Explained with ayahs 7–11
ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم
اللہ تبارک و تعالیٰ خود اپنے اوپر اور اپنے رسول ﷺ پر ایمان لانے اور اس پر مضبوطی اور ہمیشگی کے ساتھ جم کر رہنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اپنی راہ میں خیرات کرنے کی رغبت دلاتا ہے جو مال ہاتھوں ہاتھ تمہیں اس نے پہنچایا ہو تم اس کی اطاعت گذاری میں اسے خرچ کرو اور سمجھ لو کہ جس طرح دوسرے ہاتھوں سے تمہیں ملا ہے اسی طرح عنقریب تمہارے ہاتھوں سے دوسرے ہاتھوں میں چلا جائے گا اور تم پر حساب اور عتاب رہ جائے گا اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ تیرے بعد تیرا وارث ممکن ہے نیک ہو اور وہ تیرے ترکے کو میری راہ میں خرچ کر کے مجھ سے قربت حاصل کرے اور ممکن ہے کہ وہ بد…
Read the full tafseer →سورة الْحَدِیْد 13
اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ یہ مال تمہارے پاس ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے۔ ایک دن تمہیں لازماً اسے چھوڑ کر ہی جانا ہے اور اللہ ہی اس کا وارث ہونے والا ہے، پھر کیوں نہ اپنی زندگی میں اسے اپنے ہاتھ سے اللہ کی راہ میں خرچ کردو تاکہ اللہ کے ہاں اس کا اجر تمہارے لیے ثابت ہوجائے۔ نہ خرچ کرو گے تب بھی یہ اللہ ہی کے پاس واپس جا کر رہے گا، البتہ فرق یہ ہوگا کہ اس پر تم کسی اجر کے مستحق نہ ہو گے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہوئے تم کو کسی فقر اور تنگ دستی کا اندیشہ لاحق نہ ہونا چاہیے، کیونکہ جس خدا کی خاطر تم اسے خرچ کرو گے وہ زمین و آسمان کے سارے خزانوں کا مالک ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
وَلِلّٰهِ مِيْرَاث السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ، میراث اصل میں اس ملکیت کو کہا جاتا ہے جو پچھلے مالک کے انتقال کے بعد اس کے بعد زندہ رہنے والے وارثوں کو ملا کرتی ہے اور یہ ملک جبری ہوتی ہے مرنے والا چاہے یا نہ چاہے جو وارث ہوتا ہے ملکیت اس کی طرف منتقل ہوجاتی ہے یہاں حق تعالیٰ کی ملکیت آسمان و زمین کو میراث کے لفظ سے تعبیر کرنے میں یہ حکمت ہے کہ تم چاہو یا نہ چاہو جس جس چیز کے مالک آج تم سمجھے جاتے ہو وہ سب بالآخر حق تعالیٰ کی ملکیت خاصہ میں منتقل ہوجائے گی، مراد یہ ہے کہ اگرچہ حقیقی مالک تمام اشیاء عالم کا پہلے بھی حق تعالیٰ ہی تھا مگر اس نے اپنے فضل سے کچھ اشیاء کی ملکیت تمہارے نام کردی تھی اور…
Read the full tafseer →(ومالکم الا تنقوا فی سبل اللہ وللہ میراث السموات والارض لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قتل اولیک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد وقتلو وکلا وعد اللہ الحسنی واللہ بما تعملون خبیر) (10)
(ترغیب انفاق کی دوردلیلیں)۔ یہ انہی کمزور قسم کے مسلمانوں کو انفاق پر ابھارا ہے اور اس مقصد کے لیے دو دلیلیں انفاق کے محرک کے طور پر بیان فرمائی ہیں۔ ایک وہی جس کی طرف اوپر آیت کے تحت اشارہ گزر چکا ہے کہ آسمان زمین کی تمام چیزوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس دنیا میں انسان کو جن چیزوں پر بھی تصرف حاصل ہوتا ہے وہ بالکل عارضی طور پر اللہ تعالیٰ کے خلیفہ اور امین کی حیثیت سے، حاصل ہوتا ہے۔ بالآخر ہر چیز ہی…
Read the full tafseer →10-1فتح سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک فتح مکہ ہے۔ بعض نے صلح حدیبیہ کو فتح مبین کا مصداق سمجھ کر اسے مراد لیا ہے۔ بہر حال صلح حدیبیہ یا فتح مکہ سے قبل مسلمان تعداد اور قوت کے لحاظ سے بھی کم تر تھے اور مسلمانوں کی مالی حالت بھی بہت کمزور تھی۔ ان حالات میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور جہاد میں حصہ لینا، دونوں کام نہایت مشکل اور بڑے دل گردے کا کام تھا، جب کہ فتح مکہ کے بعد یہ صورت حال بدل گئی۔ مسلمان قوت و تعداد میں بھی بڑھتے چلے گئے اور انکی مالی حالت بھی پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہوگئی۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے دونوں ادوار کے مسلمانوں کی بابت فرمایا کہ یہ اجر میں برابر نہیں ہوسکتے۔
-2 کیونکہ پہلوں…
