71. Surah Nooh

نوحNoah · 28 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 71:1

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 71:1 in the Quran reader

ہم نے نوح کو بھیجا ان کی قوم کے پاس کہ ڈراؤ اپنی قوم کو قبل اس کے کہ ان پر عذاب دردناک آپہنچے،1۔

1۔ (ان کے کفر و طغیان کی پاداش میں خواہ اسی دنیا میں خواہ آخرت میں) (آیت) ” انا ..... قومہ “۔ لوح اور قوم نوح پر مفصل حاشیے سورة ہود (پ 12) وغیرہ میں گزر چکے۔ انسانی نسل کا مستقل اور غیر منقطع سلسلہ آپ (علیہ السلام) ہی کے وقت سے چلا ہے۔ اور اس لئے آپ (علیہ السلام) کی شخصیت تاریخ انبیاء میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔ (آیت) ” ان انذر قومک “۔ یعنی کفر و طغیان کے وبال وپاداش سے ڈرائیے۔
Ayahs 71:2–4

قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 71:2 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم میں تمہارے لئے صاف صاف ڈرانے والا ہوں،

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ Open ayah 71:3 in the Quran reader

(یہ یاد دلا کر) کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو اور میرا کہنا مانو،

یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 71:4 in the Quran reader

وہ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں وقت مقرر تک مہلت دے گا بیشک اللہ کا مقرر کیا ہواوقت جب آجائے گا ٹلے گا نہیں کاش تم جان لیتے،2۔

2۔ یعنی یہ حقائق جو میں بیان کررہا ہوں کاش تم پر بھی روشن ہوگئے ہوتے ! (آیت) ” ان اعبدوا اللہ “۔ یعنی پر ستش صرف حق تعالیٰ کی کرو۔ اپنے سارے جھوٹے معبودوں، ٹھاکروں، مورتیوں کو ٹھکرا کر۔ (آیت) ” واتقوہ “۔ یعنی خوف اپنے دلوں میں اس خدائے واحد کا جماؤ نہ کہ اپنے گڑھے ہوئے معبودوں کا۔ (آیت) ” واطیعون “۔ پیغمبر کی اطاعت میں اطاعت الہی بھی ہوتی ہے۔ (آیت) ” یغفر ..... یؤخر یعنی موت طبعی جو کفر وعدم ایمان کا ثمرہ نہیں، وہ تو بہرحال اپنے وقت موعود ومقرر پر آکر رہے گی، البتہ عذاب جو ثمرہ ہے کفر کا اس سے تم ایمان لا کر محفوظ ہوجاؤ گے۔
Ayahs 71:5–6

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ Open ayah 71:5 in the Quran reader

پھر نو نے) دعا کی کہ اے میرے پروردگار میں نے اپنی قوم کو رات اور دن دعوت دی ،

فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 71:6 in the Quran reader

سو میرے بلاوے نے ان کا گریز اور بڑھا ہی دیا،3۔

3۔ یہ سب عرض ومعروض آپ (علیہ السلام) نے اس وقت کی ہے جب آپ (علیہ السلام) ہر ممکن تبلیغ و دعوت اور صدہاسال کے تجربہ کے بعد اپنی قوم کی طرف سے بالکل مایوس ہوچکے ہیں اور برابر یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ جتنی بھی کوشش آپ (علیہ السلام) کی جانب سے اصلا کی ہوتی رہی، ادھر سے اور ضد، انکار و استکبار ہی بڑھتا گیا۔
Ayah 71:7

وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ Open ayah 71:7 in the Quran reader

اور میں نے جب کبھی انہیں بلایا تاکہ تو انہیں بخش دے تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے لیں، اور (اپنے اوپر) اپنے کپڑے لپیٹ لئے، اور اڑے رہے اور نہایت درجہ کا تکبر کرتے رہے،4۔

