Explained with ayahs 88–96
احوال موت
یہاں وہ احوال بیان ہو رہے ہیں جو موت کے وقت سکرات کے وقت دنیا کی آخری ساعت میں انسانوں کے ہوتے ہیں کہ یا تو وہ اعلیٰ درجہ کا اللہ کا مرقب ہے یا اس سے کم درج کا ہے جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا۔ یا بالکل بدنصیب ہے جو اللہ سے جاہل رہا اور راہ حق سے غافل رہا۔ فرماتا ہے کہ جو مقربین بارگاہ الٰہی ہیں، جو احکام کے عامل تھے، نافرمانیوں کے تارک تھے انہیں تو فرشتے طرح طرح کی خوشخبریاں سناتے ہیں۔ جیسے کہ پہلے براء کی حدیث گذری کہ رحمت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں اے پاک روح پاک جسم والی روح چل راحت و آرام کی طرف چل کبھی نہ ناراض ہونے والے رحمن کی طرف۔ روح سے مرد راحت ہے اور ریحان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
سورة الْوَاقِعَة 42
حضرت عقبہ بن عامر جہنی کی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کو تم لوگ اپنے رکوع میں رکھ دو ، یعنی رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کہا کرو۔ اور جب آیت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلیٰ نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں رکھو، یعنی سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ کہا کرو (مسند احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، ابن حبان، حاکم)۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز کا جو طریقہ مقرر فرمایا ہے اس کے چھوٹے سے چھوٹے اجزاء تک قرآن پاک کے اشاروں سے ماخوذ ہیں۔
Read the full tafseer →فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ ، ختم سورة پر نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے کہ آپ اپنے رب کے نام کی تسبیح پڑھتے رہئے، یعنی اس کی پاکی تمام ان چیزوں سے جو اس کے لائق شان ہیں بیان کرتے رہئے، اس میں نماز کی تسبیحات بھی داخل ہیں اور خارج نماز کی تسبیحات بھی اور خود نماز کو بھی بعض اوقات تسبیح سے تعبیر کردیا جاتا ہے تو یہ حکم نماز کے اہتمام کا بھی ہوگیا، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
تمت
سورة الواقعة بحمد اللہ وعونہ
لیلة الثلاثاء لعشرین من ربیع الثانی
س 1391 ھ ویتلوہ انشآء اللہ تعالیٰ سورة الحدید
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
(ان ھذا لھوحق الیقین فسبح باسم ربک العظیم) (95، 96) یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تلقین صبر و استقامت اور پیام تسلی ہے کہ جو باتیں اوپر بیان ہوئیں سب یقینی حقائق ہیں۔ ان میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے اگر تمہاری قوم کے لوگ نہیں مان رہے ہیں تو تم ان کو ان کے حال پر چھوڑو اور اپنے رب عظیم کی تسبیح کرو۔ اس تسبیح کے موقع و محل اور اس کے مفہوم پر آیت 74 کے تحت ہم بحث کرچکے ہیں۔ ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد للہ علی احسانہ۔ رحمان آباد۔ 24۔ اکتوبر 1977 ء۔ 11 ذوالقعدہ 1397 ھ
Read the full tafseer →96-1حدیث میں آتا ہے کہ دو کلمے اللہ کو بہت محبوب ہیں، زبان پر ہلکے اور وزن میں بھاری۔ سُبْحَان اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہِ سُبْحَان اللّٰہِ الْعَظِیْمِ (صحیح بخاری)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–96
24: کافر لوگ قرآن کریم پر ایمان لانے سے جو انکار کرتے تھے، اس کا ایک بڑا حصہ ان کا یہ دعوی تھا کہ ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں ہوں گے، جیسا کہ اسی سورت کی آیت نمبر 45 میں گزرا ہے، اللہ تعالیٰ اب اس طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ اتنی بات تو تم بھی مانتے ہو کہ اس دنیا میں جو کوئی آتا ہے ایک نہ ایک دن اسے موت ضرور آتی ہے، اور ایسی حالت میں آتی ہے کہ اس کے عزیز رشتہ دار، دوست احباب اور اس کے معالج ہر قسم کے جتن کر گزرتے ہیں کہ کسی طرح وہ موت سے بچ جائے، لیکن موت اس طرح آجاتی ہے کہ وہ سب دیکھتے رہ جاتے ہیں، سوال یہ ہے کہ اگر مرنے کے بعد دوسری زندگی میں حساب و کتاب ہونا نہیں ہے تو آخر ہر انسان کسی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
