Explained with ayahs 12–15
اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے نیک اعمال کے مطابق انہیں نور ملے گا جو قیامت کے دن کے ان کے ساتھ ساتھ رہے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان میں بعض کا نور پہاڑوں کے برابر ہوگا اور بعض کا کھجوروں کے درختوں کے برابر اور بعض کا کھڑے انسان کے قد کے برابر سب سے کم نور جس گنہگار مومن کا ہوگا اس کے پیر کے انگوٹھے پر نور ہوگا جو کبھی روشن ہوتا ہوگا اور کبھی بجھ جاتا ہوگا (ابن جریر) حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے بعض مومن ایسے بھی ہوں گے جن کا نور اس قدر ہوگا کہ جس قدر مدینہ سے عدن دور ہے اور ابین دور ہے اور صنعا دور ہے۔ بعض…
Read the full tafseer →سورة الْحَدِیْد 26
یہاں اس امر کی تصریح ہے کہ آخرت میں منافق کا انجام وہی ہوگا جو کافر کا ہوگا۔
سورة الْحَدِیْد 27
اصل الفاظ ہیں ھِیَ مَوْلَاکُمْ ، " دوزخ ہی تمہاری مولیٰ ہے " اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہی تمہارے لیے موزوں جگہ ہے۔ دوسرا یہ کہ اللہ کو تو تم نے اپنا مولیٰ بنایا نہیں کہ وہ تمہاری خبر گیری کرے، اب تو دوزخ ہی تمہاری مولیٰ ہے، وہی تمہاری خوب خبر گیری کرے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
(آیت) يَوْمَ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ ، یعنی اس روز جب منافق مرد اور منافق عورتیں مومنین سے کہیں گے کہ ذرا ہمارا انتظار کرو ہم بھی تمہارے نور سے فائدہ اٹھا لیں۔
(آیت) قِيْلَ ارْجِعُوْا وَرَاۗءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا، ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے لوٹو جہاں یہ نور تقسیم ہوا تھا وہیں نور تلاش کرو، یہ بات یا تو مومنین ان کے جواب میں کہیں گے یا فرشتے جواب دیں گے (کماروی عن ابن عباس وقتادة قولین)
(آیت) فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ ۭ بَاطِنُهٗ فِيْهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَاب یعنی…
Read the full tafseer →(فالیوم لا یوخذ منکم فدیۃ ولا من الذین کفروا ما و لکم النار ھی ھولکم وبس المصیر (15)
یعنی یہ صورت حال جو تمہیں یش آئی ہے پوری آگاہی اور اتمام حجت کے بعد پیش آئی ہے اس وجہ سے اب اس سے چھوٹنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے۔ یہاں کسی کے پاس نہ تو کوئی چیز فدیہ میں دینے کی ہے اور نہ کسی سے فدیہ قبول ہی ہوگا نہ تم سے اور نہ ان کافروں سے جن کے ساتھ تمہارا یارا نہ رہا ہے تم چونکہ اسلام کی طرف یکسو نہیں ہوئے اس وجہ سے ایمان کے ادعا کے باوجود تمہارا اور ان کفار کا حشر ایک ہی ساتھ ہوگا۔ تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہی تمہارا مولی یعنی مرجع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب تمہارے لیے نہ خدا کے سامنے کسی وادو فریاد کی گنجائش…
Read the full tafseer →15-1مولیٰ اسے کہتے ہیں جو کسی کے کاموں کا متولی یعنی ذمے دار بنے گویا اب جہنم ہی اس بات کی ذمہ دار ہے کہ انہیں سخت سے سخت تر عذاب کا مزا چکھائے بعض کہتے ہیں کہ ہمیشہ ساتھ رہنے والے کو بھی مولیٰ کہہ لیتے ہیں یعنی اب جہنم کی آگ ہی ان کی ہمیشہ کی ساتھی اور رفیق ہوگی، بعض کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جہنم کو بھی عقل وشعور عطا فرمائے گا پس وہ کافروں کے خلاف غیظ وغضب کا اظہار کرے گی، یعنی ان کی والی بنے گی اور انہیں عذاب الیم سے دوچار کرے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
12: یعنی اس انتظار میں رہے کہ کب مسلمانوں پر کوئی مصیبت آئے، اور ہم کھلے بندوں اپنے کفر کا اظہار کریں۔
13: منافقین اس انتظار اور آرزو میں تھے کہ مسلمانوں کو ان دشمنوں کے ہاتھوں شکست ہوجائے، اور (معاذ اللہ) اسلام کا بالکل خاتمہ ہی ہوجائے۔
