Al-Hadid 57:14

Al-Hadid · from ayah 14

57:14

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ؕ— قَالُوْا بَلٰی وَلٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰی جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَغَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ ۟يُنَادُوۡنَهُمۡ اَلَمۡ نَكُنۡ مَّعَكُمۡ‌ؕ قَالُوۡا بَلٰى وَلٰـكِنَّكُمۡ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَ تَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِىُّ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ

تو منافق لوگ مومنوں سے کہیں گے کہ کیا ہم (دنیا میں) تمہارے ساتھ نہ تھے وہ کہیں گے کیوں نہیں تھے۔ لیکن تم نے خود اپنے تئیں بلا میں ڈالا اور (ہمارے حق میں حوادث کے) منتظر رہے اور (اسلام میں) شک کیا اور (لاطائل) آرزوؤں نے تم کو دھوکہ دیا یہاں تک کہ خدا کا حکم آ پہنچا اور خدا کے بارے میں تم کو (شیطان) دغاباز دغا دیتا رہا

— Fateh Muhammad Jalandhari

The hypocrites will call to the believers, "Were we not with you?" They will say, "Yes, but you afflicted yourselves and awaited [misfortune for us] and doubted, and wishful thinking deluded you until there came the command of Allah. And the Deceiver deceived you concerning Allah.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hadid

All translations of 57:14

وہ مومنوں سے پکار پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ مومن جواب دیں گے ہاں، مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا، موقع پرستی کی، شک میں پڑے رہے، اور جھوٹی توقعات تمہیں فریب دیتی رہیں، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آ گیا، اور آخر وقت تک وہ بڑا دھوکے باز تمہیں اللہ کے معاملہ میں دھوکا دیتا رہا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو منافق لوگ مومنوں سے کہیں گے کہ کیا ہم (دنیا میں) تمہارے ساتھ نہ تھے وہ کہیں گے کیوں نہیں تھے۔ لیکن تم نے خود اپنے تئیں بلا میں ڈالا اور (ہمارے حق میں حوادث کے) منتظر رہے اور (اسلام میں) شک کیا اور (لاطائل) آرزوؤں نے تم کو دھوکہ دیا یہاں تک کہ خدا کا حکم آ پہنچا اور خدا کے بارے میں تم کو (شیطان) دغاباز دغا دیتا رہا

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ چلا چلا کر ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے وه کہیں گے کہ ہاں تھے تو سہی لیکن تم نے اپنے آپ کو فتنہ میں پھنسا رکھا تھا اور انتظار میں ہی رہے اور شک و شبہ کرتے رہے اور تمہیں تمہاری فضول تمناؤں نے دھوکے میں ہی رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچا اور تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے والے نے دھوکے میں ہی رکھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ مومنوں کو پکاریں گے کہ : کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے ؟ مومن کہیں گے کہ : ہاں تھے تو سہی، لیکن تم نے خود اپنے آپ کو فتنے میں ڈال لیا، اور انتظار میں رہے، شک میں پڑے رہے، اور جھوٹی آرزوؤں نے تمہیں دھوکے میں ڈالے رکھا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا اور وہ بڑا دھوکے باز (یعنی شیطان) تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکا ہی دیتا رہا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

منافق مسلمانوں کو پکاریں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے وہ کہیں گے کیوں نہیں مگر تم نے تو اپنی جانیں فتنہ میں ڈالیں اور مسلمانوں کی برائی تکتے اور شک رکھتے اور جھوٹی طمع نے تمھیں فریب دیا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا اور تمہیں اللہ کے حکم پر اس بڑے فریبی نے مغرور رکھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ (منافق) اُن (مومنوں) کو پکار کر کہیں گے: کیا ہم (دنیا میں) تمہاری سنگت میں نہ تھے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں! لیکن تم نے اپنے آپ کو (منافقت کے) فتنہ میں مبتلا کر دیا تھا اور تم (ہمارے لئے برائی اور نقصان کے) منتظر رہتے تھے اور تم (نبوّتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دینِ اسلام میں) شک کرتے تھے اور باطل امیدوں نے تمہیں دھوکے میں ڈال دیا، یہاں تک کہ اللہ کا اَمرِ (موت) آپہنچا اور تمہیں اللہ کے بارے میں دغا باز (شیطان) دھوکہ دیتا رہا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ انھیں آواز دیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں اور لیکن تم نے اپنے آپ کو فتنے میں ڈالا اور تم انتظار کرتے رہے اور تم نے شک کیا اور (جھوٹی) آرزوؤں نے تمہیں دھوکا دیا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا اور اس دغاباز نے تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکا دیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

منافق مومنوں کو پکار کر کہیں گے : کیا ہم (دنیا میں) تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ (مومن) کہیں گے، کیوں نہیں، لیکن تم نے تو خود اپنے آپ کو فتنہ میں ڈالا۔ اور (موقع کی) انتظار کرتے رہے اور شک میں پڑے رہے اور جھوٹی آرزوئیں تمہیں دھوکہ میں ڈالے رہیں تاآنکہ اللہ کا حکم آپہنچا اور (اس وقت تک) بڑا دھوکہ باز (شیطان) اللہ کے بارے میں تمہیں دھوکا ہی دیتا رہا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ ان سے فریاد کریں گے کہ کیا ہم آپ لوگوں کے ساتھ نہیں تھے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ساتھ تو تھے لیکن تم نے اپنے کو فتنوں میں مبتلا رکھا، ہمارے لیے گردشوں کے انتظار میں رہے، شبہات میں مبتلا رہے اور آرزوئوں نے تمہیں دھوکے میں رکھا یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ ظاہرہو گیا اور فریب دینے والے نے تمہیں اللہ کے باب میں مبتلائے فریب ہی رکھا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ لوگ ایمان والوں کو پکار پکار کر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ وہ جواب دیں گے ہاں ضرور لیکن تم لوگوں نے خود فتنے میں ڈال رکھا تھا اپنے آپ کو تم (موقع اور فرصت کی) تاک میں لگے رہتے تھے تم شک میں مبتلا رہتے تھے اور تمہیں دھوکے میں ڈالے رکھا آرزؤوں نے یہاں تک کہ پہنچا اللہ کا حکم اور تم کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا اللہ کے بارے میں اس بڑے دھوکے باز نے۔

