Al-Hadid 57:9

Al-Hadid · from ayah 9

57:9

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰی عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۢ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ؕ— وَاِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ ۟هُوَ الَّذِىۡ يُنَزِّلُ عَلٰى عَبۡدِهٖۤ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ لِّيُخۡرِجَكُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ‌ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ بِكُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ

وہی تو ہے جو اپنے بندے پر واضح (المطالب) آیتیں نازل کرتا ہے تاکہ تم کو اندھیروں میں سے نکال کر روشنی میں لائے۔ بےشک خدا تم پر نہایت شفقت کرنے والا (اور) مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

It is He who sends down upon His Servant [Muhammad] verses of clear evidence that He may bring you out from darknesses into the light. And indeed, Allah is to you Kind and Merciful.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hadid

All translations of 57:9

وہ اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں نازل کر رہا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہی تو ہے جو اپنے بندے پر واضح (المطالب) آیتیں نازل کرتا ہے تاکہ تم کو اندھیروں میں سے نکال کر روشنی میں لائے۔ بےشک خدا تم پر نہایت شفقت کرنے والا (اور) مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه (اللہ) ہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیتیں اتارتا ہے تاکہ وه تمہیں اندھیروں سے نور کی طرف لے جائے یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نرمی کرنے واﻻ رحم کرنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ وہی تو ہے جو اپنے بندے پر کھلی کھلی آیتیں نازل فرماتا ہے، تاکہ تمہیں اندھیریوں سے نکال کر روشنی میں لائے۔ اور یقین جانو اللہ تم پر بہت شفیق، بہت مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہی ہے کہ اپنے بندہ پر روشن آیتیں اتارتا ہے تاکہ تمہیں اندھیریوں سے اجالے کی طرف لے جائے اور بیشک ا لله تم پر ضرور مہربان رحم والا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہی ہے جو اپنے (برگزیدہ) بندے پر واضح نشانیاں نازل فرماتا ہے تاکہ تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جائے، اور بیشک اللہ تم پر نہایت شفقت فرمانے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیات اتارتا ہے، تاکہ تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے اور بلاشبہ اللہ تم پر یقینا بےحد نرمی کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہی تو ہے جو اپنے بندے پر واضح آیات نازل کرتا ہے تاکہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے اور اللہ تو یقینا تم پر بڑا مہربان رحم کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہی ہے جو اتارتا ہے اپنے بندے پر واضح آیات تاکہ تمہیں نکالے تاریکیوں سے روشنی کی طرف اور بیشک اللہ تمہارے حال پر نہایت ہی شفیق اور مہربان ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ (اللہ) وہی ہے جو نازل فرماتا ہے اپنے بندہ خاص پر کھلی کھلی آیتیں تاکہ وہ تمہیں نکالے (اپنے کرم سے) طرح طرح کے اندھیروں سے (حق و ہدایت کے) نور کی طرف اور بیشک اللہ تم سب پر (اے لوگوں !) یقنی طور پر بڑا ہی شفیق اور انتہائی مہربان ہے

— مولانا اسحاق مدنی

وہ وہی ہے جو اپنے بندہ پر صاف آیتیں اتارتا ہے تاکہ تم کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکال لائے اور بیشک اللہ تمہارے اوپر شفیق ہے بڑا مہربان ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہی تو ہے جو اپنے بندے ﷺ پر یہ آیات بینات نازل کر رہا ہے تاکہ نکالے تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف۔ اور یقینا اللہ تمہارے حق میں بہت رئوف اور رحیم ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف آیتیں اتارتا ہے تاکہ تم کو اندھیروں میں سے نکال کر روشنی میں لائے بیشک اللہ تم پر بہت شفقت کرنے والا اور مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He it is Who sends down Clear Signs to His servant so as to bring you out from darkness into light. Surely Allah is Most Kind and Most Compassionate to you.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He is the One who reveals clear verses to His servant, so that He brings you out from layers of darkness into the light. And to you, Allah is Very-Kind indeed, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

He is the One who reveals clear verses to His servant, so that He brings you out from layers of darkness into the light. And to you, Allah is Very-Kind indeed, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It is He Who sends down manifest Ayat to His servant that He may bring you out from darkness into light. And verily, Allah is to you full of kindness, Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He it is Who sendeth down clear revelations unto His slave, that He may bring you forth from darkness unto light; and lo! for you, Allah is Full of Pity, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It is He who sends down upon His Servant [Muhammad] verses of clear evidence that He may bring you out from darknesses into the light. And indeed, Allah is to you Kind and Merciful.

— Saheeh International

It is He who sends illustrious revelations to His servant to take you out of darkness to light. God is Compassionate and All-merciful to you.

— Muhammad Sarwar

He it is who sends down clear communications upon His servant, that he may bring you forth from utter darkness into light; and most surely Allah is Kind, Merciful to you.

