Explained with ayahs 4–6
ہر چیز کا خالق ومالک اللہ ہے
اللہ تعالیٰ کا زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کرنا اور عرش پر قرار پکڑنا سورة اعراف کی تفسیر میں پوری طرح بیان ہوچکا ہے اس لئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، اسے بخوبی علم ہے کہ کس قدر بارش کی بوندیں زمین میں گئیں، کتنے دانے زمین میں پڑے اور کیا چارہ پیدا ہوا کس قدر کھیتیاں ہوئیں اور کتنے پھل کھلے، جیسے اور آیت میں ہے (وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ 59) 6۔ الانعام :59) ، غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جنہیں سوائے اس کے اور کوئی جانتا ہی نہیں وہ خشکی اور تری کی تمام چیزوں کا عالم ہے کسی پتے کا گرنا بھی اس کے علم سے باہر نہیں، زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
سورة الْحَدِیْد 4
یعنی کائنات کا خالق بھی وہی ہے اور فرمانروا بھی وہی (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حواشی 41۔ 42 یونس، حاشیہ 4۔ الرعد، حواشی 2 تا 5۔ جلد چہارم، حٰم السجدہ، حواشی 11 تا 15)۔
سورة الْحَدِیْد 5
بالفاظ دیگر وہ محض کلیات ہی کا عالم نہیں ہے بلکہ جزئیات کا علم بھی رکھتا ہے۔ ایک ایک دانہ جو زمین کی تہوں میں جاتا ہے، ایک ایک پتی اور کونپل جو زمین سے پھوٹتی ہے، بارش کا ایک ایک قطرہ جو آسمان سے گرتا ہے، اور بخارات کی ہر مقدر جو سمندروں اور جھیلوں سے اٹھ کر آسمان کی طرف جاتی ہے، اس کی نگاہ میں ہے اس کو معلوم ہے کہ کونسا دانہ زمین میں کس جگہ پڑا ہے، تبھی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
وَهُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ ،" یعنی اللہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی " اس معیت کی حقیقت اور کیفیت کسی مخلوق کے احاطہ علم میں نہیں آسکتی، مگر اس کا وجود یقینی ہے، اس کے بغیر انسان کا نہ وجود قائم رہ سکتا ہے نہ کوئی کام اس سے ہوسکتا ہے، اس کی مشیت وقدرت ہی سے سب کچھ ہوتا ہے، جو ہر حال اور ہر جگہ میں ہر انسان کے ساتھ ہے واللہ اعلم
Read the full tafseer →(لہ ملک السموات والارض والی اللہ ترجع الامور) (5)
یعنی اللہ تعالیٰ صرف ہر چیز سے واقف ہی نہیں ہے بلکہ عملاً تمام امور کا مرجع و ماویٰ بھی وہی ہے۔ سارے امور اسی کے حکم سے جاری ہوتے ہیں اور پھر ان سب کی رپورٹ اسی کے آگے پیش ہوتی ہے۔ اس کے کارندے جملہ ہدایات کے لیے اسی سے رجوع کرتے اور اپنی کارگزاریاں اسی کے حضور میں پیش کرتے ہیں۔ نہ کوئی اپنی صوابدید پر کچھ کرنے کا مجاز ہے اور نہ کوئی اس کے آگے مسئولیت سے بری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
4-1اس مفہوم کی آیات (اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا ۙ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمْرِهٖ ۭاَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ۭ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ 54) 7۔ الاعراف :54) ، (اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭمَا مِنْ شَفِيْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ ۭ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ۭ اَفَلَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3: تشریح کے لیے دیکھئے سورة اعراف : 54، سورة یونس : 3 اور سورة رعد : 2 یہی حقیقت قرآن کریم نے سورة طه : 5 سورة فرقان : 59، سورة تنزیل السجدہ : 4 اور سورة حم السجدة : 11 میں بھی بیان فرمائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ھوالذی ................ الصدور (6) (75 : 4 تا 6)
” وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا۔ اس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو جو کام بھی تم کرتے ہو اسے وہ دیکھ رہا ہے۔ وہی زمین اور آسمان کی بادشاہی کا مالک ہے اور تمام معاملات فیصلے کے لئے اس کی طرف رجوع کئے جاتے ہیں۔ وہی رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔ “
زمین و آسمان کی تخلیق کی حقیقت ، عرش پر استوا کی حقیقت اور پوری مخلوقات کا…
Read the full tafseer →5 یعنی اسکی قلمرو سے نکل کر کہیں نہیں جاسکتے۔ تمام آسمان و زمین میں اسی اکیلے کی حکومت ہے اور آخرکار سب کاموں کا فیصلہ وہیں سے ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 5{ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے۔“
اللہ تعالیٰ کی ”بادشاہی“ کے بارے میں تکرار و تاکید کا خصوصی اسلوب ملاحظہ ہو۔ آیت 2 کے ہوبہو الفاظ یہاں پھر دہرائے گئے ہیں۔
اس مضمون کے حوالے سے یہ نکتہ بھی سمجھنے کا ہے کہ جس طرح اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں اسی طرح اس کے علاوہ کوئی اور حاکم و مقتدر بھی نہیں۔ چناچہ جس طرح اللہ کو اکیلے معبود کے طور پر ماننا ضروری ہے ‘ اسی طرح توحید کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اللہ کی زمین پر صرف اسی کی بادشاہی قائم ہو اور اس کے تمام احکام عملاً نافذ ہوں۔
{ وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۔ } ”اور تمام معاملات اسی کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
8 یعنی کائنات کی ہر چیز پر اللہ تعالیٰ کی فرمانروائی ہے۔ ہر چیز سے وہ جو کام چاہتا ہے لے رہا ہے۔ اور جب چاہے گا اس نظام کو درہم برہم کرکے ایک دوسرا عالم قائم کردے گا۔ تم اس کی قلمرو سے بھاگ کر نہ اب کہیں جاسکتے ہو نہ آخرت کے دن کہیں جاسکو گے اور تمہارے اعمال کا ریکارڈ پہلے ہی اس کے پاس موجود ہے۔ اور ہر معاملہ کا اور ہر کام کا انجام بھی اسی کی طرف ہے اور فیصلہ بھی وہیں سے صادر ہوگا۔
Read the full tafseer →8۔ (نہ کہ کسی اور کی طرف) (آیت) ” الامور “۔ کے عموم میں جو ہر وعرض سب ہی آگئے۔ حشر میں سب کی راجعیت صرف ذات حق تعالیٰ ہی کی جانب ہوگی۔ اس میں بہت سے باطل مذہبوں کی تردید آگئی۔ جنہوں نے حشر میں مرجعیت عام کے متعلق کسی اور ذات کو قرار دے رکھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
یعلم مایلج فی الارض و ما یخرج منھا (الآیۃ) یعنی زمین میں بارش کے جو قطرات اور غلہ جات و میوہ جات ہیں اور جو بیج داخل ہوتے ہیں ان کی کمیت و کیفیت کو وہ جانتا ہے وھو معکم اینما کنتم یعنی اللہ علم کے اعتبار سے تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہو اس معیت کی حقیقت اور کیفیت کسی مخلوق کے احاطہ علم میں نہیں آسکتی مگر اس کا وجود یقینی ہے اس کے بغیر انسان کا نہ وجود قائم رہ سکتا ہے اور نہ کوئی کام اس سے ہوسکتا ہے اس کی مشیت اور قدرت ہی سے سب کچھ ہوتا ہے جو ہرحال اور ہر جگہ میں ہر انسان کے ساتھ رہتی ہے۔
Read the full tafseer →لہ ملک السموت والارض والی اللہ ترجع الامور .
