Explained with ayahs 12–15
اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے نیک اعمال کے مطابق انہیں نور ملے گا جو قیامت کے دن کے ان کے ساتھ ساتھ رہے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان میں بعض کا نور پہاڑوں کے برابر ہوگا اور بعض کا کھجوروں کے درختوں کے برابر اور بعض کا کھڑے انسان کے قد کے برابر سب سے کم نور جس گنہگار مومن کا ہوگا اس کے پیر کے انگوٹھے پر نور ہوگا جو کبھی روشن ہوتا ہوگا اور کبھی بجھ جاتا ہوگا (ابن جریر) حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے بعض مومن ایسے بھی ہوں گے جن کا نور اس قدر ہوگا کہ جس قدر مدینہ سے عدن دور ہے اور ابین دور ہے اور صنعا دور ہے۔ بعض…
Read the full tafseer →سورة الْحَدِیْد 17
اس آیت اور بعد والی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ میدان حشر میں نور صرف مومنین صالحین کے لیے مخصوص ہوگا، رہے کفار و منافقین اور فساق و فجار، تو وہ وہاں بھی اسی طرح تاریکی میں بھٹک رہے ہوں گے جس طرح دنیا میں بھٹکتے رہے تھے۔ وہاں روشنی جو کچھ بھی ہوگی، صالح عقیدے اور صالح عمل کی ہوگی۔ ایمان کی صداقت اور سیرت و کردار کی پاکیزگی ہی نور میں تبدیل ہوجائے گی جس سے نیک بندوں کی شخصیت جگمگا اٹھے گی جس شخص کا عمل جتنا تابندہ ہوگا اس کے وجود کی روشنی اتنی ہی زیادہ تیز ہوگی اور جب وہ میدان حشر سے جنت کی طرف چلے گا تو اس کا نور اس کے آگے آگے دوڑ رہا ہوگا۔ اس کی بہترین تشریح قتادہ کی وہ مرسل…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(وہ دن بھی یاد کرنے کے قابل ہے) جس دن آپ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے داہنی طرف دوڑتا ہوگا (یہ نور پل صراط پر سے گزرنے کے لئے ان کے ہمراہ ہوگا اور ایک روایت میں ہے کہ بائیں طرف بھی ہوگا، کذا فی الدر المنثور، تو تخصیص داہنی طرف کی شاید اس لئے ہو کہ اس طرف نور زیادہ قوی ہو اور نکتہ اس تخصیص میں شاید یہ ہو کہ یہ علامت ہو ان کے نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیئے جانے کا اور سامنے نور ہونا تو ایسے موقع پر عادت عامہ ہے اور ان سے کہا جاوے گا کہ) آج تم کو بشارت ہے ایسے باغوں کی جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے (اور) یہ بڑی…
Read the full tafseer →(یوم تری المومنین و المومنت یعسی نور ھم بین ایدیھم و بایما نھم بشریکم الیوم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ذلک ھو الفوز العظیم) (12)
(انفاق قیامت کے دن روشنی بنے گا)۔ یہ اسی باعزت صلہ کے ایک خاص پہلو کی وضاحت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کی رہنمائی جنت کی طرف روز حشر اس طرح کرے گا کہ ان کی روشنی ان کے آگے اور دہنے چل رہی ہوگی اور وہ اس روشنی میں جنت کی طرف بڑھیں گے جب کہ دوسرے لوگ جنہوں نے یہ روشنی اپنے اندر نہیں پیدا کی ہوگی تاریکی میں گھرے ہوئے ہوں گے۔ آیات کے سیاق وسباق پر نظر ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ یہ روشنی اسی انفاق کے فیض سے حاصل ہوگی۔ جس کی یہاں دعوت…
Read the full tafseer →12-1یہ عرصہ محشر میں پل صراط میں ہوگا، یہ نور ان کے ایمان اور عمل صالح کا صلہ ہوگا، جس کی روشنی میں وہ جنت کا راستہ آسانی سے طے کرلیں گے۔ امام ابن کثیر اور امام ابن جریر وغیرہما نے وَ بِاَیْمَانِھِمْ کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ ان کے دائیں ہاتھوں میں ان کے اعمال نامے ہوں گے۔
-2 یہ وہ فرشتے کہیں گے جو ان کے استقبال اور پیشوائی کے لیے وہاں ہوں گے۔
Read the full tafseer →9: اس سے مراد غالباً وہ وقت ہے جب تمام لوگ پل صراط سے گذر رہے ہوں گے، وہاں ہر انسان کا ایمان اس کے سامنے نور بن کر اسے راستہ دکھائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
من ذالذی .................................... المصیر (51) (75 : 11 تا 51)
