Al-Hadid 57:17

Al-Hadid · from ayah 17

57:17

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ؕ— قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ۟اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يُحۡىِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا‌ؕ قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ

جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ ہم نے اپنی نشانیاں تم سے کھول کھول کر بیان کردی ہیں تاکہ تم سمجھو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Know that Allah gives life to the earth after its lifelessness. We have made clear to you the signs; perhaps you will understand.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hadid

All translations of 57:17

خوب جان لو کہ، اللہ زمین کو اُس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے، ہم نے نشانیاں تم کو صاف صاف دکھا دی ہیں، شاید کہ تم عقل سے کام لو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ ہم نے اپنی نشانیاں تم سے کھول کھول کر بیان کردی ہیں تاکہ تم سمجھو

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقین مانوکہ اللہ ہی زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کر دیتا ہے۔ ہم نے تو تمہارے لیے اپنی آیتیں بیان کردیں تاکہ تم سمجھو

— مولانا محمد جوناگڑہی

خوب سمجھ لو کہ اللہ زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ ہم نے تمہارے لیے نشانیاں کھول کھول کر واضح کردی ہیں، تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جان لو کہ اللہ زمین کو زندہ کرتا ہے اس کے مرے پیچھے بیشک ہم نے تمہارے لیے نشانیاں بیان فرمادیں کہ تمہیں سمجھ ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جان لو کہ اللہ ہی زمین کو اُس کی مُردنی کے بعد زندہ کرتا ہے، اور بیشک ہم نے تمہارے لئے نشانیاں واضح کر دی ہیں تاکہ تم عقل سے کام لو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جان لو کہ بیشک اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے، بلاشبہ ہم نے تمہارے لیے آیات کھول کر بیان کردی ہیں، تاکہ تم سمجھو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہی زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ ہم نے تمہارے لئے آیات کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔ شاید کہ تم کچھ سمجھ سکو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یاد رکھو کہ اللہ زندہ کردیتا ہے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد ہم نے تمہارے لیے اپنی آیتیں واضح کر کے بیان کردی ہیں تاکہ تم سمجھو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یقین جانو تم (اے لوگوں !) کہ اللہ زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مر چکنے کے بعد بیشک ہم نے کھول کر بیان کردیں تمہارے لئے اپنی آیتیں تاکہ تم لوگ عقل سے کام لو

— مولانا اسحاق مدنی

جانے رہو کہ اللہ ہی زمین کو اس کے خش ہوئے پیچھے زندہ ردیتا ہے ہم نے مثالیں تمہارے سامنے کھول کر پیش کردی ہیں تاکہ تم سمجھو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جان لو کہ اللہ زندہ کردیتا ہے زمین کو اس کے مرنے کے بعد۔ ہم نے تو تمہارے لیے اپنی آیات خوب واضح کردی ہیں تاکہ تم عقل سے کام لو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جان لو کہ اللہ ہی زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ ہم نے اپنی نشانیاں تم سے کھول کھول کر بیان کردی ہیں تاکہ تم سمجھو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Know well that Allah revives the earth after it becomes lifeless. We have clearly shown Our Signs to you, perchance you will use your reason.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Know well that Allah revives the land after its death. We have made the signs clear for you, so that you may understand.

— Muhammad Taqi Usmani

Know well that Allah revives the land after its death. We have made the signs clear for you, so that you may understand.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Know that Allah gives life to the earth after its death! Indeed We have made clear the Ayat to you, if you but understand.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Know that Allah quickeneth the earth after its death. We have made clear Our revelations for you, that haply ye may understand.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Know that Allah gives life to the earth after its lifelessness. We have made clear to you the signs; perhaps you will understand.

— Saheeh International

Know that God brings the dead earth back to life. We have explained Our revelations to you so that you may perhaps have understanding.

— Muhammad Sarwar

Know that Allah gives life to the earth after its death; indeed, We have made the communications clear to you that you may understand.

— Muhammad Habib Shakir

Know that Allah quickeneth earth after the death thereof. Surely We have propounded unto you the signs, that haply ye may reflect.

— Abdul Majid Daryabadi

Know ye (all) that Allah giveth life to the earth after its death! already have We shown the Signs plainly to you, that ye may learn wisdom.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 57:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–17

