Explained with ayahs 16–17
ایمان والوں سے سوال
پروردگار عالم فرماتا ہے کیا مومنوں کے لئے اب تک وہ وقت نہیں آیا کہ ذکر اللہ وعظ نصیحت آیات قرآنی اور احادیث نبوی سن کر ان کے دل موم ہوجائیں ؟ سنیں اور مانیں احکام بجا لائیں ممنوعات سے پرہیز کریں۔ اب عباس فرماتے ہیں قرآن نازل ہوتے ہی تیرہ سال کا عرصہ نہ گذرا تھا کہ مسلمانوں کے دلوں کو اس طرف نہ جھکنے کی دیر کی شکایت کی گئی، ابن مسعود فرماتے ہیں چار ہی سال گذرے تھے جو ہمیں یہ عتاب ہوا (مسلم) اصحاب رسول پر ملال ہوا کہ حضور ﷺ سے کہتے ہیں حضرت کچھ بات تو بیان فرمائے پس یہ آیت اترتی ہے۔ (نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ ڰ…
Read the full tafseer →سورة الْحَدِیْد 28
یہاں پھر " ایمان لانے والوں " کے الفاظ تو عام ہیں مگر ان سے مراد تمام مسلمان نہیں بلکہ مسلمانوں کا وہ خاص گروہ ہے جو ایمان کا اقرار کر کے رسول اللہ ﷺ کے ماننے والوں میں شامل ہوگیا تھا اور اس کے باوجود اسلام کے درد سے اس کا دل خالی تھا۔ آنکھوں سے دیکھ رہا تھا کہ کفر کی تمام طاقتیں اسلام کو مٹا دینے پر تلی ہوئی ہیں، چاروں طرف سے انہوں نے اہل ایمان کی مٹھی بھر جماعت پر نرغہ کر رکھا ہے، عرب کی سر زمین میں جگہ جگہ مسلمان تختہ مشق ستم بنائے جا رہے ہیں، ملک کے گوشے گوشے سے مظلوم مسلمان سخت بےسرو سامانی کی حالت میں پناہ لینے کے لیے مدینے کی طرف بھاگے چلے آ رہے ہیں، مخلص مسلمانوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
(آیت) اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ ، یعنی کیا اب بھی وقت نہیں آیا ایمان والوں کے لئے کہ ان کے قلوب اللہ کے ذکر کے لئے جھک جائیں اور نرم ہوجائیں اور اس قرآن کے لئے جو ان پر نازل کیا گیا۔
خشوع قلب سے مراد دل کا نرم ہونا اور وعظ و نصیحت کو قبول کرنا اور اس کی اطاعت کرنا ہے (ابن کثیر) قرآن کے لئے خشوع یہ ہے کہ اس کے احکام اور امر ونواہی کی مکمل اطاعت کے لئے تیار ہوجائے اور اس پر عمل کرنے میں کسی سستی اور کمزوری کو راہ نہ دے (روح المعانی)
یہ عتاب و تنبیہ مومنین کو ہے، حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →4۔ آگے آیات 16۔ 24 کا مضمون
آگے کی آیات میں خطاب کا رخ ان منافقین ہی کی طرف ہے جن سے اوپر کے پیرے میں خطاب ہے۔ ان کو پہلے تو اس تذبذب کی روش کے انجام بد سے ڈرایا ہے کہ رسول ﷺ کی تائید میں اتنی واضح نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی اگر تمہارا تذبذب دور نہیں ہوا تو بالآخر تمہارے دلوں پر بھی اسی طرح کی قساوت چھا جائے گی جس طرح کی قساوت یہود پر چھا گئی تھی جس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی۔ اس کے بعد ان کو کچھ ابھارا ہے کہ موجود حالات سے ہراساں نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت و رحمت پر بھروسہ رکھو۔ جس اللہ کی یہ شان دیکھتے ہو کہ وہ اس سر زمین کو مردہ ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ کردیتا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
16۔-1خطاب اہل ایمان کو ہے اور مطلب ان کو اللہ کی یاد کی طرف مذید متوجہ اور قرآن کریم سے کسب ہدایت کی تلقین کرنا ہے خشوع کے معنی ہیں دلوں کا نرم ہو کر اللہ کی طرف جھک جانا حق سے مراد قرآن کریم ہے۔
16-2جیسے یہود و نصاریٰ ہیں، یعنی تم ان کی طرح نہ ہوجانا۔
16۔-3چناچہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف اور تبدیلی کردی اس کے عوض دنیا کا ثمن قلیل حاصل کرنے کو انہوں نے شعار بنا لیا، اس کے احکام کو پس پشت ڈال دیا اللہ کے دین میں لوگوں کی تقلید اختیار کرلی۔
16۔-4یعنی ان کے دل فاسد اور اعمال باطل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
12: یعنی اس انتظار میں رہے کہ کب مسلمانوں پر کوئی مصیبت آئے، اور ہم کھلے بندوں اپنے کفر کا اظہار کریں۔
13: منافقین اس انتظار اور آرزو میں تھے کہ مسلمانوں کو ان دشمنوں کے ہاتھوں شکست ہوجائے، اور (معاذ اللہ) اسلام کا بالکل خاتمہ ہی ہوجائے۔
Read the full tafseer →الم یان ................ تعقلون