” کون ہے جو اللہ کو قرض دے ؟ اچھا قرض ، تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے اور اس کے لئے بہترین اجر ہے۔ اس دن جب کہ تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑرہا ہوگا۔ (ان سے کہا جائے گا کہ ) آج بشارت ہے تمہارے لیے جنتیں ہوں گی جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی ، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔ اس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں۔ مگر ان سے کہا جائے گا ” پیچھے ہٹ جاؤ ،…
Read the full tafseer →5 میدان حشر میں جس وقت پل صراط پر جائیں گے سخت اندھیرا ہوگا تب اپنے ایمان اور عمل صالح کی روشنی ساتھ ہوگی۔ شاید ایمان کی روشنی میں جس کا محل قلب ہے آگے ہو اور عمل صالح کی داہنے کیونکہ نیک عمل داہنی طرف جمع ہوتے ہیں۔ جس درجہ کا کسی کا ایمان و عمل ہوگا اسی درجہ کی روشنی ملے گی۔ اور غالباً اس امت کی روشنی اپنے نبی کے طفیل دوسری امتوں کی روشنی سے زیادہ صاف اور تیز ہوگی۔ بعض روایات سے بائیں جانب بھی روشنی کا ہونا معلوم ہوا ہے۔ اس کا مطلب شاید یہ ہوگا کہ روشنی کا اثر ہر طرف پہنچے گا۔ واللہ اعلم۔
6 کیونکہ جنت اللہ کی خوشنودی کا مقام ہے۔ جو وہاں پہنچ گیا سب مرادیں مل گئیں۔
Read the full tafseer →آیت 12{ یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَبِاَیْمَانِھِمْ } ”جس دن تم دیکھو گے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو کہ ان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے سامنے اور ان کے داہنی طرف“
بعض مفسرین کی رائے کے مطابق ”یَوْمَ“ سے پہلے ”اُذْکُرْ“ محذوف ہے۔ یعنی ذرا تصور کرو اس دن کا جس دن مومن مردوں اور مومن عورتوں پر یہ عنایت خاص ہوگی۔ ان کے سامنے ان کے ایمان کا نور ہوگاجب کہ داہنی طرف اعمالِ صالحہ کی روشنی ہوگی۔ یہ مضمون سورة التحریم میں مکرر آئے گا۔ وہاں اس پر ‘ ان شاء اللہ ‘ قدرے تفصیل سے گفتگو ہوگی۔
{ بُشْرٰٹکُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا…
Read the full tafseer →18 نور ایمانی کا انحصار ایمان کی کمی بیشی پر :۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ اس وقت پیش آئے گا جب میدان محشر میں فیصلہ کے بعد مومن مردوں اور عورتوں کو جنت کا پروانہ راہداری مل جائے گا۔ پھر یہ بھی معلوم ہے کہ جنت کو جو راستہ جاتا ہے وہ جہنم سے ہو کرجاتا ہے اور ہر جنتی کو لازماً جہنم پر وارد ہونا ہوگا۔ (19: 71) اور پل صراط سے گزرنا ہوگا اور اس راستہ میں سخت تاریکی ہوگی۔ وہاں مومنوں کے اعمال صالحہ کا نور ہی کام آئے گا۔ جس قدر کسی کا ایمان پختہ اور نیک اعمال زیادہ ہوں گے اتنا ہی اس کا نور یا روشنی بھی زیادہ ہوگی۔ بعض روایات میں ہے کہ کچھ مومنوں کی روشنی اتنی دور تک پہنچے گی جیسے مدینہ…
Read the full tafseer →16۔ یہ منظر حشر میں پل صراط پر سے گزرتے ہوئے ہر مومن کا ہوگا۔ ہر مومن کے ساتھ ساتھ اس کا نور بقدر اس کے درجہ و مرتبہ ایمان کے ہوگا۔
17۔ یہ بشارت کا پیام سنانے والے جنت کے فرشتے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
ترجمہ :۔ کون شخص ہے کہ جو اپنا مال اللہ کو قرض حسن کے طور پردے یعنی اللہ کے راستہ میں خرچ کرے ؟ اس طریقہ پر کہ (خالص) اللہ کے سوا خرچ کرے پھر اللہ تعالیٰ اس قرض کو اس شخص کے لئے بڑھاتا چلا جائے اور ایک قرأت میں فیضعفۃ تشدید کے ساتھ ہے دس گنے سے سات سو گنے تک زیادہ جیسا کہ سورة بقرہ میں مذکور ہو، اور اس کے لئے (اجر) بڑھانے کے ساتھ پسندیدگی کا اجر بھی ہے (یعنی) اس اجر کے ساتھ رضا مندی اور قبولیت ہے، اس دن کا ذکر کیجیے کہ جس دن آپ مومنین اور مومنات کو دیکھیں گے کہ ان کا اجر ان کے سامنے ہے اور نو ران کے داہنی جانب دوڑتا ہوگا اور ان سے کہا جائے گا آج تمہارے لئے ایسی جنت کی یعنی اس میں داخل ہونے…