ایمان والوں سے سوال پروردگار عالم فرماتا ہے کیا مومنوں کے لئے اب تک وہ وقت نہیں آیا کہ ذکر اللہ وعظ نصیحت آیات قرآنی اور احادیث نبوی سن کر ان کے دل موم ہوجائیں ؟ سنیں اور مانیں احکام بجا لائیں ممنوعات سے پرہیز کریں۔ اب عباس فرماتے ہیں قرآن نازل ہوتے ہی تیرہ سال کا عرصہ نہ گذرا تھا کہ مسلمانوں کے دلوں کو اس طرف نہ جھکنے کی دیر کی شکایت کی گئی، ابن مسعود فرماتے ہیں چار ہی سال گذرے تھے جو ہمیں یہ عتاب ہوا (مسلم) اصحاب رسول پر ملال ہوا کہ حضور ﷺ سے کہتے ہیں حضرت کچھ بات تو بیان فرمائے پس یہ آیت اترتی ہے۔ (نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ ڰ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَدِیْد 30 یہاں جس مناسبت سے یہ بات ارشاد ہوئی ہے اس کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر نبوت اور کتاب کے نزول کو بارش کی برکات سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ انسانیت پر اس کے وہی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو زمین پر بارش کے ہوا کرتے ہیں۔ جس طرح مردہ پڑی ہوئی زمین باران رحمت کا ایک چھینٹا پڑتے ہی لہلہا اٹھتی ہے، اسی طرح جس ملک میں اللہ کی رحمت سے ایک نبی مبعوث ہوتا ہے اور وحی و کتاب کا نزول شروع ہوتا ہے وہاں مری ہوئی انسانیت یکایک جی اٹھتی ہے۔ اس کے وہ جوہر کھلنے لگتے ہیں جنہیں زمانہ پائے دراز سے جاہلیت نے پیوند خاک کر رکھا تھا۔ اس کے اندر سے اخلاق فاضلہ کے چشمے پھوٹنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–18

(آیت) اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ ، یعنی کیا اب بھی وقت نہیں آیا ایمان والوں کے لئے کہ ان کے قلوب اللہ کے ذکر کے لئے جھک جائیں اور نرم ہوجائیں اور اس قرآن کے لئے جو ان پر نازل کیا گیا۔ خشوع قلب سے مراد دل کا نرم ہونا اور وعظ و نصیحت کو قبول کرنا اور اس کی اطاعت کرنا ہے (ابن کثیر) قرآن کے لئے خشوع یہ ہے کہ اس کے احکام اور امر ونواہی کی مکمل اطاعت کے لئے تیار ہوجائے اور اس پر عمل کرنے میں کسی سستی اور کمزوری کو راہ نہ دے (روح المعانی) یہ عتاب و تنبیہ مومنین کو ہے، حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(اعلموا ان اللہ یحی الارض بعد موتھا قد بینا لکم الایت لعلکم تعلقلون) (17)۔ (یہ آیت یہاں نہایت ہی بر محل وارد ہوئی ہے اور اس میں دو مختلف پہلوئوں سے اس بےیقینی کا علاج مضمر ہے جس میں یہ منافقین مبتلا تھے۔ (بےیقینی کا علاج)۔ سب سے نمایاں پہلو تو یہ ہے کہ آدمی میں اگر آخرت کا یقین نہ ہو تو اس کے لیے جان و مال کی قربانی نہایت کٹھن کام ہے۔ ان منافقین کی اصل بیماری یہی تھی کہ ان کے اندر آخرت کا یقین نہیں تھا اس وجہ سے وہ قرآن کے وعدوں کو محض ایک بہلا و اخیال کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بےیقینی دور کرنے کے لیے اپنی ان نشانیوں اور دلیلوں کی طرف توجہ دلائی جو قیامت کے ایک معلوم و مشہود حقیقت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–17

16۔-1خطاب اہل ایمان کو ہے اور مطلب ان کو اللہ کی یاد کی طرف مذید متوجہ اور قرآن کریم سے کسب ہدایت کی تلقین کرنا ہے خشوع کے معنی ہیں دلوں کا نرم ہو کر اللہ کی طرف جھک جانا حق سے مراد قرآن کریم ہے۔ 16-2جیسے یہود و نصاریٰ ہیں، یعنی تم ان کی طرح نہ ہوجانا۔ 16۔-3چناچہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف اور تبدیلی کردی اس کے عوض دنیا کا ثمن قلیل حاصل کرنے کو انہوں نے شعار بنا لیا، اس کے احکام کو پس پشت ڈال دیا اللہ کے دین میں لوگوں کی تقلید اختیار کرلی۔ 16۔-4یعنی ان کے دل فاسد اور اعمال باطل ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–18

