Al-Hadid 57:11

Al-Hadid · from ayah 11

57:11

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌ ۟ۚمَنۡ ذَا الَّذِىۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗۤ اَجۡرٌ كَرِيۡمٌ

کون ہے جو خدا کو (نیت) نیک (اور خلوص سے) قرض دے تو وہ اس کو اس سے دگنا کرے اور اس کے لئے عزت کا صلہ (یعنی جنت) ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Who is it that would loan Allah a goodly loan so He will multiply it for him and he will have a noble reward?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hadid

All translations of 57:11

کون ہے جو اللہ کو قرض دے؟ اچھا قرض، تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے، اور اُس کے لیے بہترین اجر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کون ہے جو خدا کو (نیت) نیک (اور خلوص سے) قرض دے تو وہ اس کو اس سے دگنا کرے اور اس کے لئے عزت کا صلہ (یعنی جنت) ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح قرض دے پھر اللہ تعالیٰ اسے اس کے لیے بڑھاتا چلا جائے اور اس کے لیے پسندیده اجر ﺛابت ہو جائے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کون ہے جو اللہ کو قرض دے ؟ اچھا قرض جس کے نتیجے میں اللہ اسے دینے والے کے لیے کئی گنا بڑھا دے ؟ اور ایسے شخص کو بڑا باعزت اجر ملے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کون ہے جو اللہ کو قرض دے اچھا قرض تو وہ اس کے لیے دونے کرے اور اللہ کو عزت کا ثواب دے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کون شخص ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ کے طور پر قرض دے تو وہ اس کے لئے اُس (قرض) کو کئی گنا بڑھاتا رہے اور اس کے لئے بڑی عظمت والا اجر ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کون ہے وہ جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض، تو وہ اسے اس کے لیے کئی گناکر دے اور اس کے لیے باعزت اجر ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کون ہے جو اللہ کو قرض دے ؟ اچھا قرض جسے وہ اس کے لئے دوگنا بڑھا دے اور اسے عمدہ اجر عطا کرے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کون اٹھتا ہے کہ اللہ کو قرض دے اچھا قرض کہ وہ اس کو اس کے لیے بڑھائے اور اس کے لیے با عزت صلہ ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کون ہے جو اللہ کو قرض دے اچھا قرض تاکہ اللہ اسے اس کے لئے بڑھاتا چلا جائے اور اس کے لئے ایک بڑا ہی عمدہ اجر ہے

— مولانا اسحاق مدنی

کوئی شخص ہے جو اللہ کو اچھی طرح قرض کے طور پردے پھر اللہ اسے اس شخص کیلئے بڑھاتا چلا جائے اور اس کے لئے اجر پسند یدہ ہے وہ دن۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کون ہے جو اللہ کو قرض دے قرض حسنہ ؟ کہ وہ اس کے لیے اسے بڑھاتا رہے اور اس کے لیے بڑا باعزت اجر ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کون ہے جو اللہ کو خلوص نیت سے قرض دے تو وہ اس کو دگنا عطا کرے اور اس کے لیے عزت کا بدلہ۔ (یعنی جنت) دے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Who is it that will give Allah a beautiful loan? A loan that Allah will repay after increasing it many times and grant him a generous reward.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Who is there to advance a loan, a good loan, to Allah so that He multiplies it for him, and he may have a noble reward?

— Muhammad Taqi Usmani

Who is there to advance a loan, a good loan, to Allah so that He multiplies it for him, and he may have a noble reward?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Who is he that will lend Allah a handsome loan: then He will increase it manifold to his credit, and he will have a honorable reward.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Who is he that will lend unto Allah a goodly loan, that He may double it for him and his may be a rich reward?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Who is it that would loan Allah a goodly loan so He will multiply it for him and he will have a noble reward?

— Saheeh International

Whoever gives a virtuous loan to God will receive double from Him in addition to an honorable reward.

— Muhammad Sarwar

Who is there that will offer to Allah a good gift so He will double it for him, and he shall have an excellent reward.

— Muhammad Habib Shakir

Who is he that will lend Allah a goodly loan, so that He may multiply it for him, and his shall be a hire honourable?

— Abdul Majid Daryabadi

Who is he that will Loan to Allah a beautiful loan? for (Allah) will increase it manifold to his credit, and he will have (besides) a liberal Reward.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 57:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–11

ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم اللہ تبارک و تعالیٰ خود اپنے اوپر اور اپنے رسول ﷺ پر ایمان لانے اور اس پر مضبوطی اور ہمیشگی کے ساتھ جم کر رہنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اپنی راہ میں خیرات کرنے کی رغبت دلاتا ہے جو مال ہاتھوں ہاتھ تمہیں اس نے پہنچایا ہو تم اس کی اطاعت گذاری میں اسے خرچ کرو اور سمجھ لو کہ جس طرح دوسرے ہاتھوں سے تمہیں ملا ہے اسی طرح عنقریب تمہارے ہاتھوں سے دوسرے ہاتھوں میں چلا جائے گا اور تم پر حساب اور عتاب رہ جائے گا اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ تیرے بعد تیرا وارث ممکن ہے نیک ہو اور وہ تیرے ترکے کو میری راہ میں خرچ کر کے مجھ سے قربت حاصل کرے اور ممکن ہے کہ وہ بد…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَدِیْد 16 یہ اللہ تعالیٰ کی شان کریمی ہے کہ آدمی اگر اس کے بخشے ہوئے مال کو اسی کی راہ میں صرف کرے تو اسے وہ اپنے ذمہ قرض قرار دیتا ہے، بشرطیکہ وہ قرض حسن (اچھا قرض) ہو، یعنی خالص نیت کے ساتھ کسی ذاتی غرض کے بغیر دیا جائے، کسی قسم کی ریا کاری اور شہرت و ناموری کی طلب اس میں شامل نہ ہو، اسے دے کر کسی پر احسان نہ جتایا جائے، اس کا دینے والا صرف اللہ کی رضا کے لیے دے اور اس کے سوا کسی کے اجر اور کسی کی خوشنودی پر نگاہ نہ رکھے۔ اس قرض کے متعلق اللہ کے دو وعدے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اس کو کئی بڑھا چڑھا کر واپس دے گا، دوسرے یہ کہ وہ اس پر اپنی طرف سے بہترین اجر بھی عطا فرمائے گا۔ حدیث میں حضرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–11

