Explained with ayahs 1–3
کل کائنات ثناء خواں ہے
تمام حیوانات، سب نباتات اس کی پاکی بیان کرتے ہیں، ساتواں آسمان، زمینیں، ان کی مخلوق اور ہر ایک چیز اس کی ستائش کرنے میں مشغول ہے گو تم ان کی تسبیح نہ سمجھ سکو اللہ حلیم و غفور ہے۔ اس کے سامنے ہر کوئی پست و عاجز و لاچار ہے، اس کی مقرر کردہ شریعت اور اس کے احکام حکمت سے پر ہیں۔ حقیقی بادشاہ جس کی ملکیت میں آسمان و زمین ہیں وہی ہے، خلق میں متصرف وہی ہے، زندگی موت اسی کے قبضے میں ہے، وہی فنا کرتا ہے، وہی پیدا کرتا ہے۔ جسے جو چاہے عنایت فرماتا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، جو چاہتا ہے ہوجاتا ہے، جو نہ چاہے نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد کی آیت (هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة الْحَدِیْد 1
یعنی ہمیشہ کائنات کی ہر چیز نے اس حقیقت کا اظہار و اعلان کیا ہے کہ اس کا خالق و پروردگار ہر عیب اور نقص اور کمزوری اور خطا اور برائی سے پاک ہے۔ اس کی ذات پاک ہے، اس کی صفات پاک ہیں، اس کے افعال پاک ہیں، اور اس کے احکام بھی، خواہ وہ تکوینی احکام ہوں یا شرعی، سراسر پاک ہیں۔ یہاں سَبَّحَ صیغہ ماضی استعمال کیا گیا ہے، اور بعض دوسرے مقامات پر یُسَبِّحُ صیغہ مضارع استعمال ہوا ہے جس میں حال اور مستقبل دونوں کا مفہوم شامل ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ ہمیشہ اپنے خالق و رب کی پاکی بیان کرتا رہا ہے، آج بھی کر رہا ہے، اور ہمیشہ کرتا رہے گا۔
سورة الْحَدِیْد 2
اصل الفاظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
خلاصہ تفسیر
اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں سب جو کچھ آسمانوں اور زمین میں (مخلوقات) ہیں (زبان قال سے یا زبان حال سے) اور وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے اسی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی وہی حیات دیتا ہے اور (وہی) موت دیتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے وہی (سب مخلوق سے) پہلے ہے اور وہی (سب کے فناء ذاتی یا صفاتی سے) پیچھے (بھی رہے گا، یعنی اس پر نہ پہلے کبھی عدم طاری ہوا اور نہ آئندہ کسی درجہ میں اس پر عدم طاری ہونے کا امکان ہے، اس لئے سب سے آخر میں وہی ہے) اور وہی (مطلق وجود کے اعتبار سے ازروئے دلائل نہایت) ظاہر ہے اور وہی (کنہ ذات کے اعتبار سے نہایت) مخفی ہے (یعنی کوئی اس کی ذات کا ادراک نہیں…
Read the full tafseer →(لہ ملک السموات والارض یحی ویمت و ھو علی کل شی قدیر) (2)
(مزید صفات کا حوالہ)۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کے ہاتھ میں ہے، کوئی دوسرا اس کے اقتدار میں ساجھی نہیں ہے کہ کسی قسم کی مداخلت کرسکے، یحییٰ و یمیت وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے۔ یعنی جب زندگی اس کی بخشی ہوئی ہے اور موت بھی اسی کے حکم سے واقع ہوتی ہے تو اس کی بادشای میں کسی اور کی حصہ داری کی گنجائش کہاں سے نکلی۔ (وھو علی کل شی قدیر) یعنی کوئی کام اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے کہ وہ کسی معاون و مدد گا رکا محتاج ہو۔ اپنی مملکت کے ایک ایک چپہ پر وہ خود قابض و متصرف ہے اور جو چاہے براہ راست اپنے کلمہ کن سے کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1-3یہ تسبیح زبان حال سے نہیں، بلکہ زبان کی بات چیت سے ہے اسی لئے فرمایا گیا ' کہ تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے حضرت داؤد ؑ کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے ساتھ پہاڑ بھی تسبیح کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1: دیکھئے سورة بنی اسرائیل : 44
Read the full tafseer →لہ ملک ............ قدیر (75 : 2) ” زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک وہی ہے ، زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ “
آسمان اور زمین کی ہر چیز نے تسبیح کی ہے اللہ کی ، جو مالک سموت والارض ہے اور اس کی ملکیت میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ پس یہ تسبیح ہے از جانب غلام بحق آقا۔ یہ مالک کوئی دنیاوی مالک نہیں ہے۔ یہ تو موت وحیات کا بھی مالک ہے۔ وہ موت وحیات کا بھی خالق ہے۔ اس نے ہر زندہ کے لئے حیات اور ہر مرنے والے کے لئے موت مقدر کردی ہے۔ لہٰذا حیات وممات اس کی تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں۔
حیات ابھی تک تو راز ہے اس کا سرچشمہ بھی اللہ کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔ آج تک کوئی اللہ کے سوا…
Read the full tafseer →7 یعنی آسمان و زمین میں سب جگہ اسی کا حکم اور اختیار چلتا ہے ایجاد و اعدام کی باگ اسی کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی طاقت اس کے تصرف تکوینی کو روک نہیں سکتی۔
Read the full tafseer →آیت 2 { لَـہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”اسی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی۔“
آیت کے آغاز میں جو حرفِ جار ”ل“ آیا ہے یہ تملیک کے لیے بھی ہوسکتا ہے اور استحقاق کے لیے بھی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی بادشاہی de facto بھی اسی کی ہے اور de jure بھی۔۔۔ اسی کو حاکمیت کا حق پہنچتا ہے اور بالفعل بھی وہی حاکم ہے۔ اسی کو حق پہنچتا ہے کہ وہ مالک ہو اور بالفعل بھی وہی مالک ہے۔
اس سورة مبارکہ میں دین کا ذکر خصوصی طور پر بطور ایک نظام کے کیا گیا ہے اور یہ نظام صرف حکومت الٰہیہ کے زیر سایہ ہی قائم ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت میں اللہ کی ایسی صفات بار بار نمایاں کی گئی ہیں جن کا تعلق طاقت ‘…
Read the full tafseer →3 موت سے زندگی اور زندگی سے موت دینا اس کا ہر وقت کا کرشمہ ہے اور یہ طریقہ کار صرف حیوانات میں ہی نہیں نباتات میں بھی ہر آن جاری وساری ہے جیسا کہ پہلے بہت سے مقامات پر اس کی تشریح گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →3۔ اس کا کوئی شریک نہیں، نہ ملکیت و حکومت میں، نہ جان ڈالنے میں، نہ جان نکالنے میں اور نہ قدرت واختیار میں یہ سب تردید میں ارشاد ہورہا ہے، اس مشرک جاہلی قوموں کے، جنہوں نے یا تو اس کی قدرت واختیار کو محدود سمجھا ہی یا اس کی ملکیت ومالکیت میں دوسروں کو شریک سمجھا ہے اور یا موت وحیات کے دیوتا الگ الگ سمجھے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ترجمہ : میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، زمین اور آسمان میں جو کچھ ہے وہ اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے یعنی ہر چیز اس کی پاکی بیان کرتی ہے (للہ) میں لام زائدہ ہے من کے بجائے ما کا استعمال اکثر کو غلہ دینے کے اعتبار سے ہے وہ اپنے ملک میں زبردست اور اپنی نصعت میں حکمت والا ہے زمین اور آسمان کی بادشاہت اسی کی ہے پیدا کر کے زندگی دیتا ہے اس کے بعد موت دیتا ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے وہی اول ہے بغیر ابتداء کے ہر چیز سے پہلے اور وہی آخر ہے یعنی بلا نہایت کے ہر چیز کے بعد رہے گا وہی ظاہر ہے اس پر دلائل موجود ہونے کی وجہ سے اور وہ حواس کے ادراک سے مخفی ہے اور ہر شئی کو جاننے…
Read the full tafseer →” اس کی سلطنت ہے آسمانوں کی اور زمین کی وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور وہی ہر چیز پر قابو رکھنے والا ہے۔ وہی (سب سے) پہلے ہے اور وہی پیچھے اور وہی ظاہر ہے اور وہی مخفی اور وہی ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ “
لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ.... : آسمانوں پر اور زمین پر اسی کا اقتدار ہے کیونکہ وہی تمام مخلوق کو عدم سے وجود میں لانے والا اور سب پر تصرف کرنے والا ہے۔
وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٌ : اور وہی ہر چیز پر پورا قابو رکھنے والا ہے ‘ زندہ کرنا ہو یا موت دینا یا اس کے علاوہ کوئی اور تصرف سب پر اس کو قدرت ہے۔
Read the full tafseer →آسمانوں کے خزانے یعنی بارش اور زمین کے خزانے یعنی نباتات اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہی دوبارہ زندہ کرے گا اور وہی دنیا میں موت دیتا ہے اور وہی حیات اور موت دینے پر قادر ہے اور وہی ہر چیز سے پہلے ہے اور وہی ہر چیز کے فنا کے بعد ہے اور وہی ہر ایک چیز پر ظاہر ہے اور وہی ہر ایک چیز کے ساتھ پوشیدہ ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے یعنی جتنی چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہیں وہ سب کے پیدا کرنے سے پہلے سے ہے اور زندہ چیز کو موت دینے کے بعد بھی باقی اور ہمیشہ ہے۔
Read the full tafseer →1۔ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج :”لہٗ“ خبر کو پہلے لانے سے حصر پیدا ہوگیا ، یعنی آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے ، کسی اور کی نہیں۔ دوسرے کسی کے پاس بادشاہی اگر ہے تو سارے آسمانوں اور زمین کی نہیں بلکہ زمین کے کسی چھوٹے سے قطعے کی تھوڑے سے وقت کے لیے اور وہ بھی اسی کی عطاء کردہ اور ہر لمحے دوسروں کی محتاج۔ مزید دیکھئے سورة ٔ ملک کی پہلی آیت کی تفسیر۔ پھر کائنات کے سارے اختیارات کے مالک کے مقابلے میں کسی اور کی عبادت کا کیا جواز ہے ؟
2۔ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ ج : اگرچہ یہ دونوں صفات ”لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج“ کے مضمون میں شامل ہیں ، مگر انہیں خاص طور پر الگ اس لیے ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(سبح للہ ما۔۔۔۔۔۔۔ )
سبح للہ مافی السموات والارض اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کی اور ہر عیب سے اس کی پاکی بیان کی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : آسمان میں جو کچھ ہے یعنی فرشتے اور زمین میں جو کچھ ہے جس میں روح ہو یا نہ ہو اس نے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کا اظہار کیا گیا اور نماز پڑھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد تسبیح دلالت ہے۔ زجا ج نے اس کا انکار کیا اور کہا : اگر مراد تسبیح دلالت اور صنعت کے آثار کا ظہو تھا تو یہ ایسی چیز تھی جس کو عقل میں سمجھنا تھا تو یہ کیوں فرمایا :” ولکن لا تفقھون تسبیھم “ ( الاسرار : 44) یہ تسبیح قول ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کیا گیا ہے : و سخر نا مع دائود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة الحدید مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ والبیہقی نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة الحدید مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔
3 طبرانی وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سورة حدید منگل کے دن نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے لوہے کو بھی منگل کے دن پیدا فرمایا اور آدم علیہ السلا کے بیٹے نے اپنے بھائی کو منگل کے دن قتل کیا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے منگل کے دن پچھنے لگوانے سے منع فرمایا۔
4۔ الدیلمی نے جابر ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ تم لوگ منگل کے دن پچھنے نہ لگواؤ کیونکہ سورة حدید مجھ…
Read the full tafseer →[لَهٗ : اسی کے لئے ہے ][مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ : آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ][يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۚ : وہ زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے ][وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : اور وہ ہر چیز پر ][قَدِيْرٌ: قادر ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