ان ھذا ............ العظیم (69) (6 5:5 9 تا 69) ” یہ سب کچھ قطعی حق ہے ، پس اے نبی اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ “
یہ آخری پر سوز تلقین ہے۔ سچائی کے پلڑے میں وزن ڈالا جاتا ہے۔ قلب مومن نے حق الیقین کرلیا ہے کہ واقعہ سچ ہے اور ہونے والا ہے۔ سورة ختم ہوتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے۔” رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو “ اور اسی سے نماز میں سبحان ربی العظیم جاری ہوا۔
Read the full tafseer →5 یعنی تسبیح وتحمید میں مشغول رہو کہ یہ ہی وہاں کی بڑی تیاری ہے اس نیک مشغلہ میں لگ کر مکذبین کی دل آزار بیہودہ گیوں سے بھی یکسوئی رہتی ہے اور ان کے باطل خیالات کا رد بھی ہوتا ہے۔ یہاں سورت کے خاتمہ پر جی چاہتا ہے کہ وہ حدیث نقل کردی جائے جس پر امام بخاری نے اپنی کتاب کو ختم فرمایا ہے۔ " عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ کَلِمَتَانِ خَفِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ۔ ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزَانِ حَبِیْبَتَانِ اِلَی الرَّحْمٰنِ سُبْحَان اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَان اللّٰہِ الْعَظِیمِ " تم سورة الواقعہ وللّٰہ الحمد والمنۃ۔
Read the full tafseer →آیت 96{ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ۔ } ”پس آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو کہ بہت عظمت والا ہے۔“
اس کے جواب میں امتثالِ امر کے طور پر کہا جائے گا : سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ ! یہ آیت اس سورت میں دو مرتبہ آئی ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور ﷺ نے فرمایا : اِجْعَلُوْھَا فِیْ رُکُوْعِکُمْ 1 1 سنن ابی داوٗد ‘ کتاب الصلاۃ ‘ باب ما یقول الرجل فی رکوعہ وسجودہ ‘ ح : 869 و صحیح ابن حبان ‘ ح : 1898۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح جب آیت { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی۔ } الاعلیٰ نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا : اِجْعَلُوْھَا فِیْ سُجُُوْدِکُمْ کہ اس کو تم لوگ اپنے سجدوں میں رکھ دو۔
کہ اس کو تم لوگ اپنے…
Read the full tafseer →44 تسبیح وتحمید کی فضیلت اور فوائد :۔ تسبیح وتحمید میں مشغول رہنا ہی آخرت کی سب سے بڑی تیاری ہے۔ اس نیک مشغلہ سے جھٹلانے والوں کی دل آزار بیہودگی سے بھی یکسوئی رہتی ہے اور ان کے باطل خیالات کا رد بھی ہوتا ہے اور سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ نے حکم دیا کہ اس کو تم لوگ اپنے رکوع میں رکھو یعنی (سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ ) پڑھا کرو اور جب سبح اسم ربک الاعلٰی نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں رکھو یعنی (سُبْحَانَ رَبِّیَ الاَعْلٰی) کہا کرو۔ (مسند احمد، ابو داؤد) گویا آپ نے نماز کا جو طریقہ مقرر فرمایا اس کے چھوٹے چھوٹے اجزاء بھی قرآن کریم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
38۔ (جس کی قدرت و حکمت کے یہ سارے تصرفات ہیں) (آیت) ” ھذا اشارہ مرنے والوں کے ان سہ گانہ درجات کی طرف ہے۔ یعنی ماذکر من قصۃ المحتضرین (معالم) (آیت) ” حق الیقین “۔ اس دہری تاکید سے مراد یہ ہے کہ یہ امر اس درجہ یقینی اور قطعی ہے کہ اس سے زیادہ تحقیق کی کوئی اور گنجائش ہی نہیں۔ ذلک نو تاکید قال ھذا من حق الحق وصواب الصواب اے غایتہ ونھایتہ التی لاوصول فوقہ (کبیر۔ عن ابن عطیۃ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–96
