Al-Hadid 57:6

Al-Hadid · from ayah 6

57:6

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَیُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ ؕ— وَهُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۟يُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِى النَّهَارِ وَيُوۡلِجُ النَّهَارَ فِى الَّيۡلِ‌ؕ وَهُوَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ

رات کو دن میں داخل کرتا اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ اور وہ دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He causes the night to enter the day and causes the day to enter the night, and he is Knowing of that within the breasts.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hadid

All translations of 57:6

وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، اور دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

رات کو دن میں داخل کرتا اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ اور وہ دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وہی رات کو دن میں لے جاتا ہے اور وہی دن کو رات میں داخل کر دیتا ہے اور سینوں کے بھیدوں کا وه پورا عالم ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ رات کو دن میں داخل کردتیا ہے، اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے، اور وہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو خوب جانتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

رات کو دن کے حصے میں لاتا ہے اور دن کو رات کے حصے میں لاتا ہے اور وہ دلوں کی بات جانتا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، اور وہ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں سے بھی خوب باخبر ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ سینوں کی بات کو خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ دلوں کے راز تک جانتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہی دخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور وہ سینوں کے بھیدوں کو بھی جانتا ہے۔)

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہی داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور دن کو داخل کرتا ہے رات میں اور وہی ہے جاننے والا دلوں کے رازوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

وہی داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور وہی داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور وہ دلوں (کی بات) تک خوب جانتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ پرولاتا ہے رات کو دن میں اور پرولاتا ہے دن کو رات میں۔ اور وہ جانتا ہے اس کو بھی جو سینوں کے اندر ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ اور وہ دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He causes the night to pass into the day, and causes the day to pass into the night, and He fully knows all that is hidden in the breasts of people.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He makes the night enter into the day, and makes the day enter into the night, and He is All-Knowing about whatever lies in the hearts.

— Muhammad Taqi Usmani

He makes the night enter into the day, and makes the day enter into the night, and He is All-Knowing about whatever lies in the hearts.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He merges night into day, and merges day into night, and He has full knowledge of whatsoever is in the breasts.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He causeth the night to pass into the day, and He causeth the day to pass into the night, and He is knower of all that is in the breasts.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He causes the night to enter the day and causes the day to enter the night, and he is Knowing of that within the breasts.

— Saheeh International

He causes night to enter into day and day into night. He knows best what all hearts contain.

— Muhammad Sarwar

He causes the night to enter in upon the day, and causes the day to enter in upon the night, and He is Cognizant of what is in the hearts.

— Muhammad Habib Shakir

He plungeth the night into the day, and plungeth the day into the night, and He is the Knower of whatsoever is in the breasts.

— Abdul Majid Daryabadi

He merges Night into Day, and He merges Day into Night; and He has full knowledge of the secrets of (all) hearts.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 57:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–6

ہر چیز کا خالق ومالک اللہ ہے اللہ تعالیٰ کا زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کرنا اور عرش پر قرار پکڑنا سورة اعراف کی تفسیر میں پوری طرح بیان ہوچکا ہے اس لئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، اسے بخوبی علم ہے کہ کس قدر بارش کی بوندیں زمین میں گئیں، کتنے دانے زمین میں پڑے اور کیا چارہ پیدا ہوا کس قدر کھیتیاں ہوئیں اور کتنے پھل کھلے، جیسے اور آیت میں ہے (وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ 59؀) 6۔ الانعام :59) ، غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جنہیں سوائے اس کے اور کوئی جانتا ہی نہیں وہ خشکی اور تری کی تمام چیزوں کا عالم ہے کسی پتے کا گرنا بھی اس کے علم سے باہر نہیں، زمین…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 4–6

سورة الْحَدِیْد 4 یعنی کائنات کا خالق بھی وہی ہے اور فرمانروا بھی وہی (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حواشی 41۔ 42 یونس، حاشیہ 4۔ الرعد، حواشی 2 تا 5۔ جلد چہارم، حٰم السجدہ، حواشی 11 تا 15)۔ سورة الْحَدِیْد 5 بالفاظ دیگر وہ محض کلیات ہی کا عالم نہیں ہے بلکہ جزئیات کا علم بھی رکھتا ہے۔ ایک ایک دانہ جو زمین کی تہوں میں جاتا ہے، ایک ایک پتی اور کونپل جو زمین سے پھوٹتی ہے، بارش کا ایک ایک قطرہ جو آسمان سے گرتا ہے، اور بخارات کی ہر مقدر جو سمندروں اور جھیلوں سے اٹھ کر آسمان کی طرف جاتی ہے، اس کی نگاہ میں ہے اس کو معلوم ہے کہ کونسا دانہ زمین میں کس جگہ پڑا ہے، تبھی تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–6

وَهُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ ،" یعنی اللہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی " اس معیت کی حقیقت اور کیفیت کسی مخلوق کے احاطہ علم میں نہیں آسکتی، مگر اس کا وجود یقینی ہے، اس کے بغیر انسان کا نہ وجود قائم رہ سکتا ہے نہ کوئی کام اس سے ہوسکتا ہے، اس کی مشیت وقدرت ہی سے سب کچھ ہوتا ہے، جو ہر حال اور ہر جگہ میں ہر انسان کے ساتھ ہے واللہ اعلم

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(یولج الیل فی النھار ویولج انھار فی الیل وھو علیم بذات الصدور (6) یعنی یہ رات اور دن کا چکر جو چل رہا ہے نہ اپنے آپ چل رہا ہے اور نہ کوئی اور اس کو چلا رہا ہے بلکہ یہ اللہ ہی ہے جو اس کو چلا رہا ہے۔ وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور نکالتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے تعاقب میں برابر سرگرم تگاپو ہیں۔ (وھو علیم بذات الصدور) یعنی جب دن کی روشنی اور رات کی تاریکی دونوں کالا نے والا وہی ہے۔ وہی دن کی روشنی نمودار کر کے رات کی عالم گیر تاریکی کو کافور اور اس کی ڈھانکی ہوئی ہر چیز کو بےنقاب کرتا ہے تو اس سے کوئی چیز کس طرح مخفی رہ سکتی ہے۔ وہ ہر مخفی سے مخفی راز یہاں تک کہ عینوں کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 4–7

4-1اس مفہوم کی آیات (اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا ۙ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمْرِهٖ ۭاَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ۭ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ 54؀) 7۔ الاعراف :54) ، (اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭمَا مِنْ شَفِيْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ ۭ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ۭ اَفَلَا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

4: سورة آل عمران : 27 میں اس کی تشریح گذر چکی ہے۔ مزید دیکھئے سورة حج : 61، سورة لقمان : 29 اور سورة فاطر : 13

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یولج اللیل ............ الصدور (75 : 6) ” وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔ “ رات کا دن میں داخل ہونا اور دن کا رات میں داخل ہونا ایک مسلسل حرکت ہے ، لیکن یہ نہایت ہی لطیف حرکت ہے ، بظاہر پرسکون نظر آتی ہے۔ اس کے معنی چاہے یہ ہوں کہ رات اور دن چھوٹے بڑے ہوتے رہتے ہیں ، رات کا ایک حصہ دن کو دیا جاتا ہے یا دن کا ایک حصہ چھوٹا کرکے رات کو دیا جاتا ہے ، یا طلوع و غروب کے وقت ان کا باہم تداخل مراد ہو ، لیکن یہ ایک مسلسل لطیف حرکت ہے۔ اور دلوں کے اندر ایک حرکت ہے۔ اور یہ خیال کی حرکت ہے۔ اور یہ ہر وقت دل میں ہوتی ہے۔ دلوں والی ہے ، یہ سب کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی کبھی دن کو گھٹا کر رات بڑی کردیتا ہے اور کبھی اس کے برعکس رات کو گھٹا کر دن بڑا کردیتا ہے۔ 7 یعنی دلوں میں جو نیتیں اور ارادے پیدا ہوں یا خطرات و وساوس آئیں، وہ بھی اس کے علم سے باہر نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6{ یُوْلِجُ الَّـیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّـیْلِ } ”وہ پرو لاتا ہے رات کو دن میں اور پرولاتا ہے دن کو رات میں۔“ یہ مضمون ان ہی الفاظ کے ساتھ قرآن حکیم میں متعدد بار آیا ہے۔ { وَہُوَ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۔ } ”اور وہ جانتا ہے اس کو بھی جو سینوں کے اندر ہے۔“ نوٹ کیجیے ! ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے علم کا ذکر بہت تکرار کے ساتھ ہوا ہے ‘ پہلے فرمایا : { وَہُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ۔ } پھر فرمایا : { یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْہَا وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآئِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْہَا…} آیت 4 اور اب یہاں اس آیت میں بتایا گیا کہ وہ سینوں کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 5–6