Read the full tafseer →7: فتح مکہ (سن 8 ھ) سے پہلے مسلمانوں کی تعداد اور ان کے وسائل کم تھے اور دشمنیاں زیادہ، اس لئے اس زمانہ میں جن حضرات نے جہاد کیا اور اپنا مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیا ان کی قربانیاں زیادہ تھیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ثواب میں بھی ان کا زیادہ بڑادرجہ رکھا ہے اور فتح مکہ کے بعد مسلمانوں کی تعداد اور وسائل میں بھی اضافہ ہوگیا تھا، اور دشمنیاں بھی کم ہوگئی تھیں، اس لئے جن حضرات نے فتح مکہ کے بعد جہاد اور صدقات وغیرہ میں حصہ لیا ان کو اتنی قربانی دینی نہیں پڑی، اس لئے ان کا درجہ وہاں تک نہیں پہنچا ؛ لیکن اگلے ہی فقرے میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمادی ہے کہ بھلائی یعنی جنت کی نعمتیں دونوں ہی…
Read the full tafseer →ومالکم ................ والارض (75 : 01) ” آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لئے ہے۔ “ اس میں اسی حقیقت کو دہرایا گیا ہے جو پہلے بیان ہوئی۔
لہ ملک ................ الامور ” اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اور تمام امور فیصلے کے لئے اللہ ہی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ “ اللہ کی میراث ، اس کا اقتدار اعلیٰ اور بادشاہت ہے اور جس کا اقتدار اعلیٰ ہے فیصلے بھی اسی کے ہیں اور جو اختیارات اللہ نے ان کے لئے دیئے ہیں وہ سب جلدی اسی کی طرف واپس ہوجائیں گے۔ اس لئے جب اللہ تمہیں دعوت انفاق دے رہا ہے اور یہ مال تو اسی کا ہے ، اور اسی نے…
Read the full tafseer →12 یعنی مالک فنا ہوجاتا ہے اور ملک اللہ کا بچ رہتا ہے اور ویسے تو ہمیشہ اسی کا مال تھا۔ پھر اس کے مال میں سے اس کے حکم کے موافق خرچ کرنا بھاری کیوں معلوم ہو، خوشی اور اختیار سے نہ دو گے تو بےاختیار اسی کے پاس پہنچے گا۔ بندگی کا اقتضاء یہ ہے کہ خوش دلی سے پیش کرے اور اس کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے فقر افلاس سے نہ ڈرے، کیونکہ زمین و آسمان کے خزانوں کا مالک اللہ ہے۔ کیا اس کے راستہ میں خوشدلی سے خرچ کرنے والا بھوکا رہے گا ؟ " وَلاَ تَخْشَ مِنْ ذِی الْعَرْشِ اِقْلاَلَاً "
1 اور بعض نے فتح سے مراد صلح حدیبیہ لی ہے۔ اور بعض روایات سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔
2 یعنی یوں تو اللہ کے راستہ میں کسی وقت بھی…
Read the full tafseer →آیت 10{ وَمَالَـکُمْ اَلاَّ تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں ‘ جبکہ اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی وراثت !“
یہ جو تم بڑے بڑے محل تعمیر کر رہے ہو اور فیکٹریوں پر فیکٹریاں لگاتے چلے جا رہے ہو ‘ ان سے آخر کب تک استفادہ کرو گے ؟ تم تو آج ہو کل نہیں ہو گے۔ تمہارے بعد تمہاری اولاد میں سے بھی جو لوگ ان جائیدادوں کے وارث بنیں گے وہ بھی اپنے وقت پر چلے جائیں گے۔ پھر جو ان کے وارث بنیں گے وہ بھی نہیں رہیں گے۔ بالآخر تمہارے اس سب کچھ کا اور پوری کائنات کا حقیقی وارث تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تو…
Read the full tafseer →14 اللہ کی میراث ہونے کے مختلف پہلو :۔ یعنی جو مال اس وقت تمہارے پاس موجود ہے۔ تمہارے مرنے کے بعد تمہارے وارثوں کی طرف منتقل ہوجائے گا اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔ حتیٰ کہ یہ سب کچھ اللہ کی میراث میں چلا جائے گا۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب تم دنیا میں آئے تھے تو خالی ہاتھ آئے تھے اور جب یہاں سے رخصت ہوگے تو بھی خالی ہاتھ ہی جاؤ گے تو پھر یہ تمہاری ملکیت کیسے ہوئی ؟ تم اس سے صرف عارضی طور پر انتفاع کرسکتے ہو۔ اور اس کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ جیسے آج تمہارے پاس یہ مال آگیا ہے۔ ویسے ہی تمہاری زندگی میں تم سے نکل بھی سکتا ہے۔ یہ مال و دولت تو ڈھلتی چھاؤں ہے۔ کبھی ادھر کبھی ادھر۔ لہذا…
Read the full tafseer →13۔ تو جب مال آخر ایک روز چھوڑنا ہی ہے تو ابھی سے اپنی خوشی سے طاعت حق کی راہ میں کیوں نہ دے دیا جائے۔ اہل ایمان کو دینی اور ملی مقاصد میں مالی شرکت کے لیے آمادہ ومستعد کیا جارہا ہے۔
14۔ (تو کسی کو یہ وہم نہ ہونے پائے کہ اس کا اجر چھوٹ جائے گا) (آیت) ” قبل الفتح “۔ الفتح سے اکثر نے مراد فتح مکہ لی ہے۔ عن قتادۃ ھو فتح مکۃ (جصاص) یعنی فتح مکۃ فی قول اکثر المفسرین (معالم) والجمھور علی ان المراد بالفتح ھھنا فتح مکۃ (ابن کثیر) اور بعض قول صلح حدیبیہ سے متعلق بھی ہیں۔ روی عن الشعبی قال فصل ما بین الھجرتین فتح الحدیبیہ وفی انزلت ھذہ الایۃ (جصاص) بہرحال دونوں صورتوں میں جو مجاہدین ومقاتلین شروع زمانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
