70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 70:1–3

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

مانگنے والے نے عذاب مانگا ہے (وہ عذاب) جو ضرور واقع ہونے والا ہے

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

، کافروں کے لئے ہے ، کوئی اسے دفع کرنے والا نہیں ،

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

اس خدا کی طرف سے ہے جو عروج کے زینوں کا مالک ہے۔

مشرکین عرب کے نزدیک حقیقت آخرت کو سمجھنا نہایت ہی مشکل کام تھا۔ جب حضور اکرم ﷺ نے ان کے سامنے یہ حقیقت پیش فرمائی تو انہوں نے اس کے مقابلے میں سخت نفسیاتی رد عمل کا اظہار کیا۔ یہ لوگ اسے نہایت تعجب انگیز ، عجیب و غریب اور ایک خوفناک قسم کا نظریہ سمجھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے بڑی سختی سے اس کا انکار کیا۔ اور مختلف انداز میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو چیلنج کیا کہ آپ یہ دن لاکر دکھائیں۔ کبھی کہا اس کا وقت ہی بتا دیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کی ایک روایت میں آتا ہے کہ جس شخص نے عذاب قیامت لانے کے بارے میں سوال کیا تھا ، وہ نضر ابن حارث تھا اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہ کفار کی طرف سے سوال تھا کہ لاﺅ عذاب اور اللہ نے فرمایا مانگنے کی ضرورت نہیں ہے وہ تو کفار پر آنے ہی والا ہے۔ بہرحال کوئی تھا جس نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ آجائے قیامت اور ہوجائے ان کو عذاب۔ تو اللہ نے فرمایا کہ یہ بہت جلد آنے والا ہے۔ کیونکہ اللہ نے اسے مقدر کردیا ہے تم اسے بعید سمجھتے ہو ، لیکن ہے یہ قریب ، اور کوئی اسے دفع نہیں کرسکتا اور نہ روک سکتا ہے۔ لہٰذا اس کے بارے میں مطالبہ کرنا جبکہ وہ واقع ہونے ہی والا ہے ، سوال کرنے والے کی بدنصیبی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ سوال کرنے والا ایک ہو یا بہت سے سوال کرنے والے ہوں ، بہرحال سوال کیا گیا تھا۔ کافرین مطلقاً عذاب کے مستحق ہیں ، چاہے وہ قیامت کے بارے میں سوال کریں یا نہ کریں اور یہ عذاب وقوع پذیر ہونے والا ہے ، اس اللہ کی طرف سے ، جو عروج کے زینوں کا مالک ہے ، جو ہر قسم کی برتری کا مستحق ہے اور جو بڑے درجوں والا اور صاحب عرش عظیم ہے۔ اس افتتاحی فقرے کے بعد ، جس میں عذاب کے موضوع پر فیصلہ کن بات کردی گئی کہ یہ واقع ہوگا ، فلاں فلاں اس کے مستحق ہوں گے ، یہ عذاب اللہ کی طرف سے ہوگا ، جو نہایت ہی بلند اور قوتوں والا ہے ، اور اس کے بارے میں جو فیصلہ ہے وہ نافذ ہونے والا ہے ، کوئی قوت اسے رد کرنے والی نہیں ہے۔ یہ فیصلہ عالم بالا کا ہے ، اب اس یوم العذاب کی تفصیلات اور اس دن کے واقعات پائے جاتے ہیں ، جس کے بارے میں یہ لوگ جلدی مچا رہے ہیں۔ یہر قریب ہے لیکن اللہ کے ہاں زمانوں کا حساب انسانوں کے زمانوں کے حساب سے بہت ہی مختلف ہے۔ اللہ کے اندازوں اور انسانوں کے اندازوں کے درمیان بہت فرق ہے۔ اللہ کے معیار اور انسان کے معیار مختلف ہیں۔
Ayah 70:4

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

ملائکہ اور روح اس کے حضور ﷺ چڑھ کر جاتے ہیں۔ ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔

تعرج الملئکة ........................ قریبا (7) (08 : 4 تا 7) ” اور روح اس کے حضور ﷺ چڑھ کر جاتے ہیں۔ ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ پس اے نبی صبر کرو ، شائستہ صبر۔ یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں “۔ راجح بات یہ ہے کہ جس دن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، وہ قیامت کا دن ہے کیونکہ سیاق کلام میں یہ معنی متعین نہیں ہیں۔ اس دن ملائکہ اور روح اللہ کی طرف چڑھتے ہیں اور روح سے مراد راجح روایت کے مطابق حضرت جبرئیل ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقامات پر ان کو اسی نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ ملائکہ کے بعد خصوصاً ان کے ذکر سے معلوم ہوتا ہے کہ اہم مرتبہ ہے اور اس دن کے حوالے سے یہ ذکر کو ملائکہ اور روح الامین اس دن اوپر جائیں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت ہی اہم دن ہوگا۔ اور اس کی یہ خصوصیت ہوگی۔ اور وہ اس دن اس کے انتظامات اور معاملات کے بارے میں اوپر جائیں گے اور ہمیں یہ معلوم نہیں ہے اور نہ ہی ہمیں اللہ نے اس کا مکلف بنایا ہے کہ ہم جانیں کہ ان کی یہ دوڑ دھوپ کن معاملات کے لئے ہوگی اور نہ یہ کہ یہ فرشتے کس طرح چڑھیں گے اور کہاں جائیں گے چڑھ کر ؟ یہ عالم غیب سے متعلق امور ہیں اور اس آیت کے مفہوم میں ان سے کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ اور کوئی دلیل بھی ہمارے پاس نہیں ہے۔ بس یہ کہ وہ بہت ہی اہم دن ہوگا ، جس میں اس قدر اہم لوگ بہت ہی زیادہ مشغول ہوں گے۔ رہی یہ تعبیر۔ کان مقدارہ ................ سنة (08 : 4) تو اس سے مراد طویل زمانہ بھی ہوسکتا ہے اور عربی اسالیب میں یہ استعمال عام ہے ، اور اس سے مراد کوئی متعین وقت بھی ہوسکتا ہے او یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فی الواقعہ دنیا کے سالوں کی طرح یہ پچاس ہزار سال کا ایک طویل دن ہو۔ ہمارے زمانے میں یہ حقیقت قریب الفہم ہوگئی ہے کیونکہ ہمارا دن تو زمین کی گردش محوری سے بنتا ہے اور یہ گردش چوبیس گھنٹوں میں مکمل ہوجاتی ہے اور ایسے ستارے بھی ہیں جن کی گردش محور ہمارے اس ستارے زمین کی گردش سے کئی ہزار گنا زیادہ وقت میں مکمل ہوتی ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ گویا ستر ہزار سالوں یا پچاس ہزار سالوں سے مراد کوئی متعین زمانہ ہے بلکہ اس سے مراد ایک معیار ہے اللہ کے معیاروں میں ہے۔ اور اللہ کے ایام میں سے ایک دن اگر پچاس ہزار سال کے برابر ہے تو قیامت کے عذاب کو یہ لوگ جو دور دیکھتے ہیں ، وہ اللہ کے نزدیک قریب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ آپ صبر جمیل سے کام لیں اور ان کی تکذیب اور عذاب آخرت کے بارے میں شتابی سے پریشان نہ ہوں۔
Ayah 70:5