— Muhammad Habib Shakir

He it is Who sendeth down Unto His bondman manifest signs that He may bring you forth from darknesses into the light; and verily Allah is Unto you Tender, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

He is the One Who sends to His Servant Manifest Signs, that He may lead you from the depths of Darkness into the Light and verily Allah is to you most kind and Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 57:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–11

ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم اللہ تبارک و تعالیٰ خود اپنے اوپر اور اپنے رسول ﷺ پر ایمان لانے اور اس پر مضبوطی اور ہمیشگی کے ساتھ جم کر رہنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اپنی راہ میں خیرات کرنے کی رغبت دلاتا ہے جو مال ہاتھوں ہاتھ تمہیں اس نے پہنچایا ہو تم اس کی اطاعت گذاری میں اسے خرچ کرو اور سمجھ لو کہ جس طرح دوسرے ہاتھوں سے تمہیں ملا ہے اسی طرح عنقریب تمہارے ہاتھوں سے دوسرے ہاتھوں میں چلا جائے گا اور تم پر حساب اور عتاب رہ جائے گا اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ تیرے بعد تیرا وارث ممکن ہے نیک ہو اور وہ تیرے ترکے کو میری راہ میں خرچ کر کے مجھ سے قربت حاصل کرے اور ممکن ہے کہ وہ بد…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 8–9

سورة الْحَدِیْد 11 یعنی تم یہ غیر ایمانی روش اس حالت میں اختیار کر رہے ہو کہ اللہ کا رسول خود تمہارے درمیان موجود ہے اور دعوت ایمانی تمہیں کسی دور دراز واسطے سے نہیں بلکہ براہ راست اللہ کے رسول کی زبان سے پہنچ رہی ہے۔ سورة الْحَدِیْد 12 بعض مفسرین نے اس عہد سے مراد اللہ کی بندگی کا وہ عہد لیا ہے جو ابتدائے آفرینش میں آدم ؑ کی پشت سے ان کی ذریت کو نکال کرلیا گیا تھا۔ اور بعض دوسرے مفسرین نے اس سے مراد وہ عہد لیا ہے جو ہر انسان کی فطرت اور اس کی فطری عقل میں اللہ کی بندگی کے لیے موجود ہے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا وہ شعوری عہد ہے جو ہر مسلمان ایمان لا کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–9

معارف و مسائل وَقَدْ اَخَذَ مِيْثَاقَكُمْ ، اس سے میثاق ازل بھی مراد ہوسکتا ہے، جب کہ حق تعالیٰ نے مخلوقات کے پیدا ہونے سے پہلے ہی وجود میں آنے والی تمام ارواح کو جمع کر کے ان سے ربوبیت یعنی اللہ تعالیٰ کے رب العالمین ہونے کا اقرار اور عہد لیا تھا جس کا ذکر قرآن میں (الست بربکم قالو ابلیٰ) کے الفاظ سے آیا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس میثاق سے وہ عہد و میثاق مراد ہو جو پچھلے انبیاء اور ان کی امتوں سے خاتم الانبیاء ﷺ پر ایمان لانے اور ان کی مدد کرنے کے متعلق لیا گیا ہے، جس کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں ہے (آیت) (ثُمَّ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(ھو الذی ینزل علی عبدہ ایت بینت لیخرجکم من الظلمت الی النور وان اللہ بکم الرئوف رحیم (9)۔ (انفاق تاریکی سے روشنی میں لاتا ہے)۔ یعنی رسول تمہیں انفاق کی جو دعوت دے رہے ہیں اس کو گراں اور اپنے لیے نقصان رساں سمجھ کر اس سے بھاگنے کی کوشش نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر یہ روشن آیتیں اس لیے نازل فرما رہا ہے کہ تمہیں خواہشات نفس اور حسب دنیا کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور حب آخرت کی روشنی میں لائے۔ یہ نہ گمان کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں نقصانات اور مشقتوں میں ڈالنا چاہتا ہے۔ وہ رئوف رحیم ہے وہ تمہاری دنیا اور آخرت دونوں کی بہبود کی راہ کھول رہا ہے نہ کہ تمہیں کسی زحمت و مشقت میں ڈال رہا ہے۔ (ایت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 8–9

8-1ابن کثیر نے اخذ کا فاعل الرسول کو بنایا ہے اور مراد وہ بیعت لی ہے جو رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام سے لیتے تھے کہ خوشی اور ناخوشی ہر حالت میں اطاعت کرنی ہے اور امام ابن جریر کے نزدیک اس کا فاعل اللہ ہے اور مراد وہ عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے اس وقت لیا تھا جب انہیں آدم ؑ کی پشت سے نکالا تھا، جو عہد الست کہلاتا ہے، جس کا ذکر (وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ182ښ) 7۔ الاعراف :182) میں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–9

