Ayahs 71:1–21۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ یہ سورة انا ارسلنا نوحا مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ الحاکم نے ابن عباس ؓ سے رسول اللہ ﷺ تک مرفوع حدیث بیان کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نوح کو اور اس کی قوم کو قیامت کے دن لوگوں میں سب سے پہلے بلائیں گے۔ اور ان سے فرمائیں گے تم نے نوح (علیہ السلام) کو کیا جواب دیا تھا ؟ تو وہ کہیں گے کہ اس نے ہم کو نہ دعوت دی اور نہ ہم کو آپ کا پیغام پہنچایا اور ہم کو نصیحت کی، نہ ہم کو حکم دیا، اور نہ ہم کو برے کاموں سے روکا۔ اس کے جواب میں نوح (علیہ السلام) کہیں گے۔ اے میرے رب ! میں نے ان کو ایسی دعوت دی تھی جو اولین وآخرین میں پھیلی ہوئی ہے۔ ایک امت کے بعد دوسری امت تک دعوت پہنچی یہاں تک کہ خاتم النبیین احمد ﷺ تک آکر رکی اور وہ منسوخ ہوگئی اور آپ ﷺ نے اس کو پڑھا اور اس کے ساتھ ایمان لائے اور اس کی تصدیق کی۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو فرمائیں گے کہ حضرت احمد ﷺ اور اس کی امت کو بلاؤ۔ اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت اس حال میں آئے گی کہ ان کی روشنی ان کے آگے دوڑ رہی ہوگی تو نوح (علیہ السلام) محمد ﷺ اور اس کی امت سے فرمائیں گے کیا تم جانتے ہو کہ میں نے اپنی قوم کو پیغام پہنچادیا تھا اور میں نے ان کو نصیحت کرنے کی بڑی کوشش کی۔ اور میں نے سرا وجہرا بہت کوشش کی کہ میں ان کو آگ سے بچاؤں لیکن میری دعوت نے فرار اور نفرت کے سوا ان میں کچھ اضافہ نہیں کیا۔ تو رسول اللہ ﷺ اور ان کی امت کہے گی : جو کچھ آپ نے ہم سے پوچھا ہے بیشک ہم اس کے بارے میں گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے جو کچھ کہا ہے آپ اس میں سچ بول رہے ہیں تو نوح (علیہ السلام) فرمائیں گے کہ آپ اور آپ کی امت یہ کیسے جانتے ہیں حالانکہ ہم پہلی امت ہیں اور آپ آخری امت ہیں تو رسول اللہ ﷺ یہ سورة پڑھیں گے۔ آیت بسم اللہ الرحمن الحیم انا ارسلنا نوحا الی قومہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو بھیجا ان کی قوم کی طرف۔ سورة کے ختم تک۔ جب سا کو ختم کریں گے تو آپ کی امت کہے گی ہم گواہی دیتے ہیں کہ قصے سچے۔ اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ وہی غالب اور حکمت والے ہیں پھر اللہ تعالیٰ اس وقت فرمائیں گے۔ آیت وامتازوا الیوم ایہا المجرمون۔ اے مجرمو ! آج الگ ہوجاؤ۔ امام ذہبی (رح) تلخص میں فرماتے ہیں۔ اس کی اسناد رواہ بےکار، انتہائی ضعیف ہے المستدرک 4012 ھ۔
Ayah 71:33۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان اعبدوا اللہ واتقوہ واطعیون کہ اللہ کی عبادت کرو اس سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسی حکم کے ساتھ رسولوں کو بھیجا کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے۔ اور اس کی حرام کردہ چیزوں سے بچا جائے اور اس کے حکم کی اطاعت کی جائے۔
Ayahs 71:4–54۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت یغفرلکم من ذنوبکم اللہ تعالیٰ گناہ معاف کردے گا۔ یعنی شرک کو ویوخرکم الی اجل مسمی اور تمہیں ایک وقت تک مہلت دے گا بغیر سزا دئیے آیت ان اجل اللہ اذا جاء لا یوخر۔ بیشک اللہ کا وقت مقرر ہے جب آئے گا تو اس میں تاخیر نہ ہوگی یعنی موت کا وقت۔