Read the full tafseer →فالیوم ........................ المصیر (75 : 51) ” لہٰذا آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کھلا کھلا کفر کیا تھا۔ تمہارا ٹھکانا جہنم ہے ، وہی تمہاری خبر گیری کرنے والی ہے اور یہ بدترین انجام ہے۔ “
یہ شاید دربار مقتدر اعلیٰ سے اعلان ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے جواب ہوگا۔
اس منظر کی فنی ہم آہنگی کو دیکھا جائے تو اس کے لئے نور کے انتخاب میں ایک خاص حکمت ہے۔ کیونکہ یہ بات منافقین اور منافقات کے گروہ کے بارے میں ہے اور منافقین اور منافقات کے گروہ کا اصل کردار ہی یہ ہوتا ہے کہ اپنے باطن کو چھپاتے ہیں اور ان کے ضمیروں میں جو بات چھپی ہوتی ہے اس کے مقابلے میں کچھ اور…
Read the full tafseer →2 یعنی بالفرض اگر آج تم (منافق) اور جو کھلے بندوں کافر تھے کچھ معاوضہ وغیرہ دے کر سزا سے بچنا چاہو تو اس کے منظور کیے جانے کی کوئی صورت نہیں۔ بس تم سب کو اب اسی گھر میں رہنا ہے۔ یہ ہی دوزخ کی آگ تمہارا ٹھکانا ہے اور یہ ہی رفیق ہے۔ کسی دوسرے سے رفاقت کی توقع مت رکھو۔
Read the full tafseer →آیت 15{ فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْکُمْ فِدْیَۃٌ وَّلَا مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا } ”تو آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ہی کافروں سے۔“
ان الفاظ میں گویا واضح کردیا گیا کہ دنیا میں تمہارا شمار بیشک مسلمانوں میں ہوتا رہا تھا لیکن یہاں تمہارا حشر کافروں کے ساتھ ہوگا۔ دنیا میں تو منافق خود کو مسلمان ہی کہتا ہے اور قانوناً بھی وہ مسلمان ہی شمار ہوتا ہے ‘ لیکن اللہ خوب جانتا ہے کہ اس کا دل ایمان سے خالی ہے اور وہ صرف ایک زبانی عقیدہ dogma لیے پھرتا ہے۔ ظاہر ہے جب دل میں ایمان ہی نہیں تو اس کے نیک اعمال بھی ریاکاری اور دکھاوے پر مبنی ہیں۔ چناچہ ایسے لوگوں کو ان کے نیک اعمال کا بھی…
Read the full tafseer →27 جو اللہ کو سرپرست نہ بنائے اس کی سرپرست جہنم ہے :۔ یہ غالباً مومنوں کی منافقوں سے گفتگو کا آخری حصہ ہے کہ جس مال و متاع کی خاطر دنیا میں تم نے منافقت کا رویہ اختیار کیا تھا۔ آج اگر وہ مال و متاع تمہیں مل بھی جائے تو وہ تمہارے کسی کام نہیں آسکتا۔ وہ مال و دولت سارے کا سارا دے کر بھی تم عذاب جہنم سے بچ نہیں سکتے۔ نہ ہم تمہیں اپنے ساتھ لے جاسکتے ہیں۔ ضمناً اس آیت سے دو اور باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ بدترین انجام کے لحاظ سے منافق اور کافر میں کوئی فرق نہیں۔ منافق بھی حقیقتاً کافر ہی ہوتے ہیں۔ اور دوسری یہ کہ جو شخص اللہ کو سرپرست نہ بنائے جہنم از خود اس کی سرپرست بن جاتی ہے۔
Read the full tafseer →22۔ (کہ یہ دار الجزاء ہے۔ دارالعمل نہیں۔ اور تمہاری معیت ظاہری یہاں نجات کے لیے ہرگز کافی نہیں ہوسکتی) (آیت) ” منکم فدیۃ ولا من الذین کفروا “۔ یعنی نہ چھپے ہوئے کافروں (منافقوں) سے اور نہ کھلے ہوئے کافروں سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
ترجمہ :۔ کون شخص ہے کہ جو اپنا مال اللہ کو قرض حسن کے طور پردے یعنی اللہ کے راستہ میں خرچ کرے ؟ اس طریقہ پر کہ (خالص) اللہ کے سوا خرچ کرے پھر اللہ تعالیٰ اس قرض کو اس شخص کے لئے بڑھاتا چلا جائے اور ایک قرأت میں فیضعفۃ تشدید کے ساتھ ہے دس گنے سے سات سو گنے تک زیادہ جیسا کہ سورة بقرہ میں مذکور ہو، اور اس کے لئے (اجر) بڑھانے کے ساتھ پسندیدگی کا اجر بھی ہے (یعنی) اس اجر کے ساتھ رضا مندی اور قبولیت ہے، اس دن کا ذکر کیجیے کہ جس دن آپ مومنین اور مومنات کو دیکھیں گے کہ ان کا اجر ان کے سامنے ہے اور نو ران کے داہنی جانب دوڑتا ہوگا اور ان سے کہا جائے گا آج تمہارے لئے ایسی جنت کی یعنی اس میں داخل ہونے…
Read the full tafseer →آج نہ تم سے معاوضہ لیا جائے گا نہ کافروں سے ‘ تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے ‘ وہی تمہارا رفیق ہے اور وہ
