Explained with ayahs 1–3
کل کائنات ثناء خواں ہے
تمام حیوانات، سب نباتات اس کی پاکی بیان کرتے ہیں، ساتواں آسمان، زمینیں، ان کی مخلوق اور ہر ایک چیز اس کی ستائش کرنے میں مشغول ہے گو تم ان کی تسبیح نہ سمجھ سکو اللہ حلیم و غفور ہے۔ اس کے سامنے ہر کوئی پست و عاجز و لاچار ہے، اس کی مقرر کردہ شریعت اور اس کے احکام حکمت سے پر ہیں۔ حقیقی بادشاہ جس کی ملکیت میں آسمان و زمین ہیں وہی ہے، خلق میں متصرف وہی ہے، زندگی موت اسی کے قبضے میں ہے، وہی فنا کرتا ہے، وہی پیدا کرتا ہے۔ جسے جو چاہے عنایت فرماتا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، جو چاہتا ہے ہوجاتا ہے، جو نہ چاہے نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد کی آیت (هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة الْحَدِیْد 1
یعنی ہمیشہ کائنات کی ہر چیز نے اس حقیقت کا اظہار و اعلان کیا ہے کہ اس کا خالق و پروردگار ہر عیب اور نقص اور کمزوری اور خطا اور برائی سے پاک ہے۔ اس کی ذات پاک ہے، اس کی صفات پاک ہیں، اس کے افعال پاک ہیں، اور اس کے احکام بھی، خواہ وہ تکوینی احکام ہوں یا شرعی، سراسر پاک ہیں۔ یہاں سَبَّحَ صیغہ ماضی استعمال کیا گیا ہے، اور بعض دوسرے مقامات پر یُسَبِّحُ صیغہ مضارع استعمال ہوا ہے جس میں حال اور مستقبل دونوں کا مفہوم شامل ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ ہمیشہ اپنے خالق و رب کی پاکی بیان کرتا رہا ہے، آج بھی کر رہا ہے، اور ہمیشہ کرتا رہے گا۔
سورة الْحَدِیْد 2
اصل الفاظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
خلاصہ تفسیر
اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں سب جو کچھ آسمانوں اور زمین میں (مخلوقات) ہیں (زبان قال سے یا زبان حال سے) اور وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے اسی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی وہی حیات دیتا ہے اور (وہی) موت دیتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے وہی (سب مخلوق سے) پہلے ہے اور وہی (سب کے فناء ذاتی یا صفاتی سے) پیچھے (بھی رہے گا، یعنی اس پر نہ پہلے کبھی عدم طاری ہوا اور نہ آئندہ کسی درجہ میں اس پر عدم طاری ہونے کا امکان ہے، اس لئے سب سے آخر میں وہی ہے) اور وہی (مطلق وجود کے اعتبار سے ازروئے دلائل نہایت) ظاہر ہے اور وہی (کنہ ذات کے اعتبار سے نہایت) مخفی ہے (یعنی کوئی اس کی ذات کا ادراک نہیں…
Read the full tafseer →1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(سبح للہ ما فی السموات والارض وھو العزیز الحکیم) (1) (تسبیح کی حقیقت اور اس کے مختلف پہلو)۔ لفظ تسبیح کی وضاحت جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ اس کے اندر تنزیہہ کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے اور بندگی و عبادت کا بھی یہ چیز قول سے بھی ہوتی ہے اور عمل سے بھی۔ زبان سے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا بھی تسبیح ہے اور نماز پڑھنا اور اس کے حضور میں قیام، رکوع اور سجود بھی تسبیح ہے۔ اس کی شکلیں مختلف ہیں۔ کائنات کی ہر چیز کسی نہ کسی صورت میں اپنے رب کی تسبیح کرتی ہے۔ یہاں تک کہ قرآن میں یہ حقیقت بھی واضح فرمائی گئی ہے کہ جو انسان طوعاً تسبیح نہیں کرتے ہیں انہیں تکوینی دائرے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1-3یہ تسبیح زبان حال سے نہیں، بلکہ زبان کی بات چیت سے ہے اسی لئے فرمایا گیا ' کہ تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے حضرت داؤد ؑ کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے ساتھ پہاڑ بھی تسبیح کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1: دیکھئے سورة بنی اسرائیل : 44