8 یعنی کائنات کی ہر چیز پر اللہ تعالیٰ کی فرمانروائی ہے۔ ہر چیز سے وہ جو کام چاہتا ہے لے رہا ہے۔ اور جب چاہے گا اس نظام کو درہم برہم کرکے ایک دوسرا عالم قائم کردے گا۔ تم اس کی قلمرو سے بھاگ کر نہ اب کہیں جاسکتے ہو نہ آخرت کے دن کہیں جاسکو گے اور تمہارے اعمال کا ریکارڈ پہلے ہی اس کے پاس موجود ہے۔ اور ہر معاملہ کا اور ہر کام کا انجام بھی اسی کی طرف ہے اور فیصلہ بھی وہیں سے صادر ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ اس کے علم کی طرح اس کی قدرت بھی ہر جزء وکل کو محیط ہے۔ ہر ہر شی میں جاری وساری ہے۔ یہ نہیں کہ خدا موجود تو ہے، مگر اس کا علم صرف کلیات تک ہے۔ جزئیات کو حاوی نہیں جیسا کہ بعض جاہلی فلاسفہ نے کہا ہے۔ (آیت) ” یولج الیل ..... الیل “۔ دن اور رات دونوں اسی کی مخلوق ہیں اور تمام تصرفات وتکوینیات میں اسی کی قدرت کے محکوم و محتاج۔ یہ نہیں کہ دن اور رات کوئی دیوی دیوتا کی حیثیت رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–6

یعلم مایلج فی الارض و ما یخرج منھا (الآیۃ) یعنی زمین میں بارش کے جو قطرات اور غلہ جات و میوہ جات ہیں اور جو بیج داخل ہوتے ہیں ان کی کمیت و کیفیت کو وہ جانتا ہے وھو معکم اینما کنتم یعنی اللہ علم کے اعتبار سے تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہو اس معیت کی حقیقت اور کیفیت کسی مخلوق کے احاطہ علم میں نہیں آسکتی مگر اس کا وجود یقینی ہے اس کے بغیر انسان کا نہ وجود قائم رہ سکتا ہے اور نہ کوئی کام اس سے ہوسکتا ہے اس کی مشیت اور قدرت ہی سے سب کچھ ہوتا ہے جو ہرحال اور ہر جگہ میں ہر انسان کے ساتھ رہتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

” وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہی دلوں کی پوشیدہ باتیں بخوبی جاننے والا ہے۔ ‘ یُوْلِجُ : یعنی رات کو گھٹا کر دن کو بڑھاتا ہے اور دن کو گھٹا کر رات کو لمبا کردیتا ہے۔ وَھُوَ عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ : یعنی دلوں میں چھپی ہوئی باتوں کو وہ خوب جانتا ہے۔ سیوطی نے جمع الجوامع میں لکھا ہے کہ مراد پوری ہونے کی دعا کے سلسلے میں حضرت علی ﷺ نے فرمایا : (پہلے) سورة حدید کی ابتدائی آیات اور سورة حشر کی آخر کی تین آیات پڑھے پھر (کہے اے وہ ذات جو ایسی ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں جو میری اس حاجت کو پورا کر دے ‘ انشاء اللہ دعا قبول ہوگی) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور وہی رات کے اجزا کو دن میں داخل کرتا اور بڑھاتا ہے اور دن کو رات میں داخل کر کے اسے بڑھاتا ہے اور وہ دلوں کی باتوں تک کو بھی جو کچھ ان میں نیکی یا برائی ہے جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ۔۔۔۔: اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ آل عمران (27) ، حج (61) ، لقمان (29) ، ہود (5) اور سورة ٔ رعد (10)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 5–7

لہ ملک السموات والارض یہ تکرار تاکید کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی حقیقت میں مبعود ہے۔ والی اللہ ترجع الامور۔ امور سے مراد آخرت میں مخلوقات کے امور ہیں۔ حضرت حسن بصری، اعرج، یعقوب، ابن عامر، ابو حیوہٗ ابن محیصن، حمید، اعمش، حمزہ، کسائی اور خلف نے ترجع پڑھا ہے (4) باقی قراء نے ترجع پڑھا ہے۔ یولج الیل فی النھار ویلجھ النھار فیل اللیل سورة آل عمران میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ ھو علیم بذات الصدور۔ اس پر ضمائر مخفی نہیں، جس کی یہ صفت ہو تو جائز نہیں کہ اس کے غیر کی عبادت کی جائے۔ (امنوا باللہ ورسولہ۔۔۔۔ ) 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 470 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ ایضاً 4 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 3–6

