Explained with ayahs 1–7
جنات پر قرآن حکیم کا اثر
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ اپنی قوم کو اس واقعہ کی اطلاع دو کہ جنوں نے قرآن کریم سنا اسے سچا مانا اس پر ایمان لائے اور اس کے مطیع بن گئے، فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم کہو میری طرف وحی کی گئی کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کریم سنا اور اپنی قوم میں جا کر خبر دی کہ آج ہم نے عجیب و غریب کتاب سنی جو سچا اور نجات کا راستہ بتاتی ہے ہم تو اسے مان چکے ناممکن ہے کہ اب ہم اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کریں۔ یہی مضمون آیتوں میں گذر چکا ہے آیت (واذ صرفنا الیک الخ، یعنی جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف لوٹایا کہ وہ قرآں سنیں اور اس کی تفسیر…
Read the full tafseer →سورة الْجِنّ 4
اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ یہ جن یا تو عیسائی جنوں میں سے تھے۔ یا ان کا کوئی اور مذہب تھا جس میں اللہ تعالیٰ کو بیوی بچوں والا سمجھا جاتا تھا۔ دوسرے یہ کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ نماز میں قرآن پاک کا کوئی حصہ پڑھ رہے تھے جسے سن کر ان کو اپنے عقیدے کی غلطی معلوم ہوگئی اور انہوں نے یہ جان لیا کہ اللہ تعالیٰ کی بلندو برتر ذات کی طرف سے بیوی بچوں کو منسوب کرنا سخت جہالت اور گستاخی ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) وَّاَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا جد کے معنے شان کے ہیں حق تعالیٰ کے لئے بولا جاتا ہے، تعالیٰ جدہ یعنی بلند وبالا ہے اس کی شان، یہاں جدہ کی ضمیر راجع کرنے کے بجائے لفظ رب مظہر رکھ دیا گیا جس میں اس علو شان کی دلیل بھی آگئی کیونکہ جو ذات مخلوق کی پروردگار ہے اس کا سب مخلوق سے عالی شان ہونا ظاہر ہے۔
اس آیت میں وانہ کے عطف اور ترکیب نحوی میں مفسرین کا کلام طویل ہے۔ عوام کو اس کی حاجت نہیں۔
Read the full tafseer →یہ انھوں نے اپنے قول ’وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَا أَحَدًا‘ کی مزید وضاحت کر دی کہ اب ہم پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو گئی کہ ہمارے رب کی شان بیوی بچوں کی نسبتوں سے بالکل پاک اور نہایت ارفع ہے۔ نادان ہیں وہ لوگ جو اس طرح کی چیزیں اس سے منسوب کرتے ہیں۔ اس نے نہ اپنے لیے کوئی بیوی بنائی اور نہ کوئی اولاد۔
’جد‘ کے معنی عظمت، شان اور رتبہ کے ہیں۔ یعنی اس کی ذات اتنی بلند ہے کہ کوئی چیز اس کی شریک و سہیم اور ہمہ رتبہ نہیں ہو سکتی۔ وہ اپنی ذات میں بالکل یکتا، بے نیاز اور ہر چیز سے مستغنی ہے۔ کسی کا یہ درجہ نہیں کہ اس کا کفو اور ہم سر ہو سکے۔
یہ قول اگرچہ جنات ہی کا ہے اس وجہ سے اس کو ’فَقَالُوْا…
Read the full tafseer →3۔ 1 یعنی ہمارے رب کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ اس کی اولاد یا بیوی ہو۔ گویا جنوں نے ان مشرکوں کی غلطی کو واضح کیا جو اللہ کی طرف بیوی یا اولاد کی نسبت کرتے تھے، انہوں نے ان دونوں کمزویوں سے رب کی پاکی بیان کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
1: حضور نبی کریم ﷺ کو جس طرح انسانوں کے لئے پیغمبر بنایا گیا تھا، اسی طرح آپ جنات کے لئے بھی پیغمبر تھے، چنانچہ آپ نے جنات کو بھی تبلیغ فرمائی، اور جنات کو تبلیغ کا سلسلہ اس طرح شروع ہوا کہ آپ کی نبوت سے پہلے جنات کو آسمانوں کے قریب تک پہنچنے دیا جاتا تھا، لیکن حضور اقدس ﷺ کی بعثت کے بعد انہیں آسمانوں کے قریب جانے سے اس طرح روک دیا گیا تھا کہ جب کوئی جن یا شیطان آسمان کے قریب پہنچنا چاہتا تو اسے ایک شعلے کے ذریعے ماربھگادیا جاتا تھا، جیسا کہ سورة حجر (17: 15) اور سورة صافات (10: 37) میں گزرچکا ہے، صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ جنات نے جب اس بدلی ہوئی صورت حال کو دیکھا تو ان کے دل میں یہ جستجو…
