Explained with ayahs 12–15
اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے نیک اعمال کے مطابق انہیں نور ملے گا جو قیامت کے دن کے ان کے ساتھ ساتھ رہے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان میں بعض کا نور پہاڑوں کے برابر ہوگا اور بعض کا کھجوروں کے درختوں کے برابر اور بعض کا کھڑے انسان کے قد کے برابر سب سے کم نور جس گنہگار مومن کا ہوگا اس کے پیر کے انگوٹھے پر نور ہوگا جو کبھی روشن ہوتا ہوگا اور کبھی بجھ جاتا ہوگا (ابن جریر) حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے بعض مومن ایسے بھی ہوں گے جن کا نور اس قدر ہوگا کہ جس قدر مدینہ سے عدن دور ہے اور ابین دور ہے اور صنعا دور ہے۔ بعض…
Read the full tafseer →سورة الْحَدِیْد 18
مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان جب جنت کی طرف جا رہے ہونگے تو روشنی ان کے آگے ہوگی اور پیچھے منافقین اندھیرے میں ٹھوکریں کھا رہے ہونگے۔ اس وقت وہ ان اہل ایمان کو جو دنیا میں ان کے ساتھ ایک ہی مسلم معاشرے میں رہتے تھے، پکار پکار کر کہیں گے کہ ذرا ہماری طرف پلٹ کر دیکھو تاکہ ہمیں بھی کچھ روشنی مل جائے۔
سورة الْحَدِیْد 19
اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل جنت اس دروازے سے جنت میں داخل ہوجائیں گے اور دروازہ بند کردیا جائیگا۔ دروازے کے ایک طرف جنت کی نعمتیں ہونگی، اور دوسری طرف دوزخ کا عذاب۔ منافقین کے لیے اس حد فاصل کو پار کرنا ممکن نہ ہوگا جو ان کے اور جنت کے درمیان حائل ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
(آیت) يَوْمَ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ ، یعنی اس روز جب منافق مرد اور منافق عورتیں مومنین سے کہیں گے کہ ذرا ہمارا انتظار کرو ہم بھی تمہارے نور سے فائدہ اٹھا لیں۔
(آیت) قِيْلَ ارْجِعُوْا وَرَاۗءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا، ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے لوٹو جہاں یہ نور تقسیم ہوا تھا وہیں نور تلاش کرو، یہ بات یا تو مومنین ان کے جواب میں کہیں گے یا فرشتے جواب دیں گے (کماروی عن ابن عباس وقتادة قولین)
(آیت) فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ ۭ بَاطِنُهٗ فِيْهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَاب یعنی…
Read the full tafseer →(یوم یقول المنفقون والمنفقت للذین امنوا انظرونا نقتبس من نور کم قیل ارجعوا وراء کم فالتمسوا نورا فضرب بینھم بسورلہ باب باطنہ فیہ الرحمۃ وظاھرہ من قبلہ العذاب) (13)
(منافقین کی نور سے محرومی)۔ اس دن منافقین کا حال یہ ہوگا کہ وہ اندھیرے میں بھٹک رہے ہوں گے۔ انہوں نے اللہ کی راہ میں انفالق کر کے وہ روشنی اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی جو آخرت میں ان کے کام آتی۔ وہ جب دیکھیں گے کہ ایک گروہ ان لوگوں کا، جن کے اندر وہ دنیا میں رہے بسے، اپنے ساتھ ایسی روشنی رکھتا ہے جو اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ان کی رہنمائی کر رہی ہے تو وہ نہایت حسرت کے ساتھ ان سے درخواست کریں گے کہ ذرا ہمیں بھی قریب پہنچ لینے…
Read the full tafseer →13-1یہ منافقین کچھ فاصلے تک اہل ایمان کے ساتھ ان کی روشنی میں چلیں گے، پھر اللہ تعالیٰ منافقین پر اندھیر مسلط فرما دے گا، اس وقت وہ اہل ایمان سے یہ کہیں گے۔
13-2اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جاکر اسی طرح ایمان اور عمل صالح کی پونجی لے کر آؤ، جس طرح ہم لائے ہیں یا مذاق کے طور پر اہل ایمان کہیں گے کہ پیچھے جہاں سے ہم نور لائے تھے وہی جا کر تلاش کرو۔
13-3یعنی مومنین اور منافقین کے درمیان۔
-4 اس سے مراد جنت ہے جس میں اہل ایمان داخل ہوچکے ہوں گے۔
-5 یعنی وہ حصہ ہے جس میں جہنم ہوگی۔
Read the full tafseer →10: منافق لوگ چونکہ دنیا میں اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے، اس لیے شروع میں وہ آخرت میں بھی مسلمانوں کے ساتھ لگ جائیں گے، لیکن جب حقیقی مسلمان تیزی سے آگے نکل جائیں گے تو ان کے ساتھ وہ نور بھی آگے بڑھ جائے گا، اور منافق لوگ اندھیرے میں پیچھے رہ جائیں گے، اس وقت وہ اپنے ظاہری طور پر مسلمان ہونے کا حوالہ دے کر آگے جانے والے مسلمانوں کو آواز دیں گے کہ ذرا ہمارا انتظار کرلو، تاکہ تمہارے نور سے ہم بھی فائدہ اٹھاسکیں۔
