Al-Hadid 57:7

Al-Hadid · from ayah 7

57:7

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ ؕ— فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَاَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ ۟اٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَاَنۡفِقُوۡا مِمَّا جَعَلَـكُمۡ مُّسۡتَخۡلَفِيۡنَ فِيۡهِ‌ؕ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَاَنۡفَقُوۡا لَهُمۡ اَجۡرٌ كَبِيۡرٌ

تو) خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور جس (مال) میں اس نے تم کو (اپنا) نائب بنایا ہے اس میں سے خرچ کرو۔ جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور (مال) خرچ کرتے رہے ان کے لئے بڑا ثواب ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Believe in Allah and His Messenger and spend out of that in which He has made you successors. For those who have believed among you and spent, there will be a great reward.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hadid

All translations of 57:7

ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو اُن چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گے ان کے لیے بڑا اجر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو) خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور جس (مال) میں اس نے تم کو (اپنا) نائب بنایا ہے اس میں سے خرچ کرو۔ جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور (مال) خرچ کرتے رہے ان کے لئے بڑا ثواب ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اللہ نے تمہیں (دوسروں کا) جانشین بنایا ہے پس تم میں سے جو ایمان ﻻئیں اور خیرات کریں انہیں بہت بڑا ﺛواب ملے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو، اور جس (مال) میں اللہ نے تمہیں قائم مقام بنایا ہے، اس میں سے (اللہ کے راستے میں) خرچ کرو۔ چنانچہ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے (اللہ کے راستے میں) خرچ کیا ہے، ان کے لیے بڑا اجر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی راہ میں کچھ وہ خرچ کرو جس میں تمہیں اَوروں کا جانشین کیا تو جو تم میں ایمان لائے اور اس کی راہ میں خرچ کیا ان کے لیے بڑا ثواب ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاؤ اور اس (مال و دولت) میں سے خرچ کرو جس میں اس نے تمہیں اپنا نائب (و امین) بنایا ہے، پس تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے خرچ کیا اُن کے لئے بہت بڑا اَجر ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن میں اس نے تمہیں (پہلوں کا) جا نشین بنایا ہے، پھر وہ لوگ جو تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے خرچ کیا ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن میں اس نے تمہیں جانشین بنایا ہے، تو جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور خرچ کیا ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

(ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو اس مال میں سے جس میں اس نے تم کو امین بنایا ہے۔ پس جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں اور خرچ کریں ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ایمان لاؤ تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو اس مال میں سے جس میں اللہ نے تم کو جانشین بنایا ہے (اپنے فضل و کرم سے) پھر جو لوگ تم میں سے ایمان لے آئے اور انہوں نے خرچ بھی کیا تو ان کے لئے ایک بہت بڑا اجر ہے

— مولانا اسحاق مدنی

ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور جس مال میں اس نے دوسروں کا جانشین بیان ہے اس میں سے خرچ کرو سو جو لوگ تم میں سے ایمان لے آئیں اور خرچ کریں انہیں بڑا اجر ہوگا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر اور خرچ کرو ان سب میں سے جن میں اس نے تمہیں خلافت عطا کی ہے۔ پس جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور انہوں نے (اپنے مال و جان کو) خرچ کیا ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور جس مال میں اس نے تم کو اپنا نائب بنایا ہے اس میں سے خرچ کرو۔ جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور مال خرچ کرتے رہے ان کے لیے بڑا ثواب ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Believe in Allah and in His Messenger and expend of what He has entrusted to you. A great reward awaits those of you who believe and spend their wealth.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Believe in Allah and His Messenger, and spend out of that (wealth) in which He has appointed you as deputies. So, for those of you who have believed and spent (in Allah‘s way), there is a big reward.

— Muhammad Taqi Usmani

Believe in Allah and His Messenger, and spend out of that (wealth) in which He has appointed you as deputies. So, for those of you who have believed and spent (in Allah‘s way), there is a big reward.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Believe in Allah and His Messenger, and spend of that whereof He has made you trustees. And such of you as believe and spend, theirs will be a great reward.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Believe in Allah and His messenger, and spend of that whereof He hath made you trustees; and such of you as believe and spend (aright), theirs will be a great reward.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Believe in Allah and His Messenger and spend out of that in which He has made you successors. For those who have believed among you and spent, there will be a great reward.

— Saheeh International

Have faith in God and His Messenger and spend for His cause out of what is entrusted to you. Those who believe and spend for the cause of God will have a great reward.

— Muhammad Sarwar

Believe in Allah and His Apostle, and spend out of what He has made you to be successors of; for those of you who believe and spend shall have a great reward.

— Muhammad Habib Shakir

Believe in Allah and His apostle, and expend of that whereof He hath made you successors to. Those of you who believe and expend - theirs shall be a great hire.