Read the full tafseer →یہ ایک طے شدہ اور نہایت ہی اشاراتی مطلع اور آغاز کلام ہے جو براہ راست دلوں کو اپنی گرفت میں لیتا ہے اور انہیں خوب جھنجھوڑتا ہے ، خوب دباتا ہے اور ان کو لے کر ہر طرف گھماتا ہے۔ اس کائنات کی سیر کراتا ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ہر طرف اللہ ہی اللہ ہے۔ یہ دل اللہ ہی کو محسوس کرتے ہیں۔ اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ ان کی نظر نہیں آتی۔ اللہ کے سوا کوئی جائے فرار نظر نہیں آتی۔ اللہ کے دائرہ علم سے وہ نہیں نکل سکتے۔ اللہ کی طرف رجوع کے سوا کوئی جائے فرار نہیں ہے اور جہاں بھی وہ جاتے ہیں اللہ کا وجہ کریم نظر آتا ہے۔
اس مطلع میں خصائص ربوبیت پر بحث کی گئی ہے جو اس کائنات میں فعال ، موثر اور اس کی خالق ہے۔ ہر…
Read the full tafseer →6 یعنی زبان حال سے یا قال یا دونوں سے۔
Read the full tafseer →آیت 1 { سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”تسبیح کرتی ہے اللہ کی ہر وہ شے جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے۔“
ان سورتوں المُسَبِّحات کا یہ مضمون بہت اہم ہے۔ آگے چل کر سورة الحشر اور سورة الصف میں یہ آیت ”مَا فِیْ“ کے اضافے کے ساتھ اس طرح آئے گی : { سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِج } اور پھر سورة الجمعہ اور سورة التغابن میں مزید ُ پرزور انداز میں فعل مضارع کے ساتھ یوں آئے گا : { یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ }۔ کائنات کی ہرچیز کس طرح اللہ کی تسبیح کرتی ہے ؟ اس کی ایک صورت تو ”تسبیح حالی“ کی ہے جو ہماری سمجھ میں آتی ہے کہ ہرچیز…
Read the full tafseer →1 ہر چیز کی تسبیح کا مفہوم :۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح زبان حال سے بھی ہوسکتی ہے اور قال سے بھی۔ زبان حال سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح یہ ہے کہ کائنات کی ایک ایک چیز خواہ وہ جمادات سے تعلق رکھتی ہو یا نباتات سے یا حیوانات سے اپنی تخلیق اور طریق کار سے واضح طور پر یہ ثبوت فراہم کر رہی ہے کہ اس کا خالق ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہے اور اس نے جو چیز بھی پیدا کی اور بنائی کمال حکمت سے بنائی اور جس مقصد کے لیے بنائی گئی وہ اپنا مقصد پورا کر رہی ہے اور جو تسبیح یہ چیزیں زبان قال سے کر رہی ہیں وہ ہم سمجھ نہیں سکتے۔ (17: 44)
2 چونکہ وہ ہر چیز کا خالق ہے۔ لہذا اس پر پورا پورا تصرف اور اختیار بھی رکھتا ہے…
Read the full tafseer →1۔ اور غوروتامل سے کام لیا جائے تو پھر ہر مخلوق سے توحید وتنزیہ کی دلیل مل رہی ہے) (آیت) ” سبح للہ “۔ یہ تسبیح ہر ہر مخلوق کی اس کے اپنے مرتبہ وجود کی مناسب زبان میں ہوتی ہے۔ انسانوں کیلئے کسی کی زبان، زبان قال ہے۔ اور کسی کی محض زبان حال۔
2۔ (آیت) ” العزیز “۔ زبردست ایسا کہ اس کی مشیت پر کوئی روک، کوئی دباؤ نہیں، اس کا ارادہ سب پر غالب، وہ جو بھی چاہے کرڈالے، (آیت) ” الحکیم “۔ مصلحت سنج ایسا کہ اس کا ہر ادنی سے ادنی فعل بھی انتہائی حکمتوں اور مصلحتوں سے لبریز ہوتا ہے۔ جو کچھ بھی وہ کرتا ہے محض اپنی حکم تکوینی کے ماتحت ومطابق ہی کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ترجمہ : میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، زمین اور آسمان میں جو کچھ ہے وہ اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے یعنی ہر چیز اس کی پاکی بیان کرتی ہے (للہ) میں لام زائدہ ہے من کے بجائے ما کا استعمال اکثر کو غلہ دینے کے اعتبار سے ہے وہ اپنے ملک میں زبردست اور اپنی نصعت میں حکمت والا ہے زمین اور آسمان کی بادشاہت اسی کی ہے پیدا کر کے زندگی دیتا ہے اس کے بعد موت دیتا ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے وہی اول ہے بغیر ابتداء کے ہر چیز سے پہلے اور وہی آخر ہے یعنی بلا نہایت کے ہر چیز کے بعد رہے گا وہی ظاہر ہے اس پر دلائل موجود ہونے کی وجہ سے اور وہ حواس کے ادراک سے مخفی ہے اور ہر شئی کو جاننے…