11: یعنی یہ فیصلہ پیچھے ہورہا ہے کہ کسی کو نور ملے، کس کو نہ ملے، اس لیے پیچھے جا کر نور حاصل کرنے کی درخواست کرو۔
Read the full tafseer →یوم یقول ............ نور کم (75 : 31) ” اس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں۔ “ مومنین اور مومنات کا گروہ جدھر بھی دیکھتا ہے ادھر نورہی نور ہے۔ جو لطیف و شفاف ہے ، لیکن اس نور سے منافق مرد اور منافق عورتوں کا گروہ کس طرح استفادہ کرسکتا ہے ، انہوں نے تو پوری زندگی جہالت کی تاریکی میں بسر کی ہے۔ ایک نامعلوم آواز اس موقعہ پر پکارتی ہے۔
قیل ارجعوا ................ نورا (75 : 31) ” مگر ان سے کہا جائے گا ” پیچھے ہٹ جاؤ ، ایک نور کہیں اور تلاش کرو۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آواز ان تذلیل اور ان کے ساتھ مزاح کے…
Read the full tafseer →7 یعنی مومنین اور منافقین کے بیچ میں دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں دروازہ ہوگا۔ اس دروازے سے مومن جنت کی طرف جا کر منافقوں کی نظر سے اوجھل ہوجائیں گے۔ دروازہ کے اندر پہنچ کر جنت کا سماں ہوگا اور ادھر دروازہ سے باہر عذاب الٰہی کا منظر دکھائی دے گا
Read the full tafseer →آیت 13{ یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِکُمْ } ”جس دن کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہ ذرا ہمارا انتظار کرو کہ ہم بھی تمہاری روشنی سے فائدہ اٹھالیں۔“
اس صورت حال کو یوں سمجھیں جیسے کچھ مسافر ایک خطرناک جنگل کے اندر تنگ پگڈنڈی پر گھپ اندھیرے میں سفر کر رہے ہوں۔ ان میں سے جن لوگوں کے پاس ٹارچ ہے وہ تو تیز تیز قدموں کے ساتھ پگڈنڈی پر رواں دواں ہیں ‘ لیکن جن کے پاس ٹارچ نہیں ہے ‘ وہ ان کی منتیں کر رہے ہیں کہ خدا را ذرا رکو ‘ ذرا ٹھہرو ‘ ہم پر عنایت کرو ‘ ہمیں بھی ساتھ لے لو۔ نَقْتَبِسْ کا مادہ قبس ہے ‘ جس…
Read the full tafseer →20 میدان محشر میں منافقوں کی مسلمانوں کے ساتھ رہنے اور ساتھ جانے کی التجا اور سوال و جواب :۔ منافق بھی چونکہ دنیا میں ایماندار لوگوں کے ساتھ ملے جلے رہتے تھے۔ وہاں بھی وہ یہ کوشش کرینگے کہ وہ بھی ایمانداروں کے ساتھ رہیں اور اس دن انہیں ایمان اور اعمال صالحہ کا فائدہ خوب معلوم ہوچکا ہوگا۔ لیکن ان کا اپنا نور تو کچھ ہوگا نہیں۔ اس لیے وہ مومنوں سے درخواست کریں گے کہ ذرا ہمارا بھی انتظار کرلو تاکہ تمہاری روشنی سے فائدہ اٹھا کر ہم بھی کچھ آگے بڑھ سکیں اور تمہارے ساتھ چل سکیں۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ذرا مڑ کر ہماری طرف دیکھو کہ تمہارے ہمارے طرف دیکھنے سے تمہاری روشنی ہمارا راستہ…
Read the full tafseer →18۔ یہ اس وقت ہوگا جب اہل ایمان اپنے اعتقاد و اعمال کی برکت سے بہت آگے بڑھ جائیں گے اور منافقین یعنی اپنے کو مسلمان ظاہر کرنے والے لیکن درحقیقت کافر ومنکر پیچھے بالکل اندھیرے میں رہ جائیں گے۔ یہ منافقین یا تو نور سے شروع ہی سے محروم ہوں گے اور یا ان کے پاس شروع میں کسی قدر نور ہو (اس مناسبت سے کہ مسلمانوں کے ساتھ ظاہری اعمال میں انہیں اشتراک حاصل تھا) اور فقدان ایمان وتصدیق کی بناء پر بعد کو بالکل مفقود ہوجائے اور ان کے جرم نفاق یاخداع ایمانی کی مناسبت سے لگتی ہوئی بات تو یہی معلوم ہوتی ہے کہ پہلے انہیں نور مل جائے، اور پھر بلاشان و گمان یک بیک انہیں اس سے محروم کردیا جائے۔
19۔ مقصود کہنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
ترجمہ :۔ کون شخص ہے کہ جو اپنا مال اللہ کو قرض حسن کے طور پردے یعنی اللہ کے راستہ میں خرچ کرے ؟ اس طریقہ پر کہ (خالص) اللہ کے سوا خرچ کرے پھر اللہ تعالیٰ اس قرض کو اس شخص کے لئے بڑھاتا چلا جائے اور ایک قرأت میں فیضعفۃ تشدید کے ساتھ ہے دس گنے سے سات سو گنے تک زیادہ جیسا کہ سورة بقرہ میں مذکور ہو، اور اس کے لئے (اجر) بڑھانے کے ساتھ پسندیدگی کا اجر بھی ہے (یعنی) اس اجر کے ساتھ رضا مندی اور قبولیت ہے، اس دن کا ذکر کیجیے کہ جس دن آپ مومنین اور مومنات کو دیکھیں گے کہ ان کا اجر ان کے سامنے ہے اور نو ران کے داہنی جانب دوڑتا ہوگا اور ان سے کہا جائے گا آج تمہارے لئے ایسی جنت کی یعنی اس میں داخل ہونے…