” آسمان و زمین کی سلطنت اسی کی ہے اور اللہ کی طرف سب امور لوٹ جائیں گے۔ “
لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ... آغاز آفرنیش کا ذکر کر کے یہ آیت ذکر کی تھی اور دوبارہ اب یہاں انجام امور کے ساتھ اسکا ذکر کیا۔
گویا یہ آیت آغاز اور انجام دونوں کی تمہید ہے۔
Read the full tafseer →اسی کے قبضہ قدرت میں آسمانوں اور زمین کے خزانے ہیں اور آخرت میں تمام کاموں کا انجام اسی کے سامنے لوٹ جائے گا۔
Read the full tafseer →1۔ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج : یہ جملہ آیت (2) میں گزرا ہے ، دوبارہ تاکید کے لیے لایا گیا ہے۔
2۔ وَاِلَی اللہ ِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ :”الی اللہ“ پہلے لانے کا مطلب یہ ہے کہ تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جانے ہیں، کسی اور کی طرف نہیں ، لہٰذا وہی تمام اعمال کا فیصلہ فرمائے گا اور ان کی جزاء یا سزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
لہ ملک السموات والارض یہ تکرار تاکید کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی حقیقت میں مبعود ہے۔ والی اللہ ترجع الامور۔ امور سے مراد آخرت میں مخلوقات کے امور ہیں۔ حضرت حسن بصری، اعرج، یعقوب، ابن عامر، ابو حیوہٗ ابن محیصن، حمید، اعمش، حمزہ، کسائی اور خلف نے ترجع پڑھا ہے (4) باقی قراء نے ترجع پڑھا ہے۔
یولج الیل فی النھار ویلجھ النھار فیل اللیل سورة آل عمران میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ ھو علیم بذات الصدور۔ اس پر ضمائر مخفی نہیں، جس کی یہ صفت ہو تو جائز نہیں کہ اس کے غیر کی عبادت کی جائے۔
(امنوا باللہ ورسولہ۔۔۔۔ )
1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 470 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ ایضاً 4 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ایک مخصوص دعاء
11۔ البیہقی نے الاسماء والصفات میں ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے تھے۔
اللہم انت الاول فلا شیء قبلک وانت الاٰخر فلاشیء بعد اعوذبک من شر کل دابۃ ناصیتہا بید واعوذبک من الاثم والکسل ومن عذاب النار ومن عذاب القبر ومن فتنۃ الغنی ومن فتنۃ الفقر واعوذبک من الماثم والمغرم۔
ترجمہ : اے اللہ آپ ہی سب سے اول ہیں آپ سے پہلے کوئی چیز نہیں اور آپ ہی آخر ہیں آپ کے بعد کوئی چیز نہیں میں آپ کی پناہ لیتا ہوں ہر جانور کے شر سے کہ اس کی پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے اور میں آپ سے پناہ لیتا گناہ سے اور سستی اور دوزخ کے عذاب اور قبر کے عذاب سے اور مالداری کے فتنے سے…
Read the full tafseer →[لَهٗ : اس کے لیے ہی ہے ] [مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ : آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ] [وَاِلَى اللّٰهِ : اور اللہ کی طرف ہی ] [ تُرْجَعُ : لوٹائے جاتے ہیں ] [ الْاُمُوْرُ : سارے معاملات ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
﴿ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ﴾ (آسمانوں کا اور زمینوں کا ملک اسی کے لیے ہے اور تمام امور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے) اس میں بندوں کے اعمال بھی ہیں جو قیامت کے دن پیش ہوں گے اور جزا سزا کا فیصلہ ہوگا، وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے کبھی دن بڑا اور کبھی رات بڑی ہوتی ہے یہ سب تصرفات اسی ذات عالی کی ہیں ﴿ وَ هُوَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ 006﴾ اور سینوں کی باتوں کو جانتا ہیـ جس کسی کے دل میں جو بھی کچھ خیال اور وسوسہ آئے اور جو بھی کوئی شخص ایمان قبول کرے یا کفر پر جما رہے اسے ان سب کی خبر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
اللہ تعالیٰ کی چند اہم صفات کا ذکر :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” سبح للہ ما فی السموت والارض ....... الی ....... وھو علیم بذات الصدور “۔
اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے زبان حال سے یاقال سے یا دونوں سے وہی بڑی عزت حکمت والا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اسکی عزت وکبریائی اور اسکی شان حکیمی کی گواہی دے رہی ہے اسی کے واسطے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی وہی ان سب کا نظام چلارہا ہے اور اس کی حاکمیت میں کوئی شریک نہیں اسی کی یہ شان ہے کہ وہی جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر بڑا ہی قادر ہے آسمانوں اور زمین پر صرف اسی کا حکم چلتا ہے اور کوئی طاقت اس کے حکم کو روک نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5:۔ ” لہ ملک السموات “ یہ توحید کے تیسرے مرتبے کا اعادہ ہے خالق ومالک بھی وہی ہے اور تخت بادشاہی پر بھی وہی مستوی ہے اور کائنات کے تمام معاملات اسی کی طرف راجع ہیں۔ اور کائنات میں وہی متصرف اور مختار ہے۔ ” یولج الیل فی النہار “ یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار و تصرف کا ایک نمونہ ہے یعنی رات دن کا آنا جانا اور ان کا گھٹنا اور بڑھنا اللہ کے اختیار میں ہے اور اس کا علم اس قدر محیط اور کامل ہے کہ وہ سینوں کے پوشیدہ رازوں کو بھی اچھی طرح جانتا ہے۔ جب ساری کائنات کا خالق و مربی اور ساری کائنات میں بلا شرکت غیرے متصرف و مختار وہی ہے تو لامحالہ وہی سب کا کارساز ہے۔ اور حاجات و مصائب میں مافوق الاسباب پکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الحدید ہے جو اس کی آیت 25 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ حدیدلو ہے کہ کہتے ہیں ، اور اس سورة میں دیگر مضامین کے علاوہ لوہے کی افادیت اور اس کی ضرورت کا ذکر آرہا ہے۔ سورة ق ٓ سے لے کر گذشتہ سورة واقعہ کت مکی سورتیں تھیں۔ جب کہ یہ سورة اور اس کے بعد والی دو مزید سورتیں مدنی ہیں مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ سورة سوۃ زلزال کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورة مبارکہ کی انتیس آیات اور چار رکوع میں اور یہ سورة 544 الفاظ اور 2473 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة :
سابقہ مکی سورتوں کی طرح اس مدنی سورة میں بھی دین کے بنیادی عقائد توحید اور اس کے دلائل ، وقوع قیامت اور جزائے عمل کا…
Read the full tafseer →لَہٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0 ۭ وَاِلَى اللہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ 5
إلى
إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب : یحییٰ ویمیت فی محل الرفع لکونہ جزا المبتداء المحذوف ای ھو۔
تفسیر : اس سے پہلی سورة کو اپنے نام پاک کی تسبیح کرنے پر تمام کیا تھا فسبح باسم ربک العظیم۔ اب اس سورة کی ابتداء میں اس تسبیح کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ فقال سبح للہ مافی السمٰوات والارض کہ تمہیں پر کچھ موقوف نہیں آسمانوں کے رہنے والے فرشتے (اور روحانیات حضرات انبیاء و اولیاء کرام) اور زمین کے رہنے والے ملائکہ و جمادات و نباتات اور کل موجودات اپنی زبان حال سے اس کی یکتائی و صنعت و ربوبیت و کمال کی گواہی دے رہے ہیں اور یہی ان کی تسبیح و تقدیس ہے۔ جو لوگ زبان سے تسبیح و تقدیس کرتے ہیں مومنین و ملائکہ کرام خواہ وہ ارضی ہوں خواہ…
Read the full tafseer →لَـہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ (الحدید : 5)
(وہی زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، اور تمام معاملات فیصلے کے لیے اسی کی طرف رجوع کیے جاتے ہیں۔ )
یعنی اللہ تعالیٰ جس طرح کائنات کی ہر چیز اور ہر تبدیلی سے واقف ہے اسی طرح وہ کائنات کی وسعتوں کے باوجود مکمل طور پر اس کا مرجع و ماویٰ بھی ہے۔ سارے امور اسی کے حکم سے جاری ہوتے ہیں اور پھر ان سب کی رپورٹ اسی کے آگے پیش ہوتی ہے۔ کارکنانِ قضاء و قدر اسی کے احکام کو نافذ کرتے ہیں۔ اور اسی کے سامنے جوابدہی کے پابند ہیں۔ کوئی کارکن بھی اپنی صوابدید پر کام کرنے کا مجاز نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
