Explained with ayahs 1–3
کل کائنات ثناء خواں ہے
تمام حیوانات، سب نباتات اس کی پاکی بیان کرتے ہیں، ساتواں آسمان، زمینیں، ان کی مخلوق اور ہر ایک چیز اس کی ستائش کرنے میں مشغول ہے گو تم ان کی تسبیح نہ سمجھ سکو اللہ حلیم و غفور ہے۔ اس کے سامنے ہر کوئی پست و عاجز و لاچار ہے، اس کی مقرر کردہ شریعت اور اس کے احکام حکمت سے پر ہیں۔ حقیقی بادشاہ جس کی ملکیت میں آسمان و زمین ہیں وہی ہے، خلق میں متصرف وہی ہے، زندگی موت اسی کے قبضے میں ہے، وہی فنا کرتا ہے، وہی پیدا کرتا ہے۔ جسے جو چاہے عنایت فرماتا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، جو چاہتا ہے ہوجاتا ہے، جو نہ چاہے نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد کی آیت (هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ…
Read the full tafseer →سورة الْحَدِیْد 3
یعنی جب کچھ نہ تھا تو وہ تھا اور جب کچھ نہ رہے تو وہ رہے گا۔ وہ سب ظاہروں سے بڑھ کر ظاہر ہے، کیونکہ دنیا میں جو کچھ بھی ظہور ہے اسی کی صفات اور اسی کے افعال اور اسی کے نور کا ظہور ہے۔ اور وہ ہر مخفی سے بڑھ کر مخفی ہے، کیونکہ حواس سے اس کی ذات کو محسوس کرنا تو درکنار، عقل و فکر و خیال تک اس کی کنہ و حقیقت کو نہیں پاسکتے۔ اس کی بہترین تفسیر نبی ﷺ کی ایک دعا کے یہ الفاظ ہیں جنہیں امام احمد، مسلم، ترمذی، اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ سے اور حافظ ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں حضرت عائشہ سے نقل کیا ہے
انت الاول فلیس قبلک شیءٍ تو ہی پہلا ہے، کوئی تجھ سے پہلے نہیں
وانت الاٰخر فلیس…
Read the full tafseer →وساوس شیطانیہ کا علاج
حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اگر کبھی تمہارے دل میں اللہ تعالیٰ اور دین حق کے معاملے میں شیطان کوئی وسوسہ ڈالے تو یہ آیت آہستہ سے پڑھ لیا کرو۔ هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ (ابن کثیر)
اس آیت کی تفسیر اور اول و آخر، ظاہر و باطن کے معنی میں حضرات مفسرین کے اقوال دس سے زیادہ منقول ہیں، جن میں کوئی تعارض نہیں، سبھی کی گنجائش ہے، لفظ اول کے معنی تو تقریباً متعین ہیں، یعنی وجود کے اعتبار سے تمام موجودات و کائنات سے مقدم اور پہلا ہے، کیونکہ ساری موجودات اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اس لئے وہ سب سے اول ہے اور آخر کے معنی بعض…
Read the full tafseer →(ھو الاول والاخر والظاھر والباطن و ھو بالکل شئی علیم) (3) احاطہ قدرت کے بعد یہ اس کے احاطہ علم کا بیان ہے کہ وہی اول ہے اور وہی آخر ہے، جب کچھ نہیں تھا وہ تھا اور جب کچھ نہیں ہوگا تب بھی وہ ہوگا۔ اسی نے ہر چیز کا آغاز کیا ہے اور بالآخر ہر چیز کی وراثت اسی کو لوٹنے والی ہے۔ (والظاھر و الباطن) کی تفسیر نبی ﷺ نے یوں فرمائی ہے۔ (انت الظاھر فلیس فوتک شی وانت الباطن فلیس دونک شی) (تو ظاہر ہے پس کوئی چیز تجھ سے اوپر نہیں اور تو باطن ہے پس کوئی چیز تجھ سے اوجھل نہیں) آیت 13 میں یہ الفاظ بالکل اسی معنی میں استعمال ہوئے ہیں جس معنی میں ہم اندر باہر کے الفاظ بولتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کا علم اندو باہر…
Read the full tafseer →3-1وہی اول ہے یعنی اس سے پہلے کچھ نہ تھا، وہی آخر ہے، اس کے بعد کوئی چیز نہ ہوگی، وہی ظاہر ہے۔ یعنی وہ سب پر غالب ہے، اس پر کوئی غالب نہیں، وہی باطن ہے، یعنی باطن کی ساری باتوں کو صرف وہی جانتا ہے۔
Read the full tafseer →2: اللہ تعالیٰ اول اس معنی میں ہے کہ اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی، اور وہ ہمیشہ سے موجود ہے، وہ آخراس معنی میں ہے کہ جب اس کائنات کی ہر چیز فنا ہوجائے گی تو وہ اس وقت بھی موجود رہے گا، وہ ظاہر اس لحاظ سے ہے کہ اس کے وجود اس کی قدرت اور اس کی حکمت کی نشانیاں اس کائنات میں ہر جگہ پھیلی ہوئی ہیں، جو اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ وہ موجود ہے، اور چھپا ہوا اس معنی میں ہے کہ یہاں دنیا میں وہ آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔
Read the full tafseer →ھوالاول ................ علیم (75 : 3) ” وہی اول بھی ہے اور آخر بھی ، اور ظاہر بھی ہے اور مخفی بھی اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ “ وہ اول یوں ہے کہ اس سے ماقبل کوئی چیز نہیں ہے۔ آخر یوں ہے کہ اس کے بعد کوئی چیز نہ ہوگی وہ ظاہر ہے یعنی اس کے اوپر کوئی چیز نہیں ہے اور وہ باطن ہے یعنی اس سے نیچے کوئی شیئی نہیں ہے۔
اول اور آخر کے الفاظ حقیقت زمانیہ کا استیعاب کرتے ہیں اور ظاہر اور باطن حقیقت مکانیہ کا استیعاب کرتے ہیں۔ مطلقاً ہر زمانے میں وہ موجود ہے اور مطلقاً ہر مکان میں وہ موجود ہے۔ اور کسی زمان ومکان میں قید نہیں ہے۔ اس تصور کے مطابق صرف وہی ہے اور اس کے سوا کوئی نہیں ہے اور ہمارا قلب اور…
Read the full tafseer →8 جب کوئی نہ تھا، وہ موجود تھا، اور کوئی نہ رہے وہ موجود رہے گا،
9 ہر چیز کا وجود ظہور اس کے وجود سے ہے۔ لہذا اس کا وجود اگر ظاہر و باہر نہ ہو تو اور کس کا ہوگا۔ عرش سے فرش تک اور ذرہ سے آفتاب تک ہر چیز کی ہستی اس کی ہستی کی روشن دلیل ہے لیکن اسی کے ساتھ اس کی کنہ ذات اور حقائق صفات تک عقل و ادراک کی رسائی نہیں۔ کسی ایک صفت کا احاطہ بھی کوئی نہیں کرسکتا نہ اپنے قیاس و رائے سے اس کی کچھ کیفیت بیان کرسکتا ہے۔ بایں لحاظ کہہ سکتے ہیں کہ اس سے زیادہ باطن اور پوشیدہ کوئی نہیں۔ بہرحال وہ اندر بھی باہر بھی، ظاہر بھی باطن بھی، کھلے اور چھپے ہر قسم کے احوال کا جاننے والا ہے۔ ظاہر (بمعنی غالب) ایسا کہ…
Read the full tafseer →آیت 3{ ہُوَالْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ } ”وہی اول ہے ‘ وہی آخر ہے ‘ وہی ظاہر ہے ‘ وہی باطن ہے۔“
ایک انسان کے لیے اس کیفیت کو سمجھنا یقینا مشکل ہے کہ ہر زمان ‘ ہر مکان اگر وہ ہی وہ ہے تو پھر باقی سب کیا ہے۔ غالب ؔنے اس صورت حال سے متعلق انسانی حیرت کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے : ؎
جبکہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے ؟
اس آیت کے بارے میں امام رازی رح کا درج ذیل قول بہت فکر انگیز ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اس آیت کو پڑھ کر وہ جلالِ ذات کے رعب کے باعث ساکت و ششدر ہوئے کھڑے ہیں۔ لکھتے ہیں : اِعْلَمْ اَنَّ ھٰذا المَقامَ مقامٌ غامِضٌ عمیقٌ مُہیبٌ”جان لو کہ یہ بہت…
Read the full tafseer →4 یعنی جب کائنات کی کوئی چیز موجود نہ تھی اس وقت بھی اللہ موجود تھا اور جب کائنات کی کوئی چیز باقی نہ رہے گی سب فنا ہوجائیں گی اس وقت بھی وہ موجود رہے گا اور وہ ظاہر اس لحاظ سے ہے کہ ہر چیز کا وجود اور ظہور اس کے وجود سے ہے۔ کائنات اکبر کے نظام میں غور کریں یا کائنات اصغر یا انسان کے جسم کے نظام میں غور کریں تو اس کی قدرت اور اس کے وجود پر بہت سے دلائل مل جاتے ہیں۔ کائنات کی کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اپنے خالق پر رہنمائی نہ کرتی ہو۔ اور وہ باطن اس لحاظ سے ہے کہ حواس خمسہ سے اس کا ادراک تو درکنار ہم عقل سے اس کی ذات یا صفات کے متعلق کوئی صحیح تصور بھی قائم نہیں کرسکتے۔ اس مادی دنیا میں ہمارے…
Read the full tafseer →4۔ (کہ چھوٹی بڑی کوئی سی چیز کہیں کی بھی اس کے دائرہ علم سے باہر نہیں) پہلی آیت کمال قدرت کے بیان میں تھی، یہ آیت کمال علم واحاطہ علمی کے بیان میں ہے۔ مشرک قوموں کو سب سے زیادہ ٹھوکر صفت قدرت وصفت علم ہی کے باب میں لگی ہے۔ (آیت) ” ھو الاول “۔ اس موجود حقیقی کا وجود، ہر دوسرے وجود سے یہاں تک کہ وجود زمان سے بھی مقدم وسابق رہا ہے، عدم سابق کبھی اس پر طاری ہی نہ ہوسکا بعض مشرک قوموں نے اسی کی ذات کو بھی حادث سمجھا ہے۔ یعنی ھو الاول قبل کل شیء بلا ابتداء بل کان ھو ولم یکن شیء موجودا (معالم) ھو القدیم الذی کان قبل کل شیء (مدارک) السابق علی جمیع الموجودات فھو سبحانہ موجود قبل کل شیء حتی الزمان لانہ…
