69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 69:1–4

اَلْحَآقَّةُۙ Open ayah 69:1 in the Quran reader

ہونی شدنی !

مَا الْحَآقَّةُۚ Open ayah 69:2 in the Quran reader

” کیا ہے وہ ہونی شدنی ؟

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُؕ Open ayah 69:3 in the Quran reader

اور تم کیا جانو کہ وہ کیا ہے ہونی شدنی ؟ “

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ Open ayah 69:4 in the Quran reader

” ثمود اور عاد نے اس اچانک ٹوٹ پڑنے والی آفت کو جھٹلایا۔

اس سورت کا موضوع اور محور ہولناک مشاہد قیامت ہیں۔ آغاز بھی قیامت کے ایک نام سے ہے اور نام بھی اس سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ نام قیامت کے واقعات کا اظہار اپنے تلفظ اور مفہوم دونوں سے کرتا ہے۔ الحاقہ اس آفت کو کہا جاتا ہے جس کا آنا ٹھہر گیا ہو۔ وہ حق ہوچکی ہو اور اس کا نزول لازمی ہوگیا ہو اور جس نے ہونا ہو اور اٹل ہو۔ یہ سب مفہوم ایسے ہیں کہ جن کے اندر قطعیت ، جزم ، شدنی کا مفہوم ہے۔ لہٰذا قیامت کے لئے اس لفظ کا استعمال سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ نہایت ہی مناسب ہے۔ پھر اس لفظ کے تلفظ کے اندر بھی وہ اشارہ موجود ہے ، جو بات اس کے مفہوم میں ہے اور آگے سورت میں جو فضا بیان ہوئی ہے اس کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔ نیز تکذیب کرنے والوں کا دنیا وآخرت میں جو انجام ہونے والا ہے اس کے لئے لفظ الحاقہ حق ہے اور برحق ہے۔ پوری سورت کی فضا نہایت سنجیدہ اور قطعیت کی فضا ہے اور خوفناک فضا ہے۔ ایک طرف تو اس میں قدرت الٰہیہ کی ہیبت ناکیاں ہیں۔ اور دوسری جانب اس میں اس انسان کی ، اس قدرت الٰہیہ کے سامنے بےبسیاں ہیں اور پھر ان کے ساتھ اس کی خرمستیاں ہیں اور جب وہ اللہ کی شدید گرفت میں آتا ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت کے مناظر میں بھی ، اس دنیا میں اس وقت جب یہ اسلامی نظام کو رد کرکے رسولوں کی تکذیب کرتا ہے ، تو اللہ کی شدید پکڑ میں آتا ہے اور اس گرفت اور پکڑ کے پھر کئی رنگ ہیں اور ہر رنگ دوسرے سے خوفناک ہے۔ اس لئے کہ یہ اس دنیا میں شتر بےمہار نہیں چھوڑا گیا تھا۔ نہ اس لئے کہ یہاں یہ کچھ اور بن جائے۔ بلکہ اس کا فریضہ یہ تھا کہ رسولوں کا احترام کرے اور ان کی اطاعت کرے۔ اس پوری سورت کے الفاظ ، اپنے تلفظ ، ترنم ، اپنے مفہوم ، اپنے اجتماع اور ترکیب کے لحاظ سے یہ فضا بنانے میں شریک ہیں۔ سورت کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ ایک مفرد کلمہ لایا جاتا ہے۔ یہ متبدا ہے اور اس کی کوئی خبر نہیں ہے۔ الحاقة (96 : 1) اس کے بعد اس عظیم حادثہ کے بارے میں ایک بھر پور خوفناک اور ہولناک سوال اور استفہام ہے۔ ما الحاقة (96 : 2) ” کیا ہے ، یہ واقعہ “ تمہیں اس کا کیا پتہ ہے کہ یہ کس قدر ہولناک ہوگا۔ اس کے بعد خود ہی بتادیا جاتا ہے کہ تمہیں کچھ پتہ نہیں ہے کہ یہ کس قدر ہیبت ناک واقعہ ہوگا ؟ مخاطب کو لاعلم اور جاہل بنا کر اور بتا کر اس کے ہول اور خوف کو دوچند کردیا گیا اور اس کے بعد مزید خوفناک بات یہ ہے کہ کوئی جواب نہیں دیا جاتا۔ کوئی وضاحت ابھی نہیں کی جاتی تاکہ خوف اور ہراس کی یہ فضا ذرا دیر تک قائم رہے۔ انسان سوچے کہ کوئی بہت بڑا واقعہ ہے جس کے بارے میں ہمیں کوئی علم نہیں ہے اور نہ بتایا جارہا ہے۔ کیا ہی محیرالعقول انداز ہے ! اس سوال کو یہاں چھوڑ کر مکذبین کو لیا جاتا ہے۔ جن پر اس دنیا میں قیامت گزر گئی جو پیس کر رکھ دیئے گئے۔ بہت ہی ناقابل انکار ، سنجیدہ واقعات ، کوئی شخص ان واقعات کی تکذیب پر اصرار نہیں کرسکتا۔ الحاقة (96 : 1) کے بعد قیامت کا دوسرا نام آتا ہے القارعة۔ یہ نام الحاقة (96 : 1) سے بھی سخت۔ الحاقہ تو وہ واقعہ جو ہونی شدنی ہے اور القرع کے معنی ہیں۔ ایک سخت چیز کو دوسری اس قسم کی سخت چیز پر مارنا اور قیامت کے قیام کو القارعة اسی لئے کہا گیا ہے ، اس کی وجہ سے دلوں پر ہولناک اور خوفناک ضربات پڑیں گی اور یہ پوری کائنات توڑ پھوڑ کر شکار ہوجائے گی۔ لفظ القارعة بھی اپنے تلفظ ، اپنی سخت آواز کی وجہ سے ٹکراتا ، مارتا اور دلوں کے اندر جزع وفزع پیدا کرتا ہے۔ عاد اور ثمودنے اس ہونی شدنی کا انکار کیا ، اس کھڑکھڑاکر ٹوٹ پڑنے والی آفت یعنی قیامت کا انکار کیا۔
Ayah 69:5

فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ Open ayah 69:5 in the Quran reader