5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان اجل اللہ اذا جاء لا یوخر سے مراد ہے کہ موت کا مقرر وقت لکھا جا چکا ہے جب اللہ کا مقرر وقت آئے گا تو موخر نہ ہوگا۔
Ayah 71:6قوم نوح کی ہٹ دھرمی
6۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت فلم یزدہم دعائی الا فرارا پھر وہ میرے بلانے سے اور بھی زیادہ بھاگتے رہے کے بارے میں روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے ایک آدمی اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر نوح (علیہ السلام) کے پاس جاتا تھا۔ اور اپنے بیٹے سے کہتا تھا۔ اس نوح سے بچنا یہ تجھ کو دھوکے میں نہ ڈالے بیشک میرا باپ اسی طرح مجھے لے کر گیا۔ اور اس وقت میں تیری طرح بچہ تھا۔ اور اس سے مجھے ڈرایا تھا جیسے میں نے تجھ کو ڈرارہا جیسے میں تجھ کو ڈرا رہا ہوں۔
Ayah 71:77۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت جعلوا اصابعہم فی اذنہم انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں رکھ لیں تاکہ آپ جو کہتے ہیں اس کو نہ سن سکیں۔ آیت واستغشوا ثیابہم اور انہوں نے اپنے کپڑے اوڑھ لیے۔ تاکہ وہ ان کے لیے ان جان ہوجائیں اور وہ ان کو نہ پہچان سکیں۔ آیت واستکبرا واستکبارا اور بہت بڑا تکبر کیا یعنی انہوں نے توبہ کرنا چھوڑ دی۔
8۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واستغشوا ثیابہم یعنی انہوں نے اپنے چہروں کو ڈھانک لیا تاکہ وہ نوح (علیہ السلام) کو نہ دیکھیں اور نہ ہی آپ کا کلام سنیں۔
9۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت واسغشوا ثیابہم یعنی وہ کپڑوں میں لپٹ جاتے۔
Ayahs 71:8–910۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ثم انی دعوتہم جہارا پھر میں ان کو کھلم کھلا بھی بلایا یعنی اعلانیہ طور پر ثم انی اعلنت لہم پھر میں نے انہیں اعلانیہ بھی کہا یعنی میں نے ان کو بلند آواز کے ساتھ دعوت دی۔ آیت واسررت لہم اسرارا اور مخفی طور پر کہا یعنی ان کو چپکے چپکے بھی دعوت دی۔
Ayahs 71:10–11استغفار کی کثرت اور اس کے فوائد
1۔ ابن مردویہ نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا استغفار کی کثر کرو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم کو استغفار کی تعلیم اس لیے دی کہ وہ تمہاری مغفرت کرنا چاہتا ہے۔
Ayah 71:122۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویجعل لکم جنت ویجعل لکم انہرا۔ اور تمہارے لیے باغ بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنادے گا۔ سے مراد ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو دیکھا کہ ان کی گردنیں کٹ رہی ہیں دنیا کی حرص و لالچ میں۔ تو انہوں نے فرمایا اللہ کی اطاعت کی طرف آجاؤ بلاشبہ اس میں دنیا اور آخرت دونوں کا پانا ہے۔
Ayah 71:133۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید و بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت مالکم لا ترجون للہ وقارا تمہیں کیا ہوگیا تم اللہ کی عظمت کا خیال نہیں رکھتے۔ یعنی تم اللہ کے لیے عظمت کو نہیں جانتے۔