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

پس اے نبی صبر کرو ، شائستہ صبر۔

فاصبر .................... قریبا (7) (07 : 5 تا 7) ” (پس صبر کرو شائستہ صبر ، یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں “۔ صبر کی ہدایت پر دعوت ہر داعی کو دی جاتی رہی ہے۔ ہر رسول کو یہی ہدایت کی گئی کہ صبر کریں اور رسولوں کے متبعین مومنین کو بھی صبر جمیل کی ہدایت کی گئی۔ یہ راہ جس قدر دشوار گزار ہے اور یہ دعوت جس قدر بھاری ہے ، اور اس میں کمزور نفس انسانی کو لغزشوں سے بچانے کی جس قدر ضرورت ہے ، اس کی اہمیت عیاں ہے کیونکہ اسلامی انقلاب کا ہدف دورنظر آتا ہے اور مقصد اور منزل افق میں بہت دور اور بلندی پر ہوتی ہے۔ صبر جمیل سے مراد وہ صبر ہے جس سے صبر کرنے والا مطمئن ہو ، اس کے دوران صبر کرنے والا مصیبت ، بےچینی اور شک کا احساس نہ رکھتا ہو۔ اسے یقین ہو کہ اس کے ساتھ جو وعدہ کیا گیا ہے وہ سچا ہے۔ صبر کرنے والے کی کیفیت یہ ہو کہ اس کا انجام بہتر ہونے والا ہے ، جو اللہ کی تقدیر پر راضی ہو اور جو ابتلاء آرہی ہے ، وہ یقین رکھتا ہو کہ اس میں حکمت الٰہی مضمر ہے۔ اور صبر کرنے والا یہ سمجھتا ہو کہ جو مصیبت بھی اس پر آنی ہے وہ اللہ کی طرف سے آرہی ہے۔ اور اسے اس کا اجر دیا جائے گا۔ یہی وہ صبر ہے جسے صبر جمیل کہا گیا ہے۔ اور یہی صبر ایک داعی کو زیب دیتا ہے کیونکہ وہ اللہ کی طرف بلاتا ہے ، اللہ کی دعوت دیتا ہے۔ اس میں اس کا اپنا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس دعوت کے ساتھ اس کے ذاتی مفادات وابستہ نہیں۔ اس لئے اس پر جو مصائب آرہے ہیں وہ اللہ کی راہ میں ہیں اور اس کے بارے میں جو فیصلے ہوتے ہیں وہ اللہ کے فیصلے ہیں۔ اس لئے صبر جمیل وہ ہے جو حقیقت پسندانہ اور شائستہ ہو۔ اور اس صبر کرنے والے کو ان امور کا گہرا شعور ہو۔ یہ دعوت جس کے مقابلے میں مکذبین کھڑے ہوجاتے ہیں ، اور اس کی راہ روکتے ہیں ، یہ اللہ کی دعوت ہے اور قیامت جس کی وہ تکذیب کرتے ہیں اور اس کے برپا ہونے کے لئے جلدی مچاتے ہیں۔ یہ بھی اس کی دعوت ہے اور وہی ہے جو اپنی تدبیر اور حکمت کے مطابق اس کے قیام کے وقت کا تعین کرتا ہے۔ لیکن لوگ اس تدبیر اور تقدیر کو سمجھ نہیں پاتے۔ اور جلدی مچاتے ہیں۔ اور جب وقت زیادہ گزر جائے تو وہ اس میں شک کرتے ہیں۔ بعض اوقات تو خود داعی سخت بےچینی محسوس کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں بھی یہ رغبت اور خواہش پیدا ہوجاتی ہے کہ اللہ کا وعدہ جلدی ہی سامنے آجائے اور ایسے ہی اوقات میں داعی کو ایسی ہدایت کی جاتی ہے۔ فاصبر ............ جمیلا (08 : 7) ” صبر کرو ، شائستہ صبر “۔ یہاں خطا رسول اللہ ﷺ کو ہے ، تاکہ آپ کا قلب مبارک مخالفت اور تکذیب کے دکھ کو برداشت کرلے۔ اور اس کے ساتھ دوسری حقیقت کو سمجھ لے کہ واقعات ومعاملات کے پیمانے اللہ کے ہاں اور ہوتے ہیں اور لوگوں کے ہاں اور۔
Ayahs 70:6–7

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں “۔

انھم ........................ قریبا (08 : 7) ” یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں “۔ اس کے بعد اس دن کے مناظر پیش کیے جاتے ہیں ، جس میں واقع ہونے والا عذاب آئے گا ، جسے وہ بعید سمجھتے ہیں اور اللہ اسے قریب سمجھتا ہے۔ یہ مناظر اس کائنات میں ہیں اور انسان کی نفسیاتی دنیا کے اندر بھی۔ یہ اس قدر ہولناک ہوں گے کہ انسان کے اوسان خطا ہوجائیں گے اور اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر زلزلہ برپا ہوگا۔
Ayahs 70:8–9

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

(وہ عذاب اس روز ہوگا) جس روز آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے۔

یوم تکون ................ کالعھن (07 : 9) ” جس روز آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے “۔ مہل کے معنی ہیں خام معدنیات کو پگھلانا مثلا تیل کی تلجھٹ ، اور العہن کے معنی ہیں اون کا منقش کپڑا۔ قرآن کریم مختلف مقامات میں یہ اطلاع دیتا ہے کہ اس دن عظیم واقعات رونما ہوں گے۔ ان کی وجہ سے اس دنیا کے اجرام فلکی کی موجودہ حالت نہیں رہے گی۔ ان کے اوصاف ، حالات اور شکل بدل جائے گی اور ان میں سے ایک یہ آسمان یوں ہوجائے گا جس طرح پگھلی ہوئی معدنیات۔ اور جو لو علوم طبیعیہ پر تحقیقات کرتے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ ان آیات پر غور کریں۔ ان کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ تمام فلکی اجرام دراصل پگھلے ہوئے مادے سے منجمد ہوئے ہیں ، یہاں تک کہ یہ مادہ گیس کی شکل میں تھا اور گیس کا درجہ پگھلنے اور سیال ہونے کی حالت کے بعد بھی آتا ہے۔ شاید یہ تمام مادہ قیامت کے دن بجھ جائے گا۔ جس طرح کہا گیا۔ واذا ............ انکدرت ” اور جب ستارے تاریک ہوجائیں گے “۔ اور ٹھنڈے ہوکر سیال ہوجائیں گے ، یوں ان کی گیس کی طبیعت میں تبدیلی ہوجائے گی۔ بہرحال یہ تو ایک احتمال ہے اور اس زاویہ سے تحقیقات کرنے والوں کی دلچسپی اس میں ہوسکتی ہے۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم تو اس بات پر ایمان رکھتے ہیں جو آیت کا مفہوم ہے۔ اور جس میں یہ خوفناک نقشہ کھینچا گیا ہے کہ آسمان پگھلے ہوئے مواد کی طرح ہوں گے ۔ اور پہاڑ دھنکے ہوئے متلون اون کی طرح ہوں گے۔ اور نہایت ہی خوفناک منظر ہوگا جس کی تعبیر قرآن اس خوفناک الفاظ میں کررہا ہے۔
Ayahs 70:10–14