Read the full tafseer →” اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں سب جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور وہی زبردست اور حکمت والا ہے۔ “
1 س جگہ اور سورة حشر و سورة صف میں سَبَّحَ بصیغہ ماضی اور سورة جمعہ و سورة تغابن میں یُسَبِّحُ بصیغۂ مضارع ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ مخلوق کی طرف اللہ کی پاکی کا اظہار ہمہ وقت ہے ‘ حالات (اور اوقات) کی تبدیلی سے اس میں اختلاف نہیں ہوتا اور سورة بنی اسرائیل میں بصورت مصدر ذکر کرنا ‘ اس ہمہ وقتی تسبیح پر واضح طور پر دلالت کرتا ہے (کیونکہ مصدر کی کسی زمانے کے ساتھ خصوصیت نہیں ہوتی۔ مصدر سے حدوث استمراری معلوم ہوتا ہے۔ (مترجم)
فعل تسبیح خود ہی متعدی ہے کیونکہ تسبیح کا لغوی معنی ہے کسی چیز…
Read the full tafseer →اللہ کی پاکی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں جو کچھ آسمانوں اور زمین میں مخلوقات ہیں اور وہ کافر کو سزا دینے میں زبردست اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے اس نے اس بات کا حکم دیا کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کی جائے۔
Read the full tafseer →1۔ سَبَّحَ ِﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج : یعنی زمین و آسمان کی ہر چیز نے اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کا خالق ومالک اللہ عزوجل ہر عیب اور کمی سے پاک ہے ، اس کی ذات وصفات ، افعال و احکام غرض ہر چیز کسی بھی طرح کے عیب اور نقص سے پاک ہے۔ اس سورت میں اور سورة ٔ صف اور سورة ٔ حشر کے شروع میں ”سبح“ (ماضی) آیا ہے ، سورة ٔ جمعہ اور سورة ٔ تغابن میں ”یسبح“ (مضارع) آیا ہے ، جس میں حال و استقبال دونوں شامل ہیں اور سورة ٔ بنی اسرائیل میں ”سبحن“ (مصدر) آیا ہے ، جس میں دوام پایا جاتا ہے۔ یعنی کائنات کا ذرہ ذرعہ ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کا ہر عیب سے پاک ہوتا بیان کرتا چلا آتا ہے ، اب بھی کر رہا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(سبح للہ ما۔۔۔۔۔۔۔ )
سبح للہ مافی السموات والارض اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کی اور ہر عیب سے اس کی پاکی بیان کی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : آسمان میں جو کچھ ہے یعنی فرشتے اور زمین میں جو کچھ ہے جس میں روح ہو یا نہ ہو اس نے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کا اظہار کیا گیا اور نماز پڑھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد تسبیح دلالت ہے۔ زجا ج نے اس کا انکار کیا اور کہا : اگر مراد تسبیح دلالت اور صنعت کے آثار کا ظہو تھا تو یہ ایسی چیز تھی جس کو عقل میں سمجھنا تھا تو یہ کیوں فرمایا :” ولکن لا تفقھون تسبیھم “ ( الاسرار : 44) یہ تسبیح قول ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کیا گیا ہے : و سخر نا مع دائود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة الحدید مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ والبیہقی نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة الحدید مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔
3 طبرانی وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سورة حدید منگل کے دن نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے لوہے کو بھی منگل کے دن پیدا فرمایا اور آدم علیہ السلا کے بیٹے نے اپنے بھائی کو منگل کے دن قتل کیا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے منگل کے دن پچھنے لگوانے سے منع فرمایا۔
4۔ الدیلمی نے جابر ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ تم لوگ منگل کے دن پچھنے نہ لگواؤ کیونکہ سورة حدید مجھ…
Read the full tafseer →[سَبَّحَ لِلّٰهِ : تسیبح کرتی ہے اللہ کی ][مَا : (ہر) وہ چیز جو ][فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ : آسمانوں اور زمین میں ہے ][وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : اور وہی بالا دست ہے حکمت والا ہے ]
ترکیب : (آیت ۔ 1) سبح فعل ماضی ہے۔ لیکن یہاں یہ ایک آفاقی صداقت بیان کررہا ہے اس لیے اس کا ترجمہ حال میں ہوگا ۔ (دیکھیں آیت نمبر ۔ 2:49، نوٹ ۔ 2 ۔ )
نوٹ ۔ 1: یہ سورة سابق سورة الواقعہ کی مثنی ہے ۔ (یعنی یہ دونوں سورتیں جڑواں بہنیں ہیں ) اگرچہ دونوں میں مکی اور مدنی ہونے کے اعتبار سے زمانی اور مکانی بعد (دوری) ہے لیکن معنوی اعتبار سے دونوں میں بہت زیادہ ربط ہے ۔ سابقہ سورة میں یہ اصولی حقیقت واضح فرمائی…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے، آسمانوں میں اسی کی سلطنت ہے وہ سب کے اعمال سے باخبر ہے
یہاں سے سورة الحدید شروع ہو رہی ہے اوپر چھ آیات کا ترجمہ لکھا گیا ہے۔ ان میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفات جلیلہ عظیمہ بیان فرمائی ہیں۔ ارشاد فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کا ملک اسی کے لیے ہے وہ زندہ بھی کرتا ہے اور موت بھی دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے وہ اول بھی ہے اپنی مخلوق سے پہلے بھی تھا اور آخر بھی ہے یعنی جب مخلوق فنا ہوجائے گی تب بھی باقی رہے گا یعنی اس پر نہ عدم سابق طاری ہوا نہ عدم لاحق طاری ہوگا اور وہ ظاہر بھی ہے کہ دلائل قاہرہ سے اسے پہچانا جاتا ہے اور باطن بھی ہے کہ اس کی ذات کا ادراک نہیں کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
اللہ تعالیٰ کی چند اہم صفات کا ذکر :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” سبح للہ ما فی السموت والارض ....... الی ....... وھو علیم بذات الصدور “۔
اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے زبان حال سے یاقال سے یا دونوں سے وہی بڑی عزت حکمت والا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اسکی عزت وکبریائی اور اسکی شان حکیمی کی گواہی دے رہی ہے اسی کے واسطے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی وہی ان سب کا نظام چلارہا ہے اور اس کی حاکمیت میں کوئی شریک نہیں اسی کی یہ شان ہے کہ وہی جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر بڑا ہی قادر ہے آسمانوں اور زمین پر صرف اسی کا حکم چلتا ہے اور کوئی طاقت اس کے حکم کو روک نہیں…
Read the full tafseer →2:۔ ” سبح للہ۔ الایۃ “ اس آیت میں مسئلہ توحید کا بیان ہے جس کی خاطر مال خرچ کرنے اور جہاد کرنے کا حکم آگے آرہا ہے۔ ” مافی السماوات والارض “ زمین و آسمان کی ساری مخلوق اور پورا نظام کائنات ہر قسم کے شرک سے اللہ تعالیٰ کے تنزہ و تقدس پر شاہد ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ زبان حال اور زبان قال سے گواہی دے رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے۔ علم وقدرت میں، حکمت وصنعت میں، اختیار و تصرف میں اور تمام صفات کارسازی میں کوئی اس کا شریک نہیں اس کے بعد توحید کے تین مراتب کا ذکر ہے۔ دو کا صراحۃً اور ایک کا تبعاً ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الحدید ہے جو اس کی آیت 25 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ حدیدلو ہے کہ کہتے ہیں ، اور اس سورة میں دیگر مضامین کے علاوہ لوہے کی افادیت اور اس کی ضرورت کا ذکر آرہا ہے۔ سورة ق ٓ سے لے کر گذشتہ سورة واقعہ کت مکی سورتیں تھیں۔ جب کہ یہ سورة اور اس کے بعد والی دو مزید سورتیں مدنی ہیں مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ سورة سوۃ زلزال کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورة مبارکہ کی انتیس آیات اور چار رکوع میں اور یہ سورة 544 الفاظ اور 2473 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة :
سابقہ مکی سورتوں کی طرح اس مدنی سورة میں بھی دین کے بنیادی عقائد توحید اور اس کے دلائل ، وقوع قیامت اور جزائے عمل کا…
Read the full tafseer →سَبَّحَ لِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 1
سبح
السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب : یحییٰ ویمیت فی محل الرفع لکونہ جزا المبتداء المحذوف ای ھو۔
تفسیر : اس سے پہلی سورة کو اپنے نام پاک کی تسبیح کرنے پر تمام کیا تھا فسبح باسم ربک العظیم۔ اب اس سورة کی ابتداء میں اس تسبیح کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ فقال سبح للہ مافی السمٰوات والارض کہ تمہیں پر کچھ موقوف نہیں آسمانوں کے رہنے والے فرشتے (اور روحانیات حضرات انبیاء و اولیاء کرام) اور زمین کے رہنے والے ملائکہ و جمادات و نباتات اور کل موجودات اپنی زبان حال سے اس کی یکتائی و صنعت و ربوبیت و کمال کی گواہی دے رہے ہیں اور یہی ان کی تسبیح و تقدیس ہے۔ جو لوگ زبان سے تسبیح و تقدیس کرتے ہیں مومنین و ملائکہ کرام خواہ وہ ارضی ہوں خواہ…
Read the full tafseer →سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (الحدید : 1)
(اللہ ہی کی تسبیح کرتی ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے، وہ غالب اور حکیم ہے۔ )
تسبیح کا مفہوم
سَبَّحَ اگرچہ فعل ماضی ہے اور اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اس نے تسبیح کی ہے۔ لیکن قرآن کریم نے مختلف مواقع پر یُسَبِّحُ یعنی فعل مضارع بھی استعمال کیا ہے جس کا معنی ہے کہ وہ تسبیح کرتا ہے یا کرے گا۔ دونوں کو ملانے سے جو مفہوم نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں اور اس کے لیے کوئی زمانہ مخصوص نہیں۔ جب سے مخلوق کو وجود ملا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط سورت : سورة الواقعہ کے آخر میں حکم ہوا کہ اپنے عظیم رب کی تسبیح پڑھا کریں۔ الحدید کی ابتدا میں یہ ارشادہوا ہے کہ زمین و آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ ” اللہ “ کی تسبیح پڑھتے ہیں کیونکہ ” اللہ “ ہر اعتبار سے غالب اور اس کے ہر کام میں حکمت پائی جاتی ہے۔
سورۃ الحدید ان تین سورتوں میں سے ہے جن کی ابتدا ” سَبَّحَ لِلّٰہِ “ کے پیارے الفاظ سے ہورہی ہے۔ ان پانچ سورتوں کو اہل علم مسبِّحات کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ جن میں سورة الحدید، الحشر اور الصّف ” سَبَّحَ “ کے لفظ سے، سورة الجمعہ اور التغابن ” یُسَبِّحُ “ کے لفظ سے شروع ہوتی ہیں ان الفاظ میں یہ بات بتلائی اور سمجھائی گئی ہے کہ اے انسان جب…
Read the full tafseer →کلمہ کی جہالت اربعہ :