واما ان کان من المکذبین الضالین یہ تیسری قسم ہے جن کو آغاز سورت میں اصحاب المشئمۃ کہا گیا تھا، بائیں ہاتھ والے یا حاملین نحوست یہ اپنے کفر کی سزا عذاب جہنم کی صورت میں بھگتیں گے۔
Read the full tafseer →سو آپ اپنے عظیم الشان رب کی تسبیح کیجئے۔
فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّکَ : یعنی اپنے رب کی یاد کے ساتھ اور اس کے حکم کے مطابق نماز پڑھو یا یہ مطلب ہے کہ اس کے نام کے ذکر کے ساتھ ان باتوں سے اس کی پاکی بیان کرو جو ناشائستہ اور اس کی شان کے لائق نہیں یا (سادہ) مطلب یہ ہے کہ اپنے عظمت والے رب کی تسبیح کرو۔
رکوع اور سجود کی تسبیحات کے مسائل اور انکے متعلق احادیث اور اماموں کے اختلافات ہم اوپر ذکر کرچکے ہیں ‘ اعادہ بیکار ہے۔
حضرت ابن مسعود کا بیان ہے ‘ میں نے خود سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے جو شخص ہر شب سورة واقعہ پڑھے گا ‘ اس کو کبھی فاقہ نہیں ستائے گا ‘ واللہ اعلم (رواہ البغوی و ابو یعلی فی سندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
(95۔ 96) بیشک جو کچھ ذکر ہوا یہ یقینی بات ہے سو اپنے اس عظیم الشان پروردگار کے نام کی نماز پڑھیے جو کہ ہر ایک دیز سے بڑا ہے یا یہ کہ اس کی توحید بیان کیجیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِ۔۔۔۔۔:”حق“ موصوف ہے جو اپنی صفت ”الیقین“ کی طرف مضاف ہے۔ یعنی یہ ایسی ثابت شدہ بات اور ایسا سچ ہے جو یقینی ہے۔ ان دونوں آیات کے لیے دیکھئے سورة ٔ حاقہ کی آخری دو آیات کی تفسیر۔
Read the full tafseer →فسبح باسم ربک العظیم۔ اللہ تعالیٰ کی ہر عیب سے پاکی بیان کرو۔ باء زائدہ ہے یعنی اپنے رب کی پاکی بیان کرو۔ اسم سے مراد مسمی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اب اپنے رب کا ذکر کرتے ہوئے اور اس کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اس کی نماز پڑھیے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اپنے عظیم رب کے نام کا ذکر کیجئے اور اس کی تسبیح بیان کیجئے۔
حضرت عقبہ بن عامر سے مروی ہے جب فسبح باسم ربک العظیم۔ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” اسے اپنے رکوع میں رکھ لو “ اور جب سبح اسم ربک الاعلیٰ ۔ نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے اپنے سجدہ میں رکھ لو “ (1) اسے ابو دائودنے نقل کیا ہے۔
1 ؎۔ سنن ابی دائود، کتاب…
Read the full tafseer →رکوع اور سجدہ کی تسبییح
42۔ سعید بن منصور واحمد وابوداوٗد وابن ماجہ وابن حبان والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت ” فسبح باسم ربک العظیم “ نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا اس کو اپنے رکوع میں کرلو۔ اور جب آیت ” سبح اسم ربک الاعلی “ نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا اس کو اپنے سجدوں میں کرلو۔
43۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! ہم اپنے رکوع میں کیا کہیں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری جو سورة واقعہ کے آخر میں ہے (یعنی) آیت ” فسبح باسم ربک العظیم “ تو آپ نے ہم کو حکم فرمایا کہ ہم تین…
Read the full tafseer →فَسَبِّحْ : پس تو تسبیح کر ][ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ : اپنے رب کے عظیم نام کی ]
مورخہ 27 ۔ شعبان 1430 ھ بمطابق ۔ 19 اگست 2009 ء
