Ayah 71:1انا ارسلنا ................................ کنتم تعلمون
سورت کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ رسالت اور نبوت کا سرچشمہ کیا ہے اور یہ نظریہ اور عقیدہ کہاں سے آرہا ہے۔
انا ارسلنا ............ قومہ (17 : 1) ” ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا “۔ گویا سرچشمہ ہدایت و رسالت ذات باری تعالیٰ ہے۔ تمام انبیاء اپنے عقائد اور ہدایات اللہ سے لیتے ہیں ، اللہ انسانوں کا بھی خالق ہے۔ اس کائنات کا بھی خالق ہے اور اللہ ہی ہے جس نے افسانوں کی فطرت کے اندر معرفت رب کی استعداد رکھی ۔ اور جب بھی انسانوں نے راہ فطرت اور اللہ کی ہدایت سے منہ موڑا ، اللہ نے کوئی نہ کوئی رسول بھیج دیا۔ اور تمام رسول ہمیشہ گم کردہ راہ انسانیت کو راہ راست کی طرف موڑتے رہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سلسلہ رسل کی پہلی کڑی تھے۔ یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد۔ قرآن کریم نے حضرت آدم کی رسالت کا ذکر نہیں فرمایا کہ انہوں نے انسانوں کی ہدایت کے لئے یہ یہ کام کیا ، اس لئے کہ حضرت آدم صرف اپنے بیٹوں اور پوتوں کی ہدایت پر مامور تھے۔ اور حضرت آدم کے پوتے اور اولاد آپ کی وفات کے بعد ایک عرصے کے بعد گمراہ ہوئی اور اپنے لئے بت گھڑ لیے۔ اور ان کی پوجا کرنے لگی۔ پہلے تو وہ ان کو مقدس قوتوں کے لئے بطور مزواشارہ استعمال کرتے تھے بعد میں انہوں نے ان بتوں ہی کی پوجا اختیار کرلی۔ اور ان بتوں میں سے مشہور وہ پانچ بت تھے ، جن کا ذکر اس سورت میں آرہا ہے۔ چناچہ جب یہ لوگ گمراہ ہوگئے تو اللہ نے ان کی ہدایت کے لئے سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ارسال فرمایا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کو عقیدہ توحید کی طرف واپس لانے کی طویل جدوجہد کی۔ اور ان کے عقائد کو درست کرنے کی سعی کی۔ کتب سابقہ میں حضرت ادریس (علیہ السلام) کو سب سے پہلے نبی کے طور پر ذکر کیا گیا۔ یعنی حرضت نوح (علیہ السلام) سے بھی پہلے۔ لیکن کتب سابقہ کے مندرجات ہمارے لئے حجت نہیں ہیں ، اس لئے کہ ان کے اندر باربار تحریف ہوتی رہی ہے اور ان میں بار بار حذف واضافہ ہوتا رہا ہے۔
قرآن کریم کے قصص کے مطالعے سے یہی تاثر ملتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سب سے پہلے نبی ہیں اور ان کو بالکل انسانیت کے ابتدائی دور میں بھیجا گیا تھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک تبلیغ کی۔ اس دور کے لوگوں کی یہ طویل عمر بھی یہ بتاتی ہے کہ یہ لوگ بہت ہی ابتدائی دور کے لوگ تھے اور پھر اس دور میں انسانوں کی تعداد بھی بہت کم تھی اور انسانوں کی نسل ابھی تک اس طرح نہ پھیلی تھی جس طرح زمانہ مابعد میں پھیل گئی۔ حیاتیات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اشیاء کی تعداد کم ہو تو عمر زیادہ ہوتی ہے۔ اللہ ہی حقیقت سے واقف ہے۔ یہ سنن الٰہی کے مطالعہ پر مبنی ہمارا قیاس ہے۔
اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی رسالت کے مشن اور ہدف کی طرف مختصراشارہ آتا ہے۔ یہ کہ اے نوح (علیہ السلام) تم اپنی قوم کو ڈراﺅ:
ان انذر .................... الیم (17 : 1) ” کہ اپنی قوم کے لوگوں کو خبردار کردے قبل اس کے کہ ان پر ایک درد ناک عذاب آئے “۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم جس حالت تک پہنچ چکی تھی اور جس طرح وہ آپ کی ہدایات اور تبلیغ سے منہ موڑ رہی تھی ، تکبر کررہی تھی اور نہایت ہی ہٹ دھرمی اور عناد میں مبتلا تھی ، اس کے لئے یہاں یہ کہنا مناسب ہے کہ بس تم ان کو انجام بد سے ڈراﺅ، چناچہ انہوں نے اپنی تقریر کا آغازیوں کیا کہ لوگو ، دنیا وآخرت کے عذاب سے ڈرو ، تم اپنے آپ کو اس عذاب کا مستحق بنا رہے ہو۔
فریضہ رسالت کے تعین کے بعد فوراً یہ بتایا جاتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) تبلیغ شروع کرچکے ہیں۔ آپ کا خطاب یوں ہے کہ لوگوں تم اگرچہ نہایت گھناﺅنے جرائم کا ارتکاب کرچکے ہو لیکن باز آجاﺅ، توبہ کرو ، تمہارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور تمہارا حساب قیامت تک کے لئے ملتوی کردیا جائے گا۔ ورنہ تم تو فوری ہلاکت اور پکڑ کے مستحق ہو۔ ساتھ ساتھ اصول دعوت کا ذکر بھی کردیا گیا کہ اللہ وحدہ کی بندگی کرو ، تمام معاملات میں میری سنت کی پیروی کرو۔
Ayah 71:2قال یقوم .................................... تعلمون (4) (17 : 2 تا 4) ” اس نے کہا : ” اے میری قوم کے لوگو ! میں تمہارے لئے ایک صاف صاف خبردار کردینے والا (پیغمبر) ہوں۔ (تم کو آگاہ کرتا ہوں) کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک باقی رکھے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آجاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا ، کاش تمہیں اس کا علم ہو “۔
قال یقوم ............................ مبین (17 : 2) ” اے میری قوم کے لوگو ، میں تمہارے لئے صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں “۔ آپ اپنی دعوت میں جس بات کی وضاحت کرتے ہیں وہ ڈراوا ہے۔ اور اس ڈراوے کو آپ نہایت ہی وضاحت سے بیان کرتے ہیں۔ مجمل بات نہیں کرتے نہ پیچیدہ کرکے اور لپیٹ کر محض اشارات وکنایات سے بات کرتے ہیں نہ آپ اپنی دعوت کے سلسلے میں شف شف کرتے ہیں۔ اور قوم نوح جس انجام سے دوچار ہونے والی تھی وہ بھی آپ نے صاف صاف بتادیا کہ اگر تم باز آجاﺅ تو دنیا کا عذاب موخر ہوسکتا ہے۔