تو ثمودایک سخت حادثہ سے ہلاک کیے گئے۔

فاما ................ بالطاغیة (96 : 5) ” ثمودایک بڑے حادثہ سے ہلاک کیے گئے “۔ جیسا کہ دوسری سورتوں میں آیا ہے۔ ثمود شمالی حجاز کے علاقہ حجر میں رہتے تھے ، حجاز اور شام کے درمیان۔ یہ ایک سخت دھماکے کی آواز سے ہلاک کیے گئے۔ دوسری جگہوں پر اس کے لئے الصیحہ کا لفظ آیا ہے ، لیکن یہاں اسے الطاغیہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ الطاغیہ کے معنی ہیں ایک ایسا حادثہ جس پر کنٹرول نہ کیا جاسکتا ہو ، اور یہاں اس سورت کی فضا میں ہوگنا کی اور خوفناکی کے اظہار کے لئے بھی لفظ الطاغیہ موزوں تھا اور جو قافیہ سابقہ آیات کا چلا آرہا تھا اس کے لئے بھی یہ تبدیلی ضروری تھی ، اس لئے الصحیہ کی جگہ الطاغیہ کا لفظ آیا۔ ثمود کا قصہ صرف اس ایک آیت سے تمام کردیا گیا۔ دفتر لپیٹ لیا گیا ، وہ ڈوب گئے اور ہوا نے ان کی خاک بھی اڑادی اور الطاغیہ نے انہیں یوں روندا کہ ان کا سایہ تک باقی نہ رہا۔ لیکن عاد کی تباہی کو ذرا تفصیل اور طوالت سے لیا جاتا ہے۔ یہ اس لئے کہ ان کا عذاب بھی سات راتیں اور آٹھ دنوں تک مسلسل جاری رکھا گیا تھا۔ جبکہ ثمود ایک چیخ ، ایک کڑک کے ساتھ چشم زدن میں تباہ ہوگئے تھے۔
Ayah 69:6

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍۙ Open ayah 69:6 in the Quran reader

اور عاد ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کردیئے گئے۔

واما .................... عاتیة (96 : 6) ” عاد ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کردیئے گئے “۔ الریح الصرصر کے معنی ہیں ، سخت ٹھنڈی ہوا۔ لفظ صر صر سے ہوا کی آواز بھی ظاہر ہورہی ہے۔ اور اس ہوا کی زیادہ شدت ایک دوسرے لفظ عاتیة سے ظاہر کی گئی تاکہ عاد کی سرکشی کا علاج اس سرکش ہوا سے کیا جائے۔ مناسب عمل کی مناسب سزا۔ یہ عادی سخت جبار اور سرکش تھے۔ قرآن نے دوسری جگہ تفصیلات دی ہیں۔ یہ لوگ یمن اور حضرت موت کے درمیان احقاف میں رہتے تھے۔ یہ نہایت سخت گیر اور جبار تھے۔ یہ ہوا جو صر صر تھی اور ” عاتی “ تھی ” شدید سرد اور سرکش “۔
Ayahs 69:7–8

سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ Open ayah 69:7 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن ان پر مسلط رکھا ، تم دیکھتے کہ وہ وہاں اس طرح پچھڑے پڑے ہیں گویا وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں۔

فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ Open ayah 69:8 in the Quran reader

اب کیا ان میں سے کوئی باقی بچا نظر آتا ہے ؟ “

سخرھا ................ حسوما (96 : 7) ” اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن ان پر مسلط کیا “۔ الحسوم کے معنی مسلسل کاٹ دینے والی۔ یہ شدید چلنے والی ، دھاڑتی چنگھارتی اور تباہی مچاتی ہوئی ، اس طویل عرصے کے لئے مسلسل جاری تھی۔ جس وقت قرآن تعین کے ساتھ کررہا ہے۔ فتری .................... خاویة (96 : 7) ” تم دیکھتے کہ وہ وہاں اس طرح پچھڑے پڑے ہیں گویا وہ کھجور کے بوسیدہ تنے “۔ گویا یہ منظر اسکرین پر پیش ہورہا ہے یا سامنے ہے۔ انداز تعبیر ایسا ہے کہ پردہ احساس پر منظر نمودار ہوجاتا ہے۔ صرعی ۔ وہ گرے پڑے اور بکھرے ہوئے۔ گویا وہ ایسے ہیں جیسے اعجاز نخل۔ (کھجور کے تنے جڑوں اور تنوں کے ساتھ) خاویہ یعنی بوسیدہ جو اندر سے خالی ہوں اور بوسیدگی کی وجہ سے جگہ جگہ گرے ہوئے ہوں۔ یہ ایک ایسا منظر ہے کہ چندالفاظ میں اس کا نقشہ قرآن ہی کھینچ سکتا ہے۔ اب نہایت ہی ٹھہراﺅ ہے اور وہ منظر کہ جب ہوا چنگھاڑتی ہوئی گزر گئی ہے۔ فھل ............ باقیة (96 : 8) ” پھر کیا اب ان میں سے کوئی باقی بچا ہوا نظر آتا ہے “۔ نہیں کچھ بھی باقی نہیں ہے۔ ویرانی ہی ویرانی ہے۔ یہ تو ہے عاد وثمود کا قصہ ، یہی حال ہے دوسرے مکذبین کا۔ اب فقط دو آیات میں کئی واقعات۔
Ayahs 69:9–11

وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ Open ayah 69:9 in the Quran reader

” اور اسی خطائے عظیم کا ارتکاب فرعون اور اس سے پہلے کے لوگوں نے اور تلپٹ ہوجانے والی بستیوں نے کیا۔

فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً Open ayah 69:10 in the Quran reader

ان سب نے اپنے رب کے رسول کی بات نہ مانی تو اس نے ان کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا “۔

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ Open ayah 69:11 in the Quran reader

” جب پانی کا طوفان حد سے گزر گیا تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کردیا تھا