6: بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ خطاب کافروں کو ہے، اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ خطاب ان مسلمانوں کو ہے جن کے ایمان میں کسی قدر کمزوری محسوس کی گئی تھی، جس کی بناء پر وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے سے ہچکچا رہے تھے۔ سیاق وسباق کے لحاظ سے شاید یہ دوسری تفسیر زیادہ راجح ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–9

ومالکم ............ رحیم (9) (75 : 8۔ 9) ” تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے عہد لے چکا ہے۔ اگر تم واقعی ماننے والے ہو۔ وہ اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں نازل کررہا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے ، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔ “ آخر ایمان کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے ؟ ایمان تو وہ لا چکے ہیں ایمان لانے کا حق یہاں مطلوب ہے۔ پھر دعوت ذات رسول کی طرف سے ہے ، جن کے ہاتھ پر تم بیعت کرچکے ہو ، پختہ وعدہ کرچکے ہو۔ اور پھر آسمانوں سے آیات بینات کی پے درپے موسلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی قرآن اتارا اور صداقت کے نشان دیے تاکہ ان کے ذریعہ سے تم کو کفر و جہل کے اندھیروں سے نکال کر ایمان و علم کے اجالے میں لے آئے۔ یہ اللہ کی بہت ہی بڑی شفقت اور مہربانی ہے، اگر سختی کرتا تو ان ہی اندھیروں میں پڑا چھوڑ کر تم کو ہلاک کردیتا۔ یا ایمان لانے کے بعد بھی پچھلی خطاؤں کو معاف نہ کرنا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9{ ھُوَ الَّذِیْ یُـنَزِّلُ عَلٰی عَبْدِہٖ اٰیٰتٍم بَـیِّنٰتٍ لِّـیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ } ”وہی تو ہے جو اپنے بندے ﷺ پر یہ آیات بینات نازل کر رہا ہے تاکہ نکالے تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف۔“ یعنی یقین والے ایمان کا منبع و سرچشمہ اللہ کی یہ کتاب ہے۔ اگر تم اس کتاب کو سمجھ کر پڑھو گے ‘ اس پر فکرو تدبر کرو گے تو تمہارے اندر ایک ہلچل برپا ہوجائے گی ‘ تمہاری روح کے تاروں میں خود بخود سرسراہٹ پیدا ہوگی اور تم خود محسوس کرو گے۔ بقولِ اقبال ؎ مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیاز نغمے بےتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیے تو ذرا چھیڑ تو دے ‘ تشنہ مضراب ہے ساز طور مضطر ہے اسی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

13 آیات بینات سے مراد قرآن کی آیات بھی ہوسکتی ہیں اور صداقت کے نشانات بھی۔ یعنی کیسے کیسے نازک مرحلوں پر اللہ تعالیٰ نے غیبی اسباب و وسائل سے اپنے رسول کی مدد فرمائی جن سے واضح طور پر معلوم ہوسکتا ہے کہ اس رسول کی پشت پر کوئی مافوق الفطرت زبردست طاقت موجود ہے اور یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تمہیں جہالت اور کفر و شرک کی تاریکیوں سے نکال کر علم و عرفان کی روشنی میں لے آئے۔ اگر تم سمجھو تو تم پر اللہ کی بہت بڑی مہربانی اور احسان ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

12۔ اور اس سے بڑھ کر اس کی شفقت و رحمت اور کیا ہوگی کہ اسی نے ایسے حکیم وشفیق رسول اللہ ﷺ کو تمہارے لیے داعی ومبلغ بنا کر بھیجا جو دلائل حقانیت اس طرح کھول کھول کر پیش کرتا ہے۔ (آیت) ” عبدہ “۔ عبد سے مراد عبدکامل یعنی رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے۔ ملاحظہ ہو سورة البقرۃ (پ 1) (آیت) ” وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا “۔ الخ پر حاشیہ “۔ (آیت) ” ایت بینت “۔ مضامین قرآنی معجزات محمدی، سب اس کے تحت میں آگئے۔ والظاھر ان المراد بھا ایات القران وقیل المعجزات (روح) (آیت) ” من ..... النور “۔ کفر وشرک ومعاصی کی تاریکیوں سے نور ہدایت و ایمان کی طرف۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 7–10

امنوا باللہ وسرولہ وانفقوا مما جعلکم مستخلفین فیہ یہ آیت غزوہ تبوک کے بارے میں نازل ہوئی ہے، روح المعانی میں ہے والایۃ علی ماروی عن الضحاک نزلت فی تبوک فلا تغفل اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خطاب کا روئے سخن مسلمانوں کی طرف ہے اس لئے کہ جن حالات میں انفاق فی سبیل اللہ کی بڑے زور دار اور نئے انداز سے اپیل کی جا رہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپیل اور ترغیب غیر معمولی حالات کے پیش نظر کی جا رہی ہے جس میں حضرت ابوبکر صدیق نے اپنا کل مال اور حضرت عمر ؓ نے نصف مال اور اس ہنگامی فوجی اور قومی ضرورت کے لئے خدمت میں پیش کیا اور حضرت عثمانی غنی ؓ نے اس غزوہ میں ایک ہزار دینار اور تین سو اونٹ مع ساز و سامان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