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم چاہے گا کہ اس کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنی اولاد کو ،

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اپنی بیوی کو ، اپنے بھائی کو ،

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا ،

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دے دے اور یہ تدبیرا سے نجات دلادے۔

ولا یسئل ............................ ینجیہ (41) (07 : 01 تا 41) ” کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم چاہے گا کہ اس کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنی اولاد کو ، اپنی بیوی کو ، اپنے بھائی کو ، اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا ، اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دے دے اور یہ تدبیرا سے نجات دلادے “۔ لوگ اس دن نہایت پریشان ہوں گے اور ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی۔ کوئی شخص اپنے سوا کسی دوسرے کی طرف ملتفت ہونے کا موقعہ نہ پائے گا۔ اور اس کے شعور میں کسی غیر کے لئے کوئی وسعت نہ ہوگی ، جگری دوست بھی جگری دوست کو نہ پوچھے گا ، ایک مدہوس کردینے والا خوف ہوگا اور اس کی وجہ سے لوگوں کے تمام روابط منقطع ہوں گے اور ہر شخص اپنے مسائل اور اپنی پریشانی میں گھرا ہوگا۔ وہ ایک دوسرے پر پیش کیے جائیں گے اور ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے اور عمداً ایسا کیا جائے گا لیکن ہر کسی کو اپنی پڑی ہوگی۔ ہر ضمیر کا اپنا شغل ہوگا۔ لہٰذا دوست دوست کو نہ پوچھے گا ، نہ کوئی کسی سے مدد طلب کرسکے گا۔ اور مجرم کا حال کیا ہوگا ؟ اس کی جان خوف کے ہاتھ میں ہوگی۔ اس کا احساس ہی جاتا رہے گا اور وہ اس دن کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اپنی عزیز ترین متاع دینے کے لئے تیار ہوگا۔ جبکہ اس زندگی میں وہ اس متاع پر جان چھڑکتا تھا ، اور اس کی پوری زندگی ان کے لئے تھی۔ مثلاً اولاد ، بیوی ، بھائی ، خاندان جو حامی و مددگار ہوتا ہے۔ بلکہ اس دن اپنی جان کو بچانے کے لئے تو وہ اس پوری دنیا کے اموال واقتدار کو چھوڑنے کے لئے تیار ہوگا ، کہ کسی طرح نجات پاجائے۔ رنج والم کی یہ کس قدر بھیانک تصویر ہے۔ یہ شخص نیم مدہوش ہے اور پوری کائنات بخشنے کے لئے تیار ہے۔ یہ انداز تعبیر قرآن کے ساتھ مخصوص ہے۔ یہ ہے مجرم کی حالت ، یہ ہیں اس کی تمنائیں کہ اس حالت میں وہ ایسے حالات دیکھتا ہے کہ امید کی آخری چنگاری بھی بجھ جاتی ہے ، جھوٹی تمنائیں ختم ہوجاتی ہیں اور اصل اور حقیقی صورت حالات سامنے آتی ہے۔
Ayahs 70:15–16

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی ،

کلا انھا .................... فاوعی (81) (07 : 51 تا 81) ” ہرگز نہیں ، وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی ، پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اس شخص کو ، جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا “۔ یہ ایک منظر ہے کہ جسے دیکھ کر انسان کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں جبکہ اس منظر سے قبل رنج والم کی وجہ سے یہ مدہوش تھا۔ کلا ، یہ نہایت سختی سے تردید اور جھڑکی کا لفظ ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ یہ باطل خواہشات ہیں کہ کوئی بیٹوں ، بیوی ، خاوند ، بھائی ، بہن اور خاندان اور روئے زمین کی جائیداد کا فدیہ دے سکے گا ، ہر گز نہیں۔ انھا لظی (07 : 61) ” وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی “۔ نزاعة للشوی (07 : 61) ” جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی “۔ چہرے اور سر کے گوشت کو ، اور پھر یہ بلا کی شکل میں ہوگی۔ زندہ چلتی ہوئی۔ اور اس خوفناکی میں وہ قصداً اضافہ کررہی ہوگی۔
Ayahs 70:17–18

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اس شخص کو ، جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا “۔

تدعوا .................... فاوعی (07 : 81) ” پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اس شخص کو ، جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا “۔ یہ اس کو اسی طرح بلائے گی جس طرح اسے اس سے قبل دنیا میں راہ ہدایت کی طرف بلایا جاتا تھا۔ اور یہ پیٹھ پھیر کر چلا جاتا تھا۔ لیکن آج جبکہ اسے یہ بلارہی ہے تو اس قابل نہیں ہے کہ پیٹھ پھیر کر چلا جائے۔ اس سے قبل یہ دعوت اسلامی کے مقابلے میں مال جمع کرنے میں لگا ہوا تھا اور اس مال کو وہ برتنوں اور تجوریوں میں محفوظ کرکے رکھتا تھا۔ اور آج یہ دعوت بلائے جہنم کی طرف سے ہے۔ نہ یہ اسے رد کرسکتا ہے نہ مال دے کر جان کو چھڑا سکتا ہے۔ اس سورت ، اس سے پہلی سورت اور سورة قلم میں بھی تاکید اس بات کی تھی کہ ان کے جرم میں یہ بات بھی شامل تھی یہ لوگ مال جمع کرتے تھے اور مساکین کے کھانے پر لوگوں کو نہ ابھارتے تھے۔ یعنی کفر ، شرک اور تکذیب کے ساتھ ساتھ ان کا یہ جرم بھی تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر ، گمراہی اور تکذیب کے ساتھ ساتھ مکہ میں تحریک کو یہ مشکل بھی درپیش تھی کہ لوگ بخیل تھے اور دولت پرست تھے اور غریبوں کا خیال نہ رکھتے تھے۔ اس لئے بار بار ان امور کی طرف بھی اشارہ کیا کہ فقیروں ، مسکینوں کو نظر انداز کرنا اور بہت زیادہ دولت پرست و مادہ پرست ہونا موجب عذاب ہے۔ اس سورت میں دوسرے اشارات بھی ہیں جن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس وقت دعوت اسلامی کا آغاز جس مکی معاشرے میں ہوا تھا ، اس کے خدوخال کیا تھے۔ یہ ایک ایسا معاشرہ تھا جس میں لوگ مال و دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ تجارت اور سود خواری ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ قریش کے سردار تجارتی کوٹھیوں کے مالک تھے اور ہر ایک کے اپنے اپنے قافلے ہوتے تھے۔ جو یہ گرمیوں اور سردیوں میں چلاتے تھے۔ دولت پر لوگ ہر طرف سے ٹوٹ پڑتے تھے۔ ہر شخص بےحد بخیل تھا۔ فقراء اور مساکین محروم تھے۔ یتیم اور لاچار بھوکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاشی ناہمواری کو دور کرنے کے لئے قرآن کریم نے بار بار بتکرار احکامات صادر کیے ، بار بار حرص کی مذمت کی۔ انسانی نفوس کے اندر اتر کر بخل اور حرص کو جڑوں سے نکالا۔ اور یہ کام اسلام نے فتح سے قبل نظریاتی طور پر کیا اور فتح کے بعد عملی طور پر کیا۔ مثلاً رہا کی ممانعت کی گئی۔ لوگوں کے اموال باطل طریقوں سے کھانے کی ممانعت کی گئی۔ یتیموں کے مال کے کھانے کو آگکھانا بتایا گیا ، اور یتیموں کے مال میں اسراف سے اور ظلم سے روکا گیا۔ یتیموں کے نکاح کو اس لئے روکنے کی ممانعت کی گئی کہ ان کا مال کھاتے رہیں یا یتیم لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرنے کی رغبت اس لئے رکھی جائے کہ ان کا مال ہڑپ کرلیں۔ غرض جو اقدامات ، ہدایات اور تنبیہات کی گئیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت لوگوں کی معاشی صورت حالات کیا تھی اور یہ کہ اسلام کی ابدی معاشی پالیسی کیا ہے۔ کسی اسلامی معاشرے کے لئے دائمی ہدایات یہی ہیں کہ بخل ، حسد اور حرص سے بچو اور مادیت اور دولت کے بندھنوں سے اپنے آپ کو آزاد کرو اور یہ پالیسی پورے قرآن میں جاری رکھی گئی۔ اس سے قبل قیامت کے ہولناک مناظر دکھائے جاچکے ، خوف اور عذاب کی صورت میں۔ اب بتایا جاتا ہے کہ خوشی اور غم کے مختلف مواقع پر نفس انسانی کا رد عمل کیسا ہوتا ہے۔ ایمان کی حالت میں انسان مختلف حالات کے مقابلے میں کیا رد عمل کرتا ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ایمان کی حالت میں رد عمل کیا ہوتا ہے۔ اور ایمان نہ ہونے کی صورت میں کیا ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مومنین کا انجام کیا ہے اور کافرین کا انجام کیا ہے ؟
Ayahs 70:19–21

