Al-Hadid 57:8

Al-Hadid · from ayah 8

57:8

وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ۚ— وَالرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَقَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۟وَمَا لَـكُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ‌ۚ وَالرَّسُوۡلُ يَدۡعُوۡكُمۡ لِتُؤۡمِنُوۡا بِرَبِّكُمۡ وَقَدۡ اَخَذَ مِيۡثَاقَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ

اور تم کیسے لوگ ہو کہ خدا پر ایمان نہیں لاتے۔ حالانکہ (اس کے) پیغمبر تمہیں بلا رہے ہیں کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ اور اگر تم کو باور ہو تو وہ تم سے (اس کا) عہد بھی لے چکا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And why do you not believe in Allah while the Messenger invites you to believe in your Lord and He has taken your covenant, if you should [truly] be believers?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hadid

All translations of 57:8

تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے عہد لے چکا ہے اگر تم واقعی ماننے والے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم کیسے لوگ ہو کہ خدا پر ایمان نہیں لاتے۔ حالانکہ (اس کے) پیغمبر تمہیں بلا رہے ہیں کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ اور اگر تم کو باور ہو تو وہ تم سے (اس کا) عہد بھی لے چکا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم اللہ پر ایمان کیوں نہیں ﻻتے؟ حاﻻنکہ خود رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان ﻻنےکی دعوت دے رہا ہے اور اگر تم مومن ہو تو وه تو تم سے مضبوط عہد وپیمان بھی لے چکا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہارے لیے کونسی وجہ ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہ رکھو، حالانکہ رسول تمہیں دعوت دے رہے ہیں کہ تم اپنے پروردگار پر ایمان رکھو، اور وہ تم سے عہد لے چکے ہیں، اگر تم واقعی مومن ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ پر ایمان نہ لاؤ، حالانکہ یہ رسول تمہیں بلارہے ہیں کہ اپنے ر ب پر ایمان لاؤ اور بیشک وہ تم سے پہلے سے عہد لے چکا ہے اگر تمہیں یقین ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے، حالانکہ رسول ﷺ تمہیں بلا رہے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان لاؤ اور بیشک (اللہ) تم سے مضبوط عہد لے چکا ہے، اگر تم ایمان لانے والے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تمہیں کیا ہے تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے، جب کہ رسول تمہیں دعوت دے رہا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ اور یقینا وہ تم سے پختہ عہد لے چکا ہے، اگر تم ایمان والے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تمہیں دعوت دیتا ہے کہ تم اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ اور وہ (اللہ) تم سے اقرار بھی لے چکا ہے اگر تم واقعی ایمان لانے والے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لا رہے ہو درآنحالیکہ رسول تم کو تمہارے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے مضبوط عہد لے چکا ہے اگر تم مومن ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تمہیں کیا ہوا (اے لوگوں !) کہ تم ایمان نہیں لاتے اللہ پر جب کہ اس کا رسول تمہیں بلا رہا ہے کہ تم ایمان لاؤ اپنے رب پر اور وہ (وحدہ لاشریک) تم سے پختہ عہد بھی لے چکا ہے اگر تم واقعی ماننے والے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے جو تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے ہو درآنحالیکہ رسول تمہیں بلا رہے ہیں کہ تم اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ اور (اللہ خود) تم سے اس کا اقرار لے چکا ہے۔۔ اگر تم کو ایمان لانا ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم نہیں ایمان رکھتے اللہ پر جبکہ رسول (محمد ﷺ تمہیں دعوت دے رہے ہیں کہ تم ایمان رکھو اپنے رب پر اور دیکھو ! وہ تم سے عہد بھی لے چکا ہے اگر تم حقیقتاً مومن ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تم کیسے لوگ ہو کہ اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ اس کے پیغمبر تمہیں بلا رہے ہیں کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ اور اگر تم کو یقین ہو تو وہ تم سے اس کا عہد بھی لے چکا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

How is it that you do not believe in Allah when the Messenger calls you to believe in your Lord and although he has taken a covenant from you, if indeed you are believers?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

What is wrong with you that you do not believe in Allah, while the Messenger invites you to believe in your Lord, and He has taken your covenant, if you are to believe?

— Muhammad Taqi Usmani

What is wrong with you that you do not believe in Allah, while the Messenger invites you to believe in your Lord, and He has taken your covenant, if you are to believe?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And what is the matter with you that you believe not in Allah! While the Messenger invites you to believe in your Lord; and He has indeed taken your covenant, if you are real believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

What aileth you that ye believe not in Allah, when the messenger calleth you to believe in your Lord, and He hath already made a covenant with you, if ye are believers?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And why do you not believe in Allah while the Messenger invites you to believe in your Lord and He has taken your covenant, if you should [truly] be believers?

— Saheeh International

If you are true indeed to this covenant, why do you not believe in God, when His Messenger invites you to believe in your Lord with whom you have made a solemn covenant?

— Muhammad Sarwar

And what reason have you that you should not believe in Allah? And the Apostle calls on you that you may believe in your Lord, and indeed He has made a covenant with you if you are believers.