. ” وہ (اللہ) ایسا ہے کہ وہ اپنے (خاص) بندے پر کھلی ہوئی آیتیں نازل فرماتا ہے تاکہ تم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر بڑا شفیق اور مہربان ہے۔ “ عَبْدِہٖ سے مراد ہیں رسول اللہ ﷺ ۔ آیات بینات۔ یعنی قرآن مجید یا کھلے ہوئے معجزات۔ لِّیُخْرِجَکُمْ : تاکہ وہ اللہ یا اس کا بندہ۔ الظُّلُمٰتِ : یعنی کفر و جہالت۔ النُّوْر : یعنی ایمان یا علم۔ لَرَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ : اللہ تم پر بڑا مہربان ہے کہ اس نے تم کو صرف عقلی دلائل پر نہیں چھوڑا بلکہ اپنا رسول تمہارے پاس بھیجا اور اپنی آیات نازل فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور وہ ایسا ہے کہ رسول اکرم پر بذریعہ جبریل امین ایسی آیات بھیجتا ہے جو حلال و حرام اوامرو نواہی کو صاف صاف بیان کرنے والی ہیں تاکہ تمہیں قرآن اور دعوت رسول اکرم کے ذریعے سے کفر سے ایمان کی طرف لائے۔ اے گروہ مومنین اللہ تعالیٰ تمہارے حال پر بڑا مہربان ہے کہ اس نے تمہیں کفر سے نکال کر ایمان کی دولت عطا کی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ ہُوَالَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰی عَبْدِہٖٓ اٰیٰتٍم بَیِّنٰتٍ۔۔۔۔۔: اس آیت کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ مائدہ (15، 16) 2۔ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ حج (65)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ھو الذین ینزل علی عبدہ ایت بینت مراد قرآن حکیم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد معجزات ہیں یعنی حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانا تم پر لازم ہے کیونکہ اس کے ساتھ معجزات ہیں اور قرآن حکیم ان میں سے سب سے بڑا معجزہ ہے۔ لیحرجکم تاکہ تمہیں قرآن کے ساتھ نکالے۔۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہیں رسول کے ساتھ نکالے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہیں موت کے ساتھ نکالے۔ من الظلمت اس سے مراد شرک اور کفر ہے۔ الی النور اس سے مراد ایمان ہے (3) وان اللہ بکم الروف رحیم۔ 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 471 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ 259

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–11

1۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اٰمنو باللہ ورسولہ وانفقو مما جعلکم مستخلفین فیہ۔ اور جس مال میں اللہ نے تم کو قائم مقام بنایا اس کا کچھ حصہ راہ خدا میں خرچ کرو یعنی اس رزاق میں سے جو اس نے تم کو زندگی گزارنے کے لیے کثرت سے عطا فرمایا ہے آیت وقد اخذ میثاقکم اور خود خدا نے تم سے اپنے رب ہونے کا عہد لیا تھا یعنی ابھی تم آدم (علیہ السلام) کی پشت میں تھے آیت لیخرجکم من الظلمت الی النور۔ تاکہ تم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے یعنی گمراہی سے ہدایت کی طرف۔ فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں کی فضیلت 2۔ سعید بن منصور وابن المنذر وعبد بن حمید نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ : وہ، وہ ہے جو اتارتا ہے ] [ عَلٰي عَبْدِهٖٓ: اپنے بندے پر ] [ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ : واضح آیات ] [ لِّيُخْرِجَكُمْ : تاکہ وہ (اللہ) نکالے تم کو ] [ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ۭ : اندھیروں سے روشنی کی طرف ] [وَاِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ : اور بیشک اللہ تم لوگوں پر ] [ لَرَءُوْفٌ: یقینا انتہائی شفقت کرنے و الا ہے ] [ رَّحِيْمٌ: ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–10

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تمہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرو یہ پانچ آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں حکم فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تمہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرو ساتھ ہی ﴿ مُّسْتَخْلَفِيْنَ فِيْهِ ﴾ بھی فرمایا ہے یعنی یہ مال وہ ہے جو تم سے پہلے دوسروں کے پاس تھا ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں خلیفہ بنا دیا اب یہ مال تمہارے تصرف میں ہے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ یہ خرچ کیا ہوا مال ضائع نہ جائے گا۔ ﴿ فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–11