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

” انسان تھرڈلاپیدا کیا گیا ہے ،

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے۔

” اس “ انسان کی تصویر ذرا دیکھئے ، یہ ایمان سے محروم انسان ہے۔ قرآن کریم اس کی کس قدر سچی تصویر کھینچتا ہے۔ اور اس تصویر میں ایک غیر مومن انسان کے خدوخال اور فیچرز کس قدر نمایاں ہیں۔ ان تمام خدوخال سے انسان تب ہی محفوظ ہوتا ہے ، جب وہ مومن ہوتا ہی۔ ایک مومن پر اگر کوئی مصیبت آجائے تو وہ صبر جمیل کا پیکر ہوتا ہے اور مطمئن ہوتا ہے۔ جزع وفزع سے دور ، اور اگر اسے خوشحالی نصیب ہو تو وہ نہ بخل کرتا ہے نہ اتراتا ہے۔ ان الانسان .................... منوعا (12) (07 : 91 تا 12) ”” انسان تھرڈلاپیدا کیا گیا ہے ، جب اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے “۔ یوں نظر آتا ہے کہ ایک ایک لفظ مصور قدرت کا ایک رنگ ہے اور وہ انسان کے چہرے اور اس کی خصوصیات کو صاف بتارہا ہے۔ یہاں تک کہ جب انسان یہ نہایت ہی مختصر سی تین آیات پڑھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ ان میں چند ہی کلمات استعمال ہوئے ہیں ، تو اسے ایمان سے خالی انسان کی ایک نہایت چمکدار اور واضح تصویر نظر آتی ہے۔ اس کے تمام فیچرز نمایاں ہیں۔ ھلوع ، جزوع اور منوع اس انسان کو اگر کوئی مصیبت پیش آجائے یا حقائق حیات کا کوئی ڈنگ لگ جائے تو یہ آہ وفغاں کرنے لگتا ہے۔ یہ سمجھتا ہے کہ بس وہ اب اسی حالت میں رہے گا۔ وہ سمجھتا ہے کہ اب تو وہ ہمیشہ کے لئے اس مصیبت میں پھنس گیا ہے ، اور کوئی نہیں ہے جو اس کو اس مصیبت سے نکال دے۔ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ گویا مصیبت کی یہ گھڑی دائمی ہے۔ اس وقت یہ شخص اوہام میں بندھ جاتا ہے اور مصیبت اور مشقت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے تصور میں بھی یہ بات نہیں ہوتی کہ اس مشکل کے بعد کوئی آسانی بھی آسکتی ہے۔ وہ اللہ سے کسی قسم کی رحمت اور مہربانی کا مامیدوار نہیں ہوتا۔ چناچہ یہ جزع فزع اس کو کھا جاتی ہے۔ اس کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہے۔ اور اس صورت کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک قوی ذات کی پناہ میں نہیں ہوتا۔ اس کا کوئی مضبوط سہارا نہیں ہوتا ، جس سے اس کو کوئی امید ہے۔ اور اس کے برعکس اگر وہ خوشحال ہو ، عافیت میں ہو ، تو وہ نیکی کا کوئی کام کرنے سے رکنے والا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ سہولیات اس کو اس کی محنت اور مشقت کی وجہ سے حاصل ہیں ، اس لئے یہ ان کو اپنے لئے مخصوص کرلیتا ہے ، اپنی ذات کے لئے چھپا لیتا ہے اور بلکہ یہ اپنی مملوکات کا غلام ہوجاتا ہے۔ اور اپنی جائیداد اور مال پر مرمٹنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ یہ اس لئے کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ رزق کی حقیقت کیا ہے اور یہ کہ رزق کے ملنے میں خود انسان کا کردار کیا ہے۔ یہ شخص یہ امید نہیں رکھتا کہ اگر ہے ، دونوں حالتوں میں تھرڈلا ہے۔ حالت خیر میں بھی اور حالت شر میں بھی۔ یہ ایک انسان کی بہت ہی بری تصویر ہے۔ لیکن اس انسان کی جس کا دل نور ایمانی سے خالی ہو۔ لہٰذا اللہ پر ایمان لانا دراصل بڑا اہم مسئلہ ہے۔ یہ محض ایک لفظ نہیں ہے جو زبان سے ادا کردیا جائے۔ اور نہ ہی یہ چند مذہبی رسومات عبادات سے متعلق ہے۔ یہ دراصل ایک نفسیاتی حالت ہے اور یہ ایک مکمل نظام حیات ہے اور حالات وواقعات کے لئے یہ ایک معیار ہے۔ اور انسان کا دل اگر ایمان سے خالی ہوجائے تو وہ اس قدر ہلکا ہوجاتا ہے جس طرح پرندوں کا ایک پر جسے ہوا کے جھونکے ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر اڑا کر گھماتے ہیں اس کا کوئی وزن اور پیمانہ نہیں ہوتا۔ اس قسم کا انسان ہمیشہ قلق اور خوف کا شکار رہتا ہے۔ اگ را سے کسی مصیبت سے دو چار ہونا پڑے تو وہ جزع فزع کرتا ہے۔ اگر اسے کوئی بھلائی نصیب ہو تو بخیل ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس کا ظرف ایمان سے بھر اہوا ہو ، تو وہ نہایت اطمینان ، عافیت میں ہوتا ہے ، اس لئے کہ اس کا ربط ایک حقیقی سرچشمے سے ہوتا ہے۔ جہاں سے تمام واقعات و حالات کنٹرول ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی تقدیر پر مطمئن ہوتا ہے ، چاہے خیر ہو یا شر ہو۔ اگر خیر ہو تو وہ مطمئن ہوتا ہے۔ اللہ کی رحمت کا شعور رکھتا ہے۔ اللہ کی آزمائشوں میں وہ ہمیشہ شمع امید روشن رکھتا ہے۔ کہ مشکل کے بعد آسانی آتی ہے۔ وہ امید رکھتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے۔ اسے اگر خیر ملتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے کچھ فرائض ہیں۔ اس کے لئے خرچ کرتا ہے اور اسے اس کی جزاء آخرت میں ملے گی۔ بلکہ دنیا وآخرت دونوں میں اسے جزاء ملے گی۔ لہٰذا ایمان دنیا میں ایک ایسی کمائی ہے جس کی جزاء آخرت میں ملے گی اور اس کی وجہ سے انسان کو راحت ، اطمینان اور ثبات وقرار ملتا ہے۔ اور پوری زندگی میں وہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اہل ایمان کو اس صورت حال سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔
Ayah 70:22