14: یعنی جن مسلمانوں سے اب تک کچھ غلطیاں ہوئی ہیں، اور وہ اپنے ایمان کے تمام تقاضے پورے نہیں کرسکے، انہیں مایوس نہیں ہونا چاہیے، جس طرح اللہ تعالیٰ مردہ پڑی ہوئی زمین کو زندگی بخشتا ہے، اسی طرح وہ توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما کر انہیں بھی نئی زندگی بخش دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اعلموا ................ موتھا (75 : 71) ” خوب جان لو کہ اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے “ اور قرآن کے اندر وہ چیز ہے جو دلوں کو موت کے بعد پھر زندہ کرتی ہے۔ اس کے اندر وہ مواد موجود ہے جو غذا دیتا ہے ، جو سیراب کرتا ہے اور جو گرماتا ہے۔ قدبینا ................ تعقلون (75 : 71) ” ہم نے نشانیاں تم کو صاف دکھا دی ہیں ، شاید کہ تم عقل سے کام لو۔ “ اس زندہ کردینے والی چٹکی کے بعد ، اور اس بالواسطہ عناب کے بعد ، اور اس ڈراوے کے بعد دوبارہ انفاق فی سبیل اللہ پر ابھارا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی عرب لوگ جاہل اور گمراہ تھے جیسے مردہ زمین۔ اب اللہ نے ان کو ایمان اور علم کی روح سے زندہ کیا۔ اور ان میں سب کمال پیدا کردیے۔ غرض کسی مردہ سے مردہ انسان کو مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ سچی توبہ کرلے تو اللہ پھر اس کے قالب میں روح حیات پھونک دے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17{ اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا } ”جان لو کہ اللہ زندہ کردیتا ہے زمین کو اس کے مرنے کے بعد۔“ تم اکثر دیکھتے ہو کہ بےآب وگیاہ بنجر زمین پر جب بارش برستی ہے تو اس کے ذرے ذرے میں زندگی رواں دواں ہوجاتی ہے۔ لہٰذا اگر تم لوگ بھی خلوص نیت کے ساتھ توبہ کر لوگے اور اللہ کے حضور جھک جائو گے تو وہ اپنی نظر رحمت سے تمہارے دلوں کی زمین کو بھی ازسر نو زندگی بخش دے گا اور اسے پھر سے ایمان کی فصل کے قابل بنا دے گا۔ { قَدْ بَیَّنَّا لَـکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ } ”ہم نے تو تمہارے لیے اپنی آیات خوب واضح کردی ہیں تاکہ تم عقل سے کام لو۔“ لہٰذا تم عقل سے کام…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

30 مومن اور منافق پر وحی کے اثر کا تقابل :۔ زمین پر بارش ہو تو وہ گلزار بن جاتی ہے اور کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں۔ مگر بنجر زمین اس بارش کا بھی الٹا اثر لیتی ہے۔ وہاں شور پیدا ہوجاتا ہے یا خاردار جھاڑیاں اور فضول قسم کی نباتات اگ آتی ہے۔ یہی حال منافقوں کا ہے۔ انسان کا دل زمین ہے اور وحی الٰہی باران رحمت۔ اس سے سلیم الطبع لوگوں کے ایمان کی کھیتیاں تو لہلہانے لگتی ہیں مگر منافقوں کے دلوں میں یہی آیات الٰہی مزید شکوک و شبہات کا باعث بن جاتی ہیں اور وہ اپنی ناپاک سازشوں میں پہلے سے زیادہ سرگرم ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

24۔ (کہ جس طرح اللہ بارش بھیج کر خشک زمین کو از سرنو تازہ وسرسبز کردیتا ہے۔ اسی طرح توبہ کے اثر سے وہ خالق ذولاجلال قلب مردہ کو بھی زندہ اور درست کردیتا ہے۔ اس لیے مایوسی کی کوئی وجہ نہیں)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 17–19