Ayah 71:3حضرت نوح (علیہ السلام) جو دعوت پیش کررہے تھے ، وہ بھی سادہ اور سیدھی ہے۔
ان اعبدو .................... واطیعون (17 : 3) ” کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو “۔ یعنی اللہ وحدہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ، اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرو ، تمہارے شعور و سلوک پر یہ بات چھائی ہوئی ہو ، اور رسول اللہ کی اطاعت وہ بات ہے جس سے نظام زندگی پھوٹتا ہے اور زندگی کے تفصیلی قواعد وضع ہوتے ہیں جس کی تعبیر سنت رسول سے کی جاتی ہے۔
بس تمام ادیان سماوی کے یہی خطوط ہیں۔ اللہ کا حکم اور رسول اللہ کی اطاعت۔ انہی خطوط پر دین استوار ہوتا ہے۔ تفصیلات ہر دور کے حالات کے مطابق ہوتی ہیں۔ انسانیت کے تفصیلی سوالات ، اس کا تصور وجود اور اس کائنات کے اندر پائے جانے والے مختلف سوالات جو مختلف ادوار میں ہوتے ہیں ان کے جوابات کے نتیجے میں ادیان کی تفصیلات اور فروعات میں اختلاف ہوتا ہے۔
اللہ کی پوری بندگی کرنا ہی دراصل ایک مکمل نظام ہوتا ہے۔ اللہ کی بندگی میں تصور الٰہ ، اس کی اطاعت کی تفصیلات خالق و مخلوق کے درمیان تعلق کی نوعیت ، اس کائنات میں حسن وقبح کے اصول ۔ لوگوں کی زندگیوں میں حسن وقبح کے اصول۔ اس طرح اللہ کی بندگی کے اصول سے ایک مکمل نظام زندگی قائم ہوجاتا ہے۔ زندگی گزارنے کا ایک منہاج سامنے آجاتا ہے۔ یہ ایک ربانی منہاج حیات ہوتا ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بندگی اور خدائی کا باہم تعلق کیا ہوتا ہے ؟ اور وہ کیا قدریں ہیں ، جو زندہ اور غیر زندہ اشیاء کے متعلق اللہ نے تجویز فرمائی ہیں۔ اور ” خدا کا خوف “ وہ ضامن ہے جو اس نظام زندگی اور منہاج حیات کو قائم رکھتا ہے۔ جس قوم کے دل میں خدا کا خوف ہو وہ اس منہاج سے ادھر ادھر نہیں جاتی۔ نہ اس میں حیلے اور بہانے تلاش کرتی ہے۔ نیز تقویٰ کے بدولت انسان کے اندر اخلاق فاضلہ بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ انسان کا طرز عمل حقیقی ہوتا ہے ، بغیر کسی ظاہرداری اور دکھاوے کے۔
اطاعت رسول سے دراصل راستے کی حدود کا تعین ہوتا ہے اور انسان اس سیدھی راہ پر چلنے کے لئے تفصیلی ہدایات اخذ کرتا ہے اور براہ راست رب تعالیٰ اور عالم بالا سے مربوط رہتا ہے۔
یہ تھے وہ خطوط جن پر حضرت نوح (علیہ السلام) نے آغاز انسانیت سے لوگوں کے لئے راہ ہدایت اور منہاج حیات استوار کیا۔ اور از منہ مابعد کی تمام دعوتیں انہی خطوط پر استوار ہوتی رہیں اور حضرت نوح (علیہ السلام) نے قوم سے وعدہ کیا کہ اگر تم نے توبہ کرلی اور لوٹ آئے تو اللہ معاف کردے گا۔
Ayah 71:4یغفرلکم ........................ اجل مسمی (17 : 4) ” اور تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک باقی رکھے گا “۔ اور یہ باقی رکھنا ، اس بات کے عوض میں ہوگا کہ تم اللہ کی بندگی کرو گے ، اللہ سے ڈرو گے اور رسول خدا کی اطاعت کرو گے ، اور اس کے بدلے اللہ مزید یہ کرے گا کہ تمہارے سابقہ گناہ بھی معاف کردے گا اور تمہارا حساب و کتاب اس وقت تک موخر ہوجائے گا جو اللہ نے مقرر کررکھا ہے یعنی یوم الاخرت تک۔ اور اس طرح دنیا میں تم پر جو تباہ کن عذاب آنے والا ہے ، وہ موخر ہوجائے گا۔ (عنقریب حضرت نوح (علیہ السلام) پیش کریں گے کہ اللہ نے ان لوگوں کے ساتھ اور بھی وعدے فرمائے تھے) ۔
اس کے بعد یہ فرمایا گیا کہ قیام قیامت حتمی ہے اور وہ اپنے وقت پر ضرور آئے گی۔ اس میں کوئی تاخیر نہیں ہوسکتی۔ جس طرح دنیا کے عذاب میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ چناچہ قیامت کے بارے میں عقیدے کو یوں درست کردیا جاتا ہے۔
ان اجل ........................ تعلمون (17 : 4) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آجاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا ، کاش تمہیں اس کا علم ہو “۔ اس سے مراد قیامت بھی ہوسکتی ہے اور ہر وہ دوسرا وقت بھی ہوسکتا ہے جو اللہ کسی واقعہ کے وقوع کے لئے مقرر کردے۔ بہرحال یہاں یہ عام عقیدہ ذہنوں میں بٹھانا مقصود ہے کہ اللہ کا مقرر کردہ وقت ٹالا نہیں جاسکتا۔ ہاں اگ ریہ لوگ اطاعت کرلیں اور توبہ کرلیں تو اللہ دنیا میں تباہ کردینے کی بجائے قیام قیامت تک کے لئے ان کا عذاب ٹال دے گا۔
حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی مساعی جاری رکھے ہوئے ہیں ، اور اپنی قوم کو ہدایت کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ وہ کسی مصلحت کی پرواہ نہیں کرتے ، کسی مفاد کا لحاظ نہیں کررہے۔ وہ اس عظیم مقصد کے لئے وہ سب کچھ برداشت کررہے ہیں۔ لوگ اعتراض کررہے ہیں ، منہ موڑ رہے ہیں اور مذاق کررہے ہیں۔ لیکن آپ ہیں کہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ساڑھے نو سو سال اس جدوجہد میں گزرجاتے ہیں۔ چند لوگ ہی دعوت قبول کرتے ہیں جبکہ قوم کی طرف سے منہ موڑنے ، گمراہی پر اصرار کرنے اور مذاق کرنے میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ ٹھیک ساڑھے نو سو سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے دربار میں اپنی کارکردگی کی رپورٹ پیش کرتے ہیں۔ اس طویل عرصے میں جو کچھ پیش آیا ، وہ عرض کردیتے ہیں ، جبکہ رب تعالیٰ کو تو پہلے سے معلوم ہے۔ اور حضرت نوح (علیہ السلام) بھی جانتے ہیں کہ رب کو معلوم ہے ، لیکن شکوہ شکایت یونہی دہرائی جاتی ہے اور انبیائے کرام کا شکوہ تو اللہ ہی سے ہوسکتا ہے۔ وہ اللہ کے ہاں ہی اپنی فریاد پیش کرسکتے ہیں۔ اور وہ مومنین جن کو حقیقت ایمان تک رسائی حاصل ہوتی ہے وہ بھی صرف اللہ ہی سے شکایت کرتے ہیں۔