یہ مولائے کریم ورحیم کی طرف نہایت ہی موثر پکار ہے کہ اب تک تو تمہارے دل اللہ کے خوف اور خشوع و خضوع سے بھر جانا چاہئے تھا۔ تم پر تو اللہ کا بہت بڑا فضل ہوچکا ہے۔ تمہارے اندر ایک رسول موجود ہے ، جو تمہیں ایمان کی طرف بلارہا ہے۔ اس رسول پر آیات بینات نازل کردی گئی ہیں تاکہ تمہیں تاریکیوں سے روشنیوں کی طرف لائیں۔ اور تمہیں اس نے اس کائنات میں اور تمہاری تخلیق میں آیات بھی بتا دی ہیں۔
یہ ایک ایسا عتاب ہے جس میں محبت ہے۔ ہمدردانہ عنایت ہے۔ جوش دلایا جاتا ہے اور شعور دیا جاتا ہے کہ اللہ بڑا جلیل القدر ہے۔ اس کا ذکر حضوع وخشوع کے ساتھ کرو ، اور اللہ کی جانب سے جو…
Read the full tafseer →3 یعنی وقت آگیا ہے کہ مومنین کے دل قرآن اور اللہ کی یاد اور اس کے سچے دین کے سامنے جھک جائیں۔ اور نرم ہو کر گڑگڑانے لگیں۔
4 یعنی ایمان وہ ہی ہے کہ دل نرم ہو۔ نصیحت اور خدا کی یاد کا اثر جلد قبول کرے۔ شروع میں اہل کتاب یہ باتیں پیغمبروں کی صحبت میں پاتے تھے۔ مدت کے بعد غفلت چھاتی گئی۔ دل سخت ہوگئے وہ بات نہ رہی، اکثروں نے سخت سرکشی اور نافرمانیاں شروع کردیں۔ اب مسلمانوں کی باری آئی ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کی صحبت میں رہ کر نرم دلی، انقیاد کامل اور خشوع لذکر اللہ کی صفات سے متصف ہوں اور اس مقام بلند پر پہنچیں جہاں کوئی امت نہ پہنچی تھی۔
Read the full tafseer →اب اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ ہر اس شخص سے سوال کر رہے ہیں جس نے اب تک کی یہ سب باتیں پڑھ کر یا سن کر اپنے دل میں اتار لی ہیں۔ سوال و خطاب کا یہ بہت جذباتی انداز ہے :
آیت 16{ اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُھُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ } ”کیا ابھی وقت نہیں آیا ہے اہل ایمان کے لیے کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد کے لیے اور اس قرآن کے آگے کہ جو حق میں سے نازل ہوچکا ہے ؟“
یہاں قرآن کے بارے میں فرمایا گیا : { وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ } یہی بات سورة بنی اسرائیل میں زیادہ ُ پرزور انداز میں فرمائی گئی ہے : { وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰـہُ وَبِالْحَقِّ…
Read the full tafseer →28 پہلے بتایا جاچکا ہے کہ اس سورة کا زمانہ نزول غالباً جنگ احزاب سے بعد اور صلح حدیبیہ سے پہلے کا ہے۔ اس وقت تک اسلام کے غلبہ کے کئی آثار لوگوں کے سامنے آچکے تھے۔ جنگ بدر میں کافر شکست فاش سے دو چار ہوچکے تھے۔ جنگ احد میں بھی بالآخر میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا تھا اور جنگ احزاب میں اللہ تعالیٰ نے غیبی اسباب سے مسلمانوں کی مدد فرماکر کافروں کو فرار کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ ان واقعات سے عام لوگ اور غیر جانبدار قبائل یہ تاثر لے رہے تھے کہ اسلام اور کفر دونوں برابر کی چوٹ ہیں اور سب اس بات کے منتظر تھے کہ دیکھیے اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ ایسے حالات میں منافقوں کو اس آیت سے یہ تنبیہ…
Read the full tafseer →23۔ یعنی بجز ایک قلیل تعداد کے جو ان میں سے مسلمان ہوگئی باقی کثرت سے ان لوگوں کو قبول حق سے عار آنا شروع ہوگیا۔ اور نبی کریم ﷺ کی عداوت ان کے دلوں میں خوب گہری بیٹھ گئی۔ (آیت) ’ ’ الم ...... الحق “۔ ذکر ان مومنین کا ہے جو صاحب ایمان تو ہیں لیکن ان کے عمل میں کثرت سے کو تاہیاں ہیں، انہیں کو ترغیب دی جارہی ہے کہ ترک معاصی، اور طاعات ضروری کی پابندی کا عزم دل سے کرلیں اور اس توبہ و رجوع میں جلدی کریں۔ (آیت) ” الم یان “۔ مراد یہ ہے کہ رجوع و توبہ میں تاخیر وتساہل ہی کیوں ہو ؟ (آیت) ” کالذین ...... قبل “۔ مراد یہود وصاحب صحائف اسرائیلی ہیں۔ کالذین .... قلوبھم “۔ قدیم اہل کتاب نے جب اپنی اپنی کتاب…