(ؤاقعی) برا ٹھکانہ ہے۔ “
فِدْیَۃٌ : بدل ‘ عوض۔
وَّلاَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا : یعنی کوئی بدل اور عوض ان لوگوں کی طرف سے بھی نہیں لیا جائے گا ‘ جنہوں نے علی الاعلان کفر کیا تھا (یعنی منافقوں کی طرح مسلمان ہونے کا زبانی دعویٰ بھی نہیں کیا تھا) ۔
وَمَاْوَاکُمُ النَّارُ : یعنی تمہارے رہنے کی جگہ دوزخ ہے جس کے متعلق کہا جائے گا۔
ھِیَ مَوْلٰکُمْ : کہ یہ ہی تمہارے لیے مناسب ہے یا یہی مقام تمہارا مددگار ہے یا مولیٰ سے مراد ہے متولّی (ذمہ دار ‘ مرتکب ‘ موجب) یعنی جس طرح تم دنیا میں موجبات دوزخ کے مرتکب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
پھر یہ منافقین دیوار کے باہر سے پکاریں گے کہ اے گروہ مومنین کیا ہم دنیا میں تمہارے دین پر نہیں تھے مسلمان کہیں گے ہاں تھے تو سہی مگر تم نے کفر اور نفاق کی وجہ سے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رکھا تھا۔
اور کفر و نفاق سے توبہ کرنے کو چھوڑ رکھا تھا یا یہ کہ تم رسول اکرم کی موت اور اظہار کفر کے منتظر تھے۔ اور اللہ تعالیٰ اور کتاب اللہ اور رسول اللہ کے بارے میں شک رکھتے تھے اور تمہیں تمہاری جھوٹی تمناؤں نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا یہاں تک کہ تم پر اللہ کا حکم آپہنچا کہ کفر و نفاق کی حالت میں تمہیں موت نے آدبوچا۔
اور تمہیں دھوکا دینے والے شیطان نے اطاعت خداوندی سے دھوکا میں ڈال رکھا تھا یا یہ کہ دنیاوی…
Read the full tafseer →فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْکُمْ فِدْیَۃٌ۔۔۔۔۔: اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن کفار و منافقین کا ٹھکانہ ایک ہی ہوگا ، جو آگ ہے۔ وہاں وہ مال نہ منافقین کے کام آئے گا جس کی وجہ سے وہ نفاق کا شکار رہے ، نہ کفار کے کہ اس کے ساتھ فدیہ دے کر عذاب سے چھوٹ جائیں اور نہ ہی آگ کے سوا ان کا کوئی یار و مددگار ہوگا اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ آل عمران (91)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
یوم یقول المنفقون، یوم میں عامل ذلک ھو الفوز العظیم۔ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ پہلے یوم سے بدل ہے (1) انظرونا نقتبس عام قرأت ہمزہ وصلی اور ظاء کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ یہ نظر سے مشتق ہے۔ نظر، انتظار کے معنی میں ہے یعنی ہمارا انتظار کیجیے۔ اعمش، حمزہ اور یحییٰ بن وثاب نے انظرونا الف قطعی اور ظاء کے کسر کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ انظار سے مشتق ہے یعنی ہمیں مہلت دو ۔ انظرتہ میں نے اسے مہلت دی، استنظرتہ میں نے اس سے مہلت طلب کی۔ فراء نے کہا : عرب کہتے انظرنی انتظرنی اور عمرو بن کلثوم کا شعر پڑھا :
ابا ھند فلا تعجل علینا وانظرنا نخبرک الیقینا (2)
اے ابوہند ! ہم پر جلدی نہ کرو، ہمارا انتظار کرو ہم تجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
24۔ بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولکنکم فتنتم انفسکم لیکن تم نے اپنے کو گمراہی میں پھنسا رکھا تھا۔ یعنی شہوات اور لذات کے فتنوں میں ڈال دیا تو اور تم توبہ کا اتنظار کرتے تھے۔ آیت وتربصتم اور تم شک میں پڑے ہوئے تھے اللہ کے بارے میں آیت وغرتکم الامانی حتی جاء امر اللہ۔ اور تم کو تمہاری تمناؤں نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا یہاں تک کہ تم پر خدا کا حکم آپہنچا، یعنی موت۔ آیت وغرکم باللہ الغرور۔ اور تم کو دھوکہ دینے والے شیطان نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا یعنی شیطان نے۔
25۔ عبد بن حمید نے ابو سفیان (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولکنکم فتنتم انفسکم اور تم فتنہ میں پڑے ہوئے تھے گناہوں…