Ayahs 71:5–6قال رب انی ............................ سبلا فجاجا
یہ تھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کارکردگی اور یہ رہی ان کی رپورٹ۔ اس طویل عرصہ کارکردگی میں وہ اپنے رب کے سامنے اپنا حساب پیش فرماتے ہیں۔ آپ کی رپورٹ میں جو چیز نمایاں ہے ، وہ آپ کی جہد مسلسل ہے۔
انی دعوت .................... ونھارا (17 : 5) ” اے میرے رب ! میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب وروز پکارا “۔ انہوں نے ہمت نہ ہاری ، وقفہ نہیں کیا ، اور وہ لوگوں کو مسلسل اعراض اور اصرار کے باوجود مایوس نہیں ہوئے لیکن
فلم یزدھم ................ فرار (17 : 6) ” لیکن میری پکار نے ان کے فرار ہی میں اضافہ کیا “۔ یعنی وہ داعی الی اللہ سے بھاگتے رہے اور شیطان کے پیچھے پڑے رہے۔ حالانکہ اللہ ان کا خالق تھا ، جن انعامات میں وہ مزے سے رہ رہے تھے ، وہ اللہ کی تخلیق کردہ تھیں۔ یہ ہدایت بھی اللہ ہی کی طرف سے آرہی تھی ، اور داعی نہ اجر کا طلبگار تھا اور نہ فیس عائد کررہا تھا۔ اور جس ذات سے وہ بھاگ رہے تھے وہ ان کو اس لئے بلارہی تھی کہ آﺅ تمہیں بخش دیا جائے ، آﺅ تمہیں ان گناہوں کے انجام سے بچایا جائے اور معصیت اور ضلال سے بچایا جائے۔
وہ تو بھاگتے رہے لیکن داعی حق ان کو گھیرتے رہے اور ہر طرح ان کے کانوں تک کلمہ حق پہنچاتے رہے لیکن انہوں نے نہ اس بات کو برداشت کیا کہ ان کے کانوں میں کلمہ حق پڑے اور نہ اس بات کو پسند کیا کہ پیغمبر پر ان کی نظریں پڑیں ، اس لئے انہوں نے گمراہی پر بےحد اصرار اور کلمہ حق کے قبول کرنے سے بڑا تکبر کیا۔
Ayahs 71:7–8وانی کلما ........................ استکبار (17 : 7) ” اور جب بھی میں ان نے ان کو بلایا تاکہ تو انہیں معاف کردے ، انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لئے اور اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا “۔ یہ ہے انداز داعی حق کا کہ وہ اپنی دعوت پر اصرار کرتا ہے او جونہی اور جب بھی اسے موقعہ ملے وہ کلمہ حق کہہ دیتا ہے جبکہ اہل کفر کے اصرار کی بھی یہ ایک مثال ہے کہ جب وہ ہٹ دھرمی پر اترآئیں تو منہ بھی چھپالیتے ہیں۔ اس دعوت اور اس انکار سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی ایام میں جبکہ بشریت عہد طفولیت میں تھی۔ دعوت کے شب وروز کیا تھے کہ لوگ کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے تھے اور سروں کو چادروں میں چھپا لیتے تھے۔ انداز تعبیر سے لوگوں کا کافرانہ طرز عمل ظاہر ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ یہ انگلیوں کو کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں۔ پوری انگلیاں تو کانوں میں نہیں ٹھونسی جاتیں مگر یہ مبالغہ کے لئے کہا گیا کہ وہ کانوں کو یوں بند کررہے ہیں کہ آواز کسی طرح بھی ان کے کانوں تک نہ پہنچ سکے۔ گویا یہ کوشش کررہے تھے کہ پوری انگلی کو کانوں میں ٹھونس لیں۔ یہ سخت اصرار اور ہٹ دھرمی کی شکل ہے اور ابتدائی ادوار میں یہی صورت حالات تھی۔
Ayah 71:9مسلسل دعوت دیتے چلے جانے ، ہر موقعہ سے فائدہ اٹھانے اور ان تھک جدوجہد کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعوت اسلامی کے لئے ہر انداز بھی اختیار کیا۔ کبھی انہوں نے ببانگ دہل دعوت دی۔ کبھی انہوں نے خفیہ تحریک چلائی۔
ثم انی .................... اسرارا (17 : 9) ” پھر میں نے ان کو ہانکے پکارے دعوت دی۔ پھر میں نے علانیہ بھی ان کو تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی سمجھایا “۔
اس دعوت کے دوران حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کو یہ بھی بتایا کہ اگر تم میری دعوت قبول کرلو تو تمہیں دنیا اور آخرت دونوں جہانوں کی کامیابی نصیب ہوگی۔ اور یہ بھی بتایا کہ اگر تم لوگ اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرو تو وہ تمہیں بخش دے گا ، کیونکہ وہ تو بہت بخشنے والا ہے۔
Ayah 71:10فقلت .................... غفارا (17 : 01) ” میں نے کہا : ” اپنے رب سے معافی مانگو ، بیشک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے “۔ اور ان کو یہ لالچ بھی دیا کہ اللہ تمہیں وافر رزق بھی دے گا ، بارشوں کے ذریعہ نہریں بہادے گا ، اولاد دے گا ، اموال دے گا ، جو تمہیں بہت عزیز ہیں۔
Ayahs 71:11–12یرسل .................... مدرارا (17 : 11) ویمدد ................ انھرا (17 : 21) ” وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا ، تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا ، تمہارے لئے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کردے گا “۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے استغفار اور عظائے رزق جہاں کو باہم یکجا کردیا اور قرآن میں بیشمار مواقع پر ایمان ، ہدایت اور صلاح اور تقویٰ اور خوشحالی اور وافر رزق کو ایک دوسرے کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے۔ دوسری جگہ آتا ہے :