فرعون مصر میں تھا۔ یہ حضرت موسیٰ کے دور کا فرعون تھا۔ اس سے قبل اس کی تفصیلات نہیں آئیں۔ الموتفکت سے وہ بستیاں مراد ہیں جو ہلاک ہوئیں ، تباہ ہوئیں ، تلپٹ ہوئیں۔ یہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیاں تھیں ، جن کو ہلاک کیا گیا اور یوں کہ انہیں الٹ دیا گیا ۔ لفظ موتفکت کے مفہوم میں یہ دونوں باتیں آتی ہیں۔ ان سب لوگوں کے کام اور بدعملی کو الخاطئہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی انہوں نے غلط فعل کا ارتکاب کیا۔ یہ الخطیئة سے ماخوذ ہے یعنی عظیم غلطی۔ یہاں فعصوارسول ربھم (96 : 01) ” ان سب نے اپنے رب کے رسول کی بات نہ مانی “۔ حالانکہ انہوں نے کئی رسولوں کی بات نہ مانی تھی۔ ایک رسول نہ تھا لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے رسول اور رسالت ایک ہی چیز ہے۔ گویا تمام رسول ایک ہی رسول ہیں۔ قرآن کریم کے یہ انوکھے اشارات میں سے ایک اشارہ ہے۔ اور اس سورت کی فضا کے مطابق ان سب کا ایک ہی ہولناک انجام ذکر کردیا جاتا ہے۔ جو فیصلہ کن انجام ہے۔ فاخذھم ................ رابیة (96 : 01) ” تو اس نے ان کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا “۔ رابیہ کے معنی ہیں : اعلیٰ ، ڈھانپنے والی ، دفن کرنے والی۔ یہ لفظ یہاں اس لئے لایا گیا ہے کہ لفظ طاغیہ کے ساتھ مناسبت پیدا ہوجائے جو ثمود پر آئی ہے۔ اور عاتیہ کے ساتھ یکساں ہوجائے جو عاد پر پڑی۔ اور اس سورت کی فضا اور ماحول سے مناسب لفظ بھی فراہم ہوجائے لیکن تفصیل اور طوالت بھی نہ ہو ، کیونکہ اس سورت میں اختصار بھی ملحوظ ہے۔ اب اس کے بعد سفینہ جاریہ کا منظر۔ اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کے منظر کی طرف اشارہ ہے۔ انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ حضرت نوح کا یہ امتیاز ہے کہ ان کے ساتھیوں کی نسل ہی سے موجود آبادی چلی ہے۔ لیکن انسانوں نے اس عظیم معجزے سے نہ عبرت پکڑی اور نہ خدا کا شکر ادا کیا ، کہ اس واقعہ میں اللہ نے ہمارے اجداد کو بچایا۔
Ayah 69:12

لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ Open ayah 69:12 in the Quran reader

تاکہ اس واقعہ کو تمہارے لئے ایک سبق آموز یادگار بنادیں اور یاد رکھنے والے کان اس کی یاد محفوظ رکھیں “۔

یہ پانی کی پہاڑوں کی طرح موجیں اور ان پرچلنے والی کشتی کا منظر ، دونوں اس سورت کی خوفناک فضا کی خوفناک یوں میں اضافہ کرنے والے ہیں۔ اور سورت کے مناظر کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہیں اور جاریہ اور داعیہ کے الفاظ قافیہ کو یکساں کرتے ہیں۔ اور پھر یہ نصیحت آموز تبصرہ۔ لنجعلھا ................ واعیة (06 : 21) ” تاکہ اس واقعہ کو تمہارے لئے ایک سبق آموز یادگار بنادیں اور یاد رکھنے والے کان اس کی یاد محفوظ رکھیں “۔ یہ نصیحت جامد اور پتھردل پر بھی اثر کرتی ہے۔ اور یہ آواز ایسے کانوں سے بھی پار ہوجاتی ہے ، جن پر کوئی آواز اثر نہیں کرتی۔ جو ہر چیز کو سننے سے انکار کرتے ہیں اور تکذیب کرتے ہیں۔ رسولوں کا انکار اور امم سابقہ کی ہلاکتوں سے چشم پوشی سے تمام نشانات ، معجزات اور تذکروں کا انکار۔ اللہ کی نعمتوں اور ان کے آباﺅاجداد پر ہونے والی نعمتوں کا انکار۔ اب ایک عظیم ہولناک منظر آتا ہے اور اس کے سامنے یہ سب چھوٹے چھوٹے مناظر نہایت ہی چھوٹے نظر آتے ہیں۔ یہ ہے ہولناک منظر الحاقہ کا۔ القارعہ کا جس کی یہ لوگ اس کے باوجود تکذیب کرتے ہیں کہ انہوں نے ان امم سابقہ کا انجام ابھی دیکھ لیا جنہوں نے تکذیب کی تھی۔ اقوام سابقہ کی ہلاکتوں کا خوف محدود ہے۔ باوجود اس کے کہ وہ بھی بہت بڑا خوف ہے ، کیونکہ قیامت سے قبل ہونے والی تباہی کے مقابلے میں یہ سب تباہیاں بہرحال محدود اور معمولی ہیں۔ اس مختصر تمہید کے بعد اب پردہ اٹھایا جاتا ہے۔ اس عظیم ، ہمہ گیر تباہی اور ہولناکی کے مناظر سے۔ یہ بڑا منظر سابقہ چھوٹے مناظر کی تکملہ ہے۔
Ayah 69:13

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 69:13 in the Quran reader

” پھر جب ایک دفعہ صور پھونک ماردی جائے گی

ہمارا ایمان ہے کہ ایک دن صور پھونکا جائے گا اور اس کے بعد پھر علی الترتیب یہ واقعات ہوں گے۔ ان واقعات کی تفصیلات اور ان کی کیفیات کو ہم یہاں قلم بند نہیں کرسکتے۔ کیونکہ یہ واقعات عالم غیب میں ہونے والے ہیں۔ اور ہمارے پاس چونکہ یہ آیات ہی ہیں جو مجمل ہیں اور کوئی ذریعہ ایسا نہیں ہے جس میں تفصیلات دی گئی ہوں۔ اور ان نصوص میں اگر تفصیلات دے بھی دی جاتیں تو اصل مقصد جو یہاں دینا مقصود تھا ، اس میں کوئی اضافہ نہ ہوتا تھا۔ لہٰذا ان تفصیلات کے پیچھے پڑنا ایک عبث بات ہے۔ محض ظنوں اور قیاسات سے شریعت نے منع کیا ہے۔
Ayah 69:14

وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ Open ayah 69:14 in the Quran reader

اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا

جب صور پہلی بار پھونکا جائے گا اور اس کے بعد یہ ہولناک حرکان وتغیرات ہوں گے۔ وحملت .................... واحدة (96 : 41) ” اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا “۔ زمین اور پہاڑوں کو یکبارگی اٹھا کر پٹخ دینا جو سب اونچ نیچ کو برابر کر دے اور یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہوگا۔ یہ زمین جس کے اندر انسان پرامن طور پر چلتا پھرتا ہے اور اطمینان سے زندگی بسر کرتا ہے۔ اور یہ زمین انسان کے نیچے نہایت ہی سکون سے رکی ہوئی ہے۔ اور یہ اونچے ، گہرے اور مضبوط پہاڑ جن کے ثبات وفرار سے انسان کو خوف ہوتا ہے۔ اپنی اس اونچائی اور عظمت کے باوجود اٹھا کر پٹخ دیئے جائیں گے۔ جس طرح بال کو اٹھا کر مار دیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو انسان کو قدرت خداوندی کے مقابلے میں اس کی اور اس کرہ ارض کی کمزوری ، چھوٹائی اور نہایت ہی بےوزنی کا اظہار کرتا ہے۔ جب صور میں ایک بار پھونک مار دی گئی او یہ سب ہولناک واقعات ہوگئے زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ریزہ ریزہ کردیا گیا۔ تو یہ سورت جس ہولناک امرکا اظہار کررہی ہے یہ امر اس دن وقوع پذیر ہوگا۔
Ayah 69:15

فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 69:15 in the Quran reader

اس روز وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا۔

فیومئذ ................ الواقعة (96 : 51) اور واقعہ بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ جس طرح الحاقہ اور القارعہ ایک نام ہے۔ واقعہ اس لئے کہ اس نے واقع ہونا ہے۔ اس کی اصل حقیقت ایک واقعہ ہی کی ہے۔ یہ اس قسم کا نام ہے جس میں ایک خاص اشارہ ہے۔ ان لوگوں کے لئے جو اس میں شک کرتے رہیں۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ یہ تو واقعہ ہے۔ اور معاملہ یہیں تک محدود نہیں ہے کہ زمین اور پہاڑوں کو ایک گیند کی طرح اٹھا کر زمین پر مار دیا جائے گا اور یہ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے بلکہ آسمان میں بھی تغیرات رونما ہوں گے۔ آسمان صحیح سلامت نہ رہے گا۔
Ayah 69:16

وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌۙ Open ayah 69:16 in the Quran reader

اس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑجائے گی ،

وانشقت ................ واھیة (96 : 61) ” اس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑجائے گی “۔ اور ہمیں معلوم نہیں ہے کہ اس آسمان سے کون سا آسمان مراد ہے۔ جس کے شق کا یہاں ذکر ہے۔ لیکن یہ آیات اور دوسری آیات اشارہ اس طرح کررہی ہیں کہ قیامت کے دن ہولناک فلکی تغیرات اور تضادات ہوں گے ۔ مقصد یہ ہے کہ کر ات فلکی کی چولیں کھل جائیں گی اور جس چیزنے اس نظام کو ایک منظم طریقے سے ٹکارکھا ہے ، اس کا نظم کھل جائے گا۔ اور جب یہ نظام کھل گیا تو اس کا انتشار دیدنی ہوگا۔ اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ آج کل علمائے فلک نے آخر کار موجودنظام کے خاتمے کی جو صورت اپنے مشاہدات سے تجویز کی ہے وہ بعینہ وہی ہے ، جو قرآن تجویز کرتا ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ اندازے محض سائنسی مشاہدات سے لگائے ہیں۔ انہوں نے بہرحال اس کائنات کے بارے میں بہت قلیل مشاہدہ کیا ہے اور اس قلیل مشاہدے پر یہ مفروضے قائم کیے ہیں۔ لیکن ہم مومنین وہ مفروضے ان قرآنی آیات کے اندر نہایت مفصل انداز میں مشاہدہ کرتے ہیں۔ یہ نہایت مجمل آیات ہیں اور یہ متعین واقعات نہیں بلکہ اصولی اور کلی واقعات بیان کرتی ہیں۔ ہم بس صرف ان اصولی واقعات پر اکتفا کرتے ہیں ، جو قرآن نے بیان کیے۔ یہ ہمارے لئے سچی خبریں ہیں۔ کیونکہ یہ آیات اس ذات نے بیان کی ہیں جس نے قرآن بھی نازل کیا ہے اور کائنات کو بھی بنایا ہے۔ اور جو اپنی مخلوقات کو ہمارے محدود مشاہدات سے بڑھ کر بہت ہی اچھی طرح جانتا ہے۔ کیونکہ اللہ کی کائنات میں ، یہ زمین اور یہ پہاڑ اور زمین اور سورج کے ساتھ تمام کہکشاں اور ستارے ایسے ہی ہیں جیسے زمین کے اوپر غبار کے چھوٹے چھوٹے ذرات اڑتے ہیں۔ لہٰذا ہم میں سے ایک انسان جس طرح دو ذرات کو اٹھا کر پھینک سکتا ہے ، اللہ کے نزدیک زمین کو اٹھا کر پھینکنا ایسا ہی ہے تو قیامت میں جب آسمانوں کی بندش کھلے گی تو زمین و آسمان ذرات کی طرح اڑتے پھریں گے اور یہ باتیں بھی قرآن کی زندہ آیات سے معلوم ہوتی ہیں۔ اب رب ذوالجلال کا جلال منظر پہ چھا جاتا ہے ، اور صور پھونکے جانے اور زمین اور پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہونے اور بھونچال و انتشار کے بعد اس پوری کائنات میں ایک تھماﺅ آجاتا ہے۔ اور رب ذوالجلال اور قہار کی بزرگی اور عظمت چھا جاتی ہے۔
Ayah 69:17

وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآئِهَا١ؕ وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَةٌؕ Open ayah 69:17 in the Quran reader

فرشتے ان کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور آٹھ فرشتے اس روز تیرے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے “۔

والملک ................................ ثمنیة (96 : 71) ” فرشتے ان کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور آٹھ فرشتے اس روز تیرے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے “۔ فرشتے اس کائنات وسماوات کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور اس کائنات کے اوپر عرش الٰہی ہوگا اور اس کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ یہ آٹھ طبقات ہوں گے یا یہ آٹھ اللہ کے علم میں ہوں گے کہ وہ کیا ہوں گے ؟ یہ آٹھ کون ہیں اور کیا ہیں ؟ اس کی تفصیلات کا بھی ہمیں علم نہیں ہے۔ نہ ہمیں عرش کی کیفیت کا علم ہے نہ اٹھانے کی کیفیت کا علم ہے۔ ہم ان تمام امور کو ایک طرف چھوڑ دیتے ہیں ، اس لئے کہ ان کا تعلق غیبی معاملات سے ہے جن کا تفصیلی علم ہمیں نہیں دیا گیا اور ہمیں اللہ نے ان چیزوں کے تفصیلی علم کے حصول کا نہ مکلف بنایا ہے ، نہ حصول کا حکم دیا ہے۔ ہم ان تفصیلات کو بھی اللہ کے غیبی علم پر چھوڑ دیتے ہیں۔ بس اب اللہ ہی اللہ ہوگا ، سب کچھ فنا ہوگا اور یہی شعور ہے جو قرآن اور یہ سورت ہمیں دینا چاہتی ہے کہ ہم اللہ سے ڈریں ، قیامت کی جوابدہی سے ڈریں اور اللہ کی قدرت اور جلالت سے ڈریں۔
Ayah 69:18

یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ Open ayah 69:18 in the Quran reader

” وہ دن ہوگا جب تم لوگ پیش کیے جاﺅ گے ، تمہارا کوئی راز بھی چھپا نہ رہ جائے گا “۔