Read the full tafseer →یہ آیت سورة الواقعہ کی آخری آیت ہے اس سے پہلا رکوع بھی انہیں الفاظ پر ختم ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں دنیاوی واخروی بیان کرنے اور کافروں کو تذکیر و تنبیہ فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ آپ اپنے رب کی تسبیح بیان کیجئے جو عظیم ہے ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہے اس کی طرف سے جو اخبار اور تبشیر ہے سب صحیح ہے یوں تو ہمیشہ ہی اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کی جائے اور اس کی حمدوثناء میں لگے رہیں۔ لیکن جن مواقع میں خصوصیت کے ساتھ تسبیح اور تحمید کا خصوصی اہتمام کرنے کو فرمایا ہے ان مواقع میں خاص طور سے اسکا خیال رکھنا چاہئے۔ حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ جب ﴿ فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ (رح)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
حقانیت قرآن کریم و اثبات وقوع یوم عظیم :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلااقسم بمواقع النجوم ....... الی ...... فسبح باسم رب العظیم “۔
(ربط) اس سے قبل حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت وخالقیت کے عظیم دلائل و شواہد ذکر فرماتے اور ان انعامات عظیمہ کو ظاہر فرمایا جو اس نے دنیا کی انسانوں پر فائض فرماتے اور ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مدار بنایا اب اس کے بعد قرآن کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مداربنایا اب اسکے بعد کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز قیامت کیسا عظیم دن ہے اور قیامت کے احوال کیسے ہولناک ہوں گے اور یہ کہ قیامت کے روز کس…
Read the full tafseer →33:۔ ” فسبح باسم ربک العظیم “ آخر میں دعوی سورت کا اعادہ ہے۔ برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں اسلیے برکت دینے میں اس کو شریکوں سے پاک سمجھو اور ہر قسم کے شرک سے اس کی پاکیزگی اور تنزیہ بیان کرو۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
سورة واقعہ میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات : ” فسبح باسم ربک العظیم دو مرتبہ۔
سورة واقعہ ختم ہوئی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
ربط آیات :
ساتویں منزل کے آغاز یعنی سورة قٓ سے لے کر سورة الواقعہ تک زیادہ تر جزائے عمل ہی کا بیان ہورہا ہے۔ تاہم ان سورتوں میں دین کے چاروں بنیادی اصول آگئے ہیں۔ کسی سورة میں ایک اصول نمایاں ہے تو دوسری میں دوسرا نمایاں ہے مثلاً کسی سورت میں توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تو کسی میں رسالت کا تذکرہ وضاحت کے ساتھ آگیا ہے۔ کہیں قرآن کی حقانیت و عظمت کا بیان زیادہ ہے تو کہیں وقوع قیامت اور جزائے عمل کا مضمون وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ گزشتہ درس میں قرآن کی صداقت وحقانیت کے متعلق فرمایا کہ یہ قرآن کریم ہے جو لوح محفوظ میں درج ہے اور اس کو صرف ظاہری اور باطنی طور…
Read the full tafseer →فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 96 ۧ
سبح
السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو نيّة، قال : فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–96
ترکیب : فروح جواب فاما جواب ان مستغنی عنہ بجواب اما وا التقدیر فلہ روح قراء الجمہور بفتح الراء وقریٔ بالضم فالفتح مصدر والضم اسم لہ وقیل بالفتح معناہ الراحۃ بالضم معناہ الرحمۃ مجازاً العلاقۃ السببیۃ لانھا کالسبب لحیوۃ المرحوم ریحاناصلہ ریوحان علیٰ فیعلان قلبت الواویاء وادغم ثم خفف مثل سیدو سیدوقیل ھو فعلان قلبت الواویاء دان سکنت والفتح ماقبلھا۔ (ابن الصائغ) تصلیۃ بالرفع عطفا علی نزل وبالجر عطفا علی صمیم حق الیقین ای حق خبرالیقین فالموصوف محذوف الصفۃ قائمۃ مقامہ۔
تفسیر : تینوں گروہوں کا بعد موت کے جو حال ہوتا ہے اس کو بیان فرماتا ہے یعنی جب کہ روح جسم کو چھوڑ کر دوسرے عالم میں جاتی ہے نیست و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