4۔ (قبول حق سے اور میری تعلیمات کی پذیرائی سے) (آیت) ” کلما دعوتھم “۔ یعنی جب جب انہیں مسلک توحید وراہ ایمان کی دعوت دی (آیت) ” لتغفرلھم “۔ یعنی تاکہ یہ ایمان لے آئیں اور مغفرت اس پر قدرۃ مرتب ہوجائے۔ (آیت) ” جعلوا .... ثیابھم “۔ یہ سب کچھ انہوں نے غایت نفرت وکراہت سے کیا، یعنی تاکہ نہ داعی حق کی آواز انکے کانوں تک پہنچے، اور نہ یہ داعی حق کو دیکھیں اور نہ وہ ان کو دیکھ سکے ! (آیت) ” استغشواثیابھم “۔ قدیم قوموں کا لباس، یاد رہے کہ بالکل ڈھیلا ڈھالا ہوتا تھا، دھوتی یا تہمد اور چادر وغیرہ، فرنگیوں کے موجودہ دچست کوٹ واسکٹ، پتلون وغیرہ پر اسے نہ قیاس کیا جائے۔
Ayahs 71:8–9

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ Open ayah 71:8 in the Quran reader

پھر (بھی) میں نے ان کو بآواز بلند بھی بلایا ،

ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ Open ayah 71:9 in the Quran reader

پھر میں نے انہیں علانیہ بھی سمجھایا اور بالکل خفیہ بھی سمجھایا،5۔

5۔ (غرض یہ کہ تبلیغ و دعوت کے سارے ہی طریقے استعمال کر دیکھے) (آیت) ” انی دعوتھم جھارا “۔ یعنی میں نے پبلک تقریریں کیں، اور وعظ وخطاب عام سے کام لیا۔ (آیت) ” انی اعلنت لھم “۔ یعنی میں نے خطاب خاص سے کام لے کر افراد سے الگ الگ بھی کھلم کھلا گفتگو کی۔ (آیت) ” واسررت لھم اسرارا “۔ یعنی بالکل نجی اور تخلیہ کی صحبتوں میں بھی افراد کو الگ الگ سمجھایا۔
Ayahs 71:10–12

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ Open ayah 71:10 in the Quran reader

چناچہ میں نے کہا اپنے پروردگار سے مغفرت چاہو، بیشک وہ بڑا بخشنے والا ہے ،

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ Open ayah 71:11 in the Quran reader

وہ تم پر کثرت سے بارش بھیجے گا ،

وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ Open ayah 71:12 in the Quran reader

اور تمہارے مال واولاد میں ترقی دے گا اور تمہارے لئے باغ لگا دے گا اور تمہارے لئے دریا بہادے گا،6۔

6۔ یعنی میں نے تو یہ بھی کہہ کہہ کے دیکھ لیا کہ علاوہ نفع اخروی کے وہ مقصود اصلی ہے، تمہیں دنیوی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ (آیت) ” استغفرواربکم “۔ یہ استغفار ظاہر ہے کہ ایمان کے بعد ہی اور ایمان ہی کے واسطہ سے ممکن تھا۔ (آیت) ” یرسل السمآء .... انھرا “۔ یہ آیت ایمان کی مادی اور دنیوی برکتوں کے باب میں نص ہے۔ (آیت) ” انہ کان غفارا “۔ یعنی یہ نہیں کہ وہ تمہارے گناہ ابھی ہی بخش دے گا۔ بلکہ مغفرت تو اس کی عادت وصفت ہی ہے، اور کچھ آج سے نہیں، ہمیشہ ہی سے رہی ہے۔ کانہ یقول لاتظنوا ان غفاریتہ انما حدثت الان بل ھو ابدا ھکذا کان فکان ھذا بہ حرفتہ وصنعتہ (کبیر)
Ayahs 71:13–14

مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ Open ayah 71:13 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوا کہ تم اللہ کی عظمت کے قائل نہیں ہو،

وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا Open ayah 71:14 in the Quran reader

حالانکہ اسی نے تم کو طرح طرح سے بنایا،7۔

7۔ (اور تمہیں خلقت کے مختلف ادوار سے گزارا ہے) (آیت) ” لا .... وقارا۔ اگر حق تعالیٰ کی عظمت تمہارے دلوں میں ہوتی تو خود بخود شرک سے نفرت اور بت پرستی سے بیزاری تمہیں پیدا ہوجاتی۔
Ayahs 71:15–16

اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ Open ayah 71:15 in the Quran reader

کیا تم نے اس پر نظر نہیں کی کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ پیدا کئے ہیں،

وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا Open ayah 71:16 in the Quran reader