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

مگر وہ لوگ (اس عیب سے بچے ہوئے ہیں) جو نماز پڑھنے والے ہیں

پھر ان کی صفات کیا ہیں۔ انسان کی ان عام صفات سے جن کا اوپر ذکر ہوا ، ایک مومن کو مستثنیٰ کیا جاتا ہے۔ مثلاً : الا المصلین (22) الذین ................ دآئمون (32) (07 : 22 تا 32) ” مگر وہ لوگ جو نماز پڑھنے والے ہیں ، جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں “۔ نماز بنیادی طور پر رکن اسلام اور علامت ایمان ہے ، لیکن اس کی حکمت یہ ہے کہ یہ درحقیقت اللہ کے ساتھ ذریعہ اتصال ہے۔ اور یہ ایک ایسے تعلق کا مظہر ہے جس میں صرف بندہ اور اس کا رب آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ بندہ مقام بندگی کے اعلیٰ مرتبے پر اور رب تعالیٰ مقام ربوبیت اور معبودیت کے اعلیٰ مرتبے پر ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں یہ کہا گیا کہ ایمان کی صفت دائمہ صلوة ہے۔
Ayah 70:23

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں۔

الذین ھم ................ دآئمون (07 : 32) ” جو اپنی نماز کی پابندی کرتے ہیں “۔ نماز کے ساتھ تسلسل اور دوام ایک لازمی صفت ہے۔ گنڈے دار قسم کی نماز ، سستی سے پڑھی جانے والی نماز مکمل نماز نہیں ہے۔ نماز کے بارے میں سستی روی اور غفلت معیوب ہے۔ نماز چونکہ بندے اور رب کے درمیان رابطہ ہے اس لئے اس میں دوام لابدی ہے۔ رسول اللہ ﷺ جب کوئی عبادت کرتے تو آپ اس پر دوام اختیار فرماتے۔ حدیث شریف میں ہے ” اللہ کے نزدیک اعمال میں سے محبوب ترین عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے۔ اگرچہ وہ قلیل ہو ، لہٰذا اللہ کے ساتھ تعلق کا یہ مقدس رابطہ دائمی ہونا چاہئے۔ اسے مزاح نہ ہونا چاہئے کہ کبھی ہو اور کبھی نہ ہو۔ جس طرح جی نے چاہا کرلیا۔
Ayahs 70:24–25

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

جن کے مالوں میں ایک مقرر حق ہے ،

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

سائل اور محروم کا

والذین .................... والمحروم (52) (07 : 42۔ 52) ” جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے “۔ یعنی وہ صدقات جو معلوم اور متعین ہیں ، وہ مومنین کے اموال میں غرباء کا حق ہیں اور ” حق معلوم “ کا اس سے بھی زیادہ جامع مفہوم یہ ہے کہ وہ خود اپنے اموال میں ایک متعین حق مساکین کے لئے مقرر کرتے ہیں اور وہ اپنے جذبہ سے کہتے ہیں کہ یہ ان کا حق ہے۔ اس طرح وہ بخل اور کنجوسی کے جذبہ پر قابو پاتے ہیں۔ اور اسی طرح یہ شعور ابھرتا ہے کہ اہل معاشرہ پر ناداروں کے حوالے سے ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ خصوصاً اسلامی امت تو باہم متکافل امت ہے۔ سائل وہ ہے جو سوال کرتا ہے اور محرم ونادار جو سوال نہیں کرتا۔ اور اپنی ضرورت کا اظہار کسی کے سامنے نہیں کرتا ، یوں وہ محروم رہتا ہے۔ یا محروم وہ شخص ہے جس پر کوئی مصیبت آئی ہو اور اسے نعمتوں سے محروم کردیا گیا ہو اور اس نے سوال کرنے سے اجتناب کیا ہو۔ یہ شعور کہ محتاجوں اور محروم لوگوں کا بھی دولت میں حصہ ہے ایک زاویہ سے تو اللہ کے فضل کا شعور ہے اور دوسری جانب سے انسانی اخوت کا شعور ہے جبکہ نفسیاتی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان بخل اور کنجوسی کے بندھنوں سے آزاد ہوجاتا ہے اور یہ ایک اجتماعی ضمانت میں بھی ہے۔ لہٰذا معاشرے کے مالی حقوق ادا کرنے میں بہت فائدے ہیں۔ غرض زکوٰة وصدقات میں نفسانی ، ذاتی اور معاشرتی فائدے ہیں۔ اور یہاں اس کا ذکر انسان کے نفسیاتی علاج کے حوالے سے ہے۔
Ayah 70:26