— Abdul Majid Daryabadi

Believe in Allah and His messenger, and spend (in charity) out of the (substance) whereof He has made you heirs. For, those of you who believe and spend (in charity),- for them is a great Reward.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 57:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–11

ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم اللہ تبارک و تعالیٰ خود اپنے اوپر اور اپنے رسول ﷺ پر ایمان لانے اور اس پر مضبوطی اور ہمیشگی کے ساتھ جم کر رہنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اپنی راہ میں خیرات کرنے کی رغبت دلاتا ہے جو مال ہاتھوں ہاتھ تمہیں اس نے پہنچایا ہو تم اس کی اطاعت گذاری میں اسے خرچ کرو اور سمجھ لو کہ جس طرح دوسرے ہاتھوں سے تمہیں ملا ہے اسی طرح عنقریب تمہارے ہاتھوں سے دوسرے ہاتھوں میں چلا جائے گا اور تم پر حساب اور عتاب رہ جائے گا اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ تیرے بعد تیرا وارث ممکن ہے نیک ہو اور وہ تیرے ترکے کو میری راہ میں خرچ کر کے مجھ سے قربت حاصل کرے اور ممکن ہے کہ وہ بد…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَدِیْد 7 یہ خطاب غیر مسلموں سے نہیں ہے، بلکہ بعد کی پوری تقریر یہ ظاہر کر رہی ہے کہ مخاطب وہ مسلمان ہیں جو کلمہ اسلام کا اقرار کر کے ایمان لانے والوں کے گروہ میں شامل ہوچکے تھے، مگر ایمان کے تقاضے پورے کرنے اور مومن کا سا طرز عمل اختیار کرنے سے پہلو تہی کر رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ غیر مسلموں کو ایمان کی دعوت دینے کے ساتھ ہی فوراً ان سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جہاد فی سبیل اللہ کے مصارف میں دل کھول کر اپنی حصہ ادا کرو، اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ تم میں سے جو فتح سے پہلے جہاد اور انفاق فی سبیل اللہ کرے گا اس کا درجہ ان لوگوں سے بلند تر ہوگا جو بعد میں یہ خدمات انجام دیں گے۔ غیر مسلم کو دعوت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور (ایمان لا کر) جس مال میں تم کو اس نے دوسروں کا قائم مقام بنایا ہے اس میں سے (اس کی راہ میں) خرچ کرو (اس عنوان استخلاف میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ مال تم سے پہلے اور کسی کے پاس تھا اور اسی طرح تمہارے بعد کسی اور کے ہاتھ میں چلا جاوے گا، بس جب یہ سدا رہنے والی چیز نہیں تو اس کو اس طرح جوڑ جوڑ کر رکھنا کہ ضروری مصرف میں بھی خرچ نہ کیا جاوے حماقت کے سوا کیا ہے) سو (اس حکم کے موافق) جو لوگ تم میں سے ایمان لے آویں اور (ایمان لا کر اللہ کی راہ میں) خرچ کریں ان کو بڑا ثواب ہوگا اور (جو لوگ ایمان نہ لاویں ان سے ہم پوچھتے ہیں کہ) تمہارے لئے اس کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

2۔ آگے آیات 7۔ 15 کا مضمون آگے ان مسلمانوں کو مخاطب فرمایا ہے جو کلمہ پڑھ کر اور سمعنا واطعنا کا اقرار کرکے مسلمانوں کے زمرے میں شامل تو ہوگئے تھے لیکن جب انفاق و جہاد کا مرحلہ سامنے آیا تو وہ ایمان کے تقاضے پورے کرنے میں بودے ثابت ہوئے۔ اس طرح کے کمزور مسلمانوں کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے آئینہ میں اپنے کردار کا جائزہ لیں اور جس ایمان کا انہوں نے اظہار کیا ہے اسکے مطالبے پورے کریں۔ آج اگر وہ چاہیں تو رسول کی دعوت انفاق و جہاد پر لبیک کہہ کر اپنے مقام سابقین اسلام کی صفت میں محفوظ کرسکتے ہیں ورنہ یاد رکھیں ان کا حشر منافقین کے ساتھ ہوگا اور جو فرصت آج وہ کھو دیں گے اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 4–7

4-1اس مفہوم کی آیات (اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا ۙ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمْرِهٖ ۭاَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ۭ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ 54؀) 7۔ الاعراف :54) ، (اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭمَا مِنْ شَفِيْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ ۭ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ۭ اَفَلَا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