وَلِلّٰهِ مِيْرَاث السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ، میراث اصل میں اس ملکیت کو کہا جاتا ہے جو پچھلے مالک کے انتقال کے بعد اس کے بعد زندہ رہنے والے وارثوں کو ملا کرتی ہے اور یہ ملک جبری ہوتی ہے مرنے والا چاہے یا نہ چاہے جو وارث ہوتا ہے ملکیت اس کی طرف منتقل ہوجاتی ہے یہاں حق تعالیٰ کی ملکیت آسمان و زمین کو میراث کے لفظ سے تعبیر کرنے میں یہ حکمت ہے کہ تم چاہو یا نہ چاہو جس جس چیز کے مالک آج تم سمجھے جاتے ہو وہ سب بالآخر حق تعالیٰ کی ملکیت خاصہ میں منتقل ہوجائے گی، مراد یہ ہے کہ اگرچہ حقیقی مالک تمام اشیاء عالم کا پہلے بھی حق تعالیٰ ہی تھا مگر اس نے اپنے فضل سے کچھ اشیاء کی ملکیت تمہارے نام کردی تھی اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(من ذا الذی یقرمن اللہ قرضا حسنا فیضعفہ لہ ولہ اجر کریم (11) (جہاد کے لیے مالی امانت کی نہایت موثر اپیل)۔ اب یہ نہایت واضح اور موثر الفاظ میں جہاد کے لیے مالی اعانت کی اپیل ہے کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دینے کے لیے اٹھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو بڑھائے اور اس کو با عزت اجر عطا فرمائے۔ لفظ ’ فرض ‘ سے اگرچہ عام انفاق بھی مراد ہوسکتا ہے لیکن یہاں سیاق وسباق سے واضح ہے کہ اس سے جہاد کے لیے مالی اعانت ہی مراد ہے۔ آگے ہم اس کے بعض قرآئن کی طرف انشاء اللہ اشارہ کریں گے۔ انفاق فی سبیل اللہ کے لیے قرض کے لیے لفظ میں جو اپیل ہے وہ محتاج وضاحت نہیں ہے۔ اوپر واضح ہوچکا ہے کہ انسان کے پاس جو کچھ بھی ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1 اللہ کو قرض حسن دینے کا مطلب ہے، اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات کرنا، یہ مال، جو انسان اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ ہی کا دیا ہوا ہے، اس کے باوجود اسے قرض قرار دینا، یہ اللہ کا فضل و احسان ہے کہ وہ اس انفاق پر اسی طرح اجر دے گا جس طرح قرض کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

8: اللہ تعالیٰ کو نہ مال کی حاجت ہے، نہ کسی سے قرض لینے کی، وہ ہر حاجت سے بےنیاز ہے، لیکن انسان جو کچھ صدقہ خیرات کرتا ہے، یا جہاد اور دینی کاموں میں خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اسے قرض کے لفظ سے اس لیے تعبیر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا صلہ ایسے شخص کو دنیا اور آخرت میں اس اہتمام سے عطا فرماتا ہے جیسے کوئی قرض دار اپنا قرض واپس کرتا ہے۔ اور اچھے قرض سے مراد یہ ہے کہ وہ پورے خلوص کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیا گیا ہو، دکھاوا مقصود نہ ہو۔ سورة بقرہ : 245 اور سورة مائدہ : 12 میں بھی اچھے قرض کی یہ تعبیر گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–12

