70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 70:41–43

عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْهُمْ١ۙ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ Open ayah 70:41 in the Quran reader

کہ ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آئیں اور کوئی ہم سے بازی لے جانے والا نہیں ہے “۔

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 70:42 in the Quran reader

” لہٰذا انہیں اپنی بیہودہ باتوں اور اپنے کھیل میں پڑا رہنے دو یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن کو پہنچ جائیں جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے ،

یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَۙ Open ayah 70:43 in the Quran reader

جب یہ اپنی قبروں سے نکل کر اس طرح دوڑے جارہے ہوں گے جیسے اپنے بتوں کے استھانوں کی طرف دوڑ رہے ہیں ،

فذرھم ............................ یوعدون آپ کو کہا جاتا ہے کہ یہ نہایت بےوقعت لوگ ہیں اور ان کا انجام نہایت ہی خوفناک ہے۔ چناچہ قیامت کے دن ان کے حال اور کسمپری کا جو نقشہ کھینچا جاتا ہے وہ اپنی جگہ بہت ہی خوفناک ہے جبکہ اس نقشہ کشی اور تصویر سازی میں حقارت آمیز اور مضحکہ خیزی کے رنگ بھرے ہوئے ہیں اور یہ اس حال کے جواب میں ہے جس میں یہاں دنیا میں یہ لوگ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے تھے۔ یہ لوگ جب قبروں سے نکلیں گے ، تو گھبراہٹ میں اس تیزی سے بھاگیں گے جیسے یہ اپنے آستانوں کی طرف بھاگ رہے ہوں۔ دنیا میں جس طرح ان کی چال ہوتی تھی اس کی طرف تہکمانہ اور توہین آمیز اشارہ ہے۔ یہ اپنے میلوں ٹھیلوں میں استخانوں کی طرف بھاگا کرتے تھے۔ اور ان بتوں کے گرد جمع ہوتے تھے۔ یہ لوگ آج بھی تیزی سے بھاگ رہے ہیں لیکن اس بھگدڑ اور اس میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
Ayah 70:44

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ ذٰلِكَ الْیَوْمُ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 70:44 in the Quran reader

ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی ، ذلت ان پر چھارہی ہوگی۔ وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے “۔

اس کے بعد ان کی حالت کی تصویریوں کھینچی جاتی ہے : خاشعة .................... ذلة (07 : 44) ” ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی ، ذلت ان پر چھارہی ہوگی “۔ ان الفاظ سے ان کی ہیئت کذائی کی خوب تصویر کھینچی گئی ہے۔ اور وہ نہایت تھکے ماندے اور ذلیل و خوار نظر آتے ہیں۔ اس سے قبل دنیا میں ان کی دوڑ دھوپ ، سستی اور کھیل کود کی تھی اور اب یہ ذلیل و خوار ہوکر ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں۔ ذلک ................ یوعدون (07 : 44) ” یہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا تھا “۔ اور یہ اس میں شک کرتے تھے ، تکذیب کرتے تھے اور جلدی مچاتے تھے۔ یوں سورت کا آغاز اور انجام ایک ہوجاتا ہے۔ اور بعث بعدالموت کے مسئلہ کا یہ حلقہ بھی اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔ اور یوں زندگی کے جاہلی تصور اور اسلامی تصور کے مابین یہ معرکہ اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