Explained with ayahs 4–6
ہر چیز کا خالق ومالک اللہ ہے
اللہ تعالیٰ کا زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کرنا اور عرش پر قرار پکڑنا سورة اعراف کی تفسیر میں پوری طرح بیان ہوچکا ہے اس لئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، اسے بخوبی علم ہے کہ کس قدر بارش کی بوندیں زمین میں گئیں، کتنے دانے زمین میں پڑے اور کیا چارہ پیدا ہوا کس قدر کھیتیاں ہوئیں اور کتنے پھل کھلے، جیسے اور آیت میں ہے (وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ 59) 6۔ الانعام :59) ، غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جنہیں سوائے اس کے اور کوئی جانتا ہی نہیں وہ خشکی اور تری کی تمام چیزوں کا عالم ہے کسی پتے کا گرنا بھی اس کے علم سے باہر نہیں، زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
سورة الْحَدِیْد 4
یعنی کائنات کا خالق بھی وہی ہے اور فرمانروا بھی وہی (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حواشی 41۔ 42 یونس، حاشیہ 4۔ الرعد، حواشی 2 تا 5۔ جلد چہارم، حٰم السجدہ، حواشی 11 تا 15)۔
سورة الْحَدِیْد 5
بالفاظ دیگر وہ محض کلیات ہی کا عالم نہیں ہے بلکہ جزئیات کا علم بھی رکھتا ہے۔ ایک ایک دانہ جو زمین کی تہوں میں جاتا ہے، ایک ایک پتی اور کونپل جو زمین سے پھوٹتی ہے، بارش کا ایک ایک قطرہ جو آسمان سے گرتا ہے، اور بخارات کی ہر مقدر جو سمندروں اور جھیلوں سے اٹھ کر آسمان کی طرف جاتی ہے، اس کی نگاہ میں ہے اس کو معلوم ہے کہ کونسا دانہ زمین میں کس جگہ پڑا ہے، تبھی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
وَهُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ ،" یعنی اللہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی " اس معیت کی حقیقت اور کیفیت کسی مخلوق کے احاطہ علم میں نہیں آسکتی، مگر اس کا وجود یقینی ہے، اس کے بغیر انسان کا نہ وجود قائم رہ سکتا ہے نہ کوئی کام اس سے ہوسکتا ہے، اس کی مشیت وقدرت ہی سے سب کچھ ہوتا ہے، جو ہر حال اور ہر جگہ میں ہر انسان کے ساتھ ہے واللہ اعلم
Read the full tafseer →(ھوالذی خلق السموات والارض فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش یعلم ما یلج فی الارض وما یخرج منھا وما ینزل من السماء وما یعرج فیھا وھو معکم این ما کنتمو اللہ بما تعملون بصیر) (4) یہ اس احاطہ علم وقدرت کی مزید تفصیل ہے کہ اللہ ہی نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ہے اور انکو پیدا کرکے ان کا انتظام دوسروں کے سر ڈال کر وہ کسی گوشے میں نہیں جا بیٹھا ہے۔ بلکہ وہ بذات خود عرش حکومت پر متمکن ہو کر سامنے انتظام کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ عرش تعبیر سے زمام اقتدار اور حکومت کی۔ فی ستۃ ایام کی وضاحت ہم دوسرے مقامات میں کرچکے ہیں کہ اس سے مراد ہمارے ایام نہیں بلکہ خدائی ایام ہیں۔
(کائنات میں جو اہتمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
4-1اس مفہوم کی آیات (اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا ۙ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمْرِهٖ ۭاَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ۭ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ 54) 7۔ الاعراف :54) ، (اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭمَا مِنْ شَفِيْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ ۭ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ۭ اَفَلَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3: تشریح کے لیے دیکھئے سورة اعراف : 54، سورة یونس : 3 اور سورة رعد : 2 یہی حقیقت قرآن کریم نے سورة طه : 5 سورة فرقان : 59، سورة تنزیل السجدہ : 4 اور سورة حم السجدة : 11 میں بھی بیان فرمائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ھوالذی ................ الصدور (6) (75 : 4 تا 6)
” وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا۔ اس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو جو کام بھی تم کرتے ہو اسے وہ دیکھ رہا ہے۔ وہی زمین اور آسمان کی بادشاہی کا مالک ہے اور تمام معاملات فیصلے کے لئے اس کی طرف رجوع کئے جاتے ہیں۔ وہی رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔ “
زمین و آسمان کی تخلیق کی حقیقت ، عرش پر استوا کی حقیقت اور پوری مخلوقات کا…
Read the full tafseer →1 اس کا بیان سورة اعراف میں آٹھویں پارے کے ختم سے کچھ پہلے گزر چکا ہے۔
2 مثلاً بارش کا پانی اور بیج زمین کے اندر جاتا ہے۔ اور کھیتی درخت وغیرہ اس سے باہر نکلتے ہیں۔ اس کا بیان سورة " سبا " میں گزر چکا۔
3 آسمان کی طرف سے اترتے ہیں فرشتے، احکام، قضاء و قدر کے فیصلے، اور بارش وغیرہ اور چڑھتے ہیں بندوں کے اعمال اور ملائکۃ اللہ۔
4 یعنی کسی وقت تم سے غائب نہیں۔ بلکہ جہاں کہیں تم ہو اور جس حال میں ہو وہ خوب جانتا ہے اور تمام کھلے چھپے اعمال کو دیکھتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 4{ ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ } ”وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمان اور زمین کو چھ دنوں میں ‘ پھر وہ متمکن ہوا عرش پر۔“
{ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْہَا وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآئِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْہَا } ”وہ جانتا ہے جو کچھ داخل ہوتا ہے زمین میں اور جو کچھ نکلتا ہے اس سے ‘ اور جو کچھ اترتا ہے آسمان سے اور جو کچھ چڑھتا ہے اس میں۔“
بالکل یہی الفاظ اس سے پہلے سورة سبا کی آیت 2 میں بھی آ چکے ہیں۔ اس فقرے میں بہت سی چیزوں کا احاطہ ہوگیا ‘ مثلاً زمین میں پانی جذب ہوتا ہے ‘ مختلف قسم کے بیج بوئے جاتے…
Read the full tafseer →5 (اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ 54) 7 ۔ الاعراف :54) کی تشریح کے لیے دیکھئے سورة اعراف کی آیت نمبر 54 کا حاشیہ نمبر 54 اور زمین و آسمان کی چھ دن میں پیدائش کے لیے دیکھئے سورة ہود کی آیت 7 کا حاشیہ نمبر 11
6 زمین میں داخل ہونے والی اشیاء میں سب سے اہم بارش کا پانی اور ہر قسم کی نباتات، غلوں اور درختوں کے بیج ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایک ایک دانہ اور ایک ایک بیج کے متعلق واقف ہے کہ وہ کہاں ڈالا گیا اور اسے کتنے عرصے کے بعد زمین سے باہر نکالنا ہے۔ علاوہ ازیں وہ ان مردہ اجسام کو بھی جانتا ہے جو زمین میں دفن کیے جاتے ہیں اور زمین سے نکلنے والی اشیاء میں سے بھی سب سے اہم اشیاء غلے اور میوہ دار درخت ہیں۔ جن پر…
Read the full tafseer →5۔ اس کی صفت خالقیت وصفت حاکمیت کا اثبات۔ (آیت) ” فی ستۃ ایام۔ استوی علی العرش “۔ ان دونوں پر حاشیے سورة الاعراف میں اور کئی بار گزر چکے۔
6۔ (غرض یہ کہ وہ ہر طرح اور ہر اعتبار سے ہمہ داں، ہمہ بین ہے۔ (آیت) ” مایلج فی الارض “۔ مثلا بارش کا پانی۔ (آیت) ” مایخرج منھا “۔ مثلا نباتات۔ (آیت) ” ماینزل من السمآء “۔ مثلا ملائکہ اور احکام تشریعی اور تکوینی۔ (آیت) ” مایعرج فیھا “۔ مثلا ملائکہ اور اعمال صالحہ۔
7۔ حق تعالیٰ کی ہمہ گیری، ہمہ توانی، ہمہ بینی کی مزید تاکید۔ (آیت) ” وھو معکم این ماکنتم “۔ اس کی معیت علمی سے مخلوق کا کوئی بھی مرتبہ وجود خالی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
یعلم مایلج فی الارض و ما یخرج منھا (الآیۃ) یعنی زمین میں بارش کے جو قطرات اور غلہ جات و میوہ جات ہیں اور جو بیج داخل ہوتے ہیں ان کی کمیت و کیفیت کو وہ جانتا ہے وھو معکم اینما کنتم یعنی اللہ علم کے اعتبار سے تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہو اس معیت کی حقیقت اور کیفیت کسی مخلوق کے احاطہ علم میں نہیں آسکتی مگر اس کا وجود یقینی ہے اس کے بغیر انسان کا نہ وجود قائم رہ سکتا ہے اور نہ کوئی کام اس سے ہوسکتا ہے اس کی مشیت اور قدرت ہی سے سب کچھ ہوتا ہے جو ہرحال اور ہر جگہ میں ہر انسان کے ساتھ رہتی ہے۔
Read the full tafseer →وہی تو ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ روز (کی مقدار) میں پیدا کیا پھر تخت
