56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 56:1

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 56:1 in the Quran reader

جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے

(اذا وقعت الواقعۃ۔۔۔۔۔۔۔ ) 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 445 2 ؎۔ کنز العمال، جلد 1، صفحہ 582، حدیث : 2640 اذا وقعت الواقعۃ۔ جب قیامت برپا ہوگی۔ مراد دوسرا نفخہ ہے اسے واقعہ کا نام دیا کیونکہ یہ قریب ہی وقت میں واقع ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا : اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ اس میں بہت سی مشکلات واقع ہوں گی۔ اس میں اضمار ہے یعنی یاد کرو اس وقت کو جب واقعہ ہونے والی واقع ہوگی۔ جرجانی نے کہا : اذازائد ہے مراد ہے قیامت برپا ہوگی جس طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے : اقتربت الساعۃ (القمر : 1) اتی امر اللہ (النحل :) جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے : قد جاء الصوم یعنی روزے قریب آگئے پہلی تعبیر کی صورت میں اذا وقت کے لیے ہے اس کا جواب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : فاصحب المینۃ ما اصحب المینۃ۔ ( الواقعہ)
Ayah 56:2

لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ Open ayah 56:2 in the Quran reader

اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں

لیس لو قعتھا گا ذبۃ۔ گا ذبۃ مصدر ہے یہ کذب کے معنی میں ہے عرب بعض اوقات اسم فاعل اور اسم مفعول کے صیغے کو مصدر کی جگہ رکھتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لا تسمع فیھا لا غیۃ۔ ( الغاشیہ) لاغیۃ، لغو کے معنی میں ہے۔ یعنی اس میں کوئی جھوٹ سنائی نہیں دے گا : یہ کسائی کا قول ہے اس معنی میں عام لوگوں کا قول ہے عائذ باللہ۔ یہ معاذ اللہ کے معنی میں ہے۔ قم قائما، قم قیاما کے معنی میں ہے ایک عربی عورت بچے سے دل لگی کرتی ہے۔ قم قائما قم قائما اٹھ کھڑے ہوا اٹھ کھڑے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : گا ذبۃ صفت ہے اس کا موصوف محذوف ہے تقدیر کلام یہ ہوگی لیس لوقعتھا حال کا ذبۃ او نفس کا ذبۃ یعنی جو بھی اس کے واقعہ ہونے کے بارے میں خبر دے رہا ہے وہ سچا ہے۔ زجاج نے کہا : لیس لو قعتھا گا ذبۃ کا معنی ہے اسے کوئی چیز رد نہیں کرتی۔ اس کی مثل حضرت حسن امری اور قتادہ کا قول ہے۔ ثوری نے کہا : اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی اس کا نہیں جھٹلائے گا۔ کسائی نے کہا : مراد ہے مناسب یہ ہے کہ کوئی بھی اس کو نہ جھٹلائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا قیام یقینی ہے یہ کوئی ہنسی مذاق نہیں۔
Ayahs 56:3–5

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ Open ayah 56:3 in the Quran reader

کسی کو پست کرے کسی کو بلند

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ Open ayah 56:4 in the Quran reader

جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے

وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ Open ayah 56:5 in the Quran reader

اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں

خافضۃ رافعۃ۔ عکرمہ، مقاتل اور سدی نے کہا : مفہوم یہ بنتا ہے خفت الصت فاسمعت من ونا و رفعت فاسمعت من نای۔ یعنی اس نے قریب اور بعید کو آواز سنائی (1) ۔ سدی نے کہا : اس نے متکبرین کو پست کیا اور کمزوروں کو بلند کیا۔ قتادہ نے کہا : اس نے کچھ قوموں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب میں پست کیا اور کچھ قوموں کو اللہ تعالیٰ کی طاعت کی طرف بلند کیا۔ حضرت عمربن خطاب ؓ نے کہا : اس نے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو جہنم میں پست کیا اور اولیاء اللہ کو جنت میں بلند کیا (2) ۔ محمد بن کعب نے کہا : اس نے ان لوگوں کو پست کیا جو دنیا میں بلند تھے اور اس نے ایسی قوموں کو بلند کیا جو دنیا میں پست تھے۔ ابن عطاء نے کہا : اس نے کچھ لوگوں کو عدل کے ذریعے پست کیا اور دوسروں کو فضل کے ذریعے بلند کیا۔ خفض رفع کا لفظ عربوں کے ہاں مکان، مرتبہ، عزت اور ذلت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خفض اور رفع کی نسبت کی طرف ہے۔ 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5 صفحہ 446 2 ؎۔ ایضاً یہ بطور مجاز ہے جس طرح عربوں کی عادت ہے کہ وہ فعل کی نسبت محل زمان اور دوسری چیزوں کی طرف کردیتے ہیں جن سے فعل حقیقت میں واقع نہیں ہوتا۔ وہ کہتے ہیں لیل نائم، نھار صائم۔ قرآن کریم میں ہے بل مکر الیل والنھار ( سبا : 33) حقیقت میں بلند کرنے والا اور پست کرنے والا اللہ واحدہٗ لا شریک ہے اس نے اپنے اولیاء کو اعلیٰ درجات میں بلند کیا اور اس نے اپنے دشمنوں کو سب سے نچلے درجے میں پست کیا۔ حضرت حسن بصری اور عیسیٰ ثقفی نے پڑھا خافضۃ رافعۃً یعنی منصوب پڑھا ہے (1) باقی قراء نے اسے مرفوع پڑھا ہے اس صورت میں مبتداء محذوف ہوگا۔ جس نے اسے نصب دی ہے تو حال ہونے کی حیثیت میں نصب دی۔ فراء کے نزدیک یہاں فعل مضمر ہوگا، معنی ہوگا وقعت خافضۃ رافعۃً قیامت کے وقوع میں کوئی شک نہیں یہ بعض لوگوں کو بلند کرے گی اور بعض کو پست کرے گی جس طرح ہم نے بیان کیا ہے۔ اذا رجت الارض رجا۔ جب زمین میں زلزلہ برپا ہوگا اور اس میں حرکت ہوگی : مجاہد اور دوسرے علماء سے یہی مروی ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : رجہ یرجہ رجا اسے حرکت دی اور اس میں زلزلہ برپا کیا۔ ناقۃ رجاء ایسی اونٹنی جس کی کوہان بڑی ہو۔ حدیث طیبہ میں ہے ” جو آدمی سمندر پر اس وقت سوار ہوا جب وہ موجزن تھا تو اس کی کوئی ضمانت نہ ہوگی “۔ (2) کلبی نے کہا : اس کی وجہ یہ ہوگی جب اللہ تعالیٰ زمین کی طرف وحی کرے گا تو اللہ تعالیٰ سے خوف کی وجہ سے وہ مضطرب ہوگی۔ مفسرین نے کہا : وہ اس طرح مضطرب ہوگی جس طرح بچہ پنگھوڑے میں مضطرب ہوتا ہے یہاں تک کہ جو کچھ اس کے اوپر ہوگا وہ گر جائے گا اور پہاڑ وغیرہ جو اس کے اوپر ہوگا وہ ٹوٹ پھوٹ جائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : رجہ سے مراد شدید حرکت ہے جس کی آواز سنی جائے گی۔ اذا، اذا وقت کا بدل ہونے کی حیثیت سے منصوب ہوگا۔ یہ بھی جائز ہے کہ وہ خافصۃ رافعۃ۔ کی وجہ سے منصوب ہو، یعنی جب زمین میں زلزلہ بر پا ہوگا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو اس وقت یہ کچھ کو پست کرے گی اور کچھ کو بلند کرے گی کیونکہ اس موقع پر جو بلند ہوگا وہ پست ہوجائے گا اور جو پست ہوگا وہ بلند ہوجائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب زمین میں زلزلہ برپا ہوگا تو قیامت برپا ہوجائے گی یہ زجاج اور جرجانی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تقدیر کلام یہ ہے اذکر اذا رجت الارض رجا، رجا مصدر یہ اس امر پر دلیل ہے کہ زلزلہ دوبارہ واقع ہوگا۔ وبست الجبال بسا۔ یعنی پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے : یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ مجاہد نے کہا : جس طرح آٹے کو گھٹی سے لت پت کیا جاتا ہے بسیہ سے مراد ستو یا آٹا ہے جسے گھی یا تیل سے لت پت کیا جاتا ہے پھر اسے کھایا جاتا ہے اسے پکایا نہیں جاتا۔ بعض اوقات اسے زادراہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ راجز نے کہا : لا تخبز اخیز وبسابسا تم دونوں روٹی نہ پکائو اسے گھی سے لت پت کر دو ۔ ابو عبید نے یہ ذکر کیا ہے یہ غطفان کا ایک چور تھا اس نے روٹی پکانے کا ارادذہ کیا اسے خوف ہوا کہ وقت کم ہے تو اس نے آٹا ہی کھالیا۔ مطلب یہ ہے انہیں خلط ملط کیا گیا تو وہ اس آٹے کی طرح ہو گئے 1 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ 239 2 ؎۔ کنز العمال، جلد 15، صفحہ 582، حدیث 41371 جسے پانی کے ساتھ ملایا گیا ہو یعنی پاڑ مٹی ہوجائیں گے اور بعض کو بعض سے ملا دیا جائے گا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : بست کا معنی ہے انہیں جڑ سے اکھیڑ دیا جائے گا تو وہ جہنم ہوجائیں گے : اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ینسقھاربی نسقا۔ (طہٰ ) عطیہ نے کہا : انہیں پھیلا دیا جائے گا جس طرح ریت اور مٹی ہوتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ابتس سے مراد چلانا ہے یعنی پہاڑوں کو چلایا جائے گا۔ ابو زید نے کہا : سب سے مراد ہانکنا ہے قد بست الابل ابسھا بسا میں نے اونٹوں کو ہانکا۔ ابو عبید نے کہا : بست الابل، ابست یہ دونوں لغتیں ہیں جب تو ان کو جھڑکے اور تو انہیں کہے بس بس حدیث طیبہ میں ہے یخرج قوم من المدینۃ الی الیمن والشام والعراق یبسون والمدینۃ خیر لھم لوکانو یعلمون (1) اس معنی میں ایک اور حدیث ہے جا حکم اھل الیمن یبسنون عیالھم (2) اہل یمن تمہارے پاس آئے جب کہ وہ اپنے عیال کو ہانک رہے ہیں۔ عرب کہتے ہیں : حی بہ من حسک وبسک ابو زید نے دونوں کو کسرہ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ من حسک کا معنی ہے جہاں سے تو نے اس کا احساس کیا۔ من بسک جہاں سے اسے تیرا چلنا پہنچا۔ مجاہد نے کہا : معنی ہے وہ بہہ پڑے۔ عکرمہ نے کہا : انہیں گرایا گیا۔ محمد بن کعب نے کہا : انہیں چلا گیا : اسی معنی میں اغلب کا عجلی کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : انہیں کاٹ دیا گیا۔ معنی قریب قریب ہے۔
Ayah 56:6

فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ Open ayah 56:6 in the Quran reader

پھر غبار ہو کر اڑنے لگیں

فکانت ھبا مبثا۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : ھباء منبث سے مراد وہ غبار ہے جو چو پائوں کے کھروں سے پھیلتا ہے پھر ختم ہوجاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو اس طرح بنایا ہے (3) مجاہد نے کہا : ھباء سے مراد وہ شعاع ہے جو روشن دان میں ہوتی ہے جس طرح غبار کی کیفیت ہوتی ہے (4) اس کی مثل حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ ان سے بھی مروی ہے : جب آگ میں حرکت ہوتی ہے تو اس سے جو شرارے اڑے ہیں جب وہ کسی جگہ واقع ہوتے ہیں تو کچھ بھی نہیں ہوتے (5) یہ عطیہ کا قول ہے۔ سورة فرقان میں ” وقد منا الی ما عملو من عمد فجعلنہ ٗ ھبا منثورا۔ میں گزر چکا ہے۔ عام قرأت منبثا ثاء مثلثہ کے ساتھ ہے۔ مراد ہے متفرق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وَبَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ “ (البقرہ : 164) یعنی اسے بکھیر دیا۔ مسروق، نخعی اور ابو حیوہ نے منبتا پڑھا ہے (6) جس کا معنی منقطع ہے یہ عربوں کے اس قول سے مآخوذ ہے : بتہ اللہ تعالیٰ نے اس کو قطع کردیا۔ اس معنی میں بتات ہے۔
Ayahs 56:7–9

وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ Open ayah 56:7 in the Quran reader

اور تم لوگ تین قسم ہوجاؤ

فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 56:8 in the Quran reader

تو داہنے ہاتھ والے (سبحان اللہ) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی چین) میں ہیں

وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 56:9 in the Quran reader

اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (گرفتار عذاب) ہیں

(وکنتم ازواجا ثلثۃ۔۔۔۔۔۔ ) 1 ؎۔ موطا امام مالک، کتاب الجامع، ما جاء ل سکنی المدینۃ والطروج، منھا، صفحہ 696 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 447 4 ؎۔ ایضاً 5 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ 239 6 ؎۔ ایضاً وکنتم ازواجا ثلثۃ۔ یعنی تین قسمیں۔ ہر قسم اس کے ہم مثل ہوگی جو اس میں سے ہے جس طرح زوج زوجہ کے ہم مثل ہوتا ہے پھر وضاحت کی کہ وہ کون ہیں تو فرمایا فا صحاب الیمین، اصحاب الشئمۃ، سابقون۔ اصحاب میمنہ وہ ہیں جن کو دائیں جانب سے پکڑ کر جنت کی طرف لے جایا جائے گا، اصحاب مثئمہ وہ ہیں جن کو بائیں جانب سے پکڑ کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا، یہ سدی کا قول ہے (1) مثامہ کا معنی بایاں اسی طرح شامہ ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے قعدفلان شامۃ فلاں بائیں جانب بیٹھا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : یا فلاں شائم با صحابک یعنی ان کی بائیں جانب بیٹھو۔ عرب بائیں ہاتھ کو شومی کہتے اور بائیں جانب کو شمال کہتے۔ اسی طرح جو چیز دائیں جانب سے آتی ہے اسے یمن اور جو بائیں جانب سے آئی شومی کہتے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور سدی نے کہا : اصحاب میمنہ سے مراد وہ ہیں جو حضرت آدم (علیہ السلام) کی دائیں جانب تھے جب آپ کی اولاد کی پشت سے نکالی جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا : یہ جنت میں ہیں مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ زید بن اسلم نے کہا : اصحاب میمنہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس روز حضرت آدم (علیہ السلام) کی دائیں جانب سے نکالے گئے اور اصحاب مشمئہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو حضرت آدم (علیہ السلام) کی بائیں جانب سے نکالے گئے۔ عطاء اور محمد بن کعب نے کہا : اصحاب میمنہ سے مراد وہ ہیں جن کو کتاب ان کے دائیں ہاتھ میں دی گئی اور اصحاب مشمئہ سے مراد وہ ہیں جن کو کتاب ان کے بائیں ہاتھ میں دی گئی (2) ابن جریج نے کہا : اصحاب میمنہ سے مراد نیکیوں والے ہیں اور اصحاب مشمئہ سے مرادبرائیوں والے ہیں (3) حسن اور ربیع نے کہا : اصحاب میمنہ سے مراد وہ ہیں جو اعمال صالحہ کرنے کی وجہ سے اپنی ذاتوں کے لیے مبارک ہوئے اور اصحاب مشمئہ سے مراد وہ ہیں جو قبیح اعمال کے ساتھ اپنے لیے منحوس ہوئے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو ذر سے حدیث اسراء میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جب ہم آسمان دنیا پر بلند ہوئے تو وہاں ایک شخصیت تھی جس کی دائیں جانب خلقت تھی اور اس کی بائیں جانب خلقت تھی۔ جب اپنی دائیں جانب دیکھتی تو ہنستی اور جب اپنی بائیں جانب دیکھتی تو رو دیتی۔ اس نے کہا : نبی صالح اور ابن صالح کو خوش آمدید۔ میں نے کہا : اے جبریل ! یہ کون ہے ؟ اس نے کہا : یہ حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں ان کی دائیں جانب اور ان کی بائیں جانب یہ سائے ان کی اولاد کی روحیں ہیں دائیں جانب والے جنتی اور بائیں جانب والے جہنمی ہیں (4) ۔ حدیث کو ذکر کیا۔ مبرد نے کہا : اصحاب میمنہ سے مراد آگے بڑھنے والے ہیں اور اصحاب مشمئہ سے مراد پیچھے رہ جانے والے ہیں۔ عرب کہتے ہیں : اجعلنی فی بینک ولا تجعلنی فی شمالک مجھے آگے والوں میں سے بناء اور مجھے پیچھے رہ جانے والوں میں نہ بنا۔ ما اصحب المیمنۃ۔ اور ما اصحب المشمۃ۔ 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 448 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ ایضاً 4 ؎؎۔ صحیح مسلم، کتاب الایمان، الاسراء ہر سول اللہ۔ یمعا الی السموات، جلد 1 صفحہ، 93۔ 92 میں تکرار، تفخیم اور تعجب کے اظہار کے لیے ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے الحاقۃ۔ ما القحاقۃ۔ ( الحاقہ) القارعۃ۔ ما القارعۃ۔ (القارعۃ) جس طرح کہا جاتا ہے : زید ما زید، ام زرع ؓ کی حدیث میں ہے : مالک وما مالک مقصود اصحاب میمنہ کے لیے ثواب کی کثرت کا اظہار ہے اور اصحاب مشئمہ کے لیے عقاب کی کثرت کا اظہار ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اصحاب مبتداء اور خبر کی حیثیت سے مرفوع ہے۔ ما اصحب المیمنۃ۔ گویا یوں کلام کی ما اصحب المینہ ما ھم معنی ہے وہ کیا ہے ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ جائز ہے کہ ما تاکید کے لیے ہو۔ معنی ہے وہ لوگ جن کو ان کی کتاب ان کے دائیں ہاتھ میں دی جائے گی وہ آگے بڑھنے والے اور بلند مرتبہ والے ہیں۔
Ayah 56:10

وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ Open ayah 56:10 in the Quran reader

اور جو آگے بڑھنے والے ہیں (انکا کیا کہنا) وہ آگے ہی بڑھنے والے ہیں

والسبقون السبقون۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے فرمایا :” سابقون وہ ہیں جب انہیں حق دیا گیا تو انہوں نے اسے قبول کیا جب ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کو خرچ کیا اور انہوں نے لوگوں کے لیے وہی فیصلہ کیا جو انہوں نے اپنے لیے فیصلہ کیا “ (1) یہ مہدوی نے ذکر یا۔ محمد بن کعب قرظی نے کہا : وہ انبیاء ہیں (2) ۔ حضرت حسن بصری اور قتادہ نے کہا : مراد ہر امت میں سے ایمان کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں : اس کی مثل عکرمہ سے مروی ہے۔ محمد بن سیرین نے کہا : مراد وہ صحابہ ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی (3) اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ” وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ “ ( التوبہ : 100) مجاہد وغیرہ نے کہا ہے : مراد جہاد کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں اور نماز کی طرف سب سے پہلے جانے والے ہیں۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : مراد پانچوں نمازوں کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں۔ ضحاک نے کہا : جہاد کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں۔ سعد بن جبیر نے کہا : توبہ اور نیکی کے اعمال کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ “ ( آل عمران : 133) پھر ان کی تعریف کی اور فرمایا :” اولیک یسرعون فی الخیرت وھم لھا سبقون۔ “ ( المومنون) ایک قول یہ کیا گیا : وہ چار ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت میں سے سبقت لے جانے والا۔ وہ حضرت جزقیل ہیں جو آل فرعون میں سے مومن تھا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی امت میں سے سبقت لے جانا والا۔ وہ حبیت نجار ہے وہ صاحب انطاکیہ تھا۔ حضرت محمد ﷺ کی امت میں سے سبقت لے جانے والے یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اے ماوردی نے بیان کیا ہے (4) شمیط بن عجلان نے کہا : وہ تین قسم کے لوگ ہیں (1) جس نے اپنی ابتدائی عمر میں ہی بھلائی کی طرف جلدی کی اس پر دوام اختیار کیا یہاں تک کہ دنیا سے چلا گیا یہی سابق مرب ہے (2) ایسا آدمی جس نے ابتداء میں گناہ کیے پھر طویل غفلت میں رہا پھر توبہ کی یہاں تک کہ اس پر اس کا خاتمہ ہوا یہ اصحاب یمین میں سے ہے (3) ایسا آدمی جس نے ابتدائی عمر میں گناہ شروع کردیئے پھر اسی پر کار بند رہا یہاں تک کہ اس پر اس کا خاتمہ ہوا یہ اصحاب شمال میں سے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد تمام وہ لوگ ہیں جنہوں نے کسی صحیح امر کی طرف جلدی کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : الشبقون یہ مبتداء ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے دوسرا سابقون اس کی تائید ہے اس کی خبر 1 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ 240 2 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 448 3 ؎۔ ایضاً 4 ؎۔ ایضاً
Ayahs 56:11–12

اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ Open ayah 56:11 in the Quran reader

وہی (خدا کے) مقرب ہیں

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 56:12 in the Quran reader

نعمت کی بہشتوں میں

اولیک المقربون۔ زجاج نے کہا : السبقون مبتداء ہے دوسرا سابقون اس کی خبر ہے معنی ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں اولیک المقربون۔ ان کی صفت۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب سابقین مقربین میں سے کوئی جنت میں اپنی منزل سے نکلے گا تو اس کی اتنی روشنی ہوگی جسے اس سے کم مرتبہ کے لوگ پہچان لیں گے۔
Ayahs 56:13–14

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:13 in the Quran reader

وہ بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہوں گے

وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:14 in the Quran reader

اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے

(ثلۃ من الاولین۔۔۔۔ ) ثلۃ من الاولین۔ گزری ہوئی امتوں میں سے ایک جماعت (1) وقلیل من الاخرین۔ یعنی جو حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : ایک جماعت ان میں سے جو اس امت سے قبل گزر چکے ہیں اور حضرت محمد ﷺ کے صحابہ میں سے تھوڑے (2) اے اللہ ! ہمیں اپنے کرم کے ساتھ ان میں سے بنا دے۔ انہیں قلیل ما قبل کی طرف نسبت کے اعتبار سے کہا گیا ہے۔ کیونکہ پہلے انبیاء بہت زیادہ ہیں تو ان میں سے ایمان کی طرف سبقت لے جانے والے بھی زیادہ ہیں۔ ہماری امت میں سے جنہوں نے تصدیق کی طرف سبقت کی ان پر ان کی تعداد بہت زیادہ ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر یہ امر شاق گزرا تو یہ آیت نازل ہوئی کلۃ من الاولین۔ وکلۃ من الاخرین۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” میں امید کرتا ہوں کہ تم جنتیوں کا چوتھائی، بلکہ ایک تہائی بلکہ جنتیوں کا نصف ہو گے وہ باقی نصف میں باہم تقسیم ہوں گے “۔ اے حضرت ابوہریرہ ؓ نے روایت کیا ہے ماوردی اور دوسرے علماء نے اس کا ذکر کیا ہے۔ اس کا معنی حضرت عبد اللہ مسعود کی حدیث میں صحیح مسلم میں ثابت ہے۔ گویا آپ نے ارادہ فرمایا کہ یہ منسوخ ہے۔ زیادہ مناسب یہ ہے کہ یہ محکم ہے کیونکہ وہ خبر ہے اور یہ دو مختلف جماعتوں کے بارے میں نازئی ہو۔ حضرت حسن بصری نے کہا : جو امتیں گزر چکی ہیں ان میں سے سابقین ہمارے سابقین سے زیادہ ہیں اسی وجہ سے فرمایا : وقلیل من الاخرین۔ اصحاب یمین جو سابقین کے علاوہ ہیں کے بارے میں فرمایا : کلۃ من الاولین۔ وکلۃ من الاخرین۔ اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” میں امید کرتا ہوں کہ میری امت جنتیوں کا نصف ہوگی “ ( 3) پھر اس آیت کی تلاوت کی کلۃ من الاولین۔ وکلیۃ من الاخرین۔ “ مجاہد نے کہا : یہ سب اس امت سے تعلق رکھتے ہیں۔ سفیان، ابان سے وہ سعید بن جبیر سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں الثلتان جمعیا من امتی (4) یعنی کلیۃ من الاولین۔ وثلۃ من الاخرین۔ 1 ؎۔ المحررالوجیز، جلد 5، صفحہ 241 2 ؎۔ تفسیر عبد الرزاق، جلد 3، صفحہ 279 3 ؎۔ تفسیر طبریٰ ، جز 27، صفحہ 223 4 ؎؎۔ تفسیر کشاف، جلد 4، صفحہ 458 یہ قول حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے بھی مروی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا : دونوں جماعتیں حضرت محمد ﷺ کی امت میں سے ہیں ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اس امت کے اول سے ہیں اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اس امت کے آخر میں ہیں (1) وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے :” فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖج وَمِنْہُمْ مُّقْتَصِدٌج وَمِنْہُمْ سَابِقٌم بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللہ ِط “ (فاطر : 32) ایک قول یہ کیا گیا ہے : ثلۃ من الاولین۔ ایک جماعت اس امت کے اول سے تعلق رکھتی ہے۔ وقیل من الاخرین۔ وہ طاعت میں جلدی کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ اولین کے درجہ تک جا پہنچتے ہیں۔ اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تم میں سے سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں “ (2) پھر اصحاب یمین میں اولین و آخرین کو برار قرار دیا ثلۃ یہ ثللت الثی سے مآخوذ ہے یعنی میں نے اسے کاٹا، ثلۃ کا معنی فرقہ ہے : زجاج کا قول ہے۔
Ayahs 56:15–16