اعلموا ان اللہ یحی الارض بعد موتھا قرآن مجید میں متعدد مقامات پر نبوت کے نزول کو بارش کی برکات سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ انسانیت پر اس کے وہی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو زمین پر بارش کے ہوتے ہیں جس طرح مردہ پڑی ہوئی زمین باران رحمت کا ایک چھینٹا پڑتے ہی لہلا اٹھتی ہے، اسی طرح جس ملک میں اللہ کی رحمت سے ایک نبی مبعوث ہوتا ہے اور وحی کتاب کا نزول شروع ہوتا ہے وہاں مری ہوئی انسانیت یکایک جی اٹھتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یہ بات جان لو کہ اللہ زمین کو اس کے خشک ہونے کے بعد زندہ کردیتا ہے ہم نے تم سے اس کے نظائر بیان کردیئے ہیں تاکہ تم سمجھو لو۔ “ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مُوْتِھَا : یعنی ذکر اور تلاوت سے اللہ سخت (مردہ) دلوں کو اسی طرح زندہ کردیتا ہے جس طرح مردہ (خشک) زمین کو زندہ کرتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ اللہ مردہ زمین کو زندہ کرنے کی طرح مردہ انسانوں کو زندہ کرے گا۔ اس جملہ میں دل کی قساوت سے بازداشت کی گئی ہے اور خشوع کی ترغیب دی گئی ہے۔ لَعَلَُکُمْ تَعْقِلُوْنَ : یعنی تمہاری عقلیں کامل ہوجائیں (تم کو کمال عقل حاصل ہوجائے) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یہ سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ زمین کو اس کے خشک اور بنجر ہوجانے کے بعد پانی برسا کر زندہ کردیتا ہے اسی طرح وہ مردوں کو بھی زندہ کرے گا ہم نے مردوں کے زندہ کرنے پر تم سے دلائل بیان کردیے ہیں تاکہ تم مرنے کے بعد جی اٹھنے کی تصدیق کرو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ اِعْلَمُوْٓا :”جان لو“ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ یہ بات نہیں جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ زمین کو مرنے کے بعد زندہ کردیتا ہے ، بلکہ یہ ایسے ہی ہے جیسے فرمایا :(وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہ یَعْلَمُ مَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ فَاحْذَرُوْہُ ج) (البقرہ : 235)”اور جان لو کہ اللہ جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے ، پس اس سے ڈرو“۔ مقصد یہ ہے کہ یہ بات پوری توجہ سے سنو ، اس پر غور کرو اور ہر وقت اسے پیش نظر رکھو۔ 2۔ اَنَّ اللہ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا ط۔۔۔۔: اس میں اللہ کی طرف رجوع کی اور گزشتہ کوتاہیوں کی تلافی کی ترغیب اور اپنی رحمت و مغفرت کی امید دلائی ہے ، یعنی اگر تمہاری کوتاہیوں کی وجہ سے دلوں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اعلموا ان اللہ یحی الارض بعد موتھا بنجرزمین کو بارش کے ساتھ اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ صالح مری نے کہا : دلوں کی سختی کے بعد ان کو نرم کردیتا ہے۔ جعفر بن محمد نے کہا : ظلم کے بعد عدل کے ساتھ زندہ کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کافر کو ایمان کی طرف ہدایت دے کر زندہ کرتا ہے جب کہ کفر اور گمراہی کے ساتھ اسے مارتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسی طرح اللہ تعالیٰ امتوں میں سے مردوں کو زندہ کرتا ہے ان میں سے جو خشوع والے دل ہیں اور سخت دل ہیں ان میں فرق کرتا ہے۔ قدبیننا لکم الایت لعلکم تعقلون۔ زمین کے مردہ ہونے کے بعد انہیں زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلیل ہے کہ وہی مردوں کو زندہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 16–18

1۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا آیت۔ الم یان للذین اٰمنوا۔ 2۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے مرفوع حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے قرآن کے نازل ہونے کے سترہ سال بعد مہاجرین کے دلوں میں جھکنے میں تاخیر اور آہستگی کو پایا۔ تو یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی آیت الم یان للذین اٰمنوا ان تخشع قلوبہم لذکر اللہ۔ کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت اور اس دین حق کے سامنے جھک جائیں یاد الٰہی کے لیے۔ 6۔ ابن المبارک نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اعلموا ان اللہ یحییٰ الارض بعد موتہا۔ تم جان لو کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ : تم لوگ جان لو کہ اللہ ] [يُـحْيِ الْاَرْضَ : زندہ کرتا ہے زمین کو ] [ بَعْدَ مَوْتِهَا ۭ : اس کی موت کے بعد ] [قَدْ بَيَّنَّا : ہم واضح کرچکے ] [ لَكُمُ الْاٰيٰتِ : تم لوگوں کے لیے نشانیوں کو ] [ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ : شاید تم لوگ عقل (استعمال) کرو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا 1ؕ ﴾ اس میں زمین کی مثال دے کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قلوب قاسیہ یعنی سخت دلوں کو زندہ فرما دیتا ہے جبکہ وہ ذکر و تلاوت میں لگ جائیں جیسا کہ مردہ زمین کو بارش بھیج کر ہرا بھرا کردیتا ہے۔ ﴿ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ 0017﴾ (ہم نے تمہارے لیے آیات بیان کیں تاکہ تم سمجھو)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–24

تمثیل بےثباتی دنیا و عظمت خداوند خالق کائنات وتعلیم صبر و قناعت وتاکید فکر آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اعلموا انما الحیوۃ الدنیا ...... الی ...... ھو الغنی الحمید “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں انسان کا دنیوی نعمتوں اور راحتوں میں لگ کریاد خدا اور فکر آخرت سے غلفت و لاپرواہی برتنے پر تنبیہ فرمائی گئی تھی اور یہ کہ یہ طریقہ اہل کتاب کا تھا اہل ایمان کو یہ بات زیب نہیں دیتی اب ان آیات میں دنیا اور دنیا کی لذتوں کی ناپائیداری بیان فرمائی جارہی ہے اور اسکی بےثباتی کا ایک نقشہ پیش کیا جارہا ہے تاکہ دنیا کی حقیقت سمجھی جاسکے، فرمایا ، جان لو اس کے سوا کچھ نہیں کہ دنیا کی زندگی بس ایک کھیل اور تماشا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