﴿ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ﴾ (آسمانوں کا اور زمینوں کا ملک اسی کے لیے ہے اور تمام امور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے) اس میں بندوں کے اعمال بھی ہیں جو قیامت کے دن پیش ہوں گے اور جزا سزا کا فیصلہ ہوگا، وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے کبھی دن بڑا اور کبھی رات بڑی ہوتی ہے یہ سب تصرفات اسی ذات عالی کی ہیں ﴿ وَ هُوَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ 006﴾ اور سینوں کی باتوں کو جانتا ہیـ جس کسی کے دل میں جو بھی کچھ خیال اور وسوسہ آئے اور جو بھی کوئی شخص ایمان قبول کرے یا کفر پر جما رہے اسے ان سب کی خبر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
اللہ تعالیٰ کی چند اہم صفات کا ذکر :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” سبح للہ ما فی السموت والارض ....... الی ....... وھو علیم بذات الصدور “۔
اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے زبان حال سے یاقال سے یا دونوں سے وہی بڑی عزت حکمت والا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اسکی عزت وکبریائی اور اسکی شان حکیمی کی گواہی دے رہی ہے اسی کے واسطے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی وہی ان سب کا نظام چلارہا ہے اور اس کی حاکمیت میں کوئی شریک نہیں اسی کی یہ شان ہے کہ وہی جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر بڑا ہی قادر ہے آسمانوں اور زمین پر صرف اسی کا حکم چلتا ہے اور کوئی طاقت اس کے حکم کو روک نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3:۔ ” لہ ملک السموات والارض “ یہ توھید کا پہلا مرتبہ ہے۔ یعنی سب کا خالق اور پروردگار اللہ تعالیٰ ہی ہے، موت وحیات اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ رہ چیز پر قادر ہے۔ کوئی چیز اس کے تصرف و اقتدار سے باہر نہیں۔ وعلی الاطلاق موجود اول ہے۔ اس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی۔ وہ ازلی ہے اس کی کوئی ابتداء نہیں، وہ آخر ہے۔ ہر چیز فنا ہوگی۔ مگر وہ ابدی ہے اس پر فنا نہیں آئے گی۔ ” والظاھر “ وہ سب پر غالب اور سب سے برتر ہے اس سے اوپر کوئی نہیں اور اس کے سوا کائنات میں کوئی متصرف و مختار نہیں۔ ” والباطن “ وہ ہر پوشیدہ بات کو جانتا ہے۔ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی ملجا وماوی اور جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الحدید ہے جو اس کی آیت 25 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ حدیدلو ہے کہ کہتے ہیں ، اور اس سورة میں دیگر مضامین کے علاوہ لوہے کی افادیت اور اس کی ضرورت کا ذکر آرہا ہے۔ سورة ق ٓ سے لے کر گذشتہ سورة واقعہ کت مکی سورتیں تھیں۔ جب کہ یہ سورة اور اس کے بعد والی دو مزید سورتیں مدنی ہیں مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ سورة سوۃ زلزال کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورة مبارکہ کی انتیس آیات اور چار رکوع میں اور یہ سورة 544 الفاظ اور 2473 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة :
سابقہ مکی سورتوں کی طرح اس مدنی سورة میں بھی دین کے بنیادی عقائد توحید اور اس کے دلائل ، وقوع قیامت اور جزائے عمل کا…
Read the full tafseer →لَہٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0 ۚ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ 0 ۚ وَہُوَعَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 2
ملك) بادشاه)
المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور
وَالمِلْكُ ضربان :
مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20]
( م ل ک ) الملک
۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے .
اور ملک کا لفظ دو طرح پر ہوتا ہے
عملا کسی کا متولی اور حکمران ہونے کو کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب : یحییٰ ویمیت فی محل الرفع لکونہ جزا المبتداء المحذوف ای ھو۔
تفسیر : اس سے پہلی سورة کو اپنے نام پاک کی تسبیح کرنے پر تمام کیا تھا فسبح باسم ربک العظیم۔ اب اس سورة کی ابتداء میں اس تسبیح کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ فقال سبح للہ مافی السمٰوات والارض کہ تمہیں پر کچھ موقوف نہیں آسمانوں کے رہنے والے فرشتے (اور روحانیات حضرات انبیاء و اولیاء کرام) اور زمین کے رہنے والے ملائکہ و جمادات و نباتات اور کل موجودات اپنی زبان حال سے اس کی یکتائی و صنعت و ربوبیت و کمال کی گواہی دے رہے ہیں اور یہی ان کی تسبیح و تقدیس ہے۔ جو لوگ زبان سے تسبیح و تقدیس کرتے ہیں مومنین و ملائکہ کرام خواہ وہ ارضی ہوں خواہ…
Read the full tafseer →لَـہٗ مُلْـکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج یُحْیٖ وَیُمِیْتُ ج وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (الحدید : 2)
(آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک وہی ہے، وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کے ہمہ مقتدر ہونے کی وضاحت
اللہ تعالیٰ کے ہمہ مقتدر اور غالب ہونے کی جو بات گزشتہ آیت میں فرمائی گئی یہ اسی کی مزید وضاحت ہے کہ وہ اتنی بڑی طاقت کا مالک اور اتنی بڑی حکومت کا حکمران ہے کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت اسی کے قبضے میں ہے اور وہی اس کا مالک ہے۔ کوئی دوسرا اس کے اقتدار میں شریک نہیں، کسی کی یہ مجال نہیں کہ اس کے کسی کام میں مداخلت کرسکے۔ حتیٰ کہ زندگی اور موت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نہ صرف ہر چیز پر غالب ہے بلکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی ملک ہے اور وہ ذرّے ذرّے پر دائمی اور کلّی اختیار اور اقتدار رکھنے والا ہے۔
زمین و آسمان کی ہر چیز زبان حال اور قال کے ساتھ اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ ہر چیز کا حقیقی اور دائمی مالک صرف ” اللہ “ ہے۔ ” اللہ “ ہی ہر چیز کی بقاء اور فنا پر اختیار رکھنے والا ہے۔ جب تک چاہتا ہے ہر چیز کو زندگی عطا کرتا ہے اور جب چاہتا ہے اسے فنا کے گھاٹ اتار دیتا ہے کیونکہ وہ موت وحیات پر اختیار رکھتا ہے۔ وہ اس وقت موجود تھا جب کچھ نہیں تھا اور اس وقت بھی موجود ہوگا جب کچھ نہیں ہوگا، وہ اپنی قدرتوں اور نعمتوں کے حوالے سے…
Read the full tafseer →2 : لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (آسمانوں اور زمین کی سلطنت اسی کی ہے) نہ کہ کسی اور کی یُحْیٖ (وہ زندہ کرتا ہے)
مسئلہ : یحییٰ مقام رفع میں واقع ہے ای ھو یحییٰ الموتیٰ وہ مردوں کو زندہ کریگا۔ وَیُمِیْتُ (اور وہ موت دیتا ہے) زندوں کو نمبر 2۔ یہ موضع نصب میں واقع ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : لہ ملک السمٰوٰت والارض محییًا و ممیتًا اس کیلئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اس حالت میں کہ وہ زندگی اور موت دینے والا ہے۔ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ (اور وہ ہر چیز پر قادر ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