دعوت ایمان بررب کون ومکان وحکم اطاعت رسول کریم ﷺ وترغیب بذل مال عزیز برائے رضائے خداوندذوالجلال : قال اللہ تعالیٰ : امنوا باللہ ورسولہ ...... الی ...... ولہ اجر کریم “۔ (ربط) ابتداء سورت سے خداوند عالم نے اپنی صفات قدرت و عظمت کا بیان فرمایا ان صفات اور خوبیوں کو سن کر ہر مخاطب کو چاہئے کہ ایسی ذات سراپا عظمت وکبریائی پر ایمان لانے کے واسطے تیار ہوجائے اور اسکی اطاعت وفرمانبرداری جو اس کے رسول ہی کی ذریعے ہوسکتی ہے تیار ہوجائے اور کائنات کے خالق ومالک کی خوشنودی کے لئے اپنی جان ومال کی قربانی سے بھی دریغ نہ کرے اور جو مال صرف اللہ ہی نے اسکو عطا کیا ہے اس مال کو اس کی فرماں برداری اور حقوق کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

9:۔ ” ھو الذی ینزل “ یہ ایک دوسرے انداز سے انفاق کی ترغیب ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ خاص حضرت محمد ﷺ پر واضح آیتیں اور روشن دلیلیں نازل فرما رہا ہے تاکہ تمہیں کفر و شرک اور جاہلیت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر ایمان و توحید کی روشنی میں داخل فرمائے۔ اللہ کیسا مہربان اور رحیم و کریم بادشاہ ہے اسکا حکم ضرور مانو اور ایمان و توحید کی روشنی کو سارے جہان میں پھیلانے کے لیے بےدریغ مال خرچ کرو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–10

ربط آیات : سورة کے آغاز میں ارض وسما کی ہر چیز کی تسبیح بیان کرنے کا ذکر ہوا۔ اللہ کی قدرت میں سے موت وحیات کی صفت بیان ہوئی ، پھر اس کے اول ، آخر ، ظاہر اور باطن ہونے کا ذکر ہوا اور اس کے قادر مطلق اور علیم کل ہونے کی صفت بیان ہوئی۔ اللہ نے فرمایا کہ اس نے ارض وسماکو چھ دن کے وقفہ میں تخلیق کیا اور وہ عرش پر مستوی ہے۔ نیز یہ کہ وہ ارض وسماء میں داخل ہونے والی اور نکلنے والی ، نازل ہونے والی اور اوپر چڑھنے والی ہر چیز کو جانتا ہے۔ اللہ نے ہر شخص کے ساتھ اپنی معیت کا تذکرہ فرمایا اور یہ بھی کہ وہ انسانوں کے دلوں کے رازوں سے بھی واقف ہے۔ اللہ نے پوری کائنات میں اپنی سلطنت کا دعویٰ کیا اور یہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ہُوَالَّذِيْ يُنَزِّلُ عَلٰي عَبْدِہٖٓ اٰيٰتٍؚبَيِّنٰتٍ لِّيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ۝ 0 ۭ وَاِنَّ اللہَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۝ 9 نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–9

1 ؎ والرسول رسول اللہ ﷺ کے سوا انسان کی حالت اور دہر کا انقلاب اور توارد نعماء سب اللہ کے پیغامبر ہیں جو انسان کو اللہ پر ایمان لانے کے لیے بلا رہے ہیں اور دلائلِ آفاق وانفس خدا کا عہدنامہ ہے جو بندے نے زبان حال سے قائم کیا ہے۔ ان دونوں باتوں پر بھی ایمان نہ لانا اس کی طرف نہ جھکنا اندھا پن ہے ایسے اندھے کا عالم محسوس کی بھی کسی چیز اور کسی حالت پر ایمان نہیں ان کنتم مؤمنین میں اسی طرف اشارہ ہے کس لیے کہ اگر کسی کا ان باتوں پر ایمان و یقین ہوگا تو ضرور اللہ ہی پر ہوگا۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ھُوَالَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰی عَبْدِہٖٓ اٰیٰتٍ م بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ط وَاِنَّ اللّٰہَ بِکُمْ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔ (الحدید : 9) (وہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیات نازل کررہا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے، اور بیشک اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔ ) آیات کا نزول تاریکی سے نور میں لانے کا سبب ہے مسلمانوں سے فرمایا جارہا ہے کہ وہ خدائے بزرگ و برتر جو ہر لحاظ سے تمہاری غیرمشروط عبادت اور اطاعت کا مستحق ہے اور جس کے دین کی بالاتری اور سربلندی تمہاری زندگی کا مقصداولین ہے وہ جب تمہیں اس کے حوالے سے انفاق کی دعوت دے رہا ہے تو چونکہ اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور رسول پر ایمان لانے کی دعوت قرآن مجید کے ذریعے دی ہے اس لیے مختصر طور پر قرآن مجید کا تعارف اور اس کے فوائد کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس اللہ نے اپنی ذات پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے اسی نے اپنے بندے حضرت محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل کیا ہے جس کے فرمان بڑے واضح اور اس کے احکام ٹھوس دلائل پر مبنی ہیں۔ نبی ﷺ پر قرآن اس لیے نازل کیا گیا تاکہ آپ لوگوں کو ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور قرآن کی روشنی میں لے آئے اے لوگو ! یقین جا نو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ نہایت شفقت کرنے اور بڑی مہربانی فرمانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے ماضی، حال اور مستقبل کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قراءت : ابو عمرو نے اُخِذَ میثاقکم پڑھا ہے۔ 9 : ھُوَالَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰی عَبْدِہٖٓ (وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے کہ وہ اپنے بندے پر کھلی ہوئی آیتیں اتارتا ہے) عبدہٖؔ سے محمد ﷺ مراد ہیں۔ ٰایٰتٍ بَیِّنٰتٍ یعنی قرآن مجید) لِّیُخْرِجَکُمْ (تاکہ وہ تم کو نکالے) اللہ تعالیٰ یا محمد ﷺ اپنی دعوت کے ذریعہ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ (تاریکیوں سے روشنی کی طرف) یعنی ظلمات کفر سے نور ایمان کی جانب وَاِنَّ اللّٰہَ بِکُمْ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ (اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر بڑا شفیق اور مہربان ہے) انتہائی رأ فت اور رحمت والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8 ۔” ومالکم لا تومنون باللہ والرسول یدعوکم لتومنوا بربکم وقد اخذ میثاقکم “ ابوعمرو نے ” اخذ “ ہمزہ کے پیش اور خاء کے زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔” میثاقکم “ قاف کے پیش کے ساتھ نائب فاعل اور دیگر حضرات نے ہمزہ اور خاہ کے زبر اور قاف کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارا میثاق لیا جب تمہیں آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالا کہ اللہ تعالیٰ تمہارا رب ہے تمہارا اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کو مجاہد (رح) نے کہا ہے اور کہا گیا ہے کہ تم سے میثاق (پختہ وعدہ) لیا ان دلائل کو قائم کرنے کے ساتھ جو رسول اللہ ﷺ کی پیروی کی طرف بلاتے ہیں۔ ” ان کنتم مومنین “ ان پر۔ پس اب بہت مناسب وقت ہے کہ تم ایمان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–11