ولو ان .................... یکسبون (7 : 69) ” اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ہم آسمان و زمین سے ان پر نعمتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کو ان کے اعمال کے بدلے پکڑا “۔
اور دوسری جگہ ہے :
ولو ان ............................ ارجلھم (66) (5 : 56۔ 66) ” اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم ان سے ان کی برائیاں دور کردیتے اور ان کو نعمت کے باغوں میں داخل کردیتے ، اگر وہ توریت ، انجیل اور جو ان کی طرف نازل کیا گیا ان کے رب کی طرف سے ، ان کو قائم کرتے ، تو وہ اپنے اوپر سے اور اپنے پاﺅں کے نیچے سے کھاتے “۔
اور دوسری جگہ ہے :
الا تعبدوا .................... فضل فضلہ (3) (11 : 2۔ 3) ” یہ کہ عبادت نہ کرو مگر اللہ کی میں تم کو اس کی طرف سے ڈر اور خوشخبری سناتا ہوں اور یہ کہ گناہ بخشواﺅ اپنے رب سے اور اس کی طرف رجوع کرو ، وہ تم کو بہت اچھا فائدہ پہنچائے گا۔ ایک مقرر وقت تک اور دے دے گا ہر صاحب فضل کو اس کا فضل “۔
یہ اصول جس کا ذکر قرآن کریم متفرق مقامات پر کرتا ہے ایک صحیح اصول ہے او یہ اللہ اپنے وعدے پر قائم ہے اور ان سنن حیات پر قائم ہے جو اللہ نے اس کائنات میں جاری کیے ہیں اور انسانوں کی عملی تاریخ اس پر شاہد عادل ہے۔ یہ قاعدہ اقوام کے لئے ہے افراد کے لئے نہیں ہے۔ اس جہاں میں جب بھی کسی قوم نے شریعت پر اپنا نظام استوار کیا ہے اور عمل صالح اختیار کرکے خدا خوفی کا رویہ اپنایا ہے اور اللہ سے ڈر کر اپنی کوتاہیوں سے معافی طلب کی ہے ، اللہ نے اسے مادی ترقی بھی دی ہے۔ غرض جب بھی کسی قوم نے تقویٰ اختیار کرکے اللہ کی بندگی اختیار کی ہے اور شریعت کو نافذ کیا ہے ، اور لوگوں کے درمیان عدل کا نظام رائج کیا ہے تو اس کائنات کی قدرتی قوتوں نے اس کے ساتھ تعاون کیا ہے اور اللہ نے اسے زمین پر تمکین عطا کی ہے اور وہ دنیاوی ترقی کے اعتبار سے بھی عروج تک پہنچی ہے۔
بعض اوقات ہم اس کرہ ارض پر ایسی اقوام دیکھتے ہیں جو اللہ سے نہیں ڈرتیں اور جو اللہ کی شریعت کے مطابق عمل پیرا نہیں ہوتیں ، لیکن اس کے باوجود ان کو وافر رزق ملتا ہے۔ اور اس زمین کے اوپر ان کو اقتدار اعلیٰ بھی ملا ہوا ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہوتی ہے۔
وتبلوکم ................ فتنة ” اور ہم تمہیں خیروشر کے ذریعہ سے آزماتے ہیں “۔ پھر یہ خوشحالی ایک سڑی ہوئی خوشحالی ہوتی ہے اور اسے اجتماعی بیماریاں ، اخلاقی کر اوٹ ، ظلم اور زیادتی ، انسانی شرافت کا فقدان جیسی خرابیاں لاحق ہوتی ہیں اور ان کا مزہ کر کرا ہوتا ہے۔ آج ہمارے سامنے دو بڑی حکومتیں ہیں جن کو اللہ نے رزق میں وہ وسعت دی ہے۔ زمین کے ایک بڑے حصے پر ان کا اقتدار ملا ہوا ہے۔ ایک سرمایہ دار ہے اور ایک اشتراکی ہے۔ (سید قطب ، آپ کو اللہ نے اطلاع دے دی ہوگی کہ یہ نابود ہوچکی ہے) جہاں تک پہلی کا تعلق ہے اس کی اخلاقی حالت حیوانوں سے بھی زیادہ گری ہوئی ہے۔ اور ان کی زندگی کی مجموعی حالت یہ ہے کہ یہ صرف ڈالر پر قائم ہے اور ڈالر کے سوا وہاں کوئی اخلاقی قدر نہیں ہے۔ اور دوسری حکومت میں انسان ایک غلام سے بھی گرا ہوا ہے اور اس کا جاسوسی نظام اس قدر خوفناک ہے کہ ہر شخص ایک دائمی خوف میں زندگی بسر کرتا ہے۔ کوئی شخص رات کو اس حال میں نہیں سوتا کہ اسے صبح گرفتاری کا ڈر نہ ہو۔ یہ دونوں ممالک انسانی معیاروں کے لحاظ سے گرے ہوئے ہیں۔ (صرف سٹالن نے 3 کروڑ انسان تہ تیغ کیے۔ مترجم)
Ayahs 71:13–14اب ذرا دیکھئے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی طویل جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ اپنی قوم کو انفس وآفاق میں پائے جانے والے دلائل ایمان کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ آپ حیران رہ جاتے ہیں کہ اس کے جواب میں قوم ان کو کس طرح رد کرتی ہے ، نہایت گستاخانہ رویہ اپناتی ہے۔ آپ اس رویہ پر ان کی سرزنش کرتے ہیں۔
مالکم ................ وقارا (17 : 31) وقد ............ اطوارا (17 : 41) ” تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کے لئے تم کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے ؟ حالانکہ اس نے طرح طرح سے تمہیں بنایا ہے “۔ یہ اطوار کیا تھے ؟ قوم نوح (علیہ السلام) ان کو اچھی طرح سمجھتی تھی یا اس کا کوئی ایسا مفہوم تھا جو وہ لوگ اس وقت اچھی طرح سمجھتے تھے اور یہ طور اور تفریق کا ان کے ذہنوں پر بہت ہی اچھا اثر تھا۔ اس پر غور کرنے سے وہ راہ راست پر آسکتے تھے۔ اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ مراد جنین کے مختلف اطوار ہیں۔ نطفہ ، علقہ ، مضغہ اور موجودہ ہیکل انسانی۔ اور اس حقیقت کو وہ لوگ بھی سمجھتے تھے اور ہم بھی۔ کیونکہ وہ جو جنین کامل ہونے سے قبل ہی گر جاتے ہوں گے ، ان کے مشاہدے سے وہ انسانی اطوار کو سمجھتے ہوں گے۔ بہرحال اس آیت کے ممکنہ معنوں میں سے یہ ایک مفہوم ہے۔ یہ بھی ممکن ہے اس سے مراد جنین کے اطوار ہوں کہ آغاز میں وہ ایک خلیے کا حیوان ہوجاتا ہے۔ پھر متعدد خلیوں والا بن جاتا ہے ، پھر پانی کے حیوانات کی طرح ، پھر پستانوں والے حیوانات کی طرح اور آکر کار موجودہ شکل انسانی کی طرح۔ لیکن یہ اطوار قوم نوح (علیہ السلام) کے لئے قریب انفہم نہ تھے کیونکہ یہ اطوار حال ہی میں مشاہدے میں آئے ہیں۔ اور اس کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے جو دوسری آیات کا ہے۔