5: مال و دولت میں انسان کو قائم مقام بنانے سے دو عظیم حقیقتوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ ایک یہ کہ مال و دولت، خواہ کسی قسم کا ہو، اصل میں وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، کیونکہ اسی نے اس کو پیدا فرمایا ہے البتہ اس نے انسان کو اس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے عطا فرمایا ہے، اس لیے انسان اس کی ملکیت میں اللہ تعالیٰ کا قائم مقام ہے، اور جب وہ قائم مقام ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے اللہ تعالیٰ ہی کی مرضی اور اس کے حکم کے مطابق خرچ کرے۔ اور دوسری حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان جو دولت کماتا ہے، وہ اس سے پہلے کسی اور کے قبضے میں تھی، اور اب خریداری، تحفے یا میراث وغیرہ کے ذریعے سے اس کے پاس آگئی ہے، اس لحاظ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہاں اللہ تعالیٰ اب ان دلوں سے مخاطب ہے جن کو خود اس نے پیدا کیا ہے ۔ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ ان دلوں میں بات داخل کرنے کی راہیں کیا ہیں۔ کیونکہ ان کے حالات سے اللہ اچھی طرح باخبر ہے۔ خفیہ ترین خیالوں سے بھی اللہ باخبر ہے۔ اللہ کو معلوم ہے کہ دلوں میں ایمان کس طرح بیٹھتا ہے۔ دل غیر ایمانی شوائب سے کس طرح پاک ہوتا ہے اور یہ ایمان پھر کس طرح عملی زندگی میں ایک بڑے درخت کی طرح اگتا ہے ، اور انسان انفاق فی سبیل اللہ اور اللہ کے راستے میں کس طرح بڑھ کر جان تک قربان کردیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جو انسانی قوت سے بہت بڑا ہے ، اور اس کے حصول کے لئے بہت بڑی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ اپنی مخلوق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے اس کا مالک اللہ ہے تم صرف امین اور خزانچی ہو۔ لہذا جہاں وہ مالک بتلائے وہاں اس کے نائب کی حیثیت سے خرچ کرو۔ اور یہ بھی ملحوظ رکھو کہ پہلے یہ مال دوسروں کے ہاتھ میں تھا ان کے جانشین تم بنے۔ ظاہر ہے تمہارا جانشین کوئی نہ کوئی اور بنایا جائے گا۔ پھر جب معلوم ہے کہ یہ چیز نہ پہلوں کے پاس رہی نہ تمہارے پاس رہے گی، تو ایسی زائل وفانی چیز سے اتنا دل لگانا مناسب نہیں کہ ضروری اور مناسب مواقع میں بھی آدمی خرچ کرنے سے کترائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7{ اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَکُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْہِ } ”ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر اور خرچ کرو ان سب میں سے جن میں اس نے تمہیں خلافت عطا کی ہے۔“ خلافت کے حوالے سے انسان کو سب سے زیادہ اختیار تو اپنے جسم پر عطا کیا گیا ہے۔ اس میں اس کے مختلف اعضاء ہیں ‘ طاقت جسمانی ‘ طلاقت لسانی ‘ ذہانت و فطانت اور دوسری بہت سی صلاحیتیں ہیں۔ پھر مال و دولت ‘ اولاد اور دوسری بیشمار نعمتیں ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کو معبود ماننے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی ان خداداد صلاحیتوں اور نعمتوں کو اللہ کی رضا کے لیے اس کے راستے میں خرچ کرنے کے لیے ہر وقت کمر بستہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

9 ترتیب نزولی اور اس مضمون سے ایسا مترشح ہوتا ہے کہ یہ سورت جنگ احزاب کے بعد نازل ہوئی ہے۔ اس وقت تک قریش مکہ ہی مسلمانوں پر چڑھ چڑھ کر آتے رہے اور حملہ آور ہوتے رہے۔ جنگ احزاب کے خاتمہ اور کافروں کے فرار کے بعد رسول اللہ نے گویا فرما دیا تھا کہ آج کے بعد کفار ہم پر حملہ آور نہ ہوں گے تاہم ابھی مسلمانوں کا غلبہ بہت دور کی بات تھی۔ ایسے مذبذب حالات میں بھی کچھ مسلمان اور مہاجرین ایسے تھے جو اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں پر پختہ یقین رکھتے تھے اور تنگ دستی کے باوجود اس حق و باطل کے معرکہ میں جو کچھ بھی انہیں میسر آتا بےدریغ خرچ کر رہے تھے۔ لیکن کئی نو مسلم ایسے بھی تھے جو گومگو کی حالت میں تھے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

10۔ (کہ وہ مال کو اسی اصل مالک اور دینے والے کی راہ میں خرچ کررہے ہیں۔ ) (آیت) ” ماجعلکم مستخلفین فیہ “۔ اس میں صاف اور واضح اشارہ اس طرف آگیا کہ یہ مال تم سے پہلے کسی اور کا تھا اور تمہارے بعد کسی اور کا ہوجائے گا۔ یہ کون سی ایسی چیز ہے جس کا تم اتنا غم کررہے ہو کہ اسے اللہ کے حکم سے اپنی ضرورتوں میں بھی خرچ کرنے میں بخل کر رہے ہو۔ مالی جہاد کی ترغیب کا یہ طریقہ کتنا حکیمانہ ومصلحانہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 7–10

امنوا باللہ وسرولہ وانفقوا مما جعلکم مستخلفین فیہ یہ آیت غزوہ تبوک کے بارے میں نازل ہوئی ہے، روح المعانی میں ہے والایۃ علی ماروی عن الضحاک نزلت فی تبوک فلا تغفل اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خطاب کا روئے سخن مسلمانوں کی طرف ہے اس لئے کہ جن حالات میں انفاق فی سبیل اللہ کی بڑے زور دار اور نئے انداز سے اپیل کی جا رہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپیل اور ترغیب غیر معمولی حالات کے پیش نظر کی جا رہی ہے جس میں حضرت ابوبکر صدیق نے اپنا کل مال اور حضرت عمر ؓ نے نصف مال اور اس ہنگامی فوجی اور قومی ضرورت کے لئے خدمت میں پیش کیا اور حضرت عثمانی غنی ؓ نے اس غزوہ میں ایک ہزار دینار اور تین سو اونٹ مع ساز و سامان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

. ” تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور جس مال میں اللہ نے تم کو قائم مقام بنایا اس کا کچھ حصہ راہ خدا میں خرچ کرو۔ پس تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے اور جنہوں نے (راہ خدا میں) خرچ کیا ان کو بڑا ثواب ہوگا۔ “ اٰمِنُوْا بِ اللہ ِ : یعنی اے لوگو ایمان لاؤ اللہ پر وَ رَسُوْلِہٖ اس کے رسول پر۔ کیونکہ بغیر پیغمبروں کی وساطت اور توسل کے اللہ پر صحیح ایمان لانا ممکن نہیں۔ مِمَّا جَعَلَکُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْہِ : یعنی اس مال کا کچھ حصہ جس میں تصرف کرنے کے لیے اللہ نے تم کو اپنا قائم مقام بنایا ہے ‘ اس کی راہ میں خرچ کرو۔ تمام مال پیدا کیا ہوا تو اللہ ہی کا ہے ‘ وہی مالک بھی ہے (تصرف کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

لہذا اے مکہ والو تم اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم پر ایمان لاؤ اور جس مال کا اس نے تمہیں مالک بنا رکھا ہے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو سو مکہ والو جو لوگ تم میں سے ایمان لے آئیں اور پھر اللہ کی راہ میں اپنے مال کو خرچ کریں تو ان کو ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ سے جنت میں بڑا ثواب ملے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ اٰمِنُوْا بِ اللہ ِ وَرَسُوْلِہٖ : سورت کے شروع سے یہاں تک اس حقیقت کے اعلان کے بعد کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز نے اللہ کا (ہر عیب اور کمی سے) پاک ہونا بیان کیا ہے ، اللہ تعالیٰ کی دس سے زیادہ صفات بیان ہوئی ہیں جو یہ ہیں :”العزیز، الحکیم ، لہ ملک السموات والارض ، یحییٰ و یمیت ، وھو کل علی شئی قدیر ، ھو الاول والاخرو الظاھر والباطن ، وھو بکل شئی علیم ، یولج الیل فی النھار و یولج النھار فی الیل“ ان صفات کے بیان کے بعد اس بات کی دعوت دی ہے کہ ان صفات کے مالک اللہ تعالیٰ پر اور اس کا پیغام لے کر آنے والے پر ایمان لاؤ۔ اس کے مخاطب اگرچہ کفار بھی ہیں ، مگر بعد میں پورے سلسلہ کلام سے ظاہر ہے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 5–7

لہ ملک السموات والارض یہ تکرار تاکید کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی حقیقت میں مبعود ہے۔ والی اللہ ترجع الامور۔ امور سے مراد آخرت میں مخلوقات کے امور ہیں۔ حضرت حسن بصری، اعرج، یعقوب، ابن عامر، ابو حیوہٗ ابن محیصن، حمید، اعمش، حمزہ، کسائی اور خلف نے ترجع پڑھا ہے (4) باقی قراء نے ترجع پڑھا ہے۔ یولج الیل فی النھار ویلجھ النھار فیل اللیل سورة آل عمران میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ ھو علیم بذات الصدور۔ اس پر ضمائر مخفی نہیں، جس کی یہ صفت ہو تو جائز نہیں کہ اس کے غیر کی عبادت کی جائے۔ (امنوا باللہ ورسولہ۔۔۔۔ ) 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 470 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ ایضاً 4 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–11

1۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اٰمنو باللہ ورسولہ وانفقو مما جعلکم مستخلفین فیہ۔ اور جس مال میں اللہ نے تم کو قائم مقام بنایا اس کا کچھ حصہ راہ خدا میں خرچ کرو یعنی اس رزاق میں سے جو اس نے تم کو زندگی گزارنے کے لیے کثرت سے عطا فرمایا ہے آیت وقد اخذ میثاقکم اور خود خدا نے تم سے اپنے رب ہونے کا عہد لیا تھا یعنی ابھی تم آدم (علیہ السلام) کی پشت میں تھے آیت لیخرجکم من الظلمت الی النور۔ تاکہ تم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے یعنی گمراہی سے ہدایت کی طرف۔ فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں کی فضیلت 2۔ سعید بن منصور وابن المنذر وعبد بن حمید نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ : تم لوگ ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر ] [ وَاَنْفِقُوْا مِمَّا : اور خرچ کرو اس میں سے ] [ جَعَلَكُمْ : اس نے بنایا تم لوگوں کو ] [ مُّسْتَخْلَفِيْنَ : جانشین کیا ہوا ] [ فِيْهِ ۭ : جس میں ] [فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ : پھر جو لوگ ایمان لائے تم میں سے ] [ وَاَنْفَقُوْا : اور انہوں نے خرچ کیا ] [ لَهُمْ اَجْرٌ كَبِيْرٌ: ان کے لیے ایک بڑا اجر ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–10