1 : سَبَّحَ لِلّٰہِ اس سورت اور سورة حشر وصف میں سبح للہ سے شروع کیا جو لفظ ماضی ہے اور بعض سورتوں مثلاً جمعہ، تغابن میں مضارع کے لفظ اور سورة بنی اسرائیل میں لفظ مصدر سے اور سورة اعلیٰ میں لفظ امر سے ذکر فرمایا گیا۔ اس کلمہ کی چارجہات ہوئیں۔ نمبر 1۔ مصدر نمبر 2۔ ماضی۔ نمبر 3۔ مضارع۔ نمبر 4۔ امر۔ سبحؔ فعل کبھی لام کے ساتھ متعدی ہوتا ہے اور بعض اوقات متعدی بنفسہٖ ہوتا ہے جیسا اس قول و تسبحوہ اور اس کی اصل متعدی بنفسہٖ ہے کیونکہ سَبَّحْتُہٗ کا معنی میں نے اس کو برائی سے دور کیا۔ یہ سَبَحَ سے منقول ہو کر آیا ہے جس کا معنی جانا اور دور ہونا ہے۔ پس اس میں لام یا تو نصحتہ و…
Read the full tafseer →سورة الحدید
مدنی ہے اور اس کی انتیس 29 آیات ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ 3۔ یہ تسبیح کی سورتیں بعض تو سبح کے لفظ سے شروع ہوتی ہیں اور بعض یسبح کے لفظ سے۔ جس سے یہ مطلب کہ زمین و آسمان کی کل چیزیں ہر زمانہ میں ہر وقت اللہ کو یاد کرتی اور اس کے نام کی تسبیح پڑھتی ہیں۔ سورة بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے کہ پہاڑ ‘ پیڑ ‘ ان سب بیجان چیزوں کی ایک طرح کی خاص تسبیح ہے جو انسان کی سمجھ سے باہر ہے اس میں متاخرین مفسروں نے جو کچھ لکھا ہے وہ اس تفسیر میں لکھا جاسکتا کیونکہ یہ تفسیر بالکل سلف کے اقوال کے تابع ہے۔ عزیز کے معنی یہ ہیں کہ اس کی قدرت کے آگے کوئی چیز مشکل نہیں۔ حکیم کے یہ معنی ہیں کہ اس کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے لہ ملک السموت والارض کا مطلب یہ ہے کہ آسمان و…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالی اپنی عظمت و جلال اور اپنی لا محدود قوت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات، حیوانات ناطقہ اور جمادات وغیرہ اپنے رب کی حمد و ستائش کے ساتھ، اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں اور ان اوصاف سے اسے منزہ قرار دے رہے ہیں جو اس جلال کے لائق نہیں، نیز یہ کہ تمام موجودات اپنے رب کی مطیع اور اس کے غلبے کے سامنے سرنگوں ہے۔ ان موجودات میں اس کی حکمت کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔ بنا بریں فرمایا وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ اور وہ زبردست باحکمت ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام مخلوقات اپنے تمام احوال میں ہر لحاظ سے اپنے رب…
Read the full tafseer →[ 1] تسبیح کا معنی و مفہوم :
تسبیح کا اصل مفہوم ہے تنزیہ، یعنی وہ وحدہٗ لاشریک ہر شائبہ و نقص و عیب سے پاک ہے۔ اور وہ اس سے بھی پاک اور اعلیٰ وبالا ہے کہ کوئی بھی ہستی کسی بھی درجے میں اس کی شریک اور سہیم ہو۔ سو ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے ہر اس چیز سے جو اس کی شان اقدس اعلیٰ کے لائق نہ ہو، خواہ وہ کوئی قول ہو یا فعل، نیز وہ پاک ہے ہر قسم کے شرک اور شائبہ شرک سے، نیز وہ پاک ہے اس سے کہ اس نے اس کاینات کو عبث و بےکار بنایا ہو، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو وہ ہر نقص و عیب اور قصور و کوتاہی سے پاک ہر خوبی کا مالک ہے، تبارک و تعالیٰ ، سو تسبیح میں نفی اور سلب کا پہلو نمایاں ہوتا ہے یعنی وہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ﷲ اور اس کی صفات
تشریح :۔ جیسا کہ ان آیات کریمہ سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ تمام کائنات ایک ہی اللہ بزرگ و برتر کی کمان میں ہے جو حکیم وعلیم، رحیم و غفور اور حمید و وہاب ہے۔ زمان و مکان اللہ کے وجود میں سمٹا ہوا ہے۔ اس کی وضاحت ہم اس حدیث پاک سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ حضررسول کریم ﷺ کی دعا ہے ' تو ہی پہلا تجھ سے پہلے کوئی نہیں، تو ہی آخر ہے تیرے بعد کوئی نہیں، تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی نہیں، تو ہی باطن ہے کوئی تجھ سے مخفی تر نہیں۔ (امام احمد، مسلم، ترمذی اور بیہقی)
اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
زمینوں اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے زبان حال سے بھی اور ہر شے کی اپنی زبان سے جس سے وہ اپنے رب سے مخاطب ہوسکے لہذا اپنے انداز میں زبان قال سے بھی کہ یہی اس کے وجود کا سبب ہے جس شے سے بھی ذکر الٰہی چھوٹ جائے وہ باقی نہیں رہتی سوائے مکلف مخلوق کے کہ اسے اطاعت وعدم اطاعت میں ایک وقت تک کے لیے اختیار بخشا گیا ہے اور اللہ زبردست ہے ہر شے پہ ہر حال میں غالب ہے اور یہ اس کی حکمت بالغہ ہے کہ ہر ایک کو جداگانہ اوصاف عطا فرما کر کائنات کو بسانے کا سامان فرمایا ہے ارض وسماء میں اس کی ریاست و حکومت ہے وہی حیات بانٹنتا ہے اور وہی موت دیتا ہے کہ وہ ہر…
Read the full tafseer →ف 9 بعض زبان قال سے اور بعض زبان حال سے گواہی دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(57:1) سبح للہ ما فی السموت والارض : سبح ماضی واحد مذکر غائب تسبیح (تفعیل) مصدر۔ اس نے پاکی بیان کی۔ اس نے تسبیح کی۔ علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔
اس جگہ (یعنی سورة الحدید) اور سورة حشر اور سورة صف میں سبح بصیغہ ماضٰ اور سورة جمعہ میں اور سورة تغابن میں یسبح بصیغہ مضارع ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ مخلوق کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی پاکی کا اظہار ہمہ وقت ہے۔ (ماضی و مضارع کے صیغوں میں ماضٰ ، حال، مستقبل تمام زمانوں کا ذکر آگیا ہے) حالات اور اوقات کی تبدیلی سے اس میں اختلاف نہیں ہوتا۔
سورة بنی اسرائیل میں بصورت مصدر ذکر کرنا اس ہمہ وقت تسبیح پر واضح طور پر دلالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن۔ آیت نمبر 1 تا 6 ۔
یلج۔ اندر داخل ہوتا ہے۔ یعرج۔ چڑھتا ہے۔ بلند ہوتا ہے۔ ینزل۔ اترتا ہے۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اور ہر مخلوق اس کی حمدو ثنا میں لگی ہوئی ہے ہر ایک اس کی تسبیح میں مشغول ہے لیکن تم نہیں جانتے کہ وہ کس طرح تسبیح اور حمدو ثنا کر رہے ہیں۔ زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے، فرشتے، انسان اور زمین و آسمان کے درمیان جتنی بھی مخلوق ہے وہ اس کی زبان حال سے تعریف و توصیف میں لگی ہوئی ہے۔ زندگی اور موت اسی کے ہاتھ میں ہے کائنات میں کیا کیا انقلابات آرہے ہیں کون سی چیز زمین کے اندر داخل ہو رہی ہے کون سی کونپل زمین سے نکل کر پودا اور درخت بن رہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
توحید کا بیان اور صفات باری تعالی۔
(ف 1) خدا کے نام کی سب آسماوزمین کی مخلوقات ہر ہر ذرہ قطرہ قطرہ ہر وقت تسبیح پڑھتے ہیں اس کا ذکر کرتے ہیں فرمانبردار بندے ہیں وہ بڑی عزت بڑے رتبہ والا ہے اس کی قدرت کے آگے کوئی چیز مشکل نہیں وہ اپنے قضا وقدر کے کارخانہ میں بڑی حکمت والا ہے، اور تمام آسمانوں کے خزانے بارش وغیرہ ، زمین کا خزانہ نباتات وغیرہ سب اسی کی مخلوق ومملوک ہیں وہ زندگی وموت کا مالک ہے ایک دفعہ انسان کو پیدا کیا اور وقت مقررہ پر اس کی روح قبض کرے گا اور نیک وبد کے حساب وکتاب کے لیے پھر وہ انسان کو زندہ کرے گا یہ سب باتیں اس کی قدرت میں ہیں کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة واقعہ کا اختتام اس آیت پر ہوا ہے ۔ کہ پروردگار کی عظمت اور پاکی کا اظہار کرو ۔ اور سورة حدید کی ابتداء یہ ہے ۔ کہ کائنات کی ہر چیز عملاً اپنی دائمی اطاعت شعاری سے اس کی حمدوثنا اور تسبیح میں مصروف ہے ۔ اور تمام اشیاء پر حقیقتاً اسی کا قبضہ واقتدار ہے ۔ وہی زندگی بخشتا ہے ۔ اور وہی موت طاری کرتا ہے ۔ اور اس کے احاطہ قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ اس لئے اگر تم لوگ زبان سے اس حقیقت کا اظہار نہیں کرتے ۔ تو نہ سہی ۔ واقعہ تو یہی ہے ۔ کہ تم عملاً اس کے بنائے ہوئے قانونوں کے سامنے جھکتے ہو ۔