ایک مخصوص دعاء 11۔ البیہقی نے الاسماء والصفات میں ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے تھے۔ اللہم انت الاول فلا شیء قبلک وانت الاٰخر فلاشیء بعد اعوذبک من شر کل دابۃ ناصیتہا بید واعوذبک من الاثم والکسل ومن عذاب النار ومن عذاب القبر ومن فتنۃ الغنی ومن فتنۃ الفقر واعوذبک من الماثم والمغرم۔ ترجمہ : اے اللہ آپ ہی سب سے اول ہیں آپ سے پہلے کوئی چیز نہیں اور آپ ہی آخر ہیں آپ کے بعد کوئی چیز نہیں میں آپ کی پناہ لیتا ہوں ہر جانور کے شر سے کہ اس کی پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے اور میں آپ سے پناہ لیتا گناہ سے اور سستی اور دوزخ کے عذاب اور قبر کے عذاب سے اور مالداری کے فتنے سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يُوْلِجُ الَّيْلَ : وہ گھساتا ہے رات کو ] [ فِي النَّهَارِ : دن میں ] [ وَيُوْلِجُ النَّهَارَ : اور وہ گھساتا ہے دن کو ] [ فِي الَّيْلِ ۭ : رات میں ] [وَهُوَ عَلِيْمٌۢ : اور وہ جاننے والا ہے ] [بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں والی (بات) کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 2–6

﴿ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ﴾ (آسمانوں کا اور زمینوں کا ملک اسی کے لیے ہے اور تمام امور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے) اس میں بندوں کے اعمال بھی ہیں جو قیامت کے دن پیش ہوں گے اور جزا سزا کا فیصلہ ہوگا، وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے کبھی دن بڑا اور کبھی رات بڑی ہوتی ہے یہ سب تصرفات اسی ذات عالی کی ہیں ﴿ وَ هُوَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ 006﴾ اور سینوں کی باتوں کو جانتا ہیـ جس کسی کے دل میں جو بھی کچھ خیال اور وسوسہ آئے اور جو بھی کوئی شخص ایمان قبول کرے یا کفر پر جما رہے اسے ان سب کی خبر ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–6

اللہ تعالیٰ کی چند اہم صفات کا ذکر : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” سبح للہ ما فی السموت والارض ....... الی ....... وھو علیم بذات الصدور “۔ اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے زبان حال سے یاقال سے یا دونوں سے وہی بڑی عزت حکمت والا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اسکی عزت وکبریائی اور اسکی شان حکیمی کی گواہی دے رہی ہے اسی کے واسطے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی وہی ان سب کا نظام چلارہا ہے اور اس کی حاکمیت میں کوئی شریک نہیں اسی کی یہ شان ہے کہ وہی جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر بڑا ہی قادر ہے آسمانوں اور زمین پر صرف اسی کا حکم چلتا ہے اور کوئی طاقت اس کے حکم کو روک نہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–6