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ Open ayah 56:15 in the Quran reader

(لعل و یاقوت وغیرہ سے) جڑے ہوئے تختوں پر

مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 56:16 in the Quran reader

آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے

علی سرر موضونۃ۔ سبقت لے جانے والے جنت میں پلنگوں پر ہوں گے۔ سرر، سریر کی جمع ہے موضونۃ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ سونے سے بنے ہوں گے۔ عکرمہ نے کہا : ان میں موتی اور یاقوت جڑیں گے ہوں گے۔ حضرت ابن عباس نے یہ بھی فرمایا : موضونۃ وہ صف در صف ہوں گے جس طرح ایک اور موقع پر فرمایا : علی سرر موضونۃ ان سے اور مجاہد سے یہ بھی مروی ہے : وہ سونے سے بنے ہوں گے۔ تفاسیر میں وہ سونے کی تاروں سے بنے ہوں گے جن میں موتی، یاقوت اور زبر جد جڑیں ہوں گے۔ وضن کا معنی بننا ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : وضن فلان الحجر ولآجر بعضہ فوق بعض فھو موضون فلاں نے پتھر اور اینٹ کو ایک دوسرے پر رکھا پس انہیں پیوست کردیا گیا۔ درع موضونۃ ایسی زرہ جو بنائی میں محکم ہو جس طرح مصفوفۃ ہے۔ اعشی نے کہا : ومن نسبح دائود موضونۃ حضرت دائود (علیہ السلام) کی بنائی بڑی مضبوط تھی۔ السریر الموضون سے مراد ہے وہ چار پائی جس کی سطح بنی ہوئی چیز کی طرح ہو اس سے وضین ہے بطان من سیور ینسبح فیدخل بعضہ فی بعض تنگ بنے تسموں سے بنائے گئے تھے جن کے بعض بعض میں داخل کردیئے گئے تھے : اس معنی میں اس کا یہ قول ہے : الیک تغدر و قلقھا و ضینھا (3) متکین علیھا، ھا ضمیر سے مراد پلنگ ہیں۔ متقلین۔ وہ ایک دوسرے کی گدی نہیں دیکھیں گے بلکہ پلنگ ان پر گھومیں گے۔ یہ مومن، اس کی زوجہ اور اس کے اہل کے بارے میں ہے یعنی وہ بالمقابل تکیہ لگائے ہوں گے : یہ مجاہد اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ کلبی نے کہا : ہر پلنگ کی لمبائی تین سو ہاتھ ہو گی٭جب بندہ اس پر بیٹھنے کا ارادہ کرے گا تو وہ نیچے ہوجائے گا اور جب اس پر بیٹھ جائے گا تو وہ اوپر اٹھ جائے گا۔ 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 499 2 ؎۔ صحیح مسلم، کتاب الفضائل، فضل الصحابہ ثم الذین یلونھم، جلد 2، صفحہ 309 3 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ 241 ٭الفاظ یہی ہیں مگر سیاق سے پتہ چلتا ہے اس کی اونچائی اتنی ہوگی۔
Ayah 56:17

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ Open ayah 56:17 in the Quran reader

نوجوان خدمت گزار جو ہمیشہ (ایک ہی حالت میں) رہیں گے ان کے آس پاس پھریں گے

(یطوف علیھم ولدان۔۔۔ ) یطوف علیھم ولدان مخلدون۔ یعنی ایسے لڑکے جو نہیں مریں گے : یہ مجاہد، حسن اور کلبی کا قول ہے۔ نہ وہ بوڑھے ہوں گے اور نہ ان میں کوئی تبدیلی ہوں گی۔ سعید بن جبیر نے کہا : مخلدون کا معنی ہے انہیں بالیاں پہنائی گئیں ہوں گی (1) بالی کو خلدہ کہتے ہیں زیورات کے مجموعہ کو خلدہ کہتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں کنگن پہنائے گئے ہوں گے اس کی مثل فراء سے مروی ہے : شاعر نے کہا : ومخلداب باللحین (2) انہوں نے چاندی کے کنگن پہنے ہوئے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں بالیاں پہنائی گئی ہوں گی۔ عکرمہ نے کہا : مخلدون ان پر انعام کیا گیا ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ سب ہم عمر ہوں گے اللہ تعالیٰ نے انہیں جنتیوں کے لیے پیدا کیا، ان پر گردش کرتے ہوں گے جس طرح اللہ تعالیٰ نے چاہا ان میں ولادت کا سلسلہ نہیں ہوگا۔ حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت حسن بصری نے کہا : یہاں ولدان سے مراد مسلمانوں کے بچے ہیں جو چھوٹی عمر میں مر جاتے ہیں نہ ان کی نیکی ہوتی ہے اور نہ ہی برائی ہوتی ہے۔ حضرت سلمان فارسی نے کہا : یہ مشرکوں کے بچے ہوں گے یہ جنتیوں کے خادم ہوں گے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : یہ ان کی نیکیاں ہوں گی کہ ان پر انہیں بدلہ دیا جاتا اور نہ ان کی برائیاں ہوں گی کہ ان پر انہیں عذاب دیا جاتاتو انہیں اس مقام پر رکھا جائے گا۔ مقصود یہ ہے کہ جنتی کامل سرور و نعمت میں ہوں گے اور خوشی اور انبساط اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب خدام اور بچے انسان کے اردگرد ہوں گے۔
Ayahs 56:18–19

بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ Open ayah 56:18 in the Quran reader

یعنی آبخورے اور آفتابے اور صاف شراب کے گلاس لے کر

لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ Open ayah 56:19 in the Quran reader

اس سے نہ تو سر میں درد ہوگا اور نہ انکی عقلیں زائل ہوں گی

باکواب واباریق، اکواب، کو ب کی جمع ہے سورة خرف میں یہ گزر چکا ہے۔ یہ ایسے برتن ہوتے ہیں جن کی سنت اور دستہ نہیں ہوتا۔ اباریق ایسے برتن کو کہتے ہیں جس کا دستہ اور سنت ہوتی ہے اس کا واحد ابریق ہے۔ اسے یہ نام دیا گیا ہے کیونکہ صفائی کی وجہ سے اس کا رنگ چمکے گا۔ 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 450 2 ؎۔ ایضاً وگ اس من معین۔ سورة الصافات میں اس کے بارے میں قول گز چکا ہے۔ معین سے مراد جو پانی یا شراب سے جاری ہو۔ یہاں اس سے مراد ایسی شراب ہے جو چشموں سے جاری ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا : آنکھوں کے لیے ظاہر ہوگی اس صورت میں معین، معانیہ سے مفعول کا صیغہ ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ معن سے فعیل کا وزن ہے جس کا معنی کثرت ہے یہ واضح کیا کہ یہ دنیا کی شراب جیسی نہیں جیسے نچوڑنے، تکلف کرنے اور مشقت کے ساتھ نکالا جاتا ہے۔ لا یصدعون منھا اس کے پینے سے ان کے سروں میں درد نہیں ہوگا۔ معنی اس میں لذت تو ہوگی اس میں کوئی اذیت نہیں ہوگی جب کہ دنیا کی شراب کا معاملہ مختلف ہوگا۔ ولا ینزفون۔ سورة الصافات میں یہ گزر چکا ہے انہیں نشہ نہیں آئے گا کہ ان کی عقلیں ضائع ہوجائیں۔ مجاہد نے کہا : لا یصدعون کا معنی ہے وہ نہیں پھٹیں گے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یومئذ یصدعون۔ ( الروم) اہل کوفہ نے اسے ینزفون راء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ان کی شراب ختم نہ ہوگی : اس معنی میں شاعر کا قول ہے۔ لعمری لئن انزفتم او صحوتم لئبس الندامی کنتم آل ابجرا (1) ضحاک نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ شراب میں چار خصلتیں ہیں نشہ، سرور، قے اور پیشاب (2) اللہ تعالیٰ نے جنت کی شراب کا ذکر کیا اور اسے ان خصلتوں سے پاک کردیا۔
Ayahs 56:20–22