Read the full tafseer →[فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنْكُمْ : تو اس دن نہیں لی جائے گی تم لوگوں سے ][ فِدْيَةٌ: بدلے میں کوئی چیز ][ وَّلَا مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭ: اور نہ ان سے جنہوں نے کھلا انکار کیا ][ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ ۭ: تم سب کا ٹھکانہ یہ آگ ہے ][ هِىَ مَوْلٰىكُمْ ۭ: یہ اب تمہاری کرتا دھرتا ہے ][ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ : کتنی بری ہے یہ لوٹنے کی جگہ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
قیامت کے دن مومنین مومنات کو نور دیا جائے گا منافقین کچھ دور ان کے ساتھ چل کر اندھیرے میں رہ جائیں گے
ان آیات میں مومنین و مومنات اور منافقین و منافقات کی حالت بتائی ہے جس کا قیامت کے دن ظہو ہوگا اہل ایمان کے بارے میں فرمایا کہ اے مخاطب تم قیامت کے دن مومنین و مومنات کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے داہنی طرف دوڑ رہا ہوگا ان سے کہا جائے گا کہ آج تمہارے لیے ان جنتوں کی بشارت ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان میں تم ہمیشہ رہو گے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُۚ0012﴾ (یہ بڑی کامیابی ہے) ۔
قیامت کے دن حاضر تو سبھی ہوں گے، مومن بھی منافق بھی کھلے ہوئے کافر بھی اور وہ لوگ بھی جو دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
احوال آخرت ومیدان حشر مع ذکر انعام واکرام، مومنین وذلت وناکامی منکرین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم تری ال مومنین وال مومنت ..... الی ...... وبئس المصیر “۔
(ربط) ابتداء سورت سے حق تعالیٰ شانہ کی عظمت و پاکی بیان کی گئی اور یہ کہ ساری کائنات اس کی ربوبیت والوہیت کا اقرار کرتی ہے اور وہی اول وآخر ہے اور وہی ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم اور ہر شیء پر قادر ہے تو اس کے بعد یہ بیان فرمایا جارہا ہے اس ذات رب العزت پر ایمان لانے والوں کا آخرت میں کیسا اعزاز ہوگا اور کیسے عظیم انعامات سے نوازے جائیں گے اور اسکے برعکس جو لوگ ایمان سے محروم رہے ان کی بدنصیبی اور بدحالی کا کیسا عالم ہوگا ارشاد…
Read the full tafseer →16:۔ ” فالیوم “ اس لیے آج تم کسی صوت جہنم سے نہیں بچ سکتے۔ آج تم سے اور کافروں سے کسی قسم کا فدیہ اور معاوضہ قبول نہیں کیا جائیگا اور نہ تمہارا کوئی حامی اور مددگار ہی تمہیں تمہیں عذاب سے بچا سکے گا آج لا محالہ تمہیں جہنم میں جانا ہے، وہی تمہار دائمی ٹھکانہ ہے اور آج جہنم ہی تمہاری حامی اور مددگار ہے اور وہی تمہاری جائے پناہ ہے جو نہایت ہی بدترین ٹھکانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے مال خرچ کرنے کا ذکر فرمایا اور واضح کیا کہ جو لوگ بوقت ضرورت خرچ کرتے ہیں ان کے لئے زیادہ اجر ہوتا ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ فتح مکہ سے پہلے ایمان لانے والے بعد میں اسلام قبول کرنے والوں سے بدرجہا افضل ہیں ۔ تمہارے اموال کا حقیقی مالک اور متصرف تو اللہ تعالیٰ ہے ، تاہم اس نے اپنی مہربانی سے تمہیں اس سے پہلے لوگوں کا نائب بنایا ہے اور خرچ کرنے کا حکم دیا ہے لہٰذا تمہیں اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے بلکہ اللہ کے عطا کردہ مال کو بڑھ چڑھ کر خرچ کرنا چاہیے۔ یہ مال اللہ کی طرف سے تمہارے پاس بطور امانت ہے جس کے لوٹانے میں تمہیں ہچکچاہٹ…
Read the full tafseer →فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْيَۃٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا 0 ۭ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ 0 ۭ ہِىَ مَوْلٰىكُمْ 0 ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ 15
لا
«لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت .
ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ترکیب : یوم الظرف یضاعف وقیل العامل یسعٰی وقیل التقدیر جرون یوم ترای یسعی نورھم حال بین ایدیہم ظرف یسعٰی اوحال من النور بشراکم مبتداء جنات الخ۔ خبرہ اے دخول جنات والجملۃ حال ای یقال لھم ذلک یوم یقول بدل من یوم الاول وقیل التقدیرا ذکر باطنہ الجملۃ صقۃ لباب اولسور و ینا دونہم حال من الضمیر فی بینہم۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں جہاد کرنے والوں، ایمانداروں، اللہ کو قرض دینے والوں کے لیے دو چند ملنے اور اجر عظیم کا وعدہ ہوا تھا اس لیے اس ایفائِ وعدہ کا وقت بیان فرماتا ہے۔ فقال یوم تری المؤمنین والمؤمنات الخ۔ کہ یہ اس دن ہوگا کہ جس روز ایماندار مردوں اور عورتوں کے آگے ان کا نور دوڑتا ہوا چلے گا اور ان…
Read the full tafseer →فَالْیَوْمَ لاَ یُؤْخَذُ مِنْـکُمْ فِدْیَۃٌ وَّلاَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط مَاْوٰ کُمُ النَّارُ ھِیَ مَوْلَـکُمْ ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ (الحدید : 15)
(پس آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، تم سب کا ٹھکانہ آگ ہے، وہی تمہارا مرجع ہے اور بدترین ٹھکانہ ہے۔ )
جب تم نے اپنے آپ کو بری طرح فتنوں میں مبتلا رکھا اور مسلمانوں کے بارے میں ہمیشہ تحفظات کا شکار رہے، کبھی بھی تمہارے اندر ایمان کی شمع روشن نہ ہوسکی۔ تم ایمانیات کے بارے میں بھی ہمیشہ شک وشبہ میں مبتلاء رہے۔ تو اس کے بعد کیا امید کی جاسکتی تھی۔ اس لیے صاف صاف فرما دیا گیا ہے کہ آج تم سے کوئی فدیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کی جنتیوں سے آخری فریاد۔
جب جنتی منافقین سے یہ کہیں گے کہ اپنے پیچھے جاکر روشنی تلاش کرو تو منافق کہیں گے کیا دنیا میں ہم تمہارے ساتھ نہیں رہتے تھے ؟ جنتی جواب دیں گے کیوں نہیں ! تم ہمارے ساتھ رہتے تھے لیکن تم نے اپنے آپ کو دھوکے میں رکھا، اسلام کے بارے میں شک میں مبتلا رہے، ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں منتظر رہے کہ کب اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا۔ ان آرزؤں اور شیاطین نے تمہیں ہمیشہ دھوکے میں رکھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچا۔ تم یہ کام دنیا کے فائدے کی خاطر منافقت کرتے تھے لہٰذا آج اپنے کیے کی سزا پاؤ۔ آج کفار اور تم سے نہ کسی قسم کا فدیہ…
Read the full tafseer →15 : فَالْیَوْمَ لَایُؤْخَذُ مِنْکُمْ (آج نہ تم سے لیا جائے گا) اے منافقو !
قراءت : شامی نے توخذ تاء سے پڑھا ہے۔
فِدْیَۃٌ (کوئی معاوضہ) جس سے فدیہ دیا جاسکے وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ کفَرُوْا مَاْ وٰ کُمُ النَّارُ ھِیَ مَوْلٰـکُمْ (اور نہ کافروں سے تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے وہی تمہارا رفیق ہے) ماوٰی : ٹھکانہ، مولیٰؔ بمعنی وہ تمہارے لئے زیادہ مناسب ہے۔ مولاکمؔ ای محراکم وہ مکان تمہارے مناسب ہے جیسا کہتے ہیں۔ ھو مئنۃ للکرم۔ ای مکان جبکہ کوئی کہے انہ لکریمٌ وہ مکان مہربانی ہے۔ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ (اور وہ برا ٹھکانہ ہے) یعنی آگ۔
Read the full tafseer →14 ۔” ینادونھم “ عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا گیا انہوں نے فرمایا کہ وہ سور جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن کی آیت ” فضرب بینھم بسور لہ باب “ میں ذکر کیا ہے یہ بیت المقدس کی مشرقی جانب کی دیوار ہے اس کے باطن میں رحمت اور اس کا ظاہر کی جانب عذاب ہے جہنم کی وادی۔ ابن شریح (رح) فرماتے ہیں کعب (رح) فرماتے تھے اس دروازہ کے بارے میں جو بیت المقدس میں ہے جس کا نام باب رحمت رکھا گیا ہے کہ یہ وہ دروازہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” فضرب بینھم بسورلہ باب “ الآیہ۔
” ینادونھم “ یعنی منافقین مومنین کو دیوار کے پیچھے سے پکاریں گے جب ان کے درمیان رکاوٹ کردی جائے گی اور وہ تاریکی میں رہ جائیں گے۔ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