اور ان میں چاند کو نور (کی چیز) بنایا اور آفتاب کو چراغ (کی طرح روشن) بنایا،8۔

8۔ ان چیزوں کا خدا کی بڑی نعمتوں میں سے ہونا تو ظاہر ہی ہے، اور اس سے اس کی قدرت کامل اور خلاقی پر استدلال بھی بالکل صریح ہے۔ اسی کے ساتھ ضمنا یہ حقیقت بھی سامنے آجاتی ہے کہ آسمان اور چاند اور سورج سب کے سب اللہ ہی کی مخلوق اور سرتاسر محکوم ہیں۔ ان میں نہ کوئی دیوی نہ کوئی دیوتا۔ قوم نوح (علیہ السلام) خصوصیت کے ساتھ انہیں ” پرستیوں “ یعنی فلک پرستی، ماہتاب پرستی اور آفتاب پرستی میں مبتلا تھی۔ (آیت) ” سبع سموت طباقا “۔ سمآء اور ” سبع سموت “۔ دونوں پر حاشیے گزر چکے۔
Ayahs 71:17–20

وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ Open ayah 71:17 in the Quran reader

اور اللہ نے تم کو زمین ہی سے ایک خاص طور پر پیدا کیا ،

ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا Open ayah 71:18 in the Quran reader

پھر وہ تم کو اسی میں لے جائے گا، اور (اسی سے) تمہیں باہر لے آئے گا ،

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ Open ayah 71:19 in the Quran reader

اور اللہ نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا ،

لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ Open ayah 71:20 in the Quran reader

تاکہ تم اس کے کھلے راستوں میں چلو،9۔

9۔ نہ شجر پرستی کوئی مغز ومعنی رکھتی ہے، اور نہ دھرتی مائی کوئی دیوی ہیں، زمین اور جو کچھ بھی اس پر ہے یہ سب تو خود ہی انسان اور اس کی ضروریات میں صرف میں لانے کے لئے مخلوق ہوئی ہے۔ (آیت) ” واللہ ... نباتا “۔ یہ اس اعتبار سے فرمایا گیا کہ انسان کی ترکیب میں غالب عنصر اجزائے ارضی ہی کے ہیں۔ (آیت) ” یعیدکم فیھا “۔ یعنی بعد موت انسان کے اجزائے ارضی پھر اسی زمین میں مل ملا جائیں گے۔ (آیت) ” ویخرجکم اخراجا “۔ یعنی حشر کے وقت انسان کامل طور پر اسی زمین سے از نوبرآمد کرلیا جائے۔ (آیت) ” لتسلکوا منھا سبلا فجاجا “۔ یہ سطح زمین پر چلنا پھرنا تو موقوف ہی ہے زمین کے فرش ہونے پر۔
Ayah 71:21

قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ Open ayah 71:21 in the Quran reader

نوح (علیہ السلام) نے عرض کی کہ اے میرے پروردگار ان لوگوں نے میری نافرمانی کی، اور پیروی ایسوں کی کی جن کے مال واولاد نے انہیں نقصان ہی زیادہ پہنچایا،10۔

10۔ یعنی بجائے کوئی نعمت، نعمت ہی نہیں، ہر نعمت اس کے لئے ایک سبب عذاب ہی کی حیثیت رکھتی ہے۔ واستدل بھذہ الایۃ من قال انہ لیس للہ علی الکافر نعمۃ لان ھذہ النعم استدرجات ووسائل الی العذاب الابدی فکانت کالعدم (کبیر)
Ayah 71:22

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ Open ayah 71:22 in the Quran reader

اور انہوں نے بڑے بڑے مکر کر ڈالے،11۔

11۔ یعنی دین حق کی توقیر مٹانے اور اس سے مقابلہ کے خوب خوب منصوبے باندھے۔ اور شرک وجاہلیت کی حمایت ونصرت کے لئے بڑی بڑی اسکیمیں تیار کیں اور ان پر عمل بھی جی بھر کر، کر دیکھا، (آیت) ” مکروا “۔ یہ جوڑ توڑ کرنے والے وہی سردار ان قوم تھے۔ جن کی پیروی عوام کرتے تھے۔ والماکرون ھم الرؤساء (مدارک) (آیت) ” کبارا “۔ کبار کبیر کا صیغہ مبالغہ ہے۔ اور یہ مکر عظیم ترین، توحید کی مخالفت اور شرک کی حمایت میں تھا۔ یہیں سے متکلمین نے یہ نکالا ہے کہ علم کلام تو توحید کی حمایت اور ردشرک کا علم ہے وہ افضل ترین علوم ہے۔ واستدل بھذا من فضل علم الکلام علی سائر العلوم فقال الامر باشکر کبار فی القبح والخزی فالامر بالتوحید والارشاد وجب ان یکون کبارا فی الخیر والدین (کبیر)
Ayah 71:23

وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ Open ayah 71:23 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور نہ ود کو اور نہ سواع کو اور نہ یغوث، یعوق، نسر (غرض کسی کو بھی نہ) چھوڑنا،12۔

12۔ یہ سب نام قوم نوح کے خاص خاص دیوتاؤں کے ہیں۔ اور انہیں کی مورتیں ملک میں پجتی رہتی تھیں۔ انکے ناموں کی تصریح کی ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ ان کی پرستش عین نزول قرآن کے زمانہ میں بھی عرب و اطراف عرب میں جاری رہی (آیت) ” وقالوا “۔ یعنی سرادارن قوم نے یہ اپنے پیروی کرنے والوں اور عوام سے کہا۔ اے الرؤسا الی سفلتھم (مدارک) (آیت) ” ودا “۔ یہ دیوتا قوت مردانہ اور عشق و محبت کا تھا۔ اس کی مورت قوی ہیکل مرد کی شکل میں تھی، اہل عرب اس سے خوب مانوس تھے۔ اس کی پوجا شمالی عرب میں جاری تھی۔” عبدود “۔ عرب میں ایک نام کثرت سے لوگوں کا ہوتا تھا (آیت) ” سواعا “۔ یہ دیوتا حسن ومحبوبی کا تھا۔ اس کی مورتی حسین عورت کی شکل میں تھی، اس کی پوجا قبیلہ ہذیل میں جاری تھی (آیت) ” یغوث “۔ یہ دیوتا جسمانی قوت و طاقت کا تھا۔ اس کی مورت شیر اور بیل کی شکلوں میں ہوتی تھی، یمن میں اس کی پوجا کا رواج تھا۔ اور ” یعوق “۔ یہ دوڑ بھاگ کا دیوتا تھا۔ اس کی مورت گھوڑے کی شکل کی ہوتی تھی، اس کی بھی پوجا یمن میں پائی گئی۔ (آیت) ” نسرا “۔ یہ دور بینی اور حدت نظر کا دیوتا تھا۔ اس کی مورت پرندہ (باز یا عقاب) کی شکل کی ہوتی تھی۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔
Ayah 71:24

وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا Open ayah 71:24 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے بہتوں کو گمراہ کردیا ہے، تو (ان) ظالموں کی گمراہی تو اور بڑھا دے،13۔

13۔ (تاکہ یہ لوگ مستحق ہلاکت ہوجائیں) مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ دعاء سے مقصود ضلال میں زیادتی نہیں، بلکہ استحقاق ہلاکت تھا۔ (آیت) ” وقد اضلوا کثیرا “۔ یعنی یہ لوگ خود ہی گمراہ نہیں ہیں۔ بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے رہتے ہیں، اور اب اتنی کوششوں کے بعد ان کی اصلاح کی طرف سے مایوسی ہوچکی ہے۔ حضرت (علیہ السلام) نے یہ دعائے عذاب وہلاکت اس وقت فرمائی جب آپ کو خود وہی الہی ان ظالموں کے عدم قبول ایمان سے مطلع کرچکی تھی۔ ملاحظہ ہوسورۂ ہود (پ 12) رکوع 4 کی آیت (آیت) ” لن یؤمن من قومک الا من قدامن۔ الظلمین “۔ ظالمین کا یہاں کافرین کے معنی میں ہونا بالکل ظاہر ہے۔
Ayah 71:25

مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا Open ayah 71:25 in the Quran reader

(چنانچہ) اپنے (انہیں) گناہوں کے باعث وہ غرق کئے گئے، چناچہ وہ آگ میں پہنچ گئے تو اللہ کے مقابلہ میں انہیں کچھ بھی حمایتی میسر نہ ہوئے،14۔