7۔ 10۔ سورة کے شروع سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور توحید اور بندوں کے ذرا ذرا حال سے اپنے واقف ہونے کا ذکر فرما کر یہاں سے قریش کو اللہ تعالیٰ کے احکام پر اور اللہ کے رسول کے سچے ہونے پر ایمان لانے اور دنیا کی الفت چھوڑنے اور خدا کی راہ میں کچھ مال خرچ کرنے کی نصیحت شروع کی ہے۔ اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ دنیا میں جس قدر مال ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے۔ اس لئے اصل مالک سب چیزوں کا اللہ تعالیٰ ہے۔ عارضی طور پر چند روز دنیا کے مال اور دنیا کی چیزوں کے لوگ مالک اور وارث بن جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ یہ عارضی قبضہ والے لوگ سب مرجائیں گے تو اللہ کا پیدا کیا ہوا مال اللہ کے قبضہ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ عَلٰي عَبْدِهٖٓ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ ) وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیتیں اتارتا ہے یعنی ایسی ظاہری نشانیاں جو رسول اللہ لے کر آئے ہیں اس کی صداقت پر عقل مندوں کی راہنمائی کرتی ہیں، نیز یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ یہی حق الیقین ہے۔ (لِّيُخْرِجَكُمْ ) تاکہ وہ تمہیں نکالے، تمہاری طرف رسول مبعوث کر کے اور اس کتاب و حکمت کے ذریعے سے جو اس نے اس رسول کے ہاتھ پر اتاری۔ (مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ) اندھیروں سے اجالے کی طرف۔ یعنی تمہیں جہالت اور کفر کی تاریکیوں سے نکال کر علم و ایمان کی روشنی میں لائے۔ یہ تم پر اس کی رحمت ورافت ہے کہ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 32] آیات بینات سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ وہی ہے جو اپنے بندے پر کھلی آیتیں نازم فرماتا ہے تاکہ وہ تم لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائے۔ یعنی ایسے قطعی دلائل اور نشانیاں جو حق و باطل کو قطعی طور پر نکھار دینے والی ہیں، جن میں سب سے بڑی سب سے اہم اور سب سے واضح وجلی آیت و نشانی معجزہء قرآن کریم ہے جو اپنی زبان وبیان، معانی و احکام، قوت و تاثیر، ہر اعتبار سے معجزہ بلکہ معجزوں کا معجزہ اور معجزہ کبریٰ آیت عظمیٰ اور حق کی برہان خالد ہے، والحمد اللّٰہ الذی شرفنا بھذہ النعمۃ الکبریٰ والنور التام الخالد۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–12