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ Open ayah 56:20 in the Quran reader

اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں

وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 56:21 in the Quran reader

اور پرندوں کا گوشت جس قسم کا ان کا جی چاہے

وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ Open ayah 56:22 in the Quran reader

اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں

وفاکھۃ مما یتخیرون۔ جو چاہتے ہیں اسے لے لیتے ہیں کیونکہ ان پھلوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایسا پھل جو پسندیدہ ہے تخیر کا معنی اختیار ہے۔ ولحکم طیر مما یشتھون۔ امام ترمذی نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے کوثر کے بارے میں پوچھا گیا ؟ فرمایا :” وہ ایسی نہر ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطاء کی ہے یعنی جنت میں جو دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھی ہے، اس میں ایسے پرندے ہیں ان کی گردنیں اونٹوں کی گردنوں جیسی ہیں “ (3) حضرت عمر ؓ نے عرض کی : وہ تو بڑی موٹی تازی ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اس کا کھانا اس گردن کے کھانے سے زیادہ اچھا ہوگا “۔ کہا : یہ حدیث حسن ہے۔ اسے ثعلبی نے حضرت ابو درداء کی حدیث سے نقل کیا ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جنت میں پرندہ ہوں گے جس طرح بختی اونٹوں کی گردنیں ہوتی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے ولی کے ہاتھ پر صف در صف ہوں گے ان میں سے ایک کہے گا : اے اللہ کے ولی ! میں عرش کے نیچے چراگاہوں میں چراہوں، میں نے تسنیم کا پانی پیا ہے، مجھ سے کھائو وہ اس کے سامنے اٹھیکیاں کرتے رہیں گے یہاں تک کہ ولی اللہ کے دل میں ان میں سے کسی کو کھانے کا خیال آئے گا تو وہ اس کے سامنے گر پڑے گا۔ ولی اللہ اس سے کھائے گا جتنا ارادہ کرے گا جب وہ سیر ہوجائے گا تو پرندے کی ہڈیاں جمع ہوجائیں گی تو وہ اڑ جائے گا اور جہاں چاہے گا جنت میں چرے گا “ (1) حضرت عمر ؓ نے عرض کی : وہ بڑا لذیز ہوگا۔ فرمایا : اس کو کھانے والا اس سے افضل ہوگا “۔ 1 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ 242 2 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 451 3 ؎۔ جامع ترمذی، کتاب صفۃ الجنۃ، ما جاء ل صفۃ طیر الجنۃ، جلد 2 صفحہ 77 ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جنت میں پرندہ ہوگا پرندے میں ستر ہزار پر ہوں گے وہ جنت کے پیالے میں آ گرے گا پھر وہ پھٹ جائے گا تو ہر پر سے ایک مقیم کا کھانا نکلے گا جو برف سے زیادہ سفید، مکھن سے زیادہ ٹھنڈا اور ملائم اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔ اس میں سے کوئی کھانا دوسرے کی مثل نہیں ہوگا۔ اس سے اتنا کھائے گا جتنا ارادہ وہ کرے گا۔ پھر وہ چلا جائے گا اور اڑے گا “ (2) وحورعین۔ اسے رفع، نصب اور جر کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ جس نے اسے جردی وہ حمزہ، کسائی اور دوسرے قراء ہیں۔ یہ جائز ہے کہ اس کا عطف باکواب پر ہو۔ یہ معنی پر محمول ہوگا کیونکہ معنی ہے وہ جاموں، پھلوں، گوشت اور حوروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں : یہ زجاج کا قول ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس کا عطف جنات پر ہو یعنی وہ جناب النعیم میں ہوں گے اور حوروں کی معاشرت میں ہوں گے اس صورت میں حور سے پہلے معاشرہ کا لفظ ہوگا۔ فراء نے کہا : جر لفظ کی اتباع میں ہوگی اگرچہ معنی میں مختلف ہیں کیونکہ حوریں ان پر طواف نہیں کریں گی : ایک شاعر نے کہا : ورایت زوجک فی الوغی متقلدا سیفا ورمحا سب نے تیرے خاوند کو جنگ میں دیکھا جو تلوار اور نیزے سے آراستہ تھا۔ تلوار کو گلے میں لٹکایا جاتا ہے نیزے کو نہیں لٹکایا جاتا۔ قطرب نے کہا : یہ اکواب اور باریق پر معطوف ہیں یعنی پر ان کا حمل نہیں۔ اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان پر حوریں طواف کریں اور ان کے لیے اس میں لذت ہو۔ جس نے اسے نصب دی ہے وہ اشہب عقیلی، نخعی اور عیسیٰ بن عمر ثقفی ہے۔ حضرت ابی کے مصحف میں بھی اسی طرح ہے۔ اس صورت میں فعل مضمر ہوگا۔ گویا ارشاد فرمایا : وزوجون حور اعینا نصب کی صورت اسی معنی پر حمل بھی اچھا ہے کیونکہ یطاف علیھم بہ کا معنی ہے انہیں وہ عطاء کردی جائے گی۔ جنہوں نے اسے رفع دیا ہے جب کہ وہ جمہور ہیں : یہ ابو عبید اور ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ تو اس صورت میں اس کا معنی ہے وعندھم حورعین کیونکہ حوریں ان پر گردش نہیں کریں گی۔ کسائی نے کہا : جس نے کہا وحورعین۔ اسے رفع دیا ہے۔ اور علت یہ بیان کی ہے کہ وہ ان پر چکر نہیں لگائیں گی یہی چیز فاکھہ اور لحم میں بھی لازم آئے گی کیونکہ یہ چیز بھی اس پر گردش کناں نہیں ہوگی۔ اس پر صرف شراب گردش کناں ہوگی۔ اخفش نے کہا : یہ جائز ہے کہ وہ معنی پر محمول ہو کیونکہ اس کا معنی ہے لھم اکواب ولھم حورعین ان کے لیے جام اور حورعین ہیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس کا عطف ثلۃ پر ہو اور ثلۃ مبتداء ہو اور اس کی خبر علی سرر موضونۃ۔ اسی طرح وحورعین۔ ہے نکرہ کے باوجود اسے مبتداء بنایا کیونکہ وہ صفت کی وجہ سے یہ خاص ہوگیا۔ 1 ؎ جامع ترمذی، کتاب صفۃ الجنۃ، ما جاء ل صفۃ طیر الجنۃ، جلد 2 صفحہ 77 2 ؎۔ کنز العمال، فی ذکر اشراط، الساعۃ الکبریٰ ، جلد 14، صفحہ 462۔ 463
Ayah 56:23

كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ Open ayah 56:23 in the Quran reader

جیسے (حفاظت سے) تہ کئے ہوئے (آبدار) موتی

گا مثال اللولو المکنون۔ امثال، مثل کی جمع ہے لولو مکنون جسے ہاتھوں نے نہ چھوا ہو اور اس پر غبار نہ پڑا ہو۔ یہ موتی صفائی اور چمک میں دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے یعنی وہ تمام اطراف سے حسن میں ایک جیسی ہو۔ کانما خلقت فی قشرلولوۃ گویا اسے موتی کی سیپی میں پیدا کیا گیا ہے۔
Ayah 56:24

جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 56:24 in the Quran reader

یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے

جزاء بما کانو یعملون۔ جزاء کا معنی ثواب ہے یہ مفعول لہ ٗ کی حیثیت سے منصوب ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہو کیونکہ یطرف علیھم ولدان مخلدون۔ کا معنی ہے۔ انہیں جزا دی جائے گی ایسے بچوں کے ساتھ جو ہمیشہ بچے ہی رہیں گے۔ حورعین کے بارے میں گفتگو سورة طور وغیرہ میں گزر چکی ہے۔ حضرت انس ؓ نے کہا : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اللہ تعالیٰ نے حورعین کو زعفران سے پیدا کیا ہے “۔ حضرت خالد بن ولید نے کہا میں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ ” ایک جنتی جنت کے سیپوں میں سے ایک پکڑے گا وہ اس کے ہاتھ میں پھٹ جائے گا تو اس سے حور نکلے گی اگر وہ سورج کو دیکھے تو سورج اس کے حسن سے شرما جائے جب کے اس سیپ میں کوئی نقص واقع نہ ہوگا “۔ ایک آدمی نے عرض کی : اے ابو سلیمان ! یہ بڑی عجیب بات ہے کہ سیپ میں کچھ نقص نہ ہوگا ؟ فرمایا : ہاں جس طرح ایک چراغ سے دوسرا چراغ جلایا جاتا ہے یا کئی چراغ جلائے جاتے ہیں تو اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ جس پر چاہے اس پر قادر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حورعین کو اس کے پائوں کی انگلیوں سے اس کے گھنٹوں تک زعفران سے، اس کے گھنٹوں سے اس کے پستانوں تک اذفر کستوری سے، پستانوں سے گردن تک عنبرا شہب سے، گردن سے سر تک کافورا بیض سے پیدا کیا ہے اس پر ستر ہزار حلے ہوں گے جس طرح شقائق (1) نعمان ہوتے ہیں جب وہ متوجہ ہوگی تو اس کا چہرہ روشن نور کے ساتھ چمک رہا ہوگا جس طرح سورج اہل دنیا کے لیے چمکتا ہے، جب وہ پیٹھ پھیرے گی تو اس کا جگر کپڑوں اور جلد کی باریکی کی وجہ سے دکھائی دے گا۔ اس کے سر میں اذفر کستوری کی ستر ہزار مینڈھیاں ہوں گی ہر مینڈھی کے لیے ایک خادمہ ہوگی جو اس کے دامن کو اٹھائے ہوگی جب کہ وہ ندا دے رہی ہوگی۔ یہ اولیاء کا ثواب ہے جزاء بما گانو یعملون۔
Ayahs 56:25–26

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ Open ayah 56:25 in the Quran reader

وہاں نہ بےہودہ باتیں سنیں گے اور نہ گالی گلوچ

اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا Open ayah 56:26 in the Quran reader

ہاں ان کا کلام سلام سلام (ہو گا)

لا یسمعون فیھا لعواولا تاثیما۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ باطل اور جھوٹ نہ سنیں گے (2) لغوا سے کہتے ہیں جو کلام میں سے لہو ہو۔ تاثیم یہ اثمتہ کا مصدر ہے یعنی میں نے اسے کہا : تو نے گناہ کیا۔ محمد بن کعب نے کہا ولا تاثیما وہ ایک دوسرے کو گناہگار نہیں کہیں گے۔ مجاہد نے کہا : وہ اس میں گالی گلوچ نہیں سنیں گے (3) الا قلیلا سلما سلما، قلیلا اور یہ یسمعون کی وجہ سے منصوب ہے یا یہ استثناء منقطع ہے لیکن وہ قیل کہتے ہیں یا سلام سلام بنتے ہیں یہ قول کی وجہ سے منصوب ہے یعنی مگر وہ خیر کہتے ہیں یا مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے، مگر وہ ایک دوسرے کو سلام کہتے ہیں یا یہ قیلا کی صفت ہے دوسراسلام پہلے کا بدل ہے معنی ہوگا ایسی بات جو لغو سے سلامت ہوگی۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ مرفوع ہو تقدیر کلام ہوگی ” سلام علیکم “ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ ایک دوسرے کو سلام کریں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فرشتے انہیں سلام کریں گے یا ان کا رب انہیں سلام کرے گا۔ 1 ؎۔ ایسی بوٹی ہے جس کی کلیاں سرخ ہوتی ہیں۔ 2 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 452 3 ؎۔ ایضاً
Ayah 56:27

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:27 in the Quran reader

اور داہنے ہاتھ والے (سبحان اللہ) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی عیش میں) ہیں

(واصحب الیمین۔۔۔۔۔۔۔ ) واصحب الیمین ما اصحب الیمین۔ اصحاب میمنہ کی منازل کے ذکر کی طرف رجوع کیا وہ سابقون ہیں جس طرح پہلے گزرا ہے۔ یہ تکرار ان نعمتوں کی عظمت شان کو بیان کرنے کے لیے ہے جس میں وہ ہیں۔
Ayah 56:28

فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ Open ayah 56:28 in the Quran reader

(یعنی) بےخار کی بیریوں میں

فی سدر مخصود۔ ایسے بیری کے درختوں کے سایوں میں جس کے کاٹنے کاٹ دیئے گئے ہیں : یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء کا قول ہے : ابن مبارک نے یہ ذکر کیا ہے۔ صفوان نے سلیم بن عامر سے حدیث نقل کی ہے (1) کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کہا کرتے تھے کہ بدو اور ان کے سوالات ہمیں نفع دیا کرتے تھے کہا : ایک روز ایک بدو آیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ نے قرآن میں تکلیف دہ درخت کا ذکر کیا ہے میرا خیال نہیں کہ جنت میں کوئی ایسا درخت ہوگا جو جنتی کو اذیت دے ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” وہ کون سا درخت ہے ؟ “ عرض کی بیری کا درخت اس کا کاٹنا اذیت دینے والا ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” کیا اللہ تعالیٰ یہ ارشاد نہیں فرمایا فی سدر مخضود۔ اللہ تعالیٰ نے اسے کاٹنے کو ختم کردیا ہے اللہ تعالیٰ نے ہر کاٹنے کی جگہ اس کا پھل بنا دیا ہے وہ ایسا پھل نکالے گا کہ اس پھل سے بہتر قسم کے کھانے نکلیں گے ان میں سے ہر ایک کھانا دوسرے سے مختلف ہوگا “۔ ابو العالیہ اور ضحاک نے کہا : مسلمانوں نے وج وادی کو دیکھا تو اس کی بیوی کے درختوں نے انہیں خوش کیا انہوں نے کہا : کاش ! ہمارے لیے بھی ایسے درخت ہوتے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ امیہ بن صلت جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے : 1 ؎۔ درمنثور، جلد 6، صفحہ 222 ان الحداثق فی الجنان ظلیلۃ فیھا الکواعب سدرھا مخضود (1) جنت میں باغ سایہ دار ہیں ان میں نوخیز عورتیں ہیں جس کے بیری کے درخت کانٹوں والے نہیں۔ ضحاک، مجاہد اور مقاتل بن حیان نے کہا :” فی سدر مخضود۔ ایسی بیری جو پھل سے بوجھل ہو (2) یہ اس معنی کے قریب قریب ہے جو ہم نے حدیث میں بیان کیا ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : اس کا پھل مٹکے سے بڑا ہوگا۔ سورة نجم میں یہ بحث گزر چکی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے عند سدرۃ المنتھی۔ اس کے پھل ہجر کے مٹکوں جیسے ہوں گے۔ یہ حدیث حضرت انس سے مروی ہے جس کو وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں (3)
Ayah 56:29

وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 56:29 in the Quran reader

اور تہ بہ تہ کیلوں

وطلع منضود۔ طلح کیلے کا درخت ہے اس کا واحد طلحہ ہے : یہ قول اکثر مفسرین نے کیا ہے ان میں حضرت علی ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : یہ کیلے کا درخت نہیں بلکہ ایسا درخت ہے جس کا ٹھنڈا اور تر سایہ ہوتا ہے۔ فراء اور ابو عبیدہ نے کہا : مراد درخت ہے جس کا کاٹنا ہوتا ہے : جعدی نے کہا : بشرھا دلیلھا وقالا غدا ترین الطلح والاحبالا اس کی رہنمائی کرنے والے نے اسے بشارت دی اور دونوں نے کہا : کل تم طلح اور بیری کے درخت دیکھو گی۔ طلح سے مراد ہر ایسا بڑا درخت ہے جس کے بہت زیادہ کاٹنے ہوتے ہیں۔ زجاج نے کہا : یہ جائز ہے کہ وہ جنت میں ہو اور اس کے کاٹنے زائل کردیئے گئے ہوں۔ زجاج نے کہا : جس طرح کیکر کا درخت ہوتا ہے اس کی بہت سی عمدہ کلیاں ہوں گی۔ انہیں ایسی چیز کے ساتھ خطاب کیا گیا اور اس چیز کا وعدہ کیا گیا جس کی مثل کو وہ پسند کرتے تھے مگر اس کی دنیا کی چیزوں پر فضلیت ایسی ہوگی جس طرح جنت میں جنتی چیزیں ہیں ان کی فضلیت دنیاوی چیزوں پر ہوتی ہے۔ سدی نے کہا : جنت کا کیلا اس طرح ہوگا جس طرح دنیا کا کیلا ہوگا مگر اس کا پھل شہد سے زیادہ میٹھا ہوتا ہے۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے وطلع منضود پڑھا ہے یعنی حاء کی جگہ عین پڑھی ہے اور اس آیت کی تلاوت کی ونحل طلعھا ھضیم۔ ( اشعراء) یہ مصحف ہے برعکس ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ان کے سامنے وطلع منضود۔ پڑھا گیا ہے تو انہوں نے کہا : یہ طلح کیا ہے ؟ وہ طلع منضود ہے پھر کہا : لھا طلع نضیدا انہیں کہا گیا : کیا ہم اسے بدل نہ دیں ؟ تو انہوں نے کہا : یہ مناسب نہیں کہ قرآن کے بارے میں جلد بازی کی جائے اور نہ اسے بدلنا مناسب ہے۔ انہوں نے اس قرأت کو پسند کیا مگر اسے مصحف میں لکھنے پر اتفاق نہ کیا کیونکہ یہ اس کے خلاف ہے جس پر سب کا اتفاق ہے : یہ قشیری کا قول ہے۔ ابو بکر انباری نے اس کی سند ذکر کی کہا : سیرے والد نے حسن بن عرفہ سے وہ عیسیٰ بن یونس سے وہ مجاہد سے و حسن بن سعید سے وہ قیس بن عبادہ سے روایت نقل کرتے ہیں قرأت عند علی او قرئت عند علی مجاہد کو شک ہے یعنی میں نے حضرت علی کے ہاں اسے پڑھا حضرت علی ؓ شیر خدا کے ہاں اسے پڑھا گیا : وطلح منضود حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : یہ طلح کیا ہے ؟ کیا تو اسے وطلع نہیں پڑھتا پھر کہا : لھا طلع نضید اس آدمی نے عرض کی : اے امیر المومنین ! کیا ہم مصحف میں اسے مٹادیں۔ 1 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ 243 2 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 453 3 ؎۔ ایضاً ، جلد 5، صفحہ 395 فرمایا : آج قرآن پر جلدی نہ کی جائے۔ ابوبکر نے کہا : اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے اس امر کی طرف رجوع کرلیا جو مصحف میں ہے اور انہیں پتہ چل گیا کہ یہ درست ہے اور جس نے آپ کے قول سے تفریط اپنانا چاہی تھی اس کو باطل کردیا۔ منضود سے مراد ہے جس کے آغاز سے لے کر آخرت تک حصہ پھل سے جڑا ہوا ہو، اس کا کوئی حصہ ظاہر نہ ہو بلکہ اس کا پھل ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ نضد کا معنی جوڑنا اور منتصد کا معنی جڑا ہوا پیوست۔ مسروق نے کہا : جنت کے درخت ابتداء سے لے کر آخر تک پھلوں سے لدے ہوں گے جب بھی اس کا پھل کھایا جائے گا : اس کی جگہ اس سے بہتر پھل آجائے گا۔
Ayah 56:30

وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ Open ayah 56:30 in the Quran reader

اور لمبے لمبے سایوں

وظل ممدود۔ وہ دائمی ہوگا وہ ختم نہ ہوگا اور سورج اسے ختم نہیں کرے گا (1) جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” اَلَمْ تَرَ اِلٰی رَبِّکَ کَیْفَ مَدَّ الظِّلَّج وَلَوْشَآئَ لَجَعَلَہٗ سَاکِنًا ج “ (الفرقان : 45) یہ صبح کے وقت ہوتا ہے یہ صبح کے روشن ہونے سے لے کر سورج کے طوع ہونے تک ہوتا ہے جس طرح اس کی وضاحت ہوچکی ہے۔ جنت میں سایہ ہی سایہ ہے اس کے ساتھ کوئی سورج نہیں ہوگا۔ ربیع بن انس نے کہا : مراد عرش کا سایہ ہے۔ عمرو بن میمون نے کہا : اس کی لمبائی ستر ہزار سال کے برابر ہوگی۔ ابو عبیدہ نے کہا : عرب طویل زمانہ، طویل عمر اور جو چیز ختم نہ ہو اسے ممدود کہتے ہیں۔ لبید نے کہا : دھر طویل، دائم ممدود صحیح ترمذی اور دوسری کتب میں حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ کا ارشاد روایت کیا ہے : و فی الجنۃ شجرۃ یسیرا الراکب فی ظلھا ماۃ عام لا یقطعھا واقرء وان شئتم و ظل ممدود جنت میں ایک ایسا درخت ہے ایک سوار اس کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے گا وہ اسے طے نہ کرسکے گا۔ چاہو تو پڑھو۔ وظلل ممدود (2)
Ayahs 56:31–33

وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ Open ayah 56:31 in the Quran reader

اور پانی کے جھرنوں

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ Open ayah 56:32 in the Quran reader

اور میوہ ہائے کثیرہ (کے باغوں) میں

لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ Open ayah 56:33 in the Quran reader

جو نہ کبھی ختم ہوں اور نہ ان سے کوئی روکے

وما مسکوب۔ یعنی جاری پانی ہوگا جو ختم نہیں ہوگا۔ سکب کا اصل معنی بہانا ہے جو جملہ بولا جاتا ہے : سکبہ سکبا، سکوب کا معنی اس کا بہنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : سکب کو با، انسکب انسکابا یعنی بہایا گیا پانی رات، دن بغیر کھائی کے جاری رہے گا وہ ان سے ختم نہ ہوگا۔ عرب باد یہ نشین اور گرم علاقوں کے رہائشی تھے ان کے علاقوں میں نہریں نادر و نایاب تھیں وہ ڈولوں کے ذریعے ہی پانی تک پہنچ پاتے تو اس کے برعکس ان سے نہروں کا وعدہ کیا گیا۔ ان کے لیے سیر و سیاحت کے اسباب کا ذکر کیا گیا جو دنیا میں معروف ہیں جیسے درخت، ان کے سائے، پانی، نہریں اور ان کا عام ہونا۔ وفاکھۃ کثیرہ۔ وہ تھوڑے اور نادر و نایاب پھل نہیں ہوں گے جس طرح ان کے علاقے میں ہوتے ہیں لا مقطوعۃ وہ کسی وقت ختم نہ ہوں گے جس طرح موسم گرما کے پھل موسم سرما میں ختم ہوجاتے ہیں۔ ولا ممنوعۃ۔ یعنی دنیا کے پھلوں کی طرح انہیں ممنوع قرار نہیں دیا جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ولا ممنوعۃ۔ کا معنی ہے جو ان کا ارادہ کرے اسے کاٹنے، دوری اور دیوار کے ساتھ نہیں روکا جائے گا بلکہ جب بندہ اس کی خواہش کرے گا پھل اس کے قریب آجائے گا یہاں تک کہ وہ اسے لے لے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وذللت قطوفھا تذلیلا ً “ (الانسان) ایک قول یہ کیا گیا ہے : نہ وہ کسی زمانہ میں ختم ہوں گے اور نہ قیامت کی وجہ سے ممنوع ہوں گے۔ 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 454 2 ؎۔ جامع ترمذی، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 161، ایضاً حدیث نمبر 3214، ضیاء القرآن پبلی کیشنز
Ayahs 56:34–38

وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ Open ayah 56:34 in the Quran reader

اور اونچے اونچے فرشوں میں

اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ Open ayah 56:35 in the Quran reader

ہم نے ان (حوروں) کو پیدا کیا

فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ Open ayah 56:36 in the Quran reader

تو ان کو کنواریاں بنایا

عُرُبًا اَتْرَابًاۙ Open ayah 56:37 in the Quran reader

(اور شوہروں کی) پیاریاں اور ہم عمر

لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ٢ؕ۠ Open ayah 56:38 in the Quran reader