پر قائم ہوا ‘ وہ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو چیز زمین سے برآمد ہوتی ہے اور جو چیز آسمان سے اترتی ہے اور جو چیز اس میں چڑھتی ہے اور وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے ‘ تم جہاں کہیں ہو اور وہ تمہارے سب اعمال کو دیکھتا ہے۔ “
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ : یہ آیت متشابہات میں سے ہے ‘ سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ اس کی مرادی تشریح نہ کی جائے۔ اِسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ کا کیا مطلب ہے ‘ کیا مراد ہے ؟ اس کو اللہ ہی کے سپرد کردیا جائے (یعنی ان متشابہات میں سے جن کی…
Read the full tafseer →اور وہ ایسا ہے کہ اس نے آسمان اور زمین کو دنیا کے ابتدائی دنوں میں چھ روز کی مدت کے زمانہ میں پیدا کیا کہ ہر ایک دن ایک ہزار سال کے برابر تھا جن میں سے پہلا دن اتوار اور آخری جمعہ تھا۔
اور پھر تخت شاہی پر قائم ہوا اور وہ آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے پہلے ہی تخت شاہی پر قائم تھا اور وہ سب کچھ جانتا ہے جو چیز بارش خزانوں اور مردوں میں سے زمین کے اندر داخل ہوتی ہے اور جو چیز اس میں سے نکلتی ہے مثلا نباتات مردے پانی اور خزانے اور جو چیز آسمان سے اترتی ہے جیسا کہ پانی رزق فرشتے اور مصیبتیں اور جو چیز آسمان پر چڑھتی ہے مثلا ملائکہ کراما کاتبین اور وہ تم سے بخوبی واقف ہے خواہ تم خشکی میں ہو یا تری…
Read the full tafseer →۔ ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ : اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ اعراف (54) کی تفسیر۔
2۔ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ط : اس کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ اعراف (54) اور سورة ٔ طہٰ (5) کی تفسیر۔ اس آیت میں مذکور تمام جملے لانے کا مقصد بھی یہ ہے کہ جب یہ سب کچھ اللہ واحد نے کیا ہے تو پھر اس پر ایمان کیوں نہیں لاتے اور اس کے ساتھ شریک کیوں ٹھہراتے ہو، جیسا کہ یہ بات آگے آیت (7) ”امنوا باللہ“ میں صراحت کے ساتھ آرہی ہے۔
3۔ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْہَا۔۔۔۔: اللہ تعالیٰ نے اپنے علم سے تعلق رکھنے والی چیزوں میں ان چیزوں کے بجائے…
Read the full tafseer →(ھو الذی خلق۔۔۔۔ )
1 ؎۔ صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعا والتوبۃ، مایقول عند النوم، جلد 2، صفحہ 348
ھو الذی خلق السموات والارض فی ستۃ ایام ثم استوی علی لعرش اس کی وضاحت سورة الاعراف میں مفصل گزر چکی ہے۔
یعلم ما یلج فی الارض یعنی بارش وغیرہ (1) جو زمین میں داخل ہوتی ہے وما یخرج منھامراد نباتات وغیرہ ہے (2) وما ینزل من السماء یعنی رزق، بارش اور فرشتے۔ وما یعرج فیھا جو آسمانوں کی طرف بلندہوتے ہیں جیسے فرشتے اور بندوں کے اعمال۔ وھو معکم یعنی اپنی قدرت، سلطان اور علم کے ذریعے تمہارے ساتھ ہے۔ این ماکنتم واللہ بما تعملون بصیر۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال دیکھتا ہے اور اس پر کوئی چیز مخفی نہیں (3) اس آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ایک مخصوص دعاء
11۔ البیہقی نے الاسماء والصفات میں ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے تھے۔
اللہم انت الاول فلا شیء قبلک وانت الاٰخر فلاشیء بعد اعوذبک من شر کل دابۃ ناصیتہا بید واعوذبک من الاثم والکسل ومن عذاب النار ومن عذاب القبر ومن فتنۃ الغنی ومن فتنۃ الفقر واعوذبک من الماثم والمغرم۔
ترجمہ : اے اللہ آپ ہی سب سے اول ہیں آپ سے پہلے کوئی چیز نہیں اور آپ ہی آخر ہیں آپ کے بعد کوئی چیز نہیں میں آپ کی پناہ لیتا ہوں ہر جانور کے شر سے کہ اس کی پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے اور میں آپ سے پناہ لیتا گناہ سے اور سستی اور دوزخ کے عذاب اور قبر کے عذاب سے اور مالداری کے فتنے سے…