Read the full tafseer →الم یان للذین امنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ (الآیۃ) الفاظ اگرچہ عام ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ خطاب عام مومنین کو ہے، مگر تمام مسلمان مراد نہیں ہیں بلکہ مسلمانوں کا وہ خاص گروہ مراد ہے کہ جو زبانی ایمان کا اقرار کر کے رسول اللہ ﷺ کے ماننے والوں میں شامل ہوگیا تھا اس کے باوجود اسلام کے درد سے اس کا دل خالی تھا، آنکھوں سے دیکھ رہا تھا کہ کفر کی تمام طاقتیں اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلی ہوئی ہیں، چاروں طرف سے انہوں نے اہل ایمان پر نرغہ کر رکھا ہے عرب کی سر زمین میں جگہ جگہ مسلمانوں کو تختہ مشق بنایا جا رہا ہے، گوشے گوشے سے مظلوم مسلمان سخت بےسروسامانی کی حالت میں پناہ لینے کے لئے مدینے کی…
Read the full tafseer →” کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت اور اس دین حق کے سامنے جھک جائیں جو اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی پھر (کتاب ملے) ان کو زمانہ دراز گزر گیا ‘ پھر ان کے دل خوب ہی سخت ہوگئے اور (آج) ان میں سے بہت لوگ کافر ہیں۔
ابن ابی شیبہ نے المصنف میں عبدالعزیز بن رواد کی روایت سے اور ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان کے حوالہ سے بیان کیا کہ بعض صحابہ ہنسی مذاق کے زیادہ عادی تھے اور بہت مزاح کرتے تھے۔ اس پر آیت : اَلَمْ یَاْنِ.... نازل ہوئی۔
اَلَمْ یَاْنِ : کسی کام کا وقت آجائے تو عرب کہتے ہیں : انی الامرُ : اس کام کا…
Read the full tafseer →اب اللہ تعالیٰ دنیا میں جو ان کی قلبی حالت تھی اس کا ذکر فرماتا ہے کہ کیا ظاہرا ایمان والوں کے لیے اس بات کا وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے وعدے اور وعید یا یہ یہ کہ توحید خداوندی کے سامنے اور جو اوامرو نواہی حلال و حرام قرآن کریم میں نازل ہوئے ہیں، اس کے سامنے جھک جائیں اور نرم ہوجائیں اور خلوص ان میں پیدا ہوجائے اور توریت والوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو رسول اکرم کی بعثت سے نزول قرآن سے پہلے علم توریت دیا گیا تھا اور پھر ان پر ایک زمانہ گزر گیا جس کی وجہ سے ایمان نہ لانے سے ان کے دل بہت ہی سخت اور گمراہ ہوگئے اسی بنا پر ان توریت والوں میں سے جو کہ دین موسوی کی مخالفت کرنے والے ہیں اکثر علم…
Read the full tafseer →1۔ الم یان للذین آمنوا۔۔۔۔۔”لم یان“”انی یانی ان یا و انی“ (ض (ناقص یائی سے جحد معلوم ہے ، کسی چیز کا وقت کا آجانا ، جیسا کہ فرمایا :(غیر نظرین انہ) (الاحزاب : 53)”اس (کھانے) کے (پکنے کے) وقت کا انتظار نہ کرنے والے“۔ پچھلی آیت میں قیامت کے دن مومن مردوں اور عورتوں اور منافق مردوں اور عورتوں کا حال ذکر فرمایا ، جسے سن کر لرز اٹھتے ہیں اور خوف زدہ ہو کر عاجزی سے اپنے رب کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ اس کے باوجود ان سے کما حقہ اثر قبول نہ کرنے پر ایمان والوں کو متنبہ فرمایا کہ کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی نصیحت کی وجہ سے اور اس کی طرف سے نازل ہونے والے حق کی وجہ سے…
Read the full tafseer →الم یان للذین امنوا، یان کا معنی ہے قریب ہونا قوت آنا، شاعر نے کہا
الم یآن لی یا قلب ان اترک الجھلا وان یحدث الشیب المبین لنا عقلاً
اے میرے دل ! کیا میرے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ میں جہالت کو ترک کر دوں اور یہ بڑھاپا میرے لئے عقل کو پیدا کر دے۔
اس فعل کا ماضی ان الف مقصورہ کے ساتھ ہے مضارع بانی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے آن لک ان تفعل کذا یثین اینا یعنی وہ وقت آگیا ہے کہ تو اس طرح کرے۔ یہ انی لک کی مثل ہے یہ اس سے مقلوب ہے۔ ابن کسیت نے یہ شعر پڑھا :
الما بین لی ان تجلی عما بتی واقصر عن لیلی بلی قدانی لیا
کیا میرے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ میری گمراہی عیاں ہوجائے اور میں لیلی سے ہاتھ کھینچ لوں کیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
1۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا آیت۔ الم یان للذین اٰمنوا۔
2۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے مرفوع حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے قرآن کے نازل ہونے کے سترہ سال بعد مہاجرین کے دلوں میں جھکنے میں تاخیر اور آہستگی کو پایا۔ تو یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی آیت الم یان للذین اٰمنوا ان تخشع قلوبہم لذکر اللہ۔ کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت اور اس دین حق کے سامنے جھک جائیں یاد الٰہی کے لیے۔