18:۔ ” اعلمو ان اللہ “ یہ ترغیب انفاق کے تیسرے طریق سے متعلق ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کیے ہوئے مال کے بدلے کئی گنا واپس دینے کی ایک تمثیل ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ مردہ اور خشک زمین پر مینہ برسا کر اسے تازگی اور زندگی عطاء فرماتا اور اس میں بوئے ہوئے دانہ سے کوئی سو گنا دانے حاصل ہوتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں خرچ کیے ہوئے مال میں اضافہ فرماتا ہے۔ یہ آیتیں اور یہ مضامین ہم اس لیے کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ تم ان کو سمجھو اور ان پر عمل کرو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–19

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انفاق فی سبیل اللہ کی ضرورت اور اہمیت کا ذکر کیا اور اس کو قرض حسن کے ساتھ تعبیر کیا ، اور پھر ان نتائج کا بھی بیان ہوا جو ایمانداروں کو حاصل ہوں گے ، اللہ نے نور اور روشنی کا تذکرہ فرمایا جو آخرت کے اندھیروں میں پل صراط پر سے گزرتے وقت کام آئے گی۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ روشنی کن ذرائع سے حاصل ہوسکتی ہے۔ اس کے برخلاف کافروں کو مایوسی اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ اب آج کے درس میں پہلے اللہ نے اہل ایمان کو تنبیہ فرمائی ہے کہ کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکر الٰہی کے لئے عاجزی کرنے لگیں۔ اس ضمن میں اللہ نے اہل کتاب کی مثال بھی بیان فرمائی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا۝ 0 ۭ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۝ 17 علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–18

ترکیب : الم یان من انی الامر یانی اذاجاء اناہ ای وقتہ۔ وقریٔ الم یین من آن یئین بمعنی اتی یاتی۔ ان تخشع الجملۃ فاعل یان واللام للتبین ومابمعنی الذی وھوعطف علی الذکر عطف احدالو صفین علی الاخر وفی نزل ضمیر یعود الیہ۔ ولایکون الخ عطف علی تخشع والمراد النھی عن مماثلۃ اھل الکتاب فیما حکی عنھم بقولہ فطال الخ واقرضواللّٰہ فیہ وجھان احدھما ھو معترض بین اسم ان وخبرھا وھو یضاعف والثانی انہ معطوف علیہ لان الالف واللام بمعنی الذی ای ان الذین تصدقوا۔ تفسیر : منافقوں اور کافروں کی دردناک مصیبت آنے والے دن کی بیان فرما کر ایمان والوں کو متنبہ کرتا ہے کہ اپنی حالت پر قائم رہیں اور آیندہ سعادت کے میدان میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا ط قَدْ بَـیَّـنَّا لَـکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّـکُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔ (الحدید : 17) (خوب جان لو کہ اللہ زمین کو زندہ کردیتا ہے اس کے مردہ ہوجانے کے بعد، ہم نے تمہارے لیے اپنی آیتیں واضح کرکے بیان کردی ہیں تاکہ تم عقل سے کام لو۔ ) مزید تنبیہ اور امید کی جھلک گزشتہ آیت کریمہ میں منافقین اور کمزور مسلمانوں کو جس طرح جھنجھوڑتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے پیش نظر آیت کریمہ میں بھی اسی حقیقت کی طرف مزید توجہ دلانے کے لیے زیادہ پرزور انداز اختیار کیا گیا ہے۔ پہلے لفظ سے ہی خواب غفلت سے جگانے کے لیے ارشاد فرمایا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–17

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کا انجام بتلانے کے بعد دین اسلام میں نئے داخل ہونے والے مسلمانوں سے خطاب۔ اسی سورت کی آیت 10 میں نبی کریم ﷺ کے دور میں ایمان لانے والوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جنہوں نے مکہ فتح ہونے سے پہلے اللہ کی راہ میں قتال اور خرچ کیا وہ الفتح کے بعد ایمان لانے، قتال کرنے اور صدقہ کرنے والوں سے اعلیٰ ہیں۔ الفتح کا معنٰی آیت 10 کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے۔ فتح مکہ کے بعد ایسے مسلمان بھی تھے جو اپنے ایمان لانے کے ابتدائی دور میں اس معیار تک نہیں پہنچے تھے جو قرآن مجید کا مطلوب ہے اس لیے ان ایمانداروں کو بالخصوص ارشادہوا کہ کیا ان ایمانداروں کے لیے وہ وقت نہیں آیا جب ان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