Read the full tafseer →وانہ .................... ولدا (27 : 3) ” اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت اعلیٰ وارفع ہے اس نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا ہے “۔ الجد کے معنی حصہ اور نصیب کے ہوتے ہیں۔ یعنی قدر اور مقام ، عظمت اور اقتدار۔ یہ سب امور لفظ ” جد “ میں شامل ہیں اور اس کے پرتو ہیں۔ لیکن اجمالی مفہوم یہ ہے کہ اللہ بہت ہی بلند مرتبے والا ہے۔ وہ بہت عظیم اور جلیل القدر ہے۔ اس لئے اس نے نہ کسی کو بیوی بنایا ہے اور نہ بیٹا بنایا ہے۔
عربوں میں یہ غلط خیال تھا کہ ملائکہ اللہ کی لڑکیاں ہیں اور یہ لڑکیاں اس طرح پیدا ہوئیں کہ اللہ کی بیوی جن تھی۔ خود جنوں کی زبانی اس کہانی اور افسانے کی تردید کردی گئی کہ اللہ ان چیزوں سے…
Read the full tafseer →2 یعنی جورو بیٹا رکھنا اس کی عظمت شان کے منافی ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ جو گمراہیاں آدمیوں میں پھیلی ہوئی تھیں وہ جنوں میں بھی تھیں (عیسائیوں کی طرح) اللہ کے جورو بیٹا بتاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
آیت 4{ وَّاَنَّـہٗ کَانَ یَـقُوْلُ سَفِیْہُنَا عَلَی اللّٰہِ شَطَطًا۔ } ”اور یقینا ہمارا بیوقوف سردار اللہ کے بارے میں خلافِ حقیقت باتیں کہتا رہا ہے۔“
اپنے ”بیوقوف“ سے ان کا اشارہ اپنے سب سے بڑے جن عزازیل ابلیس کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →2 قرآن سننے والے جنوں کی اپنی قوم کو تبلیغ :۔ آیت نمبر 2 اور 3 سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقعہ پر قرآن سننے والے جن مشرک تھے اور ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث سے بھی متاثر تھے۔ قرآن کا بیان سن کر انہیں معلوم ہوا کہ اللہ کی ذات بیوی بیٹوں کی احتیاج سے پاک ہے۔ اور اس کے متعلق ایسا تصور رکھنا سخت گمراہ کن عقیدہ ہے۔ لہذا ہم ایسے عقیدہ و خیالات سے توبہ کرکے اللہ اکیلے پر ایمان لاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2۔ (جیسا کہ بہت سی مشرک، جاہلی قوموں نے فرض کر رکھا ہے) (آیت) ” ولن نشرک بربنااحدا “۔ یہ اس ایمان لانے کی تفسیر وتتمیم ہے۔ اور اس سے یہ حقیقت بھی آشکارا ہوگئی کہ ایمان کا جوہر یا جزء اعظم عقیدہ توحید ہی ہے۔ (آیت) ” مااتخذ صاحبۃ ولاولدا “۔ جو لوگ مسلمان کے گھر میں پیدا ہوئے۔ وہ اس کا گمان بھی نہیں رکھتے۔ کہ دیوتاؤں کے ساتھ ساتھ بیویوں، اور اولاد کا دم چھلا دنیا کی بڑی بڑی ” مہذب “ جاہلی قوموں اہل مصر، اہل عراق، اہل یونان، اہل چین، اہل ہند، اہل ایران وغیرہ کی دیومالا کا کیسا جزولانیفک رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! لوگوں کو بتائیے کہ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے (یعنی) وحی کے ذریعہ اللہ کی طرف سے مجھے خبر دی گئی ہے کہ نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت نے میری قرأت سنی اور یہ واقعہ بطن نخلہ میں جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے فجر کی نماز میں پیش آیا اور یہ جن وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” واذ صرفنا الیک نفرا من الجن “ میں کیا گیا ہے، تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس واپس جا کر کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے کہ اس کی (لفظی) فصاحت اور (معنوی) بلاغت وغیرہ سے تعجب ہوتا ہے جو راہ راست (اور) ایمان کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس…
