:1–20

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 71:1 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو اس سے پہلے ڈرایئے کہ ان پر دردناک عذاب آجائے

قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 71:2 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اے میری قوم بلاشبہ میں تمہیں صاف طریقہ پر ڈرانے والا ہوں

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ Open ayah 71:3 in the Quran reader

کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 71:4 in the Quran reader

وہ تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور تمہیں وقت مقرر تک مہلت دے گا بلاشبہ جب اللہ کی مقرر کی ہوئی اجل آجائے تو مؤخر نہیں کی جاتی کیا خوب ہوتا اگر تم جانتے ہوتے،

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ Open ayah 71:5 in the Quran reader

انہوں نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا اے میرے رب بیشک میں نے اپنی قوم کو رات دن بلایا

فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 71:6 in the Quran reader

سو میرے بلاوے نے ان کا بھاگنا زیادہ ہی کردیا

وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ Open ayah 71:7 in the Quran reader

اور بلاشبہ جب میں نے انہیں بلایا تاکہ آپ ان کی مغفرت فرمائیں تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے اور اصرار کیا اور حد درجہ کا تکبر کیا

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ Open ayah 71:8 in the Quran reader

پھر میں نے انہیں بلند آواز سے بلایا

ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ Open ayah 71:9 in the Quran reader

پھر انہیں اعلانیہ بھی سمجھایا اور پوشیدہ طریقہ پر بھی دعوت دی۔

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ Open ayah 71:10 in the Quran reader

سو میں نے کہا کہ تم اپنے رب سے مغفرت طلب کرو بلاشبہ وہ بہت بخشنے والا ہے

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ Open ayah 71:11 in the Quran reader

وہ تم پر خوب زیادہ برسنے والی بارش بھیجے گا،

وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ Open ayah 71:12 in the Quran reader

اور مالوں سے اور بیٹوں سے تمہاری امداد فرمائے گا اور تمہارے لیے باغیچے اور تمہارے لیے نہریں بنا دے گا،

مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ Open ayah 71:13 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوا کہ اللہ کی عظمت کے معتقد نہیں ہوتے

وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا Open ayah 71:14 in the Quran reader

حالانکہ تمہیں اس نے مختلف اطوار سے پیدا فرمایا،

اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ Open ayah 71:15 in the Quran reader

کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ نے کس طرح اوپر نیچے سات آسمان پیدا فرمائے

وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا Open ayah 71:16 in the Quran reader

اور ان میں چاند کو نور بنا دیا اور سورج چراغ

وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ Open ayah 71:17 in the Quran reader

اور اللہ نے تمہیں ایک خاص طور پر زمین سے پیدا فرمایا

ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا Open ayah 71:18 in the Quran reader

اور پھر وہ تمہیں اس میں واپس لے جائے گا اور تمہیں خاص طور پر نکالے گا،

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ Open ayah 71:19 in the Quran reader

اور اللہ نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا

لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ Open ayah 71:20 in the Quran reader