ثم انشانا .................... الخالقین ” پھر اٹھاکھڑا کیا اس کو ایک نئی صورت میں ، تو اللہ برکتوں والا ہے سب سے بہتر بنانے والا “۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان دونوں آیات کا اس کے سوا بھی کوئی اور مفہوم ہو۔ جسے ابھی تک ہم نہ سمجھ سکے ہوں اور آئندہ کسی وقت سمجھ لیں۔
بہرحال نوح (علیہ السلام) نے ان کو مطالعہ ذات کی طرف متوجہ کیا اور اس بات پر سخت گرفت کی کہ دیکھو تو سہی کہ اللہ نے تم کو کس طریقے سے پیدا کیا ہے اور پھر بھی لوگ خالق کو نہیں پہچانتے حالانکہ وہ دیکھتے ہیں کہ تمام مخلوقات میں سے انسان محیر العقول مخلوق ہے۔ اور اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) ان کو کائنات کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
Ayahs 71:15–16الم تروا ............................ سراجا (17 : 61) ” کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے اور ان میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا ؟ “۔ سات آسمانوں کے مفوم کا تعین ہم ان سائنسی نظریات کے مطابق نہیں کرسکتے ، جو سائنس دان اس کائنات کے بارے میں گھڑتے رہتے ہیں۔ کیونکہ سائنسی نظریات تو مفروضات ہوتے ہیں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے لوگوں کو سات آسمانوں کی طرف متوجہ کیا اور اللہ نے ان کو بتایا کہ یہ سات ہیں۔ اور ان آسمانوں میں شمس وقمر اس طرح ہیں کہ ایک نور ہے اور دوسرا چراغ ہے۔ لوگ آسمانوں کو بھی دیکھ رہے تھے ، اور شمس وقمر کو بھی دیکھ رہے تھے۔ آسمان اس فضا سے عبارت ہے جو نیلگوں ہے۔ یہ ہے کیا ؟ اس کی حقیقت نہ وہ معلوم کرسکتے تھے اور نہ ان سے مطلوب تھا۔ نہ آج تک ان کی حقیقت معلوم ہوسکی ہے۔ اس حد تک وضاحت اس بات کے لئے کافی ہے کہ انسان اس ہولناک کائنات پر غور وفکر کرے اور دیکھے کہ قدرت الٰیہ نے کس قدر عجیب تخلیق کی ہے اور یہی مقصد تھا حضرت نوح (علیہ السلام) کا۔ اس کے بعد نوح (علیہ السلام) ان کو متوجہ کرتے ہیں کہ اللہ نے تمہیں کس طرح زمین سے پیدا کیا اور کس طرح دوبارہ زمین کی طرف لوٹایا۔ پھر اس سے تمہیں نکالے گا۔
Ayahs 71:17–18واللہ ................ اخراجا (17 : 81) ” اور اللہ نے تم کو زمین سے عجیب طرح اگایا ، پھر وہ تمہیں اسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا “۔
انسان کی تخلیق کے عمل کو یہاں ” اگانے “ سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ ایک عجیب انداز تعبیر ہے۔ قرآن کریم میں کئی جگہ یہ انداز اختیار کیا گیا ہے۔ مثلاً ۔
والبلد ................ الا نکدا ” ایک پاکیزہ زمین اپنے نباتات اپنے رب کے اذن سے نکالتی ہے اور جو خبیث ہے وہ صرف کم پیداوار نکالتی ہے “۔ اس آیت میں انسانوں کی پیدائش کی طرف اشارہ ہے۔ اور انسان کی پیدائش کے ساتھ نباتات کی پیدائش کا ذکر تو کئی جگہ آتا ہے۔ سورة حج میں بعث بعدالموت پر دلیل دیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے :
یایھا الناس .................... زوج بھیج (33 : 5) ” اے لوگو ، تمہیں قیامت میں زندہ ہوکر اٹھنے میں شبہ ہے تو ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ، پھر نطفہ سے ، پھر گوشت کی بوٹی سے ، جو مختلف تھی بنی ہوئی اور غیر بنی ہوئی ، تاکہ تم کو بتا دیں اور ارحام میں ہم ٹھہراتے ہیں جو چاہتے ہیں ایک مقرر وقت تک ، پھر تمہیں طفل کی شکل میں نکالتے ہیں تاکہ تم جوانی تک پہنچو ، پھر تم میں سے بعض کو موت آلیتی ہے اور بعض ذلیل عمر تک لوٹ جاتے ہیں ، تاکہ اس طرح وہ علم کے بعد کچھ نہ جائیں اور تم دیکھتے ہو کہ زمین خراب پڑی ہے۔ جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ تازہ ہوجاتی ہے۔ اور ابھرتی ہے۔ اور وہ ہر قسم کی پررونق چیز اگاتی ہے “۔ اور سورة مومنون میں پیدائش کے مختلف مدارج بتلانے کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے۔
فانشانا ................ واعناب ” پھر ہم اس کے ذریعے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغات اگاتے ہیں “۔ اور اسی طرح دوسرے مقامات پر بھی۔
یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جو قابل نظر ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ روئے زمین پر اللہ نے حیات ونبات کے لئے تقریباً ایک ہی جیسے اصول رکھے ہیں۔ انسان کی تخلیق بھی اسی طرح ہے جس طرح نباتات کی تخلیق ہے۔ جن عناصر سے انسان پیدا ہوتا ہے انہی سے حیوانات ونباتات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ دونوں انہی عناصر سے غذا اخذ کرتے ہیں۔ انسان حیوان بھی زمین کے نباتات میں سے ایک نبات ہیں۔ جس طرح اللہ نے نباتات کو رنگارنگی دی ہے ، اسی طرح حیوانات اور انسانوں کو بھی تنوع اور رنگارنگی دی ہے۔ دونوں زمین سے ہیں ، دونوں زمین سے غذا لیتے ہیں اور دونوں زمین میں فنا ہوتے ہیں۔
یوں ایمان کے ذریعہ ایک مومن کے شعور میں اس زمین کی زندہ اگنے والی مخلوق کے بارے میں صحیح تصور پیدا ہوتا ہے۔ یہ ایک زندہ اور لعمی شعور ہے کیونکہ اس کی اساس شعوری ایمان پر ہے اور یہ قرآنی علوم کا مخصوص امتیاز ہے۔