Read the full tafseer →[هُوَ الَّذِيْ : وہ، وہ ہے جس نے ][ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ : پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ][فِيْ سِـتَّةِ اَيَّامٍ : چھ دنوں میں ][ثُمَّ اسْـتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ ۭ : پھر وہ متمکن ہوا عرش پر ][يَعْلَمُ : وہ جانتا ہے ][مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ : اس کو جو گھستا ہے زمین میں ][وَمَا يَخْــرُجُ مِنْهَا : اور اس کو جو نکلتا ہے اس سے ][وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاۗءِ : اور اس کو جو اترتا ہے آسمان سے ][وَمَا يَعْرُجُ فِيْهَا ۭ : اور اس کو جو چڑھتا ہے اس میں ][وَهُوَ مَعَكُمْ : اور وہ تمہارے ساتھ ہے ][اَيْنَ مَا : جہاں کہیں بھی ][كُنْتُمْ : تم لوگ ہو ][وَاللّٰهُ بِمَا ت : اور اللہ اس کو جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
﴿ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ﴾ (آسمانوں کا اور زمینوں کا ملک اسی کے لیے ہے اور تمام امور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے) اس میں بندوں کے اعمال بھی ہیں جو قیامت کے دن پیش ہوں گے اور جزا سزا کا فیصلہ ہوگا، وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے کبھی دن بڑا اور کبھی رات بڑی ہوتی ہے یہ سب تصرفات اسی ذات عالی کی ہیں ﴿ وَ هُوَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ 006﴾ اور سینوں کی باتوں کو جانتا ہیـ جس کسی کے دل میں جو بھی کچھ خیال اور وسوسہ آئے اور جو بھی کوئی شخص ایمان قبول کرے یا کفر پر جما رہے اسے ان سب کی خبر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
اللہ تعالیٰ کی چند اہم صفات کا ذکر :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” سبح للہ ما فی السموت والارض ....... الی ....... وھو علیم بذات الصدور “۔
اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے زبان حال سے یاقال سے یا دونوں سے وہی بڑی عزت حکمت والا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اسکی عزت وکبریائی اور اسکی شان حکیمی کی گواہی دے رہی ہے اسی کے واسطے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی وہی ان سب کا نظام چلارہا ہے اور اس کی حاکمیت میں کوئی شریک نہیں اسی کی یہ شان ہے کہ وہی جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر بڑا ہی قادر ہے آسمانوں اور زمین پر صرف اسی کا حکم چلتا ہے اور کوئی طاقت اس کے حکم کو روک نہیں…
Read the full tafseer →4:۔ ” ھو الذی خلق السموات “ یہ توحید کے دوسرے مرتبے کا بیان ہے یعنی ساری کائنات کو پیدا کرنے کے بعد تخت بادشاہی پر خود ہی مستوی کائنات کا تمام نظم و نسق اس کے اپنے ہاتھ میں ہے اور کوئی معاملہ اس نے کسی کے حوالے نہیں رکھا۔ نہ اختیار و تصرف میں اس کا کوئی حصہ دار ہے اور نہ علم غیب میں اس کا کوئی شریک ہے وہ زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے علم وقدرت کے اعتبار ہر شخص کے ساتھ ہے اور ہر فرد بشر کا ہر عمل اس کی نگاہوں میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الحدید ہے جو اس کی آیت 25 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ حدیدلو ہے کہ کہتے ہیں ، اور اس سورة میں دیگر مضامین کے علاوہ لوہے کی افادیت اور اس کی ضرورت کا ذکر آرہا ہے۔ سورة ق ٓ سے لے کر گذشتہ سورة واقعہ کت مکی سورتیں تھیں۔ جب کہ یہ سورة اور اس کے بعد والی دو مزید سورتیں مدنی ہیں مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ سورة سوۃ زلزال کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورة مبارکہ کی انتیس آیات اور چار رکوع میں اور یہ سورة 544 الفاظ اور 2473 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة :
سابقہ مکی سورتوں کی طرح اس مدنی سورة میں بھی دین کے بنیادی عقائد توحید اور اس کے دلائل ، وقوع قیامت اور جزائے عمل کا…