فہم القرآن
ربط کلام : جو ذات اوّل اور آخر، ظاہر اور باطن اور ہر چیز کا علم رکھتی ہے اسی نے زمین و آسمانوں کو چھ دن میں پیدا کیا ہے۔
” اللہ “ ہی وہ ذات ہے جس نے زمین و آسمانوں کو چھ دن میں پیدا کیا اور پھر عرش پر متمکن ہوا جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ عرش پر متمکن ہونے کا یہ معنٰی نہیں کہ وہ کائنات کے نظام سے لاتعلق ہوچکا ہے ایسا ہرگز نہیں بلکہ وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس سے نکلتا ہے، وہ جانتا ہے جو آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اوپر چڑھتا ہے، وہ سمندر سے اٹھنے والے بخارات، بارش کے قطرات، زمین سے اگنے والی نباتات، آسمان سے اترنے والے ملائکہ اور آسمان کی طرف چڑھنے والے…
Read the full tafseer →5 : لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (آسمان و زمین کی سلطنت اسی کی ہے اور اللہ ہی کی طرف سب امور لوٹ جائیں گے)
Read the full tafseer →4 ۔” ھوالذی خلق السموات والارض فی ستۃ ایام ثم استویٰ علی العرش یعلم مایلج فی الارض وما یخرج منھا وما ینزل من السماء وما یعرج فیھا وھو معکم “ علم کے ساتھ۔ ” اینما کنتم واللہ بما تعملون بصیر “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
4۔ 6۔ تفسیرابن جریر 4 ؎ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور عبد اللہ بن مسعود ؓ اور صحابہ سے پیدائش عالم کے باب میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عرش کے بعد سب سے پہلے پانی پیدا ہوا اور اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا پھر جب اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان اور سب مخلوقات کا پیدا کرنا منظور ہوا تو اتوار سے لے کر جمعہ تک چھ روز میں سب کچھ پیدا کیا۔ زیادہ تفصیل اس کی سورة اعراف اور سورة دخان میں گزر چکی ہے۔ استوی علی العرش کے جو معنی ترجمہ میں بیان کئے گئے ہیں وہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے ایک قول کے موافق ہیں۔ لیکن یہ استویٰ وہ ہے جو اس کی ذات پاک کو سزاوار ہے کیونکہ نہ اس کی ذات…
Read the full tafseer →لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ملکیت تخلیق اور عبدیت کے اعتبار سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ہے، وہ اپنے اوامر کونی و قدری اور اوامر شرعی جو حکمت ربانی کے مطابق جاری وساری ہیں، کے ذریعے سے ان میں جو چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ تمام اعمال اور عمل کرنے والے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ بندے اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے پس وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا، وہ نیکوکار کو اس کی نیکی کا اور بدکار کو اس کی بدی کا بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
[ 21] سب کا مررجع و مادٰی بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے :
سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں سب امور۔ اس دنیا میں بھی، کہ ہوتا وہی کچھ ہے جو اس کو منظور ہوتا ہے اور آخرت میں بھی، تاکہ ہر کوئی اپنے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ پاس کے، سو صرف یہی بات نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف و آگاہ ہے اور بس، نہیں بلکہ جملہ امور کا مادی اور مرجع بھی وہی وحدہٗ لاشریک ہے، سارے کام اسی کے اذن و حکم سے ہوتے ہیں، اور پھر ان سب کی رپورٹ بھی اسی کے آگے پیش ہوتی ہے اس کے کارندے جملہ ہدایت کے لئے اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اپنی کارگزاریاں اسی کے حضور پیش کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ﷲ اور اس کی صفات