Read the full tafseer →ھو الاول و الآخروا الظاھر وا الباطن ویہ اول ہے یعنی اس سے پہلے کچھ نہ تھا اس لئے کہ تمام موجودات اسی کی پیدا کردہ ہیں اور آخر کے معنی بعض حضرات نے یہ کئے ہیں تمام موجودات کے فنا ہونے کے بعد بھی وہ موجود رہے گا جیسا کہ کل شیء ھالک الا وجھہ میں اس کی تصریح موجود ہے، مطلب یہ ہے کہ جب کچھ نہ تھا تو وہ تھا اور جب کچھ نہ رہے گا تو وہ رہے گا اور سب ظاہروں سے بڑھ کر ظاہر ہے کیونکہ دنیا میں جو کچھ بھی ظاہر ہور ہے اسی کی صفات اسی کے افعال اور اسی کے نور کا ظہور ہے، اور وہ ہر مخفی سے بڑھ کر مخفی ہے، کیونکہ حواس سے اس کی ذات اور اس کی کنہ کو محسوس کرنا تو درکنار عقل و فکر و خیال تک اس کی کنہ اور حقیقت کو…
Read the full tafseer →ھُوَ الْاَوَّلُ : یعنی وہی ہر چیز سے پہلے ہے کوئی اس سے پہلے نہیں کیونکہ ہر موجود چیز کو نیستی سے ہستی میں لانے والا وہی ہے اور اسی نے معدوم کو موجود کیا ہے۔
وَالْاٰخِرُ : یعنی وہی ہر چیز کے فنا ہوجانے کے بعد باقی رہنے والا ہے۔ ہر چیز اپنی ذات کے اعتبار سے فنا پذیر ہے۔ اللہ کا وجود اصل ہے جو قابل زوال نہیں ‘ ہر شے کی ہستی مستعار ہے۔ اللہ کی ہستی کے زیر حکم ہے۔ پس سب سے پیچھے باقی رہ جانے والا وہی ہے (یعنی ہر چیز سے پہلے عدم ہے اور ہر چیز کے وجود پر باعتبار ذات عدم طاری ہونے والا ہے اور اللہ کے وجود پر عدم ثابت نہیں اور نہ اس پر عدم طاری ہوسکتا ہے ‘ پس ہر چیز عدم سابق اور عدم لاحق کے درمیان…
Read the full tafseer →اور ہر ایک چیز پر غالب ہے اور ہر ایک ظاہر و باطن سے واقف اور باخبر ہے اور اس کے اس علم میں سے کسی کے مطلع کرنے کی حاجت نہیں یا مطلب ہے کہ وہ ہر ایک چیز سے پہلے ہے اور اس اولیت کی کوئی انتہا نہیں اور ہر ایک چیز کے بعد بھی ہے اور اس کے بعد رہنے کی کوئی انتہا نہیں یا یہ کہ وہ اول ہے کہ ہر ایک پہلی چیز کو اولیت عطا کرنے والا ہے اور آخر ہے یعنی ہر ایک بعد والی چیز کو اخرویت عطا کرنے والا ہے اور وہ سب سے اول ہے اس سے پہلے کوئی نہیں اور وہ آخر ہے کہ سب کے فنا کرنے کے بعد وہی رہے گا۔
اور وہی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اس کی ذات موت و فنا زوال سے پاک ہے اور کوئی چیز خواہ ظاہر ہو یا پوشیدہ اول ہو یا…
Read the full tafseer →ہُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ ج۔۔۔۔:”ظھر یظھر“ (ف) کا معنی پوشیدہ کے مقابلے میں ظار ہونا بھی ہے اور بلند اور غالب ہونا بھی جیسا کہ فرمایا :(لیظھرہٗ علی الدین کلہ) (التوبۃ : 33) ”تا کہ وہ اسے ہر دین پر غالب کر دے“۔ یہاں بھی ”ھو“ مبتداء کی چاروں خبروں ”الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ ج“ پر الف لام کی وجہ سے حصر پیدا ہو رہا ہے ، یعنی وہی ہے جو سب سے پہلے ہے ، اس کی کوئی ابتداء نہیں اور وہی سب سے آخر ہے ، اس کے بعد کوئی نہیں ، اس کی انتہاء بھی کوئی نہیں ، اس کے سوا سب فناء ہونے والے ہیں ، اس پر فنا نہیں۔ وہی ہے جس کا وجود ظاہر ہے ، جو کائنات کی ہر چیز سے…
Read the full tafseer →ھو الاول والآخر و الظاھر و الباطن اسماء کے معنی میں اختلاف ہے ہم نے انہیں الکتاب الاسنی میں بیان کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی ایسی وضاحت فرمائی ہے جو ہر قول سے غنی کردیتی ہے (1) صحیح مسلم میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے حدیث مروی ہے :” اے اللہ ! تو اول ہے تجھ سے کوئی چیز نہیں، تو آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو ظاہر (غالب) ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں، تو باطن ہے تجھ سے دور کوئی چیز نہیں ہمارے قرضوں کو ادا کرنے کے اسباب پیدا فرما اور ہمیں فقرے غنی کر دے “ یہاں ظاہر سے مراد غالب ہے اور باطن سے مراد عالم ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
وھوبکل شی علیم۔ یعنی جو کچھ ہونے والا ہے اور جو کچھ بعد میں ہوگا ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ایک مخصوص دعاء
11۔ البیہقی نے الاسماء والصفات میں ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے تھے۔
اللہم انت الاول فلا شیء قبلک وانت الاٰخر فلاشیء بعد اعوذبک من شر کل دابۃ ناصیتہا بید واعوذبک من الاثم والکسل ومن عذاب النار ومن عذاب القبر ومن فتنۃ الغنی ومن فتنۃ الفقر واعوذبک من الماثم والمغرم۔