Read the full tafseer →ہُوَالَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِـتَّۃِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْـتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ 0 ۭ يَعْلَمُ مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ وَمَا يَخْــرُجُ مِنْہَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاۗءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيْہَا 0 ۭ وَہُوَمَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ 0 ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ 4
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب : یحییٰ ویمیت فی محل الرفع لکونہ جزا المبتداء المحذوف ای ھو۔
تفسیر : اس سے پہلی سورة کو اپنے نام پاک کی تسبیح کرنے پر تمام کیا تھا فسبح باسم ربک العظیم۔ اب اس سورة کی ابتداء میں اس تسبیح کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ فقال سبح للہ مافی السمٰوات والارض کہ تمہیں پر کچھ موقوف نہیں آسمانوں کے رہنے والے فرشتے (اور روحانیات حضرات انبیاء و اولیاء کرام) اور زمین کے رہنے والے ملائکہ و جمادات و نباتات اور کل موجودات اپنی زبان حال سے اس کی یکتائی و صنعت و ربوبیت و کمال کی گواہی دے رہے ہیں اور یہی ان کی تسبیح و تقدیس ہے۔ جو لوگ زبان سے تسبیح و تقدیس کرتے ہیں مومنین و ملائکہ کرام خواہ وہ ارضی ہوں خواہ…
Read the full tafseer →ھُوَالَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَ یَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ط یَعْلَمُ مَایَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یُخْرُجُ مِنْھَا وَمَا یُنْزِلُ مِنَ السَّمَـآئِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْھَا ط وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَاکُنْتُمْ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ (الحدید : 4)
(وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا چھ دنوں میں، پھر وہ عرش پر متمکن ہوا، وہ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے، وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو، اور تم جو کچھ بھی کرتے ہو وہ اسے دیکھ رہا ہے۔ )
صفتِ علم کی وسعت
اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
فہم القرآن
ربط کلام : جو ذات اوّل اور آخر، ظاہر اور باطن اور ہر چیز کا علم رکھتی ہے اسی نے زمین و آسمانوں کو چھ دن میں پیدا کیا ہے۔
” اللہ “ ہی وہ ذات ہے جس نے زمین و آسمانوں کو چھ دن میں پیدا کیا اور پھر عرش پر متمکن ہوا جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ عرش پر متمکن ہونے کا یہ معنٰی نہیں کہ وہ کائنات کے نظام سے لاتعلق ہوچکا ہے ایسا ہرگز نہیں بلکہ وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس سے نکلتا ہے، وہ جانتا ہے جو آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اوپر چڑھتا ہے، وہ سمندر سے اٹھنے والے بخارات، بارش کے قطرات، زمین سے اگنے والی نباتات، آسمان سے اترنے والے ملائکہ اور آسمان کی طرف چڑھنے والے…
Read the full tafseer →4 : ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ (وہی تو ہے جس نے آسمان کو زمین کو چھ روز کی مقدار میں پیدا کیا) قولِ حسن (رح) ہے کہ ایام دنیا کی مقدار اگر وہ پلک جھپک میں بنانا چاہیں تو وہ بناسکتے ہیں۔ لیکن چھ دن کو ایک بنیادبنانا تھا تاکہ اس پر مدار زمانہ ہو۔ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ یَعْلَمُ مَایَلِجُ فِی الْاَرْضِ (پھر وہ تخت پر قائم ہوا۔ وہ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے) جو زمین میں بیج، پانی کے قطرات، خزانے، مردے وغیرہ داخل ہوتے ہیں۔ وَمَا یَخْرُجُ مِنْھَا (اور جو چیز زمین سے برآمد ہوتی ہے) نباتات وغیرہ وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآ ئِ (اور جو آسمان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