Read the full tafseer →جس روز کہ منافق مرد اور منافق عورتیں مسلمانوں سے کہیں گے کہ ذرا ہمارا انتظار کرو
کہ ہم روشنی حاصل کرلیں جواب دیا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ پھر وہاں سے روشنی تلاش کرو۔ “
اَنْظُرُوْنَا : نظر ‘ کا معنی ہے انتظار۔ نظرہ اور انتظرہ اور تنظرہ دیر کردی۔ نظرۃٌ بروزن خرجۃ تاخیر۔ اللہ نے فرمایا ہے : ” فَنَظَرِۃٌ اِلٰی مَیْسَرَۃ “ پس فراخ دستی تک (مطالبہ میں) تاخیر (لازم) ہے۔
نَقْتَبِسْ : یعنی ہم تم سے کچھ روشنی حاصل کرلیں ‘ تمہارے نور میں ہم بھی چلیں۔ قیامت کے دن کافروں اور منافقوں کے لیے تاریکی ہی تاریکی ہوگی ‘ روشنی بالکل نہ ہوگی۔ جس طرح دنیا میں ان کے لیے نور ایمان نہیں تھا۔ آیت : وَمُنْ لَّمْ…
Read the full tafseer →اور قیامت کے دن جبکہ آپ منافق عورتوں کو دیکھیں گے جبکہ ان کا نور پل صراط پر بجھ جائے گا تو وہ پل صراط پر مخلص ایمان داروں سے کہیں گے کہ اے گروہ مومنین ذرا ٹھہرو اور ہمارا انتظار کرلو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کرلیں اور تمہارے ساتھ پل صراط پر سے گزر جائیں۔
تو ان سے مومنین یا یہ کہ فرشتے یا اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم اپنے پیچھے دنیا کی طرف لوٹ جاؤ یا یہ کہ اس مقام کی طرف لوٹ جاؤ جہاں ہم نے پل صراط پر چڑھنے کے لیے نور تقسیم کیا تھا اور پھر وہاں سے روشنی تلاش کرو یہ بطور مذاق اڑانے کے اللہ تعالیٰ کی جانب سے مسلمانوں کی طرف سے ان سے کہا جائے گا۔
چناچہ وہ روشنی کی تلاش میں ادھر ادھر…
Read the full tafseer →1۔ یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰـفِقُوْنَ وَالْمُنٰـفِقٰـتُ۔۔۔۔۔: دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ رہنے کی طرح منافقین وہاں بھی شروع میں ایمان والوں کے ساتھ ہوں گے ، مگر جب وہ اپنے ایمان کی روشنی میں جنت کی جانب روانہ ہوں گے کہ تو منافق مرد اور عورتیں ان سے کہیں گے ہمارے پاس روشنی نہیں ، تم ہمیں اندھیرے میں چھوڑ کر اتنی تیزی سے نہ جاؤ ، بلکہ تھوڑا انتظار کرلو اور ہمیں موقع دو کہ ہم بھی تمہاری روشنی میں جنت کی طرف چلتے جائیں۔
2۔ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَٓائَکُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا ط : اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ، ایک یہ کہ ان سے کہا جائے گا کہ میدان حشر جہاں جنت یا جہنم میں بھیجے جانے کا فیصلہ ہوا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
یوم یقول المنفقون، یوم میں عامل ذلک ھو الفوز العظیم۔ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ پہلے یوم سے بدل ہے (1) انظرونا نقتبس عام قرأت ہمزہ وصلی اور ظاء کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ یہ نظر سے مشتق ہے۔ نظر، انتظار کے معنی میں ہے یعنی ہمارا انتظار کیجیے۔ اعمش، حمزہ اور یحییٰ بن وثاب نے انظرونا الف قطعی اور ظاء کے کسر کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ انظار سے مشتق ہے یعنی ہمیں مہلت دو ۔ انظرتہ میں نے اسے مہلت دی، استنظرتہ میں نے اس سے مہلت طلب کی۔ فراء نے کہا : عرب کہتے انظرنی انتظرنی اور عمرو بن کلثوم کا شعر پڑھا :
ابا ھند فلا تعجل علینا وانظرنا نخبرک الیقینا (2)
اے ابوہند ! ہم پر جلدی نہ کرو، ہمارا انتظار کرو ہم تجھے…
Read the full tafseer →قیامت میں یہود و نصاری سے سوالات
11۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ اسے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، جب اللہ تعالیٰ پہلو کو اور پچھلوں سب کو جمع فرمائیں گے تو یہودیوں کو پکاریں گے اور ان سے پوچھا جائے گا تم کس کی عبادت کرتے تھے۔ وہ کہیں گے ہم اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا کیا اس کے ساتھ کسی اور کی بھی تم عبادت کرتے تھے۔ تو وہ کہیں گے ہاں پھر ان سے پوچھا جائے گا وہ کون ہے جس کی تم اس کے ساتھ عبادت کرتے تھے تو وہ کہیں گے عزیر (علیہ السلام) کی، تو ان کے چہرے پھیر دئیے جائیں گے۔ پھر نصاری کو بلایا جائے گا۔ اور ان سے پوچھا جائے تم کس کی عبادت کرتے تھے۔ وہ کہیں گے ہم اللہ کی…