— Muhammad Habib Shakir

And what aileth you that ye believe not in Allah whereas the apostle is calling you to believe in your Lord, and He hath already taken your bond, if ye are going to be believers?

— Abdul Majid Daryabadi

What cause have ye why ye should not believe in Allah?- and the Messenger invites you to believe in your Lord, and has indeed taken your Covenant, if ye are men of Faith.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 57:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–11

ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم اللہ تبارک و تعالیٰ خود اپنے اوپر اور اپنے رسول ﷺ پر ایمان لانے اور اس پر مضبوطی اور ہمیشگی کے ساتھ جم کر رہنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اپنی راہ میں خیرات کرنے کی رغبت دلاتا ہے جو مال ہاتھوں ہاتھ تمہیں اس نے پہنچایا ہو تم اس کی اطاعت گذاری میں اسے خرچ کرو اور سمجھ لو کہ جس طرح دوسرے ہاتھوں سے تمہیں ملا ہے اسی طرح عنقریب تمہارے ہاتھوں سے دوسرے ہاتھوں میں چلا جائے گا اور تم پر حساب اور عتاب رہ جائے گا اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ تیرے بعد تیرا وارث ممکن ہے نیک ہو اور وہ تیرے ترکے کو میری راہ میں خرچ کر کے مجھ سے قربت حاصل کرے اور ممکن ہے کہ وہ بد…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 8–9

سورة الْحَدِیْد 11 یعنی تم یہ غیر ایمانی روش اس حالت میں اختیار کر رہے ہو کہ اللہ کا رسول خود تمہارے درمیان موجود ہے اور دعوت ایمانی تمہیں کسی دور دراز واسطے سے نہیں بلکہ براہ راست اللہ کے رسول کی زبان سے پہنچ رہی ہے۔ سورة الْحَدِیْد 12 بعض مفسرین نے اس عہد سے مراد اللہ کی بندگی کا وہ عہد لیا ہے جو ابتدائے آفرینش میں آدم ؑ کی پشت سے ان کی ذریت کو نکال کرلیا گیا تھا۔ اور بعض دوسرے مفسرین نے اس سے مراد وہ عہد لیا ہے جو ہر انسان کی فطرت اور اس کی فطری عقل میں اللہ کی بندگی کے لیے موجود ہے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا وہ شعوری عہد ہے جو ہر مسلمان ایمان لا کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–9

معارف و مسائل وَقَدْ اَخَذَ مِيْثَاقَكُمْ ، اس سے میثاق ازل بھی مراد ہوسکتا ہے، جب کہ حق تعالیٰ نے مخلوقات کے پیدا ہونے سے پہلے ہی وجود میں آنے والی تمام ارواح کو جمع کر کے ان سے ربوبیت یعنی اللہ تعالیٰ کے رب العالمین ہونے کا اقرار اور عہد لیا تھا جس کا ذکر قرآن میں (الست بربکم قالو ابلیٰ) کے الفاظ سے آیا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس میثاق سے وہ عہد و میثاق مراد ہو جو پچھلے انبیاء اور ان کی امتوں سے خاتم الانبیاء ﷺ پر ایمان لانے اور ان کی مدد کرنے کے متعلق لیا گیا ہے، جس کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں ہے (آیت) (ثُمَّ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(وما لکم لا تومنون باللہ والرسول یدعوکم لتومنوا بربکم وقد اخذ میثا قکم ان کنتم مومنین) (8) یہ اس طرح کے کمزور مسلمانوں کے لیے نصیحت بانداز ملامت ہے کہ جب تم رسول سے سمعنا واطعنا کا عہد کرچکے ہیں تو اس عہد کا تقاضا تو یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو حکم اترے اور رسول جس بات کی دعوت دیں اس پر (امنا وصدقنا) کہتے ہوئے عمل کرو لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ رسول اللہ کی راہ میں انفاق کی دعوت دے رہا ہے اور تم منہ چھپاتے پھر رہے ہو ! تو یہ کس قسم کا عہد اور کس نوع کا ایمان ہے ! اور جب آج تمہارے ایمان اور عہد کا یہ حال ہے جب کہ رسول تمہارے اندر موجود ہے اور بذات خود تمہیں ایمان کے تقاضے پورے کرنے کی دعوت دے رہا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 8–9

8-1ابن کثیر نے اخذ کا فاعل الرسول کو بنایا ہے اور مراد وہ بیعت لی ہے جو رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام سے لیتے تھے کہ خوشی اور ناخوشی ہر حالت میں اطاعت کرنی ہے اور امام ابن جریر کے نزدیک اس کا فاعل اللہ ہے اور مراد وہ عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے اس وقت لیا تھا جب انہیں آدم ؑ کی پشت سے نکالا تھا، جو عہد الست کہلاتا ہے، جس کا ذکر (وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ182ښ) 7۔ الاعراف :182) میں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–9

6: بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ خطاب کافروں کو ہے، اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ خطاب ان مسلمانوں کو ہے جن کے ایمان میں کسی قدر کمزوری محسوس کی گئی تھی، جس کی بناء پر وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے سے ہچکچا رہے تھے۔ سیاق وسباق کے لحاظ سے شاید یہ دوسری تفسیر زیادہ راجح ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–9