تفسیر : آیات 1-3 یعنی وہی ہر چیز سے پہلے ہے بغیر ابتداء کے ہے بلکہ وہ تھا اور کوئی چیز موجود نہ تھی وہ ہر چیز کے فناء ہونے کے بعد وہی آخر ہے انتہاء کے بغیر۔ تمام اشیاء فنا ہوجائیں گی اور وہ باقی رہے گا اور ظاہر رہے گا اور الظاہر وہ غالب ہے ہر چیز پر بلند ہے اور الباطن باطن ہے ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ یہ ابن عباس ؓ کے قول کا معنی ہے اور یمان (رح) فرماتے ہیں ” ھوالاول “ قدیم ہے ” والآخر “ رحیم ہے ” والظاھر “ حلیم ہے اور ” والباطن “ علیم ہے اور سدی (رح) فرماتے ہیں ” ھوالاول “ اپنے احسان کے ساتھ آپ کو۔۔۔ توحید کی معرفت دی۔” والآخر “ اپنی سخاوت کے ساتھ جب آپ کو توبہ کی معرفت دی اس پر جو تونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
4۔ 6۔ تفسیرابن جریر 4 ؎ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور عبد اللہ بن مسعود ؓ اور صحابہ سے پیدائش عالم کے باب میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عرش کے بعد سب سے پہلے پانی پیدا ہوا اور اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا پھر جب اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان اور سب مخلوقات کا پیدا کرنا منظور ہوا تو اتوار سے لے کر جمعہ تک چھ روز میں سب کچھ پیدا کیا۔ زیادہ تفصیل اس کی سورة اعراف اور سورة دخان میں گزر چکی ہے۔ استوی علی العرش کے جو معنی ترجمہ میں بیان کئے گئے ہیں وہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے ایک قول کے موافق ہیں۔ لیکن یہ استویٰ وہ ہے جو اس کی ذات پاک کو سزاوار ہے کیونکہ نہ اس کی ذات…
Read the full tafseer →هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِـتَّةِ اَيَّامٍ ۔ اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پہلا دن اتوار تھا اور آخری دن جمعہ تھا۔ ثُمَّ اسْـتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ پھر عرش پر مستوی ہوا۔ تمام مخلوقات کے اوپر وہ استوا جو اس کے جلال کے لائق ہے۔ يَعْلَمُ مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ اناج کا دانہ، حیوان اور بارش وغیرہ جو کچھ بھی زمین میں داخل ہوتا ہے، وہ اسے جانتا ہے۔ وَمَا يَخْــرُجُ مِنْهَا نباتات، درخت اور حیوانات میں سے جو اس سے نکلتے ہیں وہ انہیں جانتا ہے۔ وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاۗءِ آسمان سے جو فرشتے، تقدیریں اور رزق نازل ہوتے ہیں۔ وَمَا يَعْرُجُ فِيْهَا…
Read the full tafseer →[ 13] کائنات کی تخلیق چھ دنوں میں، اور اس سے مقصود و مراد ؟:
کائنات کا وجود اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و عنایت کا ایک عظیم الشان اور بےمثال مظہر اور نمونہ ہے سو اس کی عظمت کی وضاحت مزید کے طور پر تخلیق کائنات کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ وہ وہی ہے جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں۔ یعنی اتنی مقدار وقت میں، کیونکہ آسمان و زمین کی تخلیق سے قبل یہ معروف دن تو تھے ہی نہیں، اور ہوسکتے ہیں نہیں تھے، کیونکہ ان کا وجود تو سورج کے طلوع و غروب سے وابستہ ہے، اور وہ زمین و آسمان کی تخلیق سے قبل متصور ہی نہیں، اور ان چھ دنوں کی حقیقت کا پورا اور صحیح علم بھی اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ﷲ اور اس کی صفات
تشریح :۔ جیسا کہ ان آیات کریمہ سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ تمام کائنات ایک ہی اللہ بزرگ و برتر کی کمان میں ہے جو حکیم وعلیم، رحیم و غفور اور حمید و وہاب ہے۔ زمان و مکان اللہ کے وجود میں سمٹا ہوا ہے۔ اس کی وضاحت ہم اس حدیث پاک سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ حضررسول کریم ﷺ کی دعا ہے ' تو ہی پہلا تجھ سے پہلے کوئی نہیں، تو ہی آخر ہے تیرے بعد کوئی نہیں، تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی نہیں، تو ہی باطن ہے کوئی تجھ سے مخفی تر نہیں۔ (امام احمد، مسلم، ترمذی اور بیہقی)
اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