من ذالذی .................................... المصیر (51) (75 : 11 تا 51) ” کون ہے جو اللہ کو قرض دے ؟ اچھا قرض ، تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے اور اس کے لئے بہترین اجر ہے۔ اس دن جب کہ تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑرہا ہوگا۔ (ان سے کہا جائے گا کہ ) آج بشارت ہے تمہارے لیے جنتیں ہوں گی جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی ، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔ اس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں۔ مگر ان سے کہا جائے گا ” پیچھے ہٹ جاؤ ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " قرض کے معنی یہ کہ اس وقت جہاد میں خرچ کرو۔ پھر تم ہی دولتیں برتو گے (اور آخرت میں بڑے مرتبے پاؤ گے) یہ ہی معنی ہیں دونے کے۔ ورنہ مالک میں اور غلام میں سود بیاج نہیں۔ جو دیا سو اس کا جو نہ دیا سو اس کا۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1 1{ مَنْ ذَا الَّذِیْ یُـقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا } ”کون ہے جو اللہ کو قرض دے قرض حسنہ ؟“ { فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗ وَلَــہٗٓ اَجْرٌ کَرِیْمٌ۔ } ”کہ وہ اس کے لیے اسے بڑھاتا رہے اور اس کے لیے بڑا باعزت اجر ہے۔“ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اور بھلا کون اجر دے سکتا ہے ؟ ایسا منافع اور بھلا کہاں سے مل سکتا ہے ؟ چناچہ اے اہل ایمان ! آگے بڑھو ! لبیک کہو اپنے رب کی اس پکار پر ! اور اپنا مال اور اپنا وقت قربان کر دو اس کی رضا کے لیے ! اپنی صلاحیتیں اور اپنی جان کھپا دو اس کی راہ میں ! یہاں پر یہ نکتہ ایک دفعہ پھر سے ذہن نشین کر لیجیے کہ انفاقِ مال اور انفاقِ جان ایک اعتبار سے ایک ہی چیز ہے۔ مال اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

16 قرض حسنہ کے سلسلہ میں دس ہدایات :۔ قرض حسنہ سے مراد ہر وہ مال ہے جو محض اللہ کی رضا کے لیے اس کی ہدایات و احکام کے مطابق خرچ کیا جائے۔ خواہ وہ فرضی صدقہ یا زکوٰۃ ہو یا واجبی صدقات ہوں یا نفلی ہوں اور خواہ وہ فی سبیل اللہ جہاد میں خرچ کیا جائے یا کسی محتاج کی احتیاج کو دور کرنے کے لیے اسے دیا جائے۔ قرض حسنہ کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل دس امور کا لحاظ رکھنا اسے افضل صدقہ بنادیں گے۔ (1) حلال کمائی سے خرچ کیا جائے کیونکہ حرام کمائی سے صدقہ قبول نہیں، (2) صدقہ میں ناقص مال نہ دے، (3) اس وقت صدقہ کرے جبکہ خود بھی اسے احتیاج ہو، (4) اپنی احتیاج پر دوسرے کی احتیاج کو مقدم رکھے، (5) صدقہ چھپا کردینا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

15۔ یہ ساری عبادت جہاد مالی کی ترغیب وتشویق کے لیے ہے۔ (آیت) ” قرضا حسنا “۔ قرض کا لفظ اس اشارہ کے لیے ہے کہ اجر کا ترتب اس قدریقینی اور قطعی ہے کہ گویا وہ اللہ پر قرض ہے ورنہ لفظی معنی کے اعتبار سے تو ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ کو ” قرض “ دے ہی کون سکتا ہے ؟ استعیر لفظ القرض لیدل علی التزام الجزاء (مدارک) (آیت) ” فیضعفہ “۔ اس میں اشارہ اجر کی کمیت ومقدار کی جانب ہوگیا۔ اصل سرمایہ سے کہیں زیادہ دوگنا، چوگنا، دس گنا بلکہ اس سے بھی بہت زائد ہوگا۔ (آیت) ” کریم “۔ اس سے اشارہ اس اجر کی نوعیت وکیفیت کی طرف ہوگیا۔ خوب جی بھر اجر ملے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–15

ترجمہ :۔ کون شخص ہے کہ جو اپنا مال اللہ کو قرض حسن کے طور پردے یعنی اللہ کے راستہ میں خرچ کرے ؟ اس طریقہ پر کہ (خالص) اللہ کے سوا خرچ کرے پھر اللہ تعالیٰ اس قرض کو اس شخص کے لئے بڑھاتا چلا جائے اور ایک قرأت میں فیضعفۃ تشدید کے ساتھ ہے دس گنے سے سات سو گنے تک زیادہ جیسا کہ سورة بقرہ میں مذکور ہو، اور اس کے لئے (اجر) بڑھانے کے ساتھ پسندیدگی کا اجر بھی ہے (یعنی) اس اجر کے ساتھ رضا مندی اور قبولیت ہے، اس دن کا ذکر کیجیے کہ جس دن آپ مومنین اور مومنات کو دیکھیں گے کہ ان کا اجر ان کے سامنے ہے اور نو ران کے داہنی جانب دوڑتا ہوگا اور ان سے کہا جائے گا آج تمہارے لئے ایسی جنت کی یعنی اس میں داخل ہونے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

” کوئی ہے جو اللہ کو اچھی طرح قرض کے طور پردے پھر اللہ اس (دیئے ہوئے کے ثواب) کو اس شخص کے لیے بڑھاتا چلا جائے اور اس کے لیے اجر پسندیدہ ہے۔ “ یُقْرِضُ اللہ : مضاف محذوف ہے یعنی اللہ کے بندوں کو قرض دینے والا یا اللہ کو قرض دینے سے مراد ہے اللہ کی راہ میں اس امید پر خرچ کرنا کہ اللہ اس کا عوض عنایت فرمائے گا گویا یہ ایسا ہی ہوگیا جیسے کوئی قرض دے (اس یقین کے ساتھ کے قرض کا عوض واپس ضرور ملے گا) ۔ قَرْضًا حَسَنًا : یعنی خلوص کے ساتھ ‘ بہت عمدہ ‘ اعلیٰ مال ‘ صحیح طریقے سے۔ فَیُضٰعِفَہٗ : پس اللہ اس کو چند گنا بدلہ دے گا۔ وَلَہٗ اَجْرٌ کَرِیْمٌ : یعنی اگر چند گنا اجر اللہ نہ بھی دے تب بھی اصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