Read the full tafseer →” جس دن آپ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو دیکھیں گے کہ انکا نور انکے آگے اور انکے دائیں طرف دوڑتا ہوگا ‘ آج تم کو بشارت ہے ایسے باغوں کی جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی جنکے اندر وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔ “
یَوْمَ تَرَی : اس کا تعلق فَیُضٰعِفَہٗ سے ہے یا اُذْکُرْ (یاد کرو) محذوف ہے اور یَوْمَ تَرٰی اُوْذُکْر کا ظرف ہے۔
یُسْعٰی نُوْرُھُمْ : یعنی توحید اور رسالت کا نور ‘ پل صراط پر بلکہ جہاں وہ ہوں گے ان کے ساتھ ہوگا اور جنت کی طرف جانے کا راستہ دکھائے گا۔
بَیْنَ اُیْدِیْھِمْ وَ بِاَیْمَانِھِمْ : آگے آگے اور دائیں طرف بعض مفسرین نے کہا : اس سے تمام جہات مراد ہیں (آگے ‘ پیچھے ‘…
Read the full tafseer →محمد قیامت کے دن جبکہ آپ سچے ایمان دار مردوں اور سچی ایمان دار عورتوں کو دیکھیں گے کہ پل صراط پر ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں اور بائیں روشن ہوگا تو ان سے فرشتے پل صراط پر کہیں گے آج تمہارے لیے خوشخبری ہے ایسے باغوں کی جن کے درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ شہد پانی اور شراب کی نہریں بہتی ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں سے نکالے جائیں گے اور نہ ان کو موت آئے گی اور حقیقت میں یہ بڑی کامیابی ہے کہ جنت اور اس کی نعمتیں حاصل کیں اور دوزخ اور اس کی مصیبتوں سے محفوظ رہے۔
Read the full tafseer →یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ۔۔۔۔۔: یعنی قیامت ے دن جب سورج لپیٹ دیا جائے گا (دیکھئے تکویر : 1) اور چاند بےنور ہوجائے گا (دیکھئے قیامہ : 8) اور ستارے بکھر کر گرجائیں گے (دیکھئے انفطار : 2) تو اس وقت سب لوگ سخت اندھیرے میں ہوں گے جہنم کے اوپر صراط (پل) رکھا جائے گا جس پر سے ہر ایک کو گزرنا ہوگا ، جیسا کہ فرمایا :(وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُہَاج کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا) (مریم : 71)”اور تم میں سے جو بھی ہے اس وارد ہونے والا ہے ، یہ ہمیشہ سے تیرے رب کے ذمے قطعی بات ہے ، جس کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔“ وہاں روشنی صرف ایمان اور عمل صالح کی ہوگی ، جتنا ایمان کامل ہوگا…
Read the full tafseer →یوم تری الممونین و المومنت یوم میں عامل ولہ اجر کریم۔ ہے کلام میں حذف ہے تقدیر کلام یہ ہے ولہ اجر کریم فی یوم تری فیہ الممونین و المومنات یسعی نورھم یعنی وہ پل صراط پر سے گزریں گے۔ بین ایدیھم یعنی ان کے سامنے وبایمانھم فراء نے کہا : سافی کے معنی میں ہے یا یہ عن کے معنی میں ہے۔ ضحاک نے کہا : نور ھم سے مراد ان کی ہدیات ہے وبایمانھم سے مراد ان کی کتب ہیں، طبری نے اسے پسند کیا ہے، یعنی ان کا ایمان اور عمل صالح ان کے سامنے ہوگا اوروں کے ہاتھوں میں ان کے اعمال کی کتابیں ہوں گی (1) اس تعبیر کی بنا پر ھذا فی کے معنی میں ہے۔ اس تعبیر کی بنا پر وقف نہ کیا جائے۔ سہل بن سعد ساعدی اور ابو حیوہ نے بایمانھم…
Read the full tafseer →1۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت یسعی نورہم بین ایدیہم۔ ان کا نور ان کے آگے دوڑتا ہوا ہوگا۔ یعنی پل صراط یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے۔
2۔ عبد بن حمید نے ابن مسعود ؓ نے آیت یسعی نورہم بہن ایدیہم۔ کے بارے میں روایت کیا کہ پل صراط پر ان کا نور ان کے آگے دوڑتا ہوا ہوگا۔
3۔ ابن المنذر نے یزید بن شجرہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس تمہارے نام، تمہاری شکل و صورت، تمہارا رنگ وروپ، تمہاری سرگوشی اور تمہاری مجلسیں سب کچھ لکھی ہوئی ہیں۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو کہا جائے گا اے فلاں بن فلاں آجاؤ اپنے نور کی طرف اور اے فلاں بن فلاں تیرے لیے کوئی نور نہیں۔
4۔…