زمینوں اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے زبان حال سے بھی اور ہر شے کی اپنی زبان سے جس سے وہ اپنے رب سے مخاطب ہوسکے لہذا اپنے انداز میں زبان قال سے بھی کہ یہی اس کے وجود کا سبب ہے جس شے سے بھی ذکر الٰہی چھوٹ جائے وہ باقی نہیں رہتی سوائے مکلف مخلوق کے کہ اسے اطاعت وعدم اطاعت میں ایک وقت تک کے لیے اختیار بخشا گیا ہے اور اللہ زبردست ہے ہر شے پہ ہر حال میں غالب ہے اور یہ اس کی حکمت بالغہ ہے کہ ہر ایک کو جداگانہ اوصاف عطا فرما کر کائنات کو بسانے کا سامان فرمایا ہے ارض وسماء میں اس کی ریاست و حکومت ہے وہی حیات بانٹنتا ہے اور وہی موت دیتا ہے کہ وہ ہر…
Read the full tafseer →ف 12 جیسے بارش کا پانی اور بیج وغیرہ۔
1 جیسے نباتات اور معدنیات وغیرہ2 جیسے بارش فرشتے، شرعی احکام اور قضاء و قدر کے فیصلے وغیرہ3 جیسے فرشتے اور بندوں کے اعمال وغیرہ4 اس لئے صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ جب حضرت جبرئیل نے آنحضرت سے احسان کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا : احسان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی معیت بلحاظ علم کے ہے۔ کذا قال السلف بلکہ حافظ ابن عبدالبر وغیرہ نے لکھا ہے کہ اس پر صحابہ اور تابعین کا اجماع ہے اور اہل علم میں سے کوئی بھی اس کا مخالف نہیں۔ (ابن کثیر و…
Read the full tafseer →(57:4) ھو الذی : وہی تو ہے جس نے ۔۔
ثم تراخی وقت کے لئے ہے۔ پھر۔
استوی : ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب استوا (افتعال) مصدر۔ سوی حروف مادہ۔ استوی علی سواری پر جم کر بیٹھنا۔ ثم استوی علی العرش پھر وہ تخت حکومت پر متمکن ہوا۔ اس استواء علی العرش کی کیفیت کیا ہے ؟
صاحب تفسیر مظہری لکھتے ہیں :۔ یہ آیت متشابہات میں سے ہے سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ اس کی مراد کی تشریح نہ کی جائے کہ استوی علی العرش کا کیا مطلب ہے ؟ کی مراد ہے ؟ اس کو اللہ ہی کے سپرد کردیا جائے۔ یعنی یہ ان متشابہات میں سے ہے کہ جن کی تشریح نہ شارع نے کی ہے نہ اپنی مراد بیان کی ہے ؟ اور نہ قیاس کو اس میں دخل ہے (تفسیر مظہری)
استوی کے متعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن۔ آیت نمبر 1 تا 6 ۔
یلج۔ اندر داخل ہوتا ہے۔ یعرج۔ چڑھتا ہے۔ بلند ہوتا ہے۔ ینزل۔ اترتا ہے۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اور ہر مخلوق اس کی حمدو ثنا میں لگی ہوئی ہے ہر ایک اس کی تسبیح میں مشغول ہے لیکن تم نہیں جانتے کہ وہ کس طرح تسبیح اور حمدو ثنا کر رہے ہیں۔ زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے، فرشتے، انسان اور زمین و آسمان کے درمیان جتنی بھی مخلوق ہے وہ اس کی زبان حال سے تعریف و توصیف میں لگی ہوئی ہے۔ زندگی اور موت اسی کے ہاتھ میں ہے کائنات میں کیا کیا انقلابات آرہے ہیں کون سی چیز زمین کے اندر داخل ہو رہی ہے کون سی کونپل زمین سے نکل کر پودا اور درخت بن رہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(ف 4) یہ استوی وہ ہے جو اس کی ذات پاک کو سزاوار ہے کیونکہ نہ اس کی ذات کو مخلوقات میں سے کسی کی ذات کے ساتھ کچھ مناسبت ہے نہ اس کی صفات کو کسی کی صفات کے ساتھ، اسی واسطے سلف نے اس طرح کی آیتوں کی تفسیر میں یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ ان آیتوں کے ظاہر معنی کو مدار تلاوت اور ایمان قرار دیتے ہیں اور ان کی تفصیل کو اللہ کے علم پر سونپتے ہیں مخلوقات میں عرش بڑی چیز ہے چناچہ معتبر سند سے تفسیر سعدی بن منصور میں مجاہد کا قول ہے کہ ساتوں آسمان کرسی کے مقابلہ میں ایسے ہیں جس طرح ایک جنگل کے میدان میں ایک آدمی کے ہاتھ کا چھلہ۔ اور یہی حال کرسی کا عرش کے مقابلہ میں ہے۔
(ف 1) اس کا حاصل یہ ہے کہ مثلا زمین…
Read the full tafseer →[5] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة اعراف حواشی 25، 26 صفحہ 382۔
[6] مثلاً بارش کا پانی اور بیج۔
[7] مثلاً نباتات۔
[8] مثلاً ملائکہ اور احکام الٰہی۔
[9] مثلاً ملائکہ اور بندوں کے اعمال صالحہ۔