14۔ قوم نوح کی غرقابی اور طوفان نوح پر حاشیے پیشتر گزر چکے، سورة یونس (پ 11) سورة ہود (12) میں (آیت) ” فادخلوانارا “۔ یعنی غرق ہوتے ہی آتش برزخ میں جھونک دیئے گئے، آیت سے عذاب قبر کے وقوع اور عالم برزخ کے وجود پر استدلال کیا گیا ہے۔ تمسک اصحابنا فی اثبات عذاب القبر (کبیر) تدل علی انہ حصلت تلک الحالۃ عقیب الاغراق فلایمکن حملھا علی عذاب الاخیرۃ والابطلت دلالۃ ھذہ الفاء (کبیر) والفاء للایذان بھم عذبوا بالاحراق عقیب الاغراق فیکون دلیلا علی اثبات عذاب القبر (مدارک) (آیت) ” فلم .... انصارا۔ یعنی نہ ان کے دیوتا اور دیویاں اور نہ ان کی مورتیاں کوئی بھی عذاب الہی سے انہیں نہ بچا سکیں۔ (آیت) ” مما “۔ من یہاں سبیہ ہے۔ والمعنی من خطایا ھم اے من اجلھا بسببھا (کبیر) اور ما تاکید کلام کے لئے ہے۔ واکد ھذا لمعنی بزیادۃ ما (مدارک)
Ayahs 71:26–27

وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا Open ayah 71:26 in the Quran reader

اور نوح نے یہ بھی عرض کی کہ اے میرے پروردگار زمین پر کافروں میں سے ایک پاشندہ بھی (جیتا) مت چوڑ ،

اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا Open ayah 71:27 in the Quran reader

اگر تو انہیں رہنے دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ ہی کرتے رہیں گے،15۔ اور ان کے محض کافر وفاجر ہی اولاد پیدا ہوتی رہے گی،16۔

15۔ کہ ان سب پر تیری حجت پوری ہوچکی ہے۔ اور یہ سب کے سب میرے مکذب ہیں (آیت) ” علی الارض “۔ مراد ارض عراق ہے۔ زمین پر انسانی آبادی اس وقت کل اسی علاقہ میں تھی، اس لئے جس نے یہ کہا کہ طوفان نوح سے صرف قوم نوح غرق ہوئی، اس نے بھی ٹھیک کہا اور جس نے کہا کہ اس میں ساری انسانی آبادی (بجز چند نفوس کے) غرق ہوگئی۔ اس نے بھی ٹھیک ہی کہا۔ 16۔ (جیسا کہ اب تک کا تجربہ، مشاہد ثابت کررہا ہے) حضرت نوح (علیہ السلام) کو اپنی طویل العمری کی بناء پر خوب تجربہ اپنی قوم ووطن والوں کی سرشت وافتاد مزاج کا ہوچکا تھا ان جیسے صاحب تجربہ کی زبان سے ایسے حکم کا نکلنا کچھ زیادہ عجیب یوں بھی نہیں اور پھر آپ (علیہ السلام) تو صاحب وحی تھے۔ اس بارے میں آپ (علیہ السلام) کو تو عین وحی ہی سے علم ہوچکا تھا کہ اب ان لوگوں میں سے کسی کے نصیب میں ایمان لانا نہیں۔ فان قیل کیف عرف النوح (علیہ السلام) ذلک قلنا للنص والاستقراء (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس طرح کی دعا غیر صاحب وحی کے لئے جائز نہیں۔
Ayah 71:28

رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ Open ayah 71:28 in the Quran reader

اے میرے پروردگار مجھے بخش اور میرے ماں باپ کو، اور جو بھی میرے گھر میں داخل ہوبحیثیت مومن کے اور کل ایمان والوں اور ایمان والیوں کو اور (ان) ظالموں کی ہلاکت تو بڑھا تا ہی جا،17۔

17۔ (کہ انکی نجات کی کوئی صورت ہی نہ رہے، اور عذاب کا پورا تحقق ان پر ہوجائے) (آیت) ” رب اغفرلی “۔ دعائے نوح (علیہ السلام) میں ترتیب دعاء قابل غور وسبق آموز ہے۔ سب سے پہلے دعاء خود اپنے حق میں کی۔ (آیت) ” والوالدی “۔ اس کے بعد اپنے والدین کا نام لیا۔ (آیت) ” ولمن دخل بیتی مومن ا “۔ پھر نمبر اپنے مومن متعلقین کا آیا۔ (آیت) ” ولل مومنین وال مومنت “۔ پھر سارے اہل ایمان کو اس میں شامل کرلیا۔ حق تعالیٰ اپنے اس مقبول پیغمبر کی دعاء کی برکت سے ہم سب کو بھی اسی زمرہ میں شامل کرلے۔