Read the full tafseer →[يَوْمَ يَقُوْلُ : جس دن کہیں گے ][ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ : منافق مرد اور منافق عورتیں ][ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا : ان لوگوں سے جو ایمان لائے ][ انْظُرُوْنَا : تم لوگ رعایت کرو ہماری ][ نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ ۚ: تو ہم حصہ حاصل کرلیں گے تمہارے نور سے ][ قِيْلَ ارْجِعُوْا : کہا جائے گا تم لوگ لوٹ جاؤ ][ وَرَاۗءَكُمْ : اپنے پیچھے کی طرف ][ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا ۭ: پھر تلاش کرو نور کو ][ فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ : پھر بنادی جائے گی ان کے درمیان ][ بِسُوْرٍ : ایک دیوار ][ لَّهٗ بَابٌ ۭ: جس کا ایک دروازہ ہوگا ][ بَاطِنُهٗ : اس کا باطن ہوگا ][ فِيْهِ الرَّحْمَةُ : جس میں رحمت ہوگی ][…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
قیامت کے دن مومنین مومنات کو نور دیا جائے گا منافقین کچھ دور ان کے ساتھ چل کر اندھیرے میں رہ جائیں گے
ان آیات میں مومنین و مومنات اور منافقین و منافقات کی حالت بتائی ہے جس کا قیامت کے دن ظہو ہوگا اہل ایمان کے بارے میں فرمایا کہ اے مخاطب تم قیامت کے دن مومنین و مومنات کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے داہنی طرف دوڑ رہا ہوگا ان سے کہا جائے گا کہ آج تمہارے لیے ان جنتوں کی بشارت ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان میں تم ہمیشہ رہو گے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُۚ0012﴾ (یہ بڑی کامیابی ہے) ۔
قیامت کے دن حاضر تو سبھی ہوں گے، مومن بھی منافق بھی کھلے ہوئے کافر بھی اور وہ لوگ بھی جو دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
احوال آخرت ومیدان حشر مع ذکر انعام واکرام، مومنین وذلت وناکامی منکرین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم تری ال مومنین وال مومنت ..... الی ...... وبئس المصیر “۔
(ربط) ابتداء سورت سے حق تعالیٰ شانہ کی عظمت و پاکی بیان کی گئی اور یہ کہ ساری کائنات اس کی ربوبیت والوہیت کا اقرار کرتی ہے اور وہی اول وآخر ہے اور وہی ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم اور ہر شیء پر قادر ہے تو اس کے بعد یہ بیان فرمایا جارہا ہے اس ذات رب العزت پر ایمان لانے والوں کا آخرت میں کیسا اعزاز ہوگا اور کیسے عظیم انعامات سے نوازے جائیں گے اور اسکے برعکس جو لوگ ایمان سے محروم رہے ان کی بدنصیبی اور بدحالی کا کیسا عالم ہوگا ارشاد…
Read the full tafseer →14:۔ ” یوم یقول۔ الایۃ “ یہ پہلے یوم سے بدل ہے اور یہ منافقین کے لیے زجر و تخویف ہے۔ ” انظرونا “ منافقین، مومنین سے کہیں گے ہماری طرف دیکھو تاکہ تمہارے نورانی چہروں سے نور کی شعاع ہم تک پہنچے اور ہم بھی اس کی روشنی میں راستہ دیکھ سکیں یا انظرونا کے معنی ہیں انتظرونا۔ یعنی جلدی جلدی نہ چلو ذرا ٹھہرا جاؤ تاکہ تمہاری روشنی میں ہم بھی پل صراط عبور کرسکیں۔ نقتبس، انظروا امر کا جواب ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔ (مظہری) ۔ ” قیل ارجعوا “ جس طرح منافقین دنیا میں مومنوں سے استہزا کیا کرتے تھے۔ اسی طرح قیامت کے دن مومنین بطور استہزا منافقوں سے کہیں گے کہ اب اس طرح مانگنے سے روشنی نہیں ملتی۔ جاؤ واپس دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے مال خرچ کرنے کا ذکر فرمایا اور واضح کیا کہ جو لوگ بوقت ضرورت خرچ کرتے ہیں ان کے لئے زیادہ اجر ہوتا ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ فتح مکہ سے پہلے ایمان لانے والے بعد میں اسلام قبول کرنے والوں سے بدرجہا افضل ہیں ۔ تمہارے اموال کا حقیقی مالک اور متصرف تو اللہ تعالیٰ ہے ، تاہم اس نے اپنی مہربانی سے تمہیں اس سے پہلے لوگوں کا نائب بنایا ہے اور خرچ کرنے کا حکم دیا ہے لہٰذا تمہیں اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے بلکہ اللہ کے عطا کردہ مال کو بڑھ چڑھ کر خرچ کرنا چاہیے۔ یہ مال اللہ کی طرف سے تمہارے پاس بطور امانت ہے جس کے لوٹانے میں تمہیں ہچکچاہٹ…