ومالکم ............ رحیم (9) (75 : 8۔ 9) ” تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے عہد لے چکا ہے۔ اگر تم واقعی ماننے والے ہو۔ وہ اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں نازل کررہا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے ، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔ “ آخر ایمان کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے ؟ ایمان تو وہ لا چکے ہیں ایمان لانے کا حق یہاں مطلوب ہے۔ پھر دعوت ذات رسول کی طرف سے ہے ، جن کے ہاتھ پر تم بیعت کرچکے ہو ، پختہ وعدہ کرچکے ہو۔ اور پھر آسمانوں سے آیات بینات کی پے درپے موسلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی اللہ پر ایمان لانے یا یقین و معرفت کے راستوں پر چلنے والے سے کیا چیز مانع ہوسکتی ہے۔ اور اس معاملہ میں سستی یا تقاعد کیوں ہو جبکہ خدا کا رسول تم کو کسی اجنبی اور غیر معقول چیز کی طرف نہیں بلکہ تمہارے حقیقی پرورش کرنے والے کی طرف دعوت دے رہا ہے جس کا اعتقاد تمہاری اصل فطرت میں ودیعت کردیا گیا اور جس کی ربوبیت کا اقرار تم دنیا میں آنے سے پہلے کرچکے ہو۔ چناچہ آج تک اس اقرار کا کچھ نہ کچھ اثر بھی قلوب بنی آدم میں پایا جاتا ہے۔ پھر دلائل وبراہین اور ارسال رسل کے ذریعہ سے اس ازلی عہد و پیمان کی یاد دہانی اور تجدید بھی کی گئی۔ اور انبیائے سابقین نے اپنی امتوں سے یہ عہد بھی لیا کہ خاتم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8{ وَمَالَکُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ } ”اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم نہیں ایمان رکھتے اللہ پر !“ یہ پہلے مطالبے یعنی ”ایمان“ سے متعلق گویا زجر و ملامت اور ایک طرح سے تنبیہہ کا انداز ہے۔ { وَالرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّکُمْ } ”جبکہ رسول محمد ﷺ تمہیں دعوت دے رہے ہیں کہ تم ایمان رکھو اپنے رب پر“ ہمارے رسول ﷺ ابھی تمہارے مابین موجود ہیں ‘ اور وہ تم لوگوں کو براہ راست ایمان کی دعوت دے رہے ہیں۔ { وَقَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَکُمْ } ”اور دیکھو ! وہ تم سے عہد بھی لے چکا ہے“ اگر تم ایمان کے دعوے دار ہو تو ذرا غور کرو کہ تم نے اپنے رب کے ساتھ کتنے عہد کر رکھے ہیں۔ ایک عہد تو وہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

11 یہاں ایمان لانے سے مراد اللہ اور اس کے رسول کے ان وعدوں کو یقینی اور سچا سمجھنا ہے جو اسلام کے غلبہ سے متعلق انہوں نے مسلمانوں سے کر رکھے ہیں۔ یہ وعدے بھی کہ جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ اس سے بہت زیادہ تمہیں غنائم وغیرہ کی صورت میں لوٹا دے گا اور یہ وعدے بھی کہ اللہ آخرت میں تمہیں ایسے صدقات کا بہت زیادہ اجر دے گا۔ 12 اس اقرار سے مراد عہد (اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ 172؀ۙ ) 7 ۔ الاعراف :172) بھی ہوسکتا ہے جس کی رو سے ہر شخص نے یہ اقرار کیا تھا کہ وہ اللہ کا فرمانبردار بن کر زندگی گزارے گا اور اسلام لانا بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اسلام میں داخل ہونا بذات خود اس بات کا پختہ اقرار ہوتا ہے کہ وہ اللہ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

11۔ یعنی کمال حیرت کی بات ہے کہ تم جب بھی ایمان اور پورا ایمان نہیں لاتے ہو۔ جبکہ دو دوزبردست داعی اس دعوت ایمان کی قبولیت کے موجود ہیں۔ ایک تو رسول اللہ ﷺ جیسا حکیم اعظم مبلغ۔ دوسرے توحید کا داعیہ خود تمہاری فطرت کے اندر موجود۔ (آیت) ” لاتؤمنون باللہ۔ یعنی ایسا ایمان جو اللہ پر ایمان لانے کا حق ہے۔ ایمان باللہ کے تحت میں رسول اللہ ﷺ پر ایمان، حشر پر ایمان، کتب الہی پر ایمان سارے بنیادی عقائد ایمانی آگئے۔ (آیت) ” وقد اخذ میثاقکم “۔ میثاق سے مراد بیعت رسول اللہ ﷺ بھی سمجھی گئی ہے۔ اور میثاق صلب آدم (علیہ السلام) بھی لی گئی ہے۔ یعنی بذلک بیعت الرسول ﷺ وزعم ابن جریر ان المراد بذلک المیثاق الذی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 7–10