ترجمہ : اے اللہ آپ ہی سب سے اول ہیں آپ سے پہلے کوئی چیز نہیں اور آپ ہی آخر ہیں آپ کے بعد کوئی چیز نہیں میں آپ کی پناہ لیتا ہوں ہر جانور کے شر سے کہ اس کی پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے اور میں آپ سے پناہ لیتا گناہ سے اور سستی اور دوزخ کے عذاب اور قبر کے عذاب سے اور مالداری کے فتنے سے…
Read the full tafseer →[هُوَ الْاَوَّلُ : وہ سب سے پہلا ہے ][وَالْاٰخِرُ : اور آخری ہے ][وَالظَّاهِرُ : اور ظاہر ہونے والا ہے ][وَالْبَاطِنُ ۚ : اور پوشیدہ رہنے والا ہے ][وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ : اور وہ ہر چیز پر ][عَلِيْمٌ : علم رکھنے والا ہے ]
(آیت ۔ 3) الا ول مادہ ” ء و ل “ سے افعل تفضیل میں افعل کے وزن پر اول بنتا ہے جو اول استعمال ہوتا ہے ۔ (دیکھیں آیت نمبر ۔ 2:49، مادہ ، ء و ل) اس لیے اس کے معنی ہیں سب سے پہلا ۔ جبکہ الاخر افعل و تفضیل نہیں ہے، ورنہ افعل کے وزن پر یہ اخر ہوتا ۔ اس لیے یہ فاعل کے وزن پر اسم الفاعل اخر ہے ۔ جس کے معنی ہیں پیچھے ہونے والا یا پیچھے رہنے والا ۔ یہ مفہوم اردو میں عموما لفظ آخری سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
﴿ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ﴾ (آسمانوں کا اور زمینوں کا ملک اسی کے لیے ہے اور تمام امور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے) اس میں بندوں کے اعمال بھی ہیں جو قیامت کے دن پیش ہوں گے اور جزا سزا کا فیصلہ ہوگا، وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے کبھی دن بڑا اور کبھی رات بڑی ہوتی ہے یہ سب تصرفات اسی ذات عالی کی ہیں ﴿ وَ هُوَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ 006﴾ اور سینوں کی باتوں کو جانتا ہیـ جس کسی کے دل میں جو بھی کچھ خیال اور وسوسہ آئے اور جو بھی کوئی شخص ایمان قبول کرے یا کفر پر جما رہے اسے ان سب کی خبر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
اللہ تعالیٰ کی چند اہم صفات کا ذکر :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” سبح للہ ما فی السموت والارض ....... الی ....... وھو علیم بذات الصدور “۔
اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے زبان حال سے یاقال سے یا دونوں سے وہی بڑی عزت حکمت والا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اسکی عزت وکبریائی اور اسکی شان حکیمی کی گواہی دے رہی ہے اسی کے واسطے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی وہی ان سب کا نظام چلارہا ہے اور اس کی حاکمیت میں کوئی شریک نہیں اسی کی یہ شان ہے کہ وہی جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر بڑا ہی قادر ہے آسمانوں اور زمین پر صرف اسی کا حکم چلتا ہے اور کوئی طاقت اس کے حکم کو روک نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3:۔ ” لہ ملک السموات والارض “ یہ توھید کا پہلا مرتبہ ہے۔ یعنی سب کا خالق اور پروردگار اللہ تعالیٰ ہی ہے، موت وحیات اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ رہ چیز پر قادر ہے۔ کوئی چیز اس کے تصرف و اقتدار سے باہر نہیں۔ وعلی الاطلاق موجود اول ہے۔ اس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی۔ وہ ازلی ہے اس کی کوئی ابتداء نہیں، وہ آخر ہے۔ ہر چیز فنا ہوگی۔ مگر وہ ابدی ہے اس پر فنا نہیں آئے گی۔ ” والظاھر “ وہ سب پر غالب اور سب سے برتر ہے اس سے اوپر کوئی نہیں اور اس کے سوا کائنات میں کوئی متصرف و مختار نہیں۔ ” والباطن “ وہ ہر پوشیدہ بات کو جانتا ہے۔ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی ملجا وماوی اور جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الحدید ہے جو اس کی آیت 25 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ حدیدلو ہے کہ کہتے ہیں ، اور اس سورة میں دیگر مضامین کے علاوہ لوہے کی افادیت اور اس کی ضرورت کا ذکر آرہا ہے۔ سورة ق ٓ سے لے کر گذشتہ سورة واقعہ کت مکی سورتیں تھیں۔ جب کہ یہ سورة اور اس کے بعد والی دو مزید سورتیں مدنی ہیں مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ سورة سوۃ زلزال کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورة مبارکہ کی انتیس آیات اور چار رکوع میں اور یہ سورة 544 الفاظ اور 2473 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة :
سابقہ مکی سورتوں کی طرح اس مدنی سورة میں بھی دین کے بنیادی عقائد توحید اور اس کے دلائل ، وقوع قیامت اور جزائے عمل کا…
Read the full tafseer →ہُوَالْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ 0 ۚ وَہُوَبِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ 3
الاول۔
ہر چیز سے پہلا۔ کوئی اس سے پہلے نہیں۔ ہر موجود چیز کو نیستی سے ہستی میں لانے والا وہی ہے۔
الاخر
ہر چیز کے فنا ہوجانے کے بعد باقی رہنے والا۔ ہر چیز اپنی ذات کے اعتبار سے فناء پذیر ہے اللہ تعالیٰ کا وجود اصل ہے جو قابل زوال نہیں۔
الظاھر
۔ ہر چیز سے بڑھ کر اس کا ظہور ہے۔ یہ ظھور سے جس کے معنی ظاہر ہونے بلند جگہ پر ہونے اور قابو پانے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ اسماء الٰہی میں الظاھر سے مراد وہ ذات عالی ہے جو ہر شے سے اوپر ہو اور ہر چیز پر غالب ہو۔
الباطن
سب سے چھپا ہوا۔ بطن وبطرن سے واحد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب : یحییٰ ویمیت فی محل الرفع لکونہ جزا المبتداء المحذوف ای ھو۔
تفسیر : اس سے پہلی سورة کو اپنے نام پاک کی تسبیح کرنے پر تمام کیا تھا فسبح باسم ربک العظیم۔ اب اس سورة کی ابتداء میں اس تسبیح کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ فقال سبح للہ مافی السمٰوات والارض کہ تمہیں پر کچھ موقوف نہیں آسمانوں کے رہنے والے فرشتے (اور روحانیات حضرات انبیاء و اولیاء کرام) اور زمین کے رہنے والے ملائکہ و جمادات و نباتات اور کل موجودات اپنی زبان حال سے اس کی یکتائی و صنعت و ربوبیت و کمال کی گواہی دے رہے ہیں اور یہی ان کی تسبیح و تقدیس ہے۔ جو لوگ زبان سے تسبیح و تقدیس کرتے ہیں مومنین و ملائکہ کرام خواہ وہ ارضی ہوں خواہ…
Read the full tafseer →ھُوَالْاَوَّلُ وُالْاٰخِرُ وَالظَّاھِرُ وُالْبَاطِنُ ج وَھُوَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ۔ (الحدید : 3)
(وہی اول بھی ہے اور آخر بھی، اور ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کی مزید صفات
وہ صرف قادرمطلق ہی نہیں بلکہ کلی علم کا تاجدار بھی ہے۔ اس کے احاطہ علم کا حال یہ ہے کہ وہی اول ہے اور وہی آخر ہے۔ یعنی جب کچھ نہیں تھا، وہ تھا۔ اور جب کچھ نہیں ہوگا تب بھی وہ ہوگا۔ وہ سب ظاہروں سے بڑھ کر ظاہر ہے۔ کیونکہ دنیا میں جو کچھ بھی ظہور ہے اسی کی صفات اور اسی کے افعال اور اسی کے نور کا ظہور ہے۔ اور وہی باطن ہے یعنی ہر مخفی سے بڑھ کر مخفی ہے۔ کیونکہ اس کا ادراک کرنے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نہ صرف ہر چیز پر غالب ہے بلکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی ملک ہے اور وہ ذرّے ذرّے پر دائمی اور کلّی اختیار اور اقتدار رکھنے والا ہے۔
زمین و آسمان کی ہر چیز زبان حال اور قال کے ساتھ اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ ہر چیز کا حقیقی اور دائمی مالک صرف ” اللہ “ ہے۔ ” اللہ “ ہی ہر چیز کی بقاء اور فنا پر اختیار رکھنے والا ہے۔ جب تک چاہتا ہے ہر چیز کو زندگی عطا کرتا ہے اور جب چاہتا ہے اسے فنا کے گھاٹ اتار دیتا ہے کیونکہ وہ موت وحیات پر اختیار رکھتا ہے۔ وہ اس وقت موجود تھا جب کچھ نہیں تھا اور اس وقت بھی موجود ہوگا جب کچھ نہیں ہوگا، وہ اپنی قدرتوں اور نعمتوں کے حوالے سے…
Read the full tafseer →3 : ھُوَ الْاَوَّلُ (وہی پہلے ہے) وہ قدیم ذات ہے جو ہر شئی سے پہلے تھی۔ وَالْاٰخِرُ (اور وہی پیچھے) جو کہ ہر شئی کے ہلاک ہونے کے بعدباقی رہنے والی ہے۔ وَ الظَّاھِرُ (وہی ظاہر ہے) ان دلائل سے جو اس کی ذات پر دلالت کرنے والی ہیں۔ وَالْبَاطِنُ (وہی باطن ہے) کیونکہ وہ مدرک بالحواس نہیں اگرچہ وہ مرئی ہے۔