اللہ کا حکم اور اس کی رحمتیں تشریح : ان آیات میں چند خاص احکامات اور عمل کرنے والوں کے لیے انعامات کا ذکر بڑے آسان الفاظ میں کرد یا گیا ہے یہ سب کچھ بھی بیان کیا جا چکا ہے بس یاد دہانی کے لیے بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ پہلا حکم :۔ اللہ و رسول پر خلوص اور نیک نیتی سے ایمان لے آؤ۔ دوسرا حکم : اللہ نے انسان کو اپنا نائب کہا ہے لہٰذا بےدریغ خوشی خوشی زکوٰۃ خیرات، ضرورت مندوں کے لئے اور جہاد کے لیے خرچ کرو۔ یہ مال اللہ کا ہی دیا ہوا ہے۔ تیسرا : رسول کے پکارنے پر اور تعلیمات پر دھیان دو کیونکہ یہ تعلیمات بیشک روشنی کا مقام رکھتی ہیں۔ چوتھا : بےمقصد صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خرچ کرو۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ زمینوں اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے زبان حال سے بھی اور ہر شے کی اپنی زبان سے جس سے وہ اپنے رب سے مخاطب ہوسکے لہذا اپنے انداز میں زبان قال سے بھی کہ یہی اس کے وجود کا سبب ہے جس شے سے بھی ذکر الٰہی چھوٹ جائے وہ باقی نہیں رہتی سوائے مکلف مخلوق کے کہ اسے اطاعت وعدم اطاعت میں ایک وقت تک کے لیے اختیار بخشا گیا ہے اور اللہ زبردست ہے ہر شے پہ ہر حال میں غالب ہے اور یہ اس کی حکمت بالغہ ہے کہ ہر ایک کو جداگانہ اوصاف عطا فرما کر کائنات کو بسانے کا سامان فرمایا ہے ارض وسماء میں اس کی ریاست و حکومت ہے وہی حیات بانٹنتا ہے اور وہی موت دیتا ہے کہ وہ ہر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(57:9) ینزل مضارع واحد مذکر غائب تنزل (تفعیل) مصدر۔ وہ نازل کرتا ہے ۔ علی عبدہ اپنے بندہ پر۔ یعنی رسول اللہ ﷺ پر۔ ایت تبینت : موصوف و صفت مل کر ینزل کا مفعول ۔ کھلی اور واضح آیات ، یعنی قرآن۔ لیخرجکم : لام تعلیل کا ہے تاکہ : یخرج مضارع (منصوب بوجہ عمل لام) واحد مذکر غائب ۔ اخراج (افعال) مصدر۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ یخرج میں ضمیر فاعل کا مرجع اللہ یا اس کے بندہ۔ دونوں ہوسکتے ہیں۔ الظلمت۔ یعنی کفر و جہالت۔ ظلمت بمعنی اندھیرے۔ النور : یعنی ایمان یا علم۔ لرؤف : لام تحقیق۔ بےشک۔ رء وف مہربان۔ شفقت کرنے والا۔ رافۃ (باب فتح) مصدر سے۔ بمعنی بہت رحم کرنا۔ بہت مہربان ہونا۔ بروزن فعول صفت مشبہ کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–10

لغات القرآن۔ مستخلفین۔ قائم مقام بنائے گئے… الاتنفقوا۔ یہ کہ تم خرچ نہ کرو… میراث۔ ملکیت۔ میراث۔ ترکہ… لا یستوی۔ برابر نہیں ہے۔ … الحسنی۔ بھلائی۔ خیر۔ تشریح : وہ اللہ جو زمین وآسمان کی سلطنت کا مالک، ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے جو ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ وہی اول و آخر اور ظاہر و باطن ہے اس پر اور اس کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد ﷺ پر دل کی گہرائیوں اور انتہائی خلوص سے ایمان رکھنا اور اس کے حکم کے مطابق اللہ کی راہوں میں مال خرچ کرنا اس پر بہترین اجرو ثواب کا وعدہ ہے فرمایا کہ آج تم جس مال و دولت کے مالک بنے بیٹھے ہو وہ درحقیقت اللہ ہی کا مال ہے لہٰذا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–11

(ف 1) یہ اللہ تعالیٰ کی تم لوگوں پر ایک مہربانی ہے کہ وہ اپنے رسول پر صاف صاف طرح طرح کی فہمائش کی آیتیں نازل فرما کر تمہیں کفر وشرک کے اندھیرے سے نکالنا، اور تمہارے دل کو ایمان کے نور سے روشن کرنا چاہتا ہے ایمان کے دوبارہ ذکر کے ساتھ صدقہ خیرات کا ذکر تاکید کے طور پر ان لفظوں میں فرمایا جن کی تفسیر اوپرگذرچ کی ہے فتح مکہ سے پہلے اسلام کو ہر طرح کی مدد کی زیادہ ضرورت تھی پھر فتح مکہ کے بعد غنیمت کا مال پا کر اہل اسلام غنی ہوگئے ۔ اسی واسطے فتح مکہ سے پہلے عین ضرورت کے وقت جن صحابہ نے اپنا مال اسلام کی مدد میں خرچ کیا ان کو بہت بڑا اجر مل گیا پھر فرمایا یوں تو فتح مکہ سے پہلے اور پیچھے جس کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–9