امنوا باللہ وسرولہ وانفقوا مما جعلکم مستخلفین فیہ یہ آیت غزوہ تبوک کے بارے میں نازل ہوئی ہے، روح المعانی میں ہے والایۃ علی ماروی عن الضحاک نزلت فی تبوک فلا تغفل اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خطاب کا روئے سخن مسلمانوں کی طرف ہے اس لئے کہ جن حالات میں انفاق فی سبیل اللہ کی بڑے زور دار اور نئے انداز سے اپیل کی جا رہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپیل اور ترغیب غیر معمولی حالات کے پیش نظر کی جا رہی ہے جس میں حضرت ابوبکر صدیق نے اپنا کل مال اور حضرت عمر ؓ نے نصف مال اور اس ہنگامی فوجی اور قومی ضرورت کے لئے خدمت میں پیش کیا اور حضرت عثمانی غنی ؓ نے اس غزوہ میں ایک ہزار دینار اور تین سو اونٹ مع ساز و سامان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

. ” اور تمہارے لیے کیا سبب ہے کہ اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تم کو بلا رہے ہیں کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ اور خود خدا نے تم سے (اپنے رب ہونے کا) عہد لیا تھا ‘ اگر تم کو ایمان لانا ہو۔ “ وَمَالَکُمْ لاَ تُؤْمِنُوْنَ.... یعنی اللہ پر ایمان نہ لانے کا تمہارے پاس کیا عذر ہے جبکہ رسول ﷺ دلائل اور واضح نشانیوں کی روشنی میں اللہ پر ایمان لانے کی تم کو دعوت دے رہے ہیں۔ وَقَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَکُمْ : اور اللہ نے (اپنی ربوبیت کا) تم سے اقرار لے لیا تھا یعنی جب آدم ( علیہ السلام) کی پشت سے تم کو برآمد کر کے فرمایا تھا : اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ : کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ تم نے جواب میں کہا تھا :…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے اہل مکہ تمہارے لیے کیا وجہ ہوئی کہ تم توحید کا اقرار نہیں کرتے حالانکہ رسول اکرم تمہیں توحید کی طرف بلا رہے ہیں تاکہ تم اپنے پروردگار کی توحید کے قائل ہوجاؤ خود اللہ نے تم سے توحید کا عہد لیا تھا جبکہ تم میثاق کے دن اس پر ایمان رکھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ وَمَا لَکُمْ لاَ تُؤْمِنُوْنَ بِ اللہ ِ ج۔۔۔۔۔۔: یہ خطاب بھی مسلمانوں ہی سے ہے ، اس کی دلیل آیت کا آخری جملہ والی آیت (10) (لاَ یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰـتَلَ ط) بھی اس کی دلیل ہے۔ جس طرح پچھلی آیت میں ایمان والوں کو ایمان لانے اور خرچ کرنے کا حکم ہے ، اسی طرح اس آیت میں بھی انہیں جھنجھوڑا جا رہا ہے کہ آخر وجہ کیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے ؟ یعنی اس پر ایمان کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے اس کے راستے میں خرچ نہیں کرتے ، حالانکہ رسول خود تمہارے درمیان موجود ہے اور بہ نفس نفیس تمہیں اس بات کی دعوت دے رہا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ اور اس پر یقین رکھتے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وما لکم لا تومنون باللہ یہ استفہام ہے مراد توبیخ ہے یعنی ایمان نہ لانے کا تمہارے پاس کیا عذر ہے جب کہ تمام رکاوٹیں ختم ہوچکی ہیں والرسول یدعوکم اس کے ساتھ یہ واضح کیا کہ شرائع کے وارد ہونے سے پہلے کوئی حکم نہیں۔ ابو عمر نے اسے پڑھا و قد اخذمیثاقکم، احذ فعل مجہول ہے باقی قراء نے اسے معروف پڑھا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے تم سے پختہ وعدہ لیا ہے کہ تم میں عقلیں رکھیں اور تم پر دلائل اور حجتیں قائم ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی متابعت کی طرف لے جاتی ہیں ان کنتم مومنین۔ یہاں ان، اذ کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر تم حجتوں اور دلائل پر ایمان رکھتے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر تم کسی روز حق پر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–11

1۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اٰمنو باللہ ورسولہ وانفقو مما جعلکم مستخلفین فیہ۔ اور جس مال میں اللہ نے تم کو قائم مقام بنایا اس کا کچھ حصہ راہ خدا میں خرچ کرو یعنی اس رزاق میں سے جو اس نے تم کو زندگی گزارنے کے لیے کثرت سے عطا فرمایا ہے آیت وقد اخذ میثاقکم اور خود خدا نے تم سے اپنے رب ہونے کا عہد لیا تھا یعنی ابھی تم آدم (علیہ السلام) کی پشت میں تھے آیت لیخرجکم من الظلمت الی النور۔ تاکہ تم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے یعنی گمراہی سے ہدایت کی طرف۔ فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں کی فضیلت 2۔ سعید بن منصور وابن المنذر وعبد بن حمید نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَا لَكُمْ : اور تم لوگوں کو کیا (ہوگیا) ہے ] [ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ۚ : تم لوگ ایمان نہیں لاتے اللہ پر ] [وَالرَّسُوْلُ : حالانکہ یہ رسول ] [ يَدْعُوْكُمْ : دعوت دیتے ہیں تم کو ] [ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ : کہ تم لوگ ایمان لاؤ اپنے رب پر ] [وَقَدْ اَخَذَ : اس حال میں کہ وہ لے چکے ہیں ] [ مِيْثَاقَكُمْ : تم سے پختہ عہد ] [ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : اگر تم لوگ ایمان لانے والے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–10