کوئی شخص ہے جو اللہ کی راہ میں خلوص اور ثواب کی امید رکھتا ہو اللہ تعالیٰ کو دے اور پھر اللہ تعالیٰ اس کو قبول کر کے اس کے ثواب کو سات سے لیکر ستر تک اور سات سو اور دو لاکھ تک جہاں تک اللہ تعالیٰ چاہے بڑھاتا ہے اور اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں جنت میں پسندیدہ اجر ہے یہ آیت حضرت ابو الدحداح کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللہ قَرْضًا حَسَنًا۔۔۔۔: اس کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ بقرہ (244، 245) اور ”اجرکریم“ کے لیے دیکھئے سورة ٔ انفال (74) اور سورة ٔ حج (50)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

( من ذالذی یقرض۔۔۔۔۔۔۔ ) من ذالذی یعرض اللہ قرضا حسنا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ سورة بقرہ میں اس بارے میں گفتگو گزر چکی ہے جو آدمی بھی کوئی اچھا عمل کرے عرب اس کے بارے میں کہتے ہیں : قد اعرض : شاعر نے کہا 1 ؎۔ مجمع الزوائد، کتاب الادب، توقیر الکبیر، جلد 8، صفحہ 33، حدیث 12610 2 ؎۔ جامع ترمذی، کتاب البروا لصلۃ، ما جاء ل الجلال الکبیر، جلد 2، صفحہ 23 واذا جو ریت قرضافا جزہ (1) جب تیرے ساتھ حسن سلوک کیا جائے تو اس کا بدلہ دے۔ اسے قرض کا نام دیا گیا کیونکہ قرض بدل واپس لینے کے لیے دیا جاتا ہے یعنی جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ اسے کئی گنا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–11

1۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اٰمنو باللہ ورسولہ وانفقو مما جعلکم مستخلفین فیہ۔ اور جس مال میں اللہ نے تم کو قائم مقام بنایا اس کا کچھ حصہ راہ خدا میں خرچ کرو یعنی اس رزاق میں سے جو اس نے تم کو زندگی گزارنے کے لیے کثرت سے عطا فرمایا ہے آیت وقد اخذ میثاقکم اور خود خدا نے تم سے اپنے رب ہونے کا عہد لیا تھا یعنی ابھی تم آدم (علیہ السلام) کی پشت میں تھے آیت لیخرجکم من الظلمت الی النور۔ تاکہ تم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے یعنی گمراہی سے ہدایت کی طرف۔ فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں کی فضیلت 2۔ سعید بن منصور وابن المنذر وعبد بن حمید نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مَنْ ذَا الَّذِيْ : کون ہے وہ جو ] [ يُقْرِضُ اللّٰهَ : قرض دے اللہ کو ] [ قَرْضًا حَسَنًا : ایک خوبصورت قرضہ ] [ فَيُضٰعِفَهٗ : نتیجۃً وہ کئی گنا کرے اس (قرض) کو ] [ لَهٗ : اس (قرض دینے والے) کے لیے ] [ وَلَهٗٓ: اور اس کے لیے ] [ اَجْرٌ كَرِيْمٌ: ایک باعزت اجر ہے ] (آیت ۔ 11) من ذا دراصل من ذالک ہے یعنی کون ہے وہ فیضعفہ کا فاسببیہ ہے اس لیے یضعف حالت نصب میں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

كون ہے جو اللہ کو قرض دے : پھر فرمایا ﴿ مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِيْمٌۚ0011﴾ (وہ کون ہے جو اللہ کو قرض دے اچھا قرض پھر وہ اللہ اس کے لیے چند در چند کرکے بڑھا دے اور اس کے لیے اجر کریم ہے) اللہ تعالیٰ شانہ بندوں کا بھی خالق اور مالک ہے اور ان کے اموال کا بھی خالق اور مالک ہے جو بھی کوئی شخص اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرما کر اس کا نام قرضا حسنا رکھ دیا اور جتنا بھی کوئی شخص مال خرچ کرے (بشرطیکہ اللہ کی رضا کے لیے ہو) اس کو خوب زیادہ بڑھا کردینے کا وعدہ فرما لیا، اول تو مال اس کا ہے پھر بندوں نے خرچ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–11

دعوت ایمان بررب کون ومکان وحکم اطاعت رسول کریم ﷺ وترغیب بذل مال عزیز برائے رضائے خداوندذوالجلال : قال اللہ تعالیٰ : امنوا باللہ ورسولہ ...... الی ...... ولہ اجر کریم “۔ (ربط) ابتداء سورت سے خداوند عالم نے اپنی صفات قدرت و عظمت کا بیان فرمایا ان صفات اور خوبیوں کو سن کر ہر مخاطب کو چاہئے کہ ایسی ذات سراپا عظمت وکبریائی پر ایمان لانے کے واسطے تیار ہوجائے اور اسکی اطاعت وفرمانبرداری جو اس کے رسول ہی کی ذریعے ہوسکتی ہے تیار ہوجائے اور کائنات کے خالق ومالک کی خوشنودی کے لئے اپنی جان ومال کی قربانی سے بھی دریغ نہ کرے اور جو مال صرف اللہ ہی نے اسکو عطا کیا ہے اس مال کو اس کی فرماں برداری اور حقوق کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