17 : اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یُحیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا (یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ زمین کو اس کے خشک ہوجانے کے بعد زندہ کردیتا ہے) قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ (ہم نے تم سے اس کے نظائر بیان کردیے تاکہ تم سمجھو) ایک قول یہ ہے دلوں میں ذکرکے اثر کو بطور تمثیل بیان کیا گیا ہے۔ کہ یہ ذکردلوں کو اسی طرح زندہ کردیتے ہیں جیسا بادل زمین کو زندہ کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16 ۔” الم یان للذین امنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ “ کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہجرت کے ایک سال بعد کیونکہ انہوں نے سلمان فارسی ؓ سے ایک دن سوال کیا کہنے لگے ہمیں توریت سے کچھ باتیں بتائیں کیونکہ اس میں عجیب باتیں ہیں تو آیت نازل ہوئی۔ ” نحن نقص علیک احسن القصص “ تو ان کو خبر دی کہ قرآن میں اچھے قصے ہیں اس کے غیر سے تو وہ سلمان ؓ سے کچھ عرصہ جتنا اللہ نے چاہا سوال کرنے سے باز آگئے۔ پھر لوٹے اور سلمان ؓ سے اسی کی مثل سوال کیا تو نازل ہوا۔ ” اللہ نزل احسن الحدیث کتابا متشابھا “ تو وہ جتنا عرصہ اللہ نے چاہا سوال کرنے سے باز آگئے۔ پھر لوٹے اور کہنے لگے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–19

16۔ 19۔ اگرچہ تفسیر سدی وغیرہ میں لکھا ہے کہ یہ آیتیں منافقوں کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ اور معنی یہ ہیں کہ جو لوگ ظاہر میں اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور ان کے دل کفر اور نفاق کے سبب سے سخت ہو رہے ہیں باوجود قرآن کے ہر روز نازل ہونے کے ابھی وہ نوبت نہیں پہنچی کہ ان لوگوں کے دل نرم ہوں اور ان لوگوں کے دل میں خوف الٰہی سمائے لیکن صحیح شان نزول وہی ہے جس کا ذکر صحیح مسلم نسانی ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت سے ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مہاجرین لوگ آپس میں کچھ ہنسی اور دل لگی کی باتیں کرنے لگے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور ہنسی دل لگی اور دنیا میں زیادہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يُـحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۭ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ) یقین مانو کہ اللہ ہی زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کردیتا ہے یقینا ہم نے تو تمہارے لیے اپنی آیتیں بیان کردیں تاکہ تم سمجھو۔ کیونکہ آیات الہی مطالبہ الہیہ کی طرف عقل کی راہ نمائی کرتی ہیں۔ وہ ہستی جس نے زمین کے مرنے کے بعد اسے حیات نو بخشی، اس پر قادر ہے کہ وہ مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے اور پھر ان کو ان کے اعمال کی جزا دے۔ پس وہ ہستی جس نے زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد بارش کے پانی کے ذریعے سے اسے دوبارہ زندہ کیا، وہ مردہ دلوں کو اس حق کے ذریعے سے زندگی بخشنے کی قدرت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 10–18

جو لوگ ابتدائی مشکلات میں کام آئیں وہ بعد میں آنے والوں سے بلند مرتبہ ہوتے ہیں قول باری ہے (لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل۔ تم میں سے جو لوگ فتح (مکہ) سے قبل ہی خرچ کرچکے اور لڑ چکے (وہ ان کے برابر نہیں جو بعد فتح مکہ لڑے اور خرچ کیا) ) تاآخر آیت شعبی سے مروی ہے کہ دونوں ہجرتوں کے درمیان فتح حدیبیہ کا فاصلہ تھا اور اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ صحابہ نے عرض کیا تھا کہ آیا صلح حدیبیہ بھی کوئی فتح تھی، آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا تھا : ” بیشک یہ فتح عظیم تھی۔ “ سعید نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ سے پہلے کے انفاق کی، بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 65] بچھونہء ارضی میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور زور دار انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ یقین جانو تم اے لوگو ! کہ اللہ ہی زندہ کرتا ہے زمین کو اس کی موت کے بعد جسم تو محض اس کے لئے ایک مرکب اور سواری ہے۔ سو اسی طرح وہ مردہ دلوں کو زندگی بخشنے کے لئے وحی کی مقدس بارش نازل فرماتا ہے، جو کہ اس کا بہت بڑا کرم و احسان ہے، کہ اس سے دلوں کی دنیا کی زندگی وابستہ ہے، اور ظاہر ہے کہ جب وہ تمہاری جسمانی ضروریات کی تکمیل کے لئے اس طرح کے پُر حکمت نظام کے تحت یہ ظاہری بارش برساتا ہے تو یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری روحانی ضروریات کی تکمیل کے لئے وحی کی روحانی بارش کا انتظام نہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 13–17

منافقوں کا انجام اور پچھتاوا تشریح : ان آیات میں غیب کی بہت بڑی خبر دی گئی ہے جو کہ بالکل سچی ہے۔ پچھلی آیات میں جو مومنین کے اعمال نیک کی روشنی کا ذکر کیا گیا تھا تو اسی کے بارے میں دوبارہ بات ہو رہی ہے۔ جب پل صراط سے نیک لوگ اپنے ایمان کامل کی روشنی میں بلا روک ٹوک گزر جائیں گے تو ان کی دیکھا دیکھی کفارو منافقین بھی اس خیال سے کہ ان کی روشنی میں ہم بھی گزر جائیں گے گزرنے کی کوشش کریں گے مگر وہ ناکام رہیں گے اور پھر افسوس کرتے ہوئے اپنے انجام بد کو پہنچ جائیں گے۔ یہ سب کچھ اس لیے بتایا جا رہا ہے کہ آخرت میں صرف اور صرف اپنے کئے ہوئے اعمال کا ہی بدلہ ملے گا۔ وہاں کوئی شخص کسی صورت سے بھی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–19