امنوا باللہ وسرولہ وانفقوا مما جعلکم مستخلفین فیہ یہ آیت غزوہ تبوک کے بارے میں نازل ہوئی ہے، روح المعانی میں ہے والایۃ علی ماروی عن الضحاک نزلت فی تبوک فلا تغفل اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خطاب کا روئے سخن مسلمانوں کی طرف ہے اس لئے کہ جن حالات میں انفاق فی سبیل اللہ کی بڑے زور دار اور نئے انداز سے اپیل کی جا رہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپیل اور ترغیب غیر معمولی حالات کے پیش نظر کی جا رہی ہے جس میں حضرت ابوبکر صدیق نے اپنا کل مال اور حضرت عمر ؓ نے نصف مال اور اس ہنگامی فوجی اور قومی ضرورت کے لئے خدمت میں پیش کیا اور حضرت عثمانی غنی ؓ نے اس غزوہ میں ایک ہزار دینار اور تین سو اونٹ مع ساز و سامان…
Read the full tafseer →ومالکم الا تنفقوا فی سبیل اللہ وللہ میراث السموات والارض .” اور تمہارے لیے اس کا کیا سبب ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ سب آسمان اور زمین اخیر میں اللہ ہی کا رہ جائے گا۔ “
مَالَکُمْ میں استفہام انکاری ہے ‘ یعنی اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے میں تمہارا کوئی فائدہ نہیں۔
سَبِیْلِ اللہ سے مراد ہے وہ راستہ جو قرب خداوندی تک پہنچانے والا ہے۔
وَِ ﷲِ مِیْرَاثُ... یعنی زمین و آسمان کی ہر چیز کا مالک و وارث تو اللہ ہے اور کسی کے پاس (مرنے کے بعد) مال باقی نہیں رہے گا۔ ایسی حالت میں دانش مندی کی بات یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کردیا جائے تاکہ اس کے عوض لازوال ثواب اللہ کی طرف سے مل…
Read the full tafseer →اور اے گروہ مومنین تمہارے لیے اس کی کیا وجہ ہے تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمان والوں اور زمین والوں سب ہی کی میراث اسی کے لیے ہے کہ سب مرجائیں گے اور اس کی ذات باقی رہے گی اور تمام امور اسی کے سامنے پیش ہوں گے۔
اے گروہ مومنین جن لوگوں نے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا اور رسول اکرم کے ساتھ دشمن کے مقابلہ میں لڑ چکے ہیں اور جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا اور لڑے دونوں فضیلت اور ثواب و مرتبہ میں برابر نہیں بلکہ فتح مکہ سے پہلے خرچ کرنے والے لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک درجہ فضیلت اور ثواب میں ان لوگوں سے بڑے ہیں۔ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا اور لڑے۔
اس آیت سے امیر المومنین حضرت ابوبکر…
Read the full tafseer →1۔ وَمَا لَکُمْ اَلاَّ تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہ ِ وَِﷲِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط :”میراث ‘ ‘ اصل میں اس ملکیت کو کہتے ہیں جو پچھلے مالک کے انتقال پر اس کے زندہ رہنے والے وارثوں کو ملتی ہے۔ یہ ملکیت جبری ہوتی ہے ، مرنے والا چاہے یا نہ چاہے ، جو وارث ہوتا ہے اس کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔”وَِﷲِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط“ میں خبر ”للہ“ کو پہلے لانے سے حضر پیدا ہوگیا کہ زمین و آسمان کی وارثت صرف اللہ کے لیے ہے ، کیونکہ آخر کار سب نے فنا ہونا ہے اور جن چیزوں کے مالک تم سمجھے جاتے ہو سب اسی کی طرف لوٹ جانے والی ہیں۔ تو جب یہ مال تمہارے پاس رہنے والا ہی نہیں بلکہ اس نے تمہارے…
Read the full tafseer →( وما لکم الا۔۔۔۔ )
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 :۔ وما لکم الا تنفقوا فی سبیل اللہ یعنی وہ کون سی چیز ہے جو تمہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے روکتی ہے اور ایسا کام کرنے سے روکتی ہے جو تمہیں اللہ تعالیٰ کا قرب عطاء رے جب کہ تم مر رہے ہو اور اپنے مال پیچھے چھوڑے جا رہے ہو جبکہ یہ مال اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ کلام کا معنی خرچ نہ کرنے پر شرمندہ کرنا ہے۔ وللہ میراث السموات والارض یعنی جب ان دونوں میں رہنے والے ختم ہوجائیں گے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والے ہیں جس طرح میراث اپنے مستحق کی طرف لوٹ جاتی ہے (1)
مسئلہ نمبر 2 :۔ لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قتل اکثر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
1۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اٰمنو باللہ ورسولہ وانفقو مما جعلکم مستخلفین فیہ۔ اور جس مال میں اللہ نے تم کو قائم مقام بنایا اس کا کچھ حصہ راہ خدا میں خرچ کرو یعنی اس رزاق میں سے جو اس نے تم کو زندگی گزارنے کے لیے کثرت سے عطا فرمایا ہے آیت وقد اخذ میثاقکم اور خود خدا نے تم سے اپنے رب ہونے کا عہد لیا تھا یعنی ابھی تم آدم (علیہ السلام) کی پشت میں تھے آیت لیخرجکم من الظلمت الی النور۔ تاکہ تم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے یعنی گمراہی سے ہدایت کی طرف۔
فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں کی فضیلت
2۔ سعید بن منصور وابن المنذر وعبد بن حمید نے…
Read the full tafseer →[وَمَا لَكُمْ : اور تمہیں کیا (ہوگیا) ہے ] [ اَلَّا تُنْفِقُوْا : کہ تم لوگ خرچ نہیں کرتے ] [ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کی راہ میں ] [ وَلِلّٰهِ : حالانکہ اللہ ہی کے لیے ہے ] [ مِيْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ : آسمانوں اور زمین ( کی میتوں) کا ترکہ ] [لَا يَسْتَوِيْ مِنْكُمْ : برابر نہیں ہیں تم میں سے ] [ مَّنْ : وہ لوگ جنہوں نے ] [ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ : خرچ کیا اس فتح سے پہلے ] [وَقٰتَلَ ۭ : اور قتال کیا ] [اُولٰۗىِٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً : یہ لوگ زیادہ عظیم ہیں بلحاظ درجے کے ] [ مِّنَ الَّذِيْنَ : ان لوگوں سے جنہوں نے ] [ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ : خرچ کیا اس کے بعد ] […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تمہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرو
یہ پانچ آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں حکم فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تمہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرو ساتھ ہی ﴿ مُّسْتَخْلَفِيْنَ فِيْهِ ﴾ بھی فرمایا ہے یعنی یہ مال وہ ہے جو تم سے پہلے دوسروں کے پاس تھا ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں خلیفہ بنا دیا اب یہ مال تمہارے تصرف میں ہے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ یہ خرچ کیا ہوا مال ضائع نہ جائے گا۔ ﴿ فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
دعوت ایمان بررب کون ومکان وحکم اطاعت رسول کریم ﷺ وترغیب بذل مال عزیز برائے رضائے خداوندذوالجلال :
قال اللہ تعالیٰ : امنوا باللہ ورسولہ ...... الی ...... ولہ اجر کریم “۔
(ربط) ابتداء سورت سے خداوند عالم نے اپنی صفات قدرت و عظمت کا بیان فرمایا ان صفات اور خوبیوں کو سن کر ہر مخاطب کو چاہئے کہ ایسی ذات سراپا عظمت وکبریائی پر ایمان لانے کے واسطے تیار ہوجائے اور اسکی اطاعت وفرمانبرداری جو اس کے رسول ہی کی ذریعے ہوسکتی ہے تیار ہوجائے اور کائنات کے خالق ومالک کی خوشنودی کے لئے اپنی جان ومال کی قربانی سے بھی دریغ نہ کرے اور جو مال صرف اللہ ہی نے اسکو عطا کیا ہے اس مال کو اس کی فرماں برداری اور حقوق کے…
Read the full tafseer →10:۔ ” ومالکم الا تنفقوا “ یہ ترغیب الی الانفاق کا دوسرا طریق ہے۔ پہلے بطور ترقی فرمایا یہ مال دولت یہیں رہے گا لیکن نہ رہو گے اب وقت ہے خرچ کرلو جب یہ موقع ہاتھ سے نکل جائیگا تو پچھتاؤ گے خرچ کرو گے تو اس کے بدلے اور اجر ملے گا اور اگر خرچ نہیں کرو گے تو اصل مال بھی آخر ہاتھ سے چلا جائیگا۔ ان اللہ یرث کل شیئ فیہا ولا یبقی لاحد مال واذا کان کذلک فانفاقہ بحیث انہ یستخلف عوضا وھو الثواب اولی (مظہری ج 9 ص 19) ۔ یہ زمین جو مختلف شکلوں میں دولت اگلتی ہے اور یہ آسمان جہاں سے بارش، گرمی اور روشنی وغیرہ آکر دولت اگلنے میں زمین سے تعاون کرتی ہیں میرے پاس رہ جائیں گے اور تم دنیا سے رخصت ہوجاؤ گے۔
11:۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ربط آیات : سورة کے آغاز میں ارض وسما کی ہر چیز کی تسبیح بیان کرنے کا ذکر ہوا۔ اللہ کی قدرت میں سے موت وحیات کی صفت بیان ہوئی ، پھر اس کے اول ، آخر ، ظاہر اور باطن ہونے کا ذکر ہوا اور اس کے قادر مطلق اور علیم کل ہونے کی صفت بیان ہوئی۔ اللہ نے فرمایا کہ اس نے ارض وسماکو چھ دن کے وقفہ میں تخلیق کیا اور وہ عرش پر مستوی ہے۔ نیز یہ کہ وہ ارض وسماء میں داخل ہونے والی اور نکلنے والی ، نازل ہونے والی اور اوپر چڑھنے والی ہر چیز کو جانتا ہے۔ اللہ نے ہر شخص کے ساتھ اپنی معیت کا تذکرہ فرمایا اور یہ بھی کہ وہ انسانوں کے دلوں کے رازوں سے بھی واقف ہے۔ اللہ نے پوری کائنات میں اپنی سلطنت کا دعویٰ کیا اور یہ…