6۔ ابن المبارک نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اعلموا ان اللہ یحییٰ الارض بعد موتہا۔ تم جان لو کہ…
Read the full tafseer →[اَلَمْ يَاْنِ : کیا (ابھی) وقت نہیں آیا ] [لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا : ان کے لیے جو ایمان لائے ] [ اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ : کہ جھک جائیں ان کے دل ] [ لِذِكْرِ اللّٰهِ : اللہ کے ذکر کے لیے ] [ وَمَا نَزَلَ : اور اس کے لیے جو نازل ہوا ] [ مِنَ الْحَقِّ ۙ : الحق میں سے ] [وَلَا يَكُوْنُوْا : اور (کیا وقت نہیں آیا کہ) وہ لوگ نہ ہوں ] [ كَالَّذِيْنَ : ان کے جیسے جن کو ] [ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ : دی گئی کتاب اس سے پہلے ] [ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْاَمَدُ : پھر طویل ہوئی ان پر مدت ] [ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ ۭ : پھر سخت ہوگئے ان کے دل ] [وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ : اور ان میں سے اکثر ] [ فٰسِقُوْنَ…
Read the full tafseer →کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے قلوب خشوع والے بن جائیں
ان آیات میں ان اہل ایمان کو خطاب اور عتاب فرمایا ہے جن کے اعمال صالحہ میں کمی آگئی اور جن کے دلوں میں ذکر اللہ اور کتاب اللہ کی طرف توجہ درجہ مطلوبہ میں نہیں رہی، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف لائے وہاں کچھ اصحاب ہنس رہے تھے آپ نے اپنے مبارک چہرہ سے چادر ہٹائی جو سرخ ہو رہا تھا اور فرمایا کہ کیا تم ہنس رہے ہو ؟ اور تمہارے رب کی طرف سے یہ امان نازل نہیں ہوئی کہ اس نے تمہیں بخش دیا ؟ (اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ دنیا سے دل نہ لگاتے اور ہنسی مداق میں وقت خرچ نہ کرتے) تمہارے ہنسنے کے بارے میں مجھ…
Read the full tafseer →شکوۂ خداوندی از غفلت اہل اسلام وانہماک درنعمأ دنیا :
قال اللہ تعالیٰ : الم یان للذین امنوا ان تخشع قلوبھم ...... الی ...... اولئک اصحب الجحیم “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں میدان حشر کے کچھ مناظر بیان کئے گئے اور یہ کہ منافق اس وقت کیسی بےچینی اور کرب میں مبتلا ہوں گے اور اس وقت ایسی بےسروسامانی کا عالم ہوگا کہ اہل ایمان سے کچھ روشنی لینا چاہیں گے تو وہ بھی نہ مل سکے گی اور ہولناک تاریکیوں میں بدحواس ہی رہیں گے اب ان آیات میں مسلمانوں کو ایسی غفلت و لاپرواہی سے باز رھنے کی ہدایت وتاکید فرمائی جارہی ہے اور یہ بھی واضح کیا جارہا ہے کہ دنیا کی مادی نعمتیں و لاپرواہی سے باز رہنے کی ہدایت وتاکید فرمائی…
Read the full tafseer →17:۔ ” الم یان “ یہ زجر ہے بعض مسلمانوں میں انفاق کے معاملے میں کچھ تکاسل آگیا تھا یہ ان پر زجر و عتاب ہے یا یہ منافقین پر زجر ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے کتراتے تھے اس صورت میں ” امنوا “ سے امنوا باللسان مراد ہوں گے لیکن سیاق وسباق سے مناسب یہی ہے کہ اس سے بعض مخلص مومنین ہی مراد ہیں کیونکہ اکثر مخلصین تو ہمیشہ ہی اللہ تعالیٰ کے احکام کے آگے سرنگوں رہے ہیں۔ والمعاتب علی ما قالہ الزجاج طائفۃ من المومنین ولا فمنہم من لم یزل خاشعا منذ اسلم الی ان ذھب الی ربہ (روح ج 27 ص 178) ۔ الم یان من انی الامر یانی اذا جاء اناہ ای وقتہ (مدارک) ۔ اور ولا یکونو، تخشع پر معطوف ہے یا استیناف ہے بصیغہ امر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انفاق فی سبیل اللہ کی ضرورت اور اہمیت کا ذکر کیا اور اس کو قرض حسن کے ساتھ تعبیر کیا ، اور پھر ان نتائج کا بھی بیان ہوا جو ایمانداروں کو حاصل ہوں گے ، اللہ نے نور اور روشنی کا تذکرہ فرمایا جو آخرت کے اندھیروں میں پل صراط پر سے گزرتے وقت کام آئے گی۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ روشنی کن ذرائع سے حاصل ہوسکتی ہے۔ اس کے برخلاف کافروں کو مایوسی اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ اب آج کے درس میں پہلے اللہ نے اہل ایمان کو تنبیہ فرمائی ہے کہ کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکر الٰہی کے لئے عاجزی کرنے لگیں۔ اس ضمن میں اللہ نے اہل کتاب کی مثال بھی بیان فرمائی…