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

جو روز جزاء کو برحق مانتے ہیں ،

والذین ................ الدین (07 : 62) ” جو روز جزاء کو برحق مانتے ہیں “۔ یہ صفت تو اس سورت کے محور سے براہ راست متعلق ہے ، کیونکہ سورت کا محور اور موضوع قیامت ہے۔ لیکن یہاں ان آیات میں ایک مومن کی نفسیاتی حالت سے بحث ہے۔ قیامت کی تصدیق ایمانیات کا اہم حصہ ہے اور کسی نظام زندگی کی تشکیل میں اس کا شعوری اور عملی اثر ہوتا ہے کیونکہ جو شخص قیامت کی تصدیق کرتا ہے اس کی قدریں اور پیمانے اور ہوتے ہیں اور جو قیامت کی تصدیق نہیں کرتا اس کے بارے میں شک میں ہوتا ہے ، اس کی قدریں بالکل جدا ہوتی ہیں ، چاہے ان کا تعلق نظریات سے ہو یا اعمال سے ہو یا زندگی کے اہم حادثات سے ہو۔ قیامت پر یقین رکھنے والا آسمانوں (خدا) کے میزان اور نظام کے مطابق کام کرتا ہے۔ وہ آخرت کے حساب و کتاب کے لئے تیاری کرتا ہے۔ صرف دنیا پر نظریں مرکوز نہیں کرتا۔ اور اسے زندگی میں جن حادثات اور جن واقعات سے دو چار ہونا پڑے خواہ اچھے ہوں یا برے ، اس کے بارے میں اس کا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ یہ تو دنیا کے عارضی حالات ہیں ، اصل جہاں تو اور ہے۔ لہٰذا وہ اپنی قیامت کو درست کرتا ہے اور جو آخرت کی تکذیب کرتا ہے اس کا سب کچھ اسی دنیا کے لئے ہوتا ہے۔ اگر وہ یہاں کسی چیز سے محروم ہوگیا تو اس کے نزدیک گویا وہ سب چیزوں سے محروم ہوگیا۔ کیونکہ اس کی تمام سرگرمیاں اس جہاں کے لئے ہوتی ہیں۔ چناچہ اس کے حساب و کتاب کے پیمانے مختلف ہوتے ہیں اور وہ ہر معاملے میں ایک غلط نتیجے تک پہنچتا ہے۔ اور وہ اپنے آپ کو اس محدود دنیا کے مختصر وقت کے اندر محدود کردیتا ہے۔ چناچہ یہ بدبخت ، مسکین ، ہر وقت عذاب میں مبتلا اور قلق میں گرفتار ہوتا ہے۔ کیونکہ اس دنیا کے بارے میں اس کے تمام اندازے غلط ہوتے ہیں۔ وہ کبھی مطمئن اور خوش نہیں ہوتا۔ کبھی عادلانہ اور منصفانہ فیصلے نہیں کرتا۔ اس لئے کہ اس کے فیصلے دنیا کے محدود دائرے میں محدود ہوتے ہیں ، لہٰذا یہ خود بھی پریشان ہوتا ہے اور اپنے ماحول کو بھی پریشان کرتا ہے۔ آزردہ دل آزردہ کمند الجمنے را .... غرض وہ اس دنیا میں بھی کوئی اعلیٰ اقدار پر مشتمل زندگی نہیں پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں یوم الاخرت پر یقین کو اسلامی نظریہ حیات کا جز بنایا گیا ہے۔
Ayah 70:27

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں

والذین .................... مامون (82) (07 : 72۔ 82) ” جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں کیونکہ ان کے رب کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے کوئی بےخوف ہو “۔ مجرد تصدیق قیامت سے یہ ایک آگے کا درجہ ہے۔ یہ قیامت کے بارے میں زیادہ حساسیت اور اللہ کی نگہبانی کا تازہ احساس اور اللہ کے دربار میں تقصیر کا شعور ہے اور زیادہ عبادت گزاری ہے۔ اور یہ خوف ہے کہ کسی وقت بھی اللہ کا عذاب آسکتا ہے۔ اس لئے ایسے لوگوں کے سامنے ہر وقت غضب الٰہی کا خوف رہتا ہے اور وہ اللہ کی حمایت اور بچاﺅ کے طلبگار رہتے ہیں۔ حضرت نبی ﷺ اللہ کے عذاب سے خوف کھاتے تھے۔ حالانکہ اللہ کے نزدیک آپ کا جو مرتبہ تھا ، وہ معلوم ہے اور آپ کو اچھی طرح معلوم بھی تھا کہ آپ برگزیدہ ہیں اور اللہ کی آپ پر مہربانیاں ہیں۔ چناچہ آپ کو یہ یقین تھا کہ صرف اللہ کا فضل ہی آپ کو جنت میں داخل کرسکتا ہے۔ اس لئے آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : ” کسی کا عمل اسے ہرگز جنت میں داخل نہیں کرسکتا “۔ اس پر صحابہ کرام ؓ نے پوچھا رسول اللہ کیا آپ پر بھی اسی اصول کا اطلاق ہے ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اور میں بھی ! الایہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے “۔ (بخاری ومسلم)
Ayah 70:28

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

کیونکہ ان کے رب کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے کوئی بےخوف ہو ،

ان عذاب ........................ مامون (07 : 82) ” کیونکہ ان کے رب کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے کوئی بےخوف ہو “۔ اس میں اشارہ ہے اس طرف کہ اللہ کے عذاب سے ہر وقت ڈرتے رہنا چاہئے۔ اور اس سے کسی لحظہ بھی غافل نہیں ہونا چاہئے۔ بعض اوقات غفلت کے اوقات میں ایسے امور سرزد ہوجاتے ہیں جو سبب عذاب ہوتے ہیں۔ لہٰذا غفلت بہت ہی خطرناک ہے۔ اور اللہ کی غرض بھی یہ ہے کہ لوگ ہر وقت حساس رہیں اور بیدار رہیں۔ اور اس کے باوجود اگر ان سے کوئی کمزوری سرزد ہوگئی ہو تو اللہ کی رحمت وسیع ہے اور اس کی مغفرت حاضر ہے۔ اور توبہ کا دروازہ کھلا ہے وہ بند نہیں ہے۔ یہ ہے اسلام کا سیدھا موقف ، جو غفلت اور قلق کے درمیان درمیان ہے کہ انسان کا دل اللہ سے مربوط بھی رے اور وہ ڈرتا بھی رہے اور اس کی رحمت کا امیدوار بھی رہے۔ اور اس کی رحمت پر مطمئن بھی رہے۔
Ayahs 70:29–30

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں .

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

بجز اپنی بیویوں یا اپنی مملو کہ عورتوں کے ، جن سے محفوظ نہ رکھنے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ،

والذین .................... ھم العدون (13) (07 : 92 تا 13) ” جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں .... بجز اپنی بیویوں یا اپنی مملو کہ عورتوں کے ، جن سے محفوظ نہ رکھنے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں “۔ لہٰذا وہ اپنی بیویوں اور اپنی مملوکہ لونڈیوں کے ساتھ پاکیزہ تعلق قائم کرسکتے ہیں اور یہ تعلق پاکیزہ بھی ہو اور قانونی بھی ہو۔ اور اسلام لونڈیوں کا واحد قانونی راستہ اس طرح تجویز کرتا ہے کہ جو عورتیں جنگی قیدی کے طور پر آئیں اور ان کو فدیہ اور احسان کے طور پر چھوڑنے کا فیصلہ اسلامی حکومت نے نہ کیا ہو۔ اس سلسلے میں سورة محمد کی یہ آیت اصول طے کرتی ہے : فاذا ............................ اوزارھا ” پس جب کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو ، اس کے بعد احسان کرو یا فدیے کا معاملہ کرو تاکہ آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے “۔ لیکن بعض اوقات کسی قیدی کا تبادلہ نہیں ہوتا ، فدیہ بھی نہیں ملتا ، اور حکومت اسلامی بطور احسان چھوڑنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتی تو اس صورت میں قیدی مرد یا عورت غلام ہوں گے جب تک دوسرا فریق مسلمان قیدیوں کو غلام بناتا ہے۔ اگرچہ دشمن قوم غلامی کا کوئی اور نام رکھ دے۔ یوں اس ناگزیر صورت میں اسلام نے لونڈیوں کے ساتھ صرف ان کے مالکوں کو معاشرت کی جازت دی ہے اور ان غلاموں کی آزادی کا بندوبست اسلام نے پھر ان صورتوں میں کسی ایک کے ذریعے کیا جو اس نے غلاموں کی آزادی کے لئے تجویز کیں۔ غلاموں کی آزادی کا بندوبست قرآن نے متعدد ذرائع سے کیا۔ اس طرح اسلام نے قدی عورتوں کو معاشرے میں کھپانے کا ایک واضح بندوبست کیا تاکہ وہ معاشرے کی اندر شتر بےمہار کی طرح پھر کر گندگی نہ پھیلائیں ، یوں ان کو معاشرے میں آزاد کردیا جائے کہ جو چاہئیں کریں۔
Ayah 70:31