تشریح :۔ جیسا کہ ان آیات کریمہ سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ تمام کائنات ایک ہی اللہ بزرگ و برتر کی کمان میں ہے جو حکیم وعلیم، رحیم و غفور اور حمید و وہاب ہے۔ زمان و مکان اللہ کے وجود میں سمٹا ہوا ہے۔ اس کی وضاحت ہم اس حدیث پاک سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ حضررسول کریم ﷺ کی دعا ہے ' تو ہی پہلا تجھ سے پہلے کوئی نہیں، تو ہی آخر ہے تیرے بعد کوئی نہیں، تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی نہیں، تو ہی باطن ہے کوئی تجھ سے مخفی تر نہیں۔ (امام احمد، مسلم، ترمذی اور بیہقی)
اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
زمینوں اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے زبان حال سے بھی اور ہر شے کی اپنی زبان سے جس سے وہ اپنے رب سے مخاطب ہوسکے لہذا اپنے انداز میں زبان قال سے بھی کہ یہی اس کے وجود کا سبب ہے جس شے سے بھی ذکر الٰہی چھوٹ جائے وہ باقی نہیں رہتی سوائے مکلف مخلوق کے کہ اسے اطاعت وعدم اطاعت میں ایک وقت تک کے لیے اختیار بخشا گیا ہے اور اللہ زبردست ہے ہر شے پہ ہر حال میں غالب ہے اور یہ اس کی حکمت بالغہ ہے کہ ہر ایک کو جداگانہ اوصاف عطا فرما کر کائنات کو بسانے کا سامان فرمایا ہے ارض وسماء میں اس کی ریاست و حکومت ہے وہی حیات بانٹنتا ہے اور وہی موت دیتا ہے کہ وہ ہر…
Read the full tafseer →ف 5 ” نہ کہ کسی اور کی طرف “ لہٰذا وہی تمام اعمال کا فیصلہ فرمائے گا اور بندوں کو اس کے متعلق جزا یا سزا دے گا
Read the full tafseer →(57:5) والی اللہ ترجع الامور اور اللہ کی طرف ہی سب امور لوٹائے جائیں گے۔
صاحب تفسیر حقانی اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں :۔ عالم سفلی سے لے کر عالم علوی تک اور جسمانی سے لے کر روحانی تک جن کے کاروبار اسباب پر مبنی ہیں۔ سب اسباب اسی مسبب الاسباب کی طرف رجوع کرتے ہیں یعنی قبضہ قدرت میں ہیں۔ اور تمام کائنات کا وہی مرکز اصلی ہے۔ سب کا میلان اسی طرف ہے۔
ہمہ رو سوئے تو بود و ہمہ سو روئے تو بود
” مگر بہیمیت کے ظلمات اور رسم و رواج کی تقلید کے پتھر اس کے راستے میں حائل ہو کر اس کو اس طرف جانے سے روک دیتے ہیں انہیں کے دور کرنے کو انبیاء (علیہم السلام) اور کتابیں بھیجی جاتی ہیں “۔
ترجع مضارع مجہول واحد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن۔ آیت نمبر 1 تا 6 ۔
یلج۔ اندر داخل ہوتا ہے۔ یعرج۔ چڑھتا ہے۔ بلند ہوتا ہے۔ ینزل۔ اترتا ہے۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اور ہر مخلوق اس کی حمدو ثنا میں لگی ہوئی ہے ہر ایک اس کی تسبیح میں مشغول ہے لیکن تم نہیں جانتے کہ وہ کس طرح تسبیح اور حمدو ثنا کر رہے ہیں۔ زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے، فرشتے، انسان اور زمین و آسمان کے درمیان جتنی بھی مخلوق ہے وہ اس کی زبان حال سے تعریف و توصیف میں لگی ہوئی ہے۔ زندگی اور موت اسی کے ہاتھ میں ہے کائنات میں کیا کیا انقلابات آرہے ہیں کون سی چیز زمین کے اندر داخل ہو رہی ہے کون سی کونپل زمین سے نکل کر پودا اور درخت بن رہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(ف 4) یہ استوی وہ ہے جو اس کی ذات پاک کو سزاوار ہے کیونکہ نہ اس کی ذات کو مخلوقات میں سے کسی کی ذات کے ساتھ کچھ مناسبت ہے نہ اس کی صفات کو کسی کی صفات کے ساتھ، اسی واسطے سلف نے اس طرح کی آیتوں کی تفسیر میں یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ ان آیتوں کے ظاہر معنی کو مدار تلاوت اور ایمان قرار دیتے ہیں اور ان کی تفصیل کو اللہ کے علم پر سونپتے ہیں مخلوقات میں عرش بڑی چیز ہے چناچہ معتبر سند سے تفسیر سعدی بن منصور میں مجاہد کا قول ہے کہ ساتوں آسمان کرسی کے مقابلہ میں ایسے ہیں جس طرح ایک جنگل کے میدان میں ایک آدمی کے ہاتھ کا چھلہ۔ اور یہی حال کرسی کا عرش کے مقابلہ میں ہے۔