Read the full tafseer →وانہ تعالیٰ جد ربنا . اَنَّہٗ میں جو ضمیر شان کی ہے ‘ رب کی طرف لوٹتی ہے۔ جَدّ کے معنی ہیں بزرگی اور عظمت۔ مجاہد ‘ عکرمہ اور قتادہ کا یہی قول ہے۔ حضرت انس کا قول ہے : کان الرجل اذا قرء بقروۃ و ال عمران جد فینا۔ یعنی جب کوئی آدمی سورة بقر اور آل عمران پڑھ لیتا ہے تو ہم میں اس کا مرتبہ بڑھ جاتا تھا۔ اس قول سے بھی تفسیر مجاہد کی تائید ہوتی ہے لیکن سدی نے جد کا معنی امر اور حسن نے غنا (بےنیازی) اور حضرت ابن عباس ؓ نے قدرت اور ضحاک نے فعل اور قرطبی نے نعمتیں اور اخفش نے حکومت و اقتدار بیان کیا ہے۔
جَدَّہٗ کی جگہ جَدُّ رَبِّنَا کہنے سے ربوبیت کا صراحۃً اظہار مقصود ہے کیونکہ ربوبیت الٰہی کا تقاضا ہے…
Read the full tafseer →ہمارے پروردگار کی بلند شان اور عظیم الشان بادشاہی ہے اس نے نہ کسی کو بیوی بنایا اور نہ اولاد جیسا کہ کفار بکتے رہتے ہیں۔
شان نزول : قُلْ اُوْحِيَ اِلَيَّ اَنَّهُ اسْتَـمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ (الخ)
امام بخاری اور ترمذی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ رسول اکرم نے نہ جنوں کے سامنے قرآن کریم پڑھا اور نہ آپ نے ان کو دیکھا۔ واقعہ یہ پیش آیا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ سوق عکاظ تشریف لے جارہے تھے۔ جنات اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹ ہوگئی اور ان کو بذریعہ شہاب ثاقب روک گیا گیا تھا تو وہ اپنی قوم کے پاس گئے اور آپس میں غوروفکر کیا کہ یہ بات جو پیش آئی ہے وہ کسی نئے کام کی وجہ سے…
Read the full tafseer →وانہ تعلی جدربنا…:”اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے ”یعنی ہم اس پر بھی ایمان لے ائٓے کہ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے۔ یہ جن تثلیث کو ماننے والے نصراین تھے یا کسی ایسے مذہب کو ماننے والے تھے جس میں اللہ تعالیٰ کی بیوی اور اولاد مانی جاتی ہے۔ اب انہیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی شان تو اس سے بہت بلند ہے کہ اس کی بیوی ہو یا اولاد ہو۔ بیوی ماننے سے وہ بلند شان والا نہیں بلکہ محتاج ٹھہرتا ہے، کیونکہ خاوند شہوت کے ہاتھوں اس کا محتاج ہوتا ہے اور اولاد بھی اسی شہوت کا نتیجہ ہے جو اسے بیوی کے پاس جانے پر مجبور کرتی ہے، تو پھر شان کیا بلند رہی۔ (طبری)
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا فرمان : وانہ تعالیٰ جد ربنا میں علقمہ، یحییٰ ، اعمش، حمزہ، کسائی، ابن عامر، خلف اور سلمی نے ان کو سورت میں بارہ مواقع پر ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے وہ مقامات یہ ہیں، وانہ تعلی جد ربنا، وانہ کان یقول، وانا ظننا، وانہ کان رجال، وانھم ظنوا، وانا لمسناالسمائ، وانا کنا نقعد، وانا لاندری، وانامناالصالحون، وانا ظننا ان لن نعجز اللہ فی الارض، وانا لماسمعنا الھدی، وانا مناالمسلمون، ان کا عطف انہ استمع نفر، پر ہے اس میں ہمزہ پر فتح کے سوا کوئی صورت دست نہیں کیونکہ یہ اوحی کے نائب فاعل کے محل میں ہے اور اس کا مابعد اس کا معطوف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ سب فامنا بہ، میں ھا پر محمول ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
4۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت تعالیٰ جد ربنا ہمارے رب کی شان بلند ہے یعنی ہمارے رب کا امر اور اس کی عظمت بلند ہے۔
5۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وانہ تعالیٰ جد ربنا سے مراد ہے کہ اس کا امر اور اس کی قدرت بلند ہے۔
6۔ الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت تعالیٰ جد ربنا سے کیا مراد ہے تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے اس کی عظمت پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے مایہ بن ابی صلت شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا وہ کہتا ہے