وائو کا فائدہ :
پہلی وائو کا معنی یہ ہے کہ وہ اولیت و آخریت ہر دو صفات کے جامع ہیں اور تیسری وائو اس لئے کہ وہ ظہور و خفاء کو جامع ہے رہی درمیانی وائو وہ ظاہر کرتی ہے کہ اس کی ذات پہلی دونوں صفات اور پچھلی دونوں صفات کی جامع ہے۔ اس کا وجود ماضی و مستقبل تمام اوقات میں دائمی ہے۔ وہ تمام اوقات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
تفسیر : آیات 1-3 یعنی وہی ہر چیز سے پہلے ہے بغیر ابتداء کے ہے بلکہ وہ تھا اور کوئی چیز موجود نہ تھی وہ ہر چیز کے فناء ہونے کے بعد وہی آخر ہے انتہاء کے بغیر۔ تمام اشیاء فنا ہوجائیں گی اور وہ باقی رہے گا اور ظاہر رہے گا اور الظاہر وہ غالب ہے ہر چیز پر بلند ہے اور الباطن باطن ہے ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ یہ ابن عباس ؓ کے قول کا معنی ہے اور یمان (رح) فرماتے ہیں ” ھوالاول “ قدیم ہے ” والآخر “ رحیم ہے ” والظاھر “ حلیم ہے اور ” والباطن “ علیم ہے اور سدی (رح) فرماتے ہیں ” ھوالاول “ اپنے احسان کے ساتھ آپ کو۔۔۔ توحید کی معرفت دی۔” والآخر “ اپنی سخاوت کے ساتھ جب آپ کو توبہ کی معرفت دی اس پر جو تونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ 3۔ یہ تسبیح کی سورتیں بعض تو سبح کے لفظ سے شروع ہوتی ہیں اور بعض یسبح کے لفظ سے۔ جس سے یہ مطلب کہ زمین و آسمان کی کل چیزیں ہر زمانہ میں ہر وقت اللہ کو یاد کرتی اور اس کے نام کی تسبیح پڑھتی ہیں۔ سورة بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے کہ پہاڑ ‘ پیڑ ‘ ان سب بیجان چیزوں کی ایک طرح کی خاص تسبیح ہے جو انسان کی سمجھ سے باہر ہے اس میں متاخرین مفسروں نے جو کچھ لکھا ہے وہ اس تفسیر میں لکھا جاسکتا کیونکہ یہ تفسیر بالکل سلف کے اقوال کے تابع ہے۔ عزیز کے معنی یہ ہیں کہ اس کی قدرت کے آگے کوئی چیز مشکل نہیں۔ حکیم کے یہ معنی ہیں کہ اس کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے لہ ملک السموت والارض کا مطلب یہ ہے کہ آسمان و…
Read the full tafseer →هُوَ الْاَوَّلُ جس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی۔ وَالْاٰخِرُ جس کے بعد کوئی چیز نہ ہو۔ وَالظَّاهِرُ جس کے اوپر کوئی چیز نہیں۔ وَالْبَاطِنُ جس سے پرے کوئی چیز نہیں۔ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ اس کے علم نے تمام ظواہر و بواطن، تمام بھیدوں، مخفی چیزوں اور تمام متقدم اور متاخر امور کا احاطہ کر رکھا ہے۔
Read the full tafseer →[ 8] وہی اول ہے، سبحانہ وتعالیٰ :
ہر چیز سے، کہ جب کچھ نہیں تھا وہ تھا اور اس کے سوا کچھ بھی نہیں تھا، بحانہ و تعالیٰ ، سو احاطہء قدرت کے ذکر وبیان کے بعد اب یہ اس کے احاطہ علم کا بیان فرمایا ہے س اس کی قدرت بھی کامل اور اس کا علم بھی محیط اور کامل ہے، سبحانہ وتعالیٰ ہر چیز کا آغاز اسی نے فرمایا اور ہر چیز کا وجود اسی کی شان عطا و بخشش کا رہین منت ہے۔ پس سب خالق ومالک اور حاکم و متصرف وہی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ فایاہ نعبدہ فعلیہ نتوکل وبہ نستعین جل جلالہ وعم نوالہ۔
[ 9] اور وہی آخر ہے، سبحانہ وتعالیٰ :
کہ وہ جس طرح ہمیشہ سے ہے اسی طرح ہمیشہ کیلئے رہے گا، سو سب سے آخر میں جب کچھ بھی باقی نہ رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ﷲ اور اس کی صفات
تشریح :۔ جیسا کہ ان آیات کریمہ سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ تمام کائنات ایک ہی اللہ بزرگ و برتر کی کمان میں ہے جو حکیم وعلیم، رحیم و غفور اور حمید و وہاب ہے۔ زمان و مکان اللہ کے وجود میں سمٹا ہوا ہے۔ اس کی وضاحت ہم اس حدیث پاک سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ حضررسول کریم ﷺ کی دعا ہے ' تو ہی پہلا تجھ سے پہلے کوئی نہیں، تو ہی آخر ہے تیرے بعد کوئی نہیں، تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی نہیں، تو ہی باطن ہے کوئی تجھ سے مخفی تر نہیں۔ (امام احمد، مسلم، ترمذی اور بیہقی)
اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