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تمہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرو یہ پانچ آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں حکم فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تمہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرو ساتھ ہی ﴿ مُّسْتَخْلَفِيْنَ فِيْهِ ﴾ بھی فرمایا ہے یعنی یہ مال وہ ہے جو تم سے پہلے دوسروں کے پاس تھا ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں خلیفہ بنا دیا اب یہ مال تمہارے تصرف میں ہے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ یہ خرچ کیا ہوا مال ضائع نہ جائے گا۔ ﴿ فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–11

دعوت ایمان بررب کون ومکان وحکم اطاعت رسول کریم ﷺ وترغیب بذل مال عزیز برائے رضائے خداوندذوالجلال : قال اللہ تعالیٰ : امنوا باللہ ورسولہ ...... الی ...... ولہ اجر کریم “۔ (ربط) ابتداء سورت سے خداوند عالم نے اپنی صفات قدرت و عظمت کا بیان فرمایا ان صفات اور خوبیوں کو سن کر ہر مخاطب کو چاہئے کہ ایسی ذات سراپا عظمت وکبریائی پر ایمان لانے کے واسطے تیار ہوجائے اور اسکی اطاعت وفرمانبرداری جو اس کے رسول ہی کی ذریعے ہوسکتی ہے تیار ہوجائے اور کائنات کے خالق ومالک کی خوشنودی کے لئے اپنی جان ومال کی قربانی سے بھی دریغ نہ کرے اور جو مال صرف اللہ ہی نے اسکو عطا کیا ہے اس مال کو اس کی فرماں برداری اور حقوق کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–8

6:۔ ” امنوا باللہ “ یہ سورة الحدید کے پہلے مضمون ینی انفاق فی سبیل اللہ کا بیان ہے اور پانچ طریقوں سے خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ یہ خطاب چونکہ مومنین سے ہے اس لیے یہاں ” امنو “ حقیقت پر محمول نہیں ہوگا یعنی ” ایمان لاؤ “ بلکہ مراد یہ ہے کہ ایمان پر قائم رہو، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام مانو اور ان پر عمل کرو۔ کیونکہ یہی ایمان کا تقاضا ہے۔ ” وانفقوا “ یہ امنو پر معطوف ہے۔ حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک یہ عطف تفسیری ہے اور ایمان کے بعض تقاضوں کی تفسیر ہے حاصل یہ ہے کہ اللہ کے اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی تعمیل کرو جن میں سے فی الوقت سب سے زیادہ ضروری اور اہم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–10

ربط آیات : سورة کے آغاز میں ارض وسما کی ہر چیز کی تسبیح بیان کرنے کا ذکر ہوا۔ اللہ کی قدرت میں سے موت وحیات کی صفت بیان ہوئی ، پھر اس کے اول ، آخر ، ظاہر اور باطن ہونے کا ذکر ہوا اور اس کے قادر مطلق اور علیم کل ہونے کی صفت بیان ہوئی۔ اللہ نے فرمایا کہ اس نے ارض وسماکو چھ دن کے وقفہ میں تخلیق کیا اور وہ عرش پر مستوی ہے۔ نیز یہ کہ وہ ارض وسماء میں داخل ہونے والی اور نکلنے والی ، نازل ہونے والی اور اوپر چڑھنے والی ہر چیز کو جانتا ہے۔ اللہ نے ہر شخص کے ساتھ اپنی معیت کا تذکرہ فرمایا اور یہ بھی کہ وہ انسانوں کے دلوں کے رازوں سے بھی واقف ہے۔ اللہ نے پوری کائنات میں اپنی سلطنت کا دعویٰ کیا اور یہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۝ 0 ۚ وَالرَّسُوْلُ يَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَقَدْ اَخَذَ مِيْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۝ 8 لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–9