لک الحمد…
Read the full tafseer →[وَّانهٗ : اور یہ کہ حقیقت یہ ہے کہ ] [تَعٰلٰى جَدُّ رَبِنَا : بلند ہوئی ہمارے رب کی عظمت ] [مَا اتَّخَذَ : اس نے نہیں بنایا ] [صَاحِبَةً : کوئی ساتھی (بیوی)] [وَّلَا وَلَدًا : اور نہ کوئی اولاد ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
رسول اللہ ﷺ سے جنات کا قرآن سننا اور اپنی قوم کو ایمان کی دعوت دینا
یہاں سے سورة الجن شروع ہو رہی ہے جن پرانی مخلوق ہے جو حضرت آدم اور بنی آدم کی تخلیق سے پہلے سے دنیا میں موجود ہے ان لوگوں میں بھی مومن اور کافر نیک اور بدسب قسم کے افراد ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بھی ایمان کے مکلف تھے اور ہیں جس طرح بنی آدم میں انسانوں میں کافر اور مشرک ہیں اس طرح جنات میں بھی مشرک اور کافر رہے ہیں اور ان میں مومن بھی ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ :
حضور خاتم الانبیاء سیدنا محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے شیاطین نے ایک دھندہ بنا رکھا تھا۔ انسانوں میں کچھ لوگ کاہن بنے ہوئے تھے یہ لوگ آنے والے واقعات کی خبریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
تاثیر حقانیت قرآن برقوم جن و قبول ایمان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن ...... الی ...... یکونون علیہ لبدا “۔
(ربط) گذشتہ سورة نوح میں یہ بیان تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کس قدر طویل مدت تک اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن بدنصیب قوم بجائے اس کے کہ ہدایت قبول کرتی اور شقاوت وبدبختی میں اضافہ ہی ہوتا رہا اب اس سورت میں قوم جن کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ کس طرح ان میں سے ایک گروہ قرآن سن کر اسکی حقانیت کا گرویدہ ہوگیا کلام الہی کی معرفت نصیب ہوتی اور حق پہچان کر اس کھلے دل سے تیار ہوگئے صرف یہی نہیں کہ خود انہوں نے حق قبول کیا بلکہ وہ تو داعی…
Read the full tafseer →4:۔ ” وانہ تعالیٰ “ یہ بھی جنات کا کلام ہے اور ” انا سمعنا “ پر معطوف ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ اگر قائل کا قول بعینہ نقل کیا جائے تو اِنَّ مک سورة ہوگا، اور اگر اس کے کلام کا مضمون نقل کیا جائے تو اَنَّ مفتوحہ ہوگا۔ الجَدُّ ، معنی عظمت و جلال کے ہیں۔ جنوں نے اپنی تقریری میں اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی اور اس کے استغناء تام کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہمارے پروردگار کی عظمت بہت بلند اور اس کی جلالت شان نہایت اعلی وارفع ہے اور وہ ایسا بےنیاز اور مستغنی ہے کہ انہ اس کے بیوی ہے جس کی موانست کا وہ محتاج ہو، نہ بیٹا جس کے تعاون و تناصر کی اس کو ضرورت ہو۔ اس کی عظمت و جلالت اور اس کے استغناء تام کا تقاضا یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
کوائف :
اس سورة کا نام سورة جن ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق جن اس کے عقائد اور ہدایت قبول کرنے کا ذکر ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی اٹھائیس آیات ، دو رکوع ، دو صدپچاسی الفاظ اور آٹھ سو ستر حروف ہیں۔ پہلی سورة کی طرح اس کا موضوع بھی بنیادی عقائد ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ توحید ہے۔ اسکے بعد قیامت اور رسالت کا بیان ہے۔ قرآن پاک کا کلام الہٰی اور برحق ہونا بھی اس کے موضوع میں شامل ہے۔
لفظ جن کا معنیٰ :
جن کا لفظی معنی پوشیدہ یا مستور ہے۔ یعنی وہ چیز جو مستور ہو۔ اسے جن کہتے ہیں۔ جنکے مادے سے کئی ایک چیزیں مشتق ہیں۔ مثلاََ جنت کو جنت اس لیے کہتے ہیں کہ یہ اپنے گنجان اور گھنے…