جو لوگ زمین سے پیدا کیے گئے ہیں وہ دوبارہ اس زمین کے پیٹ میں جاتے ہیں۔ جس طرح اللہ نے ان کو زمین سے نکالا ، دوبارہ زمین کی طرف لوٹائے گا۔ چناچہ اس طرح ان کی ہڈیاں اور بوسیدہ اجزائے وجود زمین کے ذرات کو زمین سے نکالے گا۔ اور یہ اسی طرح ہوگا جس طرح پہلی مرتبہ ہوا۔ یہ نہایت ہی سہل کام ہے اللہ کے لئے۔ یہ کام اللہ ایک لمحہ اور ایک لحظہ میں کردے گا۔ یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ میں آنے والی ہے۔ بشرطیکہ لوگ قرآنی زاویہ سے اس حقیقت پر غور کریں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اس حقیقت کی طرف متوجہ فرمایا تاکہ ان کو معلوم ہو کہ اللہ قدرتوں والا ہے کہ اس نے تمہیں اس زمین سے اگایا ہے اور دوبارہ بھی وہ تمہیں اسی طرح اگالے گا۔ جب یہ شعور انسان کے اندر بیٹھ گیا تو پھر انسان خوف آخرت کرنے لگتا ہے۔ اور اس کی تیاری کرتا ہے کیونکہ یہ قیامت تو اسی طرح آسانی سے قائم ہوجائے گی جس طرح اس زمین پر نباتات اگتے ہیں۔ نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ۔ جس کے اندر کوئی معقول انسان ، کوئی قبل وقال نہیں کرسکتا۔
Ayah 71:19آخر میں حضرت نوح (علیہ السلام) لوگوں کو اس طرف متوجہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے زمین کے اندر تمہارے لئے کیا کیا سہولیات پیدا کی ہیں۔ اس زمین کو تمہارے لئے مسخر کیا ، سدھایا۔ اس میں تمہارے زندہ رہنے کے لئے تمام سہولیات رکھ دیں۔
واللہ جعل ................ فجاجا (17 : 02) ” اور اللہ نے زمین کو تمہارے لئے فرش کی طرح بچھا دیا تاکہ تم اس کے اندر کھلے راستوں میں چلو “۔
یہ حقیقت جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے لوگوں کے سامنے پیش کی اور ان کے سامنے موجود تھی ، حضرت نوح (علیہ السلام) کی باتوں سے وہ تو بھاگتے تھے لیکن ان میں جو حقائق تھے ، ان سے ان کے لئے فرار مشکل تھا۔ یہ زمین ان کے سامنے بچھی ہوئی تھی۔ یہ پہاڑ موجود تھے ، یہ وادیاں موجود تھیں اور ان وادیوں کی راہوں پر ہی وہ چلتے تھے۔ پیدل بھی چلتے ، سوار ہوکر بھی چلتے اور تیر کر بھی چلتے۔ اور اس کے اندر اللہ کے جو فضل وکرم بکھرے ہوئے تھے ان سے وہ استفادہ کرتے تھے اور نہایت ہی آسانی سے وہ استفادہ کرتے تھے۔
یہ حقائق وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے ، اس سلسلے میں کسی گہری علمی تحقیق کی ضرورت نہ تھی۔ یہ اصول فطرت تھے اور ان کے مشاہدے اور تجربے میں تھے۔ اور ان حقائق کے اندر وہ زندہ رہ رہے تھے۔ ہاں جوں جوں انسان نے علمی ترقی کی اس نے ان حقائق کے مزید پہلو معلوم کرلیے۔ جس کے بارے میں قرآن کی ہدایت بھی ہے کہ تم زمین میں پھرو اور نصیحت حاصل کرو۔
ھوالذی ................................ النشور ( سورة ملک)
یوں حضرت نوح (علیہ السلام) نے کوشش کی کہ اپنی قوم کے کانوں میں کسی نہ کسی طرح کلمہ حکمت ڈال دیں ، مختلف طریقوں اور مختلف اسالیب کے ذریعہ اور اس کے لئے انہوں نے مختلف انداز اختیار کیے اور طویل عرصہ اس کام میں لگایا۔ صبر جمیل کے ساتھ اور ان تھک جدوجہد کے ساتھ ، ساڑھے نو سو سال مسلسل ! اس کے بعد اب حضرت نوح (علیہ السلام) رب تعالیٰ کی طرف لوٹتے ہیں ، جس رب تعالیٰ نے ان کو یہ مشن دیا تھا۔ رپورٹ پیش کرتے ہیں نہایت تفصیلی رپورٹ ہے یہ ۔ یہ رپورٹ نہایت ہی درد ناک لہجے میں ہے اور نہایت موثر الفاظ میں ہے۔ اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کس قدر جدوجہد کی۔ انہوں نے گم کردہ راہ انسانیت کو راہ ہدایت پر لانے کے لئے کیا کچھ کیا ۔ لیکن یہ تو سلسلہ رسالت کی ایک ہی کڑی ہے۔
Ayahs 71:20–21قال نوح ............................ الا ضلاً
حضرت نوح (علیہ السلام) کی فریاد کا خلاصہ یہ ہے کہ قوم نے اس طویل جدوجہد ومسلسل جہاد کے باوجود ان کو پوری طرح مسترد کردیا۔ حقیقت کو اچھی طرح پیش کرنے اور حقائق پر اچھی طرح روشنی ڈالنے کے باوجود لوگوں نے منہ موڑ لیا۔ ان کو ڈرایا بھی گیا ، مال دولت اور اقتدار واولاد کے وعدے بھی ان کے ساتھ کیے گئے۔ ترقی اور خوشحالی کا لالچ بھی دیا گیا۔ یہ لوگ چونکہ گمراہ قیادتوں کے پیچھے چلتے تھے ، اور گمراہ قیادتیں ہمیشہ اپنے عوام کو دھوکہ دیتی ہیں ، اس لئے کہ گمراہ قیادتوں کے ہاتھ میں مالی وسائل اور جاہ واقتدار ہوتا ہے ، تو لوگ انہی کے پیچھے پڑجاتے ہیں۔
واتبعوا .................... خسارا (17 : 12) ” اور ان (رئیسوں) کی پیروی کی جو مال اور اولاد پاکر اور زیادہ نامراد ہوگئے ہیں “۔ اس مال اور اولاد نے انہیں دھوکہ دے کر مزید گمراہ کردیا ۔ لہٰذا مال واولاد کے نتیجے میں انہیں بدبختی اور خسارہ ہی ملا۔
Ayah 71:22ان لوگوں نے صرف گمراہی پر اکتفا نہ کیا ، بلکہ۔
ومکروا مکرا کبارا (17 : 22) ” ان لوگوں نے بڑا بھاری مکر کا جال پھیلا کر رکھ دیا “۔ یعنی اس قدر عظیم سازش کی کہ اس سے آگے کوئی بڑی سازش نہ ہو۔ انہوں نے دعوت اسلامی کے تمام راستے بند کرنے کے لئے مکاری کی۔ لوگوں کے دلوں کو دوسرے کاموں میں مشغول کردیا اور ان کے دلوں کے اندر دعوت اترنے کے مواقع ہی ختم کردیئے۔ کفر ، گمراہی اور جاہلیت کو ان کے لئے حسین بنادیا۔ اور لوگ جاہلیت ہی میں بھٹکتے رہے۔ ان کی بڑی مکاری یہ تھی کہ یہ لوگوں کو ان الہوں کی عبادت میں لگائے رکھتے تھے جن کو انہوں نے الٰہہ کہہ رکھا تھا۔ عوام الناس کے دلوں میں ان بتوں کی حمیت اور غیرت پیدا کردی تھی۔