Read the full tafseer →اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُہُمْ لِذِكْرِ اللہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ 0 ۙ وَلَا يَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْہِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُہُمْ 0 ۭ وَكَثِيْرٌ مِّنْہُمْ فٰسِقُوْنَ 16
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ترکیب : الم یان من انی الامر یانی اذاجاء اناہ ای وقتہ۔ وقریٔ الم یین من آن یئین بمعنی اتی یاتی۔ ان تخشع الجملۃ فاعل یان واللام للتبین ومابمعنی الذی وھوعطف علی الذکر عطف احدالو صفین علی الاخر وفی نزل ضمیر یعود الیہ۔ ولایکون الخ عطف علی تخشع والمراد النھی عن مماثلۃ اھل الکتاب فیما حکی عنھم بقولہ فطال الخ واقرضواللّٰہ فیہ وجھان احدھما ھو معترض بین اسم ان وخبرھا وھو یضاعف والثانی انہ معطوف علیہ لان الالف واللام بمعنی الذی ای ان الذین تصدقوا۔
تفسیر : منافقوں اور کافروں کی دردناک مصیبت آنے والے دن کی بیان فرما کر ایمان والوں کو متنبہ کرتا ہے کہ اپنی حالت پر قائم رہیں اور آیندہ سعادت کے میدان میں…
Read the full tafseer →اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُھُمْ لِذِکْرِاللّٰہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ لا وَلاَ یَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْـکِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْھِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُھُمْ ط وَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فٰسِقُوْنَ ۔ (الحدید : 16)
(کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اس حق کے آگے جھک جائیں جو نازل ہوچکا ہے، اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو اس سے پہلے کتاب دی گئی، پھر ان پر طویل مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ )
کمزور ایمان والوں کو تنبیہ اور آگہی
اس آیت کریمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کا انجام بتلانے کے بعد دین اسلام میں نئے داخل ہونے والے مسلمانوں سے خطاب۔
اسی سورت کی آیت 10 میں نبی کریم ﷺ کے دور میں ایمان لانے والوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جنہوں نے مکہ فتح ہونے سے پہلے اللہ کی راہ میں قتال اور خرچ کیا وہ الفتح کے بعد ایمان لانے، قتال کرنے اور صدقہ کرنے والوں سے اعلیٰ ہیں۔ الفتح کا معنٰی آیت 10 کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے۔ فتح مکہ کے بعد ایسے مسلمان بھی تھے جو اپنے ایمان لانے کے ابتدائی دور میں اس معیار تک نہیں پہنچے تھے جو قرآن مجید کا مطلوب ہے اس لیے ان ایمانداروں کو بالخصوص ارشادہوا کہ کیا ان ایمانداروں کے لیے وہ وقت نہیں آیا جب ان…
Read the full tafseer →16 : اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُھُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ (کیا ایمان والوں کیلئے ابھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کی نصیحت اور اس دین حق کے سامنے جھک جائیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے) یانؔ یہ انی الامر یانی سے لیا گیا ہے، جبکہ اس کا وقت آجائے۔
ایک قول :
مکہ میں قحط تھا۔ جب ہجرت کی تو رزق و نعمت میسر آگیا۔ جس بات پر پہلے عمل پیرا تھے اس سے ڈھیلے پڑگئے۔ تو یہ آیت اتری۔ روایت ابن مسعود ؓ : ہمارے اسلام اور ہمارے اس آیت سے عقاب کے درمیان چار سال کا فاصلہ ہے۔ قول ابوبکر ؓ : یہ آیت آپ کے سامنے پڑھی گئی جبکہ آپ کے سامنے اہل…
Read the full tafseer →15 ۔ فالیوم لایوخذمنکم فدیۃ “ ابوجعفر اور ابن عامر اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” توخذ “ تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ۔