زمینوں اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے زبان حال سے بھی اور ہر شے کی اپنی زبان سے جس سے وہ اپنے رب سے مخاطب ہوسکے لہذا اپنے انداز میں زبان قال سے بھی کہ یہی اس کے وجود کا سبب ہے جس شے سے بھی ذکر الٰہی چھوٹ جائے وہ باقی نہیں رہتی سوائے مکلف مخلوق کے کہ اسے اطاعت وعدم اطاعت میں ایک وقت تک کے لیے اختیار بخشا گیا ہے اور اللہ زبردست ہے ہر شے پہ ہر حال میں غالب ہے اور یہ اس کی حکمت بالغہ ہے کہ ہر ایک کو جداگانہ اوصاف عطا فرما کر کائنات کو بسانے کا سامان فرمایا ہے ارض وسماء میں اس کی ریاست و حکومت ہے وہی حیات بانٹنتا ہے اور وہی موت دیتا ہے کہ وہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ف 10 یعنی وہ سب موجودات سے پہلے تھا اور سب موجدات کے فنا ہوجانے کے بعد باقی رہے گا۔11 یا کھلا ہوا اور پوشیدہ اور وہ اس لحاظ سے کہ اس کی کاریگری کے آثار کھلے ہوئے ہیں اور اس کی ذات مقدس ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے۔ آنحضرت نے ظاہر کی تفسیر بلند اور غالب سے کی ہے ایک ماثور دعا ہے : وانت الظاھر فلیس فوقک شی یعنی تو ہیظاہر ہے اور تیرے اوپر کوئی چیز نہیں۔ (ابن کثیر بحوالہ صحیح مسلم)
Read the full tafseer →(57:3) الاول۔ ہر چیز سے پہلا۔ کوئی اس سے پہلے نہیں۔ ہر موجود چیز کو نیستی سے ہستی میں لانے والا وہی ہے۔
الاخر ہر چیز کے فنا ہوجانے کے بعد باقی رہنے والا۔ ہر چیز اپنی ذات کے اعتبار سے فناء پذیر ہے اللہ تعالیٰ کا وجود اصل ہے جو قابل زوال نہیں۔
الظاھر۔ ہر چیز سے بڑھ کر اس کا ظہور ہے۔ یہ ظھور سے جس کے معنی ظاہر ہونے بلند جگہ پر ہونے اور قابو پانے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ اسماء الٰہی میں الظاھر سے مراد وہ ذات عالی ہے جو ہر شے سے اوپر ہو اور ہر چیز پر غالب ہو۔
الباطن سب سے چھپا ہوا۔ بطن وبطرن سے واحد مذکر اسم فاعل کا صیغہ ہے جو غیر محسوس ہو اور آثار و افعال کے ذریعہ سے اس کا ادراک کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن۔ آیت نمبر 1 تا 6 ۔
یلج۔ اندر داخل ہوتا ہے۔ یعرج۔ چڑھتا ہے۔ بلند ہوتا ہے۔ ینزل۔ اترتا ہے۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اور ہر مخلوق اس کی حمدو ثنا میں لگی ہوئی ہے ہر ایک اس کی تسبیح میں مشغول ہے لیکن تم نہیں جانتے کہ وہ کس طرح تسبیح اور حمدو ثنا کر رہے ہیں۔ زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے، فرشتے، انسان اور زمین و آسمان کے درمیان جتنی بھی مخلوق ہے وہ اس کی زبان حال سے تعریف و توصیف میں لگی ہوئی ہے۔ زندگی اور موت اسی کے ہاتھ میں ہے کائنات میں کیا کیا انقلابات آرہے ہیں کون سی چیز زمین کے اندر داخل ہو رہی ہے کون سی کونپل زمین سے نکل کر پودا اور درخت بن رہی…
Read the full tafseer →(ف 2) الاول، کے معنی ہیں کہ اللہ کی ذات سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی، الاخر، کے معنی یہ ہیں کہ تمام مخلوقات کے فنا ہوجانے کے بعد اسی کی ذات باقی رہے گی ، الظاہر کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کا حکم سب پر غالب ہے اور سب اس کے زیرحکم ہیں الباطن کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے دل کا حال جانتا ہے ، وھوبکل شئی علیم، کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک چیز اسی کی پیداوار کی ہوئی ہے اس لیے کسی چیز کا ظاہر و باطن کوئی حال اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔
(ف 3) جب اللہ تعالیٰ کو زمین وآسمان اور سب مخلوقات کا پیدا کرنا منظور ہوا تو اتوار سے لے کر جمعہ تک چھ روز میں سب کچھ پیدا کیا زیادہ تفصیل اس کی سورة اعراف میں اور سورة…
Read the full tafseer →[1] یعنی جب کچھ نہ تھا تو وہ تھا۔
[2] یعنی جب کچھ نہیں ہوگا تب بھی وہ ہوگا۔
[3] وہ سب ظاہروں سے بڑھ کر ظاہر ہے کیونکہ دنیا میں جو کچھ بھی ظہور ہے اسی کی صفات اور اسی کے افعال کا ظہور ہے۔
[4] یعنی وہ ہر مخفی سے بڑھ کر مخفی ہے کیونکہ نہ تو حواس سے نہ عقل و فکر سے اس کی ذات کا ادراک ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–8