— مولانا اسحاق مدنی

منافقین) پکار کر (مومنین سے) کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے وہ کہیں گے ہاں تھے تو لیکن تم نے اپنے کو گمراہی میں پھنسا رکھا تھا اور تم راستہ دیکھا کرتے تھے اور تم شک رکھتے تھے اور تم کو تمہاری بیہودہ تمناؤں نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا اور تم کو بڑے فریبییے نے اللہ کے ساتھ فریب میں ڈالے رکھا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ (منافق) انہیں پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ وہ کہیں گے : ہاں کیوں نہیں ! (تم تھے تو ہمارے ساتھ ہی)۔ لیکن تم نے اپنے آپ کو (اپنے ہاتھوں) فتنے میں ڈالا اور تم گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہوگئے اور تم لوگ شکوک و شبہات میں پڑگئے اور تمہیں دھوکے میں ڈال دیا تمہاری خواہشات نے یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا اور تمہیں خوب دھوکہ دیا اللہ کے معاملے میں اس بڑے دھوکے باز نے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو منافق لوگ مومنوں سے کہیں گے کہ کیا ہم دنیا میں تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں۔ مگر تم نے خود کو بلا میں ڈالا اور راہ دیکھتے رہے اور دھوکے میں پڑے رہے اور اپنے خیالوں میں بہک گئے، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا اور اللہ کے بارے میں تم کو شیطان دغا باز دغا دیتا رہا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The hypocrites will call out to the believers: “Were we not with you?” The believers will reply: “Yes; but you allowed yourselves to succumb to temptations, and you wavered and you remained in doubt and false expectations deluded you until Allah's command came to pass, and the Deluder deluded you concerning Allah.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They (the hypocrites) will call out to them (the believers), :Were we not with you? They will say, :Yes, (you were,) but you led your souls to a wrong way, and kept waiting (for an evil end to the Muslims), and remained in doubt, and were deluded by fancies, until Allah‘s command came to pass, and you were deceived about Allah by the Big Deceiver (Iblis).

— Muhammad Taqi Usmani

They (the hypocrites) will call out to them (the believers), :Were we not with you? They will say, :Yes, (you were,) but you led your souls to a wrong way, and kept waiting (for an evil end to the Muslims), and remained in doubt, and were deluded by fancies, until Allah‘s command came to pass, and you were deceived about Allah by the Big Deceiver (Iblis).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(The hypocrites) will call the believers: "Were we not with you" The believers will reply: "Yes! But you led yourselves into temptations, you looked forward to our destruction; and you doubted, and you were deceived by false hopes, till the command of Allah came to pass. And the deceiver deceived you in regard to Allah."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They will cry unto them (saying): Were we not with you? They will say: Yea, verily; but ye tempted one another, and hesitated, and doubted, and vain desires beguiled you till the ordinance of Allah came to pass; and the deceiver deceived you concerning Allah;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The hypocrites will call to the believers, "Were we not with you?" They will say, "Yes, but you afflicted yourselves and awaited [misfortune for us] and doubted, and wishful thinking deluded you until there came the command of Allah. And the Deceiver deceived you concerning Allah.

— Saheeh International

(Those outside) will call out, "Were we not with you?" (Those inside) will reply, "Yes, you were with us but you spent your life in disbelief and hypocrisy, wished death to (Muhammad), had doubts about his message and let your longings deceive you until the decree of God came to pass. The devil deceived you about the mercy of God.

— Muhammad Sarwar

They will cry out to them: Were we not with you? They shall say: Yea! but you caused yourselves to fall into temptation, and you waited and doubted, and vain desires deceived you till the threatened punishment of Allah came, while the archdeceiver deceived you about Allah.

— Muhammad Habib Shakir

They will cry unto them: have we not been with you? They will say: 'yea! but ye tempted your souls, and ye Waited, and ye dubitated, and your vain desires beguiled you until the affair of Allah came, and in respect to Allah the beguiler beguiled you.

— Abdul Majid Daryabadi

(Those without) will call out, "Were we not with you?" (The others) will reply, "True! but ye led yourselves into temptation; ye looked forward (to our ruin); ye doubted (Allah's Promise); and (your false) desires deceived you; until there issued the Command of Allah. And the Deceiver deceived you in respect of Allah.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 57:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–15

اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا یہاں بیان ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے نیک اعمال کے مطابق انہیں نور ملے گا جو قیامت کے دن کے ان کے ساتھ ساتھ رہے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان میں بعض کا نور پہاڑوں کے برابر ہوگا اور بعض کا کھجوروں کے درختوں کے برابر اور بعض کا کھڑے انسان کے قد کے برابر سب سے کم نور جس گنہگار مومن کا ہوگا اس کے پیر کے انگوٹھے پر نور ہوگا جو کبھی روشن ہوتا ہوگا اور کبھی بجھ جاتا ہوگا (ابن جریر) حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے بعض مومن ایسے بھی ہوں گے جن کا نور اس قدر ہوگا کہ جس قدر مدینہ سے عدن دور ہے اور ابین دور ہے اور صنعا دور ہے۔ بعض…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَدِیْد 20 یعنی کیا ہم تمہارے ساتھ ایک ہی مسلم معاشرے میں شامل نہ تھے ؟ کیا ہم کلمہ گو نہ تھے ؟ کیا تمہاری طرح ہم بھی نمازیں نہ پڑھتے تھے ؟ روزے نہ رکھتے تھے ؟ حج اور زکوٰۃ ادا نہ کرتے تھے ؟ کیا تمہاری مجلسوں میں ہم شریک نہ ہوتے تھے ؟ تمہارے ساتھ ہمارے شادی بیاہ اور رشتہ داری کے تعلقات نہ تھے ؟ پھر آج ہمارے اور تمہارے درمیان یہ جدائی کیسی پڑگئی ؟ سورة الْحَدِیْد 21 یعنی مسلمان ہو کر بھی تم مخلص مسلمان نہ بنے، ایمان اور کفر کے درمیان لٹکتے رہے، کفر اور کفار سے تمہاری دلچسپیاں کبھی ختم نہ ہوئیں، اور اسلام سے تم نے کبھی اپنے آپ کو پوری طرح وابستہ نہ کیا۔ سورة الْحَدِیْد 22 اصل الفاظ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–15