12۔ 15۔ معتبر سند 3 ؎ سے طبرانی اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا پل صراط پر گزرنے کے وقت اندھیرا ہوگا اس لئے ہر ایماندار مرد اور ورت کو ان کے عملوں کے موافق میدان محشر نور دے کر پل صراط پر گزرنے کا حکم ہوگا اور فرشتے ان کو پل صراط سے گزرتے ہی جنت میں داخل ہونے خوش خبری دیں گے۔ غرض اسی نور کا ذکر ان آیتوں میں ہے اور یہ حدیث اس کی تفسیر ہے۔ منافقوں کے دل میں نور ایمان نہیں ہے۔ اسی واسطے ان کو یا تو سرے سے نور نہ دیا جائے گا یا دیا جائے گا تو ایسا کہ جلدی سے بجھ جائے گا اس لئے کچھ دور تک تو یہ منافق لوگ ایماندار لوگوں کے نور کی جھلک میں…
Read the full tafseer →(فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْيَةٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا) لہذا آج تم سے فدیہ قبول کیا جائے گا نہ کافروں سے۔ اگرچہ تم زمین بھر سونا، نیز اتنا ہی مزید اپنے فدیے میں ادا کرو تو تم سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ (مَاْوٰىكُمُ النَّارُ ) یعنی جہنم تمہارا ٹھکانا ہے۔ (هِىَ مَوْلٰىكُمْ ) یہ جہنم تمہارا والی ہوگا اور تمہیں اپنے پاس رکھے گا۔ (وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ ) اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (واما من خفت موازینہ۔ فامہ ھاویہ، وما ادرک ماھیہ، نار حامیہ) (القارعہ :) اور جن کے اعمال کے وزن ہلکے نکلیں گے تو ان کا ٹھکانا ہاویہ ہے اور آ کیا جانیں کہ یہ ہاویہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
جو لوگ ابتدائی مشکلات میں کام آئیں وہ بعد میں آنے والوں سے بلند مرتبہ ہوتے ہیں
قول باری ہے (لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل۔ تم میں سے جو لوگ فتح (مکہ) سے قبل ہی خرچ کرچکے اور لڑ چکے (وہ ان کے برابر نہیں جو بعد فتح مکہ لڑے اور خرچ کیا) ) تاآخر آیت
شعبی سے مروی ہے کہ دونوں ہجرتوں کے درمیان فتح حدیبیہ کا فاصلہ تھا اور اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ صحابہ نے عرض کیا تھا کہ آیا صلح حدیبیہ بھی کوئی فتح تھی، آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا تھا : ” بیشک یہ فتح عظیم تھی۔ “ سعید نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ سے پہلے کے انفاق کی، بعد…
Read the full tafseer →[ 58] اہل کفر و نفاق دونوں کا ٹھکانا دوزخ، والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کافروں اور منافقوں دونوں کا ٹھکانا دوزخ ہوگا، والعیاذ باللّٰہ، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز منافقوں سے کہا جائیگا کہ اب نہ تم سے کوئی فدیہ لیا جائیگا اور نہ کھلے کافروں سے، اب تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے، وہی تمہارا ساتھی ہے، اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے سو وہ اس روز ان دونوں کیلئے روزخ کا اعلان ہوجائے گا تب ان کیلئے کوئی چارہ کار نہیں رہے گا۔ صحیح حدیث میں وارد ہے کہ قیامت کے روز اللہ پاک ایک کافر سے پوچھے گا کہ اگر تجھے دنیا بھر کی اور اس کے ساتھ کئی گنا اور بھی دولت مل جائے تو کیا تو اسے آج کے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
منافقوں کا انجام اور پچھتاوا
تشریح : ان آیات میں غیب کی بہت بڑی خبر دی گئی ہے جو کہ بالکل سچی ہے۔ پچھلی آیات میں جو مومنین کے اعمال نیک کی روشنی کا ذکر کیا گیا تھا تو اسی کے بارے میں دوبارہ بات ہو رہی ہے۔ جب پل صراط سے نیک لوگ اپنے ایمان کامل کی روشنی میں بلا روک ٹوک گزر جائیں گے تو ان کی دیکھا دیکھی کفارو منافقین بھی اس خیال سے کہ ان کی روشنی میں ہم بھی گزر جائیں گے گزرنے کی کوشش کریں گے مگر وہ ناکام رہیں گے اور پھر افسوس کرتے ہوئے اپنے انجام بد کو پہنچ جائیں گے۔ یہ سب کچھ اس لیے بتایا جا رہا ہے کہ آخرت میں صرف اور صرف اپنے کئے ہوئے اعمال کا ہی بدلہ ملے گا۔ وہاں کوئی شخص کسی صورت سے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