5:۔ ” لہ ملک السموات “ یہ توحید کے تیسرے مرتبے کا اعادہ ہے خالق ومالک بھی وہی ہے اور تخت بادشاہی پر بھی وہی مستوی ہے اور کائنات کے تمام معاملات اسی کی طرف راجع ہیں۔ اور کائنات میں وہی متصرف اور مختار ہے۔ ” یولج الیل فی النہار “ یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار و تصرف کا ایک نمونہ ہے یعنی رات دن کا آنا جانا اور ان کا گھٹنا اور بڑھنا اللہ کے اختیار میں ہے اور اس کا علم اس قدر محیط اور کامل ہے کہ وہ سینوں کے پوشیدہ رازوں کو بھی اچھی طرح جانتا ہے۔ جب ساری کائنات کا خالق و مربی اور ساری کائنات میں بلا شرکت غیرے متصرف و مختار وہی ہے تو لامحالہ وہی سب کا کارساز ہے۔ اور حاجات و مصائب میں مافوق الاسباب پکار…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الحدید ہے جو اس کی آیت 25 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ حدیدلو ہے کہ کہتے ہیں ، اور اس سورة میں دیگر مضامین کے علاوہ لوہے کی افادیت اور اس کی ضرورت کا ذکر آرہا ہے۔ سورة ق ٓ سے لے کر گذشتہ سورة واقعہ کت مکی سورتیں تھیں۔ جب کہ یہ سورة اور اس کے بعد والی دو مزید سورتیں مدنی ہیں مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ سورة سوۃ زلزال کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورة مبارکہ کی انتیس آیات اور چار رکوع میں اور یہ سورة 544 الفاظ اور 2473 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة : سابقہ مکی سورتوں کی طرح اس مدنی سورة میں بھی دین کے بنیادی عقائد توحید اور اس کے دلائل ، وقوع قیامت اور جزائے عمل کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّہَارِ وَيُوْلِجُ النَّہَارَ فِي الَّيْلِ۝ 0 ۭ وَہُوَعَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۝ 6 ولج الوُلُوجُ : الدّخول في مضیق . قال تعالی: حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِياطِ [ الأعراف/ 40] ، وقوله : يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَيُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ [ الحج/ 61] فتنبيه علی ما ركّب اللہ عزّ وجلّ عليه العالم من زيادة اللیل في النهار، وزیادة النهار في اللیل، وذلک بحسب مطالع الشمس ومغاربها . ( و ل ج ) الولوج ( ض ) کے معنی کسی تنک جگہ میں داخل ہونے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِياطِ [ الأعراف/ 40] یہاں تک کہ اونٹ سوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–7

ترکیب : یحییٰ ویمیت فی محل الرفع لکونہ جزا المبتداء المحذوف ای ھو۔ تفسیر : اس سے پہلی سورة کو اپنے نام پاک کی تسبیح کرنے پر تمام کیا تھا فسبح باسم ربک العظیم۔ اب اس سورة کی ابتداء میں اس تسبیح کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ فقال سبح للہ مافی السمٰوات والارض کہ تمہیں پر کچھ موقوف نہیں آسمانوں کے رہنے والے فرشتے (اور روحانیات حضرات انبیاء و اولیاء کرام) اور زمین کے رہنے والے ملائکہ و جمادات و نباتات اور کل موجودات اپنی زبان حال سے اس کی یکتائی و صنعت و ربوبیت و کمال کی گواہی دے رہے ہیں اور یہی ان کی تسبیح و تقدیس ہے۔ جو لوگ زبان سے تسبیح و تقدیس کرتے ہیں مومنین و ملائکہ کرام خواہ وہ ارضی ہوں خواہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَیُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ ط وَھُوَ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (الحدید : 6) (وہی داخل کرتا ہے رات کو دن میں، اور وہی داخل کرتا ہے دن کو رات میں، اور وہ سینوں کے بھیدوں کو بھی جانتا ہے۔ ) رات کو دن میں داخل کرنے اور دن کو رات میں داخل کرنے سے مراد شب و روز کی آمد و رفت ہے۔ دن جاتا ہے تو رات آتی ہے اور رات جاتی ہے تو دن آتا ہے۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک آٹومیٹک سسٹم ہے جو خودبخود ظہورپذیر ہورہا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں دن کی روشنی ہو یا رات کی تاریکی، دونوں کا لانے والا وہی ہے۔ جب رات کی تاریکی پوری طرح چھا جاتی ہے تو کوئی توقع نہیں کرسکتا کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–6

فہم القرآن ربط کلام : جو ذات اوّل اور آخر، ظاہر اور باطن اور ہر چیز کا علم رکھتی ہے اسی نے زمین و آسمانوں کو چھ دن میں پیدا کیا ہے۔ ” اللہ “ ہی وہ ذات ہے جس نے زمین و آسمانوں کو چھ دن میں پیدا کیا اور پھر عرش پر متمکن ہوا جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ عرش پر متمکن ہونے کا یہ معنٰی نہیں کہ وہ کائنات کے نظام سے لاتعلق ہوچکا ہے ایسا ہرگز نہیں بلکہ وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس سے نکلتا ہے، وہ جانتا ہے جو آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اوپر چڑھتا ہے، وہ سمندر سے اٹھنے والے بخارات، بارش کے قطرات، زمین سے اگنے والی نباتات، آسمان سے اترنے والے ملائکہ اور آسمان کی طرف چڑھنے والے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