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تمہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرو یہ پانچ آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں حکم فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تمہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرو ساتھ ہی ﴿ مُّسْتَخْلَفِيْنَ فِيْهِ ﴾ بھی فرمایا ہے یعنی یہ مال وہ ہے جو تم سے پہلے دوسروں کے پاس تھا ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں خلیفہ بنا دیا اب یہ مال تمہارے تصرف میں ہے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ یہ خرچ کیا ہوا مال ضائع نہ جائے گا۔ ﴿ فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–11

دعوت ایمان بررب کون ومکان وحکم اطاعت رسول کریم ﷺ وترغیب بذل مال عزیز برائے رضائے خداوندذوالجلال : قال اللہ تعالیٰ : امنوا باللہ ورسولہ ...... الی ...... ولہ اجر کریم “۔ (ربط) ابتداء سورت سے خداوند عالم نے اپنی صفات قدرت و عظمت کا بیان فرمایا ان صفات اور خوبیوں کو سن کر ہر مخاطب کو چاہئے کہ ایسی ذات سراپا عظمت وکبریائی پر ایمان لانے کے واسطے تیار ہوجائے اور اسکی اطاعت وفرمانبرداری جو اس کے رسول ہی کی ذریعے ہوسکتی ہے تیار ہوجائے اور کائنات کے خالق ومالک کی خوشنودی کے لئے اپنی جان ومال کی قربانی سے بھی دریغ نہ کرے اور جو مال صرف اللہ ہی نے اسکو عطا کیا ہے اس مال کو اس کی فرماں برداری اور حقوق کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–8

6:۔ ” امنوا باللہ “ یہ سورة الحدید کے پہلے مضمون ینی انفاق فی سبیل اللہ کا بیان ہے اور پانچ طریقوں سے خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ یہ خطاب چونکہ مومنین سے ہے اس لیے یہاں ” امنو “ حقیقت پر محمول نہیں ہوگا یعنی ” ایمان لاؤ “ بلکہ مراد یہ ہے کہ ایمان پر قائم رہو، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام مانو اور ان پر عمل کرو۔ کیونکہ یہی ایمان کا تقاضا ہے۔ ” وانفقوا “ یہ امنو پر معطوف ہے۔ حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک یہ عطف تفسیری ہے اور ایمان کے بعض تقاضوں کی تفسیر ہے حاصل یہ ہے کہ اللہ کے اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی تعمیل کرو جن میں سے فی الوقت سب سے زیادہ ضروری اور اہم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–10

ربط آیات : سورة کے آغاز میں ارض وسما کی ہر چیز کی تسبیح بیان کرنے کا ذکر ہوا۔ اللہ کی قدرت میں سے موت وحیات کی صفت بیان ہوئی ، پھر اس کے اول ، آخر ، ظاہر اور باطن ہونے کا ذکر ہوا اور اس کے قادر مطلق اور علیم کل ہونے کی صفت بیان ہوئی۔ اللہ نے فرمایا کہ اس نے ارض وسماکو چھ دن کے وقفہ میں تخلیق کیا اور وہ عرش پر مستوی ہے۔ نیز یہ کہ وہ ارض وسماء میں داخل ہونے والی اور نکلنے والی ، نازل ہونے والی اور اوپر چڑھنے والی ہر چیز کو جانتا ہے۔ اللہ نے ہر شخص کے ساتھ اپنی معیت کا تذکرہ فرمایا اور یہ بھی کہ وہ انسانوں کے دلوں کے رازوں سے بھی واقف ہے۔ اللہ نے پوری کائنات میں اپنی سلطنت کا دعویٰ کیا اور یہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِيْنَ فِيْہِ۝ 0 ۭ فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَاَنْفَقُوْا لَہُمْ اَجْرٌ كَبِيْرٌ۝ 7 أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–7