Read the full tafseer →[يَوْمَ تَرَى: جس دن آپ دیکھیں گے ][ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ : مومن مردں اور مومن عورتوں کو ][ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ : دوڑتا ہوگا ان کا نور ][ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ : ان کے آگے ][ وَبِاَيْمَانِهِمْ : اور ان کے دائیں طرف ][ بُشْرٰىكُمُ الْيَوْمَ : تمہاری بشارت ہے آج کے دن ][ جَنّٰتٌ: ایسے باغات ][ تَجْرِيْ : بہتی ہیں ][ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ : جن کے دامن میں نہریں ][ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ: ہمیشہ رہنے والے اس میں ][ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ : یہ ہی شاندار کامیابی ہے ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 12 ۔ اور بعد والی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ میدان حشر میں نور صرف مومنین صالحین کو ملے گا وہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
قیامت کے دن مومنین مومنات کو نور دیا جائے گا منافقین کچھ دور ان کے ساتھ چل کر اندھیرے میں رہ جائیں گے
ان آیات میں مومنین و مومنات اور منافقین و منافقات کی حالت بتائی ہے جس کا قیامت کے دن ظہو ہوگا اہل ایمان کے بارے میں فرمایا کہ اے مخاطب تم قیامت کے دن مومنین و مومنات کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے داہنی طرف دوڑ رہا ہوگا ان سے کہا جائے گا کہ آج تمہارے لیے ان جنتوں کی بشارت ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان میں تم ہمیشہ رہو گے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُۚ0012﴾ (یہ بڑی کامیابی ہے) ۔
قیامت کے دن حاضر تو سبھی ہوں گے، مومن بھی منافق بھی کھلے ہوئے کافر بھی اور وہ لوگ بھی جو دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
احوال آخرت ومیدان حشر مع ذکر انعام واکرام، مومنین وذلت وناکامی منکرین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم تری ال مومنین وال مومنت ..... الی ...... وبئس المصیر “۔
(ربط) ابتداء سورت سے حق تعالیٰ شانہ کی عظمت و پاکی بیان کی گئی اور یہ کہ ساری کائنات اس کی ربوبیت والوہیت کا اقرار کرتی ہے اور وہی اول وآخر ہے اور وہی ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم اور ہر شیء پر قادر ہے تو اس کے بعد یہ بیان فرمایا جارہا ہے اس ذات رب العزت پر ایمان لانے والوں کا آخرت میں کیسا اعزاز ہوگا اور کیسے عظیم انعامات سے نوازے جائیں گے اور اسکے برعکس جو لوگ ایمان سے محروم رہے ان کی بدنصیبی اور بدحالی کا کیسا عالم ہوگا ارشاد…
Read the full tafseer →13:۔ ” یوم تری “ ظرف، لہ اجر کریم کے متعلق مقدر سے متعلق ہے اور یہ مومنوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے جو اللہ کی راہ میں دل کھول کر مال خرچ کرتے ہیں۔ قیامت کے دن جب مومنین پل صراط پر سے گذریں گے اس وقت ان کے آگے اور ان کی دائیں جانب روشنی ہوگی جس میں وہ پل صراط پر سے صحیح سلامت گذر جائیں گے یہ روشنی ایمان اور اعمال صالحہ نماز، روزہ، حج، زکوۃ، انفاق فی سبیل اللہ وغیرہ کی ہوگی۔ اس لیے اعمال صالحہ کے مطابق ان کی روشنی کم و بیش ہوگی۔ عن ابن مسعود یوتون نورہم علی قدر اعمالہم (قرطبی ج 17 ص 244) ۔ ” بشراکم الیوم “ اس سے پہلے ” یقال لہم “ مقدر ہے۔ جنت کے دروازوں پر فرشتے ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے مال خرچ کرنے کا ذکر فرمایا اور واضح کیا کہ جو لوگ بوقت ضرورت خرچ کرتے ہیں ان کے لئے زیادہ اجر ہوتا ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ فتح مکہ سے پہلے ایمان لانے والے بعد میں اسلام قبول کرنے والوں سے بدرجہا افضل ہیں ۔ تمہارے اموال کا حقیقی مالک اور متصرف تو اللہ تعالیٰ ہے ، تاہم اس نے اپنی مہربانی سے تمہیں اس سے پہلے لوگوں کا نائب بنایا ہے اور خرچ کرنے کا حکم دیا ہے لہٰذا تمہیں اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے بلکہ اللہ کے عطا کردہ مال کو بڑھ چڑھ کر خرچ کرنا چاہیے۔ یہ مال اللہ کی طرف سے تمہارے پاس بطور امانت ہے جس کے لوٹانے میں تمہیں ہچکچاہٹ…