1 ؎ والرسول رسول اللہ ﷺ کے سوا انسان کی حالت اور دہر کا انقلاب اور توارد نعماء سب اللہ کے پیغامبر ہیں جو انسان کو اللہ پر ایمان لانے کے لیے بلا رہے ہیں اور دلائلِ آفاق وانفس خدا کا عہدنامہ ہے جو بندے نے زبان حال سے قائم کیا ہے۔ ان دونوں باتوں پر بھی ایمان نہ لانا اس کی طرف نہ جھکنا اندھا پن ہے ایسے اندھے کا عالم محسوس کی بھی کسی چیز اور کسی حالت پر ایمان نہیں ان کنتم مؤمنین میں اسی طرف اشارہ ہے کس لیے کہ اگر کسی کا ان باتوں پر ایمان و یقین ہوگا تو ضرور اللہ ہی پر ہوگا۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا لَـکُمْ لاَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّـکُمْ وَقَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَـکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ (الحدید : 8) (اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے مضبوط عہد لے چکا ہے اگر تم واقعی مومن ہو۔ ) کمزور مسلمانوں کو نصیحت اس آیت کریمہ میں کمزور مسلمانوں اور منافقین کو ملامت کے انداز میں ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان کیوں نہیں لاتے۔ ظاہر ہے اس سے مراد صرف اقرار و اعتراف نہیں بلکہ مکمل ایمان مراد ہے جس میں عبادت اللہ تعالیٰ کی اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کا تمام لوگوں کو حکم ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں لیکن لوگوں کی غالب اکثریت کی یہ حالت رہی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کی بجائے انکار اور تکذیب کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے ؟ حالانکہ رسول تمہیں بار بار اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے، تمہارے لیے ایمان لانا اس لیے بھی لازم ہے کہ تم ” اللہ “ سے عہد کرچکے ہو۔ اس سے پہلی آیت میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے لیکن اس آیت میں یوں ارشاد ہوا کہ آخر تم اللہ پر ایمان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تم کیوں ایمان نہیں لاتے : 8 : وَمَا لَکُمْ لَاتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ ( اور تمہارے لئے کیا سبب ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے) یہ مالکم میں جو معنی فعل ہے اس سے حال ہے جیسا تم کہو : مالک قائما ؟ معنی یہ تم کھڑے کیا کرتے ہو ؟ مطلب یہ ہوا تم کیوں کر اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہو حالانکہ وَالرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ (رسول اللہ (ﷺ) تم کو بلا رہے ہیں) وائو حالیہ ہے۔ یہ دونوں حال متداخل ہیں۔ مطلب یہ ہے ایمان کو چھوڑنے میں تمہارے پاس کیا عذر ہے جبکہ رسول ﷺ تم کو بلا رہے ہیں۔ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّکُمْ وَقَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَکُمْ (کہ اپنے رب پر ایمان لائو۔ اور خود اللہ تعالیٰ نے تم سے پکا عہد لیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔ آمنوا باللہ ورسولہ “ کفار مکہ کو خطاب کیا ہے۔ ” وانفقوا مما جعلکم مستخلفین فیہ “ جس میں مالک بنائے گئے ہو یعنی وہ مال جو ان کے غیر قبضہ میں تھا پھر ان کو ہلاک کردیا اور وہ قریش کو دے دیا تو یہ اس مال میں ان لوگوں کے خلیفہ ہوگئے جو پہلے گزر چکے ہیں۔” فالذین امنوا منکم وانفقوا لھم اجر کبیر “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–11

7۔ 10۔ سورة کے شروع سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور توحید اور بندوں کے ذرا ذرا حال سے اپنے واقف ہونے کا ذکر فرما کر یہاں سے قریش کو اللہ تعالیٰ کے احکام پر اور اللہ کے رسول کے سچے ہونے پر ایمان لانے اور دنیا کی الفت چھوڑنے اور خدا کی راہ میں کچھ مال خرچ کرنے کی نصیحت شروع کی ہے۔ اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ دنیا میں جس قدر مال ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے۔ اس لئے اصل مالک سب چیزوں کا اللہ تعالیٰ ہے۔ عارضی طور پر چند روز دنیا کے مال اور دنیا کی چیزوں کے لوگ مالک اور وارث بن جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ یہ عارضی قبضہ والے لوگ سب مرجائیں گے تو اللہ کا پیدا کیا ہوا مال اللہ کے قبضہ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–8

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اللہ اور اس کے رسول پر اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے اور اللہ کے راستے میں وہ مال خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے جو اس نے ان کے اخٹیار میں دیا ہے اور اس پر ان کو خلیفہ بنایا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، پھر جب اس نے یہ حکم دیا تو اس نے ان کے سامنے اللہ کے راستے میں مال خڑچ کرنے کے ثواب کا ذکر کر کے ان کو مال خرچ کرنے کی ترغیب دی اور اس پر آمادہ کیا، چناچہ فرمایا : (فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَاَنْفَقُوْا) یعنی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کو جمع کیا (لَهُمْ اَجْرٌ كَبِيْرٌ) ان کے لی بہت بڑا اجر ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 28] ایمان صادق کے لئے تحریض و ترغیب کا ذکر وبیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور تحریص و ترغیب کے لئے اسلوب استفہام میں ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو کیا ہوگیا ؟ اور تمہارے لئے کیا عذر ہوسکتا ہے کہ تم ایمان نہیں لاتے اللہ پر، حالانکہ اللہ پر ایمان تقاضا ہے عقل سلیم، اور فطرت و مستقیم دونوں کا، اور اللہ رسول تمہیں اس کی دعوت سے رہا ہے، سو اس سے کمزور مسلمانوں اور منافق لوگوں کو سچے پکے ایمان کی دعوت وتحریض فرمائی گئی ہے اور استفہام یہاں پر تخصیض و توبیخ کے لئے ہے۔ یعنی تمہیں اس پر ایمان لانا چاہیے کہ اللہ پاک پر ایمان لانے کے دواعی اور اسباب تو تمام موجود ہیں کہ اس نے ایک طرف تمہیں عقل و فکر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–12