6 : یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ وَھُوَ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے۔ اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے وہی دلوں کی پوشیدہ باتوں کو بخوبی جانتے ہیں) یولجؔ کا معنی رات کو دن میں داخل کرتا ہے کہ رات میں سے کچھ حصہ کم ہوجائے اور دن میں رات کو داخل کر کے اس کو طویل کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 4–6

4۔ 6۔ تفسیرابن جریر 4 ؎ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور عبد اللہ بن مسعود ؓ اور صحابہ سے پیدائش عالم کے باب میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عرش کے بعد سب سے پہلے پانی پیدا ہوا اور اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا پھر جب اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان اور سب مخلوقات کا پیدا کرنا منظور ہوا تو اتوار سے لے کر جمعہ تک چھ روز میں سب کچھ پیدا کیا۔ زیادہ تفصیل اس کی سورة اعراف اور سورة دخان میں گزر چکی ہے۔ استوی علی العرش کے جو معنی ترجمہ میں بیان کئے گئے ہیں وہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے ایک قول کے موافق ہیں۔ لیکن یہ استویٰ وہ ہے جو اس کی ذات پاک کو سزاوار ہے کیونکہ نہ اس کی ذات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ ) یعنی رات دن پر چھا جاتی ہے اور اپنی تاریکی کے ساتھ اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور انسان آرام کرتے ہیں، پھر دن رات پر چھا جاتا ہے تب زمی پر چھائی ہوئی تمام تاریکی زائل ہوجاتی ہے، تمام کون و مکان روشن ہوجاتے ہیں، تب بندے بھی متحرک ہوجاتے ہیں اور اپنے مصالح اور معاش کے انتظامات میں لگ جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا رہتا ہے، ان دونوں کے درمیان اضافے اور کمی طول اور قصر کو ادل بدل کرتا رہتا ہے حتی کہ اس سے موسم جنم لیتے ہیں اور زمانوں کا حساب درست رہتا ہے اور بہت سے مصالح حاصل ہوتے ہیں، بہت بابرکت ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 5–6

[ 21] سب کا مررجع و مادٰی بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں سب امور۔ اس دنیا میں بھی، کہ ہوتا وہی کچھ ہے جو اس کو منظور ہوتا ہے اور آخرت میں بھی، تاکہ ہر کوئی اپنے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ پاس کے، سو صرف یہی بات نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف و آگاہ ہے اور بس، نہیں بلکہ جملہ امور کا مادی اور مرجع بھی وہی وحدہٗ لاشریک ہے، سارے کام اسی کے اذن و حکم سے ہوتے ہیں، اور پھر ان سب کی رپورٹ بھی اسی کے آگے پیش ہوتی ہے اس کے کارندے جملہ ہدایت کے لئے اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اپنی کارگزاریاں اسی کے حضور پیش کرتے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

ﷲ اور اس کی صفات تشریح :۔ جیسا کہ ان آیات کریمہ سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ تمام کائنات ایک ہی اللہ بزرگ و برتر کی کمان میں ہے جو حکیم وعلیم، رحیم و غفور اور حمید و وہاب ہے۔ زمان و مکان اللہ کے وجود میں سمٹا ہوا ہے۔ اس کی وضاحت ہم اس حدیث پاک سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ حضررسول کریم ﷺ کی دعا ہے ' تو ہی پہلا تجھ سے پہلے کوئی نہیں، تو ہی آخر ہے تیرے بعد کوئی نہیں، تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی نہیں، تو ہی باطن ہے کوئی تجھ سے مخفی تر نہیں۔ (امام احمد، مسلم، ترمذی اور بیہقی) اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ زمینوں اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے زبان حال سے بھی اور ہر شے کی اپنی زبان سے جس سے وہ اپنے رب سے مخاطب ہوسکے لہذا اپنے انداز میں زبان قال سے بھی کہ یہی اس کے وجود کا سبب ہے جس شے سے بھی ذکر الٰہی چھوٹ جائے وہ باقی نہیں رہتی سوائے مکلف مخلوق کے کہ اسے اطاعت وعدم اطاعت میں ایک وقت تک کے لیے اختیار بخشا گیا ہے اور اللہ زبردست ہے ہر شے پہ ہر حال میں غالب ہے اور یہ اس کی حکمت بالغہ ہے کہ ہر ایک کو جداگانہ اوصاف عطا فرما کر کائنات کو بسانے کا سامان فرمایا ہے ارض وسماء میں اس کی ریاست و حکومت ہے وہی حیات بانٹنتا ہے اور وہی موت دیتا ہے کہ وہ ہر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 کجا کہ اس سے تمہاری اعمال پوشیدہ رہیں، اگرچہ وہ دلوں میں آنے والے خیالات وساوس پر اس وقت تک مئواخذہ نہیں کرتا جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے۔ (وقد مرنی خاتم سورة البقر)7 یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید اور آنحضرت کی رسالت کا اقرار کرو۔ یہ کفار عرب سے خطاب ہے۔ اگر یہ خطاب مسلمانوں سے ہو تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم اللہ و رسول پر ایمان میں مزید پختگی پیدا کرو اور اس پر برقرار رہو۔ کما فی اھدنا الصراط المستقیم