Read the full tafseer →وَمَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَلِلہِ مِيْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0 ۭ لَايَسْتَوِيْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰتَلَ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِيْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَقٰتَلُوْا 0 ۭ وَكُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰى 0 ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ 10 ۧ
نفق
نَفَقَ الشَّيْءُ : مَضَى ونَفِدَ ، يَنْفُقُ ، إِمَّا بالبیع نحو : نَفَقَ البَيْعُ نَفَاقاً ، ومنه : نَفَاقُ الأَيِّم، ونَفَقَ القَوْمُ : إذا نَفَقَ سُوقُهُمْ ، وإمّا بالمَوْتِ نحو : نَفَقَتِ الدَّابَّةُ نُفُوقاً ، وإمّا بالفَنَاءِ نحو : نَفِقَتِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
2 ؎ قبل الفتح کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ انکشاف حجابِ ظلمانی سے پہلے مال و جان سے اس کی تلاش میں جہاد و کوشش کرنا اعلیٰ درجہ ہے کس لیے کہ بعد فتح یعنی انکشاف تو مال جان صرف کرنا کوئی بڑی بات نہیں اس تقدیر پر فتح سے فتح مکہ بالخصوص مراد نہیں بلکہ عام ہے فتح بمعنی انکشاف حجابات و فتح بمعنی دفع مصائب و فتح بمعنی حصول مرادات و نعماء جن میں سے اعدائِ دین پر فتح اور ان کے مسکن پر غلبہ بھی ہے جو فتح مکہ کو بھی شامل ہے اور نفس امارہ پر فتح یابی کو بھی شامل ہے مگر اصل معنیٰ وہی ہے جو متن تفسیر میں مذکور ہوئے جو متبادرالی الفہم ہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَمَا لَـکُمْ اَلاَّ تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط لاَ یَسْتَوِیْ مِنْـکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰـتَلَ ط اُوْلٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَ ۃً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْ م بَعْدُ وَقٰـتَلُوْا ط وَکُلاًّ وَّعَدَاللّٰہُ الْحُسْنٰی ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ (الحدید : 10)
(اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے، تم میں سے جو لوگ فتح سے پہلے انفاق اور جہاد کریں گے اور جو بعد میں انفاق اور جہاد کریں گے یکساں نہیں ہوں گے، ان لوگوں کا درجہ ان سے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کی بنیادی تعلیمات کا یہ اہم اصول ہے کہ لوگوں کو عسر، یُسر میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہنا چاہیے۔ جو لوگ تنگی کے وقت خرچ کرتے ہیں وہ خوشحالی میں خرچ کرنے والوں سے بہتر ہوتے ہیں۔
قرآن مجید کی ابتدا میں ارشاد ہوا کہ ” ا آمّ “ یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں یہ برائی سے بچنے والوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے اس سے ہدایت پانے والے لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں گویا کہ یہ ایمانیات کا بنیادی جز ہے کہ انسان زکوٰۃ کے علاوہ بھی حسب استعداد اللہ کے راستے میں خرچ کرتا رہے۔ یہاں خرچ کرنے…
Read the full tafseer →قراءت : لرئُ وف کو مد و ہمزہ کے ساتھ حجازی، شامی اور حفص نے پڑھا ہے۔
10 : وَمَا لَکُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا (اور تمہارے لئے اس کا کیا سبب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے) الا سے قبل فی محذوف ہے کہ اس بارے میں ای فی الا تنفقوا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (حالانکہ سب آسمان اور زمین اخیر میں اللہ تعالیٰ ہی کا رہ جائے گا) وہ ان میں ہر چیز کا اخیر میں مالک ہے کسی کے پاس کوئی مال وغیرہ بھی باقی نہ رہے گا۔
انفاق کی ترغیب کا بلیغ پیرایہ :
مطلب یہ ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کے چھوڑنے کی تمہیں کیا غرض ہے اور اسی طرح اس کے رسول کے ساتھ تر کِ جہاد کی کیا…