Read the full tafseer →يَوْمَ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ 0 ۚ قِيْلَ ارْجِعُوْا وَرَاۗءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا 0 ۭ فَضُرِبَ بَيْنَہُمْ بِسُوْرٍ لَّہٗ بَابٌ 0 ۭ بَاطِنُہٗ فِيْہِ الرَّحْمَۃُ وَظَاہِرُہٗ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ 13 ۭ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
نِّفَاقُ
، وهو الدّخولُ في الشَّرْعِ من بابٍ والخروجُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ترکیب : یوم الظرف یضاعف وقیل العامل یسعٰی وقیل التقدیر جرون یوم ترای یسعی نورھم حال بین ایدیہم ظرف یسعٰی اوحال من النور بشراکم مبتداء جنات الخ۔ خبرہ اے دخول جنات والجملۃ حال ای یقال لھم ذلک یوم یقول بدل من یوم الاول وقیل التقدیرا ذکر باطنہ الجملۃ صقۃ لباب اولسور و ینا دونہم حال من الضمیر فی بینہم۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں جہاد کرنے والوں، ایمانداروں، اللہ کو قرض دینے والوں کے لیے دو چند ملنے اور اجر عظیم کا وعدہ ہوا تھا اس لیے اس ایفائِ وعدہ کا وقت بیان فرماتا ہے۔ فقال یوم تری المؤمنین والمؤمنات الخ۔ کہ یہ اس دن ہوگا کہ جس روز ایماندار مردوں اور عورتوں کے آگے ان کا نور دوڑتا ہوا چلے گا اور ان…
Read the full tafseer →یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰـفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِکُمْ ج قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآئَ کُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا ط فَضُرِبَ بَیْنَہُمْ بِسُوْرٍ لَّـہٗ بَابٌ ط بَاطِنُـہٗ فِیْہِ الرَّحْمَۃُ وَظَاہِرُہٗ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ ۔ (الحدید : 13)
(جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں کو آواز دیں گی، ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں، مگر ان سے کہا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے لوٹو اور وہاں روشنی تلاش کرو، پھر ان کے اور اہل ایمان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا، اس کے اندر کی جانب میں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کا مومنوں سے الگ کیا جانا اور ان کا انجام۔
اس سے پہلی آیت کی تفسیر میں یہ حدیث مبارکہ نقل کی ہے کہ جو لوگ نماز کا اہتمام کرتے ہیں قیامت کے دن ان کے ہاتھ پاؤں اور چہرے چمک رہے ہوں گے۔ حدیث رسول ﷺ سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن ایک مرحلہ تک منافقین کے چہرے بھی روشن ہوں گے اور جس طرح منافقین دنیا میں مومنوں کے ساتھ ملے جلے رہتے تھے اسی طرح ہی کچھ مراحل میں قیامت کے دن بھی منافق مومنوں کے ساتھ جڑے رہیں گے جب مومنوں کو جنت میں داخل ہونے کا حکم ہوگا اور جنتی قافلوں کی صورت میں جنت کی طرف جارہے ہوں گے۔ تو منافق بھی ان کے پیچھے چل پڑیں گے۔ جب پل صراط سے پہلے تاریک وادی…
Read the full tafseer →منافقین کا پل صراط پر حال :
13 : یَوْمَ یَقُوْلُ : یہ یوم تریٰ سے بدل ہے۔
الْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ ٰامَنُوا انْظُرُ وْنَا (جس روز منافق مرد اور منافق عورتیں مسلمانوں سے کہیں گی۔ کہ ذرا ہمارا انتظار کرو) انظروا، انتظار کے معنی میں ہے کیونکہ ایمان والوں کو کو ندنے والی بجلیوں کی طرح جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔
قراءت : انظِرونا حمزہ نے پڑھا اور اس کو النَّظِرۃ بمعنی مہلت دینا سے لیا گیا ہے۔ آیت میں چلنے میں رفتار کے کم کرنے کو تاکہ وہ مل سکیں اِنظَار قرار دیا گیا۔
نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِکُمْ (تاکہ ہم روشنی حاصل کرلیں) ہم اس میں سے پالیں۔ اور وہ اسی طرح ہے کہ وہ ان کے ساتھ…