[10] یعنی کسی جگہ بھی تم اس کے علم، اس کی قدرت پر اس کی فرمانروی اور اس کی تدبیر و انتظام سے باہر نہیں ہو۔ جہاں بھی تم ہو، اللہ کو معلوم ہے کہ تم کہاں ہو، وہاں تمہارا زندہ ہونا بجائے خود اس کی علامت ہے کہ اللہ اسی جگہ تمہاری زندگی کا سامان کر رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–8
خدا اول کیوں کر ہے ؟
1: خدا کی ایک صفت یہ بھی ہے ۔ کہ وہ اہل ہے ۔ اور اس کو کائنات کی ہر چیز پر تقدم حاصل ہے ۔ مگر قدیم حکماء کے لئے بڑی مشکل کا سامنا تھا ۔ وہ یہ نہیں سمجھتے تھے ۔ کہ اس تقدم کی نوعیت کیا ہے ۔ کیونکر انہوں نے عام طور پر تقدم کی پانچ قسمیں لکھی ہیں :۔ (1) تقدم بالتاثیر ۔ (2) تقدم باالاحتیاج (3) تقدم بالشرف (4) تقدم باالمرتبہ (5) اور تقدم بالریان ۔ اور پانچویں قسم کے تقدم کو تسلیم کرلینے میں انہیں عقلی استخانوں کا ایک انبار نظر آتا تھا ۔ اگر ہم یہ مانتے ہیں ۔ کہ وہ ذات زمانہ ہر شئے سے مقدم ہے ۔ تو خود اس جملے کا مفہوم کیا ہے ۔ کیونکہ اس کو اول کہنا یہ خرازمانے کو مستلزم ہے ۔…
Read the full tafseer →(4) وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ دن کی مقدار میں پیدا کیا پھر اپنی شان کے موافق عرش پر قائم اور جلوگر ہوا جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اس کو بھی جانتا ہے اور جو چیز زمین سے نکلتی ہے اس کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ آسمان میں چڑھتا ہے وہ سب کو جانتا ہے اور وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے خواہ تم لوگ کہیں بھی ہو اور جو عمل تم لوگ کرتے ہو اللہ تعالیٰ نے اس سب کو دیکھتا ہے - چھ دن کی مقدار کا زمانہ اس زمانے میں آسمان و زمین کو پیدا کردیا۔ جیسا کہ سورة فصلت میں گزرچکا ہے عرش پر قائم ہونا اور جلوہ گر ہونا یعنی تمام احکام عرش الٰہی سے جاری ہوتے ہیں چونکہ اس…
Read the full tafseer →ف 3۔ مثلا ملائکہ کہ نزول و عروج کرتے ہین، اور مثلا احکام جن کا نزول ہوتا ہے اور اعمال جن کا صعود ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →وہی ہر ایک چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور ہر ایک چیز کا آخر اسی کے پاس ہے
4 ؎ وہ ذات جس نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ ادوار میں پیدا کردیا ( سنۃ اباء) جس کے معنی ہم نے چھ ادوار کیے ہیں اس کی وضاحت ہم پیچھے عروۃ الوثقیٰ جلد سوم سورة الاعراف کی آیت 54 ، جلد پنجم سورة یونس کی آیت 33 ، سورة ہود کی آیت 7 ، جلد ششم سورة الفرقان کی آیت 59 ، جلد ہفتم سورة السجدہ کی آیت 4 ، جلد ہشتم سورة ق کی آیت 38 میں کر آئے ہیں اس لیے اگر اس کی وضاحت دیکھنا چاہیں تو محولہ حوالوں کی طرف مراجعت کریں ( یلج) واحد مذکر غائب مضارع اس کی اصل ول ج ہے اور ولوج مصدر منصوب ہو تو معنی ہوں گے داخل ہوجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ (...And He is with you wherever you are, ...57:4) No man is able to comprehend the essential nature of Allah's company or His being with us, though it is absolutely true that He is with us, because no man can exist or do any work without it. The Divine Will [ mashiyyah ] and power is necessary for everything. Therefore, Allah is with every human being in every situation, at every place. Allah knows best!
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
4 That is, He alone is the Creator of the universe as well as Its Ruler. (For further explanation, see E.N.'s 41, 42 of AI-A'raf, E.N.4 of Yunus, E.N.'s 2 to 5 of Ar-Ra'd, E.N,'s 11 to 15 of Ha Mim As-Sajdah).
5 In other words, He is not only the Knower of the wholes but also of the parts. He knows each seed that goes under the layers of the soil, each leaf and bud that comes out of the soil, each rain-drop that falls from the sky, and each molecule of the vapour that ascends from the seas and lakes to the sky. He is aware of every seed Iying anywhere under the soil. That is how He causes it…
Read the full tafseer →