12:۔ ” من ذا الذی “ یہ ترغیب انفاق کا تیسرا طریق ہے۔ ” فیضعفہ “ جواب استفہام ہے۔ اس لیے منصوب ہے۔ اور قراءت رفع میں ” یقرض “ پر معطوف ہے۔ قال ابن عطیۃ ھنا الرفع یعنی فی یضاعفہ علی العطف۔ قرا عاصم فیضاعفہ بالنصب بالفاء علی جواب الاستفہام (بحر ج 8 ص 219) ۔ حاصل یہ ہے کہ فرض کرلیا مال تمہارا ہی ہے، تم نے خود کمایا ہے اور باپ دادا سے میراث میں پایا ہے، تو چلو بطور قرض ہی دے دو ۔ دنیا ہی میں اس سے کئی گنا زیادہ واپس کردوں گا اور آخرت کا اجر وثواب اس کے علاوہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–15

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے مال خرچ کرنے کا ذکر فرمایا اور واضح کیا کہ جو لوگ بوقت ضرورت خرچ کرتے ہیں ان کے لئے زیادہ اجر ہوتا ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ فتح مکہ سے پہلے ایمان لانے والے بعد میں اسلام قبول کرنے والوں سے بدرجہا افضل ہیں ۔ تمہارے اموال کا حقیقی مالک اور متصرف تو اللہ تعالیٰ ہے ، تاہم اس نے اپنی مہربانی سے تمہیں اس سے پہلے لوگوں کا نائب بنایا ہے اور خرچ کرنے کا حکم دیا ہے لہٰذا تمہیں اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے بلکہ اللہ کے عطا کردہ مال کو بڑھ چڑھ کر خرچ کرنا چاہیے۔ یہ مال اللہ کی طرف سے تمہارے پاس بطور امانت ہے جس کے لوٹانے میں تمہیں ہچکچاہٹ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَـنًا فَيُضٰعِفَہٗ لَہٗ وَلَہٗٓ اَجْرٌ كَرِيْمٌ۝ 11 ۚ ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع، ويقال في المؤنّث : ذات، وفي التثنية : ذواتا، وفي الجمع : ذوات، ولا يستعمل شيء منها إلّا مضافا، قال : وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] ، وقال : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ، وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] ، وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] ، ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] ، إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] ، وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 10–11

2 ؎ قبل الفتح کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ انکشاف حجابِ ظلمانی سے پہلے مال و جان سے اس کی تلاش میں جہاد و کوشش کرنا اعلیٰ درجہ ہے کس لیے کہ بعد فتح یعنی انکشاف تو مال جان صرف کرنا کوئی بڑی بات نہیں اس تقدیر پر فتح سے فتح مکہ بالخصوص مراد نہیں بلکہ عام ہے فتح بمعنی انکشاف حجابات و فتح بمعنی دفع مصائب و فتح بمعنی حصول مرادات و نعماء جن میں سے اعدائِ دین پر فتح اور ان کے مسکن پر غلبہ بھی ہے جو فتح مکہ کو بھی شامل ہے اور نفس امارہ پر فتح یابی کو بھی شامل ہے مگر اصل معنیٰ وہی ہے جو متن تفسیر میں مذکور ہوئے جو متبادرالی الفہم ہیں۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَـہٗ وَلَـہٗٓ اَجْرٌ کَرِیْمٌ۔ (الحدید : 11) (کون ہے جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض، تاکہ وہ اس کو اس کے لیے بڑھائے اور اس کے لیے بہترین اجر ہے۔ ) جہاد کے لیے مالی اعانت کی اپیل اس آیت کریمہ میں نہایت واضح اور موثر انداز میں جہاد کے لیے مالی اعانت کی اپیل کی گئی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی شان کریمی پورے جوش میں ہے۔ وہ اپنے بندوں میں ایثار کا جذبہ ابھار کر درحقیقت انھیں مالامال کردینا چاہتا ہے۔ اس نے جس مال کا مسلمانوں سے مطالبہ کیا ہے اسے اس نے اپنے ذمے قرض کا نام دیا ہے حالانکہ ہر شخص کے پاس جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : مال کی حیثیت بتلانے کے بعد اسے ” اللہ “ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم۔ پہلے حکم فرمایا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو کیونکہ تم اس کے دائمی مالک نہیں ہو بلکہ اپنے سے پہلے لوگوں کے وارث ہو۔ جس طرح تم پہلے لوگوں کے وارث بنے ہو اسی طرح تمہارے بعد آنے والے تمہارے وارث ہوں گے۔ پھر ارشاد فرمایا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ تم اس کے حقیقی وارث نہیں ہو۔ حقیقی اور دائمی وارث تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ جن لوگوں نے الفتح سے پہلے خرچ کیا وہ بعد میں خرچ کرنے والوں سے بہتر ہیں۔ اب چوتھا ارشاد ہوا کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے ؟ جو ”…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