آیات 11 تا 19
اسرار ومعارف۔
نیزا للہ کی راہ میں جان مال یا کوشش و محنت جو بھی خرچ کیا جاتا ہے وہ ضائع نہیں ہوتا بلکہ ایک قرض ہے یعنی ایسی دولت جس کی واپسی یقینی ہے اور وہ بھی اللہ کریم کے پاس توکیاہی خوب قرض ہے کہ اللہ کریم اسے کئی گنا بڑھادیتے ہیں اور زیادہ کرکے لوٹاتے ہیں نیز عنداللہ اس کی عزت و عظمت یہ الگ انعام ہے اور یہی مجاہدہ ایک دن مومن مردوں اور خواتین کے آگے اور دائیں بائیں نور کی صورت چلے گا کہ حساب کتاب کے بعد سخت اندھیرا چھاجائے گا اور کفار کو جہنم میں دھکیل دیاجائے گا جبکہ مومنین میں نورتقسیم ہوگا اور ہر ایک مرد وزن کو بقدر اس کے اعمال اور خلوص ملے گا جس کی روشنی میں وہ جہنم پر…
Read the full tafseer →ف 13 اللہ کے باب میں شیطان کا انسان کو دھوکا دیتا کئی ہیں۔ “ پل صراط پر کافر نہ چلیں گے۔ وہ پہلے ہی دوزخ میں پڑیں گے مگر جو امت ہے کسی نبی کے سچے یا کچے۔ جب اندھیرا گھیر یگا ایمان والوں کے ساتھ روشنی ہوگی۔ منافق ان کی روشنی میں چلنے لگے وہ شتاب نکل گئے یہ رہے پیچھے پکارت یکہ ہم کو بھی روشنی دو کسی نے کہا کہ پیچھے سے روشنی لائو، وہ پیچھے ہٹے ان کے بیج دیوار کھڑی ہوگئی۔ یعنی روشنی دنیا میں کمائی جاتی ہے وہ جگہ پیچھے آئے۔ (کذا فی الموضح)
Read the full tafseer →(57:15) فالیوم :ترتیب کے لئے ہے۔ الیوم آج کے دن۔
منکم میں کم ضمیر جمع مذکر حاضر منافقین کے لئے ہے۔
فدیۃ : بدل ۔ عوض۔ یعنی اے منافقوا ! آج کے دن نہ تم سے معاوضہ لیا جائے گا۔
ولا من الذین کفروا۔ اور نہ ان سے فدیہ لیا جائے گا جنہوں نے (علی الاعلان) کفر کیا۔ یعنی جو چٹے ننگے کافر تھے یعنی جنہوں نے منافقوں کی طرح مسلمان ہونے کا زبانی دعوی بھی نہیں کیا تھا۔
وماوکم النار : واؤ عاطفہ، ماوی ٹھکانہ۔ رہنے کی جگہ۔ اوی یاوی اوی (باب ضرب) مصدر سے۔ ماوی اسم ظرف مکان ہے۔ ماوکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہارا ٹھکانہ۔ یہاں کم سے مراد منافقین اور صریحا کافر ہیں کیونکہ دونوں کے لئے بخشش اور مغفرت نہیں ہے۔ النار آگ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
لغات القرآن : یقرض۔ قرض دیتا ہے۔ یضعف۔ وہ دوگنا کرتا ہے۔ اضافہ کرتا ہے۔ یسعی۔ دوڑتا ہے۔ انظرونا۔ ہمیں دیکھو۔ ہمارا انتظار کرو۔ نقتبس۔ ہم کچھ حصہ لیں۔ ارجعوا۔ تم لوٹ جائو۔ التمسوا۔ تلاش کرو۔ سور۔ دیوار۔ آر۔ تربصتم۔ تم نے انتظار کیا۔ ارتبتھم۔ تم نے شک کیا۔ غرت۔ دھوکے میں ڈال دیا۔ الامانی۔ تمنائیں۔ مولی۔ مالک۔ خادم۔
تشریح : اللہ جو زمین و آسمان کے تمام خزانوں کا مالک ہے وہ اپنے فرماں بردار بندوں کو ان کی کوششوں، جدوجہد اور محنت سے بھی زیادہ عطا کرتا ہے۔ آدم کے پاس جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے وہی مالک ہے لیکن اس کی شان کریمی کے قربان کہ وہ اس کی رضا و خوشنوی کے لئے خرچ کئے گئے مال کو اپنے اوپر قرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
اہل جنت اور دوزخ کا ذکر۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ قیامت کے روز مسلمانوں کا حال دیکھنا وہ مرد اور عورتیں جو سچے دل سے تصدیق کرتے ہیں کہ ان کا نور ایمان و اعمال صالحہ ان کے سامنے اور سیدھی الٹی طرف جلوے دکھاتا ہوادوڑتا ہوا چلتا ہوگا یعنی جب پل صراط سے گزریں گے تو نور کی مشعلیں روشنی کی دکھائیں گی فرشتے چار طرف سے دل بڑھاتے ہوں گے خوش خبریاں مبارک بادیاں دیتے ہون گے کہ لواب چل کر جنتوں میں داخل ہو، وہ جنتیں جن کے مکانوں اور درختوں کے نیچے شراب وشہد کی نہریں رواں دواں ہوں گی اور وہاں ہمیشہ رہیں گے نہ مریں گے نہ نکلیں گے یہ نہایت اعلی درجہ کی کامیابی ہے ، کہ جنت دوزخ سے بچے ۔ اس کے بعد منافقوں کا حال بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
[20] اور وہ گمراہی یہ تھی کہ تم پیغمبر اور مسلمانوں سے عداوت رکھتے تھے۔
[21] یعنی تم باطل امیدوں میں رہے کہ مسلمان حوادث کا شکار ہوجائیں گے اور اسلام مٹ جائے گا۔
[22] یعنی موت نے آدبوچا۔