Ayah 71:23وقالوا ................ الھتکم (17 : 32) ” انہوں نے کہا ہرگز نہ چھوڑ دو اپنے الہوں کو “۔ ان الہوں کو انہوں نے ” تمہارے الٰہ “ کہہ کر پکاراتا تاکہ ان کو جوش آئے۔ جھوٹی حمیت اور گناہ پر آمادہ کرنے والی غیرت جاگے۔ پھر انہوں ان بتوں میں سے جو زیادہ معزز اور مشہور تھے ، ان کا خصوصیت کے ساتھ تذکرہ کیا تاکہ عوام ان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں۔
ولا تذرن ........................ ونسرا (17 : 32) ” نہ چھوڑو ود اور سواع کو ، اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو “۔ یہ نسر تو ان کا بڑا بت تھا جو حضور ﷺ کے دور جاہلیت میں بھی پوجا جاتا تھا۔
ہمیشہ گمراہ قیادتیں عوام الناس کی پوجا کے لئے بت گھڑتی ہیں ، ان کے نام اور شکلیں ہی مختلف اوقات میں مختلف ہوتی ہیں ، لیکن عوام الناس کو ان کے ارد گرد گھمایا جاتا ہے۔ عوام کے دلوں میں ان بتوں کی جاہلانہ محبت پیدا ہوجاتی ہے تاکہ وہ عوام کو ہلاکت کے جس گڑھے میں چاہیں ، لے جاکر گرادیں۔ اور ان کو اس گمراہی پر قائم رکھیں اور اس گمراہ قیادت کی قید میں رہیں۔
Ayah 71:24وقد .................... کثیرا (17 : 42) ” انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا “۔ ہر گمراہ قیادت اسی قسم کے بتوں کے سامنے عوام کو جمع کرتی ہے ، یہ بت پتھروں کی شکل میں بھی ہوتے ہیں ، افراد کی شکل میں بھی ہوتے ہیں اور افکار کی شکل میں بھی ہوتے ہیں۔ او یہ سب کے سب بت ہوتے ہیں ، سب کے سب دعوت اسلامی کی راہ روکتے ہیں ۔ عوام کو داعیان حق سے دور رکھتے ہیں۔ بڑی بڑی سازشیں کرتے ہیں اور ان سازشوں پر اصرار کرتے ہیں۔
اس مقام پر اس نبی کریم کے دل سے ان گمراہوں ، مکاروں ، گمراہ کرنے والوں اور ان کے متبغین کے لئے بددعا نکلتی ہے۔
ولا تزد .................... ضللا (17 : 42) ” اے اللہ تو بھی ان ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دے “۔ یہ ایک ایسے دل کی بددعا ہے جس نے ایک طویل عرصہ تک جدوجہد کی۔ ایک طویل عرصہ تک مشقتیں برداشت کیں۔ یہ بددعا تب نکلی کہ تمام ذرائع ختم ہوگئے اور معلوم ہوگیا کہ ان ظالم باغی اور سرکش دلوں میں اب بھلائی کا رمق بھی باقی نہیں ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ دل رب کی ہدایت اور نجات کے مستحق ہی نہیں رہے۔
قبل اس کے حضرت نوح (علیہ السلام) کی پوری بددعا یہاں نقل کی جائے ، ظالموں اور خطاکاروں کا انجام نقل کیا جاتا ہے۔ ان کا وہ انجام بھی جو یہاں ہوا اور وہ بھی جو آخرت میں ہوا۔ کیونکہ اللہ کے علم کے نقطہ نظر سے آخرت بھی حاضرو موجود ہے اور زاویہ سے بھی کہ اس کا وقوع اس قدر یقینی ہے کہ گویا واقع ہوگیا۔
Ayah 71:25مما خطیئتہم ........................ انصارا
ان کی خطاکاریوں ، ان کے گناہوں اور ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے وہ جہنم میں داخل ہوئے۔ یہاں فائے تعطیب بالارادہ لائی گئی ہے۔ کیونکہ ان کے غرق ہوتے ہی ان کو جہنم رسید بھی کردیا گیا اور ان کے غرق ہونے اور جہنم کے داخل ہونے کے درمیان جو زمانی فاصلہ ہے وہ گویا ہے ہی نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ کے میزان اور معیار میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ گویا اس دنیا میں ان کا غرق کیا جانا اور آخرت میں ان کا دوزخ میں داخل کیا جانا گویا باہم قریب ومتصل ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر کا عرصہ ہو جو نہایت ہی مختصر ہے۔
فلم ........................ انصارا (17 : 52) ” پھر انہوں نے اپنے لئے اللہ سے بچانے والا کو مددگار نہ پایا “۔ نہ اولاد ، نہ مال ، نہ مرتبہ ، نہ دوست اور نہ ان کے نام نہاد الٰہہ۔
ان دو چھوٹی سی آیات میں ان سرکشوں کا قصہ تمام ہوگیا اور ان کا قصہ حیات ختم ہوا۔ لیکن ابھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا ختم نہیں ہوئی کہ اے اللہ ان کو فنا کردے۔ یوں کہ ان کا وجود تک نہ رہے۔ یہاں ان کی غرقابی اور طوفان کے قصے کی تفصیلات نہیں دی گئیں ، اس لئے کہ اس مقام پر نہایت شتابی کے ساتھ ان کا قصہ تمام کرکے دکھانا مطلوب تھا۔ یہاں تک کہ غرقابی اور داخلہ جہنم کے درمیان کے طویل فاصلے کو صرف فائے تعقیب کے ذریعہ لپیٹ لیا گیا۔
Ayah 71:26وقال نوح ........................ الاتبارا
حضرت نوح (علیہ السلام) کے قلب مبارک پر یہ الہام آگیا تھا کہ اس ناپاک زمین کو غسل دینا مقصود ہے اور ظالموں اور سرکشوں نے اس کو شروفساد سے بھر دیا ہے۔ یہ شر اس قدر غالب ہوگیا ہے اور اس قدر جم گیا ہے کہ اس نے دعوت دین کو جامد کرکے رکھ دیا ہے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے کے لوگ اب ناقابل اصلاح ہوگئے ہیں اور بارہا ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی وقت اہل زمین ناقابل اصلاح ہوجائیں تو ان پر عام تباہی آتی ہے اور اس طرح اللہ زمین کی تطہیر فرما دیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تک حضرت نوح (علیہ السلام) پہنچ چکے تھے۔ اس لئے انہوں نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ، ان لوگوں کو ختم کردے ، ظالموں کو بیخ وبن سے اکھاڑ دے ، کوئی زندہ وجود باقی نہ رہے ، اور انہوں نے دلیل بھی دے دی۔