ترکیب : یحییٰ ویمیت فی محل الرفع لکونہ جزا المبتداء المحذوف ای ھو۔ تفسیر : اس سے پہلی سورة کو اپنے نام پاک کی تسبیح کرنے پر تمام کیا تھا فسبح باسم ربک العظیم۔ اب اس سورة کی ابتداء میں اس تسبیح کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ فقال سبح للہ مافی السمٰوات والارض کہ تمہیں پر کچھ موقوف نہیں آسمانوں کے رہنے والے فرشتے (اور روحانیات حضرات انبیاء و اولیاء کرام) اور زمین کے رہنے والے ملائکہ و جمادات و نباتات اور کل موجودات اپنی زبان حال سے اس کی یکتائی و صنعت و ربوبیت و کمال کی گواہی دے رہے ہیں اور یہی ان کی تسبیح و تقدیس ہے۔ جو لوگ زبان سے تسبیح و تقدیس کرتے ہیں مومنین و ملائکہ کرام خواہ وہ ارضی ہوں خواہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَـکُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْہِ ط فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْـکُمْ وَاَنْفَقُوْا لَھُمْ اَجْرٌ کَبِیْرٌ۔ (الحدید : 7) (ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو ان چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے، پس جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گے ان کے لیے بڑا اجر ہے۔ ) ایمان و انفاق کا مطالبہ اور اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کی چند صفات کو بیان فرمانے کے بعد مسلمانوں سے ایمان و انفاق کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ جب اپنی ذات میں ہمہ مقتدر اور غیرمعمولی وسعت علم کا مالک ہے تو کیا اسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : کائنات کو پیدا کرنے والا اور اس کے نظام کو چلانے والا صرف ” اللہ “ ہے اس لیے انسان کا فرض ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور ان کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور بات سمجھانے اور منوانے کے لیے رسول مبعوث فرمائے۔ سب سے آخر میں نبی کریم ﷺ کو مبعوث فرمایا اور حکم دیا کہ لوگو ! اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی راہ میں خرچ کرو۔ اسی نے تم کو زمین کا وارث اور مال کا مالک بنایا ہے، تم میں جو لوگ ایمان لائے اور اللہ کی ر اہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ اس آیت مبارکہ میں سب لوگوں کو حکم دیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7 : ٰامِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَنْفِقُوْا (تم لوگ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائو۔ اور خرچ کرو اس مال سے) یہ انفاق زکوٰۃ اور انفاق فی سبیل اللہ کا احتمال رکھتا ہے۔ قائم مقام بنایا : مِمَّا جَعَلَکُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْہِ (جس مال میں اللہ تعالیٰ نے تم کو قائم مقام بنایا) یعنی تمہارے ہاتھوں میں جو اموال ہیں۔ یہ تمام اللہ تعالیٰ کے اموال ہیں۔ اسی نے یہ بنائے اور پیدا کیے ہیں۔ تم کو نفع اٹھانے کیلئے مالک بنایا ہے اور ان کے تصرفات میں تم کو اس نے اپنا نائب بنایا ہے۔ حقیقت میں یہ تمہارے اموال ہیں ہی نہیں۔ اور تم ان میں صرف وکیل اور نائب ہو اس لئے ان اموال میں سے حقوق اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–11

7۔ 10۔ سورة کے شروع سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور توحید اور بندوں کے ذرا ذرا حال سے اپنے واقف ہونے کا ذکر فرما کر یہاں سے قریش کو اللہ تعالیٰ کے احکام پر اور اللہ کے رسول کے سچے ہونے پر ایمان لانے اور دنیا کی الفت چھوڑنے اور خدا کی راہ میں کچھ مال خرچ کرنے کی نصیحت شروع کی ہے۔ اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ دنیا میں جس قدر مال ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے۔ اس لئے اصل مالک سب چیزوں کا اللہ تعالیٰ ہے۔ عارضی طور پر چند روز دنیا کے مال اور دنیا کی چیزوں کے لوگ مالک اور وارث بن جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ یہ عارضی قبضہ والے لوگ سب مرجائیں گے تو اللہ کا پیدا کیا ہوا مال اللہ کے قبضہ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–8

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اللہ اور اس کے رسول پر اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے اور اللہ کے راستے میں وہ مال خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے جو اس نے ان کے اخٹیار میں دیا ہے اور اس پر ان کو خلیفہ بنایا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، پھر جب اس نے یہ حکم دیا تو اس نے ان کے سامنے اللہ کے راستے میں مال خڑچ کرنے کے ثواب کا ذکر کر کے ان کو مال خرچ کرنے کی ترغیب دی اور اس پر آمادہ کیا، چناچہ فرمایا : (فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَاَنْفَقُوْا) یعنی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کو جمع کیا (لَهُمْ اَجْرٌ كَبِيْرٌ) ان کے لی بہت بڑا اجر ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 25] سچے اور صحیح ایمان کے حکم و ارشاد کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ صدق دل سے ایمان لاؤ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر " آمنوا " کا خطاب اگرچہ بظاہر عام ہے لیکن قرائن سے واضح ہوتا ہے کہ روئے سخن دراصل خام قسم کے مسلمانوں اور ان منافقوں کی طرف ہے جو زبانی کلامی طور پر ایمان تو لے آئے تھے لیکن اس ایمان کے تقاضوں سے کئی کتراتے تھے۔ سو ان سے فرمایا گیا کہ تم لوگ صدق دل سے ایمان لے آؤ اللہ اور اس کے رسول پر، کہ اللہ پاک وحدہٗ لاشریک ہے، اور اس کا رسول سچا ہے، ان تمام امور میں جو اس نے اللہ پاک کی طرف سے اس کے بندوں تک پہنچائے ہیں، اور یہ کہ فوز و فلاح اللہ پاک اور اس کے رسول پر سچے پکے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–12