” فدیۃ “ بدل اور عوض اس بات کا کہ تم اپنے آپ کو عذاب سے بچالو۔ ” ولامن الذین کفروا “ یعنی مشرکین۔ ” ماواکم النارھی مولاکم “ تمہارا ساتھی اور تمہارے زیادہ لائق اس کی وجہ سے جو تم نے پہلے گناہ کیے۔ ” وبئس المصیر “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
16۔ 19۔ اگرچہ تفسیر سدی وغیرہ میں لکھا ہے کہ یہ آیتیں منافقوں کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ اور معنی یہ ہیں کہ جو لوگ ظاہر میں اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور ان کے دل کفر اور نفاق کے سبب سے سخت ہو رہے ہیں باوجود قرآن کے ہر روز نازل ہونے کے ابھی وہ نوبت نہیں پہنچی کہ ان لوگوں کے دل نرم ہوں اور ان لوگوں کے دل میں خوف الٰہی سمائے لیکن صحیح شان نزول وہی ہے جس کا ذکر صحیح مسلم نسانی ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت سے ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مہاجرین لوگ آپس میں کچھ ہنسی اور دل لگی کی باتیں کرنے لگے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور ہنسی دل لگی اور دنیا میں زیادہ…
Read the full tafseer →جب اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں مومنین اور مومنات منافقین اور منافقات کا کیا حال ہوگا، یہ چیز دلوں کو اپنے رب کے خوف و خشوع اور اس کی عظمت کے سامنے عجز و انکسار کی دعوت دیتی ہے، تب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر ان کے دلوں میں خشوع اور انکسار نہ ہونے کی بنا پر عتاب فرمایا ہے۔ چناچہ فرمایا : (اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ ) یعنی کیا ابھی مومنوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل نرم ہوں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ڈر جائیں اس سے مراد قرآن ہے۔ اور اس کے اوامرو نواہی اور جو حق نازل ہوا ہے جسے محمد کریم لے کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
جو لوگ ابتدائی مشکلات میں کام آئیں وہ بعد میں آنے والوں سے بلند مرتبہ ہوتے ہیں
قول باری ہے (لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل۔ تم میں سے جو لوگ فتح (مکہ) سے قبل ہی خرچ کرچکے اور لڑ چکے (وہ ان کے برابر نہیں جو بعد فتح مکہ لڑے اور خرچ کیا) ) تاآخر آیت
شعبی سے مروی ہے کہ دونوں ہجرتوں کے درمیان فتح حدیبیہ کا فاصلہ تھا اور اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ صحابہ نے عرض کیا تھا کہ آیا صلح حدیبیہ بھی کوئی فتح تھی، آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا تھا : ” بیشک یہ فتح عظیم تھی۔ “ سعید نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ سے پہلے کے انفاق کی، بعد…
Read the full tafseer →[ 59] ایمان کے تقاضوں کی تذکیر و یاددہانی :
سو اس ارزاد سے ایمان کے تقاضوں کی تذکیر و یاد دہانی اور ایمان کے دعویداروں سے ایمان کے تقاضے پورے کرنے کے لیے تحریک وتحریض فرمائی گئی ہے " یان "، " انا " سے مشتق ہے جس کے معنی وقت کے آتے ہیں باب اس کا ضرب آتا ہے۔ انیٰ یانی واناء وانائً اذا جاء اناہ ۔ یعنی اس کا وقت آگیا۔ [ قرطبی، مراغی، صفوۃ اور محاسن وغیرہ ] سو اس میں ان لوگوں کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑا جا رہا ہے جو زبانی کلامی ایمان کے دعوے کرتے ہیں کہ اب تم اپنے ایمان کے تقاضے پورے کرو، کہ اسکا وقت آگیا ہے، یہاں پر قرآن حکیم کی صفت و شان یعنی ذکر اللہ سے مراد اس کی وہ تنبیہات ہیں جو ان مخاطرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
منافقوں کا انجام اور پچھتاوا
تشریح : ان آیات میں غیب کی بہت بڑی خبر دی گئی ہے جو کہ بالکل سچی ہے۔ پچھلی آیات میں جو مومنین کے اعمال نیک کی روشنی کا ذکر کیا گیا تھا تو اسی کے بارے میں دوبارہ بات ہو رہی ہے۔ جب پل صراط سے نیک لوگ اپنے ایمان کامل کی روشنی میں بلا روک ٹوک گزر جائیں گے تو ان کی دیکھا دیکھی کفارو منافقین بھی اس خیال سے کہ ان کی روشنی میں ہم بھی گزر جائیں گے گزرنے کی کوشش کریں گے مگر وہ ناکام رہیں گے اور پھر افسوس کرتے ہوئے اپنے انجام بد کو پہنچ جائیں گے۔ یہ سب کچھ اس لیے بتایا جا رہا ہے کہ آخرت میں صرف اور صرف اپنے کئے ہوئے اعمال کا ہی بدلہ ملے گا۔ وہاں کوئی شخص کسی صورت سے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