اللہ کا حکم اور اس کی رحمتیں تشریح : ان آیات میں چند خاص احکامات اور عمل کرنے والوں کے لیے انعامات کا ذکر بڑے آسان الفاظ میں کرد یا گیا ہے یہ سب کچھ بھی بیان کیا جا چکا ہے بس یاد دہانی کے لیے بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ پہلا حکم :۔ اللہ و رسول پر خلوص اور نیک نیتی سے ایمان لے آؤ۔ دوسرا حکم : اللہ نے انسان کو اپنا نائب کہا ہے لہٰذا بےدریغ خوشی خوشی زکوٰۃ خیرات، ضرورت مندوں کے لئے اور جہاد کے لیے خرچ کرو۔ یہ مال اللہ کا ہی دیا ہوا ہے۔ تیسرا : رسول کے پکارنے پر اور تعلیمات پر دھیان دو کیونکہ یہ تعلیمات بیشک روشنی کا مقام رکھتی ہیں۔ چوتھا : بےمقصد صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خرچ کرو۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ زمینوں اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے زبان حال سے بھی اور ہر شے کی اپنی زبان سے جس سے وہ اپنے رب سے مخاطب ہوسکے لہذا اپنے انداز میں زبان قال سے بھی کہ یہی اس کے وجود کا سبب ہے جس شے سے بھی ذکر الٰہی چھوٹ جائے وہ باقی نہیں رہتی سوائے مکلف مخلوق کے کہ اسے اطاعت وعدم اطاعت میں ایک وقت تک کے لیے اختیار بخشا گیا ہے اور اللہ زبردست ہے ہر شے پہ ہر حال میں غالب ہے اور یہ اس کی حکمت بالغہ ہے کہ ہر ایک کو جداگانہ اوصاف عطا فرما کر کائنات کو بسانے کا سامان فرمایا ہے ارض وسماء میں اس کی ریاست و حکومت ہے وہی حیات بانٹنتا ہے اور وہی موت دیتا ہے کہ وہ ہر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 امام ابن جریر نے اس سے مراد وہ اقرار لیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے اس وقت لیا تھا جب اس نے انہیں حضرت آدم کی پشت سے پیدا کیا تھا اور جو ان میں سے ہر ایک کی سرشت میں داخل ہے۔ وقدم فی سورة الاعراف 172) شاہصاحب لکھتے ہیں :” اقرار اللہ نے چکا ہے دنیا میں آنے سے پہلے اور اس کا اثر رکھ دیا دل میں۔ (موضح) حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ بیعت ہے جو آنحضرت نے صحابہ کرام سے لی تھی جس کا ذکر سورة مائدہ میں ہے۔ واللہ اعلم

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(57:8) مالکم۔ تم کو کیا عذر ہے۔ تم کیسے ہو۔ تم کو کیا ہوگیا ہے۔ تمہارے لئے کیا سبب ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وما لکم الا تنفقوا فی سبیل اللہ (57:10) اور تم کو کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ہو۔ اور دوسری جگہ ہے :۔ وقالوا مال ھذا الرسول یا کل الطعام (25:7) اور کہتے ہیں یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھانا کھاتا ہے۔ وما لکم لا تؤمنون باللہ۔ اور تم کو کیا ہوگیا ہے کہ اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔ والرسول یدعوکم لتؤمنوا بربکم : جملہ حالیہ ہے۔ حالانکہ رسول تم کو تمہارے رب پر ایمان لانے کے لئے (برابر) بلا رہا ہے۔ لتومنوا میں لام تعلیل کا ہے۔ یہ اصل میں تؤمنون تھا (مضارع کا صیغہ جمع مذکر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–10

لغات القرآن۔ مستخلفین۔ قائم مقام بنائے گئے… الاتنفقوا۔ یہ کہ تم خرچ نہ کرو… میراث۔ ملکیت۔ میراث۔ ترکہ… لا یستوی۔ برابر نہیں ہے۔ … الحسنی۔ بھلائی۔ خیر۔ تشریح : وہ اللہ جو زمین وآسمان کی سلطنت کا مالک، ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے جو ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ وہی اول و آخر اور ظاہر و باطن ہے اس پر اور اس کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد ﷺ پر دل کی گہرائیوں اور انتہائی خلوص سے ایمان رکھنا اور اس کے حکم کے مطابق اللہ کی راہوں میں مال خرچ کرنا اس پر بہترین اجرو ثواب کا وعدہ ہے فرمایا کہ آج تم جس مال و دولت کے مالک بنے بیٹھے ہو وہ درحقیقت اللہ ہی کا مال ہے لہٰذا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–8

(ف 1) سورة کے شروع سے یہاں تک اللہ نے اپنی قدرت اور توحید اور بندوں کے ذراذرا حال سے اپنے واقف ہونے کا ذکر فرما کریہاں سے قریش کو اللہ تعالیٰ کے احکام پر اور اللہ کے رسول کے سچے ہونے پر ایمان لانے اور دنیا کی الفت چھوڑنے اور خدا کی راہ میں کچھ مال خرچ کرنے کی نصیحت شروع کی ہے مفسرین نے لکھا ہے کہ دنیا جس قدر مال ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے اس لیے اصل مالک سب چیزوں کا اللہ تعالیٰ ہے، عارضی طور پر چند روز دنیا کے مال اور دنیا کی چیزوں کے لوگ مالک اور وارچ بن جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ یہ عارضی قبضہ والے لوگ سب مرجائیں گے تو اللہ کا پیدا کیا ہوامال اللہ کے قبضہ میں چلاجائے گا۔ صحیح مسلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–9