Read the full tafseer →يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُہُمْ بَيْنَ اَيْدِيْہِمْ وَبِاَيْمَانِہِمْ بُشْرٰىكُمُ الْيَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْہَا 0 ۭ ذٰلِكَ ہُوَالْفَوْزُ الْعَظِيْمُ 12 ۚ
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ترکیب : یوم الظرف یضاعف وقیل العامل یسعٰی وقیل التقدیر جرون یوم ترای یسعی نورھم حال بین ایدیہم ظرف یسعٰی اوحال من النور بشراکم مبتداء جنات الخ۔ خبرہ اے دخول جنات والجملۃ حال ای یقال لھم ذلک یوم یقول بدل من یوم الاول وقیل التقدیرا ذکر باطنہ الجملۃ صقۃ لباب اولسور و ینا دونہم حال من الضمیر فی بینہم۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں جہاد کرنے والوں، ایمانداروں، اللہ کو قرض دینے والوں کے لیے دو چند ملنے اور اجر عظیم کا وعدہ ہوا تھا اس لیے اس ایفائِ وعدہ کا وقت بیان فرماتا ہے۔ فقال یوم تری المؤمنین والمؤمنات الخ۔ کہ یہ اس دن ہوگا کہ جس روز ایماندار مردوں اور عورتوں کے آگے ان کا نور دوڑتا ہوا چلے گا اور ان…
Read the full tafseer →یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَبِاَیْمَانِہِمْ بُشْرٰ کُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰـرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط ذٰلِکَ ھُوَالْفَوْزُالْعَظِیْمُ ۔ (الحدید : 12)
(اس دن کو یاد رکھو جس دن تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا، (ان سے کہا جائے گا کہ) آج بشارت ہے تمہارے لیے باغوں کی جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہی ہے وہ بڑی کامیابی۔ )
اجرِکریم کا ایک پہلو
گزشتہ آیت میں جس اجرِکریم کا ذکر فرمایا گیا یہ اسی کے ایک خاص پہلو کی وضاحت ہے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے، انفاق فی سبیل اللہ کرنے اور قتال فی سبیل اللہ میں شامل ہونے والوں کے لیے روشن مستقبل کی نوید۔
قیامت کے دن جب جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے گا تو اللہ تعالیٰ جنتیوں کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت عطا فرمائیں گے۔ جب مومن اور مومنات جنت میں جانے لگیں گے تو اس سے پہلے ایک ایسامرحلہ آئے گا جس وقت کوئی چیز دکھائی اور سجھائی نہیں دے گی۔ جنتی جونہی جنت کی طرف رواں دواں ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اور دائیں طرف ہر چیز روشن فرمادیں گے ہر جنتی اپنے اعمال کے مطابق جنت کے راستہ کو منور پائے گا، جونہی جنتی جنت کے دروازوں کے قریب…
Read the full tafseer →12 : یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ (جس دن آپ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو دیکھیں گے) نمبر 1۔ یوم یہ ولہ اجر کریم کا ظرف ہے نمبر 2۔ اذکر مضمر کا ظرف ہے اس دن کی عظمت کو ظاہر کرنے کیلئے فعل محذوف ہے۔ یَسْعٰی نُوْرُھُمْ (اس دن ان کا نور چلے گا یہ نور توحید صبر و طاعات کا ہوگا)
دو طرفوں کا ذکر :
بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَبِاَیْمَانِھِمْ (ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں طرف دوڑتا ہوگا) یہاں سامنے اور دائیں جانب کا ذکر کیا کیونکہ سعادت مندوں کو صحائف اعمال انہی دو طرفوں سے دیئے جائیں گے۔ جیسا کہ بدبختوں کو ان کے صحائف بائیں طرف اور پیٹھ پیچھے سے دئیے جائیں گے۔ اس دن اللہ…
Read the full tafseer →11 ۔” من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضاعفہ لہ ولہ اجرکریم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