آیات 11 تا 19
اسرار ومعارف۔
نیزا للہ کی راہ میں جان مال یا کوشش و محنت جو بھی خرچ کیا جاتا ہے وہ ضائع نہیں ہوتا بلکہ ایک قرض ہے یعنی ایسی دولت جس کی واپسی یقینی ہے اور وہ بھی اللہ کریم کے پاس توکیاہی خوب قرض ہے کہ اللہ کریم اسے کئی گنا بڑھادیتے ہیں اور زیادہ کرکے لوٹاتے ہیں نیز عنداللہ اس کی عزت و عظمت یہ الگ انعام ہے اور یہی مجاہدہ ایک دن مومن مردوں اور خواتین کے آگے اور دائیں بائیں نور کی صورت چلے گا کہ حساب کتاب کے بعد سخت اندھیرا چھاجائے گا اور کفار کو جہنم میں دھکیل دیاجائے گا جبکہ مومنین میں نورتقسیم ہوگا اور ہر ایک مرد وزن کو بقدر اس کے اعمال اور خلوص ملے گا جس کی روشنی میں وہ جہنم پر…
Read the full tafseer →ف 1 مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی حالت یہ ہونی چاہیے کہ جب انکے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور اس کی کتاب پڑھی جائے اور ان کے دلوں میں خشوع و خضوع کی کیفیت پیدا ہو عمش کہتے ہیں کہ صحابہ کرام جب مدنیہ آئے اور انہیں فقر و فاقہ کے بعد کچھ تن آسانی کے اسباب ملے تو ان میں کچھ سستی آگئی۔ اس پر بطور عتاب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی الصا المعانی
Read the full tafseer →(57:16) الم یان ہمزہ استفہامیہ لم یان مضارع نفی جحد بلم (مجزوم) واحد مذکر غائب۔ انی انی انی (باب ضرب) مصادر۔ یان اصل میں یانی تھا۔ حرف جازم لم کے آنے سے یان ہوگیا۔ کیا وقت نہیں آیا۔
انی الرحیل کوچ کا وقت آگیا۔ انی الحمیم۔ گرم پانی، اپنی آخری حد حرارت پر پہنچ گیا۔ یعنی کھولنے لگا۔ اسی لئے ان کا معنی ہے کھولتا ہوا پانی۔ ان الامر کام کا وقت آگیا ۔
ان تخشع : ان مصدریہ ہے۔ تخشع مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب خشوع (باب فتح) مصدر ۔ بمعنی گڑگڑانا۔ عاجزی و فروتنی کرنا۔ عاجزی سے جھک جانا۔ کہ وہ عاجزی سے جھک جائیں۔
قلوبھم : مضاف مضاف الیہ ۔ قلوب فعل۔ تخشع کا فاعل ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
لغات القرآن۔ الم یان۔ کیا وہ وقت نہیں آیا۔ ان تخشع۔ یہ کہ ڈریں۔ جھک جائیں۔ الامد۔ مدت
تشریح : جب خشک اور بنجرزمین پر بارش برستی ہے تو اس میں تروتازگی کے آثار اور ایک نئی زندگی کروٹیں لینے لگتی ہے۔ اسی طرح جب شرک کی وجہ سے دلوں کی دنیا ویران، خشک اور تاریک ہوجاتی ہے تو اللہ کے پاکیزہ کلام اور نبوت کی روشنی سے روحانی دنیا روشن ومنور ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام اور نبوت کو بارش سے تشبیہ دے کر بتا دیا ہے کہ مردہ قوموں میں نئی زندگی اللہ کے پاکیزہ کلام اور نبوت پر مکمل یقین کرلینے اور ماننے کے بعد ہی پیدا ہوا کرتی ہے جس سے ایک نیا عزم و یقین، حوصلہ اور ولولہ بیدار ہوجاتا ہے۔ اللہ کے کلام…
Read the full tafseer →خدا کی رزاقی اور منافقوں کا ذکر۔
(ف 1) تفسیر سدی وغیرہ میں لکھا ہے کہ یہ آیتیں منافقوں کی شان میں نازل ہوئیں اور معنی یہ ہوگا کہ جو لوگ ظاہر میں اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور ان کے دل کفر اور نفاق کے سبب سے سخت ہورہے ہیں کیا انہوں نے مذہب مقدس اسلام کی خوبیاں نہیں دیکھیں کیا انہوں نے رسول کے حالات میں غوروفکر نہیں کیا کب تک یہ لوگ نفاق چھپائیں گے اتنی باتیں سب ہوگئیں مگر کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل بھی خالصا لوجہ اللہ اسلام قبول کریں، اللہ کے ذکر کی ہیبت سے اور وہ روشنی اور مقدس قرآن جو یقینا حق ہے اور معرفت جبرائیل رسول پر اترا اور اس کی آیات وعدہ وعید سے امرونہی حلال و حرام وعظ…
Read the full tafseer →[24] مراد ان سے وہی منافقین ہیں جن کا رویہ یہاں زیربحث ہے۔
[25] یعنی قرآن مجید۔