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

فمن .................... العدون (08 : 13) ” البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں “ یوں اسلام ہر قسم کی جنسی گندگی کے سامنے یہ بندباندھ دیتا ہے۔ ان دو واضح صورتوں کے علاوہ جنسی تعلق حرام ہے۔ اسلام نفس جنسی تعلق میں کوئی گندگی محسوس نہیں کرتا لیکن ان دو جائز صورتوں کے علاوہ سب تعلقات کو حرام قرار دیتا ہے۔ اسلام ایک صاف ستھرا اور واضح اور کھلا معاشرتی نظام چاہتا ہے۔
Ayah 70:32

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

جو اپنی امانتوں کی حفاظت اور اپنے عہد کا پاس کرتے ہیں

والذین .................... رعون (07 : 23) ” جو اپنی امانتوں کی حفاظت اور اپنے عہد کا پاس کرتے ہیں “۔ یہ وہ اخلاقی قدریں ہیں جن پر اسلام اپنے معاشرے کی بنیاداٹھاتا ہے۔ معاشرے میں امانتوں کی رعایت و حفاظت اور عہد کی حفاظت کا تصور اس امانت کبریٰ کی رعایت اور حفاظت سے اٹھتا ہے جو اللہ نے زمین اور پہاڑوں پر پیش کی۔ اور انہوں نے اس امانت کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا اور یہ انکار اس خوف کی وجہ سے ہوا کہ یہ بہت بڑا بھاری بوجھ ہے ، لیکن انسان نے اسے اٹھالیا۔ یہ تھی ، اسلامی نظریہ حیات کی امانت۔ عقیدہ توحید کی امانت اور یہ انسان نے اختیاراً قبول کی ، مجبوراً نہیں۔ یہ امانت جو انسانوں نے قبول کی جب وہ اپنے والد کی پشت میں تھے اور اس پر وہ گواہ ہوئے اور ان کی پیدائش اس پر گواہ ہوئی ، اسی امانت ودیانت سے یہ لازم آیا کہ دنیا میں تمام عہد پورے کرو ، چناچہ اسلام نے عہد پورا کرنے میں بہت سختی سے کام لیا اور اس کی تاکیدات کی گئیں تاکہ اسلامی معاشرہ نہایت ہی پختہ اصولوں پر قائم ہو۔ اور امانت ودیانت اور رعایت عہدہ کو نفس مومنہ کی خصوصیت قرار دیا اور خیانت اور وعدہ خلافی کفار کی صفت قرار دیا۔ اور اس کو قرآن کریم میں بار بار دہرایا اور تاکیدات فرمائیں تاکہ اس میں شک نہ رہے کہ امانت اور وفائے عہد اسلام کے بنیادی مقاصد میں سے ہے۔
Ayah 70:33

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

جو اپنی گواہیوں میں راست بازی پر قائم رہتے ہیں

والذین ................ قائمون (07 : 33) ” جو اپنی گواہیوں میں راست بازی پر قائم رہتے ہیں “۔ اللہ نے ادائے شہادت کے ساتھ بیشمار حقوق وابستہ کیے ہیں۔ بلکہ شہادت پر اللہ کی حدود کا قیام موقوف ہے۔ اگر شہادت قائم نہ ہو تو حدود قائم نہیں ہوسکتیں۔ یہ کہ کسی کو شہادت ادا نہ کرنے کا گناہ نہ کرنا چاہئے اور جب کسی سے شہادت مانگی جائے تو وہ اسے کبھی بھی نہ چھپائے۔ اور شہادت کو صحیح طرح ادا کرنا چاہئے اس میں ادھر ادھر کی بات نہیں کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شہادت کو اس شخص کی شہادت قرار دیا ہے تاکہ اسے اللہ کی اطاعت کے ساتھ واسطہ کیا جائے۔ دوسری جگہ ہے : واقیموا ............ للہ ” اور شہادت اللہ کے لئے قائم کرو “۔ اور یہاں اسے صفات مومنین میں سے ایک صفت قرار دیا۔ اور یہ شہادت بھی امانات میں سے ایک امانت ہے یہاں اسے علیحدہ بھی ذکر کیا کیونکہ یہ بہت اہم فریضہ ہے۔
Ayah 70:34

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔

اور صفات مومنین کا آغاز بھی نماز سے اور خاتمہ بھی نماز سے۔ والذین .................... یحافظون (07 : 43) ” اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں “۔ صفات مومنین کے آغاز میں جو صفت بیان کی گئی تھی ، وہاں کہا تھا کہ وہ نماز پر دوام اختیار کرتے ہیں اور یہاں ذکر ہے کہ وہ نماز کی حفاظت کرتے ہیں یعنی نماز کے فرائض ، اس کے اوقات ، اس کے سنن ، اس کی ہیئت اور اس کی روح کی حفاظت کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ اسے مہمل طور پر اور سستی کرکے نہیں ادا کرتے۔ اور اسے یوں ضائع نہیں کرتے کہ صحیح طرح نہ پڑھیں اور آغاز و انجام دونوں جگہ نماز کا فکر کرکے یہ بتانا مقصود ہے کہ اسلام میں نماز کی بہت بڑی اہمیت ہے۔ اسی پر مومنین کی صفات ختم ہوتی ہیں۔
Ayah 70:35

اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ Open ayah 70:35 in the Quran reader

یہ لوگ عزت کے ساتھ جنت کے باغوں میں رہیں گے

اب یہاں ان کا انجام بھی دیا جاتا ہے جبکہ دوسرے فریق کا انجام اس سے قبل بتادیا گیا تھا۔ اولئک ................ مکرمون (07 : 53) ” یہ لوگ عزت کے ساتھ جنت کے باغوں میں رہیں گے “۔ یہ مختصر ترین آیت حسی مزے اور معنوی مزے دونوں کو ایک جگہ جمع کردیتی ہے۔ یہ باغات میں ہوں گے اور باعزت طور پر ہوں گے۔ یوں لذت بھی پائیں گے اور عزت بھی پائیں گے۔ اور یہ ان کے ایمان ایقان اور نیکی کی وجہ سے ، ان کا امتیاز ہوگا۔
Ayahs 70:36–37

فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ Open ayah 70:36 in the Quran reader

” پس اے نبی ! کیا بات ہے کہ یہ منکرین تمہاری طرف دوڑے چلے آرہے ہیں ؟ “

عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ Open ayah 70:37 in the Quran reader