Read the full tafseer →12 ۔ یوم تری المومنین والمومنات یسعیٰ نورھم “ یعنی صراط پر۔ ” بین ایدیھم وبایمانھم “ یعنی ان کے دائیں جانب اور ان میں سے بعض نے کہا ہے تمام جانبیں مراد ہیں۔ بعض کو کل سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ ان کی جنت کی طرف رہنمائی ہوگی اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں ہمیں یہ ذکر کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مومنین میں سے وہ ہوں گے جن کا نور چمک رہا ہوگا۔ یعنی صراط پر مدینہ سے عدن ” ابین او صنعائ “ اور اس کے دور تک۔ حتیٰ کہ مومنین میں سے وہ ہوں گے کہ جن کا نور نہیں چمکے گا مگر ان کے قدموں کی جگہ تک اور عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں وہ نور اپنے اعمال کے مطابق دیئے جائیں گے۔ پس ان میں سے بعض کو نور کھجور کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
12۔ 15۔ معتبر سند 3 ؎ سے طبرانی اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا پل صراط پر گزرنے کے وقت اندھیرا ہوگا اس لئے ہر ایماندار مرد اور ورت کو ان کے عملوں کے موافق میدان محشر نور دے کر پل صراط پر گزرنے کا حکم ہوگا اور فرشتے ان کو پل صراط سے گزرتے ہی جنت میں داخل ہونے خوش خبری دیں گے۔ غرض اسی نور کا ذکر ان آیتوں میں ہے اور یہ حدیث اس کی تفسیر ہے۔ منافقوں کے دل میں نور ایمان نہیں ہے۔ اسی واسطے ان کو یا تو سرے سے نور نہ دیا جائے گا یا دیا جائے گا تو ایسا کہ جلدی سے بجھ جائے گا اس لئے کچھ دور تک تو یہ منافق لوگ ایماندار لوگوں کے نور کی جھلک میں…
Read the full tafseer →جب منافقین دیکھیں گے کہ اہل ایمان روشنی میں چلے جارہے ہیں اور خود ان کی روشنی بجھ گئی ہے اور وہ اندھیروں میں حیران و پریشان باقی رہ گئے ہیں تو اہل ایمان سے کہیں گے : (انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ ) یعنی ٹھہرو تاکہ ہم تمہاری روشنی سے کچھ روشنی لے کر اس کے اندر چل سکیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں تو (قِيْلَ ) ان سے کہا جائے گا : (ارْجِعُوْا وَرَاۗءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا) پیچھے لوٹ جاؤ اور روشنی تلاش کرو، یعنی اگر ایسا کرنا ممکن ہے، حالانکہ یہ ممکن نہ ہوگا بلکہ یہ بالکل محال ہوگا۔ (فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ ) تب حائل کردی جائے گی ان کے درمیان۔ یعنی مومنین اور منافقین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
جو لوگ ابتدائی مشکلات میں کام آئیں وہ بعد میں آنے والوں سے بلند مرتبہ ہوتے ہیں
قول باری ہے (لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل۔ تم میں سے جو لوگ فتح (مکہ) سے قبل ہی خرچ کرچکے اور لڑ چکے (وہ ان کے برابر نہیں جو بعد فتح مکہ لڑے اور خرچ کیا) ) تاآخر آیت
شعبی سے مروی ہے کہ دونوں ہجرتوں کے درمیان فتح حدیبیہ کا فاصلہ تھا اور اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ صحابہ نے عرض کیا تھا کہ آیا صلح حدیبیہ بھی کوئی فتح تھی، آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا تھا : ” بیشک یہ فتح عظیم تھی۔ “ سعید نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ سے پہلے کے انفاق کی، بعد…
Read the full tafseer →[ 47] منافقوں کے حال بد کی تصویر :
سو اس سے اس روز منافقوں کے حال بد کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے اور یہ سعداء کے مقابلے یہ اشقیاء کے مآل اور ان کے انجام کا ذکر فرمایا گیا ہے، اور یہاں پر کھلے کفار کا ذکر اس لئے نہیں فرمادیا گیا کہ وہ میدان حشر ہی میں الگ کر دئیے جائی گے ان کے یہاں تک پہنچنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی، بخلاف منافقین کے کہ یہ دھوکہ دہی کی جس پالیسی پر دنیا میں گامزن رہا کرتے تھے آج ان کو خود اسی سے واسطہ پڑے گا، فان الجزآء من جنس العمل۔ یعنی یہ اس بناء پر گا کہ عمل کا بدلہ اور اس کی جزاء اس کی جنس ہی ہوتی ہے، سو یہ لوگ چونکہ صدق و اخلاص اور انفاق فی سبیل اللہ کی سعادت سے محروم رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
منافقوں کا انجام اور پچھتاوا