4۔ ابن جریر و بیہقی نے ابن عباس ؓ سے آیت مالکم لا ترجون للہ وقارا کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے عظمت مراد ہے آیت مالکم لا ترجون للہ وقارا۔ حالانکہ اس نے تم کو کئی مرحلوں میں گذار کر پیدا کیا یعنی نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے۔
5۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت مالکم لا ترجون للہ وقارا کے بارے میں روایت کیا کہ تم نہیں پہچانتے اللہ کے لیے اس کے عظمت و رفعت کے حق کو۔
6۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے العظمہ میں ابن عباس ؓ سے آیت مالکم لا ترجون للہ وقارا کے بارے میں روایت کیا کہ تم اللہ کی عظمت واخوت کا خوف نہیں کرتے۔
7۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت مالکم لا ترجون للہ وقارا کے بارے میں روایت کیا کہ تم اس کی سزا سے نہیں ڈرتے اور اس کے ثواب کی امید نہیں رکھتے۔
8۔ الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت مالک لا ترجون للہ وقارا سے کیا مراد ہے کہ تم اللہ کی عظمت کا خوف نہیں رکھتے ہو۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے ابو ذویب کا قول نہیں سنا
ترجمہ : جب شہد کی مکھی نے اسے ڈسا تو وہ اس کے ڈسنے سے نہ ڈرا اور مکھیں کے چھتے میں کام کرنے والوں نے اس کی مخالفت کی۔
اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بزرگی کا لحاظ کرنا
9۔ عبدالرزاق نے المصنف میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ ننگے ہو کر نہا رہے ہیں ان پر کوئی چادر نہی ہے۔ آپ نے کھڑے ہو کر زور سے آواز دی۔ آیت مالکم لا ترجون للہ وقارا۔ تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کی پرواہ نہیں کرتے۔
10۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی نے حسن (رح) سے آیت مالکم لا ترجون للہ وقارا کے بارے میں روایت کیا کہ تم لوگ اللہ کے حق کو نہیں پہچانتے اور نہ اس کی نعمت کا شکر کرتے ہیں۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے۔
Ayah 71:1411۔ ابن المنذر نے مطر (رح) سے آیت وقد خلقکم اطوارا کے بارے میں روایت کیا اطوارا سے مراد ہے کہ پہلے نطفہ پھر جما ہوا خون پھر گوشت کی بوٹی پھر ہڈی ایک مرحلے کے بعد دوسرا مرحلہ اور ایک پیدائش کے بعد دوسری پیدائش میں۔
12۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
13۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید والبیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت مالکم لا ترجون للہ وقارا سے مراد ہے کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم لوگ اللہ کی عظمت کی پرواہ نہیں کرتے۔ آیت وقد خلقکم اطوارا واللہ کہ اس نے تمہیں کئی مرحلوں سے گزار کر پیدا فرمایا۔ یعنی پہلے منی سے، پھر نفطہ سے، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر اس سے جس کا ذکر کیا گیا یہاں تک کہ میں اس کی خلقت پوری ہوگئی۔
14۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں یحییٰ بن رافع (رح) سے آیت خلقکم اطوارا کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ پہلے نطفہ سے، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر گوشت کے لتھڑے سے۔