11 : مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا (کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح قرض کے طور پر دے) حسنًا سے مراد بطیب خاطر یقرضؔ سے مراد انفاق فی سبیل اللہ بطور استعارہ اس کو قرض سے تعبیر فرمایا تاکہ جزاء کے لازم ہونے پر دلالت کرے۔ فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗ (پھر اللہ تعالیٰ اس کو اس شخص کیلئے بڑھاتا چلا جاتا ہے) یعنی اس کے انفاق پر وہ اپنے فضل سے کئی گنا بڑھا کر بدلہ دیتے ہیں۔ وَلَہٗ اَجْرٌ کَرِیْمٌ (اور اس کے لئے اجر پسندیدہ ہے) وہ اجر جو کئی گنا بڑھا کر اس کو دیا گیا وہ ذاتی لحاظ سے پسندیدہ شاندار رزق ہے۔ قراءت : مکی نے فیضعّفُہٗ پڑھا۔ شامی نے فَیُضَعَّفَہٗ عاصم نے فَیُضَاعفَہُ اور سہل نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10 ۔” ومالکم الاتنفقوا فی سبیل اللہ وللہ میراث السموات والارض “ فرماتے ہیں تمہارے لئے ۔۔ چھوڑنے میں کیا چیز ہے، ان میں سے جو اللہ کے قریب کردیں اور تم مرنے والے ہو اپنے اموال کو چھوڑنے والے۔۔۔ کے فضل کو بیان کیا جنہوں نے اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے اور جہاد میں سبقت کی۔ پھر فرمایا ” لایسعوی منکم ۔۔۔۔ فرماتے ہیں فضل میں اس شخص کے برابر نہیں ہوسکتا جس نے اپنے مال کو خرچ کیا اور رسول اللہ ﷺ کے ۔۔۔ سے قتال کیا فتح مکہ سے پہلے۔ وہ شخص جس نے خرچ کیا اور فتح مکہ کے بعد قتال کیا۔ ” اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد وقاتلوا “ کلبی (رح) سے روایت ہے کہ یہ آیت ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–11

7۔ 10۔ سورة کے شروع سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور توحید اور بندوں کے ذرا ذرا حال سے اپنے واقف ہونے کا ذکر فرما کر یہاں سے قریش کو اللہ تعالیٰ کے احکام پر اور اللہ کے رسول کے سچے ہونے پر ایمان لانے اور دنیا کی الفت چھوڑنے اور خدا کی راہ میں کچھ مال خرچ کرنے کی نصیحت شروع کی ہے۔ اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ دنیا میں جس قدر مال ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے۔ اس لئے اصل مالک سب چیزوں کا اللہ تعالیٰ ہے۔ عارضی طور پر چند روز دنیا کے مال اور دنیا کی چیزوں کے لوگ مالک اور وارث بن جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ یہ عارضی قبضہ والے لوگ سب مرجائیں گے تو اللہ کا پیدا کیا ہوا مال اللہ کے قبضہ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے کیونکہ جہاد کا تمام تر دارومدار انفاق فی سبیل اللہ اور جہاد کی تیاری میں مال خرچ کرنے پر ہے، چناچہ فرمایا : (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا) کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے، اس سے مراد پاک اور طیب مال ہے جسے خالص اللہ تعالیٰ کے لیے اس کی رضا کے مطابق حلال اور طیب مال میں سے نہایت خوش دلی کے ساتھ خرچ کیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس انفاق کو قرض کے نام سے موسوم کیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مال اسی کا مدل اور یہ بندے اسی کے بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مال کو کئی گنا کردینے کا وعدہ کیا ہے وہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 10–18

جو لوگ ابتدائی مشکلات میں کام آئیں وہ بعد میں آنے والوں سے بلند مرتبہ ہوتے ہیں قول باری ہے (لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل۔ تم میں سے جو لوگ فتح (مکہ) سے قبل ہی خرچ کرچکے اور لڑ چکے (وہ ان کے برابر نہیں جو بعد فتح مکہ لڑے اور خرچ کیا) ) تاآخر آیت شعبی سے مروی ہے کہ دونوں ہجرتوں کے درمیان فتح حدیبیہ کا فاصلہ تھا اور اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ صحابہ نے عرض کیا تھا کہ آیا صلح حدیبیہ بھی کوئی فتح تھی، آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا تھا : ” بیشک یہ فتح عظیم تھی۔ “ سعید نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ سے پہلے کے انفاق کی، بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 10–11

[ 35] انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب ایک اور پہلو سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہیں کیا ہوگیا کہ تم لوگ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ اللہ ہی کیلئے میراث آسمانوں اور زمین کی۔ کہ سب لوگ ختم ہوجائیں گے، اور یہ سب کچھ اسی وحدہٗ لاشریک کا ہو کر رہ جائے گا، پس تم لوگ غنیمت سمجھو اس فرصت کو جو آج تمہیں میسر ہے، اور فائدہ اٹھالو اس موقع سے جو آج تمہیں حاصل ہے، اور اپنے ارادہ و اختیار سے اللہ کی راہ میں خرچ کرلو اپنے ان مالوں کو سب سے جو آج تمہارے ہاتھوں میں ہیں، تاکہ کل تمہیں کام آئیں اور خود تمہارا بھال ہو، قبل اس سے کہ یہ فرصت و موقع تمہارے ہاتھوں سے نکل جائے، اور پھر ہمیشہ افسوس کرتے رہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–12