اللہ کا حکم اور اس کی رحمتیں تشریح : ان آیات میں چند خاص احکامات اور عمل کرنے والوں کے لیے انعامات کا ذکر بڑے آسان الفاظ میں کرد یا گیا ہے یہ سب کچھ بھی بیان کیا جا چکا ہے بس یاد دہانی کے لیے بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ پہلا حکم :۔ اللہ و رسول پر خلوص اور نیک نیتی سے ایمان لے آؤ۔ دوسرا حکم : اللہ نے انسان کو اپنا نائب کہا ہے لہٰذا بےدریغ خوشی خوشی زکوٰۃ خیرات، ضرورت مندوں کے لئے اور جہاد کے لیے خرچ کرو۔ یہ مال اللہ کا ہی دیا ہوا ہے۔ تیسرا : رسول کے پکارنے پر اور تعلیمات پر دھیان دو کیونکہ یہ تعلیمات بیشک روشنی کا مقام رکھتی ہیں۔ چوتھا : بےمقصد صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خرچ کرو۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ زمینوں اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے زبان حال سے بھی اور ہر شے کی اپنی زبان سے جس سے وہ اپنے رب سے مخاطب ہوسکے لہذا اپنے انداز میں زبان قال سے بھی کہ یہی اس کے وجود کا سبب ہے جس شے سے بھی ذکر الٰہی چھوٹ جائے وہ باقی نہیں رہتی سوائے مکلف مخلوق کے کہ اسے اطاعت وعدم اطاعت میں ایک وقت تک کے لیے اختیار بخشا گیا ہے اور اللہ زبردست ہے ہر شے پہ ہر حال میں غالب ہے اور یہ اس کی حکمت بالغہ ہے کہ ہر ایک کو جداگانہ اوصاف عطا فرما کر کائنات کو بسانے کا سامان فرمایا ہے ارض وسماء میں اس کی ریاست و حکومت ہے وہی حیات بانٹنتا ہے اور وہی موت دیتا ہے کہ وہ ہر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی جس میں اس نے تمہیں پچھلے لوگوں کا وارث بنایا یا اپنا غائب بنا کر تصرف کا اختیار دیا۔9 مطلب یہ ہے کہ جو اموال تمہارے قبضہ میں ہیں حقیقت میں ان کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ تم محض امین و خزانچی ہو۔ لہٰذا جہاں وہ حکم دے وہیں اس کے نائب ہونے کی حیثیت سے خرچ کرو او اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھو کہ سال پہلے دوسروں کے قبضہ میں آیا۔ اسی طرح تمہارے مرنے کے بعد تمہارے وارثوں کے قبضہ میں چلا جائے گا۔ اس میں سے تمہارے کام صرف وہی آئے گا جو تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو گے۔10 یعنی جنت لہٰذا ایمان کے مقضی کے مطابق عمل کرو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(57:7) امنوا : فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ ایمان (افعال) مصدر سے۔ تم ایمان لاؤ۔ امنوا امن (باب سمع) مصدر سے بمعنی بےخوف ہوجانا۔ نڈر ہوجانا ہے۔ مثلاً افامنوا مکر اللہ (7:99) کیا یہ لوگ خدا کے داؤں کا ڈر نہیں رکھتے۔ وانفقوا واؤ عاطفہ اس کا عطف امنوا پر ہے۔ اور تم خرچ کرو۔ انفقوا امرکا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ انفاق (افعال) مصدر سے۔ تم خرچ کرو۔ مما : مرکب ہے من تبعیضیہ اور ما موصولہ ہے۔ اس میں سے جو ۔۔ جعلکم : جعل ماضی واحد مذکر غائب۔ جعل (باب فتح) مصدر سے۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اس نے (اللہ نے) تم کو بنایا، اس نے تم کو کیا۔ مستخلفین : اسم مفعول جمع مذکر استخلاف (اسفتعال) مصدر سے۔ جانشین بنائے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–10

لغات القرآن۔ مستخلفین۔ قائم مقام بنائے گئے… الاتنفقوا۔ یہ کہ تم خرچ نہ کرو… میراث۔ ملکیت۔ میراث۔ ترکہ… لا یستوی۔ برابر نہیں ہے۔ … الحسنی۔ بھلائی۔ خیر۔ تشریح : وہ اللہ جو زمین وآسمان کی سلطنت کا مالک، ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے جو ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ وہی اول و آخر اور ظاہر و باطن ہے اس پر اور اس کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد ﷺ پر دل کی گہرائیوں اور انتہائی خلوص سے ایمان رکھنا اور اس کے حکم کے مطابق اللہ کی راہوں میں مال خرچ کرنا اس پر بہترین اجرو ثواب کا وعدہ ہے فرمایا کہ آج تم جس مال و دولت کے مالک بنے بیٹھے ہو وہ درحقیقت اللہ ہی کا مال ہے لہٰذا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–8

(ف 1) سورة کے شروع سے یہاں تک اللہ نے اپنی قدرت اور توحید اور بندوں کے ذراذرا حال سے اپنے واقف ہونے کا ذکر فرما کریہاں سے قریش کو اللہ تعالیٰ کے احکام پر اور اللہ کے رسول کے سچے ہونے پر ایمان لانے اور دنیا کی الفت چھوڑنے اور خدا کی راہ میں کچھ مال خرچ کرنے کی نصیحت شروع کی ہے مفسرین نے لکھا ہے کہ دنیا جس قدر مال ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے اس لیے اصل مالک سب چیزوں کا اللہ تعالیٰ ہے، عارضی طور پر چند روز دنیا کے مال اور دنیا کی چیزوں کے لوگ مالک اور وارچ بن جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ یہ عارضی قبضہ والے لوگ سب مرجائیں گے تو اللہ کا پیدا کیا ہوامال اللہ کے قبضہ میں چلاجائے گا۔ صحیح مسلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[12] یہاں خطاب غیر مسلموں سے نہیں ہے بلکہ جیسا آگے قرائن سے واضح ہوجائے گا روئے سخن درحقیقت خام قسم کے مسلمانوں اور منافقین کی طرف ہے جو اللہ اور رسول پر ایمان تو لے آئے لیکن جب اس ایمان کا مطالبہ جہاد فی سبیل اللہ اور اس کے مصارف میں اپنا حصہ ادا کرنے کی صورت میں سامنے آیا تو اس سے کترانے لگے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم اس مال کے خالق ومالک نہیں بلکہ صرف اس کے امین ہو تو جب اس مال کے خرچ کرنے کا مطالبہ اسی کی طرف سے ہو رہا ہے جس نے تم کو اس کا امین بنایا ہے تو اس سے بخل کرنے کے کیا معنی ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 3–8