[23] اللہ کے بارے میں دھوکا یہی کہ کفر حق ہے اور اسلام محض ڈھکوسلا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
سزا کی صحیح ترین شکل
منافقین کا گروہ دنیا میں جرات سے ایمانی سے یک قلم محروم رہا ۔ اور ہمیشہ عارضی مسرتوں کو دائمی آسودگیوں پر ترجیح دیتارہا ۔ اور کوشش کرتا رہا ۔ کہ مسلمان کبھی حقیقت حال سے آگاہ نہ ہوں ۔ اظہر کے پردے میں باطن کو پکارتا رہا ۔ اور چند شمع کی باتوں سے اس خبث کو جو اس کی عزیز ترین دولت تھی دل کی گہرائیوں میں پنہاں کئے رہا ۔ اللہ نے دنیا میں ان سے بدکرداری کا یوں انتقام لیا ۔ کہ ان کے تمام اسراء ایک ایک کرکے واشگاف طور پر بیان کردیئے ۔ اور ان کو بتا دیا کہ تمہارا اقدام ہماری نظر میں ہے ۔ اور تم ہزار چالاکی کے باوجود بھی ہمیں دھوکہ نہیں دے سکتے ۔ اور آخرت میں مادیت نفسی کی ایسی…
Read the full tafseer →(15) غرض آج نہ تو تم منافقوں سے کوئی معاوضہ اور فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کھلے کفر اور انکار کا ارتکاب کیا اور تم سب کا ٹھکانہ جہنم اور آگ ہے وہی تمہارے لائق اور تمہاری رفیق ہے اور وہ پھرجانے اور بازگشت کی بری جگہ ہے۔ یعنی اول تو یہاں فدیہ دینے ہی کو کچھ نہیں اور بفرض محال کچھ ہو بھی تو آج معاوضے اور فدیہ کا سوال ہی نہیں نہ منافقوں سے اور نہ کافروں سے آج ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے وہی تمہارے رہنے کی جگہ ہے اور وہی تمہارے لائق اور تمہاری رفیق ہے اور وہ لوٹ کر جانے کی بری جگہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ف 6۔ یعنی دل سے عزم پابندی طاعات ضروریہ و ترک معاصی کا کرلیں۔
1۔ مطلب یہ کہ مسلمانوں کو جلد توبہ کرلینا چاہئے، کیونکہ بعض اوقات پھر توبہ کی توفیق نہیں رہتی اور بعض اوقات کفر تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔
Read the full tafseer →قیامت کا دن ہی ایسا دن ہے کہ اس میں کسی سے بدلہ نہیں لیا جائے گا
15 ؎ یہ گزشتہ آیت کی مزید وضاحت ہے جس میں آرزوئوں کے سہارے زندگی بسر کرنے والوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ آرزو ایک ایسی چیز ہے جو دنیا میں بھی بہت کم ہیں کسی کو پوری ہوتی ہے کیونکہ اگر کسی کی ایک آرزو پوری ہو تو دس ایک کی جگہ پیدا ہوجاتی ہیں پھر ان کے پورا ہونے کا سوال ہی آخر کیونکر پیدا ہو سکتا ہے اس لیے قرآن کریم ایسے مقامات پر پہنچ کر ایک بیماری کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کرتا ہے اور پر سے کاٹ دینے کی نہیں ۔ غور کرو کہ زیر نظر آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ آخرت میں فدیہ دینے کے لیے کسی شخص کے پاس کچھ نہیں ہوگا۔ حالانکہ اگر وہ بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ لِلَّذِينَ آمَنُوا انظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ (...the Day when the hypocrite men and hypocrite women will say to those who believe, "Wait for us, so that we may have a share from your light...(57:13) The meaning is self-evident.
قِيلَ ارْجِعُوا وَرَاءَكُمْ فَالْتَمِسُوا نُورًا (...it will be said [ to them ], "Go back to your rear, and search for light ....57:13) This reply will be given by either the believers, or by the angels. [ Ibn ` Abbas ؓ and Qatadah (رح) ]
فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍ لَّهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ…
Read the full tafseer →26 This clearly shows that in the Hereafter the hypocrites will be doomed to the same fate as the disbelievers.
27 The words hiya maula kum (Hell is your maula) can have two meanings: (1) "That Hell is the only proper place for you"; and (2) "that you never took Allah as your maula (friend, patron) so that He may look after you; now Hell only is your maula; therefore, Hell now will look after you "
Read the full tafseer →