اللہ کا حکم اور اس کی رحمتیں تشریح : ان آیات میں چند خاص احکامات اور عمل کرنے والوں کے لیے انعامات کا ذکر بڑے آسان الفاظ میں کرد یا گیا ہے یہ سب کچھ بھی بیان کیا جا چکا ہے بس یاد دہانی کے لیے بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ پہلا حکم :۔ اللہ و رسول پر خلوص اور نیک نیتی سے ایمان لے آؤ۔ دوسرا حکم : اللہ نے انسان کو اپنا نائب کہا ہے لہٰذا بےدریغ خوشی خوشی زکوٰۃ خیرات، ضرورت مندوں کے لئے اور جہاد کے لیے خرچ کرو۔ یہ مال اللہ کا ہی دیا ہوا ہے۔ تیسرا : رسول کے پکارنے پر اور تعلیمات پر دھیان دو کیونکہ یہ تعلیمات بیشک روشنی کا مقام رکھتی ہیں۔ چوتھا : بےمقصد صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خرچ کرو۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–19

آیات 11 تا 19 اسرار ومعارف۔ نیزا للہ کی راہ میں جان مال یا کوشش و محنت جو بھی خرچ کیا جاتا ہے وہ ضائع نہیں ہوتا بلکہ ایک قرض ہے یعنی ایسی دولت جس کی واپسی یقینی ہے اور وہ بھی اللہ کریم کے پاس توکیاہی خوب قرض ہے کہ اللہ کریم اسے کئی گنا بڑھادیتے ہیں اور زیادہ کرکے لوٹاتے ہیں نیز عنداللہ اس کی عزت و عظمت یہ الگ انعام ہے اور یہی مجاہدہ ایک دن مومن مردوں اور خواتین کے آگے اور دائیں بائیں نور کی صورت چلے گا کہ حساب کتاب کے بعد سخت اندھیرا چھاجائے گا اور کفار کو جہنم میں دھکیل دیاجائے گا جبکہ مومنین میں نورتقسیم ہوگا اور ہر ایک مرد وزن کو بقدر اس کے اعمال اور خلوص ملے گا جس کی روشنی میں وہ جہنم پر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ” قرض حسن “ (اچھے فرض) سے مراد وہ مال ہے جو آدمی دل کی خوشی سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اس کی راہ میں خرچ کرے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ وہ اسے اپنے ذمہ قرض قرار دے رہا ہے حالانکہ انسان کے پاس جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ وہ اسے اپنے ذمہ قرض قرار دے رہا ہے حالانکہ انسان کے پاس جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ ہی کا دیا ہوا ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں قرض کے معنی یہ کہ اس وقت جہاد میں خرچ کرو پھر تم ہی دولتیں برتو گے۔ یہی معنی ہیں دونوں کے دینہ مالک اور غلام میں سود بیاج نہیں جو دیا سو اس کا اور جو نہ دیا سو اس کا۔ “ ‘4 یعنی جنت … مزیدت شریح کے لئے دیکھیے بقرہ 245

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(57:11) من ذالذی یقرض اللہ : من استفہامیہ ذا اسم اشارہ واحد مذکر الذی اسم موصول۔ یقرض اللہ اس کا صلہ۔ کون ہے وہ شخص جو دے اللہ کو قرض ۔ قرضا حسنا : قرضا مفعول مطلق موصوف۔ حسنا صفت، قرض حسنہ۔ بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ قرض حسنہ کی مندرجہ ذیل صفات ہونی چاہئیں۔ (1) حلال مال ہو۔ (2) اعلیٰ درجہ کی چیز ہو۔ (3) خود کو بھی اس کی اشد ضرورت ہو۔ (4) پوشیدہ طور پر دے۔ (5) احسان نہ جتائے۔ (6) اذیت نہ پہنچائے۔ (7) مقصد رضائے الٰہی ہو۔ (8) جتنا بھی خرچ کرے اسے تھوڑا خیال کرے۔ فیضعفہ :جواب استفہام کے لئے۔ جملہ جواب استفہام ہے اور مضارع منصوب اسی وجہ سے ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع قرضا حسنا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–15

لغات القرآن : یقرض۔ قرض دیتا ہے۔ یضعف۔ وہ دوگنا کرتا ہے۔ اضافہ کرتا ہے۔ یسعی۔ دوڑتا ہے۔ انظرونا۔ ہمیں دیکھو۔ ہمارا انتظار کرو۔ نقتبس۔ ہم کچھ حصہ لیں۔ ارجعوا۔ تم لوٹ جائو۔ التمسوا۔ تلاش کرو۔ سور۔ دیوار۔ آر۔ تربصتم۔ تم نے انتظار کیا۔ ارتبتھم۔ تم نے شک کیا۔ غرت۔ دھوکے میں ڈال دیا۔ الامانی۔ تمنائیں۔ مولی۔ مالک۔ خادم۔ تشریح : اللہ جو زمین و آسمان کے تمام خزانوں کا مالک ہے وہ اپنے فرماں بردار بندوں کو ان کی کوششوں، جدوجہد اور محنت سے بھی زیادہ عطا کرتا ہے۔ آدم کے پاس جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے وہی مالک ہے لیکن اس کی شان کریمی کے قربان کہ وہ اس کی رضا و خوشنوی کے لئے خرچ کئے گئے مال کو اپنے اوپر قرض…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–11