سب کے سب کھلے اور ننگے ہوں گے۔ جسم بھی ، ضمیر بھی ، عمل بھی اور انجام بھی۔ وہ تمام راز جو پردوں کے نیچے تھے ، کھل کر سامنے آجائیں گے۔ انسانی نفس ننگا ہوگا ، انسانی جسم ننگا ہوگا ، انسانی عیوب سامنے آجائیں گے۔ گواہ سامنے آجائیں گے۔ انسان کی مکاریاں اور فن کاریاں کافور ہوجائیں گی۔ سب حیلے تدبیریں بےاثر ہوں گی۔ اور وہ باتیں بھی کھل جائیں گی جن کو وہ اپنے آپ سے چھپاتا تھا۔ یہ کس قدر شرمندگی ہوگی کہ وہ راز طشت ازبام ہوں گے۔ لوگوں کی نظروں میں انسان کس قدر شرمندہ ہوں گے۔ رہے اللہ تو اس کے سامنے تو پہلے بھی سب کچھ کھلا تھا۔ اب بھی کھلا ہے لیکن انسان کے ذہن میں یہ بات شعور طور پر بیٹھی نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس کے شعور میں زمین کے اندر ایک انسان اور انسان کے درمیان پردہ داری کا شعور ہے جبکہ قیامت کے دن فرق صرف یہ ہوگا کہ اس بےچارے انسان کے شعور میں پردے کا جو شعور تھا وہ اٹھ جائے گا۔ اور وہ سمجھے گا کہ سب پردے گر گئے ہیں۔ اس کائنات میں سب چیز کھلی ہے۔ اب جبکہ زمین اٹھا کر پٹخ دی گئی ہے تو تمام اوٹ ختم ہوگئے ہیں۔ یہ ہموار ہے ، میدان ہے۔ آسمان کی بندشیں بھی کھل گئی ہیں اور آسمانوں کے پیچھے بھی کوئی شے چھپی نہیں ہے۔ اجسام بھی ننگے ہیں ، انسان نفسیات بھی کھلی ہیں ، نہ راز ہے اور نہ نیاز ہے۔ مگر یہ ایک نہایت پریشان کن کام ہے اور یہ اس پوری زمین اور تمام پہاڑوں سے بھی بڑا کام ہے۔ اور اس سے بھی شدید ہے کہ آسمان پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوکر نیچے گر جائیں کہ انسان بالکل ننگا کھڑا ہو ، اس کی نفسیاتی کیفیات لوگوں پر کھل جائیں ، اس کا شعور بھی عیاں ہوجائے ، اس کی پوری ہسٹری سامنے آجائے ، اس کے تمام کرتوت فلم میں بند ہوجائیں اور اس کی تمام چھپی ہوئی باتیں کھل جائیں اور یہ سب امور پوری انسانیت کے بھی سامنے آجائیں۔ فرشتوں کے سامنے ، جنوں کے سامنے ، انسانوں کے سامنے اور وہ اللہ کے عرش و جلال بادشاہی کے نیچے ہوں گے اور سخت خوفزدہ ہوں گے۔ انسانی مزاج اور نفسیات نہایت پیچیدہ ہوتی ہیں۔ انسانی نفسیات کے اندر بیشمار نشیب و فراز ہوتے ہیں جس کے اندر اس کا نفس ، جس کے اندر اس کے مشاھر ، اور جس کے اندر اس کے جذبات اور میلانات ہوتے ہیں ، اچھے یا برے۔ اس کی صلاحیتیں اور اس کے پوشیدہ راز ہوتے ہیں۔ (توقعہ بامیہ ص 18) سیپی کے سمندری جانور کی طرح کہ جب سے ایک سوئی یا کانٹا بھی چبھ جائے تو وہ بڑی جلدی سے سکڑ کر اپنی سیپی کے خول میں چھپ جاتا ہے۔ اور مکمل طور پر اندر داخل ہوجاتا ہے۔ اور اپنے آپ کو پوری طرح بند کردیتا ہے۔ انسان بھی ایسا ہی کرتا ہے۔ جب اسے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ کوئی آنکھ اسے دیکھ رہی ہے اور اس کی تمام حرکات نوٹ ہورہی ہیں اور وہ جن چیزوں کو چھپا رہا ہے وہ تو ظاہر ہوگئی ہیں۔ تو انسان نہایت شدید تکلیف محسوس کرتا ہے کہ اس کے نہایت ہی خفیہ معاملات بھی کھل گئے ہیں۔ اب دیکھئے کہ اس قسم کا انسان اس دن ننگا ہوگا اور ہر طرح سے ننگا ہوگا ، جسم اور قلب کے لحاظ سے ننگا ہوگا۔ شعور ، نیت اور ضمیر کے لحاظ سے ننگا ہوگا۔ ہر پردے سے محروم ہوگا۔ اور وہ اللہ جبار وقہار کے تحت الحکم ہوگا اور تمام روئے زمین کے انسانوں اولین وآخرین کے سامنے ہوگا۔ یہ بہرحال ایک کڑوی صورت حال ہوگی ہر چیز سے زیادہ کڑوی اور تلخ۔ اس کے بعد نجات پانے والوں اور جہنم میں بھیجے جانے والوں کا منظر پیش کیا جاتا ہے۔ یوں جیسا کہ یہ منظر آنکھوں کے سامنے ہے۔
Ayahs 69:19–20

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ١ۙ فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:19 in the Quran reader

” اس وقت جس کا نامہ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ دیا جائے گا وہ کہے گا ” لو دیکھو “ پڑھو میرا نامہ اعمال ،

اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:20 in the Quran reader

میں سمجھتا تھا کہ مجھے ضرور اپنا حساب ملنے والا ہے “۔

یہ کہ اعمال نامہ دائیں ہاتھ اور بائیں ہاتھ میں دیئے جانے اور آگے اور پیچھے سے دئے جانے کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ عملاً ایسا ہوگا اور یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ عربی زبان کے یہ محاورے میں ، اچھے سلوک کی تعبیر دائیں ہاتھ سے اور برے سلوک کی تعبیر بائیں سے کی گئی ہے یا برے سلوک کی صورت میں اعمال نامہ پیچھے سے دیا جانا تعبیر کیا گیا ہے جو بھی مفہوم ہو۔ اس لئے ہم اس بحث میں نہیں پڑتے ، اصل مقصود یہ بتاتا ہے کہ ناکام لوگوں کے ساتھ وہاں اچھا سلوک نہ ہوگا۔ جو منظر یہاں پیش کیا گیا ہے ، وہ اس شخص کا ہے جو کامیاب ہوگیا وہ دن نہایت ہی خوفناک ہوگا ، اس لئے اس منظر میں یہ شخص نہایت ہی فرحاں و شاداں ادھر ادھر دوڑ رہا ہے۔ دیکھو صفیں چیرتا ہوا دوستوں کو تلاش کررہا ہے۔ اس کے جسم کے روئیں روئیں سے خوشی ٹپک رہی ہے اور وہ خوشی کے مارے چلا اٹھتا ہے۔ ھاءم .................... واکتبیہ (96 : 91) ” دیکھو ، یہ ہے پڑھو میرا اعمال نامہ “۔ اس کے بعد وہ مزید خوشی کا اظہار یوں کرتا ہے کہ وہ کہتا ہے کہ مجھے یقین نہ تھا کہ میں نجات پاجاﺅں گا بلکہ مجھے ڈر یہ تھا کہ مجھ سے حساب لیا جائے گا۔ اور حدیث میں ہے۔ من نوقش الحساب عذب ” جس کا حساب کتاب مناقشہ کے ساتھ کیا گیا ، بس وہ عذاب دیا گیا “۔ حدیث میں آتا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کے ساتھ حساب و کتاب میں جھگڑا کیا گیا بس وہ عذاب میں مبتلا ہوا۔ میں نے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فاما من ........................ مسرورا ” تو حضور ﷺ نے جواب دیا۔ اس میں تو یہ ہے کہ ہر کسی کے سامنے اس کا حساب پیش کیا جائے گا۔ قیامت کے دن عملاً آڈٹ نہ ہوگا۔ اگر کسی کے ساتھ ہوا تو مارا گیا “۔ (بخاری ، مسلم ، ابوداﺅد) ابن ابوحاتم نے روایت کی ، بسرابن بکرواسطی سے ، انہوں نے زید ابن ہارون سے ، انہوں نے عاصم ، احول سے ، انہوں نے ابو عثمان سے وہ کہتے ہیں : مومن کو اس کے دائیں ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا۔ نہایت خفیہ انداز میں ، وہ اپنی کو تاہیاں اس میں پڑھے گا۔ جوں جوں وہ اپنے گناہ پڑھتا جائے گا۔ اس کا رنگ بدلتا جائے گا۔ پھر یہ اپنی نیکیاں پڑھے گا تو اس کی حالت بحال ہوگی۔ پھر وہ اچانک دیکھے گا کہ اس کی تمام بداعمالیاں نیکیوں میں بدل جائیں گی۔ اس وقت پھر یہ لوگ سے خوش ہوکر کہے گا۔ ھاءم ............ کتبیہ (96 : 91) ” یہ ہے پڑھو ، میرا اعمال نامہ “۔ حضرت عبداللہ ابن حنظلہ سے روایت ہے ، جن کا لقب غسیل ملائکہ ہے۔ کہتے ہیں کہ اللہ اپنے بندے کو قیامت میں کھڑا کرے گا تو اس کی برائیاں اس کے اعمال نامے کی پشت یعنی پہلے ہی صفحے پر درج ہوں گی۔ اور اسے کہے گا تم نے یہ کیا ہے تو وہ کہے گا ہاں اے رب ، تو اللہ تعالیٰ اسے کہے گا میں نے تجھے دنیا میں شرمندہ نہیں کیا اور میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ اس وقت یہ بندہ یہ کہے گا۔ ھاءم ................ کتبیہ (96 : 91) ” یہ ہے پڑھو ، میرا اعمال نامہ “۔ اور صحیح بخاری میں حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث ہے جب ان سے نجویٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ” میں نے رسول اللہ سے سنا : ” اللہ قیامت کے دن اپنے بندے کے قریب ہوگا۔ اس سے اس کے تمام گناہوں کا اقرار لیا جائے گا۔ جب وہ بندہ یہ یقین کرلے گا کہ بس وہ مارا گیا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ میں نے یہ باتیں دنیا میں چھپارکھی تھیں اور اب یہاں میں انہیں معاف کرتا ہوں۔ اس کے بعد اس کی اچھائیوں کی کتاب اس کے دائیں ہاتھ میں دی جائے گی۔ رہے کافر اور منافق ، تو گواہ کہیں گے یہ وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا۔ خبردار اللہ کی لعنت ہو کافروں پر “۔
Ayahs 69:21–24

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ Open ayah 69:21 in the Quran reader

پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا ،

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 69:22 in the Quran reader

عالی مقام جنت میں ،

قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ Open ayah 69:23 in the Quran reader

جس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑ رہے ہوں گے۔

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ Open ayah 69:24 in the Quran reader

(ایسے لوگوں سے کہا جائے گا) مزے سے کھاﺅ اور پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں “۔

اس کے بعد علی الاعلان بتادیا جائے گا کہ ان لوگوں کے لئے اللہ نے یہ یہ نعمتیں تیار کررکھی ہیں۔ یہاں اس کے سامنے ایسی حسی اور مادی نعمتیں گنوائی جارہی ہیں۔ جن کو عرب اچھی طرح مادی ترقی کا کمال سمجھتے تھے۔ اس وقت لوگ چونکہ دور جاہلیت سے ابھی ابھی ایک بدوی معاشرہ سے نکل کر آئے تھے ، اس لئے ان کے مزاج کے مطابق بعض پسندیدہ باتیں یہاں گنوائی جاتی ہیں۔ کیونکہ نہ تو وہ زیادہ ترقی یافتہ تھے اور نہ جنت کی نعمتوں کا کوئی تصور کرسکتا ہے۔ فھوفی ............................ الخالیة (42) (06 : 12 تا 42) پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا ، عالی مقام جنت میں ، جس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑ رہے ہوں گے۔ (ایسے لوگوں سے کہا جائے گا) مزے سے کھاﺅ اور پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں “۔ یہ نعمتیں اور پھر ان کے ساتھ ساتھ یہ اعزاز واکرم اور یہ تواضع اور پھر باری تعالیٰ کی طرف سے یہ مکالمہ ” کھاﺅ اور پیو ، اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں “۔ یہ وہ سادہ رنگ ہے جہاں تک عہد اول کے مسلمانوں کا تعلق باللہ پہنچ گیا تھا ، حالانکہ اللہ کے قرب میں اس سے بھی زیادہ انعامات ہیں۔ نیز تعلق باللہ اور جنتوں کے ان انعامات میں بعض لوگوں کے لئے قیامت تک کشش رہے گی۔ لوگوں کے بھی رنگ اور اقسام ہیں اور نعمتوں کے بھی رنگ و اقسام ہیں۔
Ayahs 69:25–27

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:25 in the Quran reader

” اور جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا ” کاش میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا گیا ہوتا

وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:26 in the Quran reader

اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔

یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ Open ayah 69:27 in the Quran reader