[13] یہاں ایمان لانے سے مراد محض زبانی اقرار اسلام نہیں بلکہ سچے دل سے ایمان لانا ہے۔ [14] یعنی سمع و اطاعت کا و عدہ جو ہر مسلمان کو نبی ﷺ سے بیعت کے وقت کرنا پڑا۔ ملاحظہ ہو سورة مائدہ آیت 7 صفحہ 242۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

فیضان نبوت 1: یعنی یہ کہ اللہ کی بخشش اور رحمت ہے ۔ کہ اس نے اپنے ایک نہایت ہی محترم بندے پر قرآن کی آیتیں نازل فرمائی ہیں ۔ تاکہ ان کی وساطت سے لوگوں کو اندھیروں اور تاریکیوں میں سے نکال کر روشنی اور نور کی وادیوں میں لابسائے ۔ ان کو اوہام اور خرافات کی ظلمتوں سے روکے ۔ اور حقائق ومعارف کی جانب راہنمائی کرے ۔ یہ اس کا فضل وکرم ہے ۔ کہ اس نے حضور ﷺ کو بھیجا ۔ تاکہ بنی نوع انسان کو گمراہیوں میں پڑنے سے باز رکھیں ۔ حالات یہ تھے ۔ کہ ہر نوع کی برائیاں اور جرم ان پر مسلط تھے ۔ چاروں طرف گناہوں کا تعفن تھا ۔ تعلیم الٰہی سے کان ناآشنا تھے ۔ اور طبائع متنفر بت پرستی اور تقلید آباء کا زور تھا ۔ رسوم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جو اپنے بندے محمد ﷺ پر صاف اور واضح آیتیں اور کھلی کھلی نشانیاں نازل فرماتا ہے تاکہ وہ تم کو تاریکیوں اور اندھیروں سے نکال کر روشنی اور اجالے کی جانب لے آئے بلا شبہ اللہ تعالیٰ تمہارے حال پر بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے - یعنی قرآن میں دلائل توحید بہت صاف اور واضح نازل فرمائے یا محمد ﷺ کو بڑے کھلے معجزات عطا فرمائے تاکہ وہ کفر کی تاریکیوں سے تم کو اسلام کی تعلیم اور اس کی ہدایات کی روشنی میں نکال لائے اس کی شفقت اور مہربانی یہی ہے کہ تمہارے لئے روحانی اور مادی سامان مہیا کرتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ لیخرجکم سے مراد عبد ہو یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں کہ محمد ﷺ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–10

ف 6۔ پس جب سب مال ایک روز چھوڑنا ہے تو خوشی سے کیوں نہ دیا جائے کہ ثواب بھی ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قرآن کریم کے نزول کا اصل مقصد اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے جانا ہے 9 ؎ (ایات بینات) (ایات) کا لفظ قرآن کریم میں 15 بار آیا ہے اور ( ایات بینات) کا لفظ بھی اسی تعداد میں شامل ہے ہمارے مفسرین نے جہاں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے اس سے مراد معجزات ہی لیے ہیں لیکن زیر نظر آیت نہ معلوم ان کی نظر سے کیسے بچ گئی کہ اکثر مفسرین نے تو یہاں کوئی بات ہی نہیں کی اور جن مفسرین نے کچھ بیان کیا انہوں نے بھی اس لفظ سے مراد عام تعلیمات اسلام ہی لی ہیں جو نبی اعظم و آخر ﷺ کے ذریعہ سے لوگوں کو مل رہی تھیں لیکن ہماری تفہیم کے مطابق اس جگہ ( ایات بینات) ان آیات کریمات کو کہا گیا ہے جو انفاق فی سبی اللہ اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–9

Ordering Faith وَقَدْ أَخَذَ مِيثَاقَكُمْ (...and He has taken your covenant ....57:8) This could refer to the covenant taken in ` anal' (pre-eternity). According to verses 172-174 of Surah Al-A'raf, Allah gathered all the souls even before they took the form of their existence, and took the covenant of 'alast' [ the pre-eternal covenant ]. He asked them: اَلَستُ بِرَبِّکُم ("Am I not your Lord?" ) They replied: بَلیٰ (Of course You are, we affirm). Another possibility is that this covenant could refer to the pledge taken from the previous prophets and their followers to believe in the final…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–9

11 That is, "You are adopting this unbelieving attitude and conduct at a time when the Messenger of Allah is present among you, and you are receiving the invitation to the Faith not through an indirect and remote means but directly through the Messenger of Allah himself." 12 Some commentators have taken this pledge to imply the pledge of service to Allah, which had been taken at the beginning of creation from the future offspring of Adam (peace be upon him), and some others take it for the pledge with which man has been naturally endowed to serve and obey Allah. But the trnth is that it…

Read the full tafseer →