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(57:6) یولج : مضارع واحد مذکر غائب۔ ایلاج (افعال) مصدر۔ وہ داخل کرتا ہے یولج الیل فی النھار (وہی داخل کردیتا ہے رات کو دن میں) یعنی رات کو گھٹا کر دن کو بڑھاتا ہے اور دن کو گھٹا کر رات کو لمبا کرتا ہے۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ رات ہوتی ہے چاروں طرف اندھیرا غالب ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ رات کی تاریکی کم ہوتی جاتی ہے اور دن کی آمد آمد ہوجاتی ہے حتی کہ رات بالکل ختم ہوجاتی ہے ۔ اور دن کی بادشاہت ہوجاتی ہے۔ پھر ان کی روشنی آہستہ آہستہ ماند پڑتی جاتی ہے اور رات کا تسلط ہوتا جاتا ہے تاآنکہ دن مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے اور رات کا غلبہ ہوجاتا ہے۔ ذات الصدور۔ مضاف مضاف الیہ۔ جو سینوں میں ہے۔ یعنی دلوں کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

لغات القرآن۔ آیت نمبر 1 تا 6 ۔ یلج۔ اندر داخل ہوتا ہے۔ یعرج۔ چڑھتا ہے۔ بلند ہوتا ہے۔ ینزل۔ اترتا ہے۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اور ہر مخلوق اس کی حمدو ثنا میں لگی ہوئی ہے ہر ایک اس کی تسبیح میں مشغول ہے لیکن تم نہیں جانتے کہ وہ کس طرح تسبیح اور حمدو ثنا کر رہے ہیں۔ زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے، فرشتے، انسان اور زمین و آسمان کے درمیان جتنی بھی مخلوق ہے وہ اس کی زبان حال سے تعریف و توصیف میں لگی ہوئی ہے۔ زندگی اور موت اسی کے ہاتھ میں ہے کائنات میں کیا کیا انقلابات آرہے ہیں کون سی چیز زمین کے اندر داخل ہو رہی ہے کون سی کونپل زمین سے نکل کر پودا اور درخت بن رہی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–6

(ف 4) یہ استوی وہ ہے جو اس کی ذات پاک کو سزاوار ہے کیونکہ نہ اس کی ذات کو مخلوقات میں سے کسی کی ذات کے ساتھ کچھ مناسبت ہے نہ اس کی صفات کو کسی کی صفات کے ساتھ، اسی واسطے سلف نے اس طرح کی آیتوں کی تفسیر میں یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ ان آیتوں کے ظاہر معنی کو مدار تلاوت اور ایمان قرار دیتے ہیں اور ان کی تفصیل کو اللہ کے علم پر سونپتے ہیں مخلوقات میں عرش بڑی چیز ہے چناچہ معتبر سند سے تفسیر سعدی بن منصور میں مجاہد کا قول ہے کہ ساتوں آسمان کرسی کے مقابلہ میں ایسے ہیں جس طرح ایک جنگل کے میدان میں ایک آدمی کے ہاتھ کا چھلہ۔ اور یہی حال کرسی کا عرش کے مقابلہ میں ہے۔ (ف 1) اس کا حاصل یہ ہے کہ مثلا زمین…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 5–6

[11] یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہی نہیں ہے بلکہ عملاً تمام امور کا مرجع و ماویٰ بھی وہی ہے۔ سارے امور اسی کے حکم سے جاری ہوتے ہیں اور پھر ان سب کی رپورٹ اسی کے آگے پیش ہوتی ہے۔ اس کے کارندے جملہ ہدایت کے لئے اسی سے رجوع کرتے اور اپنی کارگزاریاں اسی کے حضور میں پیش کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 3–8