(آیت) يَوْمَ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ ، یعنی اس روز جب منافق مرد اور منافق عورتیں مومنین سے کہیں گے کہ ذرا ہمارا انتظار کرو ہم بھی تمہارے نور سے فائدہ اٹھا لیں۔ (آیت) قِيْلَ ارْجِعُوْا وَرَاۗءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا، ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے لوٹو جہاں یہ نور تقسیم ہوا تھا وہیں نور تلاش کرو، یہ بات یا تو مومنین ان کے جواب میں کہیں گے یا فرشتے جواب دیں گے (کماروی عن ابن عباس وقتادة قولین) (آیت) فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ ۭ بَاطِنُهٗ فِيْهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَاب یعنی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(ینا دونھم الم نکن معکم قالوا بلی ولنکنکم فتنتم انفسکم و تربصتم و ارتبتم و غرتکم الا مانی حتی جاء امرا للہ و غر کم باللہ الغرور) (14) (منافقین کی فریاد اور ان کو جواب)۔ منافقین جب دیکھیں گے کہ روشنی کی جو جھلک نظر آئی تھی وہ بھی اور جھل ہوگئی اور جن کے ساتھ دنیا میں رہے ان سے بالکل ہی رابطہ ٹوٹ گیا تو وہ دل شکستہ ہو کر فریاد کریں گے کہ بھائیو، آپ لوگوں نے ہمیں بالکل ہی کاٹ پھینکا، کیا دنیا میں ہم آپ لوگوں کے ساتھ نہیں رہے بسے ! اپنے بھائیوں سے یہ بےاعتنائی و بےپروائی ! ! جواب ملے گا کہ اس میں تو شبہ نہیں کہ دنیا میں تم لوگ بظاہر ہمارے ہی ساتھ رہے لیکن تمہارے دل ہمارے ساتھ نہیں تھے بلکہ تم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14-1یعنی دیوار حائل ہونے پر منافقین مسلمانوں سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم تمہارے ساتھ نمازیں نہیں پڑھتے تھے اور جہاد وغیرہ میں حصہ نہیں لیتے تھے۔ 14-2تم نے اپنے دلوں میں کفر اور نفاق چھپا رکھا تھا۔ 14-3کہ شاید مسلمان کسی گردش کا شکار ہوجائیں 14-4دین کے معاملے میں، اسی لیے قرآن کو مانا نہ دلائل و معجزات کو۔ 14-5جس میں تمہیں شیطان نے مبتلا کیے رکھا۔ 14-6 یعنی تمہیں موت آگئی، یا مسلمان بالآخر غالب رہے اور تمہاری آرزوں پر پانی پھر گیا۔ 14-7یعنی اللہ کے حلم اور اس کے قانون امہال کی وجہ سے تمہیں شیطان نے دھوکے میں ڈالے رکھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–16

12: یعنی اس انتظار میں رہے کہ کب مسلمانوں پر کوئی مصیبت آئے، اور ہم کھلے بندوں اپنے کفر کا اظہار کریں۔ 13: منافقین اس انتظار اور آرزو میں تھے کہ مسلمانوں کو ان دشمنوں کے ہاتھوں شکست ہوجائے، اور (معاذ اللہ) اسلام کا بالکل خاتمہ ہی ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ینادونھم ............ معکم (75 : 41) ” وہ انہیں پکار کر کہیں گے ” کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے “ ؟ اب ہم کیوں جدا ہورہے ہیں۔ دنیا میں تو ہم تمہارے ساتھ ایک ہی جگہ زندہ رہے تھے۔ ایک ہی سطح پر اور یہاں بھی ہم ایک ہی جگہ تمہارے ساتھ اٹھائے گئے ہیں۔ قالو بلی (75 : 41) وہ کہیں ہاں “ معاملہ تو ایسا ہی ہے۔ ولکنکم ................ انفسکم (75 : 41) ” مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا “۔ تم نے اپنے آپ کو ہدایت سے توڑ لیا۔ وتربصتم (75 : 41) ” موقع پرستی کی “۔ تم نے عزم کرکے فیصلہ کن انداز میں حق کا راستہ اختیار نہ کیا۔ وارتبتم (75 : 41) ” شک میں پڑے رہے “۔ تمہیں یقین کی وہ دولت نہ دی گئی جس کے ذریعے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 قصہ یہ ہے کہ کھلے ہوئے کافر پل صراط پر نہیں چلیں گے پہلے ہی دوزخ میں اس کے دروازوں سے دھکیل دیے جائیں گے ہاں جو کسی نبی کی امت میں ہیں سچے یا کچے انہیں پل صراط سے گزرنے کا حکم ہوگا۔ اس پر چڑھنے سے پہلے ایک سخت اندھیری لوگوں کو گھیر لے گی۔ اس وقت ایمان والوں کے ساتھ روشنی ہوگی۔ منافق بھی ان کی روشنی میں پیچھے پیچھے چلنا چاہیں گے لیکن مومن جلد آگے بڑھ جائیں گے اس لیے ان کی روشنی منافقین سے دور ہوتی جائے گی تب وہ پکاریں گے کہ میاں ذرا ٹھہرو، ہم کو اندھیرے میں پیچھے چھوڑ کر مت جاؤ۔ تھوڑا انتظار کرو کہ ہم بھی تم سے مل جائیں اور تمہاری روشنی سے استفادہ کریں۔ آخر ہم دنیا میں تمہارے ساتھ ہی رہتے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14{ یُــنَادُوْنَھُمْ اَلَمْ نَـکُنْ مَّـعَکُمْ } ”وہ منافق انہیں پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟“ ہم تمہارے ساتھ مسجد نبوی ﷺ میں نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ عیدوں کی نمازوں میں بھی ہم تمہارے ساتھ ہوتے تھے۔ ہم نے تمہارے ساتھ فلاں فلاں مہمات میں بھی حصہ لیا۔ ہر جگہ ‘ ہر مقام پر ہم تمہارے ساتھ ہی تو تھے۔ پھر آج تمہارے اور ہمارے مابین اتنا فرق و تفاوت کیوں ہے ؟ { قَالُوْا بَلٰی } ”وہ کہیں گے : ہاں کیوں نہیں ! تم تھے تو ہمارے ساتھ ہی۔“ { وَلٰـکِنَّکُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَکُمْ } ”لیکن تم نے اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں فتنے میں ڈالا“ فتنہ کیا ہے ؟ قرآن مجید میں فتنے کی تین نسبتیں بیان کی گئی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

23 اس دیوار میں ایک دروازہ ہوگا اب یہاں سے منافق مومنوں کو پکار پکار کر کہیں گے کہ دنیا میں تو ہم نے تمہارا ساتھ دیا تھا۔ اور آج تم لوگ ہمیں یہاں چھوڑ کر اکیلے ہی جنت کی طرف جارہے ہو۔ تمہیں ہم سے ایسی بےوفائی تو نہ کرنی چاہیے تھی۔ 24 مومن اس بات کا یہ جواب دیں گے کہ تم جھوٹ بکتے ہو جو یہ کہتے ہو کہ ہم نے تمہارا ساتھ دیا تھا۔ اس کے بجائے اصل بات یہ تھی کہ تم لوگ موقع پرست اور مفاد پرست تھے اور اس موقع کی تلاش میں رہتے تھے کہ مومنوں اور کافروں میں سے جس کا پلڑا بھاری رہے اس کے ساتھ مل کر اپنے دنیوی مفاد حاصل کریں۔ 25 یعنی تمہارا نہ اللہ پر ایمان پختہ تھا نہ اس کے رسول پر، نہ اللہ اور اس کے رسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