Read the full tafseer →وَّاَنَّہٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً وَّلَا وَلَدًا 3 ۙ
علا
العُلْوُ : ضدّ السُّفْل، والعُلْوِيُّ والسُّفْليُّ المنسوب إليهما، والعُلُوُّ : الارتفاعُ ، وقد عَلَا يَعْلُو عُلُوّاً وهو عَالٍ وعَلِيَ يَعْلَى عَلَاءً فهو عَلِيٌّ فَعَلَا بالفتح في الأمكنة والأجسام أكثر . قال تعالی: عالِيَهُمْ ثِيابُ سُندُسٍ [ الإنسان/ 21] وقیل : إنّ ( عَلَا) يقال في المحمود والمذموم، و ( عَلِيَ ) لا يقال إلّا في المحمود، قال : إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلا فِي الْأَرْضِ [ القصص/ 4] ، لَعالٍ فِي الْأَرْضِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الْمُسْرِفِينَ [يونس/ 83] ، وقال تعالی: فَاسْتَكْبَرُوا وَكانُوا قَوْماً عالِينَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب : اوحی من الایحاء ھو القاء المعنی الی النفس فی خفاء کالالھام و انزال الملک و یکون ذلک فی سرعۃ انہ بالفتح الجملۃ فاعل اوحی والضمیر فی انہ للشان ای اخبرت بالوحی من اللہ عجبا مصدر و صف بہ للمبالغۃ۔ یھدی الخ الجملہ صفۃ قرآنا اوحال منہ و انہ تعالیٰ قرء ابن کثیر وغیرہ من اھل البصرۃ بالکسر فی احد عشرموضعا الی قولہ و انہ لماقام عبداللہ الا قولہ و ان لواستقاموا وان المساجد و انہ لمقام عبداللہ فانہا من جملۃ الموحی بہ وافقھم نافع وابوبکر الافی قولہ وانہ لما قام علی انہ استیناف اومقول وجہ الکسرۃ انھا من جملۃ المح کی بعدالقول وقرء الباقون بالفتح فی ھذہ المواضع عطفاً علی محل الجار و المجرور فی آمنا…
Read the full tafseer →وَّاَنَّـہٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً وَّ لاَ وَلَدًا۔ (الجن : 3)
(اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت ارفع و اعلیٰ ہے، اس نے اپنے لیے نہ کوئی بیوی بنائی ہے اور نہ کوئی اولاد۔ )
جَدّ … کے معنی عظمت، شان اور رتبہ کے ہیں۔
جنات کی شرک سے توبہ
گزشتہ آیت میں ہم نے پڑھا ہے کہ جن جنات نے قرآن کریم سنا تھا وہ شرک میں مبتلا تھے اور انھوں نے قرآن کریم سننے کے بعد اپنے شرک سے توبہ کا اعلان کیا تھا۔ اس آیت کریمہ میں اس شرک کی وضاحت ہے جس کا وہ شکار تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی بیوی ہے اور اس کی اولاد بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جنات عیسائی تھے اور عیسائیوں کی طرح اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
فہم القرآن
ربط سورت : حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد لوگوں کو شرک سے روکنا اور توحید کی دعوت دینا تھا اسی دعوت کے ساتھ نبی آخر الزمان ﷺ مبعوث کیے گئے جس کا تذکرہ اس سورت میں جنوں کی زبان سے کیا گیا ہے۔
اہل مکہ جب کسی سفر کے دوران صحراء یا جنگل میں پڑاؤ ڈالتے تو قافلے کا ایک فرد کسی اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر آواز دیتا کہ اے جنوں کے سردار ہم نے یہاں پڑاؤڈالا ہے، ہماری تجھ سے درخواست ہے کہ اس صحراء میں ہماری حفاظت فرمانا۔ اس عقیدے کی تردید کے لیے نبی ﷺ کو ” قُلْ “ کے لفظ کے ساتھ حکم دیا گیا ہے کہ جو واقعہ آپ کے ساتھ پیش آیا ہے آپ یہ واقعہ اور جنوں کا عقیدہ اہل مکہ کے سامنے بیان فرمائیں۔…