خدا اول کیوں کر ہے ؟ 1: خدا کی ایک صفت یہ بھی ہے ۔ کہ وہ اہل ہے ۔ اور اس کو کائنات کی ہر چیز پر تقدم حاصل ہے ۔ مگر قدیم حکماء کے لئے بڑی مشکل کا سامنا تھا ۔ وہ یہ نہیں سمجھتے تھے ۔ کہ اس تقدم کی نوعیت کیا ہے ۔ کیونکر انہوں نے عام طور پر تقدم کی پانچ قسمیں لکھی ہیں :۔ (1) تقدم بالتاثیر ۔ (2) تقدم باالاحتیاج (3) تقدم بالشرف (4) تقدم باالمرتبہ (5) اور تقدم بالریان ۔ اور پانچویں قسم کے تقدم کو تسلیم کرلینے میں انہیں عقلی استخانوں کا ایک انبار نظر آتا تھا ۔ اگر ہم یہ مانتے ہیں ۔ کہ وہ ذات زمانہ ہر شئے سے مقدم ہے ۔ تو خود اس جملے کا مفہوم کیا ہے ۔ کیونکہ اس کو اول کہنا یہ خرازمانے کو مستلزم ہے ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) تم لوگ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائو اور اس مال میں خیرات کرو جس مال میں اللہ تعالیٰ نے اگلے اور گزشتہ لوگوں کی جگہ تم کو قائم مقام اور جانشین کیا ہے سو جو لوگ تم میں سے ایمان لے آئیں اور خیرات کریں ان کو بڑا اجر ملے گا اور ان کے لئے بڑی مزدوری اور بڑا نیگ ہے۔ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے اقتدار اور اس کی وسعت حکومت کا حال سن لیا تو اتنے بڑے مالک املک کے احکام مانو اور اس کی توحید اور اس کی وحدانیت اور اس کے رسول ﷺ کی رسالت پر ایمان لے آئو اور ایمان لاکر اپنے اس مال میں سے خیرات کرو جس مال میں تم کو اللہ تعالیٰ نے دوسرے گزشتہ لوگوں کا جانشین بنایا ہے سبحان اللہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–7

ف 5۔ اس عنوان استخلاف میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ مال تم سے پہلے اور کسی کے پاس تھا، اور اسی طرح تمہارے بعد کسی اور کے ہاتھ میں چلا جائے گا، پس جب یہ سدا رہنے والی چیز نہیں تو اس کو جوڑ جوڑ کر رکھنا کہ ضروری مصرف میں بھی خرچ نہ کیا جائے حماقت محضہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ہدایت 7 ؎ ( امنوا باللہ ورسولہ) کا خطاب کن لوگوں کو ہے ؟ ظاہر ہے کہ انہیں لوگوں کو جو ایمان لانے کے دعویدار ہیں اور اسلام قبول کرنے کا وہ دعویٰ کرچکے ہیں یعنی ایمان لانے والوں میں وہ شامل ہوچکے ہیں ۔ جو ایمان لا چکے ہیں ان کو کہنا کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو چہ معنی دارد ؟ معنی اس کے یہ بھی ہیں کہ صرف ایمان کا دعویٰ کردینے اور کلام اسلام منہ سے ادا کردینے کا نام ایمان نہیں بلکہ ایمان نام ہے دعویٰ ایمان کے بعد وہ اعمال کرنے کا جن اعمال کا کرنے کا اسلام اور ایمان تقاضا کرتا ہے اور ان اعمال کو چھوڑ دینے کا نام ایمان ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

[ 1] The original word used in the text is 'mustakhlafin' which has two meanings: 'deputies' and 'successors'. Taken in the first meaning, the verse indicates that the wealth held by human beings originally belongs to Allah, but He has made them His deputies or representatives to use it according to His directions. Although He has allowed them to use it for their own benefit, it should always be subject to the rules prescribed by Him in Shari'ah. Once it is believed that one is not the absolute owner of this wealth, it should not be difficult for him to spend according to the command of its…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

7 The addressees here are not the non-Muslims, but, as is borne out by the whole subsequent discourse, the Muslims who had affirmed the Faith and joined the ranks of the believers, but were not fulfilling the demands of the Faith and conducting themselves as true believers should. It is obvious that non-Muslims cannot be invited to affirm the Faith and then immediately asked to subscribe generously to the cause of Jihad for the sake of Allah, nor can they be told that whoever would fight and spend his wealth in the cause of Allah before the victory, would attain to a higher rank than him who…

Read the full tafseer →