(ف 1) یہ اللہ تعالیٰ کی تم لوگوں پر ایک مہربانی ہے کہ وہ اپنے رسول پر صاف صاف طرح طرح کی فہمائش کی آیتیں نازل فرما کر تمہیں کفر وشرک کے اندھیرے سے نکالنا، اور تمہارے دل کو ایمان کے نور سے روشن کرنا چاہتا ہے ایمان کے دوبارہ ذکر کے ساتھ صدقہ خیرات کا ذکر تاکید کے طور پر ان لفظوں میں فرمایا جن کی تفسیر اوپرگذرچ کی ہے فتح مکہ سے پہلے اسلام کو ہر طرح کی مدد کی زیادہ ضرورت تھی پھر فتح مکہ کے بعد غنیمت کا مال پا کر اہل اسلام غنی ہوگئے ۔ اسی واسطے فتح مکہ سے پہلے عین ضرورت کے وقت جن صحابہ نے اپنا مال اسلام کی مدد میں خرچ کیا ان کو بہت بڑا اجر مل گیا پھر فرمایا یوں تو فتح مکہ سے پہلے اور پیچھے جس کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[18] یہ اللہ تعالیٰ کی شان کریمی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنا مال جو دراصل اللہ تعالیٰ ہی کا ہے اس کی راہ میں خرچ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے ذمہ قرض قرار دیتا ہے بشرطیکہ وہ قرض حسن (اچھا قرض) ہو یعنی بغیر کسی ذاتی غرض کے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے لئے دیا جائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–12

ف 2: اللہ کا قرض دینے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ یہ بھی ایک نوع کی تجارت ہے ۔ فرق یہ ہے ۔ اس میں راس المال نقد ہے ۔ اور جو کچھ ملنے والا ہے ۔ وہ سراسر متوقع یعنی موت کے بعد آخرت ہیں ۔ اس سودے میں وہی لوگ شریک ہوتے ہیں ۔ جن میں جرات ایمانی ہے ۔ اور واقعہ یہ ہے کہ اگر سب کچھ دے کر بھی اس کا قرب حاصل ہوجائے ۔ تو یہ تجارت کسی عنوان بری نہیں ۔ حل لغات :۔ تزرھم ۔ روشنی یعنی وہ لوگ جو یہاں معارف ایمانی سے بہرہ ور تھے ۔ وہ اس دنیا میں نور کے سایہ میں پھلیں گے ۔ اور تقدم و حضور کی ہر راہ ان کے لئے روشن ہوگی ۔ وہ عقبیٰ کی تمام مشکلات پر آسانی کے ساتھ قابو حاصل کرلیں گے ۔ اور وہاں کے حقائق ان پر پوری طرح روشن…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(11) کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو خوش دی اور خلوص کے ساتھ قرض دے پھر اللہ تعالیٰ اس قرض کے ثواب کو بڑھا دے اور دوگنا کردی اور اسی کے ساتھ اس کے لئے باعزت صلہ اور اجر بھی ہو۔ قرض حسنہ یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خوش دلی اور خلوص کے ساتھ خیرات کرے خدا کی راہ میں خیرات کرنے کو قرض فرمایا تاکہ خیرات کرنے والے کو اطمینان ہو کہ اس کی ادائیگی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اس کو یعنی اس کے ثواب کو بڑھادیں گے دنیا میں خیرات کانفع پہنچے گا اور آخرت میں بھی باعزت اجر ملے گا۔ مطلب یہ کہ کمیت میں اجر کی زیادتی ہوگی اور کیفیت میں بھی ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قرض کے معنی یہ کہ اس وقت خرچ کرو جہاد میں پھر تمہیں…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو شحص اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ دوگنے اجر کا مستحق ٹھہرتا ہے 11 ؎ گزشتہ آیت میں اللہ کی راہ میں مال اور جان کو قربان کرنے یعنی خرچ کرنے کا ذکر تھا اور زیر نظر آیت میں اس طرح اللہ کی راہ میں خرچ کیے ہوئے مال کو قرض سے تعبیر کیا گیا ہے اور فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو تم خرچ کرتے ہو اس کی حیثیت فرض کی سی ہے لہٰذا جس کو قرض دیا جاتا ہے اس پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اس کو واپس کرے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو تم خرچ کرتے ہو وہ اللہ کے ذمہ گویا قرض ہے اس لیے یقینا وہ اس کو واپس لوٹائے گا ۔ قرآن کریم کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں بھی قرآن کریم میں فی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–11

وَلِلَّـهِ مِيرَ‌اثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ (...while to Allah belongs the inheritance of the heavens and the earth?....57:10) The word mirath [ inheritance, heritage ] is the process by which the assets of a deceased person pass to the living heirs and beneficiaries. This transfer of ownership takes place automatically by virtue of the law of Shari` ah; the deceased has no choice in the matter. On this occasion, Allah has described the ownership of heaven and earth by the expression mirath [ inheritance, heritage ] presumably because all those assets deemed to be owned by men will…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

16 How Generous and Beneficent is Allah that if a man spends the wealth granted by Himself in His way, He calls it a loan Himself, provided that it is a good loan, that is, a loan which in given with a pure intention, without any selfish motive of winning reputation and renown, or of doing favour to somebody, but only for the sake of Allah's approval and to win His good-will and rewards. Allah makes two promises in this regard: (1) That He will repay it increasing it manifold; and (2) that He will also give from Himself the best reward for it. According to a Hadith reported by Hadrat…

Read the full tafseer →