12۔ 15۔ معتبر سند 3 ؎ سے طبرانی اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا پل صراط پر گزرنے کے وقت اندھیرا ہوگا اس لئے ہر ایماندار مرد اور ورت کو ان کے عملوں کے موافق میدان محشر نور دے کر پل صراط پر گزرنے کا حکم ہوگا اور فرشتے ان کو پل صراط سے گزرتے ہی جنت میں داخل ہونے خوش خبری دیں گے۔ غرض اسی نور کا ذکر ان آیتوں میں ہے اور یہ حدیث اس کی تفسیر ہے۔ منافقوں کے دل میں نور ایمان نہیں ہے۔ اسی واسطے ان کو یا تو سرے سے نور نہ دیا جائے گا یا دیا جائے گا تو ایسا کہ جلدی سے بجھ جائے گا اس لئے کچھ دور تک تو یہ منافق لوگ ایماندار لوگوں کے نور کی جھلک میں…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ایمان کی فضیلت اور قیامت کے روز اہل ایمان کی فرحت و مسرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ ) اس دن آپ ایمان والوں اور ایمان والیوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں دوڑتا ہوگا۔ یعنی جب قیامت کا دن ہوگا سورج کو لپیٹ دیا جائے گا، چاند کو بےنور کردیا جائے گا تمام لوگ اندھیرے میں ہوں گے اور جہنم کے اوپر پل صراط نصیب کردیا جائے گا، تب تو مومنین اور مومنات کو دیکھے گا کہ ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کے دائیں چل رہی ہوگی اور وہ اس نہایت مشکل اور ہولناک مقام پر اپنے ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
جو لوگ ابتدائی مشکلات میں کام آئیں وہ بعد میں آنے والوں سے بلند مرتبہ ہوتے ہیں
قول باری ہے (لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل۔ تم میں سے جو لوگ فتح (مکہ) سے قبل ہی خرچ کرچکے اور لڑ چکے (وہ ان کے برابر نہیں جو بعد فتح مکہ لڑے اور خرچ کیا) ) تاآخر آیت
شعبی سے مروی ہے کہ دونوں ہجرتوں کے درمیان فتح حدیبیہ کا فاصلہ تھا اور اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ صحابہ نے عرض کیا تھا کہ آیا صلح حدیبیہ بھی کوئی فتح تھی، آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا تھا : ” بیشک یہ فتح عظیم تھی۔ “ سعید نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ سے پہلے کے انفاق کی، بعد…
Read the full tafseer →[ 44] قیامت کے روز نور ایمان کی شان کا ذکر وبیان :
سو اس سے قیامت کے دن اہل ایمان کے نور ایمان کیفیت اور اس کی شان کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے جو آج دنیا کے اس دار الامتحان میں نظر نہیں آتا۔ لیکن کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہان میں وہ سامنے آجائے گا اور اپنی پوری آن بان اور شان و شوکت کے ساتھ سب کے سامنے آجائے گا، اور اہل ایمان کی امتیازی شان کو بڑھاتا اور ان کے لئے راہ جنت کو منور و روشن کرتا جائے گا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز ایماندار مرودوں اور ایماندار عورتوں کا انور ان کے آگے اور ان کے داہنے دوڑ رہا ہوگا۔ جو کہ اصل میں نور ہوگا ان کے اس ایمان صادق اور عمل صالح کا جس سے وہ دنیاوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
اللہ کا حکم اور اس کی رحمتیں
تشریح : ان آیات میں چند خاص احکامات اور عمل کرنے والوں کے لیے انعامات کا ذکر بڑے آسان الفاظ میں کرد یا گیا ہے یہ سب کچھ بھی بیان کیا جا چکا ہے بس یاد دہانی کے لیے بار بار دہرایا جا رہا ہے۔
پہلا حکم :۔ اللہ و رسول پر خلوص اور نیک نیتی سے ایمان لے آؤ۔
دوسرا حکم : اللہ نے انسان کو اپنا نائب کہا ہے لہٰذا بےدریغ خوشی خوشی زکوٰۃ خیرات، ضرورت مندوں کے لئے اور جہاد کے لیے خرچ کرو۔ یہ مال اللہ کا ہی دیا ہوا ہے۔
تیسرا : رسول کے پکارنے پر اور تعلیمات پر دھیان دو کیونکہ یہ تعلیمات بیشک روشنی کا مقام رکھتی ہیں۔
چوتھا : بےمقصد صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خرچ کرو۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
آیات 11 تا 19
اسرار ومعارف۔