تشریح : ان آیات میں غیب کی بہت بڑی خبر دی گئی ہے جو کہ بالکل سچی ہے۔ پچھلی آیات میں جو مومنین کے اعمال نیک کی روشنی کا ذکر کیا گیا تھا تو اسی کے بارے میں دوبارہ بات ہو رہی ہے۔ جب پل صراط سے نیک لوگ اپنے ایمان کامل کی روشنی میں بلا روک ٹوک گزر جائیں گے تو ان کی دیکھا دیکھی کفارو منافقین بھی اس خیال سے کہ ان کی روشنی میں ہم بھی گزر جائیں گے گزرنے کی کوشش کریں گے مگر وہ ناکام رہیں گے اور پھر افسوس کرتے ہوئے اپنے انجام بد کو پہنچ جائیں گے۔ یہ سب کچھ اس لیے بتایا جا رہا ہے کہ آخرت میں صرف اور صرف اپنے کئے ہوئے اعمال کا ہی بدلہ ملے گا۔ وہاں کوئی شخص کسی صورت سے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
آیات 11 تا 19
اسرار ومعارف۔
نیزا للہ کی راہ میں جان مال یا کوشش و محنت جو بھی خرچ کیا جاتا ہے وہ ضائع نہیں ہوتا بلکہ ایک قرض ہے یعنی ایسی دولت جس کی واپسی یقینی ہے اور وہ بھی اللہ کریم کے پاس توکیاہی خوب قرض ہے کہ اللہ کریم اسے کئی گنا بڑھادیتے ہیں اور زیادہ کرکے لوٹاتے ہیں نیز عنداللہ اس کی عزت و عظمت یہ الگ انعام ہے اور یہی مجاہدہ ایک دن مومن مردوں اور خواتین کے آگے اور دائیں بائیں نور کی صورت چلے گا کہ حساب کتاب کے بعد سخت اندھیرا چھاجائے گا اور کفار کو جہنم میں دھکیل دیاجائے گا جبکہ مومنین میں نورتقسیم ہوگا اور ہر ایک مرد وزن کو بقدر اس کے اعمال اور خلوص ملے گا جس کی روشنی میں وہ جہنم پر…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی تمہاری کچھ روشنی لے لیں اور اس کی رہنمائی میں چلیں۔7 یعنی فرشتے کہیں گے یا ایماندار جواب دیں گے۔
Read the full tafseer →(57:13) یوم : ای اذکر یوم۔ وہ دن یاد کر۔
انظرونا۔ امر جمع مذکر حاضر، نظر (باب نصر) مصدر۔ ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ تم ہمارا انتظار کرو۔ ہمارے لئے ذرا ٹھیرو۔ ذرا ہمارے لئے توقف کریں۔
انظر کے معنی کسی چیز کو دیکھنے یا اس کا ادراک کرنے کے لئے آنکھ یا فکر کو جو لانی دینے کے ہیں۔ پھر کبھی اس سے محض غور و فکر کرنے کا معنی مراد لیا جاتا ہے اور کبھی اس معرفت کو کہتے ہیں جو غور و فکر کے بعد حاصل ہوتی ہے۔
غور وفکر کے معنی میں قرآن مجید میں آیا ہے :۔ قل انظروا ما ذا فی السموت والارض (10:101) (ان کفار سے) کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ ہے۔ اس آیت کے معنی میں خواص کے نزدیک وہ بصیرت ہوگی جو غور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
لغات القرآن : یقرض۔ قرض دیتا ہے۔ یضعف۔ وہ دوگنا کرتا ہے۔ اضافہ کرتا ہے۔ یسعی۔ دوڑتا ہے۔ انظرونا۔ ہمیں دیکھو۔ ہمارا انتظار کرو۔ نقتبس۔ ہم کچھ حصہ لیں۔ ارجعوا۔ تم لوٹ جائو۔ التمسوا۔ تلاش کرو۔ سور۔ دیوار۔ آر۔ تربصتم۔ تم نے انتظار کیا۔ ارتبتھم۔ تم نے شک کیا۔ غرت۔ دھوکے میں ڈال دیا۔ الامانی۔ تمنائیں۔ مولی۔ مالک۔ خادم۔
تشریح : اللہ جو زمین و آسمان کے تمام خزانوں کا مالک ہے وہ اپنے فرماں بردار بندوں کو ان کی کوششوں، جدوجہد اور محنت سے بھی زیادہ عطا کرتا ہے۔ آدم کے پاس جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے وہی مالک ہے لیکن اس کی شان کریمی کے قربان کہ وہ اس کی رضا و خوشنوی کے لئے خرچ کئے گئے مال کو اپنے اوپر قرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
اہل جنت اور دوزخ کا ذکر۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ قیامت کے روز مسلمانوں کا حال دیکھنا وہ مرد اور عورتیں جو سچے دل سے تصدیق کرتے ہیں کہ ان کا نور ایمان و اعمال صالحہ ان کے سامنے اور سیدھی الٹی طرف جلوے دکھاتا ہوادوڑتا ہوا چلتا ہوگا یعنی جب پل صراط سے گزریں گے تو نور کی مشعلیں روشنی کی دکھائیں گی فرشتے چار طرف سے دل بڑھاتے ہوں گے خوش خبریاں مبارک بادیاں دیتے ہون گے کہ لواب چل کر جنتوں میں داخل ہو، وہ جنتیں جن کے مکانوں اور درختوں کے نیچے شراب وشہد کی نہریں رواں دواں ہوں گی اور وہاں ہمیشہ رہیں گے نہ مریں گے نہ نکلیں گے یہ نہایت اعلی درجہ کی کامیابی ہے ، کہ جنت دوزخ سے بچے ۔ اس کے بعد منافقوں کا حال بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
[19] شاید ایمان کی روشنی جس کا محل قلب ہے آگے ہو اور عمل صالح کی روشنی دائیں جانب کیونکہ نیک عمل دائیں طرف جمع ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