آیات 11 تا 19 اسرار ومعارف۔ نیزا للہ کی راہ میں جان مال یا کوشش و محنت جو بھی خرچ کیا جاتا ہے وہ ضائع نہیں ہوتا بلکہ ایک قرض ہے یعنی ایسی دولت جس کی واپسی یقینی ہے اور وہ بھی اللہ کریم کے پاس توکیاہی خوب قرض ہے کہ اللہ کریم اسے کئی گنا بڑھادیتے ہیں اور زیادہ کرکے لوٹاتے ہیں نیز عنداللہ اس کی عزت و عظمت یہ الگ انعام ہے اور یہی مجاہدہ ایک دن مومن مردوں اور خواتین کے آگے اور دائیں بائیں نور کی صورت چلے گا کہ حساب کتاب کے بعد سخت اندھیرا چھاجائے گا اور کفار کو جہنم میں دھکیل دیاجائے گا جبکہ مومنین میں نورتقسیم ہوگا اور ہر ایک مرد وزن کو بقدر اس کے اعمال اور خلوص ملے گا جس کی روشنی میں وہ جہنم پر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 لہٰذا وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ لوگوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرسکے۔ اس سے مقصود عام مسلمانوں کو توبہ کی طرف متوجہ کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(57:17) اعلموا۔ امر ، جمع مذکر حاضر۔ علم (باب سمع) مصدر۔ تم جان لو۔ آیت کا ترجمہ ہے :۔ جان لو کہ اللہ ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ یہ تمثیلاً ارشاد فرمایا کہ :۔ جس طرح اللہ کے حکم سے ایک بےآب وگیاہ اور بنجر زمین ابر رحمت سے گل و گلزار میں تبدیل ہوجاتی ہے اسی طرح اس کا ذکر اور اس کی کتاب پر عمل ابر کا سا کرکے سخت سے سخت تر قلوب کو خشوع و خضوع کا گہوارہ بنا دیتا ہے۔ اور اس سے یہ بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کردیتا ہے اسی طرح محشر میں مردہ مخلوقات کو دوبارہ زندہ کر دے گا۔ قد بینا : قد تحقیق کے معنی میں آیا ہے ۔ بینا ماضی جمع متکلم تبیین…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–19

لغات القرآن۔ الم یان۔ کیا وہ وقت نہیں آیا۔ ان تخشع۔ یہ کہ ڈریں۔ جھک جائیں۔ الامد۔ مدت تشریح : جب خشک اور بنجرزمین پر بارش برستی ہے تو اس میں تروتازگی کے آثار اور ایک نئی زندگی کروٹیں لینے لگتی ہے۔ اسی طرح جب شرک کی وجہ سے دلوں کی دنیا ویران، خشک اور تاریک ہوجاتی ہے تو اللہ کے پاکیزہ کلام اور نبوت کی روشنی سے روحانی دنیا روشن ومنور ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام اور نبوت کو بارش سے تشبیہ دے کر بتا دیا ہے کہ مردہ قوموں میں نئی زندگی اللہ کے پاکیزہ کلام اور نبوت پر مکمل یقین کرلینے اور ماننے کے بعد ہی پیدا ہوا کرتی ہے جس سے ایک نیا عزم و یقین، حوصلہ اور ولولہ بیدار ہوجاتا ہے۔ اللہ کے کلام…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) اے لوگو ! سمجھو اور غور کرو کہ تم تمہاری زندگی موت تمہاری روزی سب خدا کے ہاتھ ہے جب زمین مردہ ہوجاتی ہے، خشک قحط زدہ ہوجاتی ہے اپنی قدرت سے اس کو زندہ کردیتا ہے یوں ہی تم کو تمہارے مرے پیچھے بارش زندگانی سے زندہ کردے گا خدا کی قدرت کے آگے یہ بات دور کیا ہے ، ہم نے تو قدرت کی دلیلیں خوب کھول کر واضح کردیں، اس لیے کہ تم سمجھو اور میرے پیچھے اٹھنے کی تصدیق کرو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[27] اس آیت میں دو مختلف پہلوؤں سے اس بےیقینی کا علاج بتایا گیا ہے جس میں یہ منافق مبتلا تھے۔ پہلا اور سب سے نمایاں پہلو تو یہ ہے کہ آدمی میں اگر آخرت کا یقین نہ ہو تو اس کے لئے جان یا مال کی قربانی نہایت کٹھن کام ہے۔ ان منافقین کی اصل بیماری یہی تھی کہ ان کے اندر آخرت کا یقین نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بےیقینی دور کرنے کے لئے اپنی نشانیوں اور دلیلوں کی طرف توجہ دلائی جو اس نے تفصیل سے اپنی کتاب میں بیان فرمائی ہیں تاکہ ان کے اندر جان و مال کی قربانی کا حوصلہ پیدا ہو۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ منافق مخالفین اسلام کی سطوت سے بہت مرعوب تھے۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ کس طرح مٹھی بھر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 16–18