اِنَّ ھٰذَا لَھُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِ ۔ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّـکَ الْعَظِیْمِ ۔ (الواقعۃ : 95، 96)
(بےشک یہ سب کچھ قطعی حق ہے۔ تو اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ )
کفار کے لیے اتمامِ حجت
کفار کے لیے اتمامِ حجت ہے اور آنحضرت ﷺ کے لیے صبر و استقامت کی تلقین ہے کہ جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے اس کا ایک ایک حرف یقینی حقائق پر مشتمل ہے۔ اور اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ اور اگر مخالفین اس کا مذاق یا تمسخر اڑاتے ہیں اور ہر بات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے۔ اور زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کیجیے۔ اور اس سے پہلے اس کی وضاحت ہوچکی ہے۔
حضرت عقبیٰ بن عامر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–96
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت پر ایمان لانے اور اس کے تقاضے پورے کرنے والے مقربین میں شامل ہوں گے۔
مرنے والا قیامت پر یقین رکھنے اور اس کے تقاضے پورے کرنے والا ہوگا تو وہ اپنے رب کے مقرب بندوں میں شامل ہوگا، اس کے لیے ہر قسم کی راحت، ذائقہ دار خوراک اور نعمتوں والی جنت ہوگی اور یہ اصحاب الیمین میں ہوگا اور اس پر اس کے رب کی طرف سے ہمیشہ ہمیش کے لیے سلامتی ہوگی۔ اگر وہ قیامت کو جھٹلانے والوں اور گمراہ لوگوں میں ہوا تو اس کی کھولتے ہوئے پانی سے مہمان نوازی کی جائے گی اور اسے جہنم میں جھونکا جائے گا۔ ” اَصْحَابَ الْیَمِیْنِ “ کا انعامات پانا اور ” اَصَحَاب الشِّمَالِ “ کا جہنم میں جھونکا جانا برحق…
Read the full tafseer →96 : فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ (پس آپ اپنے عظیم الشان رب کی تسبیح کیجئے)
:
روایت میں ہے کہ عثمان بن عفان ؓ ، عبد اللہ بن مسعود ؓ کے پاس گئے۔ جبکہ وہ مرض وفات میں تھے۔ تو انہیں پوچھا کیا تکلیف ہے ؟ انہوں نے کہا میرے گناہ ہیں۔ نمبر 2۔ آپ کیا چاہتے ہیں ؟ ہم اس کو عطاء کرنے کا حکم کردیتے ہیں ؟ عبد اللہ نے جواب دیا مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ نمبر 3۔ اپنی بیٹیوں کو دے دینا۔ عبد اللہ کہنے لگے ان کو بھی اس کی ضرورت نہیں۔ اس لئے کہ میں نے ان کو سورة واقعہ پڑھنے کا کہہ رکھا ہے۔ اس لئے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ جس نے سورة واقعہ ہر رات پڑھ لی۔ اس کو کبھی فاقہ نہ آئے گا۔ (مسند ابو یعلی ورواہ…
Read the full tafseer →95 ۔” ان ھذا “ یعنی جو حاضر ہونے والوں کا قصہ ذکر کیا گیا ہے۔ ” لھو حق الیقین “ یعنی ” الحق الیقین “ اس کی اضافت اپنی ذات کی طرف کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
83۔ 96۔ اوپر ذکر تھا کہ جن لوگوں نے محض عقل سے حشر کا انکار کیا ہے اور اس انکار کے سبب سے عقبیٰ کا کچھ سامان وہ لوگ نہیں کرتے ‘ یہ ان لوگوں کی کمی عقل اور ان کی سمجھ کا فتور ہے کیونکہ عقلی تجربہ سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے ‘ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے دوسری دفعہ کا پیدا کرنا بہ نسبت پہلی دفعہ کے پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اور طرح ان لوگوں کو سمجھایا ہے کہ عقلی تجربہ سے حشر کے ہونے میں شک باقی نہ رہنے کے بعد اگر ان کے دل میں یہ وہم بس گیا ہے کہ یہ انتظام الٰہی جو ان لوگوں کو جتلایا اور بتایا گیا ہے کہ مرنے کے بعد پھر جینا ہوگا۔ اور سزا اور جزا ہوگی۔ اس انتظام میں جو بات ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