تفسیر : آیات 1-3 یعنی وہی ہر چیز سے پہلے ہے بغیر ابتداء کے ہے بلکہ وہ تھا اور کوئی چیز موجود نہ تھی وہ ہر چیز کے فناء ہونے کے بعد وہی آخر ہے انتہاء کے بغیر۔ تمام اشیاء فنا ہوجائیں گی اور وہ باقی رہے گا اور ظاہر رہے گا اور الظاہر وہ غالب ہے ہر چیز پر بلند ہے اور الباطن باطن ہے ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ یہ ابن عباس ؓ کے قول کا معنی ہے اور یمان (رح) فرماتے ہیں ” ھوالاول “ قدیم ہے ” والآخر “ رحیم ہے ” والظاھر “ حلیم ہے اور ” والباطن “ علیم ہے اور سدی (رح) فرماتے ہیں ” ھوالاول “ اپنے احسان کے ساتھ آپ کو۔۔۔ توحید کی معرفت دی۔” والآخر “ اپنی سخاوت کے ساتھ جب آپ کو توبہ کی معرفت دی اس پر جو تونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ 3۔ یہ تسبیح کی سورتیں بعض تو سبح کے لفظ سے شروع ہوتی ہیں اور بعض یسبح کے لفظ سے۔ جس سے یہ مطلب کہ زمین و آسمان کی کل چیزیں ہر زمانہ میں ہر وقت اللہ کو یاد کرتی اور اس کے نام کی تسبیح پڑھتی ہیں۔ سورة بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے کہ پہاڑ ‘ پیڑ ‘ ان سب بیجان چیزوں کی ایک طرح کی خاص تسبیح ہے جو انسان کی سمجھ سے باہر ہے اس میں متاخرین مفسروں نے جو کچھ لکھا ہے وہ اس تفسیر میں لکھا جاسکتا کیونکہ یہ تفسیر بالکل سلف کے اقوال کے تابع ہے۔ عزیز کے معنی یہ ہیں کہ اس کی قدرت کے آگے کوئی چیز مشکل نہیں۔ حکیم کے یہ معنی ہیں کہ اس کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے لہ ملک السموت والارض کا مطلب یہ ہے کہ آسمان و…
Read the full tafseer →پھر اللہ تعالیٰ نے لا محدود اقتدار کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا : لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کا خالق، رازق اور اپنی قدرت کے ساتھ ان کی تدبیر کرنے والا ہے۔ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔
Read the full tafseer →[ 5] اسی کی بادشاہی ہے، سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی یعنی اس پوریکائنات کی بادشاہی۔ کہ اس کی بادشاہی حقیقی ابدی دائمی اور کامل ہے، اور یہ اسی کی اور صرف اسی وحدہ لاشریک کی صفت و شان ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، سو آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات میں دوسرا کوئی بھی نہ اسکا شریک ہے، نہ ہوسکتا ہے سبحانہ وتعالیٰ ، اور مخلوق میں سے جس کو بھی اس دنیا میں کوئی عارضی اور وقتی بادشاہی ملتی ہے وہ سب اسی کی عطا و بخشش سے ملتی ہے اور وہ بھی اسباب کے درجے میں، کہ یہ دنیا ہے ہی دار الاسباب۔ پس جن لوگوں نے اسباب کے خلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ﷲ اور اس کی صفات
تشریح :۔ جیسا کہ ان آیات کریمہ سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ تمام کائنات ایک ہی اللہ بزرگ و برتر کی کمان میں ہے جو حکیم وعلیم، رحیم و غفور اور حمید و وہاب ہے۔ زمان و مکان اللہ کے وجود میں سمٹا ہوا ہے۔ اس کی وضاحت ہم اس حدیث پاک سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ حضررسول کریم ﷺ کی دعا ہے ' تو ہی پہلا تجھ سے پہلے کوئی نہیں، تو ہی آخر ہے تیرے بعد کوئی نہیں، تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی نہیں، تو ہی باطن ہے کوئی تجھ سے مخفی تر نہیں۔ (امام احمد، مسلم، ترمذی اور بیہقی)
اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