Read the full tafseer →9 ۔” ھوالذی ینزل علی عبدہ “ محمد ﷺ پر۔ ” آیات بینات “ یعنی قرآن ” لیخرجکم “ اللہ قرآن کے ذریعے۔ ” من الظلمات الی النور “ اور کہا گیا ہے تاکہ تم کو رسول دعوت کے ذریعے تاریکیوں سے نور کی طرف نکال دیں۔ یعنی شرک کی تاریکیوں سے ایمان کے نور کی طرف۔ ” وان اللہ بکم لرئوف رحیم “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
7۔ 10۔ سورة کے شروع سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور توحید اور بندوں کے ذرا ذرا حال سے اپنے واقف ہونے کا ذکر فرما کر یہاں سے قریش کو اللہ تعالیٰ کے احکام پر اور اللہ کے رسول کے سچے ہونے پر ایمان لانے اور دنیا کی الفت چھوڑنے اور خدا کی راہ میں کچھ مال خرچ کرنے کی نصیحت شروع کی ہے۔ اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ دنیا میں جس قدر مال ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے۔ اس لئے اصل مالک سب چیزوں کا اللہ تعالیٰ ہے۔ عارضی طور پر چند روز دنیا کے مال اور دنیا کی چیزوں کے لوگ مالک اور وارث بن جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ یہ عارضی قبضہ والے لوگ سب مرجائیں گے تو اللہ کا پیدا کیا ہوا مال اللہ کے قبضہ میں…
Read the full tafseer →(وَمَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلِلّٰهِ مِيْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) یعنی وہ کون سی چیز ہے جس نے تمہیں انفاق فی سبیل اللہ سے روکا ہے اور (سبیل اللہ) سے مراد تمام تر بھلائی کے راستے ہیں اور تم پر واجب کیا ہے کہ تم بخل کرو۔ (وَ ) حالانکہ کوئی چیز تمہاری ملکیت میں ہیں ہے بلکہ (لِلّٰهِ مِيْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) آسمان اور زمین اللہ تعالیٰ ہی کی میراث ہیں، پس تمام اموال تمہارے ہاتھوں سے نکل جائیں گے یا تم انہیں چھوڑ کر چلے جاؤ گے پھر یہ ملکیت اس کے حقیقی مالک، اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ جائے گی، پس جب تک یہ اموال تمہارے ہاتھ میں ہیں، اللہ کے راستے میں خرچ کر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
جو لوگ ابتدائی مشکلات میں کام آئیں وہ بعد میں آنے والوں سے بلند مرتبہ ہوتے ہیں
قول باری ہے (لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل۔ تم میں سے جو لوگ فتح (مکہ) سے قبل ہی خرچ کرچکے اور لڑ چکے (وہ ان کے برابر نہیں جو بعد فتح مکہ لڑے اور خرچ کیا) ) تاآخر آیت
شعبی سے مروی ہے کہ دونوں ہجرتوں کے درمیان فتح حدیبیہ کا فاصلہ تھا اور اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ صحابہ نے عرض کیا تھا کہ آیا صلح حدیبیہ بھی کوئی فتح تھی، آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا تھا : ” بیشک یہ فتح عظیم تھی۔ “ سعید نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ سے پہلے کے انفاق کی، بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
[ 35] انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب ایک اور پہلو سے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہیں کیا ہوگیا کہ تم لوگ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ اللہ ہی کیلئے میراث آسمانوں اور زمین کی۔ کہ سب لوگ ختم ہوجائیں گے، اور یہ سب کچھ اسی وحدہٗ لاشریک کا ہو کر رہ جائے گا، پس تم لوگ غنیمت سمجھو اس فرصت کو جو آج تمہیں میسر ہے، اور فائدہ اٹھالو اس موقع سے جو آج تمہیں حاصل ہے، اور اپنے ارادہ و اختیار سے اللہ کی راہ میں خرچ کرلو اپنے ان مالوں کو سب سے جو آج تمہارے ہاتھوں میں ہیں، تاکہ کل تمہیں کام آئیں اور خود تمہارا بھال ہو، قبل اس سے کہ یہ فرصت و موقع تمہارے ہاتھوں سے نکل جائے، اور پھر ہمیشہ افسوس کرتے رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
اللہ کا حکم اور اس کی رحمتیں
تشریح : ان آیات میں چند خاص احکامات اور عمل کرنے والوں کے لیے انعامات کا ذکر بڑے آسان الفاظ میں کرد یا گیا ہے یہ سب کچھ بھی بیان کیا جا چکا ہے بس یاد دہانی کے لیے بار بار دہرایا جا رہا ہے۔
پہلا حکم :۔ اللہ و رسول پر خلوص اور نیک نیتی سے ایمان لے آؤ۔
دوسرا حکم : اللہ نے انسان کو اپنا نائب کہا ہے لہٰذا بےدریغ خوشی خوشی زکوٰۃ خیرات، ضرورت مندوں کے لئے اور جہاد کے لیے خرچ کرو۔ یہ مال اللہ کا ہی دیا ہوا ہے۔
تیسرا : رسول کے پکارنے پر اور تعلیمات پر دھیان دو کیونکہ یہ تعلیمات بیشک روشنی کا مقام رکھتی ہیں۔