(اِنَّ ھٰذَا) یہ سب کچھ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے مثلا بندوں کے اچھے برے اعمال کی جزا وسزا، اور اس کی تفاصیل ( لَهُوَ حَقُّ الْيَقِيْنِ ) بلاشبہ یہی مذکور حق الیقین ہے۔ یعنی اس میں کوئی شک وشبہ نہیں۔ بلکہ یہ ثابت شدہ حق ہے جس کا وقوع لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے اس پر قطعی دلائل پیش کیے ہیں اور اسکی حیثیت خرد مندوں کے نزدیک ایسے ہے گویا کہ وہ اس کا ذائقہ چکھ رہے ہوں اور اس کی مشاہدہ کررہے ہوں پس انہوں نے اس امر پر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی کہ اس نے ان کو اس عظیم نعمت اور اتنی بڑی عنایت سے مختص کیا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–96
قرآن کو پاکبازوں کے علاوہ کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا
قول باری ہے (انہ لقراٰن کریم فی کتاب مکنون لا یمسہ الا المطھرون یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے ایک محفوظ کتاب میں ثبت جسے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا بجز پاک لوگوں کے) حضرت سلیمان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ قرآن کو پاک لوگوں کے سوا کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ “ پھر انہوں نے قرآن کی تلاوت کی لیکن مصحف کو ہاتھ نہیں لگایا کیونکہ وہ باوضو نہیں تھے۔
حضرت انس ؓ بن مالک نے حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے کے واقعہ کے سلسلے میں روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اپنی بہن سے کہا کہ ” مجھے وہ کتاب دو جسے تم لوگ پڑھتے ہو۔ “ بہن نے جواب دیا : ” عمر ! تم ناپاک ہو اور اس کتاب کو پاک…
Read the full tafseer →[ 82] اپنے رب کے نام کی تسبیح کا حکم و ارشاد :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ پس آپ تسبیح کرو اپنے رب کے نام کی جو کہ بڑا ہی عظیم ہے کہ وہ پاک ہے ہر نقص و عیب سے اور ہر شک اور شرک کے شائبے سے، نیز وہ پاک ہے اس سے کہ اس نے اس کائنات کو یونہی بےمقصد پیدا کر لیاہو فسبحان اللّٰہ وبحمدہ و سبحان اللّٰہ العظیم، سو رب کے نام پاک کی تسبیح ایک تو اس کے حق بندگی کا تقاضا ہے اور دوسری طرف یہ راہ حق میں صبر و استقامت سے سرفرازی کا ذریعہ وسیلہ بھی ہے، پس منکرین و مکذبین اگر نہیں مانتے تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور اپنے سے لو لگائے رکھو، اور اسی کی تسبیح و تمہید میں مشغول رہا کرو کہ سب کچھ اسی وحدہٗ لاشریک کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
زندگی کا فائدہ اٹھاؤ اور آخرت کماؤ
تشریح : پورا قرآن پاک ہی حکمت و دانائی سے بھرا پڑا ہے۔ اسی طرح یہ آیات بھی معرفت الہٰی کو واضح کرنے اور توحید کے مطلب کو واضح کرنے کے لیے دلیل دے رہی ہیں۔ اللہ کی حاکمیت، وحدانیت، عظمت و طاقت اس وقت ہر جاہل و عالم پر پوری طرح عیاں ہوجاتی ہے جب وہ اپنے سامنے اپنے عزیز رشتہ دار اور دوست احباب کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اس وقت بالکل بےبس ہوتے ہیں کیونکہ یہ معاملہ صرف اس بندے اور اس کے خالق کا ہوتا ہے۔ پھر اس کے مرجانے کے بعد کا تمام معاملہ بھی خالق اور اس کے درمیان ہوتا ہے جیسا کہ آیات 88 سے 96 تک بیان کیا گیا ہے۔ اللہ کی وحدانیت اور اللہ کی قربت حاصل کرنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
آیات 75 تا 96
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ستاروں کے ڈوبنے کی اور اگر غورفکر کروتویہ سارانظام اس بات پر گواہ ہے کہ جس قادر مطلق نے ان کا غروب نئے طلوع کے لیے اور انہیں راہنمائی کا باعث بنادیا ہے اور دنیا کی آبادی کا باعث بن رہے ہیں اسی نظام کے بنانے والے نے ایمان وعمل میں ہدایت کے لیے قرآن نازل فرمایا ہے اور یہ قرآن بہت ہی عزت والا ہے جو ایک خزانے جیسے کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جسے سوائے پاکیزہ لاگوں کے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا اس کے مضامین پڑھ نہیں سکتا یعنی اللہ کے پاک فرشتے اس کے مضامین سے مطلع ہوتے ہیں اور فرشتہ وحی لاتا ہے شیطان اس کے مضامین کے قریب بھی نہیں جاسکتا۔