ف 1: ہجرت کے بعد مسلمانوں کو مدینہ میں آرام ملا ۔ تو وہ گرم جوشی عمل کی باقی نہیں رہی ۔ جو مصائب کے وقت تھی ۔ اس لئے اس اصیمیت میں اللہ تعالیٰ نے عاتب نازل فرمایا ۔ کہ یہی وقت تو اظہار تشکر درخشیت وانفعال کا ہے ۔ کیونکہ آسودگی اور تنعم میں خدا کو یاد رکھنا گویا اس کے دین کو دوبارہ زندہ کرنا ہے ۔ تمہیں اہل کتاب کی طرح نہ ہونا چاہیے ۔ کہ جوں جوں زمانہ گزرتا جائے ان میں قسادت پیدا ہوتی چلی جائے ۔ اور گداز جو اصل دین ہے ۔ رخصت ہوجائے ۔ بلکہ ہوگا یہ چاہیے ۔ کہ مرد زمانہ کے ساتھ ۔ تمہارے دلوں میں تائید کا جذبہ اور زیادہ مضبوط ہوتا چلا جائے ۔ اور زمانے کا یہ بعہ تمہارے ذہن کی تازگی میں کوئی تبدیلی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) اس بات کو جان لو اور اس بات کا یقین کرلو کہ اللہ تعالیٰ زمین کو اس کے مرنے یعنی خشک ہوجانے کے بعد زندہ کردیتا ہے ہم نے تم سے اپنے دلائل واضح طور پر بیان کردیئے ہیں تاکہ تم سمجھو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی عرب کے لوگ جاہل تھے جیسے مردہ زمین اب ان کو جلایا اور ان میں سب کمال پیدا کردیئے۔ یعنی حالت کفر کو مری ہوئی زمین سے تشبیہہ دی ایمان لانا اور گناہوں سے توبہ کرنا ایسا ہے جیسے خشک زمین پر بارش ہوگئی اس لئے اگر توبہ کرتے رہو گے تو نیکیوں کی کھیتی خشک نہ ہوگی یہ سوچنے سمجھنے کی بات ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ اس طرح توبہ کرنے پر اپنی رحمت سے قلب مردہ کو زندہ اور درست کردیتا ہے، پس مایوس نہ ہونا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

(20) ۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ ہی تو ہے جو زمین کو مردہ ہونے کے بعد پھر زندہ کردیتا ہے 17 ؎ مختلف رنگ بدل بدل کر ان نام نہاد مسلمانوں کو سمجھایا جا رہا ہے تاکہ جس بات کا انہوں نے دعویٰ کیا ہے اس دعویٰ میں وہ سچے ہوجائیں اور اس طرح دنیا اور آخرت دونوں جگہ ان کو کامیابی و کامرانی نصیب ہوجائے۔ زیر نظر آیت میں بھی اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے اور ان کو یقین دلانے کی سعی و کوشش کی گئی ہے اور ان کو سمجھایا جا رہا ہے کہ تمہاری یہ ساری بےیقینی محض اس لیے ہے کہ تم کو آخرت پر یقین نہیں ہے اگر تمہارا آخرت پر یقین ہوتا اور تم سچے دل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا رسول مان لیتے اور قرآن کریم کو اللہ کی کتاب تصور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–18

أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ‌ اللَّـهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ (Has the time not yet come for those who believe that their hearts should be humble for the remembrance of Allah and for the truth that has descended [ through revelation ]?...57:16) The phrase khushu'-ul-qalb means 'for the heart to soften; to be receptive to advice; to be obedient; to submit'. [ Ibn Kathir ] In the Qur'anic context, it implies 'a complete willingness to yield to the Divine injunctions, or the Divine imperatives and prohibitions without allowing any laxity in following…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

30 The point contained here should be well understood, At several places in the Qur'an the Prophethood and the revelation of the Book have been compared to the rainfall, for the effects produced by them on humanity are precisely like those produced by rain on the soil. Just as the dead earth swells and blooms as soon -as it receives a shower of rain, so it is with the dead humanity in a country where a Prophet is raised through Allah's mercy and Revelation begins to be sent down to him. It starts revealing those virtues which lay hidden and suppressed for ages; it starts manifesting from…

Read the full tafseer →