Read the full tafseer →3 : وَّاَنَّہٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا (اور ہمارے رب کی بڑی شان ہے) جدؔ عظمت، عرب کہتے ہیں جد فلان فی عینی ای عظیم وہ میرے ہاں عظمت والا ہوا۔ حضرت عمر ؓ کے قول میں یہی معنی ہے : کان الرجل اذا قرأ البقرۃ وآل عمران جَدفیناؔ وہ ہماری نگاہوں میں بلند ہوجاتا۔ یہ قول حضرت انس ؓ کی طرف بھی منسوب ہے۔ مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً (اس نے نہ کسی کو بیوی بنایا) وَّلَا وَلَدًا (اور نہ اولاد) جیسا کہ کافر جن و انس کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →2 ۔” یھدی الی الرشد “ وہ توحید وایمان سے درستگی کی طرف بلاتا ہے۔ ” فامنا بہ ولن نشرک بربنا احدا “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ قدیم زمانہ سے علماء مفسرین میں یہ ایک اختلاف چلا آتا ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود صحیح 1 ؎ مسلم کی روایت میں اس بات کے قائل ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جنات سے ملاقات کی اور ان کو قرآن شریف سکھایا اور صحیح بخاری 2 ؎ اور صحیح مسلم وغیرہ کی روایت میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اس کے منکر ہیں اور فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جنات سے ملاقات کی اور نہ ان کو قرآن شریف سکھایا بلکہ آنحضرت ﷺ کی بیخبر ی میں جنات قرآن شریف سن کر چلے گئے۔ بیہقی ‘ حافظ ابن حجر اور علماء نے اس اختلاف کو یوں رفع کیا ہے کہ ان دونوں روایتوں کا قصہ جدا جدا ہے پہلے پہل جنات نے آنحضرت ﷺ کی بیخبر ی میں قرآن شریف سنا اور ایمان لائے اور جس کا…
Read the full tafseer →(وانہ تعالیٰ جد ربنا) یعنی ہمارے رب کی عظمت بلند وبالا اور اس کے نام مقدس ہیں (ماتخذا صاحبۃ ولا ولدا) اس نے کسی کو اپنی بیوی بنایا ہے نہ بیٹا۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور اس کی عظمت سے اس بات کو جان گئے جس سے اس شخص کا ابطال ہوتا ہے جو سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بیوی یا اس کی اولاد ہے کیونکہ وہ ہر صفت کمال میں عظمت و کمال کا مالک ہے جبکہ بیوی اور بیٹا بنانا اس کے منافی ہے کیونکہ یہ کمال غنا کی ضد ہے۔
Read the full tafseer →5 ۔ اللہ تعالیٰ کی شان بیوی اور اولاد سے پاک ہے : سبحانہ و تعالیٰ سو ان جنوں نے اپنے قول ولن نشرک بربنا احدا کی مزید وضاحت کے طور پر کہا اور ہمارے رب کی نہ کوئی بیوی ہے نہ اولاد جیسا کہ بہتان باز مشرکوں کا کہنا ہے۔ سو اس کی ذات اقدس و اعلیٰ کی شان اس سب سے ارفع و اعلیٰ ، اور بلند وبالا ہے اور اس کی شان ہے لم یلد ولم یولد کہ نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ خود کسی کی اولاد، سبحانہ و تعالیٰ حد کے معنی عظمت شان اور رتبہ کے ہیں، یعنی اس کی ذات اتنی بلند اور اس قدر عظیم الشان ہے کہ کوئی بھی چیز اس کی شریک وسہیم اور اس کی ہم رتبہ نہیں ہوسکتی، وہ اپنی ذات میں بالکل یکتا، بےنیاز اور ہر چیز سے مستغنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
جنوں پر تلاوت قرآن کا اثر
تشریح : جیسا کہ قرآن پاک کی عظمت کا کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے۔ قرآن پاک میں کوئی زیر زبر پیش، حرف، لفظ آیت اور سورت ایسی نہیں کہ جو کسی خاص مقصد خاص پیغام یا موضوع سے خالی ہو۔ اس کا ہر ہر حرف حکمت و ہدایت کا منبع ہے۔ اسی طرح سورت جن کا سب سے بڑا مقصد بھی اس بہترین کتاب ہدایت، بہترین ادبی کتاب ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ کیونکہ جنوں کے جس گروہ نے قرآن نبی پاک ﷺ کی زبان سے سنا وہ اس قدر متاثر ہوا کہ فوراً ایمان لے آیا اور پھر اپنی جنوں کی جماعت میں جاکر اس کی تبلیغ بھی کی۔ اور انہوں نے بہترین الفاظ میں اسلام اور کتاب آخر کی تعریف کی۔ جس کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں۔
یہ کتاب مقدس ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الجن۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ لوگوں کو بتادیجئے کہ اللہ رب العزت نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے میری تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔
جن :
جنات اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے اجسام بھی ہیں اور ارواح بھی انسانوں کی طرح مردو عورت بھی ہیں اور نسل بھی چلتی ہے ان کی تخلیق کا غالب مادہ آگ ہے لہذا نظروں سے اوجھل رہتے ہیں چونکہ شیطان بھی جنوں میں سے تھا ، لہذا اس کی اولاد بھی جن ہی ہے مگر بہت زیادہ برے ہیں اور فرشتوں کی طرح جنات کا وجود قرآن وسنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے جس کا انکار کفر ہے۔ تفسیر مظہری میں لوگوں کے جنات سے ملنے کے واقعات بھی موجود ہیں اور ، اکام…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی بیوی اور اولاد رکھنا اس کی شان عظمت کے منافی ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں :” جو گمراہیاں آدمیوں میں تھیں وہ جنوں میں بھی تھیں۔ اللہ کے جورو اور بیٹا بتاتے تھے۔ “ (موضح)
Read the full tafseer →(72:3) وانہ تعالیٰ جد ربنا۔ واؤ عاطفہ۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے ان حرف مشبہ بالفعل ہ ضمیر شان (اسم ان) جس کا مرجع رب ہے اور تعالیٰ جد ربنا اس کی خبر ۔
تعالیٰ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب تعالیٰ (تفاعل) مصدر۔ وہ بلندو برتر ہے۔ باب تفاعل کی ایک خاصیت تکلف ہے لیکن یہاں اس کا استعمال تکلف کے لئے نہیں بلکہ مبالغہ کے لئے آیا ہے۔
جد ربنا۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ جد کا۔ ہمارے رب کی بزرگی و عظمت مجاہد، عکرمہ ، قتادہ نے بھی جد کے معنی (بزرگی و عظمت) کئے ہیں۔
حضرت انس کا قول ہے :۔
کان الرجل اذاقرؤ بقرۃ وال عمران جدفینا۔ (جب کوئی آدمی سورة بقرہ اور آل عمران پڑھ لیتا تو ہم میں اس کا مرتبہ بڑھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن۔
استمع۔ غور سے سنا۔ نفر۔ افراد۔ الرشد۔ ہدایت۔ سیدھا راستہ۔ شطط۔ حد سے بڑھئی ہوئی بات۔ یعوذون۔ پناہ مانگتے ہیں۔ رھق۔ ضد۔ سرکشی ۔ بددماغی۔ ملئت۔ بھردیا گیا۔ شھب۔ شہاب۔ انگارے۔ نقعد۔ ہم بیٹھتے ہیں۔ رصد۔ گھات میں لگا ہوا۔ قدد۔ مختلف۔ ٹکڑے ٹکڑے۔ ھرب۔ بھاگنا۔ بخس۔ نقصان۔ رھق۔ دبائو۔ حطب۔ ایندھن۔
تشریح : رسول اللہ ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے جنات آسمان کے کسی کونے تک پہنچ کر چوری چھپے کسی رکاوٹ کے بغیر فرشتوں کی اس گفتگو کو سننے کی کوشش کرتے جو وہ دنیا کے کاموں کے تدبیر کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے باتیں کرتے تھے۔ یہ جنات فرشتوں کی باتیں سن کر اپنے کاہنوں کو بتا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
(ف 1) بیوقوف جن وانس حد سے بڑھ کر گستاخی کا یہ کلمہ جو اللہ کی شان میں کہتے تھے کہ اللہ صاحب اولاد ہیں ہم کو یہ گمان تھا کہ شاید وہ کلمہ جھوٹ نہیں کہتے مگر اب قرآن شریف کے سننے سے معلوم ہوا کہ اللہ کی عظمت کے مقابلہ میں اس کلمہ کا منہ سے نکالنا بڑی گستاخی ہے اور جن وانس میں سے جو یہ کلمہ کہتے ہیں ان کی عقل ٹھکانے نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
[1] اشارہ ہے اس قحط کی طرف جو مکہ والوں کے ظلم و شرارت کی سزا میں آپ ﷺ کی دعا سے کئی سال ان پر مسلط رہا۔ اس لئے فرمایا کہ اگر لوگ ظلم و شرارت سے باز آ کر اللہ کے راستے پر چلتے تو قحط دور ہوتا اور باران رحمت سے ملک سرسبز و شاداب کردیا جاتا۔ اس میں ان کی آزمائش ہوتی کہ وہ نعمت پاکر شکر گزار ہوتے ہیں یا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
جنات ، تاویل اور شہاب ثاقبہ