Ayah 71:1515۔ ابن المنذر وابو الشیخ نے العظمہ میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت خلق اللہ سبع سموت طباقا اوپر تلے سات آسمان بنائے جو بعض بعض کے اوپر ہیں۔ ہر زمین و آسمان کے درمیان مخلوق اور امر ہے اور آیت وجعل القمر فیہن نورا وجعل الشمس سراجا اور ان میں چاند کو چمکتا ہوا بنایا اور سورج کو چراغ بنایا۔ اس طرح پر کہ ان کا چہرہ آسمان میں اور ان کی پیٹھ تمہاری طرف ہے۔
Ayah 71:1616۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے آیت وجعل القمر فیہن نورا کے بارے میں روایت کیا کہ چاند کا نور ان سب میں روشنی پھیلاتا ہے جیسے اگر سات شیشے ہوں اور ان کے نیچے یک شہاب ہو تو وہ ان سب کو روشن کردے۔ اسی طرح چاند کا نور سارے آسمانوں کو روشن کرتا ہے ان کی صفائی اور شفاف ہونے کی وجہ سے۔
17۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذ اور ابو الشیخ نے العظمہ میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ سورج اور چاند دونوں کے چہرے آسمان کی طرف ہیں۔ اور ان کی پشت زمین کی طرف ہے اور میں اس کے بارے میں تم پر میں اللہ کی کتاب میں ایک آیت پڑھتا ہوں اور وہ یہ ہے آیت وجعل القمر فیہن نورا وجعل الشمس سراجا۔
18۔ عبد بن حمید وابن المنذ اور ابو الشیخ نے العظمہ میں عطا (رح) سے آیت وجعل القمر فیہن نورا کے بارے میں روایت کیا کہ چاند کا نور تمام آسمان والوں کو اس طرح روشنی پہنچاتا ہے جیسے زمین والوں کو روشن کرتا ہے۔
19۔ ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے آیت وجعل القمر فیہن نورا کے بارے میں روایت کیا کہ چاند کا چہرہ آسمانوں کو روشن کرتا ہے اور اس کی پیٹھ زمین کر روش کرتی ہے۔
ساتوں آسمانوں میں نور کا روشن ہونا
20۔ عبد بن حمید نے شہر بن حوشب (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ اور کعب احبار ؓ جمع ہوئے۔ اور ان کے درمیان کچھ تلخی ہوئی تو دونوں نے ایک دوسرے کو عتاب کیا پھر یہ ختم ہوگئی۔ عبداللہ بن عمرو ؓ نے کعب ؓ سے فرمایا مجھ سے سوال کر جو تو چاہے۔ اور تو کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کرے گا مگر میں تجھ کو اس بارے میں بتاؤں گا اور اپنے قول کی تصدیق قرآن پاک سے لاؤں گا۔ کعب ؓ نے ان سے پوچھا تمہاری کیا رائے ہے سورج اور چاند کی روشنی کے بارے میں۔ کیا یہ سات آسمانوں میں اسی طرح جیسے وہ زمین میں ہے ؟ فرمایا ہاں کیا تم نے اللہ تعالیٰ کے قول کی طرف نہیں دیکھا۔ آیت خلق اللہ سبع سموت طباقا وجعل القمر فیہن نورا۔ اوپر تلے سات آسمان پیدا فرمائے اور ان میں چاند کو چمکتا ہوا بنایا۔
21۔ عبد بن حمید وابو الشیخ فی العظمہ والحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے آیت وجعل القمر فیہن نورا کے بارے میں روایت کیا کہ چاند کا چہرہ آسمان میں عرش تک ہے اور اس کی پشت زمین کی طرف ہے۔
22۔ عبد بن حمید نے کلبی کے طریق سے ابو صالح سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے آیت وجعل القمر فیہن نورا کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جب آسمانوں کو تخلیق فرمایا تو ان میں زمین والوں کی طرح روشنی کو بھی پیدا فرمایا اور آسمان میں اس کی روشنی میں سے کوئی چیز نہیں۔
Ayahs 71:17–191۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت واللہ انبتکم من الارض نباتا اور اللہ ہی نے تمہیں زمین سے ایک خاص طور پر پیدا کیا۔ یعنی آدم (علیہ السلام) کو ساری سطح زمین سے پیدا کیا گیا۔