چوتھا : بےمقصد صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خرچ کرو۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
زمینوں اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے زبان حال سے بھی اور ہر شے کی اپنی زبان سے جس سے وہ اپنے رب سے مخاطب ہوسکے لہذا اپنے انداز میں زبان قال سے بھی کہ یہی اس کے وجود کا سبب ہے جس شے سے بھی ذکر الٰہی چھوٹ جائے وہ باقی نہیں رہتی سوائے مکلف مخلوق کے کہ اسے اطاعت وعدم اطاعت میں ایک وقت تک کے لیے اختیار بخشا گیا ہے اور اللہ زبردست ہے ہر شے پہ ہر حال میں غالب ہے اور یہ اس کی حکمت بالغہ ہے کہ ہر ایک کو جداگانہ اوصاف عطا فرما کر کائنات کو بسانے کا سامان فرمایا ہے ارض وسماء میں اس کی ریاست و حکومت ہے وہی حیات بانٹنتا ہے اور وہی موت دیتا ہے کہ وہ ہر…
Read the full tafseer →ف 1 کیونکہ اس وقت اظہار ایمان اور اس پر استقامت نہایت مشکل تھی، اس لئے آنحضرت نے بھی ایک موقع پر ایمان لانے والوں سے کہا میرے (سابقین) صحابہ کو برا مت کہو انہوں نے تو ایک مدیا نصف مد اللہ کی راہ میں خرچ کر کے جو درجہ حاصل کرلیا تم احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر کے بھی وہ درجہ نہیں کرسکتے۔ دوسری روایت میں ہے ان کا ایک ساعت کا عمل تمہارے عمر بھر کے عمل سے بہتر ہے۔ (سوکانی)
2 یعنی یوں تو اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ جو شخص کسی وقت بھی ایمان لائے گا اور اس کی راہ میں جہاد کرے گا وہ اسے اچھا بدلہ (جنت) عطا فرمائے گا۔
Read the full tafseer →(57:10) ومالکم اور تم کو کیا ہوا ہے۔ نیز ملاحظہ ہو 57:8 متذکرہ بالا۔
الا مرکب ہے ان مصدریہ اور لا نفی سے۔ کہ (تم) نہیں (خرچ کرتے ہو) لا زائدہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اور تمہیں کیا عذر ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے۔
وللہ میراث السموت والارض۔ جملہ حالیہ ہے حالانکہ آسمانوں اور زمین کی وراثت خدا ہی کی ہے۔ میراث السموت والارض مضاف مضاف الیہ آسمانوں کی اور زمین کی وراثت یعنی ملکیت) ۔ میراث کا لفظ قرآن میں دو دفعہ استعمال ہوا ہے اور دونوں جگہ اس کا استعمال اللہ تعالیٰ کی نسبت سے آیا ہے۔
دوسری جگہ فرمایا :۔ وللہ میراث السموت والارض (3:180) وراثۃ ارث اور تراث مصدر ہیں باب حسب سے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
لغات القرآن۔ مستخلفین۔ قائم مقام بنائے گئے… الاتنفقوا۔ یہ کہ تم خرچ نہ کرو… میراث۔ ملکیت۔ میراث۔ ترکہ… لا یستوی۔ برابر نہیں ہے۔ … الحسنی۔ بھلائی۔ خیر۔
تشریح : وہ اللہ جو زمین وآسمان کی سلطنت کا مالک، ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے جو ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ وہی اول و آخر اور ظاہر و باطن ہے اس پر اور اس کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد ﷺ پر دل کی گہرائیوں اور انتہائی خلوص سے ایمان رکھنا اور اس کے حکم کے مطابق اللہ کی راہوں میں مال خرچ کرنا اس پر بہترین اجرو ثواب کا وعدہ ہے فرمایا کہ آج تم جس مال و دولت کے مالک بنے بیٹھے ہو وہ درحقیقت اللہ ہی کا مال ہے لہٰذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
(ف 1) یہ اللہ تعالیٰ کی تم لوگوں پر ایک مہربانی ہے کہ وہ اپنے رسول پر صاف صاف طرح طرح کی فہمائش کی آیتیں نازل فرما کر تمہیں کفر وشرک کے اندھیرے سے نکالنا، اور تمہارے دل کو ایمان کے نور سے روشن کرنا چاہتا ہے ایمان کے دوبارہ ذکر کے ساتھ صدقہ خیرات کا ذکر تاکید کے طور پر ان لفظوں میں فرمایا جن کی تفسیر اوپرگذرچ کی ہے فتح مکہ سے پہلے اسلام کو ہر طرح کی مدد کی زیادہ ضرورت تھی پھر فتح مکہ کے بعد غنیمت کا مال پا کر اہل اسلام غنی ہوگئے ۔ اسی واسطے فتح مکہ سے پہلے عین ضرورت کے وقت جن صحابہ نے اپنا مال اسلام کی مدد میں خرچ کیا ان کو بہت بڑا اجر مل گیا پھر فرمایا یوں تو فتح مکہ سے پہلے اور پیچھے جس کسی…
Read the full tafseer →[15] یعنی آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اخیر میں اللہ ہی کا رہ جائے گا۔ جب سب مالک مرجائیں گے۔ پس جب سب مال ایک روز چھوڑنا ہی ہے تو خوشی سے کیوں نہ اللہ کی راہ میں دیا جائے کہ ثواب بھی ملے۔
[16] فتح سے اکثر مفسرین نے فتح مکہ اور بعض نے صلح حدیبیہ مراد لی ہے۔