زمینوں اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے زبان حال سے بھی اور ہر شے کی اپنی زبان سے جس سے وہ اپنے رب سے مخاطب ہوسکے لہذا اپنے انداز میں زبان قال سے بھی کہ یہی اس کے وجود کا سبب ہے جس شے سے بھی ذکر الٰہی چھوٹ جائے وہ باقی نہیں رہتی سوائے مکلف مخلوق کے کہ اسے اطاعت وعدم اطاعت میں ایک وقت تک کے لیے اختیار بخشا گیا ہے اور اللہ زبردست ہے ہر شے پہ ہر حال میں غالب ہے اور یہ اس کی حکمت بالغہ ہے کہ ہر ایک کو جداگانہ اوصاف عطا فرما کر کائنات کو بسانے کا سامان فرمایا ہے ارض وسماء میں اس کی ریاست و حکومت ہے وہی حیات بانٹنتا ہے اور وہی موت دیتا ہے کہ وہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ف 10 یعنی وہ سب موجودات سے پہلے تھا اور سب موجدات کے فنا ہوجانے کے بعد باقی رہے گا۔11 یا کھلا ہوا اور پوشیدہ اور وہ اس لحاظ سے کہ اس کی کاریگری کے آثار کھلے ہوئے ہیں اور اس کی ذات مقدس ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے۔ آنحضرت نے ظاہر کی تفسیر بلند اور غالب سے کی ہے ایک ماثور دعا ہے : وانت الظاھر فلیس فوقک شی یعنی تو ہیظاہر ہے اور تیرے اوپر کوئی چیز نہیں۔ (ابن کثیر بحوالہ صحیح مسلم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(57:1) سبح للہ ما فی السموت والارض : سبح ماضی واحد مذکر غائب تسبیح (تفعیل) مصدر۔ اس نے پاکی بیان کی۔ اس نے تسبیح کی۔ علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔
اس جگہ (یعنی سورة الحدید) اور سورة حشر اور سورة صف میں سبح بصیغہ ماضٰ اور سورة جمعہ میں اور سورة تغابن میں یسبح بصیغہ مضارع ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ مخلوق کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی پاکی کا اظہار ہمہ وقت ہے۔ (ماضی و مضارع کے صیغوں میں ماضٰ ، حال، مستقبل تمام زمانوں کا ذکر آگیا ہے) حالات اور اوقات کی تبدیلی سے اس میں اختلاف نہیں ہوتا۔
سورة بنی اسرائیل میں بصورت مصدر ذکر کرنا اس ہمہ وقت تسبیح پر واضح طور پر دلالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن۔ آیت نمبر 1 تا 6 ۔
یلج۔ اندر داخل ہوتا ہے۔ یعرج۔ چڑھتا ہے۔ بلند ہوتا ہے۔ ینزل۔ اترتا ہے۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اور ہر مخلوق اس کی حمدو ثنا میں لگی ہوئی ہے ہر ایک اس کی تسبیح میں مشغول ہے لیکن تم نہیں جانتے کہ وہ کس طرح تسبیح اور حمدو ثنا کر رہے ہیں۔ زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے، فرشتے، انسان اور زمین و آسمان کے درمیان جتنی بھی مخلوق ہے وہ اس کی زبان حال سے تعریف و توصیف میں لگی ہوئی ہے۔ زندگی اور موت اسی کے ہاتھ میں ہے کائنات میں کیا کیا انقلابات آرہے ہیں کون سی چیز زمین کے اندر داخل ہو رہی ہے کون سی کونپل زمین سے نکل کر پودا اور درخت بن رہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
توحید کا بیان اور صفات باری تعالی۔
(ف 1) خدا کے نام کی سب آسماوزمین کی مخلوقات ہر ہر ذرہ قطرہ قطرہ ہر وقت تسبیح پڑھتے ہیں اس کا ذکر کرتے ہیں فرمانبردار بندے ہیں وہ بڑی عزت بڑے رتبہ والا ہے اس کی قدرت کے آگے کوئی چیز مشکل نہیں وہ اپنے قضا وقدر کے کارخانہ میں بڑی حکمت والا ہے، اور تمام آسمانوں کے خزانے بارش وغیرہ ، زمین کا خزانہ نباتات وغیرہ سب اسی کی مخلوق ومملوک ہیں وہ زندگی وموت کا مالک ہے ایک دفعہ انسان کو پیدا کیا اور وقت مقررہ پر اس کی روح قبض کرے گا اور نیک وبد کے حساب وکتاب کے لیے پھر وہ انسان کو زندہ کرے گا یہ سب باتیں اس کی قدرت میں ہیں کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة واقعہ کا اختتام اس آیت پر ہوا ہے ۔ کہ پروردگار کی عظمت اور پاکی کا اظہار کرو ۔ اور سورة حدید کی ابتداء یہ ہے ۔ کہ کائنات کی ہر چیز عملاً اپنی دائمی اطاعت شعاری سے اس کی حمدوثنا اور تسبیح میں مصروف ہے ۔ اور تمام اشیاء پر حقیقتاً اسی کا قبضہ واقتدار ہے ۔ وہی زندگی بخشتا ہے ۔ اور وہی موت طاری کرتا ہے ۔ اور اس کے احاطہ قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ اس لئے اگر تم لوگ زبان سے اس حقیقت کا اظہار نہیں کرتے ۔ تو نہ سہی ۔ واقعہ تو یہی ہے ۔ کہ تم عملاً اس کے بنائے ہوئے قانونوں کے سامنے جھکتے ہو ۔
Read the full tafseer →(2) آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اور حکومت اسی کی ہے وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور وہ ہر شئی پر پوری طرح قادر ہے۔ یعنی سب جگہ اسی کا راج اور موت و زندگی اسی کے اختیار میں ہے اور وہ ہر شئی پر قدرت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 1۔ یعنی نہ اس پر عدم سابق طاری ہوا ہے اور نہ عدم لاحق طاری ہوگا۔
2۔ یعنی کوئی اس کی ذات کا ادراک نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →آسمان و زمین کی بادشاہی اسی کے لیے ہے ، وہ ہرچیز پر قادر ہے
2 ؎۔ (یحی) وہ زندگی دیتا ہے ( یمیت ) وہ مارتا ہے ، جو چیز زندہ ہے اس اللہ رب کریم کے زندہ کرنے سے زندہ ہے اور جو مری ہے ، مرتی ہے یا مرے گی اس کے حکم سے مرتی ہے مر رہی ہے اور مرے گی ۔ واضح مطلب یہ ہے کہ اس نے زندگی اور موت کے لیے ایک قانون بنا دیا ہے جو زندہ ہے وہ اس قانون کے تحت زندہ ہے اور جو مرتا ہے اس قانون کے تحت مرتا ہے اور وہ اس بات پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے کہ جس کو وہ زندہ رکھنا چاہے اس کو کوئی مار نہیں سکتا اور جس کو وہ مارنا چاہے اس کو کوئی بھی زندہ نہیں رکھ سکتا اور یہ بات اتنی واضح اور اتنی ظاہر ہے کہ اس کی مزید وضاحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
Some of the Merits of Surah Al-Hadid
It is recorded in Abu Dawud, Tirmidhi and Nasa'i that Sayyidna ` Irbad Ibn Sariyah ؓ said that the Messenger of Allah ﷺ used to recite Al-Musabbihat before he went to sleep and said: "In them there is a verse that is more meritorious than a thousand verses." The collective name of the series Al-Musabbihat refers to the following five Surahs: [ 1] Al-Hadid; [ 2] Al-Hashar; [ 3] As-Saff; [ 4] Jumu'ah; and [ 5] At-Taghabun. Having cited this Hadith, Ibn Kathir says that the best verse referred to in Surah Al-Hadid is verse [ 3] هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 'That is, "It has always been so that everything in the universe has proclaimed the truth that its Creator and Sustainer is free from every blemish and defect, every weakness, error and evil. He is glorified in His essence, He is glorified in His attributes, He is glorified in His works as well as His commands whether they relate to the creation, or to the religious law for mankind. Here sabbaha has been used in the past tense; at other places yusabbihu has been used which includes both the present and the future tenses. This would signify that every particle in the universe has always been…
Read the full tafseer →