نیزا للہ کی راہ میں جان مال یا کوشش و محنت جو بھی خرچ کیا جاتا ہے وہ ضائع نہیں ہوتا بلکہ ایک قرض ہے یعنی ایسی دولت جس کی واپسی یقینی ہے اور وہ بھی اللہ کریم کے پاس توکیاہی خوب قرض ہے کہ اللہ کریم اسے کئی گنا بڑھادیتے ہیں اور زیادہ کرکے لوٹاتے ہیں نیز عنداللہ اس کی عزت و عظمت یہ الگ انعام ہے اور یہی مجاہدہ ایک دن مومن مردوں اور خواتین کے آگے اور دائیں بائیں نور کی صورت چلے گا کہ حساب کتاب کے بعد سخت اندھیرا چھاجائے گا اور کفار کو جہنم میں دھکیل دیاجائے گا جبکہ مومنین میں نورتقسیم ہوگا اور ہر ایک مرد وزن کو بقدر اس کے اعمال اور خلوص ملے گا جس کی روشنی میں وہ جہنم پر…
Read the full tafseer →ف 5 ” اور اسی کی رہنمائی میں چل کر وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ “ حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ یہ نور پر شخص کے ایمان اور عمل صالح کے مطابق ہوگا جس کا ایمان جس قدر پختہ اور عمل جس قدر زیادہ ہوگا اسی قدر اس کا نور زیادہ ہوگا۔ قتادہ سے مرسلام وہی ہے کہ بعض مومن ایسے ہوں گے جن کا نور مدینہ سے صنعا تک پھیلا ہوگا۔ ضحاک اور قتادہ کہتے ہیں کہ نور آگے ہوگا اور ان کے داہنے ہاتھ میں ان کے اعمال نامے ہونگے ابن کثیر یہ مطلب اس صورت میں ہے جب و بایمانھم کو بین ایدھم سے الگ جملہ قرار دیا جائے۔
Read the full tafseer →(57:12) یوم : فعل محذوف کا مفعول ہے ای اذکر یوم۔ یاد کر اس دن کو جب ۔۔
یسعی : مضارع واحد مذکر غائب۔ سعی (باب فتح) مصدر۔ دوڑتا ہوا۔ یا تیزی سے چل رہا ہوگا۔
بین ایدیہم : بین مضاف ہے اور اس کی اضافت ایدی کی طرف ہے۔ ایدی مضاف الیہ مضاف ہے۔ ہم مضاف الیہ۔ ان کے ہاتھ، بین ایدیہم ان کے سامنے ان کے قریب۔
ایمانھم : مضاف مضاف الیہ۔ ایمان جمع ہے یمین کی۔ دایاں ہاتھ ایمان مجازا بمعنی قسمیں بھی ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :۔ واقسموا باللہ جھد ایمانھم (6:109) اور یہ لوگ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں۔ کسی معاہدہ میں معاہدہ کو پکا کرنے کے لئے فریقین قسم کھا کر ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہیں اسی فعل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
لغات القرآن : یقرض۔ قرض دیتا ہے۔ یضعف۔ وہ دوگنا کرتا ہے۔ اضافہ کرتا ہے۔ یسعی۔ دوڑتا ہے۔ انظرونا۔ ہمیں دیکھو۔ ہمارا انتظار کرو۔ نقتبس۔ ہم کچھ حصہ لیں۔ ارجعوا۔ تم لوٹ جائو۔ التمسوا۔ تلاش کرو۔ سور۔ دیوار۔ آر۔ تربصتم۔ تم نے انتظار کیا۔ ارتبتھم۔ تم نے شک کیا۔ غرت۔ دھوکے میں ڈال دیا۔ الامانی۔ تمنائیں۔ مولی۔ مالک۔ خادم۔
تشریح : اللہ جو زمین و آسمان کے تمام خزانوں کا مالک ہے وہ اپنے فرماں بردار بندوں کو ان کی کوششوں، جدوجہد اور محنت سے بھی زیادہ عطا کرتا ہے۔ آدم کے پاس جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے وہی مالک ہے لیکن اس کی شان کریمی کے قربان کہ وہ اس کی رضا و خوشنوی کے لئے خرچ کئے گئے مال کو اپنے اوپر قرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
اہل جنت اور دوزخ کا ذکر۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ قیامت کے روز مسلمانوں کا حال دیکھنا وہ مرد اور عورتیں جو سچے دل سے تصدیق کرتے ہیں کہ ان کا نور ایمان و اعمال صالحہ ان کے سامنے اور سیدھی الٹی طرف جلوے دکھاتا ہوادوڑتا ہوا چلتا ہوگا یعنی جب پل صراط سے گزریں گے تو نور کی مشعلیں روشنی کی دکھائیں گی فرشتے چار طرف سے دل بڑھاتے ہوں گے خوش خبریاں مبارک بادیاں دیتے ہون گے کہ لواب چل کر جنتوں میں داخل ہو، وہ جنتیں جن کے مکانوں اور درختوں کے نیچے شراب وشہد کی نہریں رواں دواں ہوں گی اور وہاں ہمیشہ رہیں گے نہ مریں گے نہ نکلیں گے یہ نہایت اعلی درجہ کی کامیابی ہے ، کہ جنت دوزخ سے بچے ۔ اس کے بعد منافقوں کا حال بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