خدا اول کیوں کر ہے ؟
1: خدا کی ایک صفت یہ بھی ہے ۔ کہ وہ اہل ہے ۔ اور اس کو کائنات کی ہر چیز پر تقدم حاصل ہے ۔ مگر قدیم حکماء کے لئے بڑی مشکل کا سامنا تھا ۔ وہ یہ نہیں سمجھتے تھے ۔ کہ اس تقدم کی نوعیت کیا ہے ۔ کیونکر انہوں نے عام طور پر تقدم کی پانچ قسمیں لکھی ہیں :۔ (1) تقدم بالتاثیر ۔ (2) تقدم باالاحتیاج (3) تقدم بالشرف (4) تقدم باالمرتبہ (5) اور تقدم بالریان ۔ اور پانچویں قسم کے تقدم کو تسلیم کرلینے میں انہیں عقلی استخانوں کا ایک انبار نظر آتا تھا ۔ اگر ہم یہ مانتے ہیں ۔ کہ وہ ذات زمانہ ہر شئے سے مقدم ہے ۔ تو خود اس جملے کا مفہوم کیا ہے ۔ کیونکہ اس کو اول کہنا یہ خرازمانے کو مستلزم ہے ۔…
Read the full tafseer →(3) وہی سب سے اول اور سب سے آخر ہے اور وہی ظاہر اور وہی باطن اور مخفی ہے اور وہ ہر چیز کو بخوبی جاننے والا ہے۔ یعنی تمام مخلوقات سے پہلے وہی تھا اور تمام مخلوقات کے بعد وہی رہے گا نہ اس پر عدم سابق طاری ہوا اور نہ عدم لاحق طاری ہوگا جیسا کہ عام مخلوقات دو عدموں کے درمیان ہے سابق میں بھی معدوم تھی اور عدم لاحق کے بعد پھر معدوم ہوگی اور وہ اپنے مطلق وجود او شئونات بےپایا کے اعتبار سے ظاہر اور کنہ ذات کے اعتبار سے بالکل مخفی اور پوشیدہ ہے یعنی کوئی اس کی ذات کا ادراک نہیں کرسکتا اور وہ ہر شئی سے خوب واقف ہے یعنی ہر شئی کو من کل الوجو وہ جانتا ہے اور خودمن وجہ معلوم اور من وجہ نامعلوم۔ سبحانہ ا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 1۔ یعنی نہ اس پر عدم سابق طاری ہوا ہے اور نہ عدم لاحق طاری ہوگا۔
2۔ یعنی کوئی اس کی ذات کا ادراک نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →اول و آخر ، ظاہر و باطن اور ہر ایک چیز کا علم اس کے پاس ہے
3 ؎۔ اول اس لیے کہ جب کچھ نہیں تھا تو وہ موجود تھا اور جب کچھ نہیں رہے گا تو وہ پھر بھی موجود رہے گا۔ وہ ظاہر ہے ایسا کہ اس سے زیادہ کوئی چیز ظاہر نہیں ہے کیونکہ ہر ایک چیز کا وجود اس کی ذات سے قائم ہے اور اس قدر باطن ہے کہ اس کی صفات کو الگ الگ کر کے اگر اس کی ذات کو کوئی مرئی آنکھوں سے دیکھنا چاہے تو یہ بات اس دنیا میں ممکن ہی نہیں خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کیسا ہو جو اس کی ذات کے دیکھنے کا کہے گا وہ جھوٹ بولے گا کیونکہ اس کی ذات نہ تو کسی آلہ سے دیکھی جاسکتی ہے اور نہ ہی کسی طریقہ اور تدبیر سے گویا وہ ذات کے لحاظ سے ایسا باطن ہے…
Read the full tafseer →Remedy for Diabolical Whisperings
Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ said that if the Shaitan casts an evil scruple in anyone's heart, and thus causes skepticism about Allah and the religion of truth, he should softly recite the following verse [ 3]: هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (He is the First and the Last, the Manifest and the Hidden and He is All-Knowing about everything.)
What is meant by Allah's being First and Last, and Manifest and Hidden? There are more than ten different interpretations of these attributes, and they are not contradictory.…
Read the full tafseer →3 That is, "When there was nothing, He was, and when there will be nothing, He will be. He is the most Manifest of all the manifest, for whatever manifests itself in the world, does 50 only by His attributes and His works and His light. And He is the Most Hidden of all the hidden, for not only do the senses fail to percieve Him but the intellect and thought and imagination also cannot attain to His essence and reality. The best commentary in this regard are the words of a supplication of the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace and blessings). which Imam Ahmad, Muslim, Tirmidhi, and…
Read the full tafseer →