[26] یعنی یہود و نصاریٰ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ف 1: ہجرت کے بعد مسلمانوں کو مدینہ میں آرام ملا ۔ تو وہ گرم جوشی عمل کی باقی نہیں رہی ۔ جو مصائب کے وقت تھی ۔ اس لئے اس اصیمیت میں اللہ تعالیٰ نے عاتب نازل فرمایا ۔ کہ یہی وقت تو اظہار تشکر درخشیت وانفعال کا ہے ۔ کیونکہ آسودگی اور تنعم میں خدا کو یاد رکھنا گویا اس کے دین کو دوبارہ زندہ کرنا ہے ۔ تمہیں اہل کتاب کی طرح نہ ہونا چاہیے ۔ کہ جوں جوں زمانہ گزرتا جائے ان میں قسادت پیدا ہوتی چلی جائے ۔ اور گداز جو اصل دین ہے ۔ رخصت ہوجائے ۔ بلکہ ہوگا یہ چاہیے ۔ کہ مرد زمانہ کے ساتھ ۔ تمہارے دلوں میں تائید کا جذبہ اور زیادہ مضبوط ہوتا چلا جائے ۔ اور زمانے کا یہ بعہ تمہارے ذہن کی تازگی میں کوئی تبدیلی…
Read the full tafseer →(16) کیا مسلمانوں کے لئے ابھی تک وہ وقت نہیں آیاکہان کے قلوب اللہ تعالیٰ کے ذکر اور چور دین حق منجانب اللہ نازل ہوا ہے اس کے سامنے جھک جائیں اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی پھر ان پر ایک طویل اور لمبی مدت گزر گئی ، سو ان کے دل سخت ہوگئے، اور اب ان کی حالت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر فاسق اور دین سے خارج ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی وہی ہے کہ دل نرم ہو پیغمبروں کی صحبت میں یہ پاتے تھے مدت کے بعد سخت ہوگئی اور اب یہ صفت مسلمانوں کو چاہیے۔
شاید مکہ میں جس مسلمان رہتے تھے اور تنگی سے گزر ہوتی تھی اور مدینے میں آکر وہ عسرت دور ہوگئی اور مسلمانوں میں کچھ سستی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ف 6۔ یعنی دل سے عزم پابندی طاعات ضروریہ و ترک معاصی کا کرلیں۔
1۔ مطلب یہ کہ مسلمانوں کو جلد توبہ کرلینا چاہئے، کیونکہ بعض اوقات پھر توبہ کی توفیق نہیں رہتی اور بعض اوقات کفر تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔
Read the full tafseer →ایمان لانے والوں کی ذمہ داری اور اس سے ان کا انحراف
16 ؎ گزشتہ آیت کی طرح زیر نظر آیت میں بھی جن لوگوں کو ایمان والے کہہ کر خطاب کیا گیا ہے یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے منہ میاں مٹھو بنتے ہوئے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا محض ان کے مونہوں تک ہی اٹک کر رہ گیا ہے لیکن تا ہم جب ان کو ایمان کا دعویٰ ہے تو ان کے دعویٰ کے مطابق ان کو اسی نام سے یاد کیا جاتا ہے جیسا کہ آج کل ہمارے ہاں ہو رہا ہے کہ دعویٰ ایمان کا اور کام سارے کفر کے اللہ معاف فرمائے اور اللہ سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ ( یان) کی اصل ا ن ی ہے اور اس کے معنی قرب اور نزدیک ہونے کے ہیں اور اسی جگہ وقت کے قریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّـهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ (Has the time not yet come for those who believe that their hearts should be humble for the remembrance of Allah and for the truth that has descended [ through revelation ]?...57:16) The phrase khushu'-ul-qalb means 'for the heart to soften; to be receptive to advice; to be obedient; to submit'. [ Ibn Kathir ] In the Qur'anic context, it implies 'a complete willingness to yield to the Divine injunctions, or the Divine imperatives and prohibitions without allowing any laxity in following…
Read the full tafseer →28 Here again, the word "believers" is general, but it dces not apply to alI the Muslims; it refers to those particular Muslims who had professed the faith verbally and joined the followers of the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) though their hearts were devoid of any concern for Islam. They were watching that the pagan forces were bent upon wiping out Islam; they had encircled the handful of Muslims from all sides, who were being made the target of persecution everywhere in Arabia, and thus oppressed the Muslims were fleeing to Madinah empty-handed for refuge; the sincere Muslims…
Read the full tafseer →