[17] یعنی آج جب کہ کفر اور اہل کفر کا مکہ پر غلبہ ہے اور قریش کی ہیبت بدستور عرب پر قائم ہے تو جو لوگ اسلام کو غالب کرنے کے لئے اپنا مال خرچ کریں گے اور جنگ میں حصہ لیں گے ان لوگوں کا درجہ اللہ کے ہاں ان سے کہیں زیادہ بلند ہوگا جو فتح مکہ کے بعد جب کہ قریش کا زور ٹوٹ جائے گا اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے اور جہاد میں حصہ لیں گے۔ یہاں فتح سے…
Read the full tafseer →ف 1: ان آیات میں انفاق فی سبیل اللہ کے لئے مسلمانوں کو آمادہ کیا ہے ۔ اور کہا ہے کہ جب جہاد کے لئے اور قوم کے اعزاز کے لئے روپے کی ضرورت ہے ۔ تو تمہیں کیا ہوگیا ہے ۔ کہ تم تامل اور سوچ میں ہو ۔ یاد رکھو ۔ یہ ساری دولت اللہ کی دی ہوئی ہے ۔ اور اس کی بخشش ہے ۔ پھر جب وہ تم سے خودتمہارے بھلے کے لئے طلب کررہا ہے ۔ تو تمہیں بےدریغ دے دینا چاہیے ۔ اس کے بعد یہ بتلایا ہے ۔ کہ قتال واتفاق کے بارہ میں موقع کی اہمیت کے لحاظ سے اجر میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے ۔ جن لوگوں نے بےکسی کے عالم میں یعنی فتح مکہ سے اہل اسلام کی مالی اور جانی مدد کی ہے وہ اپنے بعد کے لوگوں سے یقینا زیادہ افضل ہیں ۔ کیونکہ یہ وہ پاک…
Read the full tafseer →(10) اور تم کو کیا ہوگیا کہ تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمان و زمین کی سب میراث آخر میں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے اور تم میں سے جن لوگوں نے فتح مکہ سے پہلے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا اور جہاد کیا وہ بعد والوں کے برابر نہیں ہیں بلکہ یہ پہلے حضرات ان لوگوں سے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا اور فی سبیل اللہ جہاد کیا مرتبے اور درجے میں بہت بڑے ہیں اور ہاں اللہ تعالیٰ نے بھلائی ثواب اور جنت کا وعدہ ہر ایک سے کررکھا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر کچھ نہ بچ رہتا ہے یعنی مالک فنا ہوجاتا ہے اور ملک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ف 6۔ پس جب سب مال ایک روز چھوڑنا ہے تو خوشی سے کیوں نہ دیا جائے کہ ثواب بھی ہو۔
Read the full tafseer →جب یہ معلوم ہوگیا کہ اصل مالک ہرچیز کا اللہ ہے پھر بھی وہ خرچ نہ کرے تو اس پر تعجب ہوگا ۔
10 ؎ غور کرو کہ گزشتہ آیت میں ایمان والوں ہی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا تھا کہ جب تم نے ایمان و اسلام کو قبول کرلیا ہے تو پھر آخرت کیا وجہ ہے کہ تم اللہ اور اسکے رسول پر ایمان نہیں لاتے جس کا صاف صاف مطلب یہ اور صرف یہ نکلتا ہے کہ بعض لوگ ایمان کا دعویٰ کرنے کے باوجود ایمان لانے کا حق ادا نہیں کرتے یعنی جیسے ایمان لانا چاہئے ویسا ایمان نہیں لاتے بلکہ زبان ہے اقرار کرلینے اور کاغذات میں مذہب کی جگہ کے سامنے اسلام لکھ دینے پر اکتفا کرتے ہیں اور وہ بھی محض اس لیے کہ یا تو ان کو اس میں بظاہر کوئی نظر آیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
وَلِلَّـهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (...while to Allah belongs the inheritance of the heavens and the earth?....57:10) The word mirath [ inheritance, heritage ] is the process by which the assets of a deceased person pass to the living heirs and beneficiaries. This transfer of ownership takes place automatically by virtue of the law of Shari` ah; the deceased has no choice in the matter. On this occasion, Allah has described the ownership of heaven and earth by the expression mirath [ inheritance, heritage ] presumably because all those assets deemed to be owned by men will…
Read the full tafseer →13 This has two meanings: (1) "Your wealth is not going to stay with you for ever. One day you will leave it behind; then Allah alone will inherit it. Thus the best thing would be that you should spend it yourself in the cause of Allah so that. your reward for it is guaranteed with Allah. If you do not spend it yourself, it will in any case return to Allah, but then you will not be entitled to any reward from Him. " (2) "You should have no fear of indigence and poverty when you spend it in the cause of Allah, because Allah for Whose sake you would spend your wealth, is the Owner of aII the…
Read the full tafseer →