Read the full tafseer →(1) اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے جو مخلوقات آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور وہ کمال قوت اور کمال علم و حکمت کا مالک ہے۔ پاکی بیان کرنا یعنی ہر قسم کے نقص سے تنزیہہ و تقدیس عرب کہا کرتے ہیں سبحتہ بعدتہ عن السوء یعنی میں نے اس کو پاک ظاہر کیا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہر برائی کو اس سے دور کیا اور ہر برائی سے اس کی پاکی بیان کی ۔
تمام مخلوقات کا یہی حال ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تنزیہہ کرتی ہے خواہ زبان حال سے یا زبان قال سے بڑی قوت کا مالک یعنی ہر ایک منکر سے بدلا سے سکتا ہے اور بڑی حکمت والا یعنی ہر مطیع و فرمانبردار کو اپنی حکمت اور اپنے علم کے موافق صلہ دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 1۔ یعنی نہ اس پر عدم سابق طاری ہوا ہے اور نہ عدم لاحق طاری ہوگا۔
2۔ یعنی کوئی اس کی ذات کا ادراک نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ہی کی تسبیح کرتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے
1 ؎۔ (سنبح) کا لفظ با کی تشدید اور زبر سے تین بار قرآن کریم میں بیان ہوا ہے اگرچہ اس مادہ کے الفاظ بہت دفعہ استعمال ہوئے ہیں ۔ اس سے تسبیح ہے اور تسبیح اور تمہید اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے خاص ہے جو خاص الفاظ میں بطور وظیفہ بھی پڑھی جاتی ہے اور لا ریب وہ موجب خیر و برکت ہے لیکن اصل تسبیح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان نقائص سے جو لوگوں نے خوش فہمی اور کم عقلی کی بنا پر ان کی طرف منسوب کردیئے ہیں ۔ پاک و صاف کیا جائے جس طرح اصل تمحید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کمالات کو ظاہر کیا جائے اور اس کی صفات کو بیان کیا جائے ، لا ریب آسمان و زمین کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
Some of the Merits of Surah Al-Hadid
It is recorded in Abu Dawud, Tirmidhi and Nasa'i that Sayyidna ` Irbad Ibn Sariyah ؓ said that the Messenger of Allah ﷺ used to recite Al-Musabbihat before he went to sleep and said: "In them there is a verse that is more meritorious than a thousand verses." The collective name of the series Al-Musabbihat refers to the following five Surahs: [ 1] Al-Hadid; [ 2] Al-Hashar; [ 3] As-Saff; [ 4] Jumu'ah; and [ 5] At-Taghabun. Having cited this Hadith, Ibn Kathir says that the best verse referred to in Surah Al-Hadid is verse [ 3] هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 'That is, "It has always been so that everything in the universe has proclaimed the truth that its Creator and Sustainer is free from every blemish and defect, every weakness, error and evil. He is glorified in His essence, He is glorified in His attributes, He is glorified in His works as well as His commands whether they relate to the creation, or to the religious law for mankind. Here sabbaha has been used in the past tense; at other places yusabbihu has been used which includes both the present and the future tenses. This would signify that every particle in the universe has always been…
Read the full tafseer →