داہنے ہاتھ والوں کے لئے

وفرش مرفوعۃ۔ امام ترمذی نے حضرت ابو سعید ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ” ان کی بلندی اتنی ہوگی جتنا زمین و آسمان کے درمیان دوری ہے یعنی پانچ سو سال “ (1) کہا : یہ حدیث غریب ہے ہم اسے نہیں پہچانتے مگر رشدین بن سعد کی سند سے۔ بعض علماء نے اس حدیث کی وضاحت میں کہا : فرض درجہ بدرجہ ہوں گے اور درجات میں یوں فاصلہ ہوگا جس طرح زمین و آسمان میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں فرش سے مراد وہ عورتیں ہیں جو جنت میں ہیں ان کا ذکر پہلے نہیں ہوا۔ معنی ہے وہ عورتیں، اپنے حسن اپنے کمال میں بلند شان والی ہیں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :” انا انشانھن انشا۔ “ ہم نے انہیں پیدا کیا اور حسین و جمیل بنایا۔ عرب عورتوں کو فرش، لباس اور ازار کا نام دیتے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” ھن لباس لکم “ ( البقرہ : 186) پھر یہ قول کیا گیا وہ حورعین ہیں یعنی ہم نے انہیں ولادت کے عمل کے بغیر پیدا کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : مراد انسانوں کی عورتیں ہیں، یعنی ہم نے انہیں نئے سرے سے پیدا کیا یہ انہیں لوٹانا ہے۔ یعنی ہم نے انہیں جوانی کی حالت اور جمال کے کمال کے ساتھ پیدا کیا۔ معنی ہے ہم نے بوڑھی اور بچی کو ایک ہی دفعہ پیدا کردیا ان کے لیے ضمیر ذکر کی گئی اور ان کا ذکر پہلے نہ ہوا کیونکہ وہ اصحاب یمین میں داخل ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ فرش، النساء سے کنایہ ہے جس طرح یہ بات پہلے گزر چکی ہے۔ نبی کریم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” انا انشانھن انشا۔ “ کے ضمن میں روایت گزری ہے فرمایا : منھن البکر والثیب (2) حضرت ام سلمہ ؓ نے کہا : میں نے نبی کریم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” انا انشانھن انشائ ۔ فجعلنھن ابکارا۔ عرباً اترابا۔ “ کے بارے میں سوال کیا فرمایا :” اے ام سلمہ ! اس سے مراد وہ عورتیں ہیں جنہیں دنیا میں اس حیثیت سے موت دی گئی تھی جب کہ وہ بوڑھی، ان کے بال سفید، آنکھیں کمزور چند ہیائی ہوئی اور میل بہہ رہی ہوتی تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑھاپے کے بعد ہم عمر، برابر ایک ہی وقت کی پیدائش پر بنا دیا “ (3) نحاس نے اسے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہا احمد بن عمر نے عمرو بن علی سے وہ ابو عاصم سے وہ موسیٰ بن عبیدہ سے وہ یزید قاشی سے وہ حضرت انس بن مالک ؓ سے مرفوع روایت کرتے ہیں کہ ” مراد وہ بوڑھیاں ہیں جن کی آنکھیں دنیا میں چند ہیائی اور آنکھوں سے میل بہہ رہی ہوئی تھی “۔ مسیب بن شریک نے کہا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” مراد دنیا کی بوڑھی عورتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں نئے انداز میں پیدا کیا جب بھی ان کے خاوند ان کے پاس آئیں گے انہیں با کرہ پائیں گے “ (4) ۔ جب حضرت عائشہ ؓ نے اسے سنا تو کہا : ” ہائے درو ! نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” وہاں کوئی درد نہیں ہوگا “۔ عربا یہ عروب کی جع ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ مجاہد اور دوسرے علماء نے کہا : عرب سے مراد ہے وہ عورتیں جو اپنے 1 ؎۔ جامع ترمذی کتاب صفۃ الجنۃ، ما جاء لی صفۃ ثبات اھل الجنۃ، جلد 2، صفحہ 77، ایضاً حدیث نمبر 3261 ضیاء القرآن پبلی کیشنز 2 ؎۔ تفسیر طبری جز 27، صفحہ 217 3 ؎۔ ایضاً ، جز 27، صفحہ 218 4 ؎؎۔ جامع ترمذی، کتاب التفسیر، جلد 2 صفحہ 162 خاوندوں سے عشق کرتی ہیں : حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : عرب سے مراد ملقہ (1) ہے عکرمہ نے کہا : غنجہ (2) ہے ابن زید نے کہا : یہ اہل مدینہ کی لغت میں ہے اسی معنی میں لبید کا قول ہے : و فی الخباء عروب غیر فاحشۃ خیمہ میں ناز و ادا اوالی ہے فاحشہ نہیں۔ زید بن اسلم نے کہا : مراد اچھی گفتگو کرنے والی۔ عکرمہ اور قتادہ سے مروی ہے : عرب ان عورتوں کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند سے محبت کرنے والیاں ہوں۔ یہ اعرب سے مشتق ہے۔ جب وہ وضاحت کرے۔ عرب ایسی عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند کے لیے ناز و ادا، نخرے اور حسن کلام کے ساتھ اپنی محبت کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ عورت ہے جو اپنے خاوند سے محبت کی وجہ سے اسے کی اطاعت کرے تاکہ لطف اندوز ہونے میں زیادہ لذت کا باعث ہو۔ جعفر بن محمد نے اپنے باپ سے وہ اپنے داد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : عربا سے مراد ہے ان کی کلام عربی زبان میں ہوگی۔ حمزہ اور ابوبکر نے عاصم سے غربا قرأت نقل کی ہے باقی قراء نے اسے ضمہ دیا ہے۔ یہ دونوں قرأیتیں جائز ہیں یہ فعول کی جمع ہے۔ اترابا۔ وہ ہم عمر ہوں گی ان کی عمر تنتیس سال ہوگی (3) ہم عمر عورتوں میں اتراب اور ہم عمر مردوں میں اقران کا لفظ بولتے ہیں۔ عرب اس عورت میں دلچسپی کا اظہار کرتے جو بچپنے کی حد سے گزر چکی ہو اور بڑھاپے سے ابھی کم ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اترابا کا معنی ہے ہم مثل ہم شکل (4) یہ مجاہد کا قول ہے۔ سعدی نے کہا : وہ اخلاق میں ہم مثل ہوں گی ان کے درمیان کوئی بغض اور کوئی حسد نہ ہوگا (5) لا صحب الیمین۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حور عین۔ سابقین کے لیے ہے اور اتراب عرب اصحاب یمین کے لیے ہے۔
Ayahs 56:39–40

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:39 in the Quran reader

(یہ) بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہیں

وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:40 in the Quran reader

اور بہت سے پچھلوں میں سے

ثلۃ من الاولین۔ وکلۃ من الاخرین۔ یہ کلام اللہ تعالیٰ کے فرمان واصحب الیمین ما اصحب الیمین۔ کی طراف راجع ہے یعنی ہم ثلۃ من الاولین و ثلۃ من الآخرین اس کے متعلق گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ ابو العالیہ، مجاہد، عطاء بن ابی رباح اور ضحاک نے کہا : کلۃ من الاولین۔ یعنی اس امت کے سابقین میں سے جماعت وکلۃ من الاخرین۔ اسی امت کے آخرین میں سے جماعت ہوگی۔ اس آیت کی تفسیر پر وہ روایت دلالت کرتی ہے جو حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” یہ سب میری امت سے تعلق رکھتے ہیں “ (6) واحدی نے کہا : اصحاب جنت نصف نصف ہوں گے نصف سابقہ امتوں میں سے اور نصف اس امت سے۔ ابن ماجہ نے اپنی سنن میں اور ترمذی نے اپنی جامع میں حضرت بریدہ بن خصیب ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی ان میں سے اسی صفیں اس امت کی اور چالیس باقی امتوں کی ہوں گی “ (7) ابو عیسیٰ امام ترمذی نے کہا : یہ 1 ؎۔ خوشامد کرنے والی۔ 2 ؎۔ نازو نخرے کرنے والی 3 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 456 4 ؎؎۔ ایضاً 5 ؎۔ ایضاً 6 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ 245 7 ؎۔ جامع ترمذی، کتاب صفۃ الجنۃ، ماجاء فی صف اھل الجنۃ جلد 2 صفحہ 77، ایضاً ، حدیث نمبر 2469، ضیاء القرآن پبلی کیشنز سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، صاب صلۃ امت محمدیہ ﷺ حدیث نمبر 4278، ضیاء القرآن پبلی کیشنز حدیث حسن ہے۔ ثلبۃ مبتداء ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے اور خبر محذوف ہے معنی یہ بنے گا لا صحاب الیمین ثلتان، ثلۃ من ھولاء و ثلۃ من ھولاء یعنی ایک جماعت ان سے اور ایک جماعت ان سے۔ پہلے سابقہ امتوں میں سے ہوں گے اور دوسرے اس امت کے ہوں گے۔ یہ دوسرے قول کی بناء پر ہے۔