دائیں اور بائیں سے گروہ درگروہ

اب آخر میں دعوت اسلامی کا ایک منظر۔ یہ مکی منظر ہے ۔ ایک جگہ رسول کریم ﷺ کھڑے دعوت دے رہے ہیں۔ قرآن پڑھ رہے ہیں اور مشرکین ہر طرف سے امنڈتے چلے آرہے ہیں : فمال ........................ عزین مھطع اس شخص کو کہتے ہیں جو گردن لمبی کرتے ہوئے تیز تیز چلتا ہے۔ گویا رسی گلے میں ڈال کر کھینچا جارہا ہو ، اور عزین جمع عزہ کی اور اس کا وزن اور معنی دونوں لفظ۔ فئة کی طرح ہے ، یعنی گروہ۔ اس میں ان کی اس مشکوک حرکت پر ایک مزاح بھی ہے اور اس ہیئت اور حرکت کی ایک تصویر بھی۔ ان پر تعجب کیا جاتا ہے اور ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا ہوگیا ہے تمہیں ؟ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف اس لئے نہیں بھاگ رہے کہ آپ کی باتیں سنیں یا آپ سے ہدایات لیں۔ بلکہ وہ نہایت حواس بافتہ انداز میں معلوم کرنے کے لئے دوڑتے ہیں کہ آپ کیا کہتے ہیں اور پھر واپس بھاگتے ہیں۔ اور اپنے اپنے ہاں جاکر حلقوں میں بیٹھ کر سوچتے ہیں کہ ................ آپ کے خلاف کیا سازشیں کریں ؟
Ayah 70:38

اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍۙ Open ayah 70:38 in the Quran reader

کیا ان میں سے ہر ایک یہ لالچ رکھتا ہے کہ وہ نعمت بھری جنت میں داخل کردیا جائے گا “۔

ایطمع .................... نعیم ” اور وہ اپنے موجودہ حال میں ہوتے ہوئے بھی جنتی ہوں گے بلکہ ایسے مجرمین تو آگ کی لپیٹ میں ہوں گے۔ شاید لوگ اپنے آپ کو اللہ کے نزدیک کوئی بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ اس لئے یہ کفر کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو اذیت بھی دیتے ہیں۔ قرآن سنتے ہیں اور پھر خفیہ سازشیں کرتے ہیں اور پھر بھی یہ توقع کرتے ہیں کہ جنت نعیم میں داخل ہوں گے اس لئے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کے نزدیک بڑی چیز سمجھتے ہیں۔
Ayah 70:39

كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 70:39 in the Quran reader

” ہرگز نہیں ، ہم نے جس چیز سے ان کو پیدا کیا ہے اسے یہ خود جانتے ہیں “۔

کلا انا ................ یعلمون یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ان کی اس تمنا اور خوش فہمی کو نہایت حقارت کے ساتھ رد کیا جاتا ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ ہم نے ان کو ایک حقیر پانی کی بوند سے پیدا کیا ہے۔ قرآن کریم ان کو اپنی اصل حقیقت سے آگاہ کرتا ہے۔ یوں ان کے اندر جو کبرو غرور اور تکبر وعلو تھا اسے ملیامیٹ کردیا جاتا ہے اور ان کے غزور کی عمارت زمین بوس ہوجاتی ہے۔ اور یہ صرف ایک لفظ کے ذریعہ۔ ایک اشارہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ہم نے ان کو کس چیز سے پیدا کیا ہے۔ انسان کی کمزوری ، ناتوانی اور بےوزنی کی بہترین تصویر ہے۔ تعجب کیا جاتا ہے کہ یہ کس طرح یہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے ہیں جبکہ ان کے افعال ایسے ہیں۔ پھر وہ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ ان کو دیکھنا چاہئے کہ ان کے مدارج تخلیق کیا ہیں۔ اللہ کے ہاں ان کی اہمیت ، ان کے اس کفر کی وجہ سے ، مچھر کے برابر بھی نہیں ہے۔ ان کو تو ان کے کفر کی وجہ سے جہنم کی آگ کی لپیٹ میں جانا ہے۔ یہ کس طرح اللہ کی نعمتوں کی توقع کرتے ہیں۔ ان کے معاملے کو غیر اہم سمجھتے ہوئے اور ان کی اہمیت کو کم دکھاتے ہوئے اور ان کی بڑائی کے بت توڑتے ہوئے اللہ اپنے اس فیصلے کا اعلان کرتا ہے کہ اگر یہ ہدایت نہیں حاصل کرتے تو اللہ ان کے مقابلے میں اچھے لوگوں کو پیدا کردے گا۔ یہ اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور یہ اپنے اسی انجام تک جا پہنچیں گے جس کے وہ مستحق ہیں۔
Ayah 70:40

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ Open ayah 70:40 in the Quran reader

” پس میں قسم نہیں کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی ، ہم اس پر قادر ہیں

فلا اقسم .................... بمسبوقین اس معاملے پر قسم اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ مشرقوں اور مغربوں کے رب کی طرف اشارہ کرکے اللہ کی عظمت کو بتایا گیا۔ مشارق ومغارب سے کبھی تو ستاروں کے مقامات طلوع مراد ہوتے ہیں جو بہت زیادہ ہیں جو اس طویل و عریض کائنات میں بہت زیادہ ہیں اور اس سے یہ مفہوم بھی مراد لیا جاسکتا ہے کہ وہ مشرق جو مختلف علاقوں میں مسلسل آتے رہتے ہیں اور یہ مشرق بروقت رہتے ہیں کیونکہ جب زمین اپنے محور کے گرد گھومتی ہے تو دنیا کی کوئی نہ کوئی جگہ مشرق ہوتی ہے اور کوئی نہ کوئی جگہ مغرب ہوتی ہے۔ بہرحال مشارق ومغارب کا جو مفہوم بھی ہو ، اس سے اس کائنات کی ضخامت معلوم ہوتی ہے۔ اور خالق کائنات کی عظمت کا تصور ابھرتا ہے۔ کیا ان بےوقعت وبے قیمت لوگوں کا معاملہ ، جن کو ہم نے جس چیز سے پیدا کیا ہے اسے یہ جانتے ہیں ، اس بات کا محتاج ہے کہ رب المشارق اور رب المغارب کے نام کی قسم اٹھائی جائے۔ جبکہ وہ ان جیسے دوسرے لوگوں اٹھانے پر قادر ہے۔ اور وہ اس کے مقابلے میں نہیں آسکتے ، اس سے بچ نہیں سکتے۔ اس سے کہیں بھاگ نہیں سکتے۔ جب سیاق کلام اس مقطع تک پہنچتا ہے او یہ بتادیا جاتا ہے کہ قیامت کا عذاب کس قدر ہولناک ہے اور اس دن کافروں کی کیا ذلت ہوگی اور مومنین کی کیا عزت ہوگی ، تو اب رسول اللہ ﷺ کی طرف روئے سخن پھرجاتی ہے کہ آپ پریشان نہ ہوں اور ان لوگوں کو چھوڑ دیں کہ وہ اسی دن کے عذاب کے لئے آگے بڑھیں۔ اس موقعہ پر پھر اس عذاب کے منظر کو یہاں بیان کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ کس قدر کربناک منظر ہے یہ۔