Ayah 71:202۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت سبلا فجاجا کھلے راستے سے مراد ہے کہ مختلف راستے اور نشانات۔
3۔ سعید بن منصور نے قتادہ (رح) سے روایت کیا سبلا فجاجا سے مراد ہے مختلف راستے اور نشانات۔
Ayah 71:214۔ سعید بن منصور نے حسن اور ابورجاء رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ دونوں اس طرح پڑھا کرتے تھے ” مالہ وولدہ “ اس کا مال اور اس کی اولاد۔
5۔ عبد بن حمید نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ سورة نوح، سورة زخرف اور سورة مریم میں سجدہ کے بعد ولد پڑھتے تھے اور فرماتے تھے الولد الکبیر والولد الواحد۔
Ayah 71:226۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومکروا مکرا کبارا اور انہوں نے بڑی زبردست چال چلی۔ اس میں بارا سے مراد ہے عظیما یعنی انہوں نے بڑے بڑے مکروفریب کیا۔
Ayahs 71:23–257۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت ولا تذرن ودا ولا سواعا ولا یغوث ویعوق ونسرا۔ اور ہرگز نہ چھوڑو ود کو، سواع کو، یغوث کو، یعوق کو اور نسر کو۔ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر، تمام بت ہیں کہ نوح کے زمانہ میں جن کی عبادت کی جاتی تھی۔
8۔ بخاری وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ بت اور معبودان باطلہ جو نوح ﷺ کی قوم میں تھے وہی بعد میں عرب میں آگئے۔ ود دومۃ الجندل کے قبیلہ بنی کلب کا بت تھا اور سواع ہذیل والوں کا بت تھا اور یغوث بنی مراد قبیلہ کے لیے تھا پھر بنی غطیف کے لیے سبا کے پاس تھا۔ اور یعوق بنی ہمدان کا بت تھا۔ اور نسر آل ذی الکلاع کے قبیلہ حمیر کے لیے تھا۔ اور یہ سب قوم نوح میں سے نیک لوگوں کے نام تھے۔ جب یہ نیک لوگ فوت ہوئے تو شیطان نے ان کی قوم کو حکم دیا کہ وہ لوگ جہاں بیٹھا کرتے تھے وہ ان مقامات پر ان کے مجسمے نصب کردیں اور انہیں کے ناموں کے ساتھ ان کے نام رکھ دیں تو انہوں نے ایسا ہی کیا لیکن ان کی عبادت نہیں کی جاتی تھی یہاں تک کہ جب یہ لوگ مرگئے اور علم اٹھ گیا تو ان کی عبادت کی جانے لگی۔
9۔ ابن ابی حاتم نے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) بیمار ہوئے تو ان کے پاس ان کے بیٹے۔ ود، یغوث یعوق، سراع اور نسر موجود تھے اور وہ ان میں بڑا تھا اور سب سے بڑھ کر متقی اور نیک تھا۔
10۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ نے ابو عثمان (رح) سے روایت کیا کہ میں نے یغوث بت کو دیکھا جو شیشہ کا ایک بت تھا۔ اسے ننگے اونٹ پر اٹھایا جاتا تھا۔ جب وہ بیٹھ جاتا تو کہتے یقینی بات ہے کہ تمہارا رب اس منزل پر راضی ہوگیا۔
11۔ الفاکہی نے عبیداللہ بن عبید بن عمیر رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں سب سے اول جو بت بنائے گئے تھے وہی اس طرح کہ بیٹے اپنے آباء کی اطاعت کرتے تھے۔ پھر ایک آدمی ان میں سے مرگیا تو اولاد پر گراں گزرا اور وہ اس صدمہ پر صبر نہیں کرسکا۔ تو اس نے اس کی صورت پر ایک مجسمہ بنا لیا جب بھی اسے دیکھنے کا شوق ہوتا تو اس کو دیکھ لیتا پھر وہ مرگیا تو اس کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا جیسے اس نے کیا تھا پھر سب اس پر چلنے لگے جب آباء چلے گئے تو بیٹوں نے یہ کہنا شروع کردیا ہمارے آباء نے یہ اس لیے بنائے تھے کہ یہی ان کے معبود تھے۔ چناچہ وہ ان کی عبادت کرنے لگے۔