تاکہ تم اس کے کھلے ہوئے رستوں میں چلو۔

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب، نعمتوں کی تذکیر، توحید کی دعوت، قوم کا انحراف اور باغیانہ روش یہاں سے سورة ٴ نوح شروع ہو رہی ہے اور بھی کئی سورتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا اور ان کی قوم کی نافرمانی کا اور قوم کے انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی وہ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ بت بنا لیتے تھے اور ان کے نام بھی تجویز کرلیتے تھے جو اس سورت کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں طرح طرح سے سمجھایا توحید کی اور اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی دعوت دی، لیکن ان لوگوں نے نہ مانا اور طرح طرح سے کٹ حجتی کرنے لگے جس کا کچھ تذکرہ سورة ٴ اعراف میں اور سورة ٴ ھود میں گزر چکا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو میں اللہ کا رسول ہوں میری بات مانو میں جس طرح کہوں اس طرح زندگی گزارو۔ ایمان قبول کرلو گے تو تمہارے گزشتہ سب گناہ معاف ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ نے جو تمہارے لیے ایک اجل مقرر فرما دی ہے وہ تمہیں اس اجل تک پہنچا دے گا (یہ اجل ایمان اور اطاعت کی صورت میں ہے) اور اگر تم کفر اور معصیت پر جمے رہے تو وہ اجل تمہارا صفایا کر دے گی جو ایمان اور اطاعت والی اجل کے علاوہ ہے اور بصورت عدم ایمان تمہیں اس کے وقت پر ہلاک ہونا ہوگا، بلاشبہ اللہ نے جو اجل مقرر فرمائی ہے اس میں تاخیر نہیں کی جاتی لہٰذا تم اس اجل کے آنے سے پہلے ایمان قبول کرلو جو بحالت کفر تمہارے ہلاک ہونے کے لیے مقرر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ اجل جب آتی ہے تو موخر نہیں کی جاتی کیا ہی اچھا ہوتا تم جانتے ہوتے حق کو مانتے، موحد بنتے۔ اوپر جن باتوں کا تذکرہ تھا یہ وہ باتیں تھیں جن کے ذریعہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے خطاب فرمایا ان کے مخاطب ان کی بات نہ مانیں تو اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے رب میں نے اپنی قوم کو رات دن دعوت دی ایمان کی طرف بلایا اور اس بارے میں کوئی کوتاہی نہیں کی سستی سے کام نہیں لیا۔ لیکن وہ لوگ الٹی ہی چال چلے۔ میں نے انہیں جس قدر بھی دعوت دی وہ اسی قدر دور بھاگے، میں نے کہا کہ ایمان قبول کرو اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرما دے گا تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں یعنی بات سننا بھی گوارا نہ کیا اور اسی پر بس نہیں کیا بلکہ کپڑے اوڑھ کر لیٹ گئے تاکہ نہ مجھے دیکھ سکیں نہ میری بات سن سکیں، انہیں کفر پر اصرار ہے اور ان میں تکبر کی شان بھی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ میری بات مانیں گے (شرک کو چھوڑ کر توحید پر آجائیں گے) تو ان کی بڑائی میں فرق آجائے گا۔ قبول حق کی راہ میں تکبر رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے مزید عرض کیا کہ اے میرے رب میں نے انہیں زور سے بھی دعوت دی۔ شاید زور سے بات کرنے سے مان جائیں لیکن وہ نہ مانے، آہستہ آہستہ طریقہ پر بھی انہیں سمجھایا بجھایا۔ حق پر لانے کی کو شس کی لیکن انہوں نے دھیان نہ دیا ان سے میں نے کہا کہ دیکھو ایمان قبول کرلو اپنے رب سے مغفرت چاہو وہ بہت بڑا معاف فرمانے والا ہے تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور خوب زیادہ بارش بھی بھیجے گا، یہ جو تمہیں قحط سالی کی تکلیف ہو رہی ہے دور ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اموال میں بھی اضافہ فرمائے گا اور بیٹوں میں بھی، وہ تمہیں باغ بھی دے گا اور نہریں بھی جاری فرما دے گا۔ اللہ تعالیٰ کی شان تخلیق اور اس کے انعامات تمہارے سامنے ہیں اس کی بنائی ہوئی چیزوں کو دیکھ رہے ہو اور یہ بھی جانتے ہو کہ یہ سب کچھ اسی نے پیدا فرمایا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت کے قائل نہیں ہوتے۔ دیکھو اس نے تمہیں مختلف اطوار سے پیدا فرمایا تم پہلے نطفہ تھے پھر جمے ہوئے خون کی صورت بن گئے، پھر ہڈیاں بن گئیں اور ان پر گوشت چڑھ گیا۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی کاریگری ہے اس نے تمہیں پیدا فرما کر احسان فرمایا لیکن تمہیں کیا ہوگیا عقلوں پر پتھر پڑگئے کہ خالق تعالیٰ شانہ کی ذات پاک پر ایمان نہیں لاتے اور اس کی وحدانیت کے قائل نہیں ہوتے۔ انسانوں کے اپنے اندر جو دلائل توحید ہیں ان کے ذکر کے ساتھ حضرت نوح (علیہ السلام) نے دوسرے دلائل کی طرف بھی متوجہ کیا اور فرمایا کیا تم یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے نیچے اوپر سات آسمان پیدا فرمائے اور ان میں چاند کو نور بنایا اور سورج کو چراغ بنایا جس طرح ایک گھر میں ایک چراغ کے ذریعے سارے گھر کی چیزوں کو دیکھ لیا جاتا ہے اسی طرح سورج کے ذریعے اہل دنیا سورج کی روشنی میں وہ سب کچھ دیکھ لیتے ہیں جو زمین کے اوپر ہے۔ مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین سے ایک خاص طریقہ پر پیدا فرمایا ہے جس کا ذکر حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے سلسلہ میں گزر چکا ہے پھر وہ تمہیں اسی زمین میں واپس فرما دے گا یعنی موت کے بعد اسی زمین میں چلے جاؤ گے پھر وہ تمہیں قیامت کے دن ایک خاص طریقہ پر قبروں سے نکالے گا ہڈیاں آپس میں مرکب ہوجائیں گی وہ ان پر گوشت پیدا فرما دے گا اور قبروں سے تیزی کے ساتھ نکل کر میدان حشر کی طرف روانہ ہوجاؤ گے۔ اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت بھی بیان فرمائی اور میدان حشر کی حاضری کا بھی احساس دلا دیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو عالم علوی کے ذکر کے بعد عالم سفلی کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ دیکھو اللہ نے تمہارے لیے زمین کو بساط یعنی فرش بنا دیا جس طرح بستر بچھا ہوا ہوتا ہے اسی طرح زمین تمہارے لیے بچھی ہوئی ہے اس زمین میں چلتے پھرتے ہو یہاں سے وہاں آتے جاتے ہو، اللہ تعالیٰ نے جو راستے بنا دیئے ہیں ان سے فائدہ اٹھاتے ہو اپنی حاجات پوری کرتے ہو، زمین کو تمہارے قابو میں دے رکھا ہے، اس سے طرح طرح کے منافع حاصل کرتے ہو۔ قال تعالیٰ فی سورة الملک ﴿هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِيْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ 1ؕ ﴾ (اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو مسخر فرمایا، سو تم اس کے راستوں میں چلو اور اللہ کے رزق میں سے کھاؤ) ۔ فائدہ : آفتاب کو جو سراج یعنی چراغ بتایا اس کے بارے میں صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ ممکن ہے سراج سے اس لیے تشبیہ دی ہو کہ چراغ میں خود اپنی ذاتی روشنی ہوتی ہے کسی دوسری چیز سے منعکس ہو کر نہیں آتی۔ سورج میں اپنی روشنی ہے جو کسی دوسرے سیارے سے نہیں آئی جبکہ چاند کی روشنی آفتاب سے منعکس ہو کر آتی ہے لہٰذا چاند کو نور اور شمس کو سراج فرمایا۔ اور ﴿وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِیْہِنَّ نُوْرًا﴾ جو فرمایا ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی فرماتے ہیں : جعلہ فیھن مع انہ فی احداھن وھی السماء الدنیا کما یقال زید فی بغداد وھو فی بقعة منھا (چاند کا ذکر فرماتے ہوئے فیھن ضمیر جمع استعمال فرمائی ہے حالانکہ وہ سماء دینا یعنی قریب والے آسمان میں ہے یہ ایسا ہی ہے جیسے کہا جاتا ہے زید بغداد میں ہے حالانکہ وہ بغداد کے ایک حصے میں ہوتا ہے) ۔ اور صاحب بیان القرآن نے اس کی ترجمانی کرتے ہوئے یوں فرمایا ہے کہ چاند گو سب آسمانوں میں نہیں مگر فیھن باعتبار مجموعہ کے فرما دیا۔ زمین کو جو یہاں سورة ٴ نوح میں بساط فرمایا اور سورة ٴ نباء میں مہاد فرمایا اور سورة الغاشیہ میں ﴿ وَ اِلَى الْاَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْٙ0020﴾ فرمایا اس سے زمین کا مسطح یعنی غیر کرہ ہونا ثابت نہیں ہوتا کیونکہ بڑے کرہ پر بہت سی چیزیں رکھ دی جائیں خواہ کتنی ہی بڑی ہوں تو یہ محسوس نہیں ہوگا یہ کرہ پر رکھی ہیں جیسے ایک گیند پر ایک چیونٹی بیٹھ جائے تو اس کے جسم کے اعتبار سے گیند ایک سطح ہی معلوم ہوگی اور یہ بات بھی سمجھ لینا چاہیے کہ زمین کا کرہ ہونا یا کرہ نہ ہونا کوئی امر شرعی نہیں ہے جس کا اعتقاد رکھا جائے زمین اگر کرہ ہو تو کسی آیت سے اس کی نفی نہیں ہوتی۔
Ayahs 71:21–24

قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ Open ayah 71:21 in the Quran reader

نوح نے کہا اے میرے رب بلاشبہ انہوں نے میری نافرمانی کی اور ان لوگوں کی بات مانی جن کے مال اور اولاد نے ان کو نقصان ہی زیادہ پہنچایا ہے

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ Open ayah 71:22 in the Quran reader

اور انہوں نے مکر کیا بڑا مکر

وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ Open ayah 71:23 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا کہ اپنے معبودوں کو ہرگز مت چھوڑو اور ہرگز مت چھوڑو ود کو اور سواع کو اور یغوث کو اور یعوق کو اور نسر کو

وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا Open ayah 71:24 in the Quran reader

اور واقعی بات یہ ہے کہ انہوں نے بہتوں کو گمراہ کردیا اور آپ ظالموں کی گمراہی اور بڑھا دیجئے،

قوم کا کفر و شرک پر اصرار، حضرت نوح (علیہ السلام) کی بد دعا وہ لوگ طوفان میں غرق ہوئے اور دوزخ میں داخل کردیئے گئے ان آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی کافر قوم کی بربادی کے لیے اور اہل ایمان کی مغفرت کے لیے دعا کرنا اور قوم کی سرکشی اور قوم کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ہے، حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میں نے ان لوگوں کو سمجھایا لیکن ان لوگوں نے میری بات نہیں مانی اہل دنیا کی بات مانتے ہیں جن کے پاس مال اور اولاد ہے ان کی نظریں انہیں پر جمی ہوئی ہیں اور وہ لوگ انہیں جو کچھ سمجھاتے اور بتاتے ہیں اسی کو مانتے ہیں وہ لوگ ایمان پر آنے نہیں دیتے کفر پر ہی جمے رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ لہٰذا دنیاوی رئیسوں اور چودھریوں کا مال اور اولاد ان کے عوام کے لیے خسارہ در خسارہ کا سبب بن گیا نہ وہ لوگ مال اولاد والے ہوتے نہ یہ لوگ انہیں بڑا مانتے نہ ان کے کہنے سے کفر پر جمتے، ان کے چودھریوں نے حق سے باز رکھنے کے لیے بڑی بڑی تدبیریں کیں اور انہیں تاکید کے ساتھ یہ سمجھایا کہ تم اپنے معبودوں کو جن کی عبادت کرتے ہو ہرگز مت چھوڑو، یہ تو انہوں نے اجمالاً سبق پڑھایا۔ پھر تفصیل کے ساتھ ان کے ایک ایک بت کا نام لے کر کہا کہ تم لوگ ہرگز نہ وَد کو چھوڑنا نہ سواع کو اور نہ یغوث کو اور نہ یعوق کو اور نہ نسر کو، ان رئیسوں اور چودھریوں نے قوم کے لوگوں کو کثیر تعداد میں گمراہ کردیا اب ان سے خیر کے آنے پر ذرا بھی امید نہیں رہی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں مزید عرض کیا کہ ان کی گمراہی اور زیادہ بڑھا دیجئے۔ ان لوگوں نے حق کو قبول نہ کیا کفر پر اور خطاؤں پر جمے رہے۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے فرمایا کہ ﴿لَنْ يُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ ﴾ اب تمہاری قوم میں سے کوئی مسلمان نہ ہوگا جنہیں ایمان لانا تھا وہ لا چكے، اور یہ تھوڑے سے لوگ تھے جیسا کہ سورة ٴ ھود میں فرمایا ﴿وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيْلٌ0040﴾ اور ان کے ساتھ نہیں ایمان لائے مگر تھوڑے سے لوگ، اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ایک کشتی بنا لیں، جب کشتی تیار ہوجائے تو اپنے اہل و عیال کو اور دیگر اہل ایمان کو اس میں سوار کرلینا، حضرت نوح (علیہ السلام) نے ایسا ہی کیا کشتی روانہ ہوگئی آسمان سے پانی برسا اور زمین سے پانی ابلا زبردست طوفان آیا، پوری کافر قوم ہلاک ہوگئی جن میں نوح (علیہ السلام) کی بیوی اور ایک بیٹا بھی تھا، حضرت نوح (علیہ السلام) قوم کی طرف سے زیادہ بددل ہوگئے تھے، دل کھٹا ہوگیا تھا کسی کے بھی ہدایت پر آنے کی امید نہ رہی اسی لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے لیے بددعا کردی تھی کہ اے رب کافروں میں سے کسی ایک شخص واحد کو بھی نہ چھوڑیئے اگر یہ زندہ رہے تو نہ ان سے ایمان لانے کی امید ہے اور نہ ان کی اولاد سے مومن ہونے کی امید ہے، ان کی جو اولاد ہوگی وہ بھی کافر اور فاجر ہی ہوگی جب ان کا یہ حال ہے تو زمین پر کیوں بوجھ بنیں، ان کا ہلاک ہونا ہی زیادہ لائق اور مناسب ہے پھر حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے لیے مغفرت کی دعا کی اس میں اپنے ساتھ والدین اور ان مسلمانوں کو جو ان کے گھر میں داخل ہوئے اور عام مومنین اور مومنات کو بھی شامل کرلیا اور آخر میں کافروں کو مزید بد دعا دے دی کہ اے رب ظالموں کی ہلاکت اور زیادہ بڑھا دیجئے۔
Ayahs 71:25–28

مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا Open ayah 71:25 in the Quran reader

اپنے گناہوں کی وجہ سے وہ لوگ غرق کردیئے گئے پھر آگ میں داخل کردیئے گئے۔ سو اللہ کے سوا انہوں نے کچھ بھی حمایتی نہ پائے۔

وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا Open ayah 71:26 in the Quran reader

اور نوح ( علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے رب زمین پر کافروں میں سے کوئی بھی رہنے والا مت چھوڑیئے،

اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا Open ayah 71:27 in the Quran reader

بلاشبہ اگر آپ نے ان کو زمین پر رہنے دیا تو یہ آپ کے بندوں کو گمراہ کردیں گے اور صرف فاجر اور کافر ہی ان کی اولاد پیدا ہوگی،

رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ Open ayah 71:28 in the Quran reader

اے میرے رب مجھے اور میرے والدین کو اور اس شخص کو جو میرے گھر میں بحالت ایمان داخل ہوا اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بخش دیجئے اور ظالموں کی ہلاکت اور بڑھا دیجئے۔

فائدہ : یہ جو فرمایا : ﴿ مِمَّا خَطِيْٓـٰٔتِهِمْ۠ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا ﴾ (اپنی خطاؤں کی وجہ سے وہ لوگ غرق کردیئے گئے پھر آگ میں داخل کردیئے گئے) اس میں چونکہ اغرقوا اور ادخلوا دونوں ماضی کے صیغے ہیں اس لیے حضرات علماء کرام نے اس آیت سے عذاب قبر کو ثابت کیا ہے عذاب قبر میں کافر مبتلا ہوتے ہیں اور بعض گناہگار اہل ایمان کا بھی ابتلا ہوتا ہے۔ احادیث شریفہ میں اس کی تفصیلات وارد ہوئی ہیں۔ ثبوت عذاب قبر کے جو دلائل ہیں ان میں ایک یہ آیت بھی ہے ظاہر ہے دوزخ کا داخلہ تو قیامت کے دن ہوگا صیغہ ماضی کے ساتھ جو فرمایا ہے کہ وہ لوگ غرق کردیئے جانے کے بعد آگ میں داخل کردیئے گئے۔ اس سے ثابت ہوا کہ برزخ میں بھی آگ کا عذاب ہے برزخ کی تکلیف کو جو موت کے بعد قیامت ہونے سے پہلے ہے عذاب قبر سے تعبیر کیا جاتا ہے، بہت سے ملحد جو نئے زمانہ میں پیدا ہوگئے ہیں۔ عذاب قبر کے منکر ہیں۔ فاتلھم اللہ انی یوفکون۔ الحمد للہ علی اتمام تفسیر سورة نوح اولا و آخرا و باطنا وظاھرا