1: حکمائے یونان کے مقتدین نے جنات کا انکار کیا اور بعد میں یورپ نے حضرات نے اس ضمن میں اتاویلات کو ضروری سمجھا ۔ حالانکہ قرآن حکیم میں احادث میں مذہبی صحائت میں اور مشرقی لٹریچر میں ان کے متعلق اتنا ذخیرہ ہے ۔ کہ انکار ناممکن ہے ۔ اور اب تو وہ عقلی مشکلات بھی درمیان میں نہیں رہی ہیں ۔ اب تو یورپ والے بھی کہہ رہے ہیں ۔ کہ جنات اور ارواح کا وجود برحق ہے ۔ اب ان کی تصویریں لی جارہی ہیں ۔ ان کا وزن دریافت کرلیا گیا ہے ۔ ان سے باتیں کی جاتی ہیں ۔ اور بغیر کسی قریب انفس اور سہود خطاء کے اب ایسا ایک مستقل سائنس ہے ۔ یعنی روحانیت مگر اس وقت بھی بدقسمتی سے کچھ لوگ ایسے…
Read the full tafseer →(3) اور یہ کہ ہمارے پروردگار کی شان بہت اعلیٰ اور بڑ بلند ہے اس نے نہ کسی کو بیوی اور جورو بنایا اور نہ کسی کو اولاد تجویز کیا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو گمراہیاں آدمیوں میں تھیں وہ جنوں میں بھی تھیں۔
خلاصہ : یہ کہ جنات کے اکثر افراد مشرک بھی تھے عیسائی بھی۔ اور یہودی بھی، اس لئے اس قرآن سننے والی جماعت نے جس کو نفرمن الجن فرمایا ہے تمام غلط کاموں کی اصلاح پر توجہ دلائی اور تمام عقائد باطلہ کا رد کیا ہے جورو اور اولاد کا قصہ حضرت حق تعالیٰ کی بزرگی اور تمام نقائص سے برتری کے خلاف ہے اور معاذ اللہ نقص اور احتیاج ہے اس لئے ان جنوں نے اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور برتری کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 2۔ مراد اس سے کلمات شرک اتخاذ صاحبہ و ولد وغیرہ ہیں۔
Read the full tafseer →بلاشبہ ہمارا رب بڑی شان والا ہے اس کی نہ بیوی ہے نہ اولاد :
3 ؎ یہ کلام اس جنوں کی جماعت کا ہے جو وہ اپنے لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں اور ان کو بتا رہے ہیں۔ کیا انہوں نے اس طرح کلام کو سنا ہے یا جو کچھ سنا ہے اُ سکا مفہوم وہ بیان کر رہے ہیں ؟ دنوں باتوں کا احتمال ہے اور دونوں مفہوم سمجھا اور بیان کیا جاسکتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے رب کی عظمت بہت بلند ہے جس نے نہ تو کسی کو اپنی بیوی بنایا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی اولاد ہے گویا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارا رب بیوی اور بال بچوں سے پاک ہے کیونکہ بیوی ہو یا اولاد انسان کی کمزوری پر دلالت کرتی ہے اور بعض کمزوریوں کے ازالہ کے لئے اس کو بیوی…
Read the full tafseer →وَأَنَّهُ تَعَالَىٰ جَدُّ رَبِّنَا (and [ then the Jinns started talking to each other ] that exalted is the Glory of our Lord;....72:3). The word jadd means 'majesty/glory' used for Allah. Instead of saying .jadduhu' with a third person pronoun referring to Allah, the attributive name 'rabb' 'Lord' is expressly retained which indicates the exalted position of Allah. The Being who is the Cherisher and sustainer of His creation must, of necessity, occupy the lofty position. Commentators have discussed the grammatical conjunctive construction 'wa annahu' at length in this verse. It might be of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
4 From this we know two things; (1) That these jinn were either from among the Christian jinn, or they were followers of a different religion in which Allah was regarded as having children and families. (2) That at that time the Holy Prophet (upon whom be peace) was reciting some such part of the Qur'an hearing which they realized the error of their creed and knew that it was sheer ignorance and impudence to ascribe wife and children to the High and Exalted Being of Allah.
Read the full tafseer →