مس قرآن اور طہارت۔
اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–96
ف 7 حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر آیت فسبح باسم ربک العظیم نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا :” اسے اپنے رکوع میں پڑھا کرو۔ “ اور جب ’ دسبح اسم ربک الاعلیٰ نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا ” اسے اپنے سجدہ میں پڑھا کرو۔ “ (شوکانی)
Read the full tafseer →(56:96) فسبح :ترتیب کا ہے سبح فعل امر واحد مذکر حاضر تسبیح (تفعیل) مصدر۔ تو تسبیح بیان کر۔ تو پاکی بیان کر۔ تسبیح اصل میں ہر اس چیز سے جو اس کے کمال و جلال کے شایان شان نہیں پاکی ہے۔
باسم میں ب کو اسم پر جو کہ مفعول ہے داخل کیا گیا۔ حالانکہ فعل فسبح بذات خود فعل متعدی ہے۔ اور اس کے بغیر عبارت فسبح اسم ربک العظیم کے بھی وہی معنی ہیں جو فسبح باسم ربک العظیم کے ہیں۔ اس کی وضاحت قرآن مجید کی اس آیت سے ہوتی ہے سبح اسم ربک الاعلی (87:1) اپنے پروردگار کے نام کی تسبیح کرو۔
لیکن مفعول پر ب تعدیہ کا داخل کرنا قرآن مجید میں اکثر آیا ہے۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے وھزی الیک بحذح النخلۃ (19:25) اور کھجور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 96
لا اقسم نہیں، میں قسم کھاتا ہوں۔ مکنون محفوظ المطھرون پاک و صاف رہنے والے۔ مدھنون سستی کرنے والے غیر مدینین حساب ہونے والا نہیں۔ روح راحت و آرام ریحان عیش و آرام کا سامان۔ تصلیہ ڈال دینا۔ حق الیقین سچائی کا پورا یقین۔
تشریح :- آیت نمبر 75 تا 96
کفار قریش اس بات کو خوب اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی مقناطیسی اور مقبول و محبوب شخصیت اور قرآن کریم کے ابدی اصولوں کی سچئای اور کلام کی عظمت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے لیکن کفار مکہ رسول دشمنی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ آپ کو اور آپ کی سیرت کو زندگی بھر بہت قریب سے دیکھنے اور اس کا اعتراف کرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
روح نکلنے کا ذکر۔
(ف 1) اوپر ذکر تھا کہ جن لوگوں نے محض عقل سے حشر کا انکار کیا ہے اور اس کا انکار کے سبب سے عقبی کا کچھ سامان وہ لوگ نہیں کرتے یہ ان لوگوں کی کم عقلی اور ان کی سمجھ کا فتور ہے۔ کیونکہ عقلی تجربہ سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دوسری دفعہ کا پیدا کرنا بہ نسبت پہلی دفعہ پیدا کرنے کے زیادہ آسان ہے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اور طرح ان لوگوں کو سمجھایا کہ عقلی تجربہ سے حشر کے ہونے میں شک باقی نہ رہنے کے بعد ، اگر ان کے دل میں یہ وہم بس گیا ہے کہ یہ انتظام الٰہی جو ان لوگوں کو جتلایا اور بتلایا گیا ہے کہ مرنے کے بعد پھر جینا ہوگا اور سزا اور جزا ہوگی، اس انتظام میں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–96
[20] کہ یہی آخرت کی بڑی تیاری ہے اور اس نیک مشغلے میں لگ کر مکذبین کی دل آزار بیہودگیوں سے بھی یکسوئی رہتی ہے اور ان کے باطل خیالات کا رد بھی ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