(ف 1) اس کا حاصل یہ ہے کہ مثلا زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
[11] یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہی نہیں ہے بلکہ عملاً تمام امور کا مرجع و ماویٰ بھی وہی ہے۔ سارے امور اسی کے حکم سے جاری ہوتے ہیں اور پھر ان سب کی رپورٹ اسی کے آگے پیش ہوتی ہے۔ اس کے کارندے جملہ ہدایت کے لئے اسی سے رجوع کرتے اور اپنی کارگزاریاں اسی کے حضور میں پیش کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–8
خدا اول کیوں کر ہے ؟
1: خدا کی ایک صفت یہ بھی ہے ۔ کہ وہ اہل ہے ۔ اور اس کو کائنات کی ہر چیز پر تقدم حاصل ہے ۔ مگر قدیم حکماء کے لئے بڑی مشکل کا سامنا تھا ۔ وہ یہ نہیں سمجھتے تھے ۔ کہ اس تقدم کی نوعیت کیا ہے ۔ کیونکر انہوں نے عام طور پر تقدم کی پانچ قسمیں لکھی ہیں :۔ (1) تقدم بالتاثیر ۔ (2) تقدم باالاحتیاج (3) تقدم بالشرف (4) تقدم باالمرتبہ (5) اور تقدم بالریان ۔ اور پانچویں قسم کے تقدم کو تسلیم کرلینے میں انہیں عقلی استخانوں کا ایک انبار نظر آتا تھا ۔ اگر ہم یہ مانتے ہیں ۔ کہ وہ ذات زمانہ ہر شئے سے مقدم ہے ۔ تو خود اس جملے کا مفہوم کیا ہے ۔ کیونکہ اس کو اول کہنا یہ خرازمانے کو مستلزم ہے ۔…
Read the full tafseer →(5) اسی کا راج ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور آسمانوں اور زمین کی سلطنت اسی کے لئے ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف تمام امور کی بازگشت ہے - یعنی تمام اجسام ہوں یا اعمال سب اسی کے حضور میں پھرنے والے اور پیش ہونے والے ہیں۔
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی قیامت میں سب پیش ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →وہ آسمانوں اور زمین کا مالک حقیقی ہے اور سب کام اسی کی طرف لوٹتے ہیں
5 ؎ زیر نظر آیت اس سورت کی پانچویں آیت ہے اور تیسری بار یہ بات بیان کی جا رہی ہے کہ دراصل مالک ہر ایک چیز کا اللہ رب کریم ہی ہے کیونکہ اسی کی ملکیت بدلتی نہیں باقی عارضی اور وقتی ملکیتیں ہیں جن کو بدلنے ذرا دیر نہیں لگتی بلکہ وہ آنکھ جھپکنے میں بدل جاتی ہے ۔ غور کرو اور بار بار غور کرو کہ آج جن جن چیزوں کے تم مالک ہو ان چیزوں کا کون کون مالک رہ چکا ہے اور ان چیزوں کے بارے میں کس کس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ چیز میری ہے لیکن آج ان کا نام و نشان بھی موجود نہیں ہے اور آج تم ان چیزوں کے مالک ہو اور آنے والے کل میں اس طرح تمہارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ (...And He is with you wherever you are, ...57:4) No man is able to comprehend the essential nature of Allah's company or His being with us, though it is absolutely true that He is with us, because no man can exist or do any work without it. The Divine Will [ mashiyyah ] and power is necessary for everything. Therefore, Allah is with every human being in every situation, at every place. Allah knows best!
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
4 That is, He alone is the Creator of the universe as well as Its Ruler. (For further explanation, see E.N.'s 41, 42 of AI-A'raf, E.N.4 of Yunus, E.N.'s 2 to 5 of Ar-Ra'd, E.N,'s 11 to 15 of Ha Mim As-Sajdah).
5 In other words, He is not only the Knower of the wholes but also of the parts. He knows each seed that goes under the layers of the soil, each leaf and bud that comes out of the soil, each rain-drop that falls from the sky, and each molecule of the vapour that ascends from the seas and lakes to the sky. He is aware of every seed Iying anywhere under the soil. That is how He causes it…
Read the full tafseer →