Ayah 71:27انک ................ عبادک (17 : 72) ” اگر تونے ان کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے “۔ عبادک سے مراد یہاں اہل ایمان ہیں یعنی لوگ تو ایمان لائیں گے لیکن یہ بااثر اور سرکش مقتدر لوگ اپنے اقتدار اور قوت کے بل بوتے پر ان کو گمراہ کردیں گے۔ اور اس سے مراد عام انسان بھی ہوسکتے ہیں۔ پھر معنی یہ ہوگا کہ یہ عوام الناس کو اپنے مرتبے اور بلند مقام کی وجہ سے متاثر کریں گے اور اللہ سے دور کردیں گے۔
پھر ان لوگوں نے ایک ایسی فضا پیدا کردی ہے ، جس میں سے صرف کفار ہی پیدا ہوتے ہیں۔ جو بچے بھی پیدا ہوتے ہیں ، ان کی پیدائش کے نتیجے میں کفار نسل تیار ہوتی ہے۔ کیونکہ ظالموں نے جو فضا تیار کررکھی ہے اس میں ظالم اور گمراہ نسل ہی تیار ہوتی ہے۔ جو نور ایمان سے محروم ہوتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف حضرت نوح (علیہ السلام) نے اشارہ فرمایا اور قرآن کریم نے آپ کی زبانی نقل کیا۔
ولایلدوا .................... کفارا (17 : 72) ” اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا ، بدکار اور سخت کافر ہی ہوگا “۔ کیونکہ وہ اپنی سوسائٹی میں ئرے اور گمراہ کن حالات ، طریقے اور افکار شائع کرتے ہیں۔ اور انہوں نے اپنی سوسائٹی اور نظام کو ایسا بنا دیا ہے کہ اس کے اندر فاسق وفاجر ہی پیدا ہوسکتے ہیں۔
چناچہ آپ نے دوبارہ ان بیخ کنی کے لئے دعا کی۔ اللہ نے ان کی دعا قبول کرلیا اور رﺅے زمین کو ان کی گندگی سے صاف کردیا۔ ان پر ایسا سیلاب آیا جو سب کچھ بہا لے گیا۔ اور اس قسم کا تباہ کن سیلاب اللہ جبار وقہار ہی لاسکتا ہے۔
Ayah 71:28ایک طرف حضرت نوح (علیہ السلام) نے کفار کے بارے میں دعا فرمائی کہ ان کو نیست ونابود کردیا جائے۔
ولا تزد ................ الاتبارا (17 : 82) ” اور ظالموں کے لئے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کر “۔ اور دوسری جانب انہوں نے اپنے لئے دعا فرمائی :
رب اغفرلی ............................ المومنت (17 : 82) ” میرے رب ، مجھے اور میرے والدین کو ، اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے ، اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرمادے “۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ کو اپنی مغفرت کے لئے بھی پکارا۔ اور یہ ہیں انبیاء کے آداب بارگاہ رب تعالیٰ میں۔ اللہ کے سامنے بندے کو اس طرح عاجزی سے بات کرنا چاہئے جس طرح نوح (علیہ السلام) کررہے ہیں۔ وہ اس طرح دعا کر رہے ہیں جس طرح ایک انسان دعا کرتا ہے۔ انسان سے غلطی بھی ہوتی ہے ، تقصیرات بھی ہوتی ہیں۔ اگرچہ ایک نبی غایت درجہ مطیع رب ہوتا ہے ، جس طرح حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ میں بھی جنت میں رب کریم کے فضل کے سوا داخل نہیں ہوسکتا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نبی ہیں۔ انہوں نے طویل عرصہ اعصاب شکن جدوجہد کی ، پھر بھی وہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ ، جو تقصیرات ہوئی ہیں معاف کردی جائیں۔
پھر وہ اپنے والدین کے لئے دعا کرتے ہیں۔ ایک نبی اپنے والدین کا احترام کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ مومن ہوں گے۔ اگر مومن نہ ہوتے تو اللہ آپ کو اس کی اجازت نہ دیتا جس طرح اللہ نے آپ کی بات اپنے بیٹے کے بارے میں نہ سنی جو کافر تھا۔
پھر آپ کی دعا ان لوگوں کے بارے میں ہے جو آپ کے گھرانے میں اور آپ کی سوسائٹی میں بطور مومن بیٹھیں۔
یہ ایک مومن کی دوسرے مومن کے ساتھ نیکی ہے۔ ایک مومن اپنے لئے جو چیز پسند کرتا ہے وہی دوسرے مومن کے لئے بھی پسند کرتا ہے۔ گھر کا ذکر یہاں اس لئے ہوا کہ اس طوفان میں تمام مومنین کے لئے احکام تھے کہ وہ آپ کے گھر میں داخل ہوجائیں اور آپ ان کو سفینہ میں لے کر نکلیں گے۔
اس کے بعد عام مومنین اور مومنات کے لئے دعا ہے۔ یہ بھی ایک نبی کا رویہ ہے کہ وہ تمام اہل ایمان کے لئے نیک خواہشات رکھتا ہے۔ چاہے یہ مومنین اس کے دور کے ہوں ، اس سے پہلے گزرے ہوں یا بعد کے ادوار میں آنے والے ہوں۔ یہ اسلامی نظریہ حیات کا ایک راز ہے کہ اس نظریہ کے ساتھ منسلک ہونے والے لوگوں کا آپس میں بہت ہی گہرارابط ، تعلق اور محبت اور برادرانہ جذبات ہوتے ہیں۔ اور یہ خصوصیت صرف اسلامی نظریہ حیات ہی کو حاصل ہے۔ اس محبت کے مقابلے میں پھر کافروں کے ساتھ دشمنی اور کراہیت۔
ولاتزد ................ الاتبارا (17 : 82) ” اور ظالموں کے لئے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کر “۔ یہاں یہ سورت ختم ہوتی ہے جس میں ایک طرف ایک شریف نبی کی ان تھک جدوجہد کی تصویر کشی ہے اور دوسری طرف سرکشوں اور معاندین کی تصویر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعیان حق کو کس قدر عظیم جدوجہد کرنی چاہئے اور یہ کہ اس راہ میں کس قدر مشکلات ہوا کرتی ہیں۔ اور کس قدر عظیم قربانیوں کا تقاضا کرتی ہے ، تحریک دعوت اسلامی ؟ اور یہ عظیم جدوجہد اس لئے ضروری ہے کہ کوئی انسانی سوسائٹی دعوت اسلامی اور اسلام نظام کے سوا ، نہ ہی دنیا میں اور آخرت میں ترقی اور کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ غرض ترقی کا راز اور انسانیت کے عروج کا ذریعہ دعوت اسلامی اور اسلامی نظام کے قیام میں ہے۔