[13] یہاں ایمان لانے سے مراد محض زبانی اقرار اسلام نہیں بلکہ سچے دل سے ایمان لانا ہے۔ [14] یعنی سمع و اطاعت کا و عدہ جو ہر مسلمان کو نبی ﷺ سے بیعت کے وقت کرنا پڑا۔ ملاحظہ ہو سورة مائدہ آیت 7 صفحہ 242۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 3–8

خدا اول کیوں کر ہے ؟ 1: خدا کی ایک صفت یہ بھی ہے ۔ کہ وہ اہل ہے ۔ اور اس کو کائنات کی ہر چیز پر تقدم حاصل ہے ۔ مگر قدیم حکماء کے لئے بڑی مشکل کا سامنا تھا ۔ وہ یہ نہیں سمجھتے تھے ۔ کہ اس تقدم کی نوعیت کیا ہے ۔ کیونکر انہوں نے عام طور پر تقدم کی پانچ قسمیں لکھی ہیں :۔ (1) تقدم بالتاثیر ۔ (2) تقدم باالاحتیاج (3) تقدم بالشرف (4) تقدم باالمرتبہ (5) اور تقدم بالریان ۔ اور پانچویں قسم کے تقدم کو تسلیم کرلینے میں انہیں عقلی استخانوں کا ایک انبار نظر آتا تھا ۔ اگر ہم یہ مانتے ہیں ۔ کہ وہ ذات زمانہ ہر شئے سے مقدم ہے ۔ تو خود اس جملے کا مفہوم کیا ہے ۔ کیونکہ اس کو اول کہنا یہ خرازمانے کو مستلزم ہے ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) اور تم کو کیا ہوا کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول اللہ ﷺ تم کو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں اور تم کو ایمان باللہ کی جانب بلا رہے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائو اور بلا شبہ تم سے تو خود اللہ تعالیٰ پختہ عہد لے چکا ہے بشرطیکہ تم باور کرو اور تم کو ایمان لانا ہو۔ یعنی ایمان لانے میں کیوں توقف کررہے ہو اور تم کو کیا چیز مانع اور حارج ہے جبکہ ایمان کے دواعی موجود ہیں اول تو رسول اللہ ﷺ تم کو ایمان کی دعوت دے رہے ہیں پھر تم سے اللہ تعالیٰ نے خودبھی عہد لے چکا ہے یعنی یوم میثاق میں الست بربکم فرما کر تم سے عہد لیات ھا اور تم نے بلیٰ کہا تھا تو اگر تم کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–10

ف 6۔ پس جب سب مال ایک روز چھوڑنا ہے تو خوشی سے کیوں نہ دیا جائے کہ ثواب بھی ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تم کو کیا ہے کہ تم اللہ اور اسکے رسول پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ تم نے پختہ وعدہ کیا ہے 8 ؎۔ یہ اس طرح کا بیان ہے جس طرح کسی کو ملامت کرتے ہوئے کہا جاتا ہے تم کو کیا تکلیف ہے کہ تم یہ کام نہیں کرتے جب کہ تم کو اس کے کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے اور یہ اس لیے فرمایا گیا ہے کہ ایک مسلمان جب اسلام لانے کا دعویٰ کرتا ہے تو گویا وہ اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ میں نے اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی بات کو سن لیا ہے اور اس کو کرنے کا عہد کرتا ہوں لیکن اس کے بعد وہ اس عہد کو بھول جاتا ہے یعنی اس طرح نہیں کرتا جس طرح کرنے کا اس نے عہد کیا ہے تو اس سے یہ بات پوچھنے میں آدمی حق بجانب ہوتا ہے کہ ہاں ! بتائو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–9

Ordering Faith وَقَدْ أَخَذَ مِيثَاقَكُمْ (...and He has taken your covenant ....57:8) This could refer to the covenant taken in ` anal' (pre-eternity). According to verses 172-174 of Surah Al-A'raf, Allah gathered all the souls even before they took the form of their existence, and took the covenant of 'alast' [ the pre-eternal covenant ]. He asked them: اَلَستُ بِرَبِّکُم ("Am I not your Lord?" ) They replied: بَلیٰ (Of course You are, we affirm). Another possibility is that this covenant could refer to the pledge taken from the previous prophets and their followers to believe in the final…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–9

11 That is, "You are adopting this unbelieving attitude and conduct at a time when the Messenger of Allah is present among you, and you are receiving the invitation to the Faith not through an indirect and remote means but directly through the Messenger of Allah himself." 12 Some commentators have taken this pledge to imply the pledge of service to Allah, which had been taken at the beginning of creation from the future offspring of Adam (peace be upon him), and some others take it for the pledge with which man has been naturally endowed to serve and obey Allah. But the trnth is that it…

Read the full tafseer →