سزا کی صحیح ترین شکل
منافقین کا گروہ دنیا میں جرات سے ایمانی سے یک قلم محروم رہا ۔ اور ہمیشہ عارضی مسرتوں کو دائمی آسودگیوں پر ترجیح دیتارہا ۔ اور کوشش کرتا رہا ۔ کہ مسلمان کبھی حقیقت حال سے آگاہ نہ ہوں ۔ اظہر کے پردے میں باطن کو پکارتا رہا ۔ اور چند شمع کی باتوں سے اس خبث کو جو اس کی عزیز ترین دولت تھی دل کی گہرائیوں میں پنہاں کئے رہا ۔ اللہ نے دنیا میں ان سے بدکرداری کا یوں انتقام لیا ۔ کہ ان کے تمام اسراء ایک ایک کرکے واشگاف طور پر بیان کردیئے ۔ اور ان کو بتا دیا کہ تمہارا اقدام ہماری نظر میں ہے ۔ اور تم ہزار چالاکی کے باوجود بھی ہمیں دھوکہ نہیں دے سکتے ۔ اور آخرت میں مادیت نفسی کی ایسی…
Read the full tafseer →(13) اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے ذرا ہمارا انتظار کرلو کہ ہم بھی تمہاری روشنی سے کچھ روشنی حاصل کرلیں ان سے کہا جائیگا تم اپنے پیچھے کی جانب الٹے ہی لوٹ جائو اور وہاں روشنی اور نور تلاش کرو۔ اتنے میں ان منافقوں اور مومنوں کے مابین ایک ایسی دیوار قائم کردی جائے گی جس میں دروازہ ہوگا اس دیوار کے باطنی اور اندرونی جانب رحمت ہوگی اور بیرونی جانب اس کے عذاب ہوگا۔
منافق وہ جس کا اعتقاد صحیح نہ ہو مسلمانوں کے دککھانے کو اچھے کام کرتا ہو ہوسکتا ہے کہ پہلے ان کو بھی کچھ روشنی ملے ظاہری اعمال کی پھر وہ سلب کرلی جائے اور مومن اپنی روشنی میں آگے بڑھتے چلے جائیں یہ اندھیرے میں…
Read the full tafseer →ف 3۔ یہ اس وقت ہوگا جب کہ مسلمان اپنے اعمال و ایمان کی برکت سے بہت آگے بڑھ جائیں گے اور منافقین جو کہ پل صراط پر مسلمانوں کے ساتھ چڑھائے جائیں گے پیچھے اندہیرے میں رہ جائیں گے، خواہ ان کے پاس پہلے ہی سے نور نہ ہو، یا ان کے پاس قدرے نور ہو اور پھر وہ گل ہوجائے۔
Read the full tafseer →منافق مرد اور عورتیں ایمان والوں سے روشنی مستعار لینے کی اپیل کریں گے
(13 ؎ (یوم) سے وہی دن مراد ہے جس کا ذکر گزشتہ میں کیا گیا اور یہ وہی طریقہ بیان ہے جو گزشتہ آیت میں بیان ہوا ہے اور یہ گزشتہ آیت کا گویا ایک عکس ہے جو بیان کیا جا رہا ہے۔ فرمایا منافق مرد اور عورتیں جو اس دنیا میں اپنے آپ کو بڑے زیرک ، ہوشیار اور عقل مند سمجھتے تھے قیامت کے روز ان کی حالت دیدنی ہوگی کہ چاروں طرف وہ گھپ اندھیرے میں ہوں گے اور اندھیرے سے نکلنے کی وہ جو سعی و کوشش بھی کریں گے وہ یقینا نا کام ہوجائے گی اور پھر وہ مومن مردوں سے اپیل کریں گے کہ ذرا ہمارا بھی انتظار کردیا یہ کہ ہماری طرف بھی دیکھو کہ ہم بھی تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ لِلَّذِينَ آمَنُوا انظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ (...the Day when the hypocrite men and hypocrite women will say to those who believe, "Wait for us, so that we may have a share from your light...(57:13) The meaning is self-evident.
قِيلَ ارْجِعُوا وَرَاءَكُمْ فَالْتَمِسُوا نُورًا (...it will be said [ to them ], "Go back to your rear, and search for light ....57:13) This reply will be given by either the believers, or by the angels. [ Ibn ` Abbas ؓ and Qatadah (رح) ]
فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍ لَّهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ…
Read the full tafseer →18 It means that when the believers will be going towards Paradise, the light will be before them, and the hypocrites will be stumbling about in the darkness behind. At that time they will call out to the believers, who lived with than together in the same Muslim society in the world, saying: "Look back towards us awhile so that we also may get some light."
19 This means that the people of Paradise will enter it awhile this gate and the gate will then be closed. On one side of the gate there will be the blessings of Paradise and on the other the torment of Hell. For the hypocrites it will not…
Read the full tafseer →