ف 1: ان آیات میں موت کے بعدزندگی کی تشریح فرمائی ہے ۔ کہ اگر مرنے والا اللہ کے مقربین میں سے ہے ۔ تو پھر اس کو بالکل بےخوف وخطر رہنا چاہیے ۔ اس کے لئے وہاں کامل مسرت اور بہترین زندگی ہے ۔ اور جنت ہے ۔ جو بجائے خود ضامن ہے ۔ ہر فلاح وسعادت اور آسودگی ونعمت کی ۔ اور اگر اس سے ذرا کم درجے میں ہے ۔ تو بھی چونکہ فرمانبرداروں اور اطاعت شعاروں میں ہے ۔ اس لئے بھی ہر خوف وہراس سے سل امتی ہے ۔ اور اگر ان لوگوں میں سے ہے ۔ جنہوں نے دنیا میں حق وصداقت کے پیغام کو ٹھکرایا ۔ اور اپنے لئے گمراہی اور ضلالت کی راہوں کو تجویز کیا ہے ۔ تو پھر خبر نہیں ہے ۔ ان لوگوں پر اللہ کا غضب ہوگا ۔ کھولتے ہوئے پانی اور…
Read the full tafseer →(96) سوائے پیغمبر آپ اپنے عظیم الشان پروردگار کے نام کی پاکی بیان کیجئے۔
حدیث میں ہے فرمایا رسول خدا ﷺ نے جو شخص ہر رات میں سورة واقعہ پڑھ لیا کرے گا اس کو فاقے کی تکلیف کبھی نہیں ہوگی۔
حدیث میں ہے دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے میزان میں بھاری اور رحمان کو محبوب ہیں وہ دونوں کلمے سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ہیں
تم تفسیر سورة الواقعۃ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–96
ف 5۔ مطلب یہ کہ قرآن صادق ہے، اور وہ وقوع بع کا ناطق ہے، پس مقتضی وقوع متحقق ہوا، اور مانع کوئی امر ہے نہیں، پس وقوع ثابت ہوگیا، اور اس پر بھی تمہارا انکار اور نفی کئے چلا جانا بدلالت حال اس کو مستلزم ہے، کہ گویا تم روح کو اپنے بس میں سمجھتے ہو کہ گو قیامت میں خدا دوبارہ روح ڈالنا چاہئے جیسا مقتضا قرآن کا ہے، مگر ہم نہ ڈالنے دیں گے اور بعض نہ ہونے دیں گے جب ہی تو ایسی زور سے نفی کرتے ہو، ورنہ جو اپنے کو عاجز جانے وہ دلائل وقوع کے بعد ایسے زور کی بات کیوں کہے۔
Read the full tafseer →آپ اپنے عظم والے رب کی پاکیزگی بیان کرتے رہیں
69 ۔ اسی آیت پر اس سورت کا اختتام ہو رہا ہے اور نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے آپ ﷺ کی امت کے ہر داعی کو اپنے مؤقف حق پر ڈٹے رہنے کی تلقین کی جارہی ہے اور اس تلقین میں مزید واضح کیا جا رہا ہے کہ جہاں تک دلائل حق کا تعلق ہے وہ آپ ﷺ ہی کے پاس ہیں اگرچہ لوگوں کو ان کا رواج اس حق کو سچے دل کے ساتھ قبول کرنے سے روک رہا ہے لیکن آپ اپنے رب کی تسبیح وتحمید کے گیت گاتے رہیں کون سنتا ہے اور کون نہیں سنتا آپ کی صدا پہنچ رہی ہے زیر نظر آیت اس سورت کی آیت 47 کے طور پر بھی گزر چکی ہے اس لیے مزید وضاحت چاہتے ہوں تو آیت 47 کی تفسیر ایک بار پھر دیکھ لیں اور اس…
Read the full tafseer →فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ (So, proclaim the purity of the name of your Lord, the Magnificent... 56:96). The Surah concludes with an imperative addressed to the Messenger of Allah ﷺ to pronounce the tasbih of His Lord. This includes all kinds of tasbihat (rememberances)- within salah and outside salah. Salah itself is sometimes referred to as tasbih. Thus this verse enjoins to keep up the regular performance of salah.
Al-hamdulillah
The Commentary on
Surah Al-Waqi` ah
Ends here.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
42 Hadrat `Uqbah bin `Amir Juhni relates that when this verse was sent down the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) commanded that the people put it in their ruku`, i.e. they should recite Subhana Rabbi -yal-`Azim in ruku ' position in the Prayer. And when the verse Sabbih-ismi-Rabb-i- kal-A'la was Sent down, he enjoined that they put it in their sajdah, i.e. they should recite Subhana Rabb-i -yal-A 7a in sajdah. (Musnad Ahmad, Abu Da'ud, Ibn Majah, Ibn Hibban, Hakim). This show that even the most minor details of the procedure enjoined by the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace)…
Read the full tafseer →