خدا اول کیوں کر ہے ؟ 1: خدا کی ایک صفت یہ بھی ہے ۔ کہ وہ اہل ہے ۔ اور اس کو کائنات کی ہر چیز پر تقدم حاصل ہے ۔ مگر قدیم حکماء کے لئے بڑی مشکل کا سامنا تھا ۔ وہ یہ نہیں سمجھتے تھے ۔ کہ اس تقدم کی نوعیت کیا ہے ۔ کیونکر انہوں نے عام طور پر تقدم کی پانچ قسمیں لکھی ہیں :۔ (1) تقدم بالتاثیر ۔ (2) تقدم باالاحتیاج (3) تقدم بالشرف (4) تقدم باالمرتبہ (5) اور تقدم بالریان ۔ اور پانچویں قسم کے تقدم کو تسلیم کرلینے میں انہیں عقلی استخانوں کا ایک انبار نظر آتا تھا ۔ اگر ہم یہ مانتے ہیں ۔ کہ وہ ذات زمانہ ہر شئے سے مقدم ہے ۔ تو خود اس جملے کا مفہوم کیا ہے ۔ کیونکہ اس کو اول کہنا یہ خرازمانے کو مستلزم ہے ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(6) وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور وہی دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور دل کی تمام پوشیدہ اور مخفی باتوں کو جانتا ہے۔ یعنی رات کے اجزاء دن میں شامل کردیتا ہے جس سے دن بڑا ہوجاتا ہے اور جب دن کے اجزا رات میں شامل کردیتا ہے تو رات بڑی ہوجاتی ہے جیسا کہ روز مرہ کا مشاہدہ ہے اور وہ سینوں تک کی تمام باتیں جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–7

ف 5۔ اس عنوان استخلاف میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ مال تم سے پہلے اور کسی کے پاس تھا، اور اسی طرح تمہارے بعد کسی اور کے ہاتھ میں چلا جائے گا، پس جب یہ سدا رہنے والی چیز نہیں تو اس کو جوڑ جوڑ کر رکھنا کہ ضروری مصرف میں بھی خرچ نہ کیا جائے حماقت محضہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

6 ؎ غور کرو کہ رات کا اور دن کا تعلق کس چیز پر قائم ہے ؟ تمہاری اس زمین سے جس میں تم کو اس نے بایا ہے اور تمہارے ان آسمانوں سے جن کے اندر سورج ، چاند اور کروڑوں کی تعداد میں دوسرے ستارے اور سیارے گردش کر رہے ہیں ان سب کے بندھن کا نام دن اور رات ہے اور پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کائنات میں سے جس میں یہ زمین بھی اور یہ آسمان بھی ایک چیز بھی ایسی نہیں جو ارا ادہ اختیار رکھتی ہو ہر ایک چیز اس کے قانون میں اس طرح باندھ دی گئی ہے کہ وہ نہایت پابندی کے ساتھ گردش کر رہی ہے اور انہیں کی گردش سے تمہارے دن رات پیدا ہو رہے ہیں ، وہ اپنے قانون کے مطابق چاہتا ہے تو رات کو کم کرنا شروع کردیتا ہے اور پھر کم کرتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–6

وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ (...And He is with you wherever you are, ...57:4) No man is able to comprehend the essential nature of Allah's company or His being with us, though it is absolutely true that He is with us, because no man can exist or do any work without it. The Divine Will [ mashiyyah ] and power is necessary for everything. Therefore, Allah is with every human being in every situation, at every place. Allah knows best!

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–6

4 That is, He alone is the Creator of the universe as well as Its Ruler. (For further explanation, see E.N.'s 41, 42 of AI-A'raf, E.N.4 of Yunus, E.N.'s 2 to 5 of Ar-Ra'd, E.N,'s 11 to 15 of Ha Mim As-Sajdah). 5 In other words, He is not only the Knower of the wholes but also of the parts. He knows each seed that goes under the layers of the soil, each leaf and bud that comes out of the soil, each rain-drop that falls from the sky, and each molecule of the vapour that ascends from the seas and lakes to the sky. He is aware of every seed Iying anywhere under the soil. That is how He causes it…

Read the full tafseer →