کاش میری وہی موت (جو دنیا میں آئی تھی) فیصلہ کن ہوتی۔

اب یہ شخص جان چکا ہے کہ اس کے خلاف فیصلہ ہوچکا ہے۔ اور اس کا انجام کار آخر کار جہنم رسیدگی ہے۔ یہ اس میدان میں نہایت ہی حسرتناک انجام لئے کھڑا ہے۔ نہایت درجے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اور درج بالا تبصرہ وہ کرتا ہے۔ نہایت طویل منظر ہے اس شخص کا۔ اس کی حسرت کو ذرا اطوالت سے بیان کیا گیا ہے۔ اس قدر کہ ایک قاری یہی سمجھتا ہے کہ یہ بیان ختم ہی نہ ہوگا۔ لہجہ بھی مایوس کن ہے لیکن یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز کہ وہ بعض مناظر ومواقف کو طوالت دیتا ہے اور بعض کو چند جملوں میں بیان کردیتا ہے۔ اور اس طرح نفس انسانی پر نہایت ہی مفید اثرات چھوڑ دیتا ہے۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ حسرت اور پشیمانی کی سوچوں کو ذرا اطوالت دی جائے تاکہ لوگ ابھی سے سوچ لیں کہ وہاں کس قدر حسرت اور شرمندگی کا سامنا ہوگا۔ عذاب تو بہت بڑی چیز ہے۔ چناچہ اس منظر کو ذرا طویل کردیا گیا کیونکہ سیاق کلام میں اصل مقصود یہی تھا۔ اس میں عبادت بھی بڑی نغمہ بارے۔ یہ بدبخت شخص تمنائیں کرتا ہے کہ اے کاش یہ وقت نہ آتا۔ اسے کتاب اعمال ہی نہ دی جاتی ، اسے علم ہی نہ ہوتا کہ کیا ہوا۔ اور یہ کہ یہ قیامت کا وقت یا اس لئے جو موت آئی تھی ، وہ دائمی ہوجاتی۔ میرے وجود کے عناصر ترکیبی ہی ختم کردیئے جاتے۔ مزید افسوس اس پر کہ دنیا میں جن چیزوں پر وہ فخر کرتا تھا وہ اس کے لئے بالکل نافع نہیں ہے۔
Ayahs 69:28–29

مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ Open ayah 69:28 in the Quran reader

آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔

هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ Open ayah 69:29 in the Quran reader

میرا سارا اقتدار ختم ہوگیا “۔

ما اغنی عنی مالیہ (06 : 82) ” آج یہاں میرا مال میرے کچھ کام نہیں آیا “۔ بلکہ میرا سب کا سب اقتدار جاتا رہا ہے ، نہ مال مفید ہے اور نہ میرا اقتدار مفید رہا ہے۔ بات کی ٹون نہایت ہی حسرت اور یاس سے بھری ہوئی ہے۔ اور قرآن کریم نے اس کے لئے جو قافے چنے ہیں وہ اسے نہایت طویل کردیتے ہیں (جس طرح کوئی میت پر روتا ہے) یوں کہ آخر میں ہا۔ اور اس سے قبل یا۔ اور اس سے قبل الف۔ کتابیہ ، حسابیہ ، قاضیہ ، مالیہ اور سلطانیہ۔ الفاظ بھی ایک قسم کا مد ہے اور حسرت آمیز ہے۔ اور نہایت ہی فصیح وبلیغ انداز میں۔ یہ نہایت ہی حسرت ناک ٹون اس وقت ختم ہوتی ہے ، جب عدالت خداوندی سے ایک زور دار ڈگری کے ساتھ تعمیل کے احکام بھی صادر ہوتے ہیں۔
Ayah 69:30

خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ Open ayah 69:30 in the Quran reader

”(حکم ہوگا) پکڑو اسے اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو ،

کس قدر ہولناک احکام ہیں ، کس قدر قاتل دہشت ہے اور جلال ربی کس قدر نمایاں ہے ! ! خذوہ (96 : 03) ” پکڑوا سے “ یہ حکم اللہ العلی العظیم کی طرف سے صادر ہورہا ہے۔ اس کمزور ونحیف اور عاجز ومسکین پر پوری کائنات ٹوٹ پڑتی ہے۔ ہر طرف سے مامورین لپکتے ہیں۔ ابن ابو حاتم ، منہال ابن عمر سے روایت کرتے ہیں ” جب اللہ یہ حکم دے گا کہ ” پکڑو اسے “ تو ستر ہزار فرشتے لپکیں گے۔ ہر ایک اس کیڑے پر لپکے گا ، جبکہ یہ کافر نہایت ہی حقیر اور کرب زدہ ہے۔ فغلوہ (96 : 03) ” گردن میں طوق ڈالو اس کے “ جو بھی ان ستر ہزار میں سے پہنچے گا طوق ڈال دے گا اس کی گردن میں ؟
Ayah 69:31

ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ Open ayah 69:31 in the Quran reader

پھر اسے جہنم میں جھونک دو ،

ثم ................ صلوہ (96 : 13) ” پھو اسے جہنم میں جھونک دو “۔ قریب ہے کہ جہنم میں اس کے بھی جلنے کی آواز ہم سن لیں۔
Ayah 69:32

ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ Open ayah 69:32 in the Quran reader

پھر اس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو “۔

ثم فی .................... فاسلکوہ (96 : 32) ” پھر اس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو “۔ آگ کی زنجیروں میں سے ایک گز زنجیر بھی اس کیڑے کے لئے کافی ہے ، لیکن مزید لمبی زنجیر اسے ذلیل کرنے کے لئے اور لفظ سبعین کے استعمال کے لئے ہے۔ یوں انسانوں کو ڈرانا مقصود ہے۔ اب یہ حکم اور ڈگری صادر ہوگئی ہے۔ اس کا اجراء ہوگیا ہے اور مجرم جہنم رسید ہوگیا ہے ، تو آپ اس حکم پر دلائل دیئے جاتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔ اس قدر سخت سزا کا یہ مستوجب کیوں ہوا ؟
Ayahs 69:33–34

اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 69:33 in the Quran reader

” یہ نہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان لاتا تھا

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 69:34 in the Quran reader

اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا “۔

اس کا دل ایمان اللہ سے خالی تھا۔ یہ محض انسانی لحاظ سے بھی کوئی اچھا انسان نہ تھا۔ لوگوں پر رحم نہ کرتا تھا۔ لہٰذا اس آگ کے سوا اس کے لئے کوئی اور مناسب جگہ ہی نہ تھی۔ جس آدمی کا دل ایمان سے خالی ہو ، وہ مرجاتا ہے۔ اس کا دل کھنڈر بن جاتا ہے ، برباد ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر کوئی روشنی نہیں ہوتی ، وہ مسخ ہوگیا ہے۔ وہ حیوانوں سے کم تر مخلوق جمادات سے بھی کم تر ہوگیا ہے۔ کیونکہ ہر چیز مومن ہے۔ ہر چیز تسبیح کرتی ہے۔ ہر چیز اپنے وجود کے اصل مصدر سے پیوستہ ہوتی ہے۔ رہا یہ عقلمند انسان تو اپنے اصل اور سرچشمے سے یہ اپنے آپ کو کاٹ دیتا ہے۔ پھر اس کا دل انسانوں پر ترس نہیں کھاتا۔ اللہ کے بندوں میں سے مساکین تو اللہ کی رحمت کے زیادہ محتاج ہوتے ہیں۔ ان کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہئے۔ ان کے قیام اور طعام اور لباس کا خیال رکھنا ہم انسانوں ہی کا فرض ہے۔ اس طرح معلوم ہوا کہ انسانوں کی اجتماعی معاشی ضروریات سوسائٹی کے ذمہ ہیں اور ان کا تعلق ایمانیات کے ساتھ ہے۔
Ayahs 69:35–36

فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ Open ayah 69:35 in the Quran reader

” لہٰذا آج نہ یہاں اس کا کوئی یار غم خوار ہے

وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ Open ayah 69:36 in the Quran reader

اور نہ زخموں کے دھو ون کے سوا اس کے لئے کوئی کھانا ،

فلیس لہ ............ الخاطون اس بدبخت شخص کے انجام بد کا یہ تکمیلی بیان ہے۔ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ لاتا تھا۔ مساکین کی ضروریات بھی فراہم نہ کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب قیامت میں اس کا کوئی دوست نہیں ہے۔ فلیس ................ حمیم (96 : 53) ” لہٰذا آج یہاں اس کا کوئی غم خوار نہیں ہے “ اور اس کے وہاں کھانے کا انتظام مساکین سے بھی بدتر ہے۔ ولا طعام ............ غسلین (96 : 63) ” زخموں کے دھو ون کے سوا اس کے لئے کوئی کھانا نہیں ہے “۔ غسلین سے مراد اہل جہنم کی پیپ اور زخموں کے پانی اور اس پانی کو کہتے ہیں جو زخموں کے دھونے سے نکلتا ہے۔ ایسے گندہ لوگوں کے لئے ، اب ایسی ہی گندی خوراک موزوں ہے۔ کیونکہ اس شخص کا دل مساکین پر رحم سے خالی تھا۔
Ayah 69:37

لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِئُوْنَ۠ Open ayah 69:37 in the Quran reader

جسے خطاکاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا “۔

لا یا ................ الخاطﺅن (96 : 73) ” جسے خطاکاروں کے سوا اور کوئی نہیں کھاتا “۔ گنہگار ، جن کی فطرت میں یہ گناہ رچے بسے ہوں۔ یہ ہیں وہ وجوہات جن کی وجہ سے یہ شخص پکڑے جانے ، طوق پہنائے جانے ، آگ میں جلائے جانے کا مستحق ہو اور اسے اس قدر طویل بیڑیاں پہنائی گئیں۔ جہنم اور اس کے اندر بیڑیاں ، یہ جہنم کے عذاب کے درجات میں سے شدید درجہ ہے۔ یہ تو اس شخص کی حالت ہے جو مساکین کے طعام پر لوگوں کو ابھارتا نہیں ، لیکن اس ” شخص “ کا عذاب تم خود سوچو جو بچوں ، عورتوں اور بوڑھوں کو زندہ رکھتا ہے اور ان کے سر پرستوں کو ناحق سرکشوں اور جباروں کی طرح پکڑتا ہے اور جو ان کے ہاتھ سے لقمے اور کپڑے بھی چھین لیتا ہے اور وہ سخت سردیوں کے اندر ننگے آسمان کے نیچے ہوتے ہیں۔ ایسے ” ڈکٹیٹر “ کہاں جائیں گے جبکہ وہ زمین میں جگہ جگہ پائے جاتے ہیں۔ ذرا سوچ لو ، کہ ان کے لئے اللہ نے کیا تیار کیا ہوگا جبکہ صرف مسکینوں کے کھانے پر لوگوں کو نہ ابھارنے پر یہ شخت سزا رکھی گئی ہے۔ یہ سخت ، اور پرتاثیر منظر اس شدید سورت میں اس لئے لایا گیا کہ یہ ابتدائی ایام کی سورت ہے اور اس وقت عرب سوسائٹی نہایت اجذ اور سخت تھی۔ اور ان کو اسی طرح کے سخت مناظر دکھانے کی ضرورت تھی تاکہ اس سے ذرا خائف ہوجائیں اور اپنی روش میں قدرے نرمی اختیار کریں اور اس شرمندگی سے اپنے آپ کو بچانے کی سعی کریں اور جب بھی انسانیت اس قسم کے مختلف النوع معاشرتی سطح پر ہوتی ہے ، جس میں ایک طرف اس قسم کے سخت اور اجذ لوگ ہوتے ہیں دوسری طرف ایسے لوگوں کے مقابلے میں نرم خو اور اثر لینے والے بھی موجود ہوتے ہیں۔ یعنی جن میں لوگوں کی نفسیاتی حالت مختلف درجات پر ہوتی ہے اس لئے قرآن مجید کے انداز خطاب میں یہ سب لوگ پیش نظر ہوتے ہیں اور دعوت کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ اس سے مختلف سطح کے لوگ فائدہ اٹھاسکیں ۔ آج بھی بعض علاقوں میں سنگدل لوگ رہتے ہیں۔ ایسے مزاج کے لوگ بھی ہیں جو نہایت ہی سخت اور ان پر ایسے ہی الفاظ اثر انداز ہوسکتی ہے جو شعلہ بار ہوں ، جس طرح اس سورت میں ہیں۔ وہ ایسے ہی مناظر سے ڈرسکتے ہیں جو اس سورت میں بیان ہوئے ہیں۔ اس قسم کے سخت الفاظ اور سخت مناظر کے زیر سایہ ، جو اس سورت میں مسلسل چلے آرہے ہیں جن میں وہ مناظر بھی ہیں کہ لوگوں کو اس دنیا میں عذاب الٰہی میں گرفتار بتایا گیا ہے اور وہ مناظر بھی ہیں جن میں یہ پوری کائنات اڑتی دکھائی گئی ہے۔ پھر قیامت کے مناظر جہاں تمام انسانوں کو ننگا دکھایا گیا ہے اور وہ مناظر جن میں لوگ خوشی کے مارے اڑتے بھی دکھائے گئے ہیں۔ ان تمام مناظر کے بعد اب ایک نہایت ہی سنجیدہ ، فیصہ کن اور دو ٹوک بات آتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو بات کررہے ہیں ، اس کی حقیقت کیا ہے۔ جبکہ یہ لوگ اس میں شک کرتے ہیں۔ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور تکذیب کرتے ہیں۔