[19] شاید ایمان کی روشنی جس کا محل قلب ہے آگے ہو اور عمل صالح کی روشنی دائیں جانب کیونکہ نیک عمل دائیں طرف جمع ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ف 2: اللہ کا قرض دینے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ یہ بھی ایک نوع کی تجارت ہے ۔ فرق یہ ہے ۔ اس میں راس المال نقد ہے ۔ اور جو کچھ ملنے والا ہے ۔ وہ سراسر متوقع یعنی موت کے بعد آخرت ہیں ۔ اس سودے میں وہی لوگ شریک ہوتے ہیں ۔ جن میں جرات ایمانی ہے ۔ اور واقعہ یہ ہے کہ اگر سب کچھ دے کر بھی اس کا قرب حاصل ہوجائے ۔ تو یہ تجارت کسی عنوان بری نہیں ۔
حل لغات :۔ تزرھم ۔ روشنی یعنی وہ لوگ جو یہاں معارف ایمانی سے بہرہ ور تھے ۔ وہ اس دنیا میں نور کے سایہ میں پھلیں گے ۔ اور تقدم و حضور کی ہر راہ ان کے لئے روشن ہوگی ۔ وہ عقبیٰ کی تمام مشکلات پر آسانی کے ساتھ قابو حاصل کرلیں گے ۔ اور وہاں کے حقائق ان پر پوری طرح روشن…
Read the full tafseer →(12) وہ دن قابل ذکر ہے جس دن آپ ایماندار مردوں اور ایمان دار عورتوں کو اس حال میں دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں جانب تیز رفتار سے چلتا ہوگا اور دوڑتا ہوگا کہا جائیگا کہ آج تم کو ایسے باغوں کی خوشخبری ہو جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ نور اور بشارت ہی تو بڑی کامیابی ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جس وقت پل صراط پر چلیں گے سخت اندھیرا ہوگا اپنے ایمان کی روشنی آگے ہوگی اور داہنے کو نیک عمل داہنی طرف جمع ہوتے ہیں۔
خلاصہ : یہ ہے کہ پل صراط پر گزرنے ہی میں نیکوں کو بشارتیں ملنے لگیں گی۔
Read the full tafseer →ف 2۔ یہ نور پل صراط پر سے گزرنے کے لئے ان کے ہمراہ ہوگا۔
Read the full tafseer →وہ دن کہ ایمان والے مردوں اور عورتوں کو خوش خبریاں پیش کی جائیں گی
12 ؎ ( یوم) یوم کا لفظ بلا شبہ نکرہ ہے لیکن اس جگہ سے اس ایک خاص دن مراد ہے کوئی ایک دن مراد نہیں ۔ اہل زبان اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ آگے آنے والے مضمون نے خود بخود اس کو معرفہ بنا دیا ہے اور یہ ( یوم) الیوم ہوگیا ہے کیونکہ یہ خاص اسی دن کا ذکر ہے جس دن مومن مرد اور مومن عورتوں کے آگے آگے اور دائیں طرف روشنی ہی روشنی پھیلی ہوگی اور ظاہر ہے کہ اس سے مراد قیامت ہی کا دن ہے جس کو حشر کا دن بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بات ہم نے اس لیے عرض کی ہے کہ ( لم یمسنی بشر) کی بحث میں ہمارے مفسرین بہت زور دے کر لکھتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →The Believers will be awarded Light on the Day of Resurrection
يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ يَسْعَىٰ نُورُهُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِم (On the Day when you will see the believing men and the believing women, their light proceeding in front of them and to their right hands,....57:12) 'The day' refers to the 'Day of Resurrection'. The fact of 'light running before them' will take place just prior to people's passing over the bridge of sirat. The details are given in a Tradition reported by Sayyidna Abu Umamah Bahili ؓ Ibn Kathir has cited it on the authority of Ibn…
Read the full tafseer →17 This and the following verses show that the Light on the Day of Judgement will be specifically meant for the righteous believers only. As for the disbelievers and the hypocrites and the wicked people, they will be wandering about in the darkness as they had been in the world. The light there will be the light of righteous deeds. The sincerity of the faith and the piety of the character and conduct will turn into light that will lend brightness to the personality of the virtuous. The brighter the deed the more luminous will be his person, and when he will walk towards Paradise, his light…
Read the full tafseer →