12۔ عبد بن حمید نے محمد بن کعب ؓ سے آیت ولا یغوث ویعوق ونسرا۔ وقد اضلوا کثیرا۔ اور تم نہ چھوڑو یغوث کو یعوق کو اور نسر کو۔ اور ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ نیک اور صالح لوگوں کی ایک جماعت تھی حضرت آدم اور نوح (علیہ السلام) کے درمیان زمانہ میں پھر ان کے بعد ایک قوم پیدا ہوئی تو وہ اسی طرح کرنے لگے جیسے وہ عبادت میں کرتے تھے ان کو ابلیس نے کہا گر تم ان کی تصویریں بنا لو۔ تم ان کی طرف دیکھتے رہوگے۔ تو انہوں نے تصویریں بنالیں پھر وہ مرگئے پھر اللہ تعالیٰ نے ایک اور قوم کو پیدا فرمایا۔ ان کے بعد ابلیس نے ان سے کہا کہ وہ لوگ جو تم سے پہلے تھے ان کی عبادت کرتے تھے تو وہ بھی ان کی عبادت کرنے لگے۔
حضرت آدم ﷺ کے پانچ صلبی بیٹے
13۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں محمد بن کعب قرضی (رح) سے روایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) کے پانچ بیٹے تھے۔ ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر، اور بہت عبادت کرنے والے تھے ان میں سے ایک آدمی مرگیا اس پر وہ سخت غمگین ہوئے۔ شیطان ان کے پاس آیا اور کہا اپنے اس ساتھی کی موت پر تم غمزدہ ہو ؟ انہوں نے ہا ! شیطان نے کہا کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ میں تمہارے لیے اس طرح کی ایک تصویر بنادوں تمہارے قبیلہ میں جب تم اس کی طرف دیکھو گے تو تم اس کو یاد کرلو گے ؟ انہوں نے کہا ہم ان کو ناپسند نہیں کریں گے کہ تو ہمارے یے ہمارے قبلہ میں کوئی چیز بنادے کہ ہم جس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ شیطان نے کہا میں اس کو مسجد کے آخر میں بنا دوں گا۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے تو شیطان نے ان کے لیے ایک تصویر بنا دی۔ یہاں تک کہ وہ پانچوں فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی تصویریں مسجد کے پچھلے حصہ میں بنادیں۔ پھر اس نے ایسی چیزیں نکالیں یہاں تک کہ انہوں نے اللہ کی عبادت کو چھوڑدیا۔ اور ان بتوں کی عبات کرنے لگے اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو نبی بناکر بھیجا تو ان لوگوں نے کہا آیت ولا تذرن ودا آیت کے آخرتک۔
14۔ عبد بن حمید نے ابو مطہر (رح) سے روایت کیا کہ ابو جعفر یزید بن مہب رحمہم اللہ کے پاس ان کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جس زمین میں سب سے پہلے قتل ہوا۔ اسی میں غیر اللہ کی عبادت کی گئی۔ پھر انہوں نے ود کا ذکر کیا اور کہا کہ ود ایک مسلمان آدمی تھا اور وہ اپنی قوم میں محبوب تھا۔ جب وہ مرگیا تو اس کی قبر کے ارد گرد لوگ اکٹھے ہوئے بابل کی زمین میں اور اس پر غم کرنے لگے۔ جب ابلیس نے ان کی گھبراہٹ یعنی بےصبری کو دیکھا تو انسانی صورت بنا کر ان کے پاس آیا اور کہا میں اس پر تمہاری جزع فزع دیکھ رہا ہوں کیا تم پسند کرو گے کہ میں تمہارے لیے اس طرح کی ایک تصویر بنادوں۔ پس وہ تمہاری مجلسوں میں ۃ وگی تو تم اس کے ذریعہ اس کو یاد کرتے رہو گے انہوں نے کہا ہاں یہ ٹھیک ہے تو اس نے ان کے لیے ایک تصویر بنا دی۔ تو ان لوگوں نے اس کو اپنی مجلسوں میں رکھ دیا اور اس کا ذکر کرنے لگے پس جب شیطا نے اس کے ذریعہ ان کے اس ذکر کو دیکھا تو کہنے لگا کیا تم یہ پسند کرو گے کہ میں تم میں سے ہر آدمی کے گھر میں تمہارے لیے اس طرح کا مجسمہ بنادوں جو تمہارے گھر میں ہوگا تو تم اس کو یاد کرتے رہو گے انہوں نے کہا ہاں۔ پس اس نے ہر گھر والے کے لیے اس کی مثل ایک مجسمہ بنادیا پس وہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کے سبب اس کا ذکر کرنے لگے راوی کا قول ہے اس کے بیٹوں نے اس کا ادراک کیا اور وہ سب کچھ دیکھتے رہے و کچھ وہ اس کے ساتھ کرتے تھے نسل بڑھنے لگی، انہوں نے اس کے ذکر کی تعلیم حاصل کی۔ یہاں تک کہ انہوں نے ان کو خدا بنالیا اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ ان کی عبادت کرنے لگے۔ اور سب سے پہلے جس کی زمین میں عبادت کی جانے لگی وہ ود بت تھا جس کا نام انہوں نے ود رکھا تھا۔
15۔ عبد بن حمید نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہیں یہ کئی بار کہتے ہوئے سنا اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ولا یغوث ویعوق ونسرا کے بارے میں کہ یہ ان کے معبودوں کے نام ہیں۔
16۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا۔ وولدہ واؤ کے نصب کے ساتھ آیت ولا تذرن ودا واو کے نصب کے ساتھ ولا سواعا سین کے نصب کے ساتھ۔
حضرت آدم اور نوح (علیہما السلام) کی حسرت
17۔ ابن عساکر نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ مخلوق میں سے کسی ایک نے ایسی حسرت نہیں کی جیسے آدم اور نوح (علیہما السلام) نے حسرت کی۔ آدم (علیہ السلام) کو تو حسرت اور افسوس اس وقت ہوا جب وہ جنت سے نکالے گئے اور نوح (علیہ السلام) کو حسرت اور افسوس اس وقت ہوا جب انہوں نے اپنی قوم کے لیے بددعا کی تو کوئی چیز باقی نہ رہی۔ سوائے ان افراد کے جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے غم کو دیکھا تو ان کی طرف وحی بھیجی اے نوح ! افسوس نہ کر کیونکہ تیری دعا میری تقدیر کے موافق ہے۔
Ayahs 71:26–2718۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت رب لا تذر علی الارض من الکفرین یا ارا اے میر رب زمین پر کافروں کا کوئی گھر نہ چھوڑ یعنی ایک بھی۔
19۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ کی قسم ! نوح (علیہ السلام) نے ان پر بددعا نہیں کی لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تیری قوم میں سے اب ہرگز کوئی ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا تو اس وقت انہوں نے ان پر بددعا کی۔ پھر آپ نے عام دعا فرمائی آیت رب اغفرلی ولوالدی ولمن دخل بیتی مومنا وللمومنین والمومنت ولا تزد الظلمین الا تبارا۔ اے میرے رب مجھے اور میرے ماں باپ کو بخش دیجیے اور اس کو جو میرے گھر میں ایماندار ہو کر داخل ہوجائے اور ایماندار مردوں اور عورتوں کو اور ظالموں کو تو ہلاکت کے سوا اور کچھ زیادہ نہ کر۔
Ayah 71:2820۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت رب اغفر لی ولولالدی سے مراد ہے آپ کے باپ اور داد ا۔
21۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولمن دخل بیتی مومنا سے مراد ہے کہ یعنی میری مسجد۔
22۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تزد الظلمین الا تبا را سے مراد ہے خسارہ۔