21۔ (اور آخر وقت تک کبھی تو بہ ورجوع کی توفیق نہ ملنے دی) اہل ایمان جواب دیں گے کہ بیشک تم بظاہر تو ہمارے ساتھ تھے اور ہم میں ملے جلے ہوئے تھے۔ لیکن ایسا ساتھ کس کام کا جبکہ دل سے تم اسلام اور پیغمبر اسلام کے دشمن تھے ؟ اور آخر وقت تک وہی ابلیسی مغالطہ کے شکار رہے۔ (آیت) ’ الم نکن معکم “۔ یعنی کیا ہم اعمال میں اور طاعات میں تمہارے شریک نہیں رہتے تھے ؟ (آیت) ” وتربصتم “۔ یعنی اسلام کے مٹ جانے ہی کا انتظار کرتے اور اس کی آس لگائے بیٹھے رہے۔ (آیت) ” وارتبتم “۔ اور تمہیں اسلام کی صداقت وحقانیت میں شبہ ہی رہا کیا۔ (آیت) ” الامانی “۔ بہیودہ تمنائیں یہی کہ ہم اپنے جس طریقہ پر ہیں، یہی ہماری نجات کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–15

ترجمہ :۔ کون شخص ہے کہ جو اپنا مال اللہ کو قرض حسن کے طور پردے یعنی اللہ کے راستہ میں خرچ کرے ؟ اس طریقہ پر کہ (خالص) اللہ کے سوا خرچ کرے پھر اللہ تعالیٰ اس قرض کو اس شخص کے لئے بڑھاتا چلا جائے اور ایک قرأت میں فیضعفۃ تشدید کے ساتھ ہے دس گنے سے سات سو گنے تک زیادہ جیسا کہ سورة بقرہ میں مذکور ہو، اور اس کے لئے (اجر) بڑھانے کے ساتھ پسندیدگی کا اجر بھی ہے (یعنی) اس اجر کے ساتھ رضا مندی اور قبولیت ہے، اس دن کا ذکر کیجیے کہ جس دن آپ مومنین اور مومنات کو دیکھیں گے کہ ان کا اجر ان کے سامنے ہے اور نو ران کے داہنی جانب دوڑتا ہوگا اور ان سے کہا جائے گا آج تمہارے لئے ایسی جنت کی یعنی اس میں داخل ہونے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

” یہ (منافق) ان (مؤمنوں) کو پکاریں گے کہ کیا (دُنیا میں) ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ‘ وہ کہیں گے کہ ہاں تھے تو صحیح لیکن تم نے اپنے کو گمراہی میں پھنسا رکھا تھا اور تم منتظر رہا کرتے تھے اور شک میں رہا کرتے تھے اور تم کو تمہاری تمناؤں نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا ‘ یہاں تک کہ تم پر خدا کا حکم آپہنچا اور تم کو دھوکا دینے والے (شیطان) نے اللہ کے متعلق دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ “ یعنی جب دیوار حائل ہوگئی اور منافق تاریکی میں رہ گئے تو دیوار کے پیچھے سے منافقوں نے مؤمنوں کو پکار کر کہا : تمہارے ساتھ ہم دنیا میں نمازیں نہیں پڑھتے تھے اور روزے نہیں رکھتے تھے ؟ مؤمن اس کے جواب میں کہیں گے : کیوں نہیں ! تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 14–15

پھر یہ منافقین دیوار کے باہر سے پکاریں گے کہ اے گروہ مومنین کیا ہم دنیا میں تمہارے دین پر نہیں تھے مسلمان کہیں گے ہاں تھے تو سہی مگر تم نے کفر اور نفاق کی وجہ سے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رکھا تھا۔ اور کفر و نفاق سے توبہ کرنے کو چھوڑ رکھا تھا یا یہ کہ تم رسول اکرم کی موت اور اظہار کفر کے منتظر تھے۔ اور اللہ تعالیٰ اور کتاب اللہ اور رسول اللہ کے بارے میں شک رکھتے تھے اور تمہیں تمہاری جھوٹی تمناؤں نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا یہاں تک کہ تم پر اللہ کا حکم آپہنچا کہ کفر و نفاق کی حالت میں تمہیں موت نے آدبوچا۔ اور تمہیں دھوکا دینے والے شیطان نے اطاعت خداوندی سے دھوکا میں ڈال رکھا تھا یا یہ کہ دنیاوی…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ یُنَادُوْنَہُمْ اَلَمْ نَکُنْ مَّعَکُمْ ط : منافق انہیں پکار پکار کر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ، کیا ہم کلمہ نہیں پڑھتے تھے ، کیا تمہارے ساتھ نمازیں نہیں پڑھتے تھے ، زکوٰۃ اور حج ادا نہیں کرتے تھے اور ہر کام میں تمہارے ساتھ نہیں ہوتے تھے ؟ تم ہمیں ساتھ کیوں نہیں لے جاتے ؟ 2۔ قَالُوْا بَلٰی وَلٰـکِنَّکُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَکُمْ : یعنی تم مسلمان ہو کر بھی نہ دل سے مسلمان ہوئے اور نہ پوری طرح ایک طرف ہو کر مسلمان کے ساتھی بنے ، بلکہ تم نے اپنے آپ کو نفاق کے فتنے ہی میں مبتلا رکھا۔ 3۔ وَتَرَبَّصْتُمْ : اور تم انتظار میں رہے کہ کب مسلمانوں پر کوئی آفت آتی ہے۔ 4۔ وَارْتَبْتُمْ : یہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 13–15

یوم یقول المنفقون، یوم میں عامل ذلک ھو الفوز العظیم۔ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ پہلے یوم سے بدل ہے (1) انظرونا نقتبس عام قرأت ہمزہ وصلی اور ظاء کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ یہ نظر سے مشتق ہے۔ نظر، انتظار کے معنی میں ہے یعنی ہمارا انتظار کیجیے۔ اعمش، حمزہ اور یحییٰ بن وثاب نے انظرونا الف قطعی اور ظاء کے کسر کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ انظار سے مشتق ہے یعنی ہمیں مہلت دو ۔ انظرتہ میں نے اسے مہلت دی، استنظرتہ میں نے اس سے مہلت طلب کی۔ فراء نے کہا : عرب کہتے انظرنی انتظرنی اور عمرو بن کلثوم کا شعر پڑھا : ابا ھند فلا تعجل علینا وانظرنا نخبرک الیقینا (2) اے ابوہند ! ہم پر جلدی نہ کرو، ہمارا انتظار کرو ہم تجھے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–15

24۔ بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولکنکم فتنتم انفسکم لیکن تم نے اپنے کو گمراہی میں پھنسا رکھا تھا۔ یعنی شہوات اور لذات کے فتنوں میں ڈال دیا تو اور تم توبہ کا اتنظار کرتے تھے۔ آیت وتربصتم اور تم شک میں پڑے ہوئے تھے اللہ کے بارے میں آیت وغرتکم الامانی حتی جاء امر اللہ۔ اور تم کو تمہاری تمناؤں نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا یہاں تک کہ تم پر خدا کا حکم آپہنچا، یعنی موت۔ آیت وغرکم باللہ الغرور۔ اور تم کو دھوکہ دینے والے شیطان نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا یعنی شیطان نے۔ 25۔ عبد بن حمید نے ابو سفیان (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولکنکم فتنتم انفسکم اور تم فتنہ میں پڑے ہوئے تھے گناہوں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يُنَادُوْنَهُمْ : وہ منافق لوگ آواز دیں گے ان مومن کو ][ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ۭ: کای ہم نہیں تھے تم لوگوں کے ساتھ ][ قَالُوْا بَلٰى: وہ لوگ کہیں گے کیوں نہیں ][ وَلٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ : اور لیکن تم لوگوں نے فتنہ میں ڈالا ][ اَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ : اپنی جانوں کو اور انتظار میں رہے ][ وَارْتَبْتُمْ : اور شبہ میں رہے ][ وَغَرَّتْكُمُ : اور فرریب دیا تم لوگوں کو ][ الْاَمَانِيُّ : آرزوں نے ][ حَتّٰى جَاۗءَ اَمْرُ اللّٰهِ : یہاں تک کہ آن پہنچا اللہ کا حکم ][ وَغَرَّكُمْ : اور فریب دیا تم لوگوں کو ] [ بِاللّٰهِ : اللہ کے بارے ][ الْغَرُوْرُ : اس انتہائی دھوکے باز نے ] ترکیب : (آیت ۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 12–15

قیامت کے دن مومنین مومنات کو نور دیا جائے گا منافقین کچھ دور ان کے ساتھ چل کر اندھیرے میں رہ جائیں گے ان آیات میں مومنین و مومنات اور منافقین و منافقات کی حالت بتائی ہے جس کا قیامت کے دن ظہو ہوگا اہل ایمان کے بارے میں فرمایا کہ اے مخاطب تم قیامت کے دن مومنین و مومنات کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے داہنی طرف دوڑ رہا ہوگا ان سے کہا جائے گا کہ آج تمہارے لیے ان جنتوں کی بشارت ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان میں تم ہمیشہ رہو گے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُۚ0012﴾ (یہ بڑی کامیابی ہے) ۔ قیامت کے دن حاضر تو سبھی ہوں گے، مومن بھی منافق بھی کھلے ہوئے کافر بھی اور وہ لوگ بھی جو دنیا میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–15

احوال آخرت ومیدان حشر مع ذکر انعام واکرام، مومنین وذلت وناکامی منکرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم تری ال مومنین وال مومنت ..... الی ...... وبئس المصیر “۔ (ربط) ابتداء سورت سے حق تعالیٰ شانہ کی عظمت و پاکی بیان کی گئی اور یہ کہ ساری کائنات اس کی ربوبیت والوہیت کا اقرار کرتی ہے اور وہی اول وآخر ہے اور وہی ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم اور ہر شیء پر قادر ہے تو اس کے بعد یہ بیان فرمایا جارہا ہے اس ذات رب العزت پر ایمان لانے والوں کا آخرت میں کیسا اعزاز ہوگا اور کیسے عظیم انعامات سے نوازے جائیں گے اور اسکے برعکس جو لوگ ایمان سے محروم رہے ان کی بدنصیبی اور بدحالی کا کیسا عالم ہوگا ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

15:۔ ” ینادونہم “ منافقین مومنوں سے کہیں گے کیا دنیا میں ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ دنیا میں ہم تمہارے دین پر تھے اور تمہارے ساتھ مل کر نمازیں بھی پڑھا کرتے تھے اس لیے آج کچھ تو ہماری مدد کرو۔ ” قالوا بلی “ مومنین جواب دیں گے بیشک تم ہمارے ساتھ تھے لیکن تم نے منافقت کر کے اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈال لیا۔ تم کہلاتے تو مسلمان تھے لیکن ہمیشہ مسلمانوں کے مصائب میں مبتلا ہونے کے منتظر اور آرزو مند رہتے تھے اور حقیقت یہ ہے کہ تمہیں اللہ کی توحید میں اور دین اسلام کی صداقت میں شک تھا اور تم دل سے مسلمان تھے ہی نہیں ” وغرتکم الامانی “ تمہیں مختلف جھوٹی آرزوؤں نے دھوکے میں ڈالے رکھا تم نے یہ سمجھا کہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–15

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے مال خرچ کرنے کا ذکر فرمایا اور واضح کیا کہ جو لوگ بوقت ضرورت خرچ کرتے ہیں ان کے لئے زیادہ اجر ہوتا ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ فتح مکہ سے پہلے ایمان لانے والے بعد میں اسلام قبول کرنے والوں سے بدرجہا افضل ہیں ۔ تمہارے اموال کا حقیقی مالک اور متصرف تو اللہ تعالیٰ ہے ، تاہم اس نے اپنی مہربانی سے تمہیں اس سے پہلے لوگوں کا نائب بنایا ہے اور خرچ کرنے کا حکم دیا ہے لہٰذا تمہیں اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے بلکہ اللہ کے عطا کردہ مال کو بڑھ چڑھ کر خرچ کرنا چاہیے۔ یہ مال اللہ کی طرف سے تمہارے پاس بطور امانت ہے جس کے لوٹانے میں تمہیں ہچکچاہٹ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يُنَادُوْنَہُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ۝ 0 ۭ قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْاَمَانِيُّ حَتّٰى جَاۗءَ اَمْرُ اللہِ وَغَرَّكُمْ بِاللہِ الْغَرُوْرُ۝ 14 ندا النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10]…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 12–15

ترکیب : یوم الظرف یضاعف وقیل العامل یسعٰی وقیل التقدیر جرون یوم ترای یسعی نورھم حال بین ایدیہم ظرف یسعٰی اوحال من النور بشراکم مبتداء جنات الخ۔ خبرہ اے دخول جنات والجملۃ حال ای یقال لھم ذلک یوم یقول بدل من یوم الاول وقیل التقدیرا ذکر باطنہ الجملۃ صقۃ لباب اولسور و ینا دونہم حال من الضمیر فی بینہم۔ تفسیر : پہلی آیتوں میں جہاد کرنے والوں، ایمانداروں، اللہ کو قرض دینے والوں کے لیے دو چند ملنے اور اجر عظیم کا وعدہ ہوا تھا اس لیے اس ایفائِ وعدہ کا وقت بیان فرماتا ہے۔ فقال یوم تری المؤمنین والمؤمنات الخ۔ کہ یہ اس دن ہوگا کہ جس روز ایماندار مردوں اور عورتوں کے آگے ان کا نور دوڑتا ہوا چلے گا اور ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یُنَادُوْنَھُمْ اَلَمْ نَـکُنْ مَّعَکُمْ ط قَالُوْا بَلٰی وَلٰـکِنَّـکُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَکُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْـکُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰی جَآئَ اَمْرُاللّٰہِ وَغَرَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ ۔ (الحدید : 14) (وہ مومنوں کو پکاریں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ مومن جواب دیں گے کہ ساتھ تو تھے لیکن تم نے اپنے آپ کو فتنوں میں مبتلا رکھا، اور موقعوں کے انتظار میں رہے، اور شبہات میں مبتلا رہے، اور آرزوئیں تمہیں فریب دیتی رہیں، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا، اور فریب دینے والے نے تمہیں اللہ کے بارے میں مبتلائے فریب ہی رکھا۔ ) منافقین کی استدعا کا جواب منافقین جب دیکھیں گے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–15

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کی جنتیوں سے آخری فریاد۔ جب جنتی منافقین سے یہ کہیں گے کہ اپنے پیچھے جاکر روشنی تلاش کرو تو منافق کہیں گے کیا دنیا میں ہم تمہارے ساتھ نہیں رہتے تھے ؟ جنتی جواب دیں گے کیوں نہیں ! تم ہمارے ساتھ رہتے تھے لیکن تم نے اپنے آپ کو دھوکے میں رکھا، اسلام کے بارے میں شک میں مبتلا رہے، ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں منتظر رہے کہ کب اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا۔ ان آرزؤں اور شیاطین نے تمہیں ہمیشہ دھوکے میں رکھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچا۔ تم یہ کام دنیا کے فائدے کی خاطر منافقت کرتے تھے لہٰذا آج اپنے کیے کی سزا پاؤ۔ آج کفار اور تم سے نہ کسی قسم کا فدیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14 : یُنَادُوْنَھُمْ (یہ منافق ان مؤمنوں کو پکاریں گے) اَلَمْ نَکُنْ مَّعَکُمْ (کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے) مراد اس سے ان کی وہ ظاہری مرافقت ہے جو دنیا میں وہ رکھے ہوئے تھے۔ قَالُوْا (وہ مومن کہیں گے) ۔ بَلٰی وَلٰکِنَّکُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَکُمْ (کہ ہاں تھے تو صحیح لیکن تم نے اپنے کو گمراہی میں پھنسا رکھا تھا) تم نے اپنے کو نفاق کی مشقت میں ڈال کر اپنے نفسوں کو ہلاک کر ڈالا۔ وَتَرَبَّصْتُمْ (اور تم منتظر رہا کرتے تھے) ایمان والوں کے متعلق کہ ان پر کب حوادث پڑتے ہیں۔ وَارْتَبْتُمْ ( اور تم نے شک کیا) اور توحید میں تم نے شک کیا۔ وَغَرَّ تْکُمُ الْاَمَانِیُّ ( اور تم کو تمہاری تمنائوں نے دھوکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13 ۔” یوم یقول المنافقون والمنافقات للذین امنوا انظرونا “ اعمش اور حمزہ رحمہما اللہ نے ” انظرونا “ ہمزہ کے زبر اور ظاء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ہمیں مہلت دو اور کہا گیا ہے تم ہمارا انتظار کرو اور دیگر حضرات نے الف کو حذف کیا ہے وصل میں اور اس کو پیش دیتے ہیں ابتداء میں اور ظاء کو پیش دیتے ہیں۔ عرب کہتے ہیں ” انظرنی وانظرنی “ یعنی تو میرا انتظار کر۔ ” نقتبس من نور کم “ تمہارے نور سے روشنی حاصل کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ مومنین کو نور ان کے اعمال کے مطابق دیں گے جس کے ذریعے وہ پل صراط پر چلیں گے اور منافقین کو بھی نور دیں گے ان کو فریب دینے کے لئے اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ” وھوخادعھم “ ہے۔ پس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–15

12۔ 15۔ معتبر سند 3 ؎ سے طبرانی اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا پل صراط پر گزرنے کے وقت اندھیرا ہوگا اس لئے ہر ایماندار مرد اور ورت کو ان کے عملوں کے موافق میدان محشر نور دے کر پل صراط پر گزرنے کا حکم ہوگا اور فرشتے ان کو پل صراط سے گزرتے ہی جنت میں داخل ہونے خوش خبری دیں گے۔ غرض اسی نور کا ذکر ان آیتوں میں ہے اور یہ حدیث اس کی تفسیر ہے۔ منافقوں کے دل میں نور ایمان نہیں ہے۔ اسی واسطے ان کو یا تو سرے سے نور نہ دیا جائے گا یا دیا جائے گا تو ایسا کہ جلدی سے بجھ جائے گا اس لئے کچھ دور تک تو یہ منافق لوگ ایماندار لوگوں کے نور کی جھلک میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

منافقین اہل ایمان کو پکاریں گے اور رحم کی درخواست کرتے ہوئے نہایت عاجزی سے کہیں گے : (اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ) کیا دنیا میں لا الہ الا اللہ کہنے میں ہم تمہارے ساتھ نہ تھے، ہم بھی نمازیں پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے، جہاد کرتے تھے اور تمہارے عمل کرتے تھے ؟ (قَالُوْا بَلٰى) مومنین جواب دیں گے : کیوں نہیں ! تم دنیا میں ہمارے ساتھ تھے اور ظاہر میں ہمارے جیسے اعمال بھی بجا لاتے تھے مگر تمہارے اعمال ایمان، سچی اور صالح نیت سے خالی تھے بلکہ (فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ ) تم نے خود اپنے آپ کو فتنے میں ڈال لیا تھا اور تم نے (اہل ایمان کی بابت گردش زمانہ کا) انتظار کیا اور شک…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 10–18

جو لوگ ابتدائی مشکلات میں کام آئیں وہ بعد میں آنے والوں سے بلند مرتبہ ہوتے ہیں قول باری ہے (لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل۔ تم میں سے جو لوگ فتح (مکہ) سے قبل ہی خرچ کرچکے اور لڑ چکے (وہ ان کے برابر نہیں جو بعد فتح مکہ لڑے اور خرچ کیا) ) تاآخر آیت شعبی سے مروی ہے کہ دونوں ہجرتوں کے درمیان فتح حدیبیہ کا فاصلہ تھا اور اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ صحابہ نے عرض کیا تھا کہ آیا صلح حدیبیہ بھی کوئی فتح تھی، آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا تھا : ” بیشک یہ فتح عظیم تھی۔ “ سعید نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ سے پہلے کے انفاق کی، بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 54] نفاق کا نتیجہ دوزخ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نفاق کا نتیجہ دوزخ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منافقون کے نفاق کا نتیجہ دوزخ اور وہاں پر ہولناک عذاب ہوگا۔ یعنی دوزخ اور اس کی آگ اور دھواں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس وقت انکے سامنے یہ حقیقت آشکار ہوجائے گی کہ دنیا میں اپنے جس کفر و نفاق کو یہ لوگ اپنی بڑی چالاکی کی قرار دیتے اور ہوشیاری سمجھتے تھے، وہ اصل میں ان کیلئے درزخ کی آگ اور اس کا سامان تھا، مگر یہ اس بات کو جانتے اور مانتے نہیں تھے، کہ دنیا کے دار الامتحان میں اصل حقائق پر پردہ پڑا ہوا تھا جس سے یہ لوگ دھوکے میں پڑے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 13–17

منافقوں کا انجام اور پچھتاوا تشریح : ان آیات میں غیب کی بہت بڑی خبر دی گئی ہے جو کہ بالکل سچی ہے۔ پچھلی آیات میں جو مومنین کے اعمال نیک کی روشنی کا ذکر کیا گیا تھا تو اسی کے بارے میں دوبارہ بات ہو رہی ہے۔ جب پل صراط سے نیک لوگ اپنے ایمان کامل کی روشنی میں بلا روک ٹوک گزر جائیں گے تو ان کی دیکھا دیکھی کفارو منافقین بھی اس خیال سے کہ ان کی روشنی میں ہم بھی گزر جائیں گے گزرنے کی کوشش کریں گے مگر وہ ناکام رہیں گے اور پھر افسوس کرتے ہوئے اپنے انجام بد کو پہنچ جائیں گے۔ یہ سب کچھ اس لیے بتایا جا رہا ہے کہ آخرت میں صرف اور صرف اپنے کئے ہوئے اعمال کا ہی بدلہ ملے گا۔ وہاں کوئی شخص کسی صورت سے بھی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–19

آیات 11 تا 19 اسرار ومعارف۔ نیزا للہ کی راہ میں جان مال یا کوشش و محنت جو بھی خرچ کیا جاتا ہے وہ ضائع نہیں ہوتا بلکہ ایک قرض ہے یعنی ایسی دولت جس کی واپسی یقینی ہے اور وہ بھی اللہ کریم کے پاس توکیاہی خوب قرض ہے کہ اللہ کریم اسے کئی گنا بڑھادیتے ہیں اور زیادہ کرکے لوٹاتے ہیں نیز عنداللہ اس کی عزت و عظمت یہ الگ انعام ہے اور یہی مجاہدہ ایک دن مومن مردوں اور خواتین کے آگے اور دائیں بائیں نور کی صورت چلے گا کہ حساب کتاب کے بعد سخت اندھیرا چھاجائے گا اور کفار کو جہنم میں دھکیل دیاجائے گا جبکہ مومنین میں نورتقسیم ہوگا اور ہر ایک مرد وزن کو بقدر اس کے اعمال اور خلوص ملے گا جس کی روشنی میں وہ جہنم پر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 مطل بیہ ہے کہ یہاں تمہیں روشنی ملنے والی نہیں ہے۔ یہ روشنی تو ایمان اور نیک اعمال کی ہے جو ہم نے دنیا میں کئے تھے۔ اب اگر پلٹ کر دنیا میں جاسکتے ہو تو چلے جائو اور وہاں سے روشنی کما کرلے آئو … ایک روایت میں ہے کہ پل صراط کے پاس اللہ تعالیٰ ہر مومن اور منافق کو روشنی دے گا۔ جب سب لوگ پل صراط پر پہنچیں گے تو اللہ تعالیٰ منافقوں کی روشنی سلب کرلے گا اس وقت ایمانداروں سے درخواست کریں۔ انظھقا نفیس من نورکم اور ایماندار کہیں گے ربنا اتملنا نورناً اے رب ہمارے ہماری روشنی مکمل فرما (یعنی جنت میں داخل ہوجانے تک اسے باقی رکھ) اس موقع پر کوئی کسی دوسرے کو نہ پوچھے گا۔ 9 اس دیوار سے مراد وہ دیوار ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(57:14) ینادونھم : ینادون مضارع جمع مذکر غائب مناواۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ وہ پکاریں گے۔ نداء کریں گے۔ ضمیر فاعل منافقین کے لئے ہے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ۔ مؤمنین کے لئے ہے۔ یعنی منافقین مؤمنین کو پکاریں گے (دیوار کے باہر کی طرف سے) الم نکن معکم۔ ہمزہ استفہامیہ ہے انکاریہ ہے۔ لم نکن مضارع نفی جحد بلم صیغہ جمع متکلم۔ کیا ہم (دنیا میں) تمہارے ساتھ نہ تھے۔ علامہ پانی پتی (رح) اپنی تفسیر مظہری میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں جب دیوار حائل ہوگئی اور منافق تار کی میں رہ جائیں گے تو دیوار کے پیچھے سے منافقوں نے پکار کر کہا۔ کیا تمہارے ساتھ دنیا میں ہم نمازیں نہیں پڑھتے تھے۔ اور روزے نہیں رکھتے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–15

لغات القرآن : یقرض۔ قرض دیتا ہے۔ یضعف۔ وہ دوگنا کرتا ہے۔ اضافہ کرتا ہے۔ یسعی۔ دوڑتا ہے۔ انظرونا۔ ہمیں دیکھو۔ ہمارا انتظار کرو۔ نقتبس۔ ہم کچھ حصہ لیں۔ ارجعوا۔ تم لوٹ جائو۔ التمسوا۔ تلاش کرو۔ سور۔ دیوار۔ آر۔ تربصتم۔ تم نے انتظار کیا۔ ارتبتھم۔ تم نے شک کیا۔ غرت۔ دھوکے میں ڈال دیا۔ الامانی۔ تمنائیں۔ مولی۔ مالک۔ خادم۔ تشریح : اللہ جو زمین و آسمان کے تمام خزانوں کا مالک ہے وہ اپنے فرماں بردار بندوں کو ان کی کوششوں، جدوجہد اور محنت سے بھی زیادہ عطا کرتا ہے۔ آدم کے پاس جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے وہی مالک ہے لیکن اس کی شان کریمی کے قربان کہ وہ اس کی رضا و خوشنوی کے لئے خرچ کئے گئے مال کو اپنے اوپر قرض…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–15

اہل جنت اور دوزخ کا ذکر۔ (ف 1) اے محبوب ﷺ قیامت کے روز مسلمانوں کا حال دیکھنا وہ مرد اور عورتیں جو سچے دل سے تصدیق کرتے ہیں کہ ان کا نور ایمان و اعمال صالحہ ان کے سامنے اور سیدھی الٹی طرف جلوے دکھاتا ہوادوڑتا ہوا چلتا ہوگا یعنی جب پل صراط سے گزریں گے تو نور کی مشعلیں روشنی کی دکھائیں گی فرشتے چار طرف سے دل بڑھاتے ہوں گے خوش خبریاں مبارک بادیاں دیتے ہون گے کہ لواب چل کر جنتوں میں داخل ہو، وہ جنتیں جن کے مکانوں اور درختوں کے نیچے شراب وشہد کی نہریں رواں دواں ہوں گی اور وہاں ہمیشہ رہیں گے نہ مریں گے نہ نکلیں گے یہ نہایت اعلی درجہ کی کامیابی ہے ، کہ جنت دوزخ سے بچے ۔ اس کے بعد منافقوں کا حال بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–15

[20] اور وہ گمراہی یہ تھی کہ تم پیغمبر اور مسلمانوں سے عداوت رکھتے تھے۔ [21] یعنی تم باطل امیدوں میں رہے کہ مسلمان حوادث کا شکار ہوجائیں گے اور اسلام مٹ جائے گا۔ [22] یعنی موت نے آدبوچا۔ [23] اللہ کے بارے میں دھوکا یہی کہ کفر حق ہے اور اسلام محض ڈھکوسلا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–15

سزا کی صحیح ترین شکل منافقین کا گروہ دنیا میں جرات سے ایمانی سے یک قلم محروم رہا ۔ اور ہمیشہ عارضی مسرتوں کو دائمی آسودگیوں پر ترجیح دیتارہا ۔ اور کوشش کرتا رہا ۔ کہ مسلمان کبھی حقیقت حال سے آگاہ نہ ہوں ۔ اظہر کے پردے میں باطن کو پکارتا رہا ۔ اور چند شمع کی باتوں سے اس خبث کو جو اس کی عزیز ترین دولت تھی دل کی گہرائیوں میں پنہاں کئے رہا ۔ اللہ نے دنیا میں ان سے بدکرداری کا یوں انتقام لیا ۔ کہ ان کے تمام اسراء ایک ایک کرکے واشگاف طور پر بیان کردیئے ۔ اور ان کو بتا دیا کہ تمہارا اقدام ہماری نظر میں ہے ۔ اور تم ہزار چالاکی کے باوجود بھی ہمیں دھوکہ نہیں دے سکتے ۔ اور آخرت میں مادیت نفسی کی ایسی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) یہ منافق مسلمانوں کو پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے وہ کہیں گے بیشک تم ہمارے ساتھ تھے لیکن تم نے اپنے آپ کو گمراہی میں مبتلا کررکھا تھا اور تم ہم پر حوادثات کا انتظار کیا کرتے تھے اور تم شک رکھتے تھے اور تمہاری غلط امیدوں اور آرزوئوں نے تم کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا یہاں ت کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچا یعنی تم کو موت آگئی اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمکو اس دھوکے باز یعنی شیطان نے دھوکہ میں مبتلا رکھا۔ یعنی بظاہر نماز روزے میں شریک تھے لیکن تم نفاق کی گمراہی میں مبتلا تھے اور تم نے اپنے آپ کو نفاق کے فتنے میں ڈال رکھا تھا اور تم توحید اور پیغمبر کے متعلق شک کیا کرتی تھے اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ مرد بےہودہ تمناوں سے یہ کہ اسلام مٹ جائے گا اور یہ کہ ہمارا مذہب حق اور موجب نجات ہے، اور مراد حکم خدا سے موت ہے یعنی عمر بھر ان ہی کفریات پر مصر رہے، توبہ بھی نہ کی۔ 5۔ حاصل مجموعہ کا یہ ہے کہ ان کفریات کی وجہ سے تمہاری معیت ظاہر یہ نجات کے لئے کافی نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ اہل جنت کو پکاریں گے اور پھر ان کی طرف سے ان کو نقد جواب سنایا جائے گا 14 ؎ گزشتہ آیت میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ منافقین نے جب مومنوں کو مخاطب کر کے ان کی روشنی سے اقتباس حاصل کرنے کی اپیل کی تو کیا ہوا تھا ؟ یہی کہ ابھی مومنوں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتوں نے ان کے سوال کا عملاً جواب دے دیا اور وہ جواب یہ تھا کہ ایک طرف سے تو ان کے سامنے ایک دیوار کی آڑ پیدا کردی اور دوسری طرف انہوں نے ان کو دھتکارتے ہوئے واپس جا کر اپنے نور کی تلاش کرنے کا حکم سنایا تھا لیکن وہ واپس جاتے تو کیسے ، کیوں ؟ اس لیے کہ اب تو ان کی واپسی کا راستہ ہی بند تھا اور سامنے کی دیوار میں بھی صرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–15

يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ لِلَّذِينَ آمَنُوا انظُرُ‌ونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِ‌كُمْ (...the Day when the hypocrite men and hypocrite women will say to those who believe, "Wait for us, so that we may have a share from your light...(57:13) The meaning is self-evident. قِيلَ ارْ‌جِعُوا وَرَ‌اءَكُمْ فَالْتَمِسُوا نُورً‌ا (...it will be said [ to them ], "Go back to your rear, and search for light ....57:13) This reply will be given by either the believers, or by the angels. [ Ibn ` Abbas ؓ and Qatadah (رح) ] فَضُرِ‌بَ بَيْنَهُم بِسُورٍ‌ لَّهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

20 That is, "Did we not live with you together in the same Muslim society? Did we not affirm the Faith? Did we not offer the Prayers along with you and observe the Fast and perform the Hajj and pay the Zakat? Did we not sit with you in your assemblies and were we not bound in marriage ties and kinship with you? Then, how is it that we have been separated from you today?" 21 That is In spite of yew claim to be Muslims, you never believed like true and ,sincere Muslims and remained suspended between belief and unbelief. You still had your interests attached